Qaumi Awaz لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Qaumi Awaz لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 5 اگست، 2026

اسپیس ایکس راکٹ چاند سے ٹکرا گیا، خلائی ملبے کے بارے میں بڑھتے خدشات

اسپیس ایکس راکٹ کا ایک بھٹکا ہوا  ٹکڑا آخر کار چاند سے ٹکرا گیا۔ یہ اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کا حصہ تھا۔ سائنس دانوں نے اطلاع دی ہے کہ پچھلے ایک سال سے دور بھٹکے جانے کے بعد، یہ بدھ کے روز پیش گوئی کے مطابق چاند سے ٹکرا گیا۔

یہ ٹکڑا سکول بس کے سائز کا تھا اور اس کا وزن چار میٹرک ٹن (4,000 کلوگرام) تھا۔ اگرچہ یہ اثر، جو 5,400 میل فی گھنٹہ (8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے ہوا، ابھی تک باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے، لیکن خلائی ٹریکنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ راکٹ کا باقی ماندہ حصہ چاند سے ٹکرانا یقینی تھا۔ یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ اس اثر سے چاند کی دھول کے بادل اٹھ گئے ہوں گے۔ یہ دھول شاید سورج کی روشنی میں چمکتی ہو، لیکن زمین سے اسے کھلی آنکھوں سے دیکھنا مشکل تھا۔

یہ چاند پر ملبے کے جمع ہونے کا تازہ ترین معاملہ ہے۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ چاند پر خلاباز بھیجنے کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ اس مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ 2022 میں، ایک چینی راکٹ چاند کے مشن کے بعد نادانستہ طور پر چاند سے ٹکرا گیا، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی اور راکٹ کے ٹکڑے چاند پر گر چکے ہوں گے جن کا پچھلی چند دہائیوں میں پتہ نہیں چل سکا ہے۔

اسپیس ایکس کی جولیانا شائمن نے کہا کہ کمپنی مستقبل میں ایسے حادثات کو روکنے کے لیے ناسا کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصادم جان بوجھ کر نہیں ہوا۔ اس نے وضاحت کی کہ شمسی سرگرمی اور کشش ثقل کے امتزاج نے نادانستہ طور پر خلائی جہاز کو چاند کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈال دیا۔ متوقع اثر کی جگہ چاند کی مغربی جانب آئن سٹائن کریٹر کے قریب تھی (جو سورج کی روشنی میں رہتی ہے)۔ یہ چاند کے اگلے اور پچھلے اطراف کے کنارے کے قریب ہے، جنہیں زمین سے دیکھنا بہت مشکل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4qbU6Pv

منگل، 4 اگست، 2026

اسپیس ایکس کے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی، زمین کو کوئی خطرہ نہیں: ناسا

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ایک ناکارہ حصے کے بدھ کو چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم اس واقعے سے زمین کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ غیر معمولی واقعہ چاند کی سطح، اس کی ساخت اور خلائی تصادم کے اثرات کے بارے میں اہم سائنسی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز کے مطابق فالکن 9 راکٹ کا تقریباً پانچ ٹن وزنی بالائی حصہ (اپر اسٹیج) تقریباً 2.43 کلومیٹر فی سیکنڈ (تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ چاند کے مغربی حصے میں واقع آئن اسٹائن کریٹر کے قریب ٹکرائے گا۔

ناسا کے ترجمان جمی رسل نے کہا کہ اس واقعے سے زمین کے لیے کسی خطرے کا اندیشہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ادارہ اس راکٹ کے حصے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تصادم کے بعد بننے والے نئے گڑھے اور اس کے اثرات کا سائنسی مطالعہ کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ راکٹ کا وہی حصہ ہے جس نے جنوری 2025 میں اسپیس ایکس کے فالکن 9 مشن کے ذریعے فائر فلائی ایرو اسپیس کے بلیو گھوسٹ 1 اور جاپانی کمپنی آئی اسپیس کے ریزیلینس قمری لینڈرز کو خلا میں پہنچایا تھا۔ مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کے اس حصے کو ایسی مدار میں چھوڑ دیا گیا تھا جو بعد میں چاند کے ساتھ تصادم کے راستے میں آ گئی۔

لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے محقق اور اس تحقیق کے سربراہ بنجامن فرنانڈو کے مطابق تصادم کے نتیجے میں راکٹ کا حصہ مکمل طور پر تبخیر ہو جائے گا، جبکہ چاند کی سطح پر روشنی کی مختصر چمک، گرد و غبار کا بادل اور ایک نیا گڑھا بننے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر چاند سے ٹکرانے والے شہابی پتھروں کی رفتار اور کمیت کے بارے میں پہلے سے درست معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، لیکن اس راکٹ کے بارے میں یہ تمام معلومات معلوم ہیں، اس لیے یہ واقعہ قدرتی تصادم کے مطالعے کے لیے ایک مثالی موقع فراہم کرے گا۔ سائنس دان تصادم سے اٹھنے والے گرد و غبار کا تجزیہ کر کے چاند کی سطح کی معدنی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ناسا آئندہ برسوں میں آرٹیمس پروگرام کے تحت دوبارہ خلا نوردوں کو چاند پر بھیجنے اور وہاں طویل مدتی انسانی موجودگی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کے تصادم کا مطالعہ مستقبل کے قمری مشنز، رہائشی ڈھانچوں اور مدار میں موجود خلائی جہازوں کو لاحق ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

سائنس دانوں کے مطابق اس تصادم سے پیدا ہونے والی روشنی اتنی مدھم ہوگی کہ اسے برہنہ آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا، تاہم طاقتور دوربینوں کے ذریعے اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ محققین نے دنیا بھر کے شوقیہ فلکیات دانوں سے بھی اس نادر واقعے کا مشاہدہ کرنے اور اپنی اطلاعات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/783ypuB

جمعرات، 30 جولائی، 2026

آنر کا روبوٹ فون اگست میں لانچ ہوگا!

چینی کمپنی آنر یعنی Honor جلد ہی اپنا پہلا روبوٹ فون متعارف کروا رہی ہے۔ اس فون کی خاص بات اس کا کیمرہ ہو گا، جو کسی عام ا سمارٹ فون کی طرح فکس نہیں ہوتا۔ اس میں ایک منفرد روبوٹک کیمرہ سسٹم ہے جو ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران گھوم سکتا ہے، آپ کی پیروی کرسکتا ہے اور پیشہ ورانہ کیمرے جیسی حرکت فراہم کرسکتا ہے۔آنر اس فون کو چین میں 12 اگست کو لانچ کرے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک نیا اسمارٹ فون نہیں ہے بلکہ موبائل فوٹو گرافی کا اگلا مرحلہ ہے۔ اسی لیے اسے روبوٹ فون کا نام دیا گیا ہے۔

اس فون کے اوپر ایک خصوصی کیمرہ ماڈیول نصب ہے، جو ضرورت پڑنے پر پاپ آؤٹ اور مختلف سمتوں میں گھوم سکتا ہے۔ یہ صرف کیمرے کی نقل و حرکت کا نظام نہیں ہے، بلکہ یہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سامنے موجود شخص یا چیز کو خود بخود ٹریک بھی کر سکتا ہے۔ اگر کوئی چہل قدمی کر رہا ہے یا ویڈیو لے رہا ہے تو کیمرہ خود بخود ان کا پیچھا کرے گا۔ اس سے ویڈیو ریکارڈنگ ہموار اور زیادہ سنیما میں دکھائی دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آنر اسے روبوٹ فون کہہ رہا ہے۔

آنر نے تصدیق کی ہے کہ روبوٹ فون میں ٹرپل رئیر کیمرہ سیٹ اپ ہوگا۔ پرائمری کیمرہ 200 میگا پکسلز کا ہوگا، ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ فون نہ صرف ہائی ریزولوشن کی تصاویر لینے بلکہ دور کی چیزوں کی بہتر تصاویر لینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔آنر اس فون کو نہ صرف فوٹو گرافی کے لیے تیار کر رہا ہے بلکہ ویڈیو بنانے والوں کو بھی ذہن میں رکھ کر تیار کر رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/DS0ekfz

بدھ، 22 جولائی، 2026

تحقیق و ترقی کی دوڑ میں امریکہ کے برابر پہنچا چین، وائٹ ہاؤس رپورٹ میں انکشاف

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک اہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کے شعبے میں چین اب امریکہ کے برابر کا حریف بن چکا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیجنگ کی منظم حکمت عملی اور مسلسل سرمایہ کاری کے باعث مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اس کی صلاحیتیں تیزی سے مضبوط ہو رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ ’سائنس: اے نیو گولڈن ایج‘ میں امریکہ کے تقریباً 200 ارب ڈالر سالانہ وفاقی تحقیقاتی نظام کی ازسر نو تشکیل کے لیے ایک جامع خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیق و ترقی پر چین کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور قوتِ خرید کے مساوی (پرچیزنگ پاور پیریٹی) کے حساب سے بعض پیمانوں پر یہ اخراجات اب امریکہ کے برابر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ میں اس مقابلے کو سرد جنگ کے دور کی سائنسی اور تکنیکی مسابقت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ امریکہ، چین اور یورپی یونین کے درمیان موازنے پر مبنی ایک چارٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ امریکہ کو تحقیق و ترقی کے اخراجات کے معاملے میں اپنے برابر کا عالمی حریف ملا ہے۔

دستاویز کے مطابق چین نے سائنسی تحقیق کو اپنی عالمی مسابقتی حکمت عملی کا مرکزی جزو بنا لیا ہے۔ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر فیصلے کیے جا رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تحقیقاتی سرگرمیوں کے درمیان مؤثر تال میل قائم کیا گیا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت چین بنیادی سائنسی تحقیق کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کرنے، اہم ٹیکنالوجیز میں تیزی سے پیش رفت کرنے اور اختراعی نظام کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہا ہے۔

رپورٹ میں خودکار سائنسی تجربہ گاہوں کے میدان میں بھی چین کو امریکہ کا مضبوط حریف قرار دیا گیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی مدد سے تجربات کی منصوبہ بندی اور ان کے نفاذ کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اپنی قومی تجربہ گاہوں میں اس نوعیت کی ابتدائی سہولتیں قائم کی ہیں، تاہم چین اور کینیڈا جیسے ممالک اس شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے سفارش کی ہے کہ وفاقی وسائل کو مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، جوہری انشقاق و امتزاج، جدید مواصلاتی نظام، روبوٹکس، مینوفیکچرنگ اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر مرکوز کیا جائے۔ رپورٹ میں ہندوستان یا اس کے سائنسی اداروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی قومی ٹیکنالوجی مشن میں اسے ممکنہ شراکت دار کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

البتہ مالی سال 2028 کی تحقیقاتی ترجیحات سے متعلق میمورنڈم میں وفاقی ایجنسیوں کو ایسے منصوبوں پر غور کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں بین الاقوامی شراکت دار اخراجات میں حصہ دار ہوں۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ماضی میں امریکہ میں ہونے والی کئی اہم سائنسی دریافتوں کا صنعتی فائدہ دوسرے ممالک کو حاصل ہوا۔ اسی پس منظر میں وائٹ ہاؤس نے امریکی تحقیقاتی نظام میں بنیادی اصلاحات اور نئی ترجیحات کے تعین کی ضرورت پر زور دیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/gfjDGWB

جمعہ، 3 جولائی، 2026

زمین کی جانب گرتی ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین کو بچانے کا مشن، زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی 22 سال پرانی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کے ماحول میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک خصوصی خلائی مشن شروع کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد دوربین کو موجودہ نچلے مدار سے زیادہ بلند مدار میں پہنچانا ہے تاکہ وہ مزید کئی برس تک سائنسی تحقیق کا حصہ بنی رہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو خلائی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پرانی خلائی دوربین کو زیادہ بلند مدار میں منتقل کر کے اس کی عملی مدت میں اضافہ کیا جائے گا۔

ناسا کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ سوئفٹ خلائی دوربین کا مدار مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس کی بلندی میں اضافہ نہ کیا گیا تو امکان ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل جائے گی۔ اسی خطرے کے پیش نظر ادارے نے اس خصوصی مشن کا آغاز کیا ہے تاکہ دوربین کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کی خدمات مزید جاری رکھی جا سکیں۔

اس مشن کے لیے ناسا نے امریکی خلائی کمپنی کیٹالسٹ اسپیس کا انتخاب کیا ہے۔ کمپنی کا ایک چھوٹا خلائی جہاز سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچے گا، جہاں وہ اپنے روبوٹک بازوؤں کی مدد سے دوربین کو پکڑ کر آہستہ آہستہ زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ اس خلائی جہاز کو نارتھروپ گرومن کے تعاون سے مارشل جزائر سے فضا میں روانہ کیا گیا ہے اور اسے دوربین تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگنے کی توقع ہے۔

ناسا نے اس منصوبے کے لیے تقریباً 3 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے ہیں، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 30 ارب روپے کے برابر بنتے ہیں۔ اگر مشن کامیاب رہا تو سوئفٹ خلائی دوربین کم از کم مزید 5 برس تک فعال رہ کر خلائی تحقیق کے لیے اہم معلومات فراہم کرتی رہے گی۔

سوئفٹ خلائی دوربین کو 2004 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس کا ابتدائی مشن صرف دو برس کے لیے مقرر کیا گیا تھا، لیکن یہ گزشتہ 2 دہائیوں سے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس دوربین نے کائنات میں رونما ہونے والے متعدد اہم خلائی واقعات کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کی ہیں اور آج بھی پوری طرح فعال ہے۔

یہ دوربین خاص طور پر گاما شعاعی دھماکوں سمیت کائنات میں ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکوں، پھٹتے ہوئے ستاروں اور دیگر غیر معمولی خلائی واقعات کا مشاہدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سوئفٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی نئے خلائی واقعے کی اطلاع ملتے ہی چند منٹوں میں اپنا رخ تبدیل کر سکتی ہے، جبکہ کئی بڑی خلائی دوربینوں کو ایسا کرنے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

ناسا کو امید ہے کہ اگر تمام مراحل منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے تو سوئفٹ خلائی دوربین ستمبر تک دوبارہ معمول کے مطابق سائنسی مشاہدات شروع کر دے گی اور آنے والے برسوں میں بھی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3UFO5y0

چلتے ای رکشہ کے اچانک بند ہونے کا معاملہ، حکومت نے چینی ایپ پر لگائی روک

حکومت ہند نے ایسے موبائل ایپس کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جن کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان کے ذریعے بعض ای رکشوں کو دور سے بند کیا جا سکتا تھا۔ ’دی ہندی‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق متعلقہ چینی ایپ کو گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ حکام نے اس معاملے کو سائبر سکیورٹی اور عوامی تحفظ سے جوڑتے ہوئے فوری اقدامات کیے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض ای رکشوں کو ایک مخصوص موبائل ایپ کے ذریعے اچانک بند کیا جا رہا ہے۔ ان ویڈیوز کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر ایسے نظام کا غلط استعمال کیا جائے تو سڑک پر چلتی گاڑی کو روک کر نہ صرف مسافروں بلکہ دیگر راہگیروں کی جان بھی خطرے میں ڈالی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بیشتر ای رکشوں میں لیتھیم آئن بیٹری کے ساتھ بیٹری مینجمنٹ سسٹم نصب ہوتا ہے، جس کا مقصد بیٹری کی کارکردگی، درجہ حرارت، وولٹیج، کرنٹ اور چارج کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ یہ نظام اکثر بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون سے جڑ جاتا ہے تاکہ ڈرائیور بیٹری کی معلومات دیکھ سکے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کم قیمت والے بعض چینی بیٹری مینجمنٹ سسٹمز میں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوتے۔ اگر ایسے نظام میں بلوٹوتھ رابطے کو محفوظ نہ بنایا گیا ہو تو کوئی دوسرا شخص بھی مخصوص موبائل ایپ استعمال کرکے چند میٹر کے فاصلے سے اس سسٹم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر رسائی مل جائے تو وہ بیٹری کے ڈسچارج سوئچ کو بند کر کے موٹر تک بجلی کی فراہمی روک سکتا ہے، جس سے ای رکشہ چلنا بند ہو جاتا ہے۔

حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ایپس کو ایپ اسٹورز سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو ایسی ایپس حکومت کی نظر میں آئی تھیں جنہیں بعد میں ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایپ اسٹور چلانے والی کمپنیوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایسی ایپس دستیاب نہ ہوں جو عوامی سلامتی یا سائبر سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ای رکشہ مالکان کو صرف مستند کمپنیوں کے بیٹری مینجمنٹ سسٹمز استعمال کرنے چاہئیں اور غیر ضروری بلوٹوتھ رابطہ بند رکھنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو سسٹم کا سکیورٹی پاسورڈ تبدیل کیا جائے اور صرف سرکاری یا مستند ایپس ہی استعمال کی جائیں۔ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا اچانک گاڑی بند ہونے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ کمپنی یا مجاز سروس مرکز سے رابطہ کرنا چاہیے۔ حکومت کی حالیہ کارروائی سے فوری خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم طویل مدت میں محفوظ برقی گاڑیوں کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی نظام اپنانا بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LbQhAnH

منگل، 30 جون، 2026

اسمارٹ ڈریسنگ: زخم کا درد کم کرنے اور جلد بھرنے میں مددگار

نئی دہلی: مرکزی اعلیٰ تعلیمی ادارے این آئی ٹی راؤرکیلا کے محققین نے زخموں کے علاج کے لیے ایک جدید اسمارٹ ڈریسنگ تیار کی ہے، جو نہ صرف زخم میں انفیکشن کے خطرے کو کم کرتی ہے بلکہ ڈریسنگ تبدیل کرتے وقت ہونے والے درد اور تکلیف میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی زخم کو تیزی سے بھرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں جدید طبی علاج کے شعبے میں اہم پیش رفت کی بنیاد بن سکتی ہے۔

یہ نئی ڈریسنگ ایک خصوصی نینو فائبر تہہ پر مشتمل ہے، جس میں قدرتی جراثیم کش خصوصیات رکھنے والا کرکیومن شامل کیا گیا ہے، جو ہلدی سے حاصل ہونے والا مؤثر جزو ہے۔ اس نینو فائبر تہہ کو زخم اور روایتی کاٹن گاز کے درمیان رکھا جاتا ہے، جس کے باعث ڈریسنگ کا زخم سے براہ راست رابطہ کم ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے ڈریسنگ ہٹاتے وقت نئے بننے والے بافتوں کو نقصان پہنچنے کا امکان کم ہو جاتا ہے اور مریض کو کم درد محسوس ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اس نینو فائبر تہہ کے ذریعے کرکیومن بتدریج اور مسلسل زخم تک پہنچتا رہتا ہے، جس سے دوا کی مؤثر مقدار طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ اس عمل سے زخم کے اردگرد صاف اور جراثیم سے محفوظ ماحول قائم رہتا ہے، انفیکشن کے امکانات گھٹتے ہیں اور بار بار ڈریسنگ تبدیل کرنے یا اضافی ادویات استعمال کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔

این آئی ٹی راؤرکیلا کے شعبۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور طبی انجینئرنگ کے معاون پروفیسر پروفیسر پرسون کمار نے بتایا کہ جن مریضوں کے زخموں کی بار بار ڈریسنگ کرنا پڑتی ہے، انہیں ہر مرتبہ شدید تکلیف اور بے آرامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نئی اسمارٹ ڈریسنگ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے تاکہ علاج کو زیادہ آرام دہ اور مؤثر بنایا جا سکے۔

عام طور پر زخموں کی دیکھ بھال کے لیے کاٹن گاز بینڈیج استعمال کی جاتی ہے کیونکہ یہ نسبتاً سستی، استعمال میں آسان اور زخم سے خارج ہونے والے خون اور دیگر رطوبتوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم روایتی کاٹن گاز کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ یہ زخم کی سطح سے چپک جاتی ہے، جس کے باعث ڈریسنگ تبدیل کرتے وقت نئے بننے والے بافتے متاثر ہوتے ہیں اور انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے محققین نے چائٹوسان سے تیار کردہ حفاظتی تہہ کو الیکٹرو اسپن نینو فائبر کے ساتھ ملا کر ایک نئی قسم کی اسمارٹ کاٹن گاز ڈریسنگ تیار کی ہے۔ تجربہ گاہ میں کیے گئے مختلف تجربات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ یہ ڈریسنگ عام کاٹن گاز کے مقابلے میں زخم سے بہت کم چپکتی ہے، جبکہ اس میں موجود کرکیومن مسلسل خارج ہو کر جراثیم کش تحفظ فراہم کرتا ہے اور خلیوں کی افزائش کے ساتھ نئے بافتوں کی تشکیل کے عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔

پروفیسر پرسون کمار کے مطابق اس نئی ڈریسنگ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ زخم کے بھرنے کے قدرتی عمل کو متاثر کیے بغیر خلیوں کی نشوونما میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کو کم تکلیف کے ساتھ بہتر علاج میسر آ سکتا ہے۔

لاگت کے حوالے سے محققین نے بتایا کہ دس سینٹی میٹر چوڑے اور چار میٹر لمبے عام کاٹن گاز رول کی قیمت تقریباً تیس روپے ہوتی ہے، جبکہ اسی سائز کی اسمارٹ ڈریسنگ اگر تجارتی پیمانے پر تیار کی جائے تو اس کی متوقع قیمت پچاس سے ساٹھ روپے کے درمیان ہوگی، جو جدید طبی سہولت کے مقابلے میں مناسب سمجھی جا رہی ہے۔

یہ تحقیقی نتائج معروف سائنسی جریدے ایمرجنگ میٹیریلز میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق میں پروفیسر پرسون کمار کے ساتھ پروفیسر دیویندر ورما، پروفیسر ایرو بنوتھ، سواگاتیکا بارک، ریکا رانی پردھان، شکھا ترپاٹھی اور سمدریتا رائے بھی شریک رہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کے لیے پیٹنٹ حاصل کرنے اور طبی آزمائشوں کے لیے صنعتی اداروں کے تعاون سے مزید تحقیق کی جائے گی، جس سے مستقبل میں زخموں کے علاج کا ایک زیادہ مؤثر اور آرام دہ طریقہ دستیاب ہونے کی امید ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OClnK70

اتوار، 14 جون، 2026

مصنوعی ذہانت: طاقت، انصاف اور انسانیت کے درمیان توازن کی تلاش...پوپ لیو XIV

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے کے معاملے میں دانش مندی اور سخت جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ آج یہ ضرورت اس لیے مزید بڑھ گئی ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی انتہائی تیز رفتاری سے ہو رہی ہے، جبکہ اس کے اثرات کو قابو میں رکھنے کے لیے محض اخلاقیات کے نظری مباحث کافی نہیں رہے۔ اس مقصد کے لیے مضبوط قانونی ڈھانچے، آزاد نگرانی، باشعور صارفین اور ایسی سیاسی قیادت درکار ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہ موڑے۔ بصورت دیگر یہ تبدیلی چند تکنیکی ماہرین اور طاقتور اداروں کے کنٹرول میں چلی جائے گی اور اسے ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر پیش کیا جانے لگے گا۔ نتیجتاً قواعد و ضوابط بھی وہی قوتیں طے کریں گی جن کے پاس ڈیٹا، بنیادی ڈھانچے اور کمپیوٹنگ وسائل پر غلبہ حاصل ہے۔

ہمیں اس بات پر بھی اصرار کرنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ اخلاقی اصولوں پر کھلی بحث کی گنجائش موجود رہے اور انہیں سماجی انصاف کے مشترکہ معیارات کے تابع کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اے آئی پر کنٹرول رکھنے والے اپنے اخلاقی تصورات دوسروں پر مسلط کر دیں گے اور یہی تصورات ان نظاموں کے پوشیدہ ڈھانچے کا حصہ بن جائیں گے۔ آج ایسی فعال سیاسی شرکت کی ضرورت ہے جو اس تیز رفتار دوڑ میں ضروری مواقع پر رفتار کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ان طبقات کے مفادات کا تحفظ کر سکے جو ابھی بھی اس عمل میں شامل ہو کر سوالات اٹھانا چاہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی تکنیکی تبدیلی کی طرح مصنوعی ذہانت بھی ان لوگوں کی طاقت میں اضافہ کرتی ہے جن کے پاس پہلے سے معاشی وسائل، مہارت اور ڈیٹا تک رسائی موجود ہے۔ عام مفاد اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نقطۂ نظر سے یہ صورت حال تشویش پیدا کرتی ہے، کیونکہ محدود مگر انتہائی طاقتور گروہ معلومات اور صارفین کے رویوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جمہوری عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور معاشی سرگرمیوں کو اپنے مفاد کے مطابق موڑ سکتے ہیں۔

ایسی دنیا میں جہاں ڈیٹا، کمپیوٹنگ وسائل اور ضابطہ سازی پر اثر و رسوخ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو، وہاں عوامی مفاد کی بات کرنے کا مطلب اس نئے عدم توازن کو بے نقاب کرنا ہے جو علم، معیشت اور سیاست کے میدانوں میں پیدا ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنم لینے والی نئی اجارہ داریوں کی واضح طور پر شناخت کی جائے اور ان کے اثرات پر سوال اٹھایا جائے۔

وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تقاضا ہے کہ ایسی راہیں تلاش کی جائیں جن کے ذریعے نہ صرف ان ٹیکنالوجیز تک بلکہ انہیں استعمال کرنے کے لیے درکار تعلیم اور تربیت تک بھی سب کی مساوی رسائی ممکن ہو۔ اسی طرح مقامی برادریوں کی فیصلہ سازی اور اصلاح کی صلاحیت کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی طاقت کے اس نظام پر سوال اٹھایا جائے جو یہ طے کرتا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کی صلاحیت کن کے پاس ہوگی اور کون صرف ان کے نتائج قبول کرنے پر مجبور رہے گا۔ یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ سماجی انصاف کوئی ایسا مقصد نہیں جسے بعد میں حاصل کیا جائے، بلکہ اسے ٹیکنالوجی کی تشکیل اور استعمال کے ہر مرحلے میں شامل ہونا چاہیے۔

میں یہاں ایک ایسے لفظ کا ذکر کرنا چاہوں گا جو میرے دل کے بہت قریب ہے اور وہ ہے ’غیر مسلح کرنا‘۔ مصنوعی ذہانت کو غیر مسلح کرنے کا مطلب اسے اس مقابلہ آرائی کی ذہنیت سے آزاد کرنا ہے جو آج صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشی اور فکری دنیا کا بھی حصہ بن چکی ہے۔ اس کا مطلب اس تصور کو مسترد کرنا ہے کہ محض تکنیکی طاقت کسی کو حکمرانی کا حق دے دیتی ہے۔

غیر مسلح کرنے کا مطلب ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں بلکہ اسے انسانیت پر حاوی ہونے سے روکنا ہے۔ اس کا مطلب اسے اجارہ دارانہ کنٹرول سے آزاد کرنا اور اسے عوامی مفاد کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔ آج ہمارا چیلنج صرف اخلاقی یا تکنیکی نوعیت کا نہیں بلکہ گہرے معنوں میں ماحولیاتی بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت اب محض ایک آلہ نہیں رہی بلکہ ایک ایسا ماحول بن چکی ہے جس کے اندر ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ اس لیے صرف اس کی ضابطہ بندی کافی نہیں، بلکہ اسے ایسا بنانا ہوگا جو انسان دوست، قابل رسائی اور سب کے لیے مفید ہو۔

میں مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے ڈیولپرز سے خصوصی اپیل کرنا چاہتا ہوں۔ ایک اعتبار سے تکنیکی اختراع تخلیق کے عمل میں انسانی شرکت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسی لیے ڈیولپرز پر ایک منفرد اخلاقی اور روحانی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ ان کے ہر ڈیزائن اور ہر فیصلے میں انسان اور معاشرے کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر جھلکتا ہے۔

کیا نہیں کھونا چاہیے

کسی تہذیب کا معیار اس کے وسائل یا طاقت کی مقدار سے نہیں، بلکہ اس بات سے جانچا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی دیکھ بھال کتنی اچھی طرح کر سکتی ہے اور انسان کو محض ایک ذریعہ نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر پہچاننے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک دوسرے کی خبرگیری اور نگہداشت کا جذبہ ہماری انسانیت کا بنیادی وصف ہے، جو حقیقی زندگی کے تجربات کے ذریعے سیکھا اور پروان چڑھایا جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی بھی لوگوں کے درمیان اس باہمی نگہداشت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ ایسے ذرائع اور آلات فراہم کر سکتی ہے جو انسانی آزادی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کیے بغیر ہمیں حالات کا پیشگی اندازہ لگانے، منصوبہ بندی کرنے اور معاملات کو بہتر طریقے سے منظم کرنے میں مدد دیں۔

(25 مئی 2026 کو شائع ہونے والے ’میگنیفیکا ہیومینیٹاس‘ سے ماخوذ۔ قومی آواز پر اس سلسلۂ فکر کا پہلا حصہ 8 جون 2026 کو شائع ہوا تھا)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wfVpLxd

میری بات: کیا مصنوعی زہانت سے ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے؟

قومی آواز کے پروگرام ’میری بات‘ کی دوسری قسط میں مصنوعی ذہن کے بڑھتے ہوئے استعمال، اس کے فوائد اور ممکنہ خطرات پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا۔ ادارے کے ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا نے پروگرام میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جو مشینوں کو سیکھنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، جس کے باعث تعلیم، طب، صنعت، زراعت، تحقیق اور دیگر شعبوں میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

پروگرام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کام کی رفتار اور درستگی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ پیچیدہ حساب کتاب، طبی تشخیص، اعداد و شمار کے تجزیے اور تعلیمی معاونت جیسے شعبوں میں بھی اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پروگرام میں یہ بھی کہا گیا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ روزگار کے حوالے سے خدشات ہمیشہ موجود رہے ہیں، تاہم ماضی میں کمپیوٹر کے استعمال کے بارے میں ظاہر کیے گئے اندیشے بڑی حد تک درست ثابت نہیں ہوئے۔

قسط میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ منفی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں بعض ملازمتوں پر اثرات، رازداری کے مسائل، اعداد و شمار کے تحفظ کے خدشات اور غلط یا جانبدارانہ معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ شامل ہے۔ پروگرام میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم اس کے ذمہ دارانہ استعمال اور ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/zUs6FgH

منگل، 9 جون، 2026

بارہویں جماعت کے طلبہ نے امتحان میں کیا مصنوعی ذہانت کا استعمال، نمبر کاٹ لیے گئے

میلبورن: آسٹریلیا کے شہر میلبورن کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں بارہویں جماعت کے متعدد طلبہ امتحانی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرتے پکڑے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس معاملے میں ملوث طلبہ کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے حاصل کردہ نمبروں میں کٹوتی کی گئی۔

مقامی اخبار ’دی ایج‘ کے مطابق میلبورن کے مضافاتی علاقے ملگریو میں واقع مازینوڈ کالج کے کئی طلبہ نے انگریزی کی زبانی پیش کش کے امتحان کی تیاری کے دوران مصنوعی ذہانت سے مدد حاصل کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ تقریباً پچاس طلبہ اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اسکول انتظامیہ نے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اساتذہ کو شبہ اس وقت ہوا جب بعض طلبہ کی پیش کردہ تقاریر میں ایسے انداز اور مواد کی نشاندہی ہوئی جو مصنوعی ذہانت کے استعمال کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ بعد ازاں کی گئی جانچ میں معلوم ہوا کہ بعض طلبہ نے اپنی زبانی تقریر تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لی تھی، جس کے بعد ان کے نمبروں میں کمی کر دی گئی۔

یہ اسائنمنٹ بارہویں جماعت کے انگریزی مضمون کی یونٹ چار کے اہم جائزے کا حصہ ہے اور اس کے لیے مجموعی طور پر بیس نمبر مختص ہوتے ہیں۔ طلبہ کو کسی سماجی، سیاسی یا عصری مسئلے پر تین سے پانچ منٹ کی تقریر تیار کر کے اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس جائزے میں حاصل ہونے والے نمبر طلبہ کے مجموعی تعلیمی اسکور میں شامل کیے جاتے ہیں، جو بعد میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

مازینوڈ کالج کے پرنسپل پال شینن نے ایک بیان میں کہا کہ امتحانی عمل کے جائزے کے دوران چند طلبہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اشارے ملے تھے۔ اس کے بعد مکمل تحقیقات کی گئیں اور متعلقہ طلبہ سے گفتگو بھی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ضروری ضابطہ جاتی مراحل پر عمل کیا گیا اور معاملے سے متعلق معلومات وکٹورین نصاب و جائزہ اتھارٹی کو بھی فراہم کی گئیں۔

پال شینن کے مطابق تحقیقات میں جن طلبہ کے خلاف ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہوئی، ان کے نمبروں میں مناسب کٹوتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال ایک نئی اور سنجیدہ چیلنج کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ان کے بقول امتحانات اور تعلیمی جائزوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام لینا تعلیمی دیانت داری اور منصفانہ جانچ کے اصولوں کے منافی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NY6RCbF

پیر، 8 جون، 2026

آرٹیمس-3 مشن کی تیاریوں میں تیزی، ناسا خلابازوں کو کل دنیا کے سامنے کرے گا پیش

چاند پر دوبارہ انسانی قدم رکھنے کے اپنے تاریخی منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی خلائی ادارہ ناسا آرٹیمس-3 مشن کی تیاریوں میں تیزی لا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ناسا 9 جون کو ایک خصوصی انسٹاگرام لائیو پروگرام منعقد کرے گا، جس میں آرٹیمس-3 مشن کے لیے منتخب خلاباز دنیا بھر کے ناظرین سے براہ راست گفتگو کریں گے۔ اس پروگرام میں مشن کی پیش رفت، مستقبل کی منصوبہ بندی اور چاند پر انسانی واپسی کے اہداف پر روشنی ڈالی جائے گی۔

ناسا نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اطلاع میں بتایا ہے کہ یہ لائیو پروگرام امریکی وقت کے مطابق صبح 11 بجے اور عالمی معیاری وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا۔ اس دوران آرٹیمس-3 مشن سے وابستہ خلاباز اپنے تجربات، تربیت اور مشن کی تیاریوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس موقع پر مشن سے متعلق چند اہم تفصیلات بھی سامنے آسکتی ہیں۔

ناسا کے مطابق آرٹیمس-3 مشن انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح تک پہنچانے کی وسیع تر حکمت عملی کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت خلابازوں کو اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے اورائن خلائی جہاز میں سوار کر کے زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا۔ وہاں اورائن خلائی جہاز اور نجی کمپنیوں کے تیار کردہ تجارتی لینڈرز کے درمیان رابطے، قریب آنے اور ڈاکنگ کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔

خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ آزمائش مستقبل کے قمری مشنوں کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ آئندہ خلابازوں کو چاند کی سطح تک پہنچانے کے لیے تجارتی لینڈرز کا استعمال کیا جائے گا۔ کامیاب ڈاکنگ اور رابطے کی یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مشنوں کو زیادہ محفوظ بنائے گی بلکہ چاند تک رسائی کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد بنانے میں مدد دے گی۔

آرٹیمس-3 کے نمائشی مشن میں نجی خلائی کمپنیوں اسپیس ایکس اور بلو اوریجن کے تیار کردہ لینڈرز میں سے ایک یا دونوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ناسا کے مطابق بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اورائن خلائی جہاز اور تجارتی لینڈرز کے درمیان کامیاب رابطہ اور ڈاکنگ ممکن ہے۔ یہی صلاحیت مستقبل میں خلابازوں کو چاند کی سطح تک لے جانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3aGvTSl

اتوار، 7 جون، 2026

کیا مصنوعی ذہانت کا بلبلہ پھٹ گیا ہے! کیا ہندوستان کو امریکی مارکیٹ میں مندی کا فائدہ ہوگا؟

پچھلے تین سالوں سے، دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت میں لاپرواہی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ لیکن اب ایک ہی دن میں اتنی رقم غائب ہو گئی ہے جو کہ کئی ممالک کی سالانہ آمدنی کے برابر ہے۔  ایک ہی دن میں مارکیٹ ویلیو میں 1.3 ٹریلین  امریکی ڈالرکا صفایا ہو گیا۔ NVIDIA، AMD، Intel، اور Micron جیسی بڑی کمپنیوں کے حصص ایک ہی دن میں 6فیصد سے 17فیصد تک گر گئے۔

پچھلے تین سالوں سے، دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار اے آئی میں لاپرواہی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ NVIDIA کا اسٹاک، جس کی قیمت ایک بار صرف چند ڈالر تھی، 200  امریکی ڈالرسے تجاوز کر گئی۔ کمپنی کی کل مالیت 5 ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ لیکن پھر وہ دن آیا جب 1.3 ٹریلین ڈالر صرف 24 گھنٹوں میں غائب ہو گئے۔ سرمایہ کاروں کو مصنوعی ذہانت کمپنیوں سے معجزاتی نتائج کی امید تھی۔ لیکن جب حقیقی نتائج سامنے آئے تو وہ توقعات سے کم رہ گئے۔ خوف و ہراس پھیل گیا، اور NVIDIA کا اسٹاک ایک ہی دن میں چھ فیصد گر گیا۔

یہ تشویشناک بات ہے۔ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ چپس خریدی جا رہی ہیں۔ بجلی کی کھپت ریکارڈ سطح پر ہے۔ مائیکروسافٹ، گوگل، میٹا، اور ایمیزون سبھی مصنوعی ذہانت انفراسٹرکچر میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

گزشتہ ڈیڑھ سال سے ہندوستان کی اسٹاک مارکیٹ مشکلات کا شکار ہے۔ وجہ یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستان سے پیسہ نکال رہے ہیں اور امریکہ، تائیوان اور جنوبی کوریا کی اے آئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک دو طرح کے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے، وہ جو اے آئی پر انحصار کرتے ہیں، جیسے کہ امریکہ ، تائیوان اور جنوبی کوریا۔ جب تک اے آئی پیسہ لاتا ہے، وہ ترقی کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ لانا بند کر دیتا  ہے، ان کے حصص گر جاتے ہیں۔

دوسرا، وہ جو براہ راست اے آئی پر انحصار نہیں کرتے ہیں، اور اسی میں  ہندوستان آتا ہے۔ ہندوستان کے 1.4 بلین لوگوں کو گھروں، گاڑیوں، ادویات اور اسکولوں کی ضرورت ہے۔ یہ مانگ اے آئی کے حصص گرنے سے نہیں رکی ہے۔ حکومت سڑکوں، ریلوے اور ہائی ویز میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔ ہندوستان میں ہر شعبے میں اے آئی کا استعمال ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ لیکن ہندوستانی کمپنیوں کی ویلیواے آئی کے حصص سے نہیں چلتی۔ یہی فرق ہے اور یہیں ہندوستان کا فائدہ ہے۔ ( بشکریہ انپٹ نیوز پورٹل ’آج تک‘)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Kf1G34a

جمعہ، 5 جون، 2026

خلائی اسٹیشن میں ہوا کے رساؤ کی مرمت، خلا بازوں کو اپنے خلائی جہازوں میں رہنے کی ہدایت

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں ہوا کے رساؤ کی مرمت کے دوران موجود خلا بازوں کو احتیاطی طور پر اپنے اپنے خلائی جہازوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ روسی خلائی حکام کا کہنا ہے کہ عملے کی سلامتی کو کوئی فوری خطرہ درپیش نہیں۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق خلائی اسٹیشن کے روسی حصے میں واقع زویزدا سروس ماڈیول کی منتقلی سرنگ، جسے پی آر کے کہا جاتا ہے، گزشتہ کئی برسوں سے دراڑوں اور ہوا کے رساؤ کے مسئلے کا سامنا کر رہی ہے۔ حال ہی میں مزید رساؤ سامنے آنے کے بعد روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس نے بڑے پیمانے پر مرمتی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

مرمت کے دوران ناسا نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے اسپیس ایکس کریو-12 مشن کے چار ارکان اور ایک دیگر امریکی خلا باز کرس ولیمز کو ڈریگن خلائی جہاز میں منتقل ہونے کی ہدایت دی تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری انخلا ممکن ہو سکے۔ بعد میں روسی ماہرین نے مرمتی کام عارضی طور پر روک کر مزید پیمائشوں اور تکنیکی اعداد و شمار کا جائزہ لینا شروع کر دیا، جس کے بعد خلا بازوں کے لیے جاری خصوصی حفاظتی ہدایات بھی ختم کر دی گئیں۔

روسی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق معائنے کے دوران دو مقامات پر ہوا کے اخراج کا پتہ چلا تھا۔ روسکوسموس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک مقام پر موجود رساؤ کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسرے مقام پر مرمت اور جانچ کا کام جاری ہے۔ ڈریگن خلائی جہاز میں منتقل ہونے والوں میں ناسا کی جیسیکا میئر اور جیک ہیتھاوے، یورپی خلائی ایجنسی کی سوفی آدینو، روسی خلا باز آندرے فیدیایف اور ناسا کے کرس ولیمز شامل تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو اس نوعیت کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ زویزدا ماڈیول سے متعلق دراڑوں اور ہوا کے رساؤ کے مسائل گزشتہ تقریباً چھ برس سے وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں اور روسی و بین الاقوامی ماہرین مسلسل ان کی نگرانی اور مرمت کرتے رہے ہیں۔

ناسا نے واضح کیا ہے کہ خلا بازوں کو خلائی جہازوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ محض اضافی احتیاط کے طور پر کیا گیا تھا اور موجودہ وقت میں عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lUTaofg

جمعرات، 4 جون، 2026

مریخ کے ماحول پر تحقیق کرنے والا ناسا کا پہلا مشن ’میون‘ ختم، خلائی جہاز سے رابطہ منقطع

لاس اینجلس: امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ کے ماحول اور اس میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے والے اپنے تاریخی مشن ’مارس ایٹموسفیئر اینڈ وولیٹائل ایوولوشن‘ یعنی ’میون‘ کے باضابطہ خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق دسمبر 2025 میں خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اس کی بحالی کی تمام کوششیں ناکام رہیں، جس کے نتیجے میں مشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ناسا کے مطابق میون خلائی جہاز کو 18 نومبر 2013 کو روانہ کیا گیا تھا اور یہ 21 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں داخل ہوا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد مریخ کے ماحول، اس کی ساخت، گیسوں کے اخراج اور سیارے پر ماضی میں پانی کی موجودگی سے متعلق اہم معلومات جمع کرنا تھا۔

ابتدائی منصوبے کے تحت اس کی مدت صرف ایک سال مقرر کی گئی تھی، تاہم خلائی جہاز نے توقعات سے کہیں زیادہ کارکردگی دکھائی اور 100 برس سے زائد عرصے تک سائنسی مشاہدات جاری رکھے۔ رپورٹ کے مطابق خلائی جہاز سے آخری مرتبہ 6 دسمبر 2025 کو رابطہ ہوا تھا۔ اس وقت یہ مریخ کے عقب سے گزر رہا تھا۔ اس مرحلے کے بعد اچانک اس کا سگنل غائب ہو گیا اور زمین پر موجود کنٹرول مراکز اس سے دوبارہ رابطہ قائم نہ کر سکے۔

صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ناسا نے فروری میں ایک تحقیقاتی بورڈ تشکیل دیا تھا۔ بورڈ کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کا تعین کرے اور یہ جانچ کرے کہ آیا خلائی جہاز کو دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

بدھ کو جاری بیان میں ناسا نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مریخ کے عقب سے گزرنے کے بعد خلائی جہاز غیر معمولی رفتار سے گھومنے لگا تھا۔ اس کے نتیجے میں اس کی سمت اور مدار متاثر ہوئے، جبکہ شمسی توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی بیٹریاں مکمل طور پر ختم ہو گئیں، جس سے مواصلاتی نظام بند ہو گیا اور زمین سے رابطہ بحال نہ ہو سکا۔

تحقیقاتی بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’میون‘ اب اپنی سائنسی ذمہ داریاں انجام دینے اور معلومات زمین تک پہنچانے کے قابل نہیں رہا، اس لیے اس کی بحالی ممکن نہیں۔ تاہم ناسا کا کہنا ہے کہ خرابی کی حتمی وجہ کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اس بارے میں مکمل رپورٹ رواں سال کے اختتام تک جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

ناسا نے مشن کو باضابطہ طور پر بند کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق مشن کے دوران حاصل ہونے والا قیمتی سائنسی مواد محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں سائنس دان اور خلائی تحقیق سے وابستہ ماہرین اس سے استفادہ کر سکیں۔

واشنگٹن میں ناسا کے شعبۂ سیاروی سائنس کی ڈائریکٹر لوئیس پروکٹر نے کہا کہ میون نے مریخ کے ماحول اور وہاں موجود تابکاری کے بارے میں انتہائی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ ان کے مطابق یہ معلومات مستقبل میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی منصوبہ بندی اور ان کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/t30L9Gd

اتوار، 31 مئی، 2026

خلائی مہم جوئی: چینی کامیابی اور امریکی آزمائش

چینی خلابازوں نے سات ماہ مدار میں گزارنے کے بعد زمین پر محفوظ واپسی کے ساتھ ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا ہے، جس دوران انہوں نے اہم سائنسی نمونے بھی اکٹھے کیے۔ دوسری طرف، جیف بیزوس کی کمپنی کا نیو گلین راکٹ فلوریڈا میں ایک تجربے کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا، جس سے لانچ پیڈ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ حادثہ نہ صرف ایمیزون کے سیٹلائٹ مشن بلکہ ناسا کے مستقبل کے چاند مشن کے لیے بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس جائزہ میں عالمی خلائی دوڑ میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور اس شعبے میں موجود تکنیکی خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

خلائی افق پر بدلتی ہوئی صورتحال

عالمی خلائی منظر نامہ ایک ایسے اہم موڑ پر نظر آتا ہے جہاں دو بڑی طاقتوں کے پروگرام متضاد سمتوں میں گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف چین نے اپنے خلائی اسٹیشن کے آپریشنل استحکام اور تسلسل کا ثبوت دیا، تو دوسری طرف امریکہ کے نجی شعبے کو، جو ناسا کے قمری منصوبوں کا ستون ہے، 'ڈیویلپمنٹل وولیٹائلٹی' یا ترقیاتی اتار چڑھاؤ کے تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ ان واقعات کا مشاہدہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہ واقعات ہمیں دکھاتے ہیں کہ جہاں ایک طاقت (چین) ریاستی سرپرستی میں منظم اور مرحلہ وار پختگی حاصل کر رہی ہے، وہاں دوسری طاقت (امریکہ) نجی شعبے کے 'ہائی رسک، ہائی ریوارڈ' ماڈل کے تحت انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے۔ چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور جنوبی قطب (ساؤتھ پول) کے سنگ میل تک پہنچنے کے لیے ان دونوں قوتوں کی حالیہ پیشرفت اور رکاوٹوں کا تقابلی جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

چین کا خلائی مشن اور سائنسی ثمرات

چینی خلائی پروگرام نے شینزو-21مشن کی کامیاب واپسی کے ذریعے اپنی آپریشنل برتری کو ثابت کیا ہے۔ یہ مشن محض ایک واپسی نہیں بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے خلائی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔ اس مشن کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:

1.    تاریخی قیام اور ریکارڈ: خلا بازوں ژانگ لو، وُو فی اور ژانگ ہونگ ژانگ نے مدار میں 7 ماہ گزار کر چینی تاریخ کا طویل ترین ’ان-آربٹ‘ قیام کا ریکارڈ قائم کیا۔

2.    لاجسٹک پیچیدگی اور تحفظ: عملے کی واپسی شینزو-22 جہاز کے ذریعے عمل میں آئی۔ یاد رہے کہ نومبر 2025 میں شینزو-22 کو بطور 'ریسکیو ویسل' لانچ کیا گیا تھا، کیونکہ شینزو-21 کا اصل جہاز اس سے قبل شینزو-20 کے عملے کو واپس لانے کے لیے استعمال ہو چکا تھا جن کے کیپسول کی کھڑکی (ویو پورٹ) میں دراڑیں پائی گئی تھیں۔

3.    سائنسی ڈیٹا اور سیمپلز: اس مشن کے ذریعے 23 مختلف تجرباتی منصوبوں سے متعلق 41.14 کلو گرام وزنی سائنسی نمونے زمین پر منتقل کیے گئے۔

ان نمونوں میں مصنوعی جنین (آرٹیفیشل ایمبریوز) اور دماغی آرگنائڈز(برین آرگنائڈز) جیسے حساس حیاتیاتی مواد کی موجودگی چین کی 'لائف سائنسز' میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تجربات طویل مدتی گہری خلائی آبادکاری (ڈیپ اسپیس کولونائزیشن) کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، 'ایکسٹرا ٹیریسٹریل فلیم سنتھیسز' کے ذریعے نینو میٹریلز کی تیاری، خلائی آگ سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی، اور طبی الٹراساؤنڈ امیجنگ جیسے شعبوں میں ہونے والی تحقیق چین کو مینوفیکچرنگ اور ایرو اسپیس ایپلی کیشنز میں عالمی سطح پر ایک منفرد مقام عطا کر رہی ہے۔ چین اب شینزو-23 کے ذریعے اسپیس اسٹیشن میں ایک سالہ قیام کا تجربہ کرنے والا ہے، جو اس کے مستقل خلائی تسلط کے عزم کا ثبوت ہے۔

نیو گلین کا حادثہ ایک بڑی رکاوٹ

چین کے منظم استحکام کے برعکس، امریکہ کے نجی خلائی شعبے کو 28 مئی کو ایک سنگین 'فلائٹ مینی فیسٹ ڈسپرشن' کا سامنا کرنا پڑا۔ بلیو اوریجن کا طاقتور 'نیو گلین' راکٹ فلوریڈا کے لانچ کمپلیکس-36 پر ایک پری لانچ "ہاٹ فائر" ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا۔

تکنیکی ناکامی اور تاریخ: نیو گلین اب تک صرف تین بار پرواز کر سکا ہے اور اس کا ریکارڈ مثالی نہیں رہا۔ اس سے قبل اپریل میں تیسری پرواز کے دوران یہ 'بلو برڈ 7' سیٹلائٹ کو درست مدار میں پہنچانے میں ناکام رہا تھا، جس کے بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے اسے گراؤنڈ کر دیا تھا۔

انفراسٹرکچر کا بحران: حالیہ دھماکے نے نہ صرف راکٹ کو تباہ کیا بلکہ لانچ کمپلیکس-36کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چونکہ یہ 'نیو گلین' کے لیے واحد دستیاب لانچ پیڈ ہے، اس لیے یہ حادثہ ایک بڑا 'انفراسٹرکچر بوٹل نیک' ثابت ہوگا۔

فوری نقصانات: اس حادثے کی وجہ سے 4 جون کو ایمیزون کے 49 براڈ بینڈ سیٹلائٹس کی روانگی کا مشن غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہو گیا ہے۔ 

'آرٹیمس' پر اثرات: یہ ناکامی ناسا کے 'آرٹیمس'پروگرام کے لیے ایک خطرناک زنجیر کا پہلا سرا ہے۔ نیو گلین راکٹ ہی 'بلیو مون' لینڈر کا کلیدی ذریعہ ہے، جس نے 2028 تک چاند کے جنوبی قطب پر بیس بنانے کے لیے دو نجی روورز وہاں پہنچانے ہیں۔ اس سال کے آخر میں بھیجے جانے والے روبوٹک پروٹو ٹائپ 'بلیو مون مارک 1' کی تاخیر اب یقینی دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ پروٹو ٹائپ اور ٹیسٹ مشنز بروقت مکمل نہ ہوئے تو امریکہ آرٹیمس-4 کے 2028 کے سنگ میل سے محروم ہو سکتا ہے، جس سے چاند کی دوڑ میں چین کو واضح سبقت حاصل ہو جائے گی۔ اس صورتحال میں ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے کہا ، "خلائی مہم جوئی میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی، اور بھاری بوجھ اٹھانے والے نئے راکٹوں کی تیاری انتہائی دشوار گزار عمل ہے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس غیر معمولی واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی مستقبل کے مشنز پر ہونے والے اثرات کا حتمی اندازہ لگایا جا سکے گا۔

انسانی عزم اور مسلسل جدوجہد

گزشتہ ہفتے کے واقعات چین کی آپریشنل پختگی اور امریکہ کی ترقیاتی مشکلات کے درمیان ایک واضح تضاد پیش کرتے ہیں۔ جہاں چین نے اپنی 'اسٹیٹ ڈریون' حکمت عملی سے استحکام حاصل کیا ہے، وہاں امریکہ کو نجی شعبے کی جدت پسندی میں چھپے خطرات کا سامنا ہے۔ تاہم، یہ دونوں واقعات انسانی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ خلائی سرحدوں کی تسخیر کبھی بھی سہل نہیں رہی۔ ناکامیاں اور تجربات ہی دراصل اس علم کی بنیاد بنتے ہیں جو انسان کو ستاروں تک لے جائے گا۔ چاند اور اس سے آگے کی منزلوں تک پہنچنے کا سفر جاری رہے گا، اور ہر چیلنج ہمیں مستقبل کی کامیابیوں کے قریب تر لے جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/pnXeO7t

جمعہ، 29 مئی، 2026

چین میں اب ہر روبوٹ کوملے گی ڈیجیٹل آئی ڈی

روبوٹکس میں سرفہرست چین نے ایک نیا اقدام کیا ہے۔ ایک منفرد شناختی نمبر عام طور پر انسانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ حکومتیں اور کمپنیاں افراد کی شناخت کی تصدیق اور ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ہندوستان کا آدھار کارڈ بھی ایسا ہی نظام ہے۔ اب چین روبوٹس کے لیے بھی ایسا ہی نظام نافذ کرنے جا رہا ہے۔ چین میں ڈیجیٹل شناختی نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت ہر اے آئی سے چلنے والے روبوٹ کو ایک منفرد کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ اس سے فیکٹری کے آغاز سے ریٹائرمنٹ تک اس کے سفر کو ٹریک کرنے میں مدد ملے گی۔

چین نے اس اقدام کے لیے ہیومنائڈ فل لائف سائیکل مینجمنٹ سروس پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت چین میں تیار ہونے والے ہر ہیومنائڈ کو 29 ہندسوں کا شناختی کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ یہ روبوٹ کو شروع سے آخر تک ٹریک کرنے کی اجازت دے گا۔ چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تیزی سے بڑھتے ہوئے روبوٹکس سیکٹر کی نگرانی کرے گا اور مشترکہ معیارات قائم کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم روبوٹ کی تیاری، فروخت، مقصد، دیکھ بھال، ری سائیکلنگ اور آخر میں ڈسپوزل سے متعلق تمام معلومات فراہم کرے گا۔

یہ نیا ضابطہ روبوٹ بنانے والی کمپنیوں، فروخت کنندگان، سروس فراہم کرنے والوں، صارفین اور ری سائیکلنگ کمپنیوں پر لاگو ہوگا۔ نئے ضوابط میں ایک سخت شق بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی روبوٹ سسٹم میں رجسٹرڈ نہیں ہے تو اسے مارکیٹ میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔

چین روبوٹکس کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہاں نہ صرف روبوٹ تیار کیے جا رہے ہیں بلکہ عوامی استعمال کے لیے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ چین میں ٹریفک کے انتظام، پروموشنز اور ڈیلیوری سمیت مختلف کاموں کے لیے روبوٹ تعینات کیے گئے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/VuwdIm8

جمعرات، 21 مئی، 2026

خلائی اسٹیشن میں مرچ کی کاشت، ناسا مستقبل کے طویل خلائی مشنوں کی تیاری میں مصروف

امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں باغبانی کے اپنے اہم تجربات کی نئی تصاویر جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پودوں کی کاشت صرف زمین تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب خلائی ماحول میں بھی سبزیاں اور پودے اگانے کی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد مستقبل کے طویل خلائی سفر، خاص طور پر چاند اور مریخ کے ممکنہ مشنوں کے لیے بہتر تیاری کرنا ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری تصاویر میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلانورد تھامس مارش برن کو خلائی اسٹیشن کے جدید پودا افزائش نظام میں اگنے والی مرچوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تجربہ ایسے سائنسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت خلائی ماحول میں خوراک پیدا کرنے کے امکانات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

ایک اور تصویر میں خلائی اسٹیشن کے اندر سرخ اور گلابی روشنی میں اگنے والی مرچیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پودوں کی نشوونما کے لیے خاص روشنی کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے پورا حصہ سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔

ناسا نے خلائی اسٹیشن میں ’ویجی‘ نامی ایک چھوٹا خلائی باغ بھی تیار کیا ہے۔ یہ ایک مختصر مگر جدید نظام ہے، جس میں ایک وقت میں چھ پودے اگائے جا سکتے ہیں۔ خلا میں پودے اگانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ خرد کشش ثقل کے ماحول میں پانی عام طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پانی چھوٹے بلبلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے خصوصی مٹی نما نظام استعمال کیا جاتا ہے، جہاں پانی، ہوا اور غذائی اجزا کا متوازن انتظام موجود ہوتا ہے۔

اس خلائی باغ میں اب تک سلاد کے مختلف پتے، چینی بند گوبھی، سرسوں، سرخ پتوں والی سبزیاں اور پھول بھی کامیابی سے اگائے جا چکے ہیں۔ کچھ سبزیوں کو خلاباز کھا چکے ہیں، جبکہ کچھ نمونے زمین پر تحقیق کے لیے بھیجے گئے۔

ماہرین کے مطابق خلا میں پودے صرف خوراک کا ذریعہ نہیں، بلکہ خلابازوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ تازہ خوراک، ہریالی اور فطرت سے وابستگی کا احساس طویل خلائی مشنوں کے دوران ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ناسا ایک جدید پودا افزائش نظام پر بھی کام کر رہا ہے، جس میں سیکڑوں حساس آلات لگائے گئے ہیں۔ یہ نظام زمین پر موجود سائنس دانوں کو مسلسل معلومات فراہم کرتا رہتا ہے۔ مستقبل میں مرچ کے علاوہ ٹماٹر، بیری اور دیگر فصلوں کی خلائی کاشت بھی ناسا کے منصوبوں میں شامل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OQmMF1J

جمعہ، 15 مئی، 2026

آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کیسے ممکن؟ والدین کے لیے 5 مؤثر مشورے

ڈیجیٹل دور میں بچوں کی زندگی کا بڑا حصہ اب انٹرنیٹ سے جڑ چکا ہے۔ تعلیم، کھیل، ویڈیوز، دوستوں سے رابطہ اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے بچے روزانہ گھنٹوں آن لائن وقت گزارتے ہیں۔ اگرچہ انٹرنیٹ علم اور تفریح کا ایک مفید ذریعہ ہے لیکن اس کے ساتھ سائبر بُلنگ، غلط معلومات، نامناسب مواد اور پرائیویسی سے جڑے کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ بچوں کو ایک محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے والدین کے لیے چند اہم مشورے دیے ہیں، جن پر عمل کر کے بچوں کو آن لائن دنیا کے خطرات سے بچایا جا سکتا ہے اور انہیں متوازن ڈیجیٹل زندگی گزارنے میں مدد دی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سب سے ضروری بات بچوں کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا ہے۔ والدین کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بچے آن لائن کس سے بات کرتے ہیں، کون سی ویب سائٹس یا ایپس استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کیا شیئر کرتے ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی تصویر، ویڈیو یا تبصرہ ایک مستقل “ڈیجیٹل نشان” چھوڑ دیتا ہے، جو بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے بچوں کو ذمہ داری کے ساتھ آن لائن برتاؤ کی تعلیم دینا بہت اہم ہے۔

یونیسیف کے مطابق والدین کو گھر میں گیجٹس کے استعمال کے واضح اصول بنانے چاہئیں۔ بچوں کے سونے، پڑھنے اور کھیلنے کے اوقات متاثر نہ ہوں، اس کا خاص خیال رکھا جائے۔ اگر بچے کو آن لائن کسی بات سے خوف، دباؤ یا بے چینی محسوس ہو تو اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ بلا جھجھک والدین سے بات کر سکتا ہے۔

ماہرین نے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ بچوں کے فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنا ضروری ہے تاکہ سکیورٹی خامیوں سے بچا جا سکے۔ پرائیویسی سیٹنگز فعال رکھنا، ویب کیم کو ضرورت نہ ہونے پر بند یا ڈھانپ دینا اور کم عمر بچوں کے لیے پیرنٹل کنٹرول کا استعمال مفید مانا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہیے کہ وہ اپنا نام، پتہ، اسکول یا ذاتی تصاویر کسی اجنبی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین اگر بچوں کے ساتھ آن لائن وقت گزاریں تو وہ ان کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ساتھ ویڈیوز دیکھنا، کھیل کھیلنا یا تعلیمی مواد تلاش کرنا نہ صرف رشتہ مضبوط بناتا ہے بلکہ بچوں کو غلط معلومات اور نقصان دہ مواد سے دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ اشتہارات، جعلی خبروں اور منفی پیغامات کو کیسے پہچانا جائے۔ عمر کے مطابق مناسب ایپس اور کھیلوں کا انتخاب بھی والدین کی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ بچے غیر مناسب مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

یونیسیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کے بڑے خود موبائل یا سوشل میڈیا کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال کریں گے تو بچے بھی وہی عادت اپنائیں گے۔ بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرتے وقت احتیاط کرنا اور آن لائن گفتگو میں شائستگی اختیار کرنا بھی مثبت مثال قائم کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ بچوں کو ایسے پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی ترغیب دینی چاہیے جہاں وہ نئی مہارتیں سیکھ سکیں، اپنی دلچسپیوں کو آگے بڑھا سکیں اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ تاہم اس کے ساتھ جسمانی کھیل، خاندانی وقت اور آف لائن سرگرمیوں کا توازن برقرار رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

یونیسیف نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسکولوں کی ڈیجیٹل پالیسیوں اور مقامی ہیلپ لائنز کے بارے میں بھی معلومات رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yobzwXl

اتوار، 3 مئی، 2026

ڈیجیٹل دنیا: خواتین کی سیلف سنسرشپ

مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے جدید دور میں خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف آن لائن تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس نے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے ڈیپ فیکس اور نجی تصاویر کے غیر قانونی پھیلاؤ کو آسان بنا دیا ہے، جس کا مقصد خواتین کی آواز کو دبانا اور ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

اس ہراساں کیے جانے کے عمل سے خواتین میں ذہنی امراض، جیسے کہ ڈپریشن اور بے چینی کی شرح بڑھی ہے اور بہت سی خواتین خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خود ساختہ سنسرشپ یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ موجودہ قانونی تحفظ ناکافی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو کام کی جگہوں اور سوشل میڈیا پر شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ نہ صرف انفرادی زندگیوں بلکہ جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم

ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب، جو ہماری آواز بننا تھا، اب ہماری شناخت مٹانے کا آلہ بن چکا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں خواتین، بالخصوص صحافی اور انسانی حقوق کی علمبردار، ایک ایسی جنگ کا سامنا کر رہی ہیں جہاں ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہیں۔ ڈیجیٹل خاموشی (ڈیجیٹل سائلنسنگ) کے عنوان سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ ایک بھیانک تصویر پیش کرتی ہے: ٹیکنالوجی اب صرف ترقی کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ اسے منظم طریقے سے "ڈیجیٹل استبداد"کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ آدھی آبادی کو عوامی منظر نامے سے غائب کر دیا جائے۔

بدسلوکی کا نیا خطرناک ہتھیار

مصنوعی ذہانت نے آن لائن تشدد کو نہ صرف پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اسے ایک خطرناک وسعت دے دی ہے۔ اب بدسلوکی صرف ٹرولنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اے آئی کی مدد سے کسی کی ساکھ منٹوں میں راکھ کی جا سکتی ہے۔ سال 2025کے ایک عالمی سروے کے مطابق : 12 فیصد خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو ان کی ذاتی تصاویر کی غیر رضامندی کے ساتھ تشہیرکا سامنا کرنا پڑا۔ 6 فیصد خواتین "ڈیپ فیکس"کا شکار ہوئیں، جہاں اے آئی کے ذریعے ان کی ایسی جعلی تصاویر یا ویڈیوز بنائی گئیں جو دیکھنے میں بالکل حقیقی لگتی ہیں۔ اور ہر تین میں سے ایک خاتون کو انٹرنیٹ پر بن مانگی پیش قدمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو پلیٹ فارمز کی نظامیاتی ناکامی کا ثبوت ہے۔

اعداد و شمار میں دگنا اضافہ

یہ کوئی وقتی لہر نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا بحران ہے۔ سال 2020 کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن تشدد کی رپورٹنگ میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی کالیوپی منگیرو اس صورتحال کو جمہوری پسپائی سے جوڑتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’’مصنوعی ذہانت بدسلوکی کو آسان اور زیادہ نقصان دہ بنا رہی ہے۔ یہ جمہوری پسپائی اور منظم صنفی عداوت (نیٹ ورکڈ مِسوجنی)کے تناظر میں ان حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہے جو ہم نے دہائیوں کی محنت سے حاصل کیے تھے۔‘‘

خود ساختہ سنسرشپ

جب ڈیجیٹل فضا زہریلی ہو جاتی ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان "خاموشی" کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ صحافت کے بنیادی جوہر پر حملہ ہے۔ تقریباً 45 فیصد خواتین صحافیوں نے بدسلوکی کے خوف سے سوشل میڈیا پر خود ساختہ (سیلف) سنسرشپ اختیار کر لی ہے، جو کہ سال 2020 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 22 فیصد خواتین صحافی اب اپنے پیشہ ورانہ کام اور تحقیقاتی رپورٹنگ میں بھی سنسرشپ کا شکار ہو رہی ہیں۔ جب ایک صحافی کسی طاقتور گروہ کے خلاف لکھنے سے اس لیے رک جاتی ہے کہ اسے آن لائن وحشیانہ مہم کا ڈر ہے، تو یہ صرف اس کی خاموشی نہیں بلکہ جمہوریت کی موت ہے۔

ذہنی صحت پر گہرے اثرات

آن لائن تشدد کے زخم جسمانی نہیں ہوتے، مگر ان کی اذیت زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 24.7فیصد خواتین صحافی انزائٹی یا ڈپریشن کا شکار ہیں، جبکہ 13 فیصد میں پی ٹی ایس ڈی(پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس انسانی المیے کو ان دو الگ الگ کہانیوں سے سمجھا جا سکتا ہے: ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک ماحولیاتی صحافی بتاتی ہیں کہ ’’جب دائیں بازو کے گروہ مجھے آن لائن 'غدار' قرار دیتے ہیں اور واٹس ایپ پر جھوٹے الزامات پھیلائے جاتے ہیں، تو اپنے ہی ملک میں رہنا خوفناک ہو جاتا ہے۔ ہم نے تحقیقاتی رپورٹنگ سے ہاتھ کھینچ لیا ہے کیونکہ یہ گروہ اب میرے رشتہ داروں کو ہراساں کرتے ہیں۔‘‘

اسی طرح ایک اور صحافی اور کمیونٹی آرگنائزر نے اپنی ملازمت چھوڑنے کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ "آن لائن دباؤ اس قدر ناقابلِ برداشت تھا کہ میں نے دسمبر 2023 میں استعفیٰ دے دیا۔ اب میں گھر پر ہوں اور صرف اپنی ذہنی صحت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں اب صرف چاول کی کانجی پر گزارہ کر رہی ہوں کیونکہ کام سے نکالے جانے کے بعد میرے پاس کوئی مالی سہارا نہیں بچا۔"

قانونی خلا اور بگ ٹیک کی ذمہ داری

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بحران قوانین کی کمی سے زیادہ ’نظامیاتی ناکامی‘ کا نتیجہ ہے۔ ورلڈ بینک کے ڈیٹا کے مطابق، دنیا کے 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں سائبر ہراسانی کے خلاف موثر قوانین موجود ہیں۔ اگرچہ پولیس رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے11فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد اور قانونی کارروائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچی ہے، لیکن اصل مسئلہ ’سہولت کاروں‘ کا ہے۔ گوگل، میٹا اور ایکس (ٹویٹر) جیسے پلیٹ فارمز اس تشدد کو روکنے کے بجائے اسے ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ جب تک ٹیکنالوجی کمپنیاں جوابدہ نہیں ہوں گی، صرف قوانین کافی نہیں ہوں گے۔

’ڈیجیٹل سائلنسنگ‘ یا خاموش کر دینے کا یہ عمل دراصل ہماری آنے والی نسلوں کی آواز چھیننے کی کوشش ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو انسانی حقوق کی پامالی کے لیے ڈھال بنایا جاتا رہا، تو وہ وقت دور نہیں جب ڈیجیٹل دنیا صرف ایک مخصوص گروہ کی جاگیر بن کر رہ جائے گی۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم واقعی ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں جہاں آدھی آبادی کی آواز کو دبانے کے لیے ٹیکنالوجی کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہو؟ اس کا جواب ہماری خاموشی میں نہیں بلکہ مزاحمت اور مطالبہ انصاف میں چھپا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Yjpfenz

جمعرات، 15 مئی، 2025

رازداری کا مقدمہ: ’سیری‘ سے متعلق کیس میں ایپل سمجھوتے پر آمادہ، صارفین کو ملے گا 8500 روپے تک معاوضہ

’ایپل‘(Apple) کو اپنی وائس اسسٹنٹ سروس ’سیری‘(Siri) کو لے کر امریکہ میں درج ایک مقدمے میں سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔ کمپنی پر الزام تھا کہ ’سیری‘ بغیر اجازت کے یوزرس کی نجی بات چیت ریکارڈ کرتی تھی۔ اس معاملے میں ’ایپل‘ اب قریب 790 کروڑ کا سیٹلمنٹ کرنے کو راضی ہو گیا ہے۔ اہل یوزرس کو 8500 روپے تک کا معاوضہ مل سکتا ہے۔

یہ مقدمہ 2019 میں درج کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ ’سیری‘ کئی بار بغیر کمانڈ کے خود بہ خود فعال ہو جاتی تھی اور یوزرس کی نجی بات چیت ریکارڈ کر لیتی تھی۔ ان میں کچھ ریکارڈنگس میں صحت سے جڑی جانکاری اور نجی بات چیت بھی شامل تھی، جنہیں مبینہ طور پر باہری کانٹریکٹرس کو بھیجا گیا تھا۔

حالانکہ ’ایپل‘ نے ان الزامات سے انکار کیا ہے، لیکن بغیر مقدمہ لڑے سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ’سیری‘ ہمیشہ سے یوزرس کی رازداری کا دھیان رکھتی ہے اور اس نے کبھی بھی ریکارڈنگس کو فروخت کرنے یا مارکیٹنگ کے لیے استعمال نہیں کیا۔

 جس نے بھی 17 ستمبر 2014 سے 31 دسمبر 2024 کے درمیان ’ایپل‘ ڈیوائس پر ’سیری‘ کا استعمال کیا ہے، جس کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے ’سیری‘ ایکٹیویشن اور نجی بات چیت ریکارڈ ہونے کا واقعہ ہوا ہو، وہ معاوضہ کے لیے دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 100 ڈالر (تقریباً 8500 روپے) فی یوزرس ادائیگی ہوگی جبکہ ہر اہل ڈیوائس پر 20 ڈالر تک ملیں گے۔ یوزرس زیادہ سے زیادہ 5 ڈیوائسز کے لیے دعویٰ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس iPhone, iPad, MacBook, Apple Watch, HomePod, iPod “Touch اور Apple TV ہے تو معاوضہ کے لیے دعویٰ کر سکتے ہیں۔

معاوضہ کے لیے https://ift.tt/3swNUcv سیٹلمنٹ پورٹل پر جانا ہوگا اور ضروری جانکاری دینی ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hrTdw2A