Qaumi Awaz لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Qaumi Awaz لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 31 مئی، 2026

خلائی مہم جوئی: چینی کامیابی اور امریکی آزمائش

چینی خلابازوں نے سات ماہ مدار میں گزارنے کے بعد زمین پر محفوظ واپسی کے ساتھ ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا ہے، جس دوران انہوں نے اہم سائنسی نمونے بھی اکٹھے کیے۔ دوسری طرف، جیف بیزوس کی کمپنی کا نیو گلین راکٹ فلوریڈا میں ایک تجربے کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا، جس سے لانچ پیڈ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ حادثہ نہ صرف ایمیزون کے سیٹلائٹ مشن بلکہ ناسا کے مستقبل کے چاند مشن کے لیے بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس جائزہ میں عالمی خلائی دوڑ میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور اس شعبے میں موجود تکنیکی خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

خلائی افق پر بدلتی ہوئی صورتحال

عالمی خلائی منظر نامہ ایک ایسے اہم موڑ پر نظر آتا ہے جہاں دو بڑی طاقتوں کے پروگرام متضاد سمتوں میں گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف چین نے اپنے خلائی اسٹیشن کے آپریشنل استحکام اور تسلسل کا ثبوت دیا، تو دوسری طرف امریکہ کے نجی شعبے کو، جو ناسا کے قمری منصوبوں کا ستون ہے، 'ڈیویلپمنٹل وولیٹائلٹی' یا ترقیاتی اتار چڑھاؤ کے تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ ان واقعات کا مشاہدہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہ واقعات ہمیں دکھاتے ہیں کہ جہاں ایک طاقت (چین) ریاستی سرپرستی میں منظم اور مرحلہ وار پختگی حاصل کر رہی ہے، وہاں دوسری طاقت (امریکہ) نجی شعبے کے 'ہائی رسک، ہائی ریوارڈ' ماڈل کے تحت انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے۔ چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور جنوبی قطب (ساؤتھ پول) کے سنگ میل تک پہنچنے کے لیے ان دونوں قوتوں کی حالیہ پیشرفت اور رکاوٹوں کا تقابلی جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

چین کا خلائی مشن اور سائنسی ثمرات

چینی خلائی پروگرام نے شینزو-21مشن کی کامیاب واپسی کے ذریعے اپنی آپریشنل برتری کو ثابت کیا ہے۔ یہ مشن محض ایک واپسی نہیں بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے خلائی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔ اس مشن کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:

1.    تاریخی قیام اور ریکارڈ: خلا بازوں ژانگ لو، وُو فی اور ژانگ ہونگ ژانگ نے مدار میں 7 ماہ گزار کر چینی تاریخ کا طویل ترین ’ان-آربٹ‘ قیام کا ریکارڈ قائم کیا۔

2.    لاجسٹک پیچیدگی اور تحفظ: عملے کی واپسی شینزو-22 جہاز کے ذریعے عمل میں آئی۔ یاد رہے کہ نومبر 2025 میں شینزو-22 کو بطور 'ریسکیو ویسل' لانچ کیا گیا تھا، کیونکہ شینزو-21 کا اصل جہاز اس سے قبل شینزو-20 کے عملے کو واپس لانے کے لیے استعمال ہو چکا تھا جن کے کیپسول کی کھڑکی (ویو پورٹ) میں دراڑیں پائی گئی تھیں۔

3.    سائنسی ڈیٹا اور سیمپلز: اس مشن کے ذریعے 23 مختلف تجرباتی منصوبوں سے متعلق 41.14 کلو گرام وزنی سائنسی نمونے زمین پر منتقل کیے گئے۔

ان نمونوں میں مصنوعی جنین (آرٹیفیشل ایمبریوز) اور دماغی آرگنائڈز(برین آرگنائڈز) جیسے حساس حیاتیاتی مواد کی موجودگی چین کی 'لائف سائنسز' میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تجربات طویل مدتی گہری خلائی آبادکاری (ڈیپ اسپیس کولونائزیشن) کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، 'ایکسٹرا ٹیریسٹریل فلیم سنتھیسز' کے ذریعے نینو میٹریلز کی تیاری، خلائی آگ سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی، اور طبی الٹراساؤنڈ امیجنگ جیسے شعبوں میں ہونے والی تحقیق چین کو مینوفیکچرنگ اور ایرو اسپیس ایپلی کیشنز میں عالمی سطح پر ایک منفرد مقام عطا کر رہی ہے۔ چین اب شینزو-23 کے ذریعے اسپیس اسٹیشن میں ایک سالہ قیام کا تجربہ کرنے والا ہے، جو اس کے مستقل خلائی تسلط کے عزم کا ثبوت ہے۔

نیو گلین کا حادثہ ایک بڑی رکاوٹ

چین کے منظم استحکام کے برعکس، امریکہ کے نجی خلائی شعبے کو 28 مئی کو ایک سنگین 'فلائٹ مینی فیسٹ ڈسپرشن' کا سامنا کرنا پڑا۔ بلیو اوریجن کا طاقتور 'نیو گلین' راکٹ فلوریڈا کے لانچ کمپلیکس-36 پر ایک پری لانچ "ہاٹ فائر" ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا۔

تکنیکی ناکامی اور تاریخ: نیو گلین اب تک صرف تین بار پرواز کر سکا ہے اور اس کا ریکارڈ مثالی نہیں رہا۔ اس سے قبل اپریل میں تیسری پرواز کے دوران یہ 'بلو برڈ 7' سیٹلائٹ کو درست مدار میں پہنچانے میں ناکام رہا تھا، جس کے بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے اسے گراؤنڈ کر دیا تھا۔

انفراسٹرکچر کا بحران: حالیہ دھماکے نے نہ صرف راکٹ کو تباہ کیا بلکہ لانچ کمپلیکس-36کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چونکہ یہ 'نیو گلین' کے لیے واحد دستیاب لانچ پیڈ ہے، اس لیے یہ حادثہ ایک بڑا 'انفراسٹرکچر بوٹل نیک' ثابت ہوگا۔

فوری نقصانات: اس حادثے کی وجہ سے 4 جون کو ایمیزون کے 49 براڈ بینڈ سیٹلائٹس کی روانگی کا مشن غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہو گیا ہے۔ 

'آرٹیمس' پر اثرات: یہ ناکامی ناسا کے 'آرٹیمس'پروگرام کے لیے ایک خطرناک زنجیر کا پہلا سرا ہے۔ نیو گلین راکٹ ہی 'بلیو مون' لینڈر کا کلیدی ذریعہ ہے، جس نے 2028 تک چاند کے جنوبی قطب پر بیس بنانے کے لیے دو نجی روورز وہاں پہنچانے ہیں۔ اس سال کے آخر میں بھیجے جانے والے روبوٹک پروٹو ٹائپ 'بلیو مون مارک 1' کی تاخیر اب یقینی دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ پروٹو ٹائپ اور ٹیسٹ مشنز بروقت مکمل نہ ہوئے تو امریکہ آرٹیمس-4 کے 2028 کے سنگ میل سے محروم ہو سکتا ہے، جس سے چاند کی دوڑ میں چین کو واضح سبقت حاصل ہو جائے گی۔ اس صورتحال میں ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے کہا ، "خلائی مہم جوئی میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی، اور بھاری بوجھ اٹھانے والے نئے راکٹوں کی تیاری انتہائی دشوار گزار عمل ہے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس غیر معمولی واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی مستقبل کے مشنز پر ہونے والے اثرات کا حتمی اندازہ لگایا جا سکے گا۔

انسانی عزم اور مسلسل جدوجہد

گزشتہ ہفتے کے واقعات چین کی آپریشنل پختگی اور امریکہ کی ترقیاتی مشکلات کے درمیان ایک واضح تضاد پیش کرتے ہیں۔ جہاں چین نے اپنی 'اسٹیٹ ڈریون' حکمت عملی سے استحکام حاصل کیا ہے، وہاں امریکہ کو نجی شعبے کی جدت پسندی میں چھپے خطرات کا سامنا ہے۔ تاہم، یہ دونوں واقعات انسانی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ خلائی سرحدوں کی تسخیر کبھی بھی سہل نہیں رہی۔ ناکامیاں اور تجربات ہی دراصل اس علم کی بنیاد بنتے ہیں جو انسان کو ستاروں تک لے جائے گا۔ چاند اور اس سے آگے کی منزلوں تک پہنچنے کا سفر جاری رہے گا، اور ہر چیلنج ہمیں مستقبل کی کامیابیوں کے قریب تر لے جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/pnXeO7t

جمعہ، 29 مئی، 2026

چین میں اب ہر روبوٹ کوملے گی ڈیجیٹل آئی ڈی

روبوٹکس میں سرفہرست چین نے ایک نیا اقدام کیا ہے۔ ایک منفرد شناختی نمبر عام طور پر انسانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ حکومتیں اور کمپنیاں افراد کی شناخت کی تصدیق اور ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ہندوستان کا آدھار کارڈ بھی ایسا ہی نظام ہے۔ اب چین روبوٹس کے لیے بھی ایسا ہی نظام نافذ کرنے جا رہا ہے۔ چین میں ڈیجیٹل شناختی نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت ہر اے آئی سے چلنے والے روبوٹ کو ایک منفرد کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ اس سے فیکٹری کے آغاز سے ریٹائرمنٹ تک اس کے سفر کو ٹریک کرنے میں مدد ملے گی۔

چین نے اس اقدام کے لیے ہیومنائڈ فل لائف سائیکل مینجمنٹ سروس پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت چین میں تیار ہونے والے ہر ہیومنائڈ کو 29 ہندسوں کا شناختی کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ یہ روبوٹ کو شروع سے آخر تک ٹریک کرنے کی اجازت دے گا۔ چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تیزی سے بڑھتے ہوئے روبوٹکس سیکٹر کی نگرانی کرے گا اور مشترکہ معیارات قائم کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم روبوٹ کی تیاری، فروخت، مقصد، دیکھ بھال، ری سائیکلنگ اور آخر میں ڈسپوزل سے متعلق تمام معلومات فراہم کرے گا۔

یہ نیا ضابطہ روبوٹ بنانے والی کمپنیوں، فروخت کنندگان، سروس فراہم کرنے والوں، صارفین اور ری سائیکلنگ کمپنیوں پر لاگو ہوگا۔ نئے ضوابط میں ایک سخت شق بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی روبوٹ سسٹم میں رجسٹرڈ نہیں ہے تو اسے مارکیٹ میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔

چین روبوٹکس کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہاں نہ صرف روبوٹ تیار کیے جا رہے ہیں بلکہ عوامی استعمال کے لیے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ چین میں ٹریفک کے انتظام، پروموشنز اور ڈیلیوری سمیت مختلف کاموں کے لیے روبوٹ تعینات کیے گئے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/VuwdIm8

جمعرات، 21 مئی، 2026

خلائی اسٹیشن میں مرچ کی کاشت، ناسا مستقبل کے طویل خلائی مشنوں کی تیاری میں مصروف

امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں باغبانی کے اپنے اہم تجربات کی نئی تصاویر جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پودوں کی کاشت صرف زمین تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب خلائی ماحول میں بھی سبزیاں اور پودے اگانے کی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد مستقبل کے طویل خلائی سفر، خاص طور پر چاند اور مریخ کے ممکنہ مشنوں کے لیے بہتر تیاری کرنا ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری تصاویر میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلانورد تھامس مارش برن کو خلائی اسٹیشن کے جدید پودا افزائش نظام میں اگنے والی مرچوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تجربہ ایسے سائنسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت خلائی ماحول میں خوراک پیدا کرنے کے امکانات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

ایک اور تصویر میں خلائی اسٹیشن کے اندر سرخ اور گلابی روشنی میں اگنے والی مرچیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پودوں کی نشوونما کے لیے خاص روشنی کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے پورا حصہ سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔

ناسا نے خلائی اسٹیشن میں ’ویجی‘ نامی ایک چھوٹا خلائی باغ بھی تیار کیا ہے۔ یہ ایک مختصر مگر جدید نظام ہے، جس میں ایک وقت میں چھ پودے اگائے جا سکتے ہیں۔ خلا میں پودے اگانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ خرد کشش ثقل کے ماحول میں پانی عام طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پانی چھوٹے بلبلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے خصوصی مٹی نما نظام استعمال کیا جاتا ہے، جہاں پانی، ہوا اور غذائی اجزا کا متوازن انتظام موجود ہوتا ہے۔

اس خلائی باغ میں اب تک سلاد کے مختلف پتے، چینی بند گوبھی، سرسوں، سرخ پتوں والی سبزیاں اور پھول بھی کامیابی سے اگائے جا چکے ہیں۔ کچھ سبزیوں کو خلاباز کھا چکے ہیں، جبکہ کچھ نمونے زمین پر تحقیق کے لیے بھیجے گئے۔

ماہرین کے مطابق خلا میں پودے صرف خوراک کا ذریعہ نہیں، بلکہ خلابازوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ تازہ خوراک، ہریالی اور فطرت سے وابستگی کا احساس طویل خلائی مشنوں کے دوران ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ناسا ایک جدید پودا افزائش نظام پر بھی کام کر رہا ہے، جس میں سیکڑوں حساس آلات لگائے گئے ہیں۔ یہ نظام زمین پر موجود سائنس دانوں کو مسلسل معلومات فراہم کرتا رہتا ہے۔ مستقبل میں مرچ کے علاوہ ٹماٹر، بیری اور دیگر فصلوں کی خلائی کاشت بھی ناسا کے منصوبوں میں شامل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OQmMF1J

جمعہ، 15 مئی، 2026

آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کیسے ممکن؟ والدین کے لیے 5 مؤثر مشورے

ڈیجیٹل دور میں بچوں کی زندگی کا بڑا حصہ اب انٹرنیٹ سے جڑ چکا ہے۔ تعلیم، کھیل، ویڈیوز، دوستوں سے رابطہ اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے بچے روزانہ گھنٹوں آن لائن وقت گزارتے ہیں۔ اگرچہ انٹرنیٹ علم اور تفریح کا ایک مفید ذریعہ ہے لیکن اس کے ساتھ سائبر بُلنگ، غلط معلومات، نامناسب مواد اور پرائیویسی سے جڑے کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ بچوں کو ایک محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے والدین کے لیے چند اہم مشورے دیے ہیں، جن پر عمل کر کے بچوں کو آن لائن دنیا کے خطرات سے بچایا جا سکتا ہے اور انہیں متوازن ڈیجیٹل زندگی گزارنے میں مدد دی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سب سے ضروری بات بچوں کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا ہے۔ والدین کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بچے آن لائن کس سے بات کرتے ہیں، کون سی ویب سائٹس یا ایپس استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کیا شیئر کرتے ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی تصویر، ویڈیو یا تبصرہ ایک مستقل “ڈیجیٹل نشان” چھوڑ دیتا ہے، جو بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے بچوں کو ذمہ داری کے ساتھ آن لائن برتاؤ کی تعلیم دینا بہت اہم ہے۔

یونیسیف کے مطابق والدین کو گھر میں گیجٹس کے استعمال کے واضح اصول بنانے چاہئیں۔ بچوں کے سونے، پڑھنے اور کھیلنے کے اوقات متاثر نہ ہوں، اس کا خاص خیال رکھا جائے۔ اگر بچے کو آن لائن کسی بات سے خوف، دباؤ یا بے چینی محسوس ہو تو اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ بلا جھجھک والدین سے بات کر سکتا ہے۔

ماہرین نے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ بچوں کے فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنا ضروری ہے تاکہ سکیورٹی خامیوں سے بچا جا سکے۔ پرائیویسی سیٹنگز فعال رکھنا، ویب کیم کو ضرورت نہ ہونے پر بند یا ڈھانپ دینا اور کم عمر بچوں کے لیے پیرنٹل کنٹرول کا استعمال مفید مانا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہیے کہ وہ اپنا نام، پتہ، اسکول یا ذاتی تصاویر کسی اجنبی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین اگر بچوں کے ساتھ آن لائن وقت گزاریں تو وہ ان کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ساتھ ویڈیوز دیکھنا، کھیل کھیلنا یا تعلیمی مواد تلاش کرنا نہ صرف رشتہ مضبوط بناتا ہے بلکہ بچوں کو غلط معلومات اور نقصان دہ مواد سے دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ اشتہارات، جعلی خبروں اور منفی پیغامات کو کیسے پہچانا جائے۔ عمر کے مطابق مناسب ایپس اور کھیلوں کا انتخاب بھی والدین کی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ بچے غیر مناسب مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

یونیسیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کے بڑے خود موبائل یا سوشل میڈیا کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال کریں گے تو بچے بھی وہی عادت اپنائیں گے۔ بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرتے وقت احتیاط کرنا اور آن لائن گفتگو میں شائستگی اختیار کرنا بھی مثبت مثال قائم کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ بچوں کو ایسے پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی ترغیب دینی چاہیے جہاں وہ نئی مہارتیں سیکھ سکیں، اپنی دلچسپیوں کو آگے بڑھا سکیں اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ تاہم اس کے ساتھ جسمانی کھیل، خاندانی وقت اور آف لائن سرگرمیوں کا توازن برقرار رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

یونیسیف نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسکولوں کی ڈیجیٹل پالیسیوں اور مقامی ہیلپ لائنز کے بارے میں بھی معلومات رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yobzwXl

اتوار، 3 مئی، 2026

ڈیجیٹل دنیا: خواتین کی سیلف سنسرشپ

مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے جدید دور میں خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف آن لائن تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس نے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے ڈیپ فیکس اور نجی تصاویر کے غیر قانونی پھیلاؤ کو آسان بنا دیا ہے، جس کا مقصد خواتین کی آواز کو دبانا اور ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

اس ہراساں کیے جانے کے عمل سے خواتین میں ذہنی امراض، جیسے کہ ڈپریشن اور بے چینی کی شرح بڑھی ہے اور بہت سی خواتین خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خود ساختہ سنسرشپ یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ موجودہ قانونی تحفظ ناکافی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو کام کی جگہوں اور سوشل میڈیا پر شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ نہ صرف انفرادی زندگیوں بلکہ جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم

ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب، جو ہماری آواز بننا تھا، اب ہماری شناخت مٹانے کا آلہ بن چکا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں خواتین، بالخصوص صحافی اور انسانی حقوق کی علمبردار، ایک ایسی جنگ کا سامنا کر رہی ہیں جہاں ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہیں۔ ڈیجیٹل خاموشی (ڈیجیٹل سائلنسنگ) کے عنوان سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ ایک بھیانک تصویر پیش کرتی ہے: ٹیکنالوجی اب صرف ترقی کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ اسے منظم طریقے سے "ڈیجیٹل استبداد"کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ آدھی آبادی کو عوامی منظر نامے سے غائب کر دیا جائے۔

بدسلوکی کا نیا خطرناک ہتھیار

مصنوعی ذہانت نے آن لائن تشدد کو نہ صرف پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اسے ایک خطرناک وسعت دے دی ہے۔ اب بدسلوکی صرف ٹرولنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اے آئی کی مدد سے کسی کی ساکھ منٹوں میں راکھ کی جا سکتی ہے۔ سال 2025کے ایک عالمی سروے کے مطابق : 12 فیصد خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو ان کی ذاتی تصاویر کی غیر رضامندی کے ساتھ تشہیرکا سامنا کرنا پڑا۔ 6 فیصد خواتین "ڈیپ فیکس"کا شکار ہوئیں، جہاں اے آئی کے ذریعے ان کی ایسی جعلی تصاویر یا ویڈیوز بنائی گئیں جو دیکھنے میں بالکل حقیقی لگتی ہیں۔ اور ہر تین میں سے ایک خاتون کو انٹرنیٹ پر بن مانگی پیش قدمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو پلیٹ فارمز کی نظامیاتی ناکامی کا ثبوت ہے۔

اعداد و شمار میں دگنا اضافہ

یہ کوئی وقتی لہر نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا بحران ہے۔ سال 2020 کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن تشدد کی رپورٹنگ میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی کالیوپی منگیرو اس صورتحال کو جمہوری پسپائی سے جوڑتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’’مصنوعی ذہانت بدسلوکی کو آسان اور زیادہ نقصان دہ بنا رہی ہے۔ یہ جمہوری پسپائی اور منظم صنفی عداوت (نیٹ ورکڈ مِسوجنی)کے تناظر میں ان حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہے جو ہم نے دہائیوں کی محنت سے حاصل کیے تھے۔‘‘

خود ساختہ سنسرشپ

جب ڈیجیٹل فضا زہریلی ہو جاتی ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان "خاموشی" کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ صحافت کے بنیادی جوہر پر حملہ ہے۔ تقریباً 45 فیصد خواتین صحافیوں نے بدسلوکی کے خوف سے سوشل میڈیا پر خود ساختہ (سیلف) سنسرشپ اختیار کر لی ہے، جو کہ سال 2020 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 22 فیصد خواتین صحافی اب اپنے پیشہ ورانہ کام اور تحقیقاتی رپورٹنگ میں بھی سنسرشپ کا شکار ہو رہی ہیں۔ جب ایک صحافی کسی طاقتور گروہ کے خلاف لکھنے سے اس لیے رک جاتی ہے کہ اسے آن لائن وحشیانہ مہم کا ڈر ہے، تو یہ صرف اس کی خاموشی نہیں بلکہ جمہوریت کی موت ہے۔

ذہنی صحت پر گہرے اثرات

آن لائن تشدد کے زخم جسمانی نہیں ہوتے، مگر ان کی اذیت زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 24.7فیصد خواتین صحافی انزائٹی یا ڈپریشن کا شکار ہیں، جبکہ 13 فیصد میں پی ٹی ایس ڈی(پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس انسانی المیے کو ان دو الگ الگ کہانیوں سے سمجھا جا سکتا ہے: ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک ماحولیاتی صحافی بتاتی ہیں کہ ’’جب دائیں بازو کے گروہ مجھے آن لائن 'غدار' قرار دیتے ہیں اور واٹس ایپ پر جھوٹے الزامات پھیلائے جاتے ہیں، تو اپنے ہی ملک میں رہنا خوفناک ہو جاتا ہے۔ ہم نے تحقیقاتی رپورٹنگ سے ہاتھ کھینچ لیا ہے کیونکہ یہ گروہ اب میرے رشتہ داروں کو ہراساں کرتے ہیں۔‘‘

اسی طرح ایک اور صحافی اور کمیونٹی آرگنائزر نے اپنی ملازمت چھوڑنے کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ "آن لائن دباؤ اس قدر ناقابلِ برداشت تھا کہ میں نے دسمبر 2023 میں استعفیٰ دے دیا۔ اب میں گھر پر ہوں اور صرف اپنی ذہنی صحت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں اب صرف چاول کی کانجی پر گزارہ کر رہی ہوں کیونکہ کام سے نکالے جانے کے بعد میرے پاس کوئی مالی سہارا نہیں بچا۔"

قانونی خلا اور بگ ٹیک کی ذمہ داری

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بحران قوانین کی کمی سے زیادہ ’نظامیاتی ناکامی‘ کا نتیجہ ہے۔ ورلڈ بینک کے ڈیٹا کے مطابق، دنیا کے 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں سائبر ہراسانی کے خلاف موثر قوانین موجود ہیں۔ اگرچہ پولیس رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے11فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد اور قانونی کارروائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچی ہے، لیکن اصل مسئلہ ’سہولت کاروں‘ کا ہے۔ گوگل، میٹا اور ایکس (ٹویٹر) جیسے پلیٹ فارمز اس تشدد کو روکنے کے بجائے اسے ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ جب تک ٹیکنالوجی کمپنیاں جوابدہ نہیں ہوں گی، صرف قوانین کافی نہیں ہوں گے۔

’ڈیجیٹل سائلنسنگ‘ یا خاموش کر دینے کا یہ عمل دراصل ہماری آنے والی نسلوں کی آواز چھیننے کی کوشش ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو انسانی حقوق کی پامالی کے لیے ڈھال بنایا جاتا رہا، تو وہ وقت دور نہیں جب ڈیجیٹل دنیا صرف ایک مخصوص گروہ کی جاگیر بن کر رہ جائے گی۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم واقعی ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں جہاں آدھی آبادی کی آواز کو دبانے کے لیے ٹیکنالوجی کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہو؟ اس کا جواب ہماری خاموشی میں نہیں بلکہ مزاحمت اور مطالبہ انصاف میں چھپا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Yjpfenz

جمعرات، 15 مئی، 2025

رازداری کا مقدمہ: ’سیری‘ سے متعلق کیس میں ایپل سمجھوتے پر آمادہ، صارفین کو ملے گا 8500 روپے تک معاوضہ

’ایپل‘(Apple) کو اپنی وائس اسسٹنٹ سروس ’سیری‘(Siri) کو لے کر امریکہ میں درج ایک مقدمے میں سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔ کمپنی پر الزام تھا کہ ’سیری‘ بغیر اجازت کے یوزرس کی نجی بات چیت ریکارڈ کرتی تھی۔ اس معاملے میں ’ایپل‘ اب قریب 790 کروڑ کا سیٹلمنٹ کرنے کو راضی ہو گیا ہے۔ اہل یوزرس کو 8500 روپے تک کا معاوضہ مل سکتا ہے۔

یہ مقدمہ 2019 میں درج کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ ’سیری‘ کئی بار بغیر کمانڈ کے خود بہ خود فعال ہو جاتی تھی اور یوزرس کی نجی بات چیت ریکارڈ کر لیتی تھی۔ ان میں کچھ ریکارڈنگس میں صحت سے جڑی جانکاری اور نجی بات چیت بھی شامل تھی، جنہیں مبینہ طور پر باہری کانٹریکٹرس کو بھیجا گیا تھا۔

حالانکہ ’ایپل‘ نے ان الزامات سے انکار کیا ہے، لیکن بغیر مقدمہ لڑے سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ’سیری‘ ہمیشہ سے یوزرس کی رازداری کا دھیان رکھتی ہے اور اس نے کبھی بھی ریکارڈنگس کو فروخت کرنے یا مارکیٹنگ کے لیے استعمال نہیں کیا۔

 جس نے بھی 17 ستمبر 2014 سے 31 دسمبر 2024 کے درمیان ’ایپل‘ ڈیوائس پر ’سیری‘ کا استعمال کیا ہے، جس کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے ’سیری‘ ایکٹیویشن اور نجی بات چیت ریکارڈ ہونے کا واقعہ ہوا ہو، وہ معاوضہ کے لیے دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 100 ڈالر (تقریباً 8500 روپے) فی یوزرس ادائیگی ہوگی جبکہ ہر اہل ڈیوائس پر 20 ڈالر تک ملیں گے۔ یوزرس زیادہ سے زیادہ 5 ڈیوائسز کے لیے دعویٰ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس iPhone, iPad, MacBook, Apple Watch, HomePod, iPod “Touch اور Apple TV ہے تو معاوضہ کے لیے دعویٰ کر سکتے ہیں۔

معاوضہ کے لیے https://ift.tt/3swNUcv سیٹلمنٹ پورٹل پر جانا ہوگا اور ضروری جانکاری دینی ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hrTdw2A

اتوار، 11 مئی، 2025

پیشاب اور گندے پانی سے سبز ہائیڈروجن! آسٹریلوی محققین کا سستا اور ماحول دوست نظام

آسٹریلیا کے محققین نے پیشاب اور گندے پانی سے سستی اور ماحول دوست سبز ہائیڈروجن پیدا کرنے کے لیے ایک نیا نظام تیار کیا ہے۔ ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک جدید نِکل فیرروسیانائیڈ کیٹالسٹ تیار کیا ہے جو یوریا سے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے عمل کو زیادہ مؤثر اور توانائی کی بچت کے ساتھ ممکن بناتا ہے۔

روایتی طریقوں سے ہائیڈروجن کی پیداوار، جیسے پانی کی الیکٹرولائسز، مہنگی اور توانائی سے بھرپور ہوتی ہے۔ تاہم، یوریا (جو پیشاب میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے) کا استعمال اس عمل کو زیادہ سستا اور پائیدار بناتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یوریا کے استعمال سے ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے درکار توانائی میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آتی ہے، اور اس سے پیدا ہونے والی ہائیڈروجن کی لاگت بھی کم ہوتی ہے۔

ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے محققین نے نِکل فیرروسیانائیڈ پر مبنی ایک نیا کیٹالسٹ تیار کیا ہے جو یوریا سے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ یہ کیٹالسٹ نہ صرف توانائی کی بچت کرتا ہے بلکہ گندے پانی میں موجود یوریا کی مقدار کو بھی کم کرتا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ہائیڈروجن کی پیداوار کو سستا اور پائیدار بناتی ہے بلکہ گندے پانی کے مؤثر استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لاتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ نظام موجودہ فضلہ کو قیمتی توانائی کے وسائل میں تبدیل کرتا ہے، جو کہ ایک سرکلر اکانومی کی جانب اہم قدم ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ga5vO2k

الیکٹرومیگنیٹک ویوز: نوعیت، خصوصیات اور فرق

الیکٹرومیگنیٹک ویو کی بات میں اپنے بچپن کی ایک کہانی سے شروع کرتا ہوں۔ جب میں چار پانچ سال کا تھا اور ہر طرح کی چیز کھانا شروع کی تو ہر چیز مختلف نظر آئی۔ مثلاً میں اس کا ذکر کروں کہ ایک سبزی ’آلو‘ دسیوں طریقوں سے کھایا جاتا ہے، جیسے آلو کا پراٹھا، آلو کی ترکاری، آلو کا بھرتا، گوشت کے ساتھ آلو، چپس، فرنچ فرائز وغیرہ وغیرہ۔ چند ہی سالوں بعد یہ سمجھ میں آیا کہ یہ سب مختلف چیزیں اپنے طریقوں میں الگ ہو سکتی ہیں، مگر سب کی اصل چیز ایک ہی ہے، یعنی آلو۔

بالکل اسی طرح آپ نے جو فرق سنے ہیں، جیسے ریڈیو ویوز، مائیکرو ویوز، انفرا ریڈ، لائٹ ویوز، الٹرا وائلٹ، ایکس ریز اور گاما ریز، یہ سب بھی دراصل ایک ہی طرح کی ویو ہیں اور سب ایک ہی رفتار سے خلا میں سفر کرتی ہیں۔ ان سب کو الیکٹرومیگنیٹک ویو کہا جاتا ہے اور یہ کسی بھی ویو کی طرح توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں۔ ان سب میں ہمارا سب سے پسندیدہ حصہ سفید روشنی کا وہ حصہ ہے جس کی مدد سے ہم چیزوں کو دیکھ پاتے ہیں اور یہ روشنی سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے: وائلٹ، انڈیگو، بلو، گرین، یلو، اورنج اور ریڈ۔ ان تمام ویوز کا مختلف نام دینے کا مقصد یہ ہے کہ ان میں کچھ نہ کچھ فرق ہے۔

اس فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں ویو کی خصوصیات کو جاننا ضروری ہے۔ ویو کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے آپ سمندر کے کنارے یا کسی بڑی جھیل میں لہروں کو دیکھیں۔ آپ نے بچپن میں جھیل کے کنارے سے دور پتھر پھینک کر پانی میں لہروں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ جب پتھر پانی میں گرتا ہے، تو پانی کی سطح ہلتی ہے اور اس سے لہریں پھیلتی ہیں جو جھیل کے کنارے تک پہنچتی ہیں۔ اگر ہم بار بار پتھر ایک ہی جگہ پھینکیں تو لہریں مسلسل اسی جگہ سے پھیلتی رہیں گی۔

اگر آپ غور سے پانی کی لہروں کو دیکھیں تو ویو آتے وقت پانی اوپر نیچے ہلتا رہتا ہے، مگر ویو آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اس طرح کی ویو کو ’ٹرانسورس ویو‘ کہتے ہیں۔ ویو کے اوپر والے حصے کو ’کریسٹ‘ اور نیچے والے حصے کو ’ٹرف‘ کہتے ہیں۔ پورے ایک کریسٹ اور ٹرف کی دوری کو ویو لینتھ کہتے ہیں۔ اگر آپ جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر آتی ہوئی لہروں کو گنیں، تو جتنی لہریں ایک سیکنڈ میں آتی ہیں، اسے ویو کی فریکوئنسی کہتے ہیں۔ فریکوئنسی اور ویو لینتھ کے درمیان ایک اہم تعلق ہوتا ہے۔ اگر فریکوئنسی زیادہ ہو تو ویو کی لینتھ کم ہوگی اور اگر فریکوئنسی کم ہو تو ویو کی لینتھ زیادہ ہوگی۔

فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی کے درمیان ایک اہم رشتہ ہے۔ اگر ان دونوں کو آپس میں ضرب دیں تو ویو کی رفتار حاصل ہوتی ہے، جو اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ویو کس مادّے میں سفر کر رہی ہے۔ مثلاً، پانی کی ویو کی رفتار پانی کی خصوصیات اور اس کے درجہ حرارت پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریکوئنسی زیادہ ہو تو ویو کی لمبائی کم ہوگی اور اگر فریکوئنسی کم ہو تو ویو کی لمبائی زیادہ ہو گی، کیونکہ ویو کی رفتار مادّے کی خصوصیات پر منحصر ہوتی ہے۔ ویو کے اوپر والے حصے کی اونچائی کو ایمپلیٹیوڈ کہا جاتا ہے۔

الیکٹرو میگنیٹک ویو بھی تقریباً پانی کی ویو کی طرح ایک ٹرانسورس ویو ہوتی ہے، جس میں الیکٹرک اور مقناطیسی (میگنیٹک) فیلڈ اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں۔ یہ ویو سفید روشنی کی رفتار سے حرکت کرتی ہیں اور ان سب کے لیے فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی کا ضرب ویو کی رفتار کے برابر ہوتا ہے۔ سفید روشنی کی رفتار تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ (یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ) ہوتی ہے، جو کہ کسی بھی رفتار کی اوپری حد ہے۔

ان تمام ویوز کے مختلف نام ان کی فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی میں فرق کی وجہ سے ہیں۔ ہم جو رنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتے ہیں، ان کے حساب سے ان کی فریکوئنسی کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/e3BRmg2

مصنوعی ذہانت: تیز تر انسانی ترقی کی ضامن

انسانی ترقی کی رفتار لوگوں کی آزادی اور فلاح و بہبود کے پیمانے سے ناپی جاتی ہے۔کووڈ-19کی وبا کے بعد سے انسانی ترقی سست روی کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 6 مئی کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ لاکھوں زندگیاں بہتر بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کئی دہائیوں تک انسانی ترقی کے اشاریے مسلسل بہتری کی طرف گامزن رہے، اور اقوامِ متحدہ کے محققین نے پیش گوئی کی تھی کہ سال 2030 تک دنیا کی آبادی کو اعلیٰ سطح کی ترقی حاصل ہو جائے گی۔ تاہم، گزشتہ چند سالوں میں کووڈ۔19 جیسے غیر معمولی عالمی بحرانوں کے بعد یہ امیدیں معدوم ہوگئی ہیں اور دنیا بھر میں ترقی کا عمل رک گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کی جانب سے شائع ہونے والی سالانہ "ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ" کے مطابق امیر اور غریب ممالک کے درمیان عدم مساوات مسلسل چوتھے سال بڑھ رہی ہے۔ عالمی دباؤ، جیسے بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگیاں اور شدید قرضوں کا بحران، حکومتوں کی عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت کو محدود کر رہے ہیں، جس کے باعث ترقی کے روایتی راستے سکڑتے جا رہے ہیں۔ یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر، آخم اسٹینر کے مطابق یہ سست روی عالمی ترقی کے لیے ایک حقیقی خطرے کی علامت ہے۔ اگر 2024 کی یہ سست رفتار ترقی معمول بن گئی، تو 2030 کا ترقیاتی ہدف حاصل کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کم محفوظ، زیادہ منقسم اور معاشی و ماحولیاتی جھٹکوں کے لیے زیادہ کمزور ہو جائے گی۔

مایوس کن اشاروں کے باوجود، رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کے بارے میں پرامیدی ظاہر کی گئی ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کس تیزی سے مفت یا کم لاگت والے اے آئی ٹولز کو کاروباری اداروں اور افراد نے اپنا لیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان کے کام پر مثبت اثر ڈالے گی اور نئے مواقع پیدا کرے گی۔ خاص طور پر وہ افراد جو کم یا درمیانی سطح کی ترقی یافتہ جگہوں پر رہتے ہیں، مصنوی ذہانت یا اے آئی کے حوالے سے کافی پرجوش ہیں ۔ ان میں سے 70 فیصد کا کہنا ہے کہ اے آئی ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی، جبکہ دو تہائی کا خیال ہے کہ وہ اگلے ایک سال کے اندر تعلیم، صحت و دیگر شعبوں میں اے آئی کا استعمال کریں گے۔

سال2025 کی ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مصنفین نے کچھ سفارشات پیش کی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت تعلیم اور صحت کے نظام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مؤثر انداز میں مددگار ثابت ہو۔ ان سفارشات کے مطابق، ایک ایسی معیشت تشکیل دی جائے جو اے آئی اور انسانی اشتراک پر مبنی ہو، نہ کہ ان کے مابین مسابقت پر، اور اے آئی کی تیاری سے لے کر اس کے نفاذ تک ہر مرحلے میں انسان کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اقوامِ متحدہ کے ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ آفس کے ڈائریکٹر، پیڈرو کونسےساو کے مطابق، "ہم جو فیصلے آج کریں گے، وہ اس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے انسانی ترقی پر اثرات کی میراث طے کریں گے"۔ صحیح پالیسیوں اور انسانوں پر مرکوز سوچ کے ذریعے اے آئی ایک ایسا اہم ذریعہ بن سکتی ہے جو علم، مہارت اور نئے خیالات تک رسائی فراہم کر کے کسانوں سے لے کر چھوٹے کاروباریوں تک سب کو بااختیار بنا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کا اثر کیا ہوگا، اس کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ یہ کوئی خودکار قوت نہیں، بلکہ اُن معاشروں کی اقدار اور عدم مساوات کی عکاسی اور تقویت کا ذریعہ ہے جو اسے تشکیل دیتے ہیں۔ ’ترقی میں مایوسی‘ سے بچنے کے لیے اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی ادارہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اے آئی گورننس کے لیے عالمی سطح پر مضبوط تعاون ضروری ہے، نجی شعبے کی جدت اور عوامی مفادات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے، اور انسانی وقار، برابری اور پائیداری کے عزم کو از سر نو مضبوط کیا جائے۔ رپورٹ کے پیش لفظ میں آخم اسٹینر لکھتے ہیں کہ 2025 کی رپورٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ انسانوں اور اس بات کے بارے میں ہے کہ وہ گہرے تغیرات کے دور میں خود کو نئے سرے سے کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔

رپورٹ میں دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان ترقی کی الگ الگ رفتار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ریسرچ، انفراسٹرکچر، اور سرمایہ کاری کے شعبے میں امریکہ، کینیڈا اور مغربی یورپ عالمی سطح پر غالب ہیں، لیکن انہیں مزدوروں پر اثرات، عوامی اعتماد، اور شمولیت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ ممالک اختراع میں رہنمائی کرتے ہیں، مگر مصنوی ذہانت اپنانے کی رفتار، افرادی قوت کی تیاری، اور آبادیاتی نمائندگی میں تفاوت موجود ہے۔ اس گروپ کے تمام ممالک کا ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) بہت بلند ہے، جس کی وجہ ان کا جدید انفراسٹرکچر اور مضبوط عوامی خدمات ہیں۔

امریکہ، جرمنی، برطانیہ، اور کینیڈا سائنسی علم کی تیاری اور اے آئی سے متعلق تکنیکی صلاحیتوں کے عالمی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ 2024میں امریکہ نے دنیا میں اے آئی میں سب سے زیادہ سات ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس کے بعد چین اور یورپی یونین کا نمبر آتا ہے۔ علاوہ ازیں، امریکہ میں دنیا کے تقریباً نصف ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں، جو کمپیوٹ پاور میں عالمی سطح پر شدید عدم توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔ زیادہ تر بڑے پیمانے پر اے آئی ماڈلز اب بھی امریکی اداروں کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ مغربی یورپ ماڈل تیاری میں پیچھے ہے۔

افریقہ، خاص طور پر صحارا کے علاقوں کو بڑے ڈھانچہ جاتی ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مصنوعی ذہانت تعلیم، صحت، اور زراعت کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن بجلی، انٹرنیٹ، اور کمپیوٹنگ پاور کی شدید کمی اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی اور مؤثر استعمال میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مشرقی ایشیا دنیا میں اے آئی کا ایک بڑا مرکز ہے، جہاں چین اس کی تحقیق، روبوٹکس، اور ڈیٹا کے نظام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم ، اس خطے میں اے آئی سیفٹی یا مصنوی ذہانت کی حفاظت کے مد میں سرمایہ کاری ناکافی ہے، جبکہ ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور ریگولیٹری تیاری میں بھی ساختی تقسیم موجود ہے۔ لاطینی امریکہ کو عدم مساوات، تعلیمی ترقی کی سست رفتاری، اور ڈیجیٹل فرق جیسے مسائل درپیش ہیں۔ عرب ممالک نے ڈیجیٹل اور اے آئی ترقی میں دلچسپی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن ڈیجیٹل خلیج اور صنفی پابندیوں کے باعث ان کی رفتار سست ہے۔ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ اے آئی میں سرمایہ کاری اور پیداوار زیادہ تر اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں مرکوز ہے اور دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے فوائد تک رسائی غیر مساوی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/E9sk7xa

جمعہ، 2 مئی، 2025

کائنات کے رازوں کی تلاش، ناسا کی اسفیرایکس دوربین کے ذریعے آسمان کی نقشہ سازی شروع

لاس اینجلس: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی نئی خلائی آبزرویٹری اسفیرایکس (SPHEREx) نے باضابطہ طور پر اپنے سائنسی مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مشن کائنات کی ابتدا، کہکشاؤں کے ارتقاء اور زندگی کے بنیادی اجزاء کی تلاش میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ ناسا نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسفیرایکس آئندہ دو برسوں میں پورے آسمان کی جامع نقشہ سازی کرے گا، جس سے سائنسی برادری کو لیے غیر معمولی ڈیٹا حاصل ہوگا۔

اس خلائی دوربین کا باضابطہ لانچ 11 مارچ کو عمل میں آیا تھا، جس کے بعد اس نے چھ ہفتے آزمائش، کیلیبریشن اور دیگر تیاریوں میں گزارے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے تمام آلات مکمل فعالیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اب اسفیرایکس نے مکمل سائنسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے، جو ناسا کی خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کی نمائندگی کرتا ہے۔

ناسا کے مطابق اسفیرایکس ہر روز تقریباً 3,600 تصاویر لے گا اور منظم انداز میں پورے آسمان کا سروے کرے گا۔ اپنے 25 ماہ کے مشن کے دوران یہ آبزرویٹری تقریباً گیارہ ہزار چکر مکمل کرے گی اور روزانہ ساڑھے 14 مرتبہ زمین کا چکر لگائے گی۔

یہ خلائی دوربین کائنات کا سہ جہتی نقشہ تیار کرے گی، جس میں کروڑوں کہکشاؤں کی پوزیشنوں کا اندراج کیا جائے گا۔ اس عمل سے سائنسدانوں کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد ملے گی کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا، اس کی ساخت کیسے تشکیل پائی اور کہکشاؤں کی ترقی میں کیا عوامل کارفرما رہے۔

واشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹر کے فلکی طبیعیات ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر شان ڈوماگل گولڈمین نے اس موقع پر کہا، ’’اسفیرایکس ناسا کے اُن مشنز میں شامل ہو گیا ہے جو نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ جیسے بڑے منصوبوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ آبزرویٹری دیگر خلائی سروی مشنز کے ساتھ مل کر ان بنیادی سوالات کے جوابات کی تلاش میں مددگار ہوگی جو ہم ناسا میں روزانہ اٹھاتے ہیں۔"

اسفیرایکس مشن نہ صرف کائناتی سوالات کے جواب فراہم کرے گا بلکہ زمین پر موجود سائنسدانوں کو زندگی کے بنیادی مالیکیولز کی تلاش میں نئی راہیں بھی دکھائے گا۔ اس کے مشاہدات سے معلوم ہو سکے گا کہ وہ عناصر اور مالیکیولز کیسے پیدا ہوتے ہیں جو زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ مشن نہ صرف فلکیات کے شعبے میں انقلاب لا سکتا ہے بلکہ کائنات کے وسیع تر فہم کی جانب ایک زبردست قدم بھی ثابت ہو سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yIfobqU

اتوار، 27 اپریل، 2025

دن میں سب سے زیادہ گرمی تین بجے کیوں ہوتی ہے؟ ایک سائنسی وضاحت

دن کے سب سے گرم وقت کے بارے میں ہمارا عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ سہ پہر تقریباً تین بجے موسم سب سے زیادہ گرم محسوس ہوتا ہے، حالانکہ سورج کی روشنی سب سے زیادہ سیدھی دوپہر 12 بجے پڑتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ مظہر ہے جس کی سائنسی بنیادیں ہیں۔ آئیے اس عمل کو تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والی روشنی میں قوس قزح کے تمام رنگ موجود ہوتے ہیں اور یہ روشنی تھوڑی مقدار میں الٹرا وائلٹ اور انفرا ریڈ شعاعوں پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔

سورج کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 10,000 فارن ہائیٹ (یعنی 6000 ڈگری سینٹی گریڈ) ہے۔ اتنے زیادہ درجہ حرارت پر سورج سفید روشنی خارج کرتا ہے، جو زمین تک پہنچتی ہے۔ ہمارا کرۂ ہوائی سورج کی روشنی کے لیے تقریباً شفاف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی زیادہ تر توانائی بغیر کسی رکاوٹ کے فضا سے گزر کر زمین تک پہنچ جاتی ہے اور زمین کی سطح کو گرم کرنا شروع کر دیتی ہے۔

خود ہوا براہ راست سورج کی شعاعوں سے زیادہ گرم نہیں ہوتی بلکہ زمین کے گرم ہونے کے بعد زمین سے خارج ہونے والی توانائی سے حرارت حاصل کرتی ہے۔ جب سورج افق پر نیچے ہوتا ہے، صبح یا شام کے وقت، تو اس کی شعاعیں ترچھی پڑتی ہیں۔ اس وجہ سے شعاعیں لمبا راستہ طے کرتی ہیں اور توانائی کا زیادہ حصہ بکھر جاتا ہے۔ لیکن دوپہر 12 بجے کے آس پاس سورج آسمان میں سب سے اونچی پوزیشن پر ہوتا ہے اور اس کی شعاعیں تقریباً سیدھے زاویے سے زمین پر پڑتی ہیں۔

یہ وقت وہ ہوتا ہے جب زمین پر پڑنے والی شمسی توانائی کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم، زمین اور ماحول میں حرارت کا تبادلہ فوری نہیں ہوتا۔ زمین کو سورج کی روشنی جذب کرنے، گرم ہونے اور پھر اپنی حرارت فضا میں منتقل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ جب زمین سورج کی روشنی جذب کرتی ہے، تو اس کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے لیکن زمین کی گرم سطح فوراً اردگرد کی ہوا کو گرم نہیں کرتی۔ پہلے زمین خود اچھی طرح گرم ہوتی ہے، پھر وہ حرارت کی صورت میں انفرا ریڈ ریڈیئشن خارج کرتی ہے، جس سے آس پاس کی ہوا گرم ہوتی ہے۔

اس پورے عمل میں، یعنی سورج کی روشنی کے جذب ہونے، زمین کے گرم ہونے اور پھر ہوا کو گرم کرنے میں تقریباً تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے دن کا سب سے زیادہ گرم وقت عام طور پر 3 بجے کے آس پاس ہوتا ہے، نہ کہ 12 بجے۔ یہی تاخیر رات میں ٹھنڈک کے دوران بھی نظر آتی ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد زمین فوراً ٹھنڈی نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ اپنی حرارت کھونا شروع کرتی ہے اور صبح کے وقت، سورج نکلنے سے ذرا پہلے، سب سے زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔

زمین سے خارج ہونے والی انفرا ریڈ شعاعیں فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں (جیسے پانی کے بخارات، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین) سے ٹکرا کر کچھ حد تک واپس زمین کی طرف لوٹتی ہیں۔ اس سے زمین اور فضا کا درجہ حرارت برقرار رہتا ہے۔ ان گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے زیادہ اثر پانی کے بخارات کا ہوتا ہے۔ اسی لیے ساحلی علاقوں میں، جہاں ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے، دن اور رات کے درجہ حرارت میں زیادہ فرق نہیں آتا۔

مثلاً ممبئی یا کسی جزیرے پر دن اور رات کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 5 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ کا فرق دکھاتا ہے۔ اس کے برعکس، ریگستانی علاقوں میں، جہاں ہوا میں نمی بہت کم ہوتی ہے، جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے زمین تیزی سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ اسی لیے دن اور رات کے درجہ حرارت میں 30 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا فرق ہو سکتا ہے۔ اونچے مقامات پر گرمی کا احساس کم کیوں ہوتا ہے؟

جب ہم کسی پہاڑی مقام پر جاتے ہیں، تو وہاں ہمیں گرمی کم محسوس ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کا فضائی دباؤ کم ہوتا ہے، جس سے ہوا پتلی ہوتی ہے اور حرارت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی سطح اور فضا کے درمیان حرارت کی ترسیل بھی کمزور ہوتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3lBqhau

ڈیجیٹل دنیا: لڑکیوں کی ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی ضروری

ڈیجیٹل دنیا میں صنفی عدم مساوات کا خاتمہ کرنے کے لیے لڑکیوں کو ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی دینا ضروری ہے، اس کام کے لیے تعلیمی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ دنیا بھر میں پائی جانے والی ڈیجیٹل تفریق کے باعث ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین اور لڑکیوں کی کئی نسلوں کے پسماندہ رہ جانے کا خدشہ ہے۔ اس خدشہ کا اظہار ہنگامی حالات اور طویل بحرانوں میں تعلیم کی فراہمی پر اقوام متحدہ کے عالمی فنڈ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' (تعلیم انتظار نہیں کر سکتی) کی ڈائریکٹر یاسمین شریف نے کیا ہے۔ انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) یا معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر انہوں نے کہا کہ مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور جبری نقل مکانی کا سامنا کرنے والے علاقوں میں یہ تقسیم اور بھی نمایاں ہے جسے ختم کرنے اور لڑکیوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں لڑکوں کے مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس تبدیلی کے لیے تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے، لڑکیوں کو وہ تربیت، ہنر اور وسائل فراہم کیے جائیں جن کی انہیں ڈیجیٹل انقلاب کا حصہ بننے کے لیے ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے مطابق، دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد تقریباً 24 کروڑ تک کم ہے۔ اس طرح تعلیم، روزگار کے مواقع اور اختراعات تک ان کی رسائی بھی محدود ہے۔ براعظم افریقہ میں سماجی پابندیوں، لاگت اور نقل و حرکت کی رکاوٹوں کے باعث بہت سی لڑکیاں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم سے محروم رہتی ہیں۔ ذیلی صحارا افریقہ میں ’اسپریڈ شیٹ‘ کے استعمال سے آگاہی رکھنے والے ہر ایک سو مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد محض چالیس ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس خطے میں 90 فیصد نو عمر لڑکیاں اور نوجوان خواتین انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔ یعنی ہر 10 میں سے 9 کو انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات اور مواقع تک رسائی نہیں مل رہی۔ اگر لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس (ایس ٹی ای ایم) میں تعلیم کے مواقع میسر ہوں تو ان کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اس ضمن میں یاسمین شریف نے ’افغان گرلز روبوٹکس ٹیم‘ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے (ایس ٹی ای ایم) کی تعلیم کے ذریعے روبوٹ بنانا اور پروگرام تخلیق کرنا سیکھا اور سائنس و انجینئرنگ میں نئی مہارتیں حاصل کیں۔ اس طرح وہ دنیا بھر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لڑکیوں کی سفیر بن گئی ہیں۔ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' کی 'عالمی چیمپئن' سومیہ فاروقی کے زیرقیادت ان لڑکیوں نے رکاوٹیں توڑ کر اپنا مقصد حاصل کیا ہے اور وہ دنیا بھر کی لاکھوں لڑکیوں کے لیے بھی انٹرنیٹ تک رسائی اور ٹیکنالوجی میں کیریئر بنانے کی راہ ہموار کریں گی۔

سوشل میڈیا کے مضر اثرات

دریں اثنا، یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹر (جی ای ایم) کی ایک رپورٹ میں نوجوان لڑکیوں پر سوشل میڈیا کے مضر اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ 24 اپریل کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور الگورتھم سے چلنے والے سافٹ ویئر - خاص طور پر سوشل میڈیا - پرائیویسی پر حملے، سائبر دھونس جمانے یا ہراساں کرنے اور نوجوان لڑکیوں کو سیکھنے یا تعلیم سے دور ہٹانے کے خطرات پیش کرتے ہیں۔ اس رپورٹ ٹیم کی ایک سینئر تجزیہ کار، اینا ڈی ایڈیو کے مطابق، تعلیم میں ٹیکنالوجی کے معاملے کو صنفی عینک سے جانچا گیا ہے۔ رپورٹ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے میں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے، لیکن لڑکیوں کی تعلیم کے مواقع اور نتائج پر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ آن لائن ہراساں کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے، ڈی اڈیو نے کہا، سوشل میڈیا پر لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں میں سائبر بلنگ یا دھونس بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو ان کی صحت کو متاثر کرتی ہے، جبکہ تندرستی تعلیم حاصل کرنے یا سیکھنے کے لیے اہم ہے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی ٹیلی کام ایجنسی - انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کی قیادت میں آئی سی ٹی ڈے میں لڑکیوں کے بین الاقوامی دن جاری کی گئی۔ اس موقع پر ایک ٹویٹر پوسٹ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے نشاندہی کی کہ مردوں کے مقابلے میں کم خواتین کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور یہ ان کے کام کے مساوی مواقع حاصل کرنے کی راہ میں حائل ہے۔ لہٰذا انہوں نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبے میں لڑکیوں کے لیے مزید آلات اور معاونت کا مطالبہ کیا۔

ذہنی صحت اور تندرستی

گلوبل ایجوکیشن مانیٹر (جی ای ایم) کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا نوجوان لڑکیوں کو جنسی مواد سمیت غیر مناسب ویڈیو مواد فراہم کرتا ہے، اور غیر صحت مند اور غیر حقیقی جسمانی معیارات کو فروغ دیتا ہے جو ذہنی صحت اور تندرستی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ نو عمر لڑکیوں میں لڑکوں کے مقابلے تنہائی محسوس کرنے کا امکان دوگنا ہوتا ہے اور وہ کھانے کے عوارض کا شکار ہوتی ہیں۔ ڈی اڈیو کے مطابق، شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی نمائش کا تعلق دماغی صحت کے مسائل، کھانے کے عوارض اور بہت سے دوسرے مسائل سے ہے جو سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں اور خاص طور پر لڑکیوں کی توجہ تعلیم سے دور کرتے ہیں اور ان کی تعلیمی کامیابی کو متاثر کرتے ہیں۔

رپورٹ میں شامل ’فیس بک‘ کے اعدادوشمار کے مطابق، ’انسٹاگرام‘ پر مبینہ طور پر 32 فیصد نو عمر لڑکیوں نے پلیٹ فارم کے مواد کو استعمال کرنے کے بعد اپنے جسم کے بارے میں بدتر محسوس کیا ہے۔ اس کے برعکس، ڈی اڈیو اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سوشل میڈیا کا استعمال نوجوان لڑکیوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے علم میں اضافہ اور سماجی مسائل پر بیداری پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کی رائے میں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا طریقہ سکھانا ضروری ہے۔

بہتر تعلیم، قوانین و ضوابط کی ضرورت

رپورٹ میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس (ایس ٹی ای ایم) کیرئیر تک رسائی حاصل کرنا دشوار ہے، جو کہ جدید ٹیکنالوجی کی تیاری اور ترقی میں تنوع کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یونیسکو انسٹی ٹیوٹ برائے شماریات کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین عالمی سطح پر ایسے (ایس ٹی ای ایم) گریجویٹز میں صرف 35 فیصد ہیں اور صرف 25 فیصد سائنس، انجینئرنگ اور انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) ملازمتیں رکھتی ہیں۔ ڈی اڈیو کے مطابق، ابھی بھی بہت کم لڑکیاں اور خواتین ہیں جو (ایس ٹی ای ایم)مضامین کا انتخاب کرتی ہیں اور وہاں کام کرتی ہیں۔ رپورٹ کے نتائج تعلیم میں زیادہ سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بہتر ضابطے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

بہرحال، یونیسکو تعلیم کے نظام کو مزید جامع بنانے والی پالیسیوں کی وکالت کرتے ہوئے، ایسے قوانین اور ضوابط کو فروغ دے کر جو لڑکیوں کے لیے تعلیم تک مساوی رسائی کی ضمانت دیتے ہیں اور انہیں امتیازی سلوک سے محفوظ رکھتے ہیں، لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ یونیسکو کے مطابق، ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی تعداد کو دو گنا کر کے 2027 تک دنیا کے جی ڈی پی میں 600 ارب یورو تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے بعض رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں شمالی دنیا کے وسائل سے کام لیتے ہوئے ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ سمیت دنیا بھر کی لڑکیوں کو ٹیکنالوجی سے کام لینے کے قابل بنانا ہو گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/P98L4Ew

اتوار، 20 اپریل، 2025

کیا کائنات میں ہم جیسے اور بھی ہیں؟ زمین جیسے سیارے پر زندگی کے ممکنہ آثار

انسانی تاریخ میں زندگی کے سب سے بڑے سوالوں میں سے ایک یہ رہا ہے، کیا ہم اس وسیع کائنات میں اکیلے ہیں؟ قدیم زمانے سے ہی انسان نے آسمان کی وسعتوں میں جھانک کر اپنے جیسے کسی اور کے وجود کی تلاش کی ہے۔ جدید دور میں فلکیاتی سائنس نے اس تلاش کو ایک سائنسی بنیاد فراہم کی ہے اور حالیہ دنوں میں ایک اہم دریافت نے اس سوال کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، وہ ہے سیارہ کے2-18بی (K2-18b) پر زندگی کے ممکنہ آثار کی دریافت ہونا۔

’کے2-18بی‘ ایک ایسا سیارہ ہے جو زمین سے تقریباً 124 نوری سال یعنی تقریباً 700 کھرب میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے اور سائز کے اعتبار سے زمین سے ڈھائی گنا بڑا ہے۔ اس کی کمیت اور ساخت کے لحاظ سے یہ زمین اور نیپچون کے درمیان آتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک ہائیسین ورلڈ (Hycean World) ہو سکتا ہے، یعنی ایسا سیارہ جس پر سمندر ہوں اور فضا میں ہائیڈروجن غالب ہو۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے سائنسدانوں نے ناسا کی جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی مدد سے اس سیارے کی فضا کا تجزیہ کیا۔ یہ ٹیلی سکوپ اتنی حساس ہے کہ دور دراز سیاروں کی فضا سے گزرنے والی روشنی میں موجود کیمیائی عناصر کو بھی پہچان سکتی ہے۔

پروفیسر نکّو مدھوسودھن کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں کے2-18بی کی فضا میں کچھ خاص مالیکیولز دریافت ہوئے جن میں ڈائیمیتھائل سلفائیڈ (ڈی ایم ایس)، ڈائی میتھائل ڈائی سلفائیڈ (ڈی ایم ڈی ایس)، میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔ ڈی ایم ایس خاص طور پر دلچسپ ہے کیونکہ زمین پر اسے صرف سمندری مخلوقات جیسے فائیٹوپلانکٹن یا بیکٹیریا پیدا کرتے ہیں۔

پروفیسر مدھوسودھن کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف ایک مشاہدے کے دوران ڈی ایم ایس کی مقدار زمین سے ہزاروں گنا زیادہ معلوم ہوئی ہے، جو اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ یہ گیس کسی حیاتیاتی سرگرمی سے پیدا ہو رہی ہو سکتی ہے۔

تاہم سائنسی برادری کسی بھی نتیجے تک پہنچنے میں انتہائی احتیاط سے کام لیتی ہے۔ سائنس میں کسی بھی دریافت کو ثابت شدہ ماننے کے لیے ایک شماریاتی معیار درکار ہوتا ہے جسے فائیو سگما (Five Sigma) کہا جاتا ہے، یعنی 99.99999 فیصد یقین۔ فی الحال یہ تحقیق تھری سگما پر ہے، جو 99.7 فیصد یقین کے برابر ہے۔ گو کہ یہ پچھلی تحقیق (68 فیصد یقین) کے مقابلے میں کافی بہتر ہے، مگر سائنسی طور پر حتمی دعویٰ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ پروفیسر مدھوسودھن پر امید ہیں کہ اگلے ایک یا دو سال کے اندر مزید مشاہدات کے ذریعے یہ معیار حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر کیتھرین ہیمنز، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں رہیں، کا کہنا ہے کہ زمین پر تو ڈی ایم ایس اور ڈی ایم ڈی ایس جیسے مالیکیولز زندگی سے جڑے ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ دوسرے سیاروں پر غیر حیاتیاتی عمل بھی یہ گیسیں پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی آف کیمبرج کی ٹیم دیگر سائنسی اداروں کے ساتھ مل کر لیبارٹری میں اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ مالیکیولز غیر حیاتیاتی ذرائع سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سیارے پر واقعی سمندر موجود ہو سکتے ہیں، خاص طور پر کیونکہ وہاں امونیا موجود نہیں، جو عام طور پر آبی ماحول میں جذب ہو جاتا ہے۔ مگر پروفیسر اولیور شورٹل اور ڈاکٹر نکولس ووگن جیسے محققین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ سیارہ دراصل ایک چھوٹا گیس جائنٹ ہو جس کی کوئی ٹھوس سطح موجود نہ ہو، یا پھر اس کی سطح پگھلے ہوئے پتھروں سے بنی ہو، جو زندگی کے امکان کو کم کر دیتا ہے۔

اس تمام احتیاط کے باوجود سائنسدان مانتے ہیں کہ یہ دریافت کائنات میں زندگی کی تلاش کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ بی بی سی کے مشہور سائنسی پروگرام دی اسکائی ایٹ نائٹ کے میزبان پروفیسر کرس لنٹوٹ کے مطابق، اگرچہ ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ زندگی واقعی دریافت ہو گئی ہے لیکن یہ تحقیق ہمیں اس سوال کے قریب ضرور لے جا رہی ہے۔ وہیں، پروفیسر مدھوسودھن کا ماننا ہے کہ ممکن ہے ہم آئندہ برسوں میں پیچھے مڑ کر دیکھیں اور اس لمحے کو وہ موڑ کہیں جب ’زندہ کائنات‘ کا تصور حقیقت سے قریب تر ہو گیا۔

سیارہ کے2-18بی پر ممکنہ حیاتیاتی سرگرمیوں کی یہ دریافت فلکیات کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم زندگی کے بڑے سوال کا جواب حاصل کرنے کے سفر پر گامزن ہیں۔ اگر آنے والے برسوں میں تحقیق پانچ سگما کے معیار تک پہنچتی ہے، تو انسان کو شاید کائنات میں اپنی تنہائی کا سوال کا جواب مل جائے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/jo2z1uG

جمعہ، 18 اپریل، 2025

گوگل نے ڈیجیٹل اشتہارات میں غیر قانونی اجارہ داری قائم کی، امریکی عدالت کا فیصلہ

**واشنگٹن: امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ڈیجیٹل اشتہارات کی مارکیٹ میں غیر قانونی طور پر اجارہ داری قائم کر کے ملک کے عدم اعتماد کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی محکمہ انصاف اور متعدد ریاستوں کے اس مقدمے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں گوگل پر الزام تھا کہ اس نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے آن لائن اشتہاری مارکیٹ پر قبضہ جما لیا ہے۔

ورجینیا کے مشرقی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گوگل نے اپنے ایڈ ٹیک بزنس کے ذریعے ایسے حربے اپنائے جن سے پبلشرز، اشتہاری خریداروں اور بالآخر انٹرنیٹ صارفین کو نقصان پہنچا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کمپنی کے طرز عمل سے "گوگل کے اشاعتی صارفین، مسابقتی عمل اور بالآخر، اوپن ویب پر اطلاعات کے صارفین متاثر ہوئے۔"

محکمہ انصاف کی جانب سے جاری بیان میں اس فیصلے کو ڈیجیٹل اشتہارات کے میدان میں گوگل کی اجارہ داری کے خلاف تاریخی فتح قرار دیا گیا۔ امریکی اٹارنی جنرل پامیلا بونڈی نے کہا کہ "یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، چاہے وہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی ہی کیوں نہ ہو۔"

محکمہ انصاف کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ابیگیل اسلیٹر نے کہا کہ گوگل کا غلبہ صرف اشتہارات پر نہیں بلکہ یہ پلیٹ فارم امریکی آوازوں کو دبانے، انہیں سینسر کرنے یا ہٹانے تک کی طاقت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "گوگل نے نہ صرف اپنے حریفوں کو کچلا بلکہ ان طرز عمل کی تفتیش کو روکنے کے لیے ثبوت بھی تباہ کیے۔"

گوگل نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ریگولیٹری معاملات کی نائب صدر لی اینی ملہولینڈ نے بیان میں کہا کہ پبلشرز کے پاس گوگل کے علاوہ بھی کئی آپشنز موجود ہیں اور وہ گوگل کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ اس کے ایڈورٹائزنگ ٹولز سادہ، کم خرچ اور مؤثر ہیں۔

یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی عدالت نے گوگل کے خلاف اجارہ داری کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس سے قبل اگست 2024 میں، واشنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت نے گوگل کو آن لائن سرچ مارکیٹ میں غیر قانونی اجارہ داری کا مرتکب قرار دیا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں ٹیک کمپنیوں کے کاروباری طریقہ کار پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ان پلیٹ فارمز پر جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈیٹا مونیٹائزیشن پر انحصار کرتے ہیں۔

یہ مقدمہ گوگل کے اشتہاری ڈھانچے پر ممکنہ طور پر بڑی تبدیلیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، اور دیگر ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ بن سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/jMXDaZ8

ہفتہ، 12 اپریل، 2025

مصنوعی ذہانت کی پیش قدمی، سافٹ ویئر کی محدود ہوتی افادیت

ماضی میں جب صنعتی انقلاب آیا تو انسان نے پہلی بار یہ سیکھا کہ محض اپنے ہاتھوں اور جسمانی طاقت کے بجائے مشینوں کی مدد سے بھی بڑی سطح پر پیداوار ممکن ہے۔ پھر جب ڈیجیٹل انقلاب نے دستک دی تو دنیا کا رابطہ بدل گیا، معلومات کی ترسیل، لین دین، تعلیم، سیاست، معیشت، سب کچھ نئی شکل میں ڈھلنے لگا۔

اب جو انقلاب ہمارے دروازے پر آ چکا ہے، وہ نہ صرف پہلے دونوں انقلابات سے زیادہ تیز ہے بلکہ گہرے اور دور رس اثرات کا حامل بھی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا انقلاب ہے، جو ہر شعبۂ حیات میں داخل ہو چکا ہے اور انسان کے ہر سوچنے، سمجھنے اور کرنے کے طریقے کو بدل رہا ہے۔

اب یہ سوال باقی نہیں رہا کہ اے آئی آئے گی یا نہیں، وہ آ چکی ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ ہم اس کے لیے کتنے تیار ہیں؟ حال ہی میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین کا بیان آیا کہ سافٹ ویئر انجینئروں کی نوکریاں خطرے میں ہیں اور انہیں اس تبدیلی کے لیے خود کو پہلے سے تیار کر لینا چاہیے۔

یہ صرف انجینئروں کی بات نہیں، دنیا بھر میں جہاں جہاں کوئی کام ایک خاص ترتیب، ایک مخصوص فارمولے یا طے شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر انجام دیا جاتا ہے، وہاں اے آئی کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا کہ انسانی تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی اور جذبات ایسی چیزیں ہیں جنہیں کوئی مشین چھو بھی نہیں سکتی، مگر اب وہ لمحہ آ گیا ہے جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف معلومات پر مبنی فیصلہ کر رہی ہے بلکہ وہ انسانی مزاج، لہجہ اور ارادے کو بھی سمجھنے لگی ہے۔

اکثر لوگ اس انقلاب کا موازنہ موبائل فون کے ساتھ کرتے ہیں، جو یقیناً زندگی میں سہولتوں کا بڑا ذریعہ بنا، مگر سچ یہ ہے کہ موبائل نے انسان کا طرز زندگی اتنا نہیں بدلا جتنا اے آئی کرنے جا رہی ہے۔ موبائل نے رابطے آسان کیے، چیزوں کو قریب لایا لیکن اے آئی انسان کے سوچنے کے عمل میں مداخلت کر رہی ہے۔ وہ اسے یہ نہیں بتاتی کہ ’کیا کرنا ہے‘، بلکہ یہ طے کرتی ہے کہ ’کیسے سوچا جائے!‘

پہلے ہم جن کاموں کے لیے خاص سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے، اب وہی کام خودکار طریقے سے ایک ہی پلیٹ فارم پر بغیر وقت ضائع کیے انجام پا رہے ہیں۔ تصویری تدوین ہو، مضمون نویسی، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیٹا اینالسس، یا آواز سے ٹیکسٹ بنانا، یہ سب ایک لمحہ میں انجام پاتا ہے، وہ بھی بغیر سیکھے۔

یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے مشہور سافٹ ویئر جو ایک وقت میں ناگزیر سمجھے جاتے تھے، آج صرف مخصوص پیشہ ور افراد تک محدود ہو گئے ہیں، یا ان کے لیے متبادل اے آئی ٹولز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر فوٹوشاپ، کورل ڈرا، فائنل کٹ، پاور پوائنٹ، ان پیج، آٹو کیڈ، یا یہاں تک کہ ایکسل جیسے پروگرام بھی، جنہیں سیکھنے اور سکھانے پر برسوں صرف کیے جاتے تھے، اب ان کی جگہ ایسے اے آئی پلیٹ فارم لے رہے ہیں، جو نہ صرف ان سے تیز ہیں بلکہ صارف کے لیے آسان بھی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں ان سافٹ ویئرز کی مکمل یا جزوی افادیت ختم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ اس انقلاب نے نہ صرف سافٹ ویئرز کو بے مصرف یا محدود کیا ہے بلکہ انسان کے کام کرنے کے انداز کو بھی بدل دیا ہے۔ اب ہر شخص، چاہے وہ تعلیم سے وابستہ ہو یا طب سے، صحافت سے ہو یا قانون سے، محسوس کر رہا ہے کہ اس کے کام کی نوعیت بدل رہی ہے۔ کچھ کے لیے یہ تبدیلی سہولت ہے، کچھ کے لیے خوف اور کچھ کے لیے موقع۔

سوال یہ نہیں کہ اے آئی کیا چھین لے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا نیا سیکھنے کو تیار ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پرانے تجربے اور مہارت کے بل پر ہمیشہ کامیاب رہیں گے، وہ شاید آنے والے وقت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اے آئی کا اثر صرف پیشہ ورانہ دنیا تک محدود نہیں رہے گا۔ گھریلو زندگی، سماجی رشتے، تعلیم، تفریح، یہاں تک کہ مذہبی و ثقافتی طور طریقے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اگر کل کوئی بچہ اے آئی سے قرآن پڑھنا سیکھ رہا ہوگا یا کوئی بزرگ اپنی طبیعت کے مطابق اے آئی سے دعا سن رہا ہوگا تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہم نظریں نہیں چرا سکتے۔

ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف ہماری سوچ بدل رہی ہے بلکہ ہماری ترجیحات بھی تبدیل کر رہی ہے۔ انسان وہی کام کرنا چاہتا ہے جس میں کم محنت ہو، جلدی فائدہ ہو اور نتیجہ فوری نظر آئے۔ اے آئی اسے یہ سب فراہم کر رہی ہے، مگر اس کے بدلے ہم سے کیا لے رہی ہے، یہ ہم میں سے اکثر نے سوچا بھی نہیں۔ شاید ہمارے فیصلوں کا اختیار، ہماری تخلیق کی آزادی یا ہماری اجتماعی عقل۔

یہ انقلاب کسی کے رکنے سے رکے گا نہیں۔ یہ نہ تو جغرافیائی سرحدوں کا محتاج ہے اور نہ ہی کسی خاص طبقے یا معاشرے کا۔ یہ ہر اس شخص کو چھوئے گا جو اس دنیا کا حصہ ہے، جو روز کچھ سیکھتا، کچھ سوچتا اور کچھ کرتا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس تبدیلی کا سامنا آنکھیں کھول کر کریں گے یا آنکھ بند کر کے۔ وقت تیز ہو چکا ہے، لہٰذا جو جتنا جلدی خود کو بدلنے کے لیے تیار ہو جائے گا، وہی اس انقلاب میں محفوظ، باوقار اور مؤثر رہے گا۔ باقی سب، چاہے وہ کتنے ہی کامیاب کیوں نہ رہے ہوں، پیچھے رہ جائیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Paun4jM

بدھ، 9 اپریل، 2025

یہ ترقی کس کے لئے سودمند ہوگی!

دنیا کی نظریں اس وقت امریکی صدر کی نئی ٹیرف پالیسی پر لگی ہوئی ہیں، مسلم دنیا کی نظریں قطر کے حماس اور نیتن یاہو سے رشتے پر گڑی ہوئی ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کی نظریں وقف ترمیمی بل کے مستقبل کو لے کر بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں اور ہندوستانی عوام کی نظریں راہل گاندھی کی بہار یاترا اور احمد آباد اجلاس پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں یہ موضوعات انتہائی اہم ہیں اور ان کے اثرات دنیا کے کسی نہ کسی کونے پر نظر آئیں گے لیکن اگر ہم مستقبل کی بات کریں تو جس تیزی کے ساتھ دنیا میں سائنسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس نے آنکھیں ہوتے ہوئے بھی عام لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے پہلے ہی ایک بڑی تعداد کو بے روزگار کرنا شروع کر دیا ہے اور جس بڑی تعداد میں انسانی روبوٹس دنیا میں آ رہے ہیں اس نے سب کو حیرانی میں ڈال دیا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ سائنس میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس سے اب طے کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ آگے کس راستے پر چلنا ہے، بہت ہی کنفیوژن ہے۔

یہ کنفیوژن اس لئے ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سفر کا آغاز ہے اور انسانی روبوٹس کس کس شعبہ میں اپنی دخل اندازی کرے گا اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔ انسانی روبوٹس گھر کے کام سے لے کر بڑی بڑی فیکٹریوں میں کام کرتے نظر آ رہے ہیں اور ظاہر ہے اس کا فائدہ ان سب لوگوں کو ہو رہا ہے جو انسانی مجبوریوں اور انسانی فطرت سے دور رہنا چاہتے ہوں۔ چاہے گھر میں کسی بائی کی جگہ انسانی روبوٹ کام کرے۔ اگر کام بائی سے زیادہ بہتر طریقے سے روبوٹ کرتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی مجبوری اور انسانی فطرت یعنی بیماری اور چوری وغیرہ نہیں جڑی ہوئی ہیں اور وہ بچوں پر نظر بھی نہیں رکھتا ہے اور ان کی شکایت اور تعریف بھی ابھی نہیں کرتا ہے تو یہ اس مالک کے لئے آسانی ہی ہوگی جو آئے دن بائی کے مسئلہ سے پریشان رہتے ہیں، بیماری اور چوری جیسے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے لئے بس ایک یس مین یعنی ’جی حضور‘ والا روبوٹ چاہئے جو اس کے سب مسائل کا حل ہو، بس اسے اس کے لئے ایک چارجر اور خریدنے کے لئے پیسے درکار ہوں۔

اسی طرح بڑی بڑی فیکٹریوں کا حال ہوگا جہاں کے مالکان آئے دن کے احتجاج اور ملازمین کی چھٹیوں سے پریشان ہیں وہاں اگر انسانی روبوٹس مشینی انداز میں ایک جیسا سامان تیار کرتے ہیں اور وہ بھی بغیر چوں چرا کئے۔ ان کے ذریعہ تیار کردہ مال کی تعداد معلوم ہوگی، تنخواہ کا کوئی جھنجھٹ نہیں صرف اس بات کو یقینی بنانا پڑے گا بجلی آتی رہے اور وہ چارج ہوتے رہیں یعنی صرف ایک بار کا خرچ جیسے مشین لانے پر ہوتا ہے ویسے ہی یہ مشینی روبوٹس یعنی انسانی روبوٹس پر ایک مرتبہ کا خرچ۔ یعنی لوگوں کا استعمال بہت تیزی سے گھٹ جائے گا۔

انسانی روبوٹس تقریباً ہر شعبہ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے چاہے وہ کھانا پکانے سے لے کر کار اور بڑے بڑے پل بنانے کا مسئلہ ہو۔ یعنی ذائقے بھی ایک جیسے اور بڑی بڑی چیزیں بھی ایک جیسی۔ اس سے پہلے کہ انسان خود ایک دن مشین جیسا بن جائے اور اس میں جذبات نام کی کوئی چیز نہ رہے، اس کا یہ سفر بہت تکلیف دہ ہوگا کیونکہ ایک طرف بڑھتی بے روزگاری اور دوسری طرف تناؤ سے راحت کے ساتھ اپنی مرضی کا تیار کردہ مال اور اس سب میں اس کے ختم ہوتے ہوئے جذبات۔ یہ سب اس کی زندگی کا حصہ لاشعوری طور پر بن جائے گا۔

دوسری جانب مصنوعی ذہانت بہت تیزی کے ساتھ انسانی دماغ پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے بے چین نظر آ رہی ہے۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ انسان کی ہر ضرورت کو وہ پورا کر دے اور اس کو وہ اپنا غلام بنا لے۔ اپنی اس کوشش میں مصنوعی ذہانت جس بری طرح اپنا ڈیٹا بینک بڑھا رہی ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پاس انسانی ضرورت کے تمام حل موجود ہوں گے اور دھیرے دھیرے انسانی دماغ پر اس کا قبضہ اس طرح ہو جائے گا جیسے انسان پہلے فون نمبر یاد رکھتا تھا اور موبائل کے آنے کے بعد اسے انہیں یاد رکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔

اس ترقی کا ثمر کون استعمال کرے گا یہ دیکھنا ہوگا اور کون لوگ ہوں گے جو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ظاہر ہے ان سب چیزوں کے استعمال کے لئے انسانوں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آبادی کی زیادتی اس ترقی میں لعنت یا نعمت ثابت ہوگی، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ تبدیلی ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر میں تبدیلی یا فون میں بینک اور کیمرے والی تبدیلی سے بڑی ہوگی اور اس میں آبادی کے کردار کو دیکھنا لازمی ہوگا۔ یہ ترقی مغرب کے لئے سودمند رہے گی یا بڑی آبادی والے مشرق کے لئے فائدہ مند رہے گی لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں یہ مادیات کے لئے سودمند رہے گی اور جذبات کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/M16oRh2

اتوار، 6 اپریل، 2025

گرمی اور رنگ کا تعلق: نیلا سب سے گرم، لال سب سے ٹھنڈا!

ہم سب جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کو گرم کیا جاتا ہے تو اس سے روشنی یا ریڈی ایشن خارج ہوتی ہے۔ مثلاً جب کوئی لوہار لوہے کے سیاہ ٹکڑے کو بھٹی میں گرم کرتا ہے تو جیسے جیسے اس کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، اس سے نارنجی، پھر لال اور آخر میں سفید رنگ کی روشنی نکلتی ہے۔

سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی چیز سے خارج ہونے والی روشنی کا اس کے درجہ حرارت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بات عمومی مشاہدے کا حصہ ہے، لیکن اس کی سائنسی تفصیل کو جاننا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اسی سمجھ نے نہ صرف ہمیں ستاروں کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں بلکہ بیسویں صدی کے کوانٹم انقلاب کی بنیاد بھی رکھی۔

جب کسی شے کو گرم کیا جاتا ہے تو وہ برقی مقناطیسی شعاعیں (ایکٹرومیگنیٹک ریڈیشن) خارج کرتی ہے۔ جتنا درجہ حرارت کم ہوگا، اتنی ہی زیادہ طول موج (ویو لینتھ) کی شعاعیں خارج ہوں گی۔ مثلاً، اگر کوئی شے بہت ٹھنڈی ہو اور ہم اسے گرم کریں تو وہ ریڈیو ویوز خارج کرے گی۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہماری کائنات کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 3 کیلون ہے، جس کے باعث مائیکرو ویوز ہر سمت خارج ہو رہی ہیں۔ یہ مائیکرو ویوز 1964 میں حادثاتی طور پر دریافت ہوئیں اور جن سائنس دانوں نے یہ دریافت کی، انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا کیونکہ اس سے کائنات کی ابتدا کو سمجھنے میں مدد ملی۔

اگر ہم درجہ حرارت کو مزید بڑھائیں تو شے سے انفرا ریڈ شعاعیں نکلتی ہیں، جنہیں انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی، مگر ہماری جلد انہیں گرمی کے طور پر محسوس کر سکتی ہے۔

جب درجہ حرارت تقریباً 1000 سے 1500 ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے تو خارج ہونے والی شعاعیں ہمیں لال رنگ کی روشنی کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ اگر اس سے زیادہ درجہ حرارت ہو تو روشنی کے اسپیکٹرم میں موجود دیگر رنگ بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، اور جب تمام رنگوں کی توانائی تقریباً برابر ہو جائے تو آنکھ کو وہ روشنی سفید دکھائی دیتی ہے۔ یہ سفید روشنی عموماً 5500 سے 6000 ڈگری سینٹی گریڈ پر نظر آتی ہے، جیسا کہ سورج کی روشنی۔ یہی وجہ ہے کہ سورج کو پیلا دکھانا سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔

اگر درجہ حرارت مزید بڑھایا جائے تو روشنی کا رنگ نیلا ہونے لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیلے رنگ کی شعاعوں میں زیادہ توانائی ہوتی ہے جبکہ لال روشنی کی توانائی کم ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کسی شے کا درجہ حرارت 12,000 سے 15,000 ڈگری سینٹی گریڈ ہو تو وہ ہمیں نیلی دکھائی دے گی کیونکہ اس سے زیادہ تر نیلی شعاعیں خارج ہو رہی ہوں گی۔

مختصراً، جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، شے سے خارج ہونے والی توانائی ریڈیو ویوز سے ہوتی ہوئی مائیکرو ویوز، انفرا ریڈ، لال، نارنجی، سفید، نیلی، ایکس رے اور آخر میں گاما رے کی طرف جاتی ہے۔ ہر درجہ حرارت پر کئی طرح کی روشنی نکلتی ہے، مگر سب سے زیادہ طاقت ایک خاص رنگ کی روشنی میں ہوتی ہے۔ اسی لیے ویلڈنگ کرتے وقت لوہار موٹے چشمے پہنتے ہیں تاکہ نیلی اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کی شدید توانائی ان کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچائے۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ لال رنگ کی روشنی والی چیز کا درجہ حرارت عموماً 1000 سے 1500 ڈگری کے درمیان ہوتا ہے جبکہ نیلی روشنی والی چیز کا درجہ حرارت 12,000 سے 30,000 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو سکتا ہے۔ یعنی نیلا ستارہ، لال یا سفید ستارے کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرم ہوتا ہے۔ سائنس کی نظر میں نیلا رنگ بہت زیادہ گرم، سفید درمیانہ اور لال نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے۔

لیکن یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے: جب آرٹسٹ یا عام افراد کسی ٹھنڈی جگہ کی تصویر بناتے ہیں تو وہ نیلا اور سفید رنگ استعمال کرتے ہیں اور اگر کسی گرم مقام، جیسے جہنم کی تصویر ہو، تو وہ گہرے لال رنگ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کی وجہ انسانی نفسیات اور روزمرہ مشاہدہ ہے، نہ کہ سائنس۔

مثال کے طور پر، آئس کیوب ہمیں نیلا دکھائی دیتا ہے، اس لیے ہم لاشعوری طور پر نیلے رنگ کو ٹھنڈک سے جوڑتے ہیں، حالانکہ نیلا رنگ اس پر پڑنے والی روشنی کے مخصوص حصے کے زیادہ ریفلیکٹ ہونے کی وجہ سے نظر آتا ہے۔

اسی طرح، اکثر باتھ رومز میں گرم پانی کے نل پر لال اور ٹھنڈے پر نیلا نشان لگا ہوتا ہے، جو کہ سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نیلا رنگ زیادہ گرم اور لال رنگ کم گرم ہونے کی علامت ہے۔ یہی ہے رنگوں اور حرارت کے رشتے کی سائنسی کہانی — جو ہمیں کائنات کے راز بتاتی ہے، مگر ہماری روزمرہ عادتوں سے الگ چلتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wruMqm7

اتوار، 23 مارچ، 2025

ایٹم اور مالیکیول: حیرت انگیز طور پر نہایت چھوٹی مگر طاقتور دنیا

ہم سب جانتے ہیں کہ ایٹم اور مالیکیول اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انسانی آنکھ انہیں نہیں دیکھ سکتی۔ ایٹم کی موجودگی کا سائنسی ثبوت بیسویں صدی کے اوائل میں مشہور سائنسدان آئنسٹائن نے پیش کیا تھا، حالانکہ ایٹم کا تصور بہت پرانا ہے۔ یونانی زبان میں ’ایٹم‘ کا مطلب ہے ’ناقابل تقسیم‘، کیونکہ قدیم دور میں سمجھا جاتا تھا کہ یہ کسی بھی مادے کا سب سے چھوٹا حصہ ہے، جسے مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن سائنس نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایٹم کے اندر بھی ایک حیرت انگیز دنیا موجود ہے۔ ایٹم کچھ حد تک ہمارے نظامِ شمسی سے مشابہ ہے۔ اس کے مرکز میں ایک نیوکلئیس ہوتا ہے، جس میں پروٹان اور نیوٹران موجود ہوتے ہیں، جبکہ الیکٹران سیاروں کی طرح اس کے گرد گردش کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے ایٹم کے مزید چھوٹے اجزاء کو دریافت کیا، مگر ’ایٹم‘ کی اصطلاح کو برقرار رکھا۔

ایٹم مل کر مالیکیول بناتے ہیں۔ ایک مالیکیول ایک یا ایک سے زائد ایٹموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کا مالیکیول دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن ایٹم سے مل کر بنتا ہے۔ اسی طرح کھانے کے نمک کا مالیکیول سوڈیم اور کلورین ایٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔

اب آپ مالیکیول کی چھوٹی حجم کا اندازہ اس مثال سے لگائیں، زمین کے تین چوتھائی حصے پر پانی ہے، یعنی سمندروں میں کروڑوں گلاس پانی ہوگا۔ لیکن ایک گلاس پانی میں پانی کے مالیکیولوں کی تعداد سمندر کے تمام گلاسوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ یقین حقیقت ہے۔

ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب آپ ایک گلاس پانی پیتے ہیں تو آپ کروڑوں مالیکیول اپنے جسم میں لے جاتے ہیں، جو کچھ وقت بعد پسینے یا پیشاب کی شکل میں جسم سے خارج ہو جاتے ہیں اور دنیا کے پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ کے جسم سے نکلے ہوئے یہ مالیکیول وقت کے ساتھ سمندر کے ہر گلاس میں موجود ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پانی ہم آج پی رہے ہیں، اس میں وہ مالیکیول بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو ہزاروں سال پہلے کسی بادشاہ، سائنسدان یا عام انسان نے پیے ہوں گے۔

مالیکیول کی حیرت انگیز چھوٹے حجم کا ایک اور اندازہ یہ ہے کہ آپ کے ایک سانس میں جتنے مالیکیول ہوتے ہیں، وہ دنیا بھر میں سانس لینے والوں کے مجموعی سانسوں سے بھی زیادہ ہیں۔ جب آپ سانس لیتے ہیں تو آپ کے خارج کردہ مالیکیول ہوا میں پھیل کر پوری فضا میں گھل مل جاتے ہیں۔ اس طرح ہم سب نہ صرف پانی کے مالیکیول، بلکہ سانس کے ذریعے ہوا کے مالیکیول بھی ایک دوسرے سے شیئر کر رہے ہیں۔

ایٹم اور مالیکیول کی یہ چھوٹی دنیا حیرت انگیز ہے، کیونکہ صدیوں تک انسان ان سے ناواقف تھا۔ سائنس نے خوردبین (مائیکروسکوپ) ایجاد کر کے اس چھوٹی دنیا کے دروازے کھول دیے۔ آج الیکٹران مائیکروسکوپ کی مدد سے ہم ایٹم اور مالیکیول کو دیکھنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

مستقبل میں سائنسدان ایسے آلات بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، جن سے ہم ایٹموں کو پکڑ کر ان سے اپنی مرضی کے مالیکیول تیار کر سکیں گے۔ یہ نینو ٹیکنالوجی کا حیرت انگیز کمال ہوگا، جو سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دے گا۔

پانی کے ایک مالیکیول کی لمبائی صرف 2.75 اینگسٹرام ہوتی ہے۔ ایک اینگسٹرام ایک سینٹی میٹر کے دس کروڑویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ اگر ہم دس کروڑ پانی کے مالیکیول کو قطار میں رکھیں تو وہ صرف تین سینٹی میٹر لمبی لائن بنائیں گے۔ اسی طرح دس کروڑ ہائیڈروجن ایٹم ایک سینٹی میٹر لمبی لائن میں سما جائیں گے۔

یہ حقیقت کہ انسان اتنی چھوٹی دنیا کو سمجھنے اور دیکھنے کے قابل ہو پایا ہے، سائنس کا ایک غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ اگرچہ ایٹم اور مالیکیول ناقابلِ یقین حد تک چھوٹے ہیں، لیکن یہی ذرات کائنات کی بنیاد ہیں اور ان کی طاقت بے حد حیران کن ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9naEAoj

منگل، 18 مارچ، 2025

سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کی 9 ماہ بعد زمین پر واپسی، صحت کے نئے چیلنجز کا سامنا

امریکی خلا باز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور 9 ماہ کے طویل خلائی مشن کے بعد زمین پر بحفاظت واپس آ گئے ہیں۔ یہ دونوں خلاباز 5 جون 2024 کو بوئنگ اسٹار لائنر کیپسول کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر پہنچے تھے۔ ان کا مشن دراصل 10 دن کا تھا لیکن کیپسول میں تکنیکی خرابیوں کے باعث انہیں طویل عرصہ خلا میں گزارنا پڑا۔

طویل عرصے تک مائیکرو گریوٹی میں رہنے کی وجہ سے سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کو صحت کے مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ ناسا کے سابق خلا باز لیرو چیو کے مطابق، خلا میں زیادہ دیر تک رہنے کی وجہ سے خلابازوں کو ’بچوں کی طرح کے پاؤں‘ (بیبی فیٹ) کا تجربہ ہوتا ہے، جس میں پیروں کے تلووں کی موٹی جلد ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، زمین پر واپس آنے پر چکر آنا یا متلی جیسے مضر اثرات بھی عام ہیں۔

خلاباز ٹیری ورٹس کے مطابق، خلا سے واپسی پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فلو ہو رہا ہو، اور توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ مائیکرو گریوٹی میں خلاباز تیرتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے پیروں پر دباؤ نہیں پڑتا، اور ایڑیوں کی موٹی جلد وقت کے ساتھ نرم ہو جاتی ہے۔ زمین پر واپس آ کر، فوری طور پر کشش ثقل کا احساس ہوتا ہے، جس سے پیروں میں تکلیف اور توازن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

خلائی ایجنسیاں خلابازوں کی زمین کی کشش ثقل سے ہم آہنگی کے لیے بحالی کے خصوصی پروگرام ترتیب دیتی ہیں۔ اس میں آہستہ آہستہ چلنا، پیروں کو مضبوط کرنے کی مشقیں، توازن برقرار رکھنے کی تربیت، اور مخصوص خوراک اور ادویات شامل ہیں۔ بحالی کا یہ عمل کئی ہفتوں تک جاری رہتا ہے، اور خلاباز ناسا کی میڈیکل ٹیم کی مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کے اس طویل مشن سے حاصل ہونے والے تجربات مستقبل کے طویل مدتی خلائی مشنز، جیسے مریخ پر انسانی مشن، کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کے صحت کے مسائل اور بحالی کے عمل کا مطالعہ کرتے ہوئے، خلائی ایجنسیاں مستقبل میں خلابازوں کی صحت کی بہتری اور بحالی کے لیے مزید مؤثر حکمت عملیاں ترتیب دے سکیں گی۔

اس کامیاب واپسی کے باوجود، سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کو مکمل بحالی کے لیے مزید طبی نگرانی اور جسمانی بحالی کے مرحلوں سے گزرنا ہوگا۔ ان کی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ مستقبل کے طویل مدتی خلائی سفر کے لیے اہم ثابت ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/RP1F2lE

اتوار، 16 مارچ، 2025

پانی کی عجیب داستان اور گلوبل وارمنگ... وصی حیدر

برف پانی پر کیوں تیرتی ہے؟ اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ برف پانی سے ہلکی ہے، یعنی اس کا ڈینس (کثافت) کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے ہر وہ چیز جو پانی سے کم ڈینس والی ہوگی، وہ پانی میں تیرے گی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لوہا اور اسٹیل کا ڈینس پانی سے بہت زیادہ ہوتا ہے، پھر بھی لوہے یا اسٹیل سے تیار پانی کا جہاز پانی میں خوب تیرتا ہے۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر مکمل شئے کی کثافت پانی سے کم ہو تو وہ پانی میں تیرنے لگے گی چاہے اس کا کچھ حصّہ اسٹیل یا کسی اور بھاری چیز سے کیوں نہ تیار ہوا ہو۔ لوہے سے بنا پانی کا جہاز پورا لوہے کا نہیں ہوتا۔ اس کے نیچے کا حصّہ ’Hull‘ خالی ہوتا ہے، جس میں صرف ہوا ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پورے جہاز کی کثافت پانی سے کم ہو جاتی ہے۔

آپ بازار سے گھر کے لیے اگر ایک تربوز لائیں تو وہ آپ کو بہت بھاری لگتا ہے۔ لیکن اگر آپ تربوز کو پانی میں ڈالیں تو وہ تیرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ پانی سے ہلکا یا کم کثافت والا ہے۔ ایک اور بھاری چیز جو سب نے دیکھی ہوگی، وہ ہے کسی پرانے درخت کا کٹا ہوا تنا (ڈنڈی)۔ وہ بھاری ہوتا ہے، لیکن اس کو بھی اگر پانی میں ڈالیں تو وہ  تیرتا نظر آتا ہے۔

ان مثالوں سے یہ ثابت ہوا کہ تیرنے کے لیے چیزوں کے وزن کا کوئی مطلب نہیں، صرف اس کی مجموعی کثافت (ڈینسٹی) پانی سے کم ہونی چاہئیے۔ ان سب مثالوں کا ذکر صرف اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ برف پانی میں کیوں تیرتی ہیں؟

زیادہ تر چیزیں جب ڈھنڈی ہوتی ہیں تو سکڑتی ہیں، یعنی ان کی کثافت بڑھتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ جب چیزیں گرم ہوتی ہیں تو ان کے مالیکیول تیزی سے وائبریٹ کرتے ہیں، اور جب وہ ٹھنڈی کی جائیں تو ان کی ’ہیٹ انرجی‘ کم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کا وائبریشن کم ہوتا جاتا ہے اور وہ سکڑتی ہیں۔ یعنی چیزیں گرم کرنے پر پھیلتی ہیں اور ٹھنڈا کرنے پر سکڑتی ہیں، کیونکہ ہیٹ انرجی کم یا زیادہ کرنے سے ان کا وائبریشن کم یا زیادہ ہو جاتا ہے۔

پانی اس معاملے میں بلکل برعکس ہے۔ پانی کا معاملہ کچھ  اس طرح ہے: عام ٹمپریچر (درجہ حرارت) پر پانی بھی جیسے جیسے ٹھنڈا ہوتا ہے، سکڑتا جاتا ہے، اور گرم کیا جائے تو پھیلتا ہے۔ اس کا سیدھا تعلق گلوبل وارمنگ کے خطرے سے ہے۔ زمین کا اوسطاً ٹمپریچر 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، لیکن ہماری غلطیوں کے سبب یہ بڑھ رہا ہے۔ اگر زمین کا ٹمپریچر بڑھ جائے تو سمندر کا پورا پانی بھی گرم ہو کر پھیلے گا۔ اگر زمین کی برف نہ بھی پگھلے تو اب گرم پانی کا والیوم بڑھ جائے گا اور اور لاکھوں شہر پانی میں ڈوب جائیں گے۔ اگر پانی کے گرم ہونے سے اس کے والیوم میں صرف نصف فیصد کا اضافہ ہو تو وہ کتنا ہوگا؟ ہم کو معلوم ہے کہ سمندر تقریباً تین ہزار میٹر گہرا ہے۔ اس کا نصف فیصد کا مطلب ہوا ڈیڑھ ہزار میٹر۔ یعنی سمندر میں پانی کی سطح ڈیڑھ ہزار میٹر مزید اونچی ہو جائے گی، جس سے انسانی زندگی میں بہت  بڑی تباہی مچے گی۔

پانی جیسے جیسے ٹھنڈا ہوگا، زیادہ کثیف ہوتا جائے گا۔ جب تک کہ اس کا ٹمپریچر 4 ڈگری سنٹی گریڈ ہوگا، اس ٹمپریچر پراس کی کثافت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ہم کسی تالاب کے ٹھنڈا ہونے پر غور کریں تو یہ 4 ڈگری والا سطح کا سارا پانی کیونکہ سب سے زیادہ بھاری ہے، اس لیے یہ بالکل نیچے گہرائی میں چلا جائے گا۔ اب اگر ٹھنڈک اور بڑھی تو ٹمپریچر دھیمے دھیمے زیرو ڈگری کی طرف بڑھے گا، اور سطح پر برف جمنا شروع ہوگی۔

پانی کی عجیب خصوصیت ہے کہ اب اس کی کثافت کم ہونا شروع ہوگی۔ یعنی جمی ہوئی برف پانی کے مقابلہ 10 فیصد زیادہ پھیل جاتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ پانی میں تیرتی ہے۔ یہ ایک نہایت دلچسپ بات ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے اوپری سطح پر جمی برف جھیل کے اندر موجود پانی کے لیے ایک غلاف کا کام کرتی ہے، یعنی اس کو مزید ٹھنڈا ہونے سے بچاتی ہے۔ اس لیے باوجود اس کے کہ سطح پر برف جمی ہو، جھیل کی گہرائی کا پانی گرم رہتا ہے۔ مختصراً پانی کی یہ عجیب خاصیت ہے کہ وہ برف بن کر 10 فیصد کم کثیف ہوتا ہے۔ اس طرح سمندر کے تمام جانداروں کی زندگی کی حفاظت ہوتی ہے۔

اسی لیے جب آپ سمندری سفر میں آئس برگ دیکھیں تو آپ کو صرف اس کا 10 فیصد حصّہ دکھائی دے گا۔ باقی 90 فیصد حصّہ پانی کی سطح کے اندر ہوگا۔ اسی وجہ سے ٹائٹینک کے جہازراں یہ نہیں اندازہ کر پائے کہ اس کے سامنے جو برف ہے، اس کا پانی کے اندر ڈوبا ہوا حصّہ کتنا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ٹکراؤ نے جہاز کو تباہ کر دیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/l7MKm3g