جمعرات، 30 جولائی، 2026

آنر کا روبوٹ فون اگست میں لانچ ہوگا!

چینی کمپنی آنر یعنی Honor جلد ہی اپنا پہلا روبوٹ فون متعارف کروا رہی ہے۔ اس فون کی خاص بات اس کا کیمرہ ہو گا، جو کسی عام ا سمارٹ فون کی طرح فکس نہیں ہوتا۔ اس میں ایک منفرد روبوٹک کیمرہ سسٹم ہے جو ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران گھوم سکتا ہے، آپ کی پیروی کرسکتا ہے اور پیشہ ورانہ کیمرے جیسی حرکت فراہم کرسکتا ہے۔آنر اس فون کو چین میں 12 اگست کو لانچ کرے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک نیا اسمارٹ فون نہیں ہے بلکہ موبائل فوٹو گرافی کا اگلا مرحلہ ہے۔ اسی لیے اسے روبوٹ فون کا نام دیا گیا ہے۔

اس فون کے اوپر ایک خصوصی کیمرہ ماڈیول نصب ہے، جو ضرورت پڑنے پر پاپ آؤٹ اور مختلف سمتوں میں گھوم سکتا ہے۔ یہ صرف کیمرے کی نقل و حرکت کا نظام نہیں ہے، بلکہ یہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سامنے موجود شخص یا چیز کو خود بخود ٹریک بھی کر سکتا ہے۔ اگر کوئی چہل قدمی کر رہا ہے یا ویڈیو لے رہا ہے تو کیمرہ خود بخود ان کا پیچھا کرے گا۔ اس سے ویڈیو ریکارڈنگ ہموار اور زیادہ سنیما میں دکھائی دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آنر اسے روبوٹ فون کہہ رہا ہے۔

آنر نے تصدیق کی ہے کہ روبوٹ فون میں ٹرپل رئیر کیمرہ سیٹ اپ ہوگا۔ پرائمری کیمرہ 200 میگا پکسلز کا ہوگا، ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ فون نہ صرف ہائی ریزولوشن کی تصاویر لینے بلکہ دور کی چیزوں کی بہتر تصاویر لینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔آنر اس فون کو نہ صرف فوٹو گرافی کے لیے تیار کر رہا ہے بلکہ ویڈیو بنانے والوں کو بھی ذہن میں رکھ کر تیار کر رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/DS0ekfz

بدھ، 22 جولائی، 2026

تحقیق و ترقی کی دوڑ میں امریکہ کے برابر پہنچا چین، وائٹ ہاؤس رپورٹ میں انکشاف

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک اہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کے شعبے میں چین اب امریکہ کے برابر کا حریف بن چکا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیجنگ کی منظم حکمت عملی اور مسلسل سرمایہ کاری کے باعث مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اس کی صلاحیتیں تیزی سے مضبوط ہو رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ ’سائنس: اے نیو گولڈن ایج‘ میں امریکہ کے تقریباً 200 ارب ڈالر سالانہ وفاقی تحقیقاتی نظام کی ازسر نو تشکیل کے لیے ایک جامع خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیق و ترقی پر چین کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور قوتِ خرید کے مساوی (پرچیزنگ پاور پیریٹی) کے حساب سے بعض پیمانوں پر یہ اخراجات اب امریکہ کے برابر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ میں اس مقابلے کو سرد جنگ کے دور کی سائنسی اور تکنیکی مسابقت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ امریکہ، چین اور یورپی یونین کے درمیان موازنے پر مبنی ایک چارٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ امریکہ کو تحقیق و ترقی کے اخراجات کے معاملے میں اپنے برابر کا عالمی حریف ملا ہے۔

دستاویز کے مطابق چین نے سائنسی تحقیق کو اپنی عالمی مسابقتی حکمت عملی کا مرکزی جزو بنا لیا ہے۔ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر فیصلے کیے جا رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تحقیقاتی سرگرمیوں کے درمیان مؤثر تال میل قائم کیا گیا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت چین بنیادی سائنسی تحقیق کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کرنے، اہم ٹیکنالوجیز میں تیزی سے پیش رفت کرنے اور اختراعی نظام کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہا ہے۔

رپورٹ میں خودکار سائنسی تجربہ گاہوں کے میدان میں بھی چین کو امریکہ کا مضبوط حریف قرار دیا گیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی مدد سے تجربات کی منصوبہ بندی اور ان کے نفاذ کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اپنی قومی تجربہ گاہوں میں اس نوعیت کی ابتدائی سہولتیں قائم کی ہیں، تاہم چین اور کینیڈا جیسے ممالک اس شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے سفارش کی ہے کہ وفاقی وسائل کو مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، جوہری انشقاق و امتزاج، جدید مواصلاتی نظام، روبوٹکس، مینوفیکچرنگ اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر مرکوز کیا جائے۔ رپورٹ میں ہندوستان یا اس کے سائنسی اداروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی قومی ٹیکنالوجی مشن میں اسے ممکنہ شراکت دار کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

البتہ مالی سال 2028 کی تحقیقاتی ترجیحات سے متعلق میمورنڈم میں وفاقی ایجنسیوں کو ایسے منصوبوں پر غور کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں بین الاقوامی شراکت دار اخراجات میں حصہ دار ہوں۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ماضی میں امریکہ میں ہونے والی کئی اہم سائنسی دریافتوں کا صنعتی فائدہ دوسرے ممالک کو حاصل ہوا۔ اسی پس منظر میں وائٹ ہاؤس نے امریکی تحقیقاتی نظام میں بنیادی اصلاحات اور نئی ترجیحات کے تعین کی ضرورت پر زور دیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/gfjDGWB

جمعہ، 3 جولائی، 2026

زمین کی جانب گرتی ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین کو بچانے کا مشن، زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی 22 سال پرانی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کے ماحول میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک خصوصی خلائی مشن شروع کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد دوربین کو موجودہ نچلے مدار سے زیادہ بلند مدار میں پہنچانا ہے تاکہ وہ مزید کئی برس تک سائنسی تحقیق کا حصہ بنی رہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو خلائی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پرانی خلائی دوربین کو زیادہ بلند مدار میں منتقل کر کے اس کی عملی مدت میں اضافہ کیا جائے گا۔

ناسا کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ سوئفٹ خلائی دوربین کا مدار مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس کی بلندی میں اضافہ نہ کیا گیا تو امکان ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل جائے گی۔ اسی خطرے کے پیش نظر ادارے نے اس خصوصی مشن کا آغاز کیا ہے تاکہ دوربین کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کی خدمات مزید جاری رکھی جا سکیں۔

اس مشن کے لیے ناسا نے امریکی خلائی کمپنی کیٹالسٹ اسپیس کا انتخاب کیا ہے۔ کمپنی کا ایک چھوٹا خلائی جہاز سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچے گا، جہاں وہ اپنے روبوٹک بازوؤں کی مدد سے دوربین کو پکڑ کر آہستہ آہستہ زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ اس خلائی جہاز کو نارتھروپ گرومن کے تعاون سے مارشل جزائر سے فضا میں روانہ کیا گیا ہے اور اسے دوربین تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگنے کی توقع ہے۔

ناسا نے اس منصوبے کے لیے تقریباً 3 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے ہیں، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 30 ارب روپے کے برابر بنتے ہیں۔ اگر مشن کامیاب رہا تو سوئفٹ خلائی دوربین کم از کم مزید 5 برس تک فعال رہ کر خلائی تحقیق کے لیے اہم معلومات فراہم کرتی رہے گی۔

سوئفٹ خلائی دوربین کو 2004 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس کا ابتدائی مشن صرف دو برس کے لیے مقرر کیا گیا تھا، لیکن یہ گزشتہ 2 دہائیوں سے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس دوربین نے کائنات میں رونما ہونے والے متعدد اہم خلائی واقعات کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کی ہیں اور آج بھی پوری طرح فعال ہے۔

یہ دوربین خاص طور پر گاما شعاعی دھماکوں سمیت کائنات میں ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکوں، پھٹتے ہوئے ستاروں اور دیگر غیر معمولی خلائی واقعات کا مشاہدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سوئفٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی نئے خلائی واقعے کی اطلاع ملتے ہی چند منٹوں میں اپنا رخ تبدیل کر سکتی ہے، جبکہ کئی بڑی خلائی دوربینوں کو ایسا کرنے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

ناسا کو امید ہے کہ اگر تمام مراحل منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے تو سوئفٹ خلائی دوربین ستمبر تک دوبارہ معمول کے مطابق سائنسی مشاہدات شروع کر دے گی اور آنے والے برسوں میں بھی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3UFO5y0

چلتے ای رکشہ کے اچانک بند ہونے کا معاملہ، حکومت نے چینی ایپ پر لگائی روک

حکومت ہند نے ایسے موبائل ایپس کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جن کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان کے ذریعے بعض ای رکشوں کو دور سے بند کیا جا سکتا تھا۔ ’دی ہندی‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق متعلقہ چینی ایپ کو گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ حکام نے اس معاملے کو سائبر سکیورٹی اور عوامی تحفظ سے جوڑتے ہوئے فوری اقدامات کیے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض ای رکشوں کو ایک مخصوص موبائل ایپ کے ذریعے اچانک بند کیا جا رہا ہے۔ ان ویڈیوز کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر ایسے نظام کا غلط استعمال کیا جائے تو سڑک پر چلتی گاڑی کو روک کر نہ صرف مسافروں بلکہ دیگر راہگیروں کی جان بھی خطرے میں ڈالی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بیشتر ای رکشوں میں لیتھیم آئن بیٹری کے ساتھ بیٹری مینجمنٹ سسٹم نصب ہوتا ہے، جس کا مقصد بیٹری کی کارکردگی، درجہ حرارت، وولٹیج، کرنٹ اور چارج کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ یہ نظام اکثر بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون سے جڑ جاتا ہے تاکہ ڈرائیور بیٹری کی معلومات دیکھ سکے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کم قیمت والے بعض چینی بیٹری مینجمنٹ سسٹمز میں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوتے۔ اگر ایسے نظام میں بلوٹوتھ رابطے کو محفوظ نہ بنایا گیا ہو تو کوئی دوسرا شخص بھی مخصوص موبائل ایپ استعمال کرکے چند میٹر کے فاصلے سے اس سسٹم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر رسائی مل جائے تو وہ بیٹری کے ڈسچارج سوئچ کو بند کر کے موٹر تک بجلی کی فراہمی روک سکتا ہے، جس سے ای رکشہ چلنا بند ہو جاتا ہے۔

حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ایپس کو ایپ اسٹورز سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو ایسی ایپس حکومت کی نظر میں آئی تھیں جنہیں بعد میں ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایپ اسٹور چلانے والی کمپنیوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایسی ایپس دستیاب نہ ہوں جو عوامی سلامتی یا سائبر سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ای رکشہ مالکان کو صرف مستند کمپنیوں کے بیٹری مینجمنٹ سسٹمز استعمال کرنے چاہئیں اور غیر ضروری بلوٹوتھ رابطہ بند رکھنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو سسٹم کا سکیورٹی پاسورڈ تبدیل کیا جائے اور صرف سرکاری یا مستند ایپس ہی استعمال کی جائیں۔ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا اچانک گاڑی بند ہونے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ کمپنی یا مجاز سروس مرکز سے رابطہ کرنا چاہیے۔ حکومت کی حالیہ کارروائی سے فوری خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم طویل مدت میں محفوظ برقی گاڑیوں کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی نظام اپنانا بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LbQhAnH