پیر، 16 فروری، 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: ’اے آئی کا استعمال عوامی مفاد اور سب کے فائدے کے لیے ہو‘، وزیر اعظم مودی کا بیان

نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں جاری پانچ روزہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوسرے دن وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو عوامی بہبود اور سب کے فائدے کے لیے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ذہانت، استدلال اور فیصلہ سازی کی صلاحیت ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کو عوام کے لیے کارآمد بناتی ہے، اور اس سمٹ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اے آئی کو ہمہ گیر ترقی کے لیے استعمال کرنے کے امکانات تلاش کیے جائیں۔

پیر سے شروع ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کے رہنما، وزرا، ٹیکنالوجی ماہرین، محققین اور صنعت سے وابستہ نمائندے شریک ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت پر عالمی سطح کی کانفرنس گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہو رہی ہے۔ سمٹ میں سو سے زائد سرکاری نمائندے موجود ہیں جن میں بیس سے زیادہ سربراہان مملکت، ساٹھ وزرا اور نائب وزرا شامل ہیں، جبکہ پانچ سو سے زائد عالمی اے آئی رہنما بھی شرکت کر رہے ہیں۔

انیس فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی افتتاحی خطاب کریں گے جس میں وہ جامع اور ذمہ دار اے آئی کے لیے ہندوستان کے وژن کو پیش کریں گے۔ سمٹ کے نمایاں پہلوؤں میں تین عالمی اثر انگیز چیلنجز شامل ہیں جن کا مقصد ایسے قابلِ توسیع اور مؤثر اے آئی حل سامنے لانا ہے جو قومی ترجیحات اور عالمی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔ ان مقابلوں کے لیے ساٹھ سے زائد ممالک سے چار ہزار چھ سو پچاس سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے سخت جانچ کے بعد ستر ٹیموں کو فائنلسٹ منتخب کیا گیا ہے۔

18 فروری کو بھارتیہ ٹیکنالوجی سنستھان حیدرآباد کے اشتراک سے ایک اہم تحقیقی سمپوزیم بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ حیدرآباد سے منسلک اس ادارے کے تعاون سے ہونے والے اس پروگرام میں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سمیت مختلف خطوں سے تقریباً ڈھائی سو تحقیقی مقالے موصول ہوئے ہیں۔ اس موقع پر الار کارِس، صدر ایسٹونیا، اور مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو بھی شریک ہیں۔

سمٹ میں اے آئی سے چلنے والی سائنسی دریافتوں، سلامتی اور حکمرانی کے ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے تک مساوی رسائی اور گلوبل ساؤتھ میں تحقیقی تعاون جیسے موضوعات پر سنجیدہ تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کو پائیدار اور منصفانہ ترقی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lWokHxI

اتوار، 15 فروری، 2026

اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا آغاز، نئی دہلی بنا عالمی ٹیک مباحثے کا مرکز

نئی دہلی: ہندوستان میں اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت دنیا بھر سے ٹیکنالوجی ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں کی بڑی تعداد نئی دہلی میں جمع ہو رہی ہے۔ پانچ روزہ اس عالمی کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کی گورننس، معیشت اور سماج پر مرتب ہونے والے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی آج شام پانچ بجے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو’ کا افتتاح کریں گے۔ یہ ایکسپو 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا اور سمٹ کی مرکزی سرگرمیوں کا حصہ ہوگا۔ 100 سے زائد ممالک کی شرکت نے اس تقریب کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت عطا کر دی ہے اور ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی مکالمے کا مرکز بنا دیا ہے۔

یہ ایکسپو 70 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر محیط 10 مختلف میدانوں میں پھیلا ہوا ہے، جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس، تعلیمی و تحقیقی ادارے، مرکزی وزارتیں، ریاستی حکومتیں اور بین الاقوامی شراکت دار ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں اور منصوبوں کی نمائش کریں گے۔ تیرہ ممالک کے قومی پویلین بھی قائم کیے گئے ہیں جن میں آسٹریلیا، جاپان، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، سربیا، ایسٹونیا، تاجکستان اور افریقہ کے نمائندہ پویلین شامل ہیں، جو عالمی تعاون کی جھلک پیش کریں گے۔

ایکسپو میں 300 سے زائد منتخب نمائشی پویلین اور لائیو مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے، جنہیں عوام، کرہ ارض اور پیش رفت جیسے موضوعاتی سلسلوں میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 600 سے زیادہ اعلیٰ صلاحیت کے حامل اسٹارٹ اپس اپنے عملی حل پیش کریں گے، جن میں سے کئی ایسے ماڈلز متعارف کرا رہے ہیں جو پہلے ہی حقیقی نظاموں میں استعمال ہو رہے ہیں اور آبادی کے بڑے حصے کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

منتظمین کے مطابق اس تقریب میں بین الاقوامی مندوبین سمیت ڈھائی لاکھ سے زیادہ زائرین کی شرکت متوقع ہے۔ پانچ سو سے زائد سیشنز منعقد کیے جائیں گے جن میں تین ہزار دو سو پچاس سے زیادہ مقررین اور پینل اراکین شرکت کریں گے۔ ان مباحثوں کا مقصد مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کو سمجھنا اور ایسے اقدامات پر غور کرنا ہے جن سے یہ ٹیکنالوجی ہر عالمی شہری کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔

سمٹ کا ہدف عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کے اندر نئی شراکت داریوں کو فروغ دینا، پالیسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ اور جامع انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/VvB94TN

سائنس و ٹیکنالوجی: خواتین کی غیر متناسب نمائندگی... مدیحہ فصیح

بین الاقوامی ترقی کے موجودہ فریم ورک میں صنفی مساوات محض ایک بنیادی انسانی حق یا اخلاقی مطالبہ نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی استحکام، پائیدار اقتصادی ترقی اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے حصول کے لیے ایک ناگزیر تزویراتی (اسٹریٹجک) شرط ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور اور پائیدار ترقی کے اہداف کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ صنف کی بنیاد پر تفریق کا خاتمہ کیے بغیر ہم ایک پرامن اور خوشحال دنیا کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل اور اقتصادی سرگرمیوں سے باہر رکھا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے بلکہ ریاستوں کی ترقی کی رفتار اور سماجی ہم آہنگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کا بنیادی مشن صنفی مساوات کو عالمی امن، اقتصادی استحکام اور جمہوری حکمرانی کی ایک ایسی ٹھوس بنیاد کے طور پر تسلیم کرنا ہے جس پر مستقبل کی عالمی عمارت کھڑی ہے۔ تاہم، ان ہمہ گیر مقاصد کی راہ میں موجودہ دور کی سب سے بڑی رکاوٹ سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں خواتین کی غیر متناسب نمائندگی ہے، جو کہ ایک گہرے صنفی فرق کو جنم دے رہی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی میں صنفی فرق

اکیسویں صدی کے پیچیدہ عالمی چیلنجز، جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض، اور سائبر سیکورٹی، ایسے حل طلب مسائل ہیں جن کے لیے دنیا کو اپنی تمام تر انسانی ذہانت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس) وہ کلیدی شعبے ہیں جو مستقبل کی عالمی معیشت اور اختراعات کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر دنیا کی نصف آبادی، یعنی خواتین، ان شعبوں سے دور رہیں گی تو ہم نہ صرف ایک بڑے ٹیلنٹ پول سے محروم ہو جائیں گے بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہماری اجتماعی صلاحیت بھی محدود ہو جائے گی۔

موجودہ اعداد و شمار اس صنفی عدم مساوات کا ایک تشویشناک ڈھانچہ جاتی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے باوجود، تحقیق کے لیے دستیاب وسائل کی عدم دستیابی اور صنفی تعصبات کے نتیجے میں سائنس کے شعبے میں گریجویٹ خواتین کا تناسب صرف 35 فیصد تک محدود ہے۔ ہائی ٹیک شعبوں میں یہ صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سائنس میں خواتین کی نمائندگی محض 26 فیصد ہے۔ جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیاد سمجھے جانے والے شعبے کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں یہ شرح محض 12 فیصد ہے، جو کہ مستقبل کے تکنیکی ڈھانچے میں ایک بڑے صنفی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس صورتحال پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو ان شعبوں سے خارج کرنا عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی، صحتِ عامہ اور خلائی سلامتی جیسے سنگین مسائل کے حل کو کمزور بناتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ صرف انفرادی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی "اجتماعی بھلائی" کا سوال ہے۔ اجتماعی بھلائی کے اہم عوامل جیسے قابلِ تجدید توانائی کا فروغ، آئندہ وباؤں کی روک تھام، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ، اور انسانی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے کے لیے خواتین سائنسدانوں کی اختراعی سوچ اور قیادت، طبی تحقیق میں خواتین کی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ میں صنفی نقطہ نظر کو اہمیت اور سائنسی امنگوں کی تکمیل کے ذریعے دنیا کے مستقبل کو زیادہ سے زیادہ انسانی ٹیلنٹ سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

اعداد و شمار اور عالمی قیادت کے بیانات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم محض سطحی تبدیلیوں کے بجائے ایسی مربوط اور پائیدار ترقیاتی حکمتِ عملیوں کی طرف پیش قدمی کریں جہاں صنفی شمولیت نظام کا لازمی حصہ ہو۔

جامع و پائیدار ترقی کے لیے نئے ماڈلز

مستقبل کی ترقی کا انحصار اب محض الگ تھلگ سائنسی ایجادات پر نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کو سماجی علوم اور مالیاتی نظام کے ساتھ مربوط کرنے پر ہے۔ ایک جامع ترقیاتی ماڈل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سماجی علوم، سٹیم اور مالیات کے مابین ایک فعال تعلق قائم کریں۔ خواتین اور لڑکیوں کے عالمی یومِ سائنس کے موقع پر اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ ان شعبوں کا باہمی ملاپ ہی پائیدار ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس تزویراتی ہم آہنگی کے اثرات درج ذیل صورتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں:

  1. ڈیجیٹل مہارتوں میں صنفی فرق کا خاتمہ: جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور تربیت کے ذریعے خواتین کو مستقبل کی لیبر مارکیٹ کے لیے تیار کرنا۔

  2. خواتین کی قیادت میں اسٹارٹ اپس کا فروغ: مالیاتی اداروں کے تعاون سے خواتین کی اختراعی کاروباری سوچ کو حقیقت میں بدلنا تاکہ معاشی تنوع پیدا ہو۔

  3. صنفی اعتبار سے حساس مصنوعی ذہانت: ایسے الگورتھم کی تیاری جو سماجی علوم کی مدد سے صنفی تعصبات کا خاتمہ کریں اور ٹیکنالوجی کو سب کے لیے منصفانہ بنائیں۔

  4. سماجی شمولیت پر مبنی مالیاتی وسائل: ایسے سرمایہ کاری کے ماڈلز متعارف کروانا جو صنفی برابری اور سماجی بہبود کو اپنی کامیابی کا بنیادی پیمانہ قرار دیں۔

ان ماڈلز کا مقصد ایک ایسا ایکو سسٹم تخلیق کرنا ہے جہاں مالیاتی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سماجی انصاف کے حصول کے لیے استعمال ہوں۔ یہ اسٹریٹجک تبدیلی انفرادی سطح پر رول ماڈلز کی کامیابی اور ادارہ جاتی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

یونیسف کا کردار اور عملی مثالیں

ثقافتی رکاوٹوں اور معاشرتی دقیانوسی تصورات کو توڑنے کے لیے رول ماڈلز اور مضبوط ادارہ جاتی پروگراموں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ کرغیزستان سے تعلق رکھنے والی معروف کیمیا دان اور کاروباری شخصیت عسیل سارتبائیوا اس کی ایک درخشندہ مثال ہیں۔ وہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بائیوٹیکنالوجی کمپنی اینسیلی ٹیک کی شریک بانی اور سی ای او ہیں۔ ان کی تحقیق کا مرکز ویکسین کا حرارتی استحکام ہے، یعنی وہ ایسا حل تلاش کر رہی ہیں جس سے ویکسین کو ریفریجریشن کے بغیر بھی محفوظ رکھا جا سکے، جو دور دراز اور ترقی پذیر علاقوں میں صحتِ عامہ کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔

سارتبائیوا اپنی سائنسی خدمات کے ساتھ ساتھ یونیسف کے 'گرلز ان سائنس' پروگرام کی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ ان ثقافتی رکاوٹوں کا مقابلہ کرتی ہیں جو لڑکیوں کو سائنس سے دور رکھتی ہیں جیسے کہ خاندانی اور پدرانہ رکاوٹیں جہاں بہت سے روایتی معاشروں میں لڑکیوں کے کیریئر کا فیصلہ ان کے والد کرتے ہیں۔

یونیسف کا یہ پروگرام نہ صرف سائنسی تعلیم فراہم کرتا ہے بلکہ لڑکیوں میں خود اعتمادی، ابلاغی مہارتیں اور رہنمائی کے ذریعے ان کی شخصیت سازی بھی کرتا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت ہزاروں لڑکیوں نے اپنے خوف پر قابو پا کر یونیورسٹی کی سطح پر سٹیم کے شعبوں کا انتخاب کیا ہے۔ اگرچہ نچلی سطح پر یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن مجموعی عالمی ڈھانچے کی پائیداری کے لیے عالمی سطح پر سیاسی استحکام اور تعاون ناگزیر ہے۔

’یو این ویمن‘ سے امریکہ کا انخلا

عالمی سطح پر صنفی مساوات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ’یو این ویمن‘ کا ایگزیکٹو بورڈ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کثیر الفریقی تعاون کے اس دور میں امریکہ جیسے بااثر ملک کا اس بورڈ کی رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ عالمی کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاسی منظر نامے میں خواتین کے حقوق کے خلاف ایک منظم مخالفت اور 'بیک لیش'دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکہ کا انخلا ایک ’جیو پولیٹیکل خلا‘ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے وہ قوتیں مضبوط ہوں گی جو صنفی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔

تاریخی طور پر ’یو این ویمن‘ کے ساتھ امریکی شراکت داری سے صنفی بنیادوں پر بننے والے قوانین، خواتین کی معاشی خود مختاری، امن و سلامتی میں خواتین کا کردار  اور  تشدد کے خاتمےبالخصوص  خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو روکنے کے لیے بین الاقوامی مہمات جیسے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ادارے کا موقف ہے کہ جب حقوق کی مخالفت میں شدت آ رہی ہو، تو کثیر الفریقی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ امریکہ جیسے ممالک کا قائدانہ کردار عالمی سطح پر صنفی مساوات کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے حیاتی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کی عدم موجودگی سے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کا ایجنڈا کمزور پڑ سکتا ہے۔

مستقبل کا منظر نامہ

اس تجزیے کا نچوڑ یہ ہے کہ دنیا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنی زیادہ سے زیادہ انسانی صلاحیتوں کو کس طرح اور کتنی تیزی سے بروئے کار لاتے ہیں۔ سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور میتھ میٹکس) کے شعبوں میں خواتین کا بڑھتا ہوا فرق محض ایک شماریاتی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک بحران ہے جو ہماری مجموعی انسانی ترقی کو پس پشت ڈال سکتا ہے۔ ہمیں ایسے اسٹریٹجک ماڈلز کو اپنانا ہوگا جو ٹیکنالوجی، مالیات اور سماجی انصاف کو ایک مربوط فریم ورک میں ڈھال سکیں۔

’یو این ویمن‘ اقوام عالم کے مابین ایک تعمیری مکالمے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مشترکہ ذمہ داریوں کی بنیاد پر صنفی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو مل کر ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں کسی بھی لڑکی کا سائنسی سفر اس کی جنس کی وجہ سے ختم نہ ہو۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھنے کی خواہش مند ہر لڑکی کے لیے بہت سادہ مگر نہایت طاقتور پیغام یہ ہے کہ ’’ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔‘‘ آپ کی ذہانت، بصیرت اور اختراعی سوچ دنیا کے مستقبل کو ایک نئی اور روشن سمت دے سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8d0aSuB

ہفتہ، 14 فروری، 2026

نئی تحقیق میں انکشاف، ملازمتوں کو ختم کرنے کے بجائے مہارت پر مبنی تبدیلیاں لا رہا ہے اے آئی

جیسے جیسے دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہورہا ہے، اس کے استعمال کے حوالے سے فکرمندی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر میں۔ عالمی سطح پر مختلف کمپنیوں میں ملازمین کی حالیہ برطرفیوں کو بھی کئی بار اے آئی سے جوڑ کردیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ انڈین کونسل آف ریسرچ ہن انٹرنیشنل اکانومک ریلیشنس (آئی سی آر آئی ای آر) کے ذریعہ اوپن اے آئی کے تعاون سے تیار ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں اس خیال کو پوری طرح سہی نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔

’اے آئی اور نوکریاں، یہ وقت مختلف نہیں ہے‘عنوان سے شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق آئی ٹی کے شعبے میں نوکریاں فی الحال براہ راست طور پراے آئی کی وجہ سے ختم نہیں ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی کی آمد نے کام کے طریقوں کو زیادہ منظم اور موثر بنا دیا ہے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور کام کے عمل کو تبدیل کیا ہے لیکن یہ بڑے پیمانے پر انسانی ملازمین کی جگہ نہیں لے رہا ہے۔ یہ سروے نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان ہندوستان بھر کے 10 شہروں میں 650 آئی ٹی فرموں میں کیا گیا، جس میں بھرتی کے رجحانات، کاروباری طلب، پیداواری صلاحیت اور مہارت کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اے آئی پیداوار کو آسان بناتا ہے اور ہنر مند پیشہ ور افراد کو تبدیل کرنے کے بجائے ان کی قدر میں اضافہ کرتا ہے۔ جب کہ کمپنیوں کے داخلہ سطح پر بھرتیوں میں معمولی کمی ضرورآئی ہے لیکن درمیانی اور سینئر سطح کی بھرتیاں پہلے کی طرح جاری ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر کے رجحانات بڑی حد تک پری کوویڈ کے رجحانات کے مطابق ہیں اور اے آئی نے ان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی ہے۔

حالانکہ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ زیادہ آٹومیشن کا شکار کردار زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سافٹ ویئر ڈویلپرز، ڈیٹا انجینئرز اور ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹرز جیسے تکنیکی کرداروں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی ملازمتوں کو ختم کرنے کے بجائے مہارت پر مبنی تبدیلیاں لا رہا ہے، جس کے لیے افرادی قوت کو نئی ٹیکنالوجیز کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ERWk2xb

منگل، 3 فروری، 2026

سپریم کورٹ میں واٹس ایپ اور میٹا کی سخت سرزنش، پرائیویسی پالیسی کو گمراہ کن قرار دیا

سپریم کورٹ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ اور اس کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی 2021 کی پرائیویسی پالیسی کے معاملے پر سخت ریمارکس کے ساتھ کڑی سرزنش کی۔ عدالت میں اس پالیسی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوران مرکز کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مؤقف اختیار کیا کہ واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی ’استحصالی‘ نوعیت کی ہے کیونکہ اس کے تحت نہ صرف صارفین کا ڈیٹا شیئر کیا جاتا ہے بلکہ اسے تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی میں صارفین کی حقیقی رضامندی شامل نہیں اور عام آدمی اس کی باریکیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی کمپنی ہندوستان کے آئین اور یہاں کے قوانین کی پاسداری نہیں کر سکتی تو اسے یہاں کاروبار کرنے کا حق بھی حاصل نہیں۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت کسی بھی صورت شہریوں کی پرائیویسی پر سمجھوتہ برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کو نہایت چالاکی سے تیار کیا گیا دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عام صارف کو گمراہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایک غریب بزرگ خاتون، سڑک کنارے ریڑھی لگانے والی عورت یا صرف تمل زبان بولنے والی خاتون اس پالیسی کے پیچیدہ نکات کیسے سمجھ پائے گی، یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کمپنیاں ہندوستان میں خدمات فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں، نہ کہ صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کر کے اسے شیئر یا فروخت کرنے کے لیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات عدالت کو بھی واٹس ایپ کی پالیسی سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے، تو پھر دیہی علاقوں میں رہنے والے عام لوگ اس کے مضمرات کیسے جان سکیں گے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کی نجی زندگی اور باخبر رضامندی کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کی جا سکتی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ڈیٹا اور اشتہارات کے تعلق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک ذاتی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ڈاکٹر واٹس ایپ پر دو یا تین دواؤں کے نام بھیجتا ہے تو چند ہی منٹوں میں انہی دواؤں سے متعلق اشتہارات نظر آنے لگتے ہیں، جو ڈیجیٹل نگرانی اور صارفین کے رویوں کی نگرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جسٹس جوئے مالیا باگچی نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی پی ڈی پی ایکٹ بنیادی طور پر پرائیویسی کی بات کرتا ہے، مگر یہاں مسئلہ صارفین کی رویہ جاتی عادات اور ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کے استعمال کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسی بڑی ٹیک کمپنیوں پر سخت، جدید اور مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

واٹس ایپ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کمپنی نے اپنی پرائیویسی پالیسی کو دیگر ممالک کے قوانین کے مطابق ڈھال لیا ہے، تاہم اس دلیل کے باوجود سپریم کورٹ مطمئن نظر نہیں آئی۔ عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کرنے کے لیے وقت دیا اور معاملہ تین ججوں کی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے بھیج دیا۔ اس کیس کی اگلی سماعت 9 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔

یہ معاملہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ مقابلہ جاتی کمیشن نے نومبر 2024 میں واٹس ایپ پر 213 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ کمیشن کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے اپنی غالب حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ بعد ازاں جنوری 2025 میں این سی ایل اے ٹی نے غالب حیثیت کے غلط استعمال کے نتیجے کو تو ہٹا دیا، لیکن جرمانہ برقرار رکھا۔ اسی تضاد کو چیلنج کرتے ہوئے میٹا نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/KSXDUBk

اتوار، 1 فروری، 2026

مصنوعی ذہانت: ٹیکنالوجی نہیں انسانیت کا امتحان

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں عوامی بحث اکثر دو انتہاؤں پر مبنی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے انسانیت کی تباہی کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے محض ایک اور تکنیکی ترقی قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس شور اور خوف سے پرے، اقوام متحدہ ایک اہم اور "عوام پر مبنی" مکالمے کو فروغ دے رہا ہے جو ٹیکنالوجی کو انسانی اقدار کے تابع رکھنے پر مرکوز ہے۔ اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو منظم کرنے کے نقطہ نظر سے چند مؤثر اور حیران کن انکشافات کو اجاگر کیا ہے۔

ملازمتوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ کام کی تبدیلی

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق 41 فیصد آجر مصنوعی ذہانت کی وجہ سے افرادی قوت میں کمی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے ایک زیادہ پیچیدہ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس تنظیم کا کلیدی نکتہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت تقریباً ہر چار میں سے ایک ملازمت کرنے کے طریقے کو نمایاں طور پر تبدیل کرے گی، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے ملازمتوں میں مجموعی طور پر کمی آئے۔ مستقبل کے کرداروں میں منفرد انسانی مہارتوں جیسے تخلیقی صلاحیت، اخلاقی استدلال، اور پیچیدہ فیصلہ سازی کی ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ کارکنوں کے لیے مسلسل سیکھنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی ذہنیت اپنانا ضروری ہوگا۔

بچوں کو تشویشناک خطرہ

اقوام متحدہ نے بچوں کو نشانہ بنانے والے نقصان دہ، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آن لائن مواد سے متعلق ایک فوری بحران کی نشاندہی کی ہے۔ چائلڈ لائٹ گلوبل چائلڈ سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کا ایک چونکا دینے والا اعداد و شمار یہ ہے کہ امریکہ میں ٹیکنالوجی کی مدد سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز 2023 میں 4,700 سے بڑھ کر 2024 میں 67,000 سے زیادہ ہو گئے۔

کوسماس زوازاوا، جو بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے ایک ڈائریکٹر ہیں، نے ان خطرات کی ایک تشویشناک فہرست پیش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مجرم بچے کے رویے کا تجزیہ کرکے انہیں پھنسانے (گرومِنگ) اور جنسی استحصال کے لیے جعلی تصاویر (ڈیپ فیکس) بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔

تعلیم میں مزید اساتذہ کی ضرورت

اقوام متحدہ کی ایک غیر متوقع دلیل یہ ہے کہ تعلیم کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنے سے زیادہ اہم انسانی اساتذہ میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار اس کی تائید کرتے ہیں کہ "عالمی تعلیمی نظام کو 2030 تک 4 کروڑ 40 لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہوگی۔" شفیقہ آئزکس، جو یونیسکو (اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم) میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی سربراہ ہیں، اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ "ہمارا ماننا ہے کہ یہ دلیل دینا ایک غلطی ہے کہ ہمیں اساتذہ میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔" ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت ڈیٹا کی منتقلی کا انتظام کر سکتی ہے، لیکن یہ انسانی ترقی کا انتظام نہیں کر سکتی، تعلیم بنیادی طور پر ایک سماجی، انسانی اور ثقافتی تجربہ ہے نہ کہ کوئی تکنیکی ڈاؤن لوڈ۔

انسانی حقوق مصنوعی ذہانت کی لازمی بنیاد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ انسانیت کی تقدیر کو "کبھی بھی کسی الگورتھم کے 'بلیک باکس' کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے"۔ یہی اصول یونیسکو کی 2021 کی "مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات پر سفارش" کی بنیاد ہے۔ اس کی مرکزی دلیل یہ ہے کہ انسانی حقوق کوئی اختیاری خصوصیت نہیں ہو سکتے؛ انہیں تمام پائیدار مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے "لازمی بنیاد" ہونا چاہیے۔ اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مصنوعی ذہانت کا ٹول جو انسانی وقار، مساوات، یا آزادی کے لیے خطرہ ہو، اسے محدود یا ممنوع قرار دیا جانا چاہیے، اور حکومتوں کو اس معیار کو نافذ کرنا چاہیے۔

حکومتیں کی جانب سے سخت اقدامات

یہ صرف نظریاتی باتیں نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر کی حکومتیں عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا 2025 کے آخر تک 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ حکومت نے اس کی وجہ ایک کمیشنڈ رپورٹ کو قرار دیا جس میں بتایا گیا کہ 10 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً دو تہائی بچوں نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، پرتشدد یا پریشان کن مواد دیکھا تھا اور نصف سے زیادہ سائبر بلینگ کا شکار ہوئے تھے۔ یہ کوئی الگ تھلگ کیس نہیں ہے؛ ملیشیا، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا جیسے دیگر ممالک بھی اسی طرح کے ضوابط پر غور کر رہے ہیں۔

سلیکون ویلی کی تباہی اور یوٹوپیا کی بحثوں سے پرے، اقوام متحدہ ایک زیادہ گہرا سچ سامنے لا رہا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق، مصنوعی ذہانت کا چیلنج تکنیکی نہیں، بلکہ انسانی ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا جواب 'گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ' جیسے اقدامات کے ذریعے دیا جا رہا ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے نئی مہارتوں، کمزوروں کے لیے مضبوط تحفظ، اور عالمی انسانی حقوق پر مبنی ایک بنیاد کی ضرورت ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/gAL0W2d

اتوار، 25 جنوری، 2026

مصنوعی ذہانت کی ترقی جوہری توانائی پر منحصر

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی، بجلی کی بے مثال عالمی طلب پیدا کر رہی ہے۔ بجلی کی یہ طلب عالمی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین چیلنج میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ چیلنج اُن ممالک کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع بھی فراہم کرتا ہے جو مصنوعی ذہانت کے لیے درکار وسیع اور صاف توانائی کو محفوظ بنا کر فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ٹیکنالوجی میں سبقت رکھنے والے ممالک کے لیے ایک نئی اور سنگین کمزوری کو بھی جنم دیتی ہے، جو ڈیجیٹل دور میں توانائی کی سلامتی کو قومی سلامتی کی اولین ترجیح بنا دیتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی توانائی کی طلب کا پیمانہ بہت بڑا ہے، جیسا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) اور دیگر اداروں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ سال 2030 تک عالمی بجلی کی طلب میں متوقع اضافہ 10 ہزار ٹیراواٹ-گھنٹے سے زیادہ ہے، جو آج تمام ترقی یافتہ معیشتوں کی کل کھپت کے برابر ہے۔ سال 2023 اور 2024 کے درمیان ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب میں تین چوتھائی سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سال 2030 تک ، ترقی یافتہ معیشتوں میں بجلی کی طلب میں ہونے والے اضافے کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ ڈیٹا سینٹرز کا ہوگا۔ اور اس دہائی کے آخر تک، صرف امریکہ میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ڈیٹا پروسیسنگ کی بجلی کی کھپت ایلومینیم، اسٹیل، سیمنٹ اور کیمیائی پیداوار کی مشترکہ کھپت سے تجاوز کر جائے گی۔

مصنوعی ذہانت کے لیے اس قدر توانائی اس لیے درکار ہے کیونکہ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے دسیوں ہزار سینٹرل پروسیسنگ یونٹس (سی پی یو) کو ہفتوں یا مہینوں تک مسلسل چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہسپتالوں، ٹرانسپورٹ، زراعت، اور تعلیم جیسے شعبوں میں اے آئی کا روزمرہ استعمال مسلسل توانائی استعمال کرتا ہے۔ ہر سیمولیشن میں بجلی کی ایک قابل ذکر مقدار خرچ کرتی ہے۔

توانائی کی یہ بڑھتی ہوئی طلب ایک بنیادی اسٹریٹجک سوال پیدا کرتی ہے کہ اس بے پناہ توانائی کو کہاں سے قابل اعتماد اور پائیدار طریقے سے حاصل کیا جائے گا؟ جواب جوہری توانائی میں پوشیدہ ہے۔

جوہری توانائی اے آئی انقلاب کا لازمی پارٹنر

مصنوعی ذہانت کی بے لگام اور مخصوص توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جوہری توانائی سب سے زیادہ قابل عمل اور اعلیٰ پیداواری حل کے طور پر ابھرتی ہے۔ اس کی اسٹریٹجک اہمیت ایک مستحکم، کاربن سے پاک توانائی کے ذریعہ کے طور پر ہے جو 24/7 کام کر سکتی ہے، جو ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔ شمسی اور ہوا جیسی قابل تجدید توانائی کے برعکس، جوہری توانائی موسمی حالات سے متاثر نہیں ہوتی، جو اسےاے آئی کے لیے ایک مثالی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

صنعت کے ماہرین اس نتیجے کی توثیق کرتے ہیں۔ گوگل کے ایک سینئر مینیجر، مینوئل گریسنگر، جو اے آئی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، نے اس ضرورت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں صاف، مستحکم، صفر-کاربن بجلی کی ضرورت ہے جو چوبیس گھنٹے دستیاب ہو۔ یہ بلاشبہ ایک انتہائی بلند معیار ہے، اور یہ صرف ہوا اور شمسی توانائی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اے آئی مستقبل کا انجن ہے، لیکن ایندھن کے بغیر انجن تقریباً بیکار ہے۔ جوہری توانائی نہ صرف ایک آپشن ہے، بلکہ مستقبل کے توانائی کے ڈھانچے کا ایک ناگزیر بنیادی جزو بھی ہے۔"

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل، مینوئل گروسی، اس بات سے متفق ہیں اور جوہری توانائی کو اے آئی انقلاب کا لازمی توانائی پارٹنر قرار دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، "صرف جوہری توانائی ہی کم کاربن بجلی کی پیداوار، چوبیس گھنٹے قابل اعتمادی، انتہائی اعلیٰ توانائی کی کثافت، گرڈ کے استحکام اور حقیقی توسیع پذیری جیسی پانچ ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔"

جوہری-مصنوعی ذہانت کی برتری کے لیے سیاسی دوڑ

اے آئی انقلاب میں جوہری توانائی کے کلیدی کردار نے ایک شدید جغرافیائی سیاسی مقابلے کو جنم دے دیا ہے۔ اس نئے توانائی کے منظر نامے میں قیادت غالباً 21ویں صدی میں تکنیکی اور معاشی غلبے کا تعین کرے گی۔ دنیا بھر کی بڑی طاقتیں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے حکمت عملی بنا رہی ہیں۔

امریکہ اس وقت ایک رہنما کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ، 94 جوہری پلانٹس موجود ہیں اور 10 نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ یہ ملک دنیا کی صف اول کی اے آئی کمپنیوں کا مرکز بھی ہے۔ مائیکروسافٹ کا 20 سالہ بجلی کی خریداری کا معاہدہ، جس نے تھری مائل آئی لینڈ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی، محض ایک مثال نہیں، بلکہ عوامی-نجی شراکت داری کا ایک بلیو پرنٹ ہے جو امریکہ کے ٹیک اور جوہری شعبوں کو براہ راست جوڑ کر اس کی موجودہ برتری کو مستحکم کرتا ہے۔

روس جوہری توانائی کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہونے کی وجہ سے ایک منفرد پوزیشن رکھتا ہے۔ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں اپنی مضبوط تحقیقی بنیاد کے ساتھ، روس جدید ری ایکٹر ٹیکنالوجی کا ایک سرکردہ آپریٹر اور ڈویلپر ہے۔ یہ کردار نہ صرف روس کے لیے اقتصادی فائدہ مند ہے، بلکہ یہ خریدار ممالک کے لیے اسٹریٹجک انحصار پیدا کرتا ہے اور ماسکو کو طویل مدتی جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔

چین ایک ابھرتے ہوئے چیلنجر کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چین کا اے آئی اور جوہری توانائی دونوں میں بیک وقت "بڑی کامیابیاں" حاصل کرنا ایک سوچی سمجھی، ریاستی سرپرستی میں چلنے والی دوہری حکمت عملی ہے جس کا مقصد مستقبل کی معیشت کے دماغ (اے آئی) اور جسم (توانائی) دونوں پر قابو پا کر مغرب کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ اپنے’اے آئی بوم‘ کے دوران، چین نے زیر تعمیر نئے جوہری ری ایکٹرز کی تعداد میں دنیا میں پہلا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

یورپ، جو دنیا کے "سب سے گنجان ڈیجیٹل کوریڈورز" (فرینکفرٹ، ایمسٹرڈیم اور لندن) کا گھر ہے، اس دوڑ میں اپنی پوزیشن کو دوبارہ مضبوط کر رہا ہے۔ فرانس اور برطانیہ جیسی روایتی جوہری طاقتیں جوہری توانائی کی تعمیر پر "دگنی محنت" کر رہی ہیں، جبکہ پولینڈ جیسے ابھرتے ہوئے ممالک بھی اپنے پروگراموں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل معیشت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

نئے مراکز بھی اس دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ جاپان بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور اپ گریڈیشن میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں، متحدہ عرب امارات نے ایک جوہری توانائی پروگرام قائم کیا ہے اور خود کو ایک علاقائی اے آئی مرکز کے طور پر ابھارا ہے، جو توانائی کی سلامتی کے ذریعے معاشی تنوع حاصل کرنے کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔یہ جغرافیائی سیاسی منظر نامہ مسلسل ان تکنیکی جدتوں سے تشکیل پا رہا ہے جو اس مقابلے کے اگلے مرحلے کی وضاحت کریں گی۔

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے اسٹریٹجک فوائد

روایتی بڑے ری ایکٹرز کے علاوہ، جوہری توانائی سے چلنے والے اے آئی کا مستقبل تکنیکی جدت طرازی، خاص طور پر چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر)سے متعین ہوگا۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز ایک انقلابی ٹیکنالوجی کے طور پر ابھر رہے ہیں کیونکہ یہ اے آئی صنعت کو لچکدار، محفوظ اور موثر توانائی فراہم کرتے ہیں۔

اس میدان میں پہل کرنے والوں نے پہلے ہی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ گوگل نے ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ متعدد چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز سے جوہری توانائی خریدی جا سکے، جو 2030 تک کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، گوگل کی جانب سے خلا پر مبنی شمسی نیٹ ورکس جیسے غیر روایتی حل کی تلاش اس طویل مدتی، کثیر نسلی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا واضح اشارہ ہے جو معروف ٹیک کمپنیاں توانائی پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہیں، تاکہ زمینی حدود کے خلاف خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تکنیکی پیشرفت اس بات کی نشاندہی ہے کہ اے آئی کے لیے توانائی کا مستقبل نہ صرف بڑا ہے، بلکہ ہوشیار، زیادہ لچکدار اور زیادہ تقسیم شدہ بھی ہوگا۔

مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی کا امتزاج

ہمارے دور میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی بے پناہ توانائی کی طلب ایک اہم چیلنج ہے، اور جوہری توانائی واحد قابل توسیع، قابل اعتماد اور صاف توانائی کا حل ہے جو اس طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو قومیں اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں اور اس پر عمل کر رہی ہیں، وہ 21ویں صدی کی تکنیکی اور معاشی تقدیر کی تشکیل کریں گی۔ ترقی یافتہ ممالک کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے کہ وہ ایک دوہری حکمت عملی میں جارحانہ سرمایہ کاری کریں: روایتی جوہری صلاحیت کو بڑھائیں اور ساتھ ہی ساتھ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز جیسی جدید ٹیکنالوجیز میں پیش قدمی کریں۔ یہ صرف توانائی پیدا کرنے کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ تکنیکی خودمختاری، اقتصادی مسابقت، اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے بارے میں بھی ہے۔

مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی کا امتزاج محض ایک ابھرتا ہوا رجحان نہیں، بلکہ یہ وہ مرکزی ستون بن چکا ہے جس پر 21ویں صدی کے بقیہ حصے میں جغرافیائی سیاسی اور معاشی طاقت کی تعمیر اور مقابلہ کیا جائے گا۔ جو قومیں اس امتزاج میں مہارت حاصل کریں گی، وہ مستقبل کے اصول لکھیں گی؛ اور جو ناکام رہیں گی، وہ ان اصولوں کے تابع ہوں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5osDjWK

بدھ، 21 جنوری، 2026

اے آئی کے مواقع غیر مساوی، صلاحیت سازی کے بغیر خطرات بڑھیں گے: آئی ایم ایف چیف

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ملازمت کے شعبے میں پائی جارہی تشویش کے دوران انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی وجہ سے لیبر مارکیٹ یعنی ملازمت کے شعبے میں سونامی جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کچھ ملازمتوں کو بہتر بنا رہا ہے تو وہیں کچھ نوکریوں کی جگہ بھی لے رہا ہے۔

داؤس میں منعقد ورلڈ اکنامک فورم ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس کے دوران ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جارجیوا نے کہا کہ دنیا اب اے آئی کے دور میں داخل ہو چکی ہے لیکن انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اے آئی کی جانب سے پیش کیے جانے والے مواقع ہر جگہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ کہیں زیادہ مواقع ہیں تو کہیں بہت کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی تیزی سے معیشتوں کو تبدیل کر رہا ہے۔ کچھ کام بڑھ رہے، کچھ ختم ہو رہے ہیں۔ ہمیں لوگوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے اور معاشرے کو اس کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف سربراہ نے بتایا کہ اے آئی کی وجہ سے ترجمہ، زبان سمجھنے اور تحقیق سے متعلق کاموں میں پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ ان شعبوں میں اے آئی لوگوں کی مدد کر رہا ہے، ان کی جگہ نہیں لے رہا ہے۔ حالانکہ انہوں نے ان کمیونٹیز کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جہاں اے آئی ابھی تک ناقابل رسائی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق دنیا میں اوسطاً 40 فیصد ملازمتیں اے آئی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ان میں کچھ ملازمتیں بہتر بن رہی ہیں، کچھ بدل رہی ہیں اور کچھ ختم بھی ہوسکتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ اثر تقریباً 60 فیصد نوکریوں پر ہے جبکہ غریب ممالک میں یہ 20 سے 26 فیصد کے درمیان ہے۔ جارجیوا نے کہا کہ اے آئی کی وجہ سے عالمی اقتصادی ترقی پر 0.1 سے 0.8 فیصد تک تک کا اثرپڑتا ہے۔ اگر پیداواری صلاحیت میں 0.8 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو دنیا کی معاشی نمو کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

اس سیشن میں ہندوستان کے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ صرف بڑا اے آئی ماڈل بنانا ہی کسی ملک کو طاقتور نہیں بناتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانچویں صنعتی انقلاب کی معیشت کو سمجھنا ہوگا۔ اس دور میں حقیقی طاقت آراو آئی یعنی سرمایہ کاری پر ملنے والے فوائد سے آئے گی۔ سب سے کم لاگت میں سب سے زیادہ پانے والی ٹیکنالوجی ہی کامیاب ہوگی۔

سعودی عرب کی وزارت سرمایہ کاری میں وزیر خالد الفالح نے کہا کہ اے آئی کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔ ہر ملک اس کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بنانا چاہتا ہے لیکن اے آئی کی اصل طاقت اس وقت سامنے آئے گی جب یہ ہر کسی کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کا پھیلاؤ صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پوری دنیا میں پھیلنا چاہیے۔ خالد الفالح نے یہ بھی کہا کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/PVnZDBe

اتوار، 18 جنوری، 2026

اے آئی کے بڑھتے استعمال سے 7 میں سے 10 پیشہ وروں کو اپنی ملازمت کے کردار میں تبدیلی کی توقع: رپورٹ

نئی دہلی: کام کی جگہوں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے پیشہ ورانہ دنیا میں بے چینی اور توقعات دونوں کو جنم دیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق آئندہ دو سے تین برسوں میں بڑی تعداد میں پیشہ ور افراد اپنی ملازمت کی نوعیت، ذمہ داریوں اور کام کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کی توقع کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ٹولس اور نئے ورک فلو معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں روایتی کردار بدلنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

اس مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ 71 فیصد پیشہ ور افراد کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کی ذمہ داریوں میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ رپورٹ نومبر 2025 میں مختلف شعبوں سے وابستہ 1,704 پیشہ وروں کے آن لائن سروے پر مبنی ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کو اپنانے کی رفتار تو تیز ہے، مگر اداروں کی جانب سے مناسب تربیت اور رہنمائی کی فراہمی اس رفتار کے مطابق نہیں ہو پا رہی۔

سروے میں شامل 61 فیصد افراد نے کہا کہ ان کی کمپنیوں نے انہیں اے آئی کے مؤثر استعمال کے بارے میں خاطر خواہ رہنمائی فراہم نہیں کی۔ صرف 37 فیصد پیشہ وروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں مناسب تربیت دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس منظم معاونت کی کمی نے کام کی جگہوں پر اے آئی کے بارے میں ملازمین کے رویّے کو متاثر کیا ہے اور کئی مقامات پر غیر یقینی کیفیت پیدا کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 55 فیصد پیشہ ور افراد کے نزدیک اے آئی کو مجبوری کے تحت اپنایا جا رہا ہے، جبکہ 37 فیصد کا خیال ہے کہ ادارے حقیقی کاروباری ضرورت سے زیادہ رجحانات کے زیر اثر اے آئی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ بہت سے ادارے اپنے عملے کو مکمل طور پر تیار کیے بغیر نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں۔

ان خدشات کے باوجود اے آئی کا عملی استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تقریباً 67 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے کاموں کو آسان یا خودکار بنانے کے لیے اے آئی ٹولس استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم تجربات یکساں نہیں رہے۔ 69 فیصد نے کہا کہ اے آئی سے ان کے کام کے عمل میں آسانی آئی، جب کہ 25 فیصد کے نزدیک اس سے پیچیدگی میں اضافہ ہوا۔

اے آئی پر اعتماد کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ صرف 49 فیصد پیشہ وروں نے کہا کہ وہ اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات پر بغیر دستی جانچ کے بھروسا کرتے ہیں۔ تقریباً 36 فیصد نے واضح کیا کہ وہ ایسی معلومات پر بالکل اعتماد نہیں کرتے، جبکہ 15 فیصد کے مطابق ان کا اعتماد کام کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ رپورٹ مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی کا مستقبل تربیت، اعتماد اور مؤثر نفاذ سے جڑا ہوا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/WtCP1GS

آرٹیمس 2: انسان کی چاند پر واپسی کی تیاری

امریکی خلائی ادارے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کا طاقتور ترین راکٹ فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر پہنچ چکا ہے، جو پچاس سال سے زائد عرصے کے بعد چاند کی جانب پہلے انسانی مشن کی تیاریوں کا اہم سنگ میل ہے۔ آرٹیمس 2 نامی یہ دس روزہ مشن چار خلابازوں کو زمین کے مدار سے نکال کر چاند کے گرد چکر لگوائے گا تاکہ مستقبل میں وہاں اترنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کی منتقلی کے بعد اب ایندھن اور کاؤنٹ ڈاؤن کی مشقیں کی جائیں گی، جبکہ اس کی روانگی فروری 2026 کے اوائل میں متوقع ہے۔ اس مہم میں استعمال ہونے والا ’اورین‘ خلائی جہاز یورپی ساختہ ماڈیول پر انحصار کرتا ہے جو عملے کے لیے بجلی، آکسیجن اور پانی فراہم کرے گا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن میں خلابازوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے، اسی لیے لانچ سے قبل تمام تکنیکی پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

اپولو 17 مشن کے 50 سال سے زائد عرصے بعد، 1972 کے بعد پہلی بار انسانیت ایک نئے قمری دور کا آغاز کر رہی ہے۔ ناسا کے ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ، اور کینیڈین خلائی ایجنسی کے جیریمی ہینسن پر مشتمل عملہ چاند کی طرف روانہ ہونے والا ہے۔ لیکن اس نئے آرٹیمس 2 مشن کی تفصیلات میں کئی ایسے حیران کن حقائق پوشیدہ ہیں جن سے زیادہ تر لوگ واقف نہیں۔ ذیل میں اس تاریخی کوشش کے سب سے زیادہ مؤثر اور غیر متوقع پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایک خلائی جہاز کا زمین پر سست سفر

یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ 98 میٹر بلند اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کو لانچ پیڈ تک صرف 6.5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 12 گھنٹے لگے۔ اسے ایک دیوہیکل مشین، جسے کرالر-ٹرانسپورٹر کہا جاتا ہے، نے صرف 1.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے منتقل کیا۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ خلا کے سفر کو شروع کرنے کے لیے کس قدر بڑی اور وزنی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آسمانی کامیابیوں سے پہلے زمینی چیلنجز پر قابو پانا کتنا ضروری ہے۔

چاند پر اُترنا نہیں، چکر لگانا مقصد

لوگوں کے گمان کے برعکس، 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن چاند پر نہیں اترے گا۔ اس کا اصل مقصد چاند کے گرد سفر کرنا ہے تاکہ مستقبل کے آرٹیمس 3 مشن کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ چاند کے گرد پرواز کے دوران، عملے کو چاند کے مشاہدے کے لیے تین گھنٹے وقف کیے جائیں گے، جس میں وہ تصاویر لیں گے اور اس کی ارضیات کا مطالعہ کریں گے تاکہ چاند کے جنوبی قطب پر مستقبل میں اترنے کی تیاری کی جا سکے۔ ناسا کے مطابق آرٹیمس 3 مشن 2027 سے پہلے چاند پر نہیں اترے گا۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ 2028 اس مشن کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ تاریخ ہو سکتی ہے، جو خلائی تحقیق میں درپیش پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

زمین کا ایک نیا نظارہ

چاند کے گرد چکر لگانے کے اس محتاط منصوبے سے بھی پہلے، مشن کا ایک اور حیران کن مرحلہ ہے جو ہمارے اپنے سیارے یعنی زمین پر مرکوز ہے۔ مشن کے پہلے دو دنوں کے لیے ایک منفرد منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چاند کی طرف روانہ ہونے سے پہلے، عملہ زمین کے گرد ایک بلند مدار میں وقت گزارے گا، جو تقریباً 64 ہزار 4سو کلومیٹر (40ہزار میل) کی دوری تک پہنچے گا۔ یہ فاصلہ چاند تک کے راستے کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ اس مرحلے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے خلا باز کرسٹینا کوچ کہتی ہیں کہ "ہماری کھڑکی سے پوری زمین ایک واحد کرے کی صورت میں دکھائی دے گی، ایک ایسا نظارہ جو ہم میں سے کسی نے اس زاویے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔" یہ مرحلہ نہ صرف تکنیکی جانچ کا موقع ہے بلکہ عملے کے لیے انسانیت کے مشترکہ گھر کو ایک ایسے تناظر میں دیکھنے کا ایک موقع بھی ہے جو زمین پر ہمارے وجود کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکی مشن کا یورپی ماڈیول

اس تاریخی مشن پر روانہ ہونے والے ’اورین‘ خلائی جہاز کا ایک اہم جزو، یورپی سروس ماڈیول، ناسا نے نہیں بنایا ہے۔ یہ ماڈیول جرمنی کے شہر بریمن میں ایئربس نے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ یہ ماڈیول انتہائی اہم کام انجام دیتا ہے: چاند تک پہنچنے کے لیے پروپلشن فراہم کرنا، تمام برقی توانائی پیدا کرنا، اور عملے کو زندہ رکھنے کے لیے ہوا (آکسیجن اور نائٹروجن) اور پانی فراہم کرنا۔ ایئربس کی انجینئر سیان کلیور کے مطابق، "یورپی سروس ماڈیول بہت اہم ہے - بنیادی طور پر ہم اس کے بغیر چاند تک نہیں پہنچ سکتے۔"

خلا بازوں کا پرسکون رویہ

کئی سال کی تاخیر کے بعد اس مشن کو شروع کرنے کے لیے ناسا پر بے پناہ دباؤ ہے۔ اس دباؤ کے برعکس، خلا بازوں کا رویہ انتہائی پرسکون ہے۔ خلا باز کرسٹینا کوچ کہتی ہیں کہ "لانچ کے دن خلا باز سب سے پرسکون لوگ ہوتے ہیں۔ اور میرے خیال میں... ایسا اس لیے محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم اس مشن کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوتے ہیں جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں، جس کی ہم نے تربیت حاصل کی ہے۔" اس تیاری اور حفاظت کے عزم کو آرٹیمس مشن مینجمنٹ ٹیم کے چیئر جان ہنی کٹ کے الفاظ سے مزید تقویت ملتی ہے۔ ان کے مطابق، "ہم تب ہی پرواز کریں گے جب ہم تیار ہوں گے... عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہوگی۔"

آرٹیمس 2 مشن صرف ایک راکٹ کا لانچ نہیں ہے؛ یہ محتاط منصوبہ بندی، بین الاقوامی تعاون، اور گہرے انسانی نقطہ نظر کی کہانی ہے۔ جیسا کہ کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن نے کہا، یہ مشن مزید لوگوں کو چاند کو غور سے دیکھنے پر مجبور کرے گا۔ جب انسانیت ایک بار پھر ستاروں کی طرف اپنی نظریں اٹھا رہی ہے، تو یہ نیا چاند کا سفر ہمیں کائنات اور خود اپنے بارے میں کیا سکھائے گا... یہ تو آنے والے وقت ہی بتائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NiRnkMp

جمعرات، 15 جنوری، 2026

اے آئی چپس پر ٹرمپ حکومت کا فیصلہ، 25 فیصد ٹیرف، عالمی سپلائی چین کے لیے چیلنج

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں حکومت نے منتخب جدید کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق چپس پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امریکہ کی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت وہ ہائی اینڈ اے آئی چپس براہ راست متاثر ہوں گی جنہیں امریکی کمپنیاں چین کو فراہم کرنے کی تیاری میں تھیں۔

حکومتی وضاحت کے مطابق ٹیرف کا اطلاق ’این ویڈیا‘ کے ایچ ٹو 100اے آئی پروسیسر اور اے ایم ڈی کی ایم آئی 325 ایکس جیسی جدید چپس پر ہوگا۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جو تکنیکی طور پر نہایت حساس سمجھی جاتی ہیں اور جن کی تیاری زیادہ تر تائیوان میں ہوتی ہے۔ اگر ان چپس کو چین کو فروخت کیا جاتا ہے تو متعلقہ کمپنیوں کو اضافی پچیس فیصد محصول ادا کرنا ہوگا۔

یہ قدم محض مالی محصول تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس بندوبست کے ذریعے حکومت کو آمدنی حاصل ہوگی جبکہ محدود شرائط کے تحت بعض چپس کی فروخت کی اجازت بھی دی جائے گی جن پر پہلے پابندیاں عائد تھیں۔ اس حکمت عملی کو مکمل پابندی کے بجائے کنٹرول شدہ اجازت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنی سیمی کنڈکٹر ضرورت کا بڑا حصہ بیرونی سپلائی چین سے حاصل کرتا ہے، جو اقتصادی اور سلامتی دونوں زاویوں سے تشویش کا باعث ہے۔ اسی لیے ہائی اینڈ چپس پر ابتدائی طور پر محدود دائرے میں ٹیرف نافذ کیا گیا ہے، تاہم مستقبل میں مزید سخت اقدامات کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ امریکی ڈیٹا سینٹرز، اسٹارٹ اپس، شہری صنعتی استعمال اور عوامی شعبے کے لیے درآمد کی جانے والی چپس اس فیصلے سے مستثنیٰ رہیں گی۔ این ویڈیا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظور شدہ تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے امریکی صنعت کا مسابقتی رہنا ناگزیر ہے۔ مجموعی طور پر یہ فیصلہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں تجارت، سلامتی اور جدید ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑتے جا رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Hw6vmtL

منگل، 6 جنوری، 2026

ہندوستان چاول کی پیداوار میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے مقام پر پہنچا

نئی دہلی: مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ ہندوستان چاول کی پیداوار کے معاملے میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان نے 150.18 ملین ٹن چاول پیدا کیا، جبکہ چین کی پیداوار 145.28 ملین ٹن رہی۔ وزیر زراعت نے یہ معلومات قومی دارالحکومت میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران فراہم کیں۔

شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ چاول کی پیداوار میں یہ پیش رفت اعلیٰ پیداوار دینے والے بیجوں کی ترقی، زرعی تحقیق اور کسانوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان اب نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک ہے بلکہ عالمی منڈی میں ایک اہم چاول برآمد کنندہ بھی بن چکا ہے۔ وزیر کے مطابق اس کامیابی میں سائنسی تحقیق اور جدید زرعی طریقوں کا اہم کردار رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے اسی موقع پر ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے تیار کی گئی 25 فصلوں کی 184 نئی اور بہتر اقسام کو بھی جاری کیا۔ ان میں اناج، دالیں، تیل دار اجناس، چارہ فصلیں، گنا، کپاس، جیوٹ اور تمباکو کی اقسام شامل ہیں۔ وزیر نے کہا کہ ان اقسام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ کسانوں کو زیادہ پیداوار اور بہتر معیار کی فصل حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔

شیو راج سنگھ چوہان نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ان نئی اقسام کو جلد از جلد کسانوں تک پہنچایا جائے تاکہ وہ ان سے عملی فائدہ حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق بہتر بیج کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیر زراعت نے زرعی سائنس دانوں سے یہ بھی کہا کہ وہ دالوں اور تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ ملک کو ان شعبوں میں خود کفیل بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے گزشتہ گیارہ برسوں میں 3,236 اعلیٰ پیداوار والی اقسام کو منظوری دی گئی، جو کہ زرعی تحقیق میں تیزی کی عکاس ہے۔

مرکزی وزیر کے مطابق نئی اقسام کو موسمیاتی تبدیلی، مٹی کے زیادہ نمکین ہونے، خشک سالی اور دیگر حیاتیاتی و غیر حیاتیاتی دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ زرعی شعبہ مستقبل کے چیلنجوں کا بہتر انداز میں سامنا کر سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Eyf3O6a

پیر، 22 دسمبر، 2025

دنیا کا سب سے بھاری تجارتی سیٹلائٹ کل ہوگا لانچ، اسرو تاریخ رقم کرنے کو تیار

ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارہ (اسرو) بدھ کے روز ایک تاریخی تجارتی خلائی مشن انجام دینے جا رہا ہے، جس کے تحت دنیا کا اب تک کا سب سے بھاری تجارتی مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس مشن کے لیے بھاری لفٹ راکٹ ایل وی ایم 3-ایم6 کی لانچ کے سلسلے میں الٹی گنتی منگل کی صبح تقریباً 8 بج کر 55 منٹ پر شروع کر دی گئی ہے۔

ادارے کے مطابق، یہ راکٹ بدھ کی صبح 8 بج کر 24 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع دوسرے لانچ پیڈ سے روانہ ہوگا۔ لانچ کے تقریباً 16 منٹ بعد سیٹلائٹ کو زمین کے نچلے فضائی مدار میں کامیابی کے ساتھ نصب کر دیا جائے گا۔ یہ سیٹلائٹ وزن اور جسامت کے اعتبار سے اب تک نچلے فضائی مدار میں بھیجا جانے والا سب سے بڑا تجارتی مواصلاتی سیٹلائٹ ہوگا۔

لانچ ہونے والا یہ سیٹلائٹ نئی نسل کے مواصلاتی سیٹلائٹس کا حصہ ہے، جن کا مقصد خلا سے براہِ راست عام موبائل فونز کو سیلولر براڈبینڈ سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بھی ویڈیو کالنگ، انٹرنیٹ استعمال اور تیز رفتار موبائل رابطہ ممکن ہو سکے گا اور اس کے لیے کسی خصوصی آلے یا اضافی ہارڈویئر کی ضرورت نہیں ہوگی۔

الٹی گنتی کے دوران راکٹ کے مائع اور کرائیوجینک مراحل میں ایندھن بھرنے کا عمل جاری ہے، جب کہ تمام ذیلی نظاموں کی حتمی تکنیکی جانچ بھی کی جا رہی ہے تاکہ لانچ کو ہر اعتبار سے محفوظ اور کامیاب بنایا جا سکے۔ یہ مشن ایل وی ایم 3 راکٹ کی چھٹی آپریشنل پرواز ہے اور اسے مکمل طور پر ایک مخصوص تجارتی مشن کے طور پر انجام دیا جا رہا ہے۔

ایل وی ایم 3 ایک تین مرحلوں پر مشتمل بھاری لفٹ راکٹ ہے، جس میں دو ٹھوس موٹرز، ایک مائع مرکزی مرحلہ اور ایک کرائیوجینک بالائی مرحلہ شامل ہے۔ یہ راکٹ اس سے قبل بھی کئی اہم خلائی مشن کامیابی کے ساتھ انجام دے چکا ہے، جن میں چاند سے متعلق مشن اور عالمی مواصلاتی سیٹلائٹس کی لانچ شامل ہے۔ تازہ ترین مشن گزشتہ ماہ کامیابی سے مکمل کیا گیا تھا۔

اس تجارتی لانچ کے ذریعے نہ صرف ہندوستان کی خلائی صلاحیت کا عالمی سطح پر اعتراف مضبوط ہوگا بلکہ عالمی تجارتی خلائی مارکیٹ میں اسرو کی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/pdBzNvP