منگل، 30 جون، 2026

اسمارٹ ڈریسنگ: زخم کا درد کم کرنے اور جلد بھرنے میں مددگار

نئی دہلی: مرکزی اعلیٰ تعلیمی ادارے این آئی ٹی راؤرکیلا کے محققین نے زخموں کے علاج کے لیے ایک جدید اسمارٹ ڈریسنگ تیار کی ہے، جو نہ صرف زخم میں انفیکشن کے خطرے کو کم کرتی ہے بلکہ ڈریسنگ تبدیل کرتے وقت ہونے والے درد اور تکلیف میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی زخم کو تیزی سے بھرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں جدید طبی علاج کے شعبے میں اہم پیش رفت کی بنیاد بن سکتی ہے۔

یہ نئی ڈریسنگ ایک خصوصی نینو فائبر تہہ پر مشتمل ہے، جس میں قدرتی جراثیم کش خصوصیات رکھنے والا کرکیومن شامل کیا گیا ہے، جو ہلدی سے حاصل ہونے والا مؤثر جزو ہے۔ اس نینو فائبر تہہ کو زخم اور روایتی کاٹن گاز کے درمیان رکھا جاتا ہے، جس کے باعث ڈریسنگ کا زخم سے براہ راست رابطہ کم ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے ڈریسنگ ہٹاتے وقت نئے بننے والے بافتوں کو نقصان پہنچنے کا امکان کم ہو جاتا ہے اور مریض کو کم درد محسوس ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اس نینو فائبر تہہ کے ذریعے کرکیومن بتدریج اور مسلسل زخم تک پہنچتا رہتا ہے، جس سے دوا کی مؤثر مقدار طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ اس عمل سے زخم کے اردگرد صاف اور جراثیم سے محفوظ ماحول قائم رہتا ہے، انفیکشن کے امکانات گھٹتے ہیں اور بار بار ڈریسنگ تبدیل کرنے یا اضافی ادویات استعمال کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔

این آئی ٹی راؤرکیلا کے شعبۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور طبی انجینئرنگ کے معاون پروفیسر پروفیسر پرسون کمار نے بتایا کہ جن مریضوں کے زخموں کی بار بار ڈریسنگ کرنا پڑتی ہے، انہیں ہر مرتبہ شدید تکلیف اور بے آرامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نئی اسمارٹ ڈریسنگ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے تاکہ علاج کو زیادہ آرام دہ اور مؤثر بنایا جا سکے۔

عام طور پر زخموں کی دیکھ بھال کے لیے کاٹن گاز بینڈیج استعمال کی جاتی ہے کیونکہ یہ نسبتاً سستی، استعمال میں آسان اور زخم سے خارج ہونے والے خون اور دیگر رطوبتوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم روایتی کاٹن گاز کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ یہ زخم کی سطح سے چپک جاتی ہے، جس کے باعث ڈریسنگ تبدیل کرتے وقت نئے بننے والے بافتے متاثر ہوتے ہیں اور انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے محققین نے چائٹوسان سے تیار کردہ حفاظتی تہہ کو الیکٹرو اسپن نینو فائبر کے ساتھ ملا کر ایک نئی قسم کی اسمارٹ کاٹن گاز ڈریسنگ تیار کی ہے۔ تجربہ گاہ میں کیے گئے مختلف تجربات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ یہ ڈریسنگ عام کاٹن گاز کے مقابلے میں زخم سے بہت کم چپکتی ہے، جبکہ اس میں موجود کرکیومن مسلسل خارج ہو کر جراثیم کش تحفظ فراہم کرتا ہے اور خلیوں کی افزائش کے ساتھ نئے بافتوں کی تشکیل کے عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔

پروفیسر پرسون کمار کے مطابق اس نئی ڈریسنگ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ زخم کے بھرنے کے قدرتی عمل کو متاثر کیے بغیر خلیوں کی نشوونما میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کو کم تکلیف کے ساتھ بہتر علاج میسر آ سکتا ہے۔

لاگت کے حوالے سے محققین نے بتایا کہ دس سینٹی میٹر چوڑے اور چار میٹر لمبے عام کاٹن گاز رول کی قیمت تقریباً تیس روپے ہوتی ہے، جبکہ اسی سائز کی اسمارٹ ڈریسنگ اگر تجارتی پیمانے پر تیار کی جائے تو اس کی متوقع قیمت پچاس سے ساٹھ روپے کے درمیان ہوگی، جو جدید طبی سہولت کے مقابلے میں مناسب سمجھی جا رہی ہے۔

یہ تحقیقی نتائج معروف سائنسی جریدے ایمرجنگ میٹیریلز میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق میں پروفیسر پرسون کمار کے ساتھ پروفیسر دیویندر ورما، پروفیسر ایرو بنوتھ، سواگاتیکا بارک، ریکا رانی پردھان، شکھا ترپاٹھی اور سمدریتا رائے بھی شریک رہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کے لیے پیٹنٹ حاصل کرنے اور طبی آزمائشوں کے لیے صنعتی اداروں کے تعاون سے مزید تحقیق کی جائے گی، جس سے مستقبل میں زخموں کے علاج کا ایک زیادہ مؤثر اور آرام دہ طریقہ دستیاب ہونے کی امید ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OClnK70

اتوار، 14 جون، 2026

مصنوعی ذہانت: طاقت، انصاف اور انسانیت کے درمیان توازن کی تلاش...پوپ لیو XIV

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے کے معاملے میں دانش مندی اور سخت جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ آج یہ ضرورت اس لیے مزید بڑھ گئی ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی انتہائی تیز رفتاری سے ہو رہی ہے، جبکہ اس کے اثرات کو قابو میں رکھنے کے لیے محض اخلاقیات کے نظری مباحث کافی نہیں رہے۔ اس مقصد کے لیے مضبوط قانونی ڈھانچے، آزاد نگرانی، باشعور صارفین اور ایسی سیاسی قیادت درکار ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہ موڑے۔ بصورت دیگر یہ تبدیلی چند تکنیکی ماہرین اور طاقتور اداروں کے کنٹرول میں چلی جائے گی اور اسے ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر پیش کیا جانے لگے گا۔ نتیجتاً قواعد و ضوابط بھی وہی قوتیں طے کریں گی جن کے پاس ڈیٹا، بنیادی ڈھانچے اور کمپیوٹنگ وسائل پر غلبہ حاصل ہے۔

ہمیں اس بات پر بھی اصرار کرنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ اخلاقی اصولوں پر کھلی بحث کی گنجائش موجود رہے اور انہیں سماجی انصاف کے مشترکہ معیارات کے تابع کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اے آئی پر کنٹرول رکھنے والے اپنے اخلاقی تصورات دوسروں پر مسلط کر دیں گے اور یہی تصورات ان نظاموں کے پوشیدہ ڈھانچے کا حصہ بن جائیں گے۔ آج ایسی فعال سیاسی شرکت کی ضرورت ہے جو اس تیز رفتار دوڑ میں ضروری مواقع پر رفتار کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ان طبقات کے مفادات کا تحفظ کر سکے جو ابھی بھی اس عمل میں شامل ہو کر سوالات اٹھانا چاہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی تکنیکی تبدیلی کی طرح مصنوعی ذہانت بھی ان لوگوں کی طاقت میں اضافہ کرتی ہے جن کے پاس پہلے سے معاشی وسائل، مہارت اور ڈیٹا تک رسائی موجود ہے۔ عام مفاد اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نقطۂ نظر سے یہ صورت حال تشویش پیدا کرتی ہے، کیونکہ محدود مگر انتہائی طاقتور گروہ معلومات اور صارفین کے رویوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جمہوری عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور معاشی سرگرمیوں کو اپنے مفاد کے مطابق موڑ سکتے ہیں۔

ایسی دنیا میں جہاں ڈیٹا، کمپیوٹنگ وسائل اور ضابطہ سازی پر اثر و رسوخ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو، وہاں عوامی مفاد کی بات کرنے کا مطلب اس نئے عدم توازن کو بے نقاب کرنا ہے جو علم، معیشت اور سیاست کے میدانوں میں پیدا ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنم لینے والی نئی اجارہ داریوں کی واضح طور پر شناخت کی جائے اور ان کے اثرات پر سوال اٹھایا جائے۔

وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تقاضا ہے کہ ایسی راہیں تلاش کی جائیں جن کے ذریعے نہ صرف ان ٹیکنالوجیز تک بلکہ انہیں استعمال کرنے کے لیے درکار تعلیم اور تربیت تک بھی سب کی مساوی رسائی ممکن ہو۔ اسی طرح مقامی برادریوں کی فیصلہ سازی اور اصلاح کی صلاحیت کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی طاقت کے اس نظام پر سوال اٹھایا جائے جو یہ طے کرتا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کی صلاحیت کن کے پاس ہوگی اور کون صرف ان کے نتائج قبول کرنے پر مجبور رہے گا۔ یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ سماجی انصاف کوئی ایسا مقصد نہیں جسے بعد میں حاصل کیا جائے، بلکہ اسے ٹیکنالوجی کی تشکیل اور استعمال کے ہر مرحلے میں شامل ہونا چاہیے۔

میں یہاں ایک ایسے لفظ کا ذکر کرنا چاہوں گا جو میرے دل کے بہت قریب ہے اور وہ ہے ’غیر مسلح کرنا‘۔ مصنوعی ذہانت کو غیر مسلح کرنے کا مطلب اسے اس مقابلہ آرائی کی ذہنیت سے آزاد کرنا ہے جو آج صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشی اور فکری دنیا کا بھی حصہ بن چکی ہے۔ اس کا مطلب اس تصور کو مسترد کرنا ہے کہ محض تکنیکی طاقت کسی کو حکمرانی کا حق دے دیتی ہے۔

غیر مسلح کرنے کا مطلب ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں بلکہ اسے انسانیت پر حاوی ہونے سے روکنا ہے۔ اس کا مطلب اسے اجارہ دارانہ کنٹرول سے آزاد کرنا اور اسے عوامی مفاد کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔ آج ہمارا چیلنج صرف اخلاقی یا تکنیکی نوعیت کا نہیں بلکہ گہرے معنوں میں ماحولیاتی بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت اب محض ایک آلہ نہیں رہی بلکہ ایک ایسا ماحول بن چکی ہے جس کے اندر ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ اس لیے صرف اس کی ضابطہ بندی کافی نہیں، بلکہ اسے ایسا بنانا ہوگا جو انسان دوست، قابل رسائی اور سب کے لیے مفید ہو۔

میں مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے ڈیولپرز سے خصوصی اپیل کرنا چاہتا ہوں۔ ایک اعتبار سے تکنیکی اختراع تخلیق کے عمل میں انسانی شرکت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسی لیے ڈیولپرز پر ایک منفرد اخلاقی اور روحانی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ ان کے ہر ڈیزائن اور ہر فیصلے میں انسان اور معاشرے کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر جھلکتا ہے۔

کیا نہیں کھونا چاہیے

کسی تہذیب کا معیار اس کے وسائل یا طاقت کی مقدار سے نہیں، بلکہ اس بات سے جانچا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی دیکھ بھال کتنی اچھی طرح کر سکتی ہے اور انسان کو محض ایک ذریعہ نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر پہچاننے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک دوسرے کی خبرگیری اور نگہداشت کا جذبہ ہماری انسانیت کا بنیادی وصف ہے، جو حقیقی زندگی کے تجربات کے ذریعے سیکھا اور پروان چڑھایا جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی بھی لوگوں کے درمیان اس باہمی نگہداشت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ ایسے ذرائع اور آلات فراہم کر سکتی ہے جو انسانی آزادی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کیے بغیر ہمیں حالات کا پیشگی اندازہ لگانے، منصوبہ بندی کرنے اور معاملات کو بہتر طریقے سے منظم کرنے میں مدد دیں۔

(25 مئی 2026 کو شائع ہونے والے ’میگنیفیکا ہیومینیٹاس‘ سے ماخوذ۔ قومی آواز پر اس سلسلۂ فکر کا پہلا حصہ 8 جون 2026 کو شائع ہوا تھا)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wfVpLxd

میری بات: کیا مصنوعی زہانت سے ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے؟

قومی آواز کے پروگرام ’میری بات‘ کی دوسری قسط میں مصنوعی ذہن کے بڑھتے ہوئے استعمال، اس کے فوائد اور ممکنہ خطرات پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا۔ ادارے کے ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا نے پروگرام میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جو مشینوں کو سیکھنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، جس کے باعث تعلیم، طب، صنعت، زراعت، تحقیق اور دیگر شعبوں میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

پروگرام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کام کی رفتار اور درستگی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ پیچیدہ حساب کتاب، طبی تشخیص، اعداد و شمار کے تجزیے اور تعلیمی معاونت جیسے شعبوں میں بھی اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پروگرام میں یہ بھی کہا گیا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ روزگار کے حوالے سے خدشات ہمیشہ موجود رہے ہیں، تاہم ماضی میں کمپیوٹر کے استعمال کے بارے میں ظاہر کیے گئے اندیشے بڑی حد تک درست ثابت نہیں ہوئے۔

قسط میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ منفی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں بعض ملازمتوں پر اثرات، رازداری کے مسائل، اعداد و شمار کے تحفظ کے خدشات اور غلط یا جانبدارانہ معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ شامل ہے۔ پروگرام میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم اس کے ذمہ دارانہ استعمال اور ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/zUs6FgH

منگل، 9 جون، 2026

بارہویں جماعت کے طلبہ نے امتحان میں کیا مصنوعی ذہانت کا استعمال، نمبر کاٹ لیے گئے

میلبورن: آسٹریلیا کے شہر میلبورن کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں بارہویں جماعت کے متعدد طلبہ امتحانی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرتے پکڑے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس معاملے میں ملوث طلبہ کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے حاصل کردہ نمبروں میں کٹوتی کی گئی۔

مقامی اخبار ’دی ایج‘ کے مطابق میلبورن کے مضافاتی علاقے ملگریو میں واقع مازینوڈ کالج کے کئی طلبہ نے انگریزی کی زبانی پیش کش کے امتحان کی تیاری کے دوران مصنوعی ذہانت سے مدد حاصل کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ تقریباً پچاس طلبہ اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اسکول انتظامیہ نے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اساتذہ کو شبہ اس وقت ہوا جب بعض طلبہ کی پیش کردہ تقاریر میں ایسے انداز اور مواد کی نشاندہی ہوئی جو مصنوعی ذہانت کے استعمال کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ بعد ازاں کی گئی جانچ میں معلوم ہوا کہ بعض طلبہ نے اپنی زبانی تقریر تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لی تھی، جس کے بعد ان کے نمبروں میں کمی کر دی گئی۔

یہ اسائنمنٹ بارہویں جماعت کے انگریزی مضمون کی یونٹ چار کے اہم جائزے کا حصہ ہے اور اس کے لیے مجموعی طور پر بیس نمبر مختص ہوتے ہیں۔ طلبہ کو کسی سماجی، سیاسی یا عصری مسئلے پر تین سے پانچ منٹ کی تقریر تیار کر کے اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس جائزے میں حاصل ہونے والے نمبر طلبہ کے مجموعی تعلیمی اسکور میں شامل کیے جاتے ہیں، جو بعد میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

مازینوڈ کالج کے پرنسپل پال شینن نے ایک بیان میں کہا کہ امتحانی عمل کے جائزے کے دوران چند طلبہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اشارے ملے تھے۔ اس کے بعد مکمل تحقیقات کی گئیں اور متعلقہ طلبہ سے گفتگو بھی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ضروری ضابطہ جاتی مراحل پر عمل کیا گیا اور معاملے سے متعلق معلومات وکٹورین نصاب و جائزہ اتھارٹی کو بھی فراہم کی گئیں۔

پال شینن کے مطابق تحقیقات میں جن طلبہ کے خلاف ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہوئی، ان کے نمبروں میں مناسب کٹوتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال ایک نئی اور سنجیدہ چیلنج کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ان کے بقول امتحانات اور تعلیمی جائزوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام لینا تعلیمی دیانت داری اور منصفانہ جانچ کے اصولوں کے منافی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NY6RCbF

پیر، 8 جون، 2026

آرٹیمس-3 مشن کی تیاریوں میں تیزی، ناسا خلابازوں کو کل دنیا کے سامنے کرے گا پیش

چاند پر دوبارہ انسانی قدم رکھنے کے اپنے تاریخی منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی خلائی ادارہ ناسا آرٹیمس-3 مشن کی تیاریوں میں تیزی لا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ناسا 9 جون کو ایک خصوصی انسٹاگرام لائیو پروگرام منعقد کرے گا، جس میں آرٹیمس-3 مشن کے لیے منتخب خلاباز دنیا بھر کے ناظرین سے براہ راست گفتگو کریں گے۔ اس پروگرام میں مشن کی پیش رفت، مستقبل کی منصوبہ بندی اور چاند پر انسانی واپسی کے اہداف پر روشنی ڈالی جائے گی۔

ناسا نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اطلاع میں بتایا ہے کہ یہ لائیو پروگرام امریکی وقت کے مطابق صبح 11 بجے اور عالمی معیاری وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا۔ اس دوران آرٹیمس-3 مشن سے وابستہ خلاباز اپنے تجربات، تربیت اور مشن کی تیاریوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس موقع پر مشن سے متعلق چند اہم تفصیلات بھی سامنے آسکتی ہیں۔

ناسا کے مطابق آرٹیمس-3 مشن انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح تک پہنچانے کی وسیع تر حکمت عملی کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت خلابازوں کو اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے اورائن خلائی جہاز میں سوار کر کے زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا۔ وہاں اورائن خلائی جہاز اور نجی کمپنیوں کے تیار کردہ تجارتی لینڈرز کے درمیان رابطے، قریب آنے اور ڈاکنگ کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔

خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ آزمائش مستقبل کے قمری مشنوں کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ آئندہ خلابازوں کو چاند کی سطح تک پہنچانے کے لیے تجارتی لینڈرز کا استعمال کیا جائے گا۔ کامیاب ڈاکنگ اور رابطے کی یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مشنوں کو زیادہ محفوظ بنائے گی بلکہ چاند تک رسائی کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد بنانے میں مدد دے گی۔

آرٹیمس-3 کے نمائشی مشن میں نجی خلائی کمپنیوں اسپیس ایکس اور بلو اوریجن کے تیار کردہ لینڈرز میں سے ایک یا دونوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ناسا کے مطابق بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اورائن خلائی جہاز اور تجارتی لینڈرز کے درمیان کامیاب رابطہ اور ڈاکنگ ممکن ہے۔ یہی صلاحیت مستقبل میں خلابازوں کو چاند کی سطح تک لے جانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3aGvTSl

اتوار، 7 جون، 2026

کیا مصنوعی ذہانت کا بلبلہ پھٹ گیا ہے! کیا ہندوستان کو امریکی مارکیٹ میں مندی کا فائدہ ہوگا؟

پچھلے تین سالوں سے، دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت میں لاپرواہی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ لیکن اب ایک ہی دن میں اتنی رقم غائب ہو گئی ہے جو کہ کئی ممالک کی سالانہ آمدنی کے برابر ہے۔  ایک ہی دن میں مارکیٹ ویلیو میں 1.3 ٹریلین  امریکی ڈالرکا صفایا ہو گیا۔ NVIDIA، AMD، Intel، اور Micron جیسی بڑی کمپنیوں کے حصص ایک ہی دن میں 6فیصد سے 17فیصد تک گر گئے۔

پچھلے تین سالوں سے، دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار اے آئی میں لاپرواہی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ NVIDIA کا اسٹاک، جس کی قیمت ایک بار صرف چند ڈالر تھی، 200  امریکی ڈالرسے تجاوز کر گئی۔ کمپنی کی کل مالیت 5 ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ لیکن پھر وہ دن آیا جب 1.3 ٹریلین ڈالر صرف 24 گھنٹوں میں غائب ہو گئے۔ سرمایہ کاروں کو مصنوعی ذہانت کمپنیوں سے معجزاتی نتائج کی امید تھی۔ لیکن جب حقیقی نتائج سامنے آئے تو وہ توقعات سے کم رہ گئے۔ خوف و ہراس پھیل گیا، اور NVIDIA کا اسٹاک ایک ہی دن میں چھ فیصد گر گیا۔

یہ تشویشناک بات ہے۔ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ چپس خریدی جا رہی ہیں۔ بجلی کی کھپت ریکارڈ سطح پر ہے۔ مائیکروسافٹ، گوگل، میٹا، اور ایمیزون سبھی مصنوعی ذہانت انفراسٹرکچر میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

گزشتہ ڈیڑھ سال سے ہندوستان کی اسٹاک مارکیٹ مشکلات کا شکار ہے۔ وجہ یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستان سے پیسہ نکال رہے ہیں اور امریکہ، تائیوان اور جنوبی کوریا کی اے آئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک دو طرح کے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے، وہ جو اے آئی پر انحصار کرتے ہیں، جیسے کہ امریکہ ، تائیوان اور جنوبی کوریا۔ جب تک اے آئی پیسہ لاتا ہے، وہ ترقی کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ لانا بند کر دیتا  ہے، ان کے حصص گر جاتے ہیں۔

دوسرا، وہ جو براہ راست اے آئی پر انحصار نہیں کرتے ہیں، اور اسی میں  ہندوستان آتا ہے۔ ہندوستان کے 1.4 بلین لوگوں کو گھروں، گاڑیوں، ادویات اور اسکولوں کی ضرورت ہے۔ یہ مانگ اے آئی کے حصص گرنے سے نہیں رکی ہے۔ حکومت سڑکوں، ریلوے اور ہائی ویز میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔ ہندوستان میں ہر شعبے میں اے آئی کا استعمال ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ لیکن ہندوستانی کمپنیوں کی ویلیواے آئی کے حصص سے نہیں چلتی۔ یہی فرق ہے اور یہیں ہندوستان کا فائدہ ہے۔ ( بشکریہ انپٹ نیوز پورٹل ’آج تک‘)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Kf1G34a

جمعہ، 5 جون، 2026

خلائی اسٹیشن میں ہوا کے رساؤ کی مرمت، خلا بازوں کو اپنے خلائی جہازوں میں رہنے کی ہدایت

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں ہوا کے رساؤ کی مرمت کے دوران موجود خلا بازوں کو احتیاطی طور پر اپنے اپنے خلائی جہازوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ روسی خلائی حکام کا کہنا ہے کہ عملے کی سلامتی کو کوئی فوری خطرہ درپیش نہیں۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق خلائی اسٹیشن کے روسی حصے میں واقع زویزدا سروس ماڈیول کی منتقلی سرنگ، جسے پی آر کے کہا جاتا ہے، گزشتہ کئی برسوں سے دراڑوں اور ہوا کے رساؤ کے مسئلے کا سامنا کر رہی ہے۔ حال ہی میں مزید رساؤ سامنے آنے کے بعد روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس نے بڑے پیمانے پر مرمتی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

مرمت کے دوران ناسا نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے اسپیس ایکس کریو-12 مشن کے چار ارکان اور ایک دیگر امریکی خلا باز کرس ولیمز کو ڈریگن خلائی جہاز میں منتقل ہونے کی ہدایت دی تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری انخلا ممکن ہو سکے۔ بعد میں روسی ماہرین نے مرمتی کام عارضی طور پر روک کر مزید پیمائشوں اور تکنیکی اعداد و شمار کا جائزہ لینا شروع کر دیا، جس کے بعد خلا بازوں کے لیے جاری خصوصی حفاظتی ہدایات بھی ختم کر دی گئیں۔

روسی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق معائنے کے دوران دو مقامات پر ہوا کے اخراج کا پتہ چلا تھا۔ روسکوسموس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک مقام پر موجود رساؤ کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسرے مقام پر مرمت اور جانچ کا کام جاری ہے۔ ڈریگن خلائی جہاز میں منتقل ہونے والوں میں ناسا کی جیسیکا میئر اور جیک ہیتھاوے، یورپی خلائی ایجنسی کی سوفی آدینو، روسی خلا باز آندرے فیدیایف اور ناسا کے کرس ولیمز شامل تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو اس نوعیت کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ زویزدا ماڈیول سے متعلق دراڑوں اور ہوا کے رساؤ کے مسائل گزشتہ تقریباً چھ برس سے وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں اور روسی و بین الاقوامی ماہرین مسلسل ان کی نگرانی اور مرمت کرتے رہے ہیں۔

ناسا نے واضح کیا ہے کہ خلا بازوں کو خلائی جہازوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ محض اضافی احتیاط کے طور پر کیا گیا تھا اور موجودہ وقت میں عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lUTaofg

جمعرات، 4 جون، 2026

مریخ کے ماحول پر تحقیق کرنے والا ناسا کا پہلا مشن ’میون‘ ختم، خلائی جہاز سے رابطہ منقطع

لاس اینجلس: امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ کے ماحول اور اس میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے والے اپنے تاریخی مشن ’مارس ایٹموسفیئر اینڈ وولیٹائل ایوولوشن‘ یعنی ’میون‘ کے باضابطہ خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق دسمبر 2025 میں خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اس کی بحالی کی تمام کوششیں ناکام رہیں، جس کے نتیجے میں مشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ناسا کے مطابق میون خلائی جہاز کو 18 نومبر 2013 کو روانہ کیا گیا تھا اور یہ 21 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں داخل ہوا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد مریخ کے ماحول، اس کی ساخت، گیسوں کے اخراج اور سیارے پر ماضی میں پانی کی موجودگی سے متعلق اہم معلومات جمع کرنا تھا۔

ابتدائی منصوبے کے تحت اس کی مدت صرف ایک سال مقرر کی گئی تھی، تاہم خلائی جہاز نے توقعات سے کہیں زیادہ کارکردگی دکھائی اور 100 برس سے زائد عرصے تک سائنسی مشاہدات جاری رکھے۔ رپورٹ کے مطابق خلائی جہاز سے آخری مرتبہ 6 دسمبر 2025 کو رابطہ ہوا تھا۔ اس وقت یہ مریخ کے عقب سے گزر رہا تھا۔ اس مرحلے کے بعد اچانک اس کا سگنل غائب ہو گیا اور زمین پر موجود کنٹرول مراکز اس سے دوبارہ رابطہ قائم نہ کر سکے۔

صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ناسا نے فروری میں ایک تحقیقاتی بورڈ تشکیل دیا تھا۔ بورڈ کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کا تعین کرے اور یہ جانچ کرے کہ آیا خلائی جہاز کو دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

بدھ کو جاری بیان میں ناسا نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مریخ کے عقب سے گزرنے کے بعد خلائی جہاز غیر معمولی رفتار سے گھومنے لگا تھا۔ اس کے نتیجے میں اس کی سمت اور مدار متاثر ہوئے، جبکہ شمسی توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی بیٹریاں مکمل طور پر ختم ہو گئیں، جس سے مواصلاتی نظام بند ہو گیا اور زمین سے رابطہ بحال نہ ہو سکا۔

تحقیقاتی بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’میون‘ اب اپنی سائنسی ذمہ داریاں انجام دینے اور معلومات زمین تک پہنچانے کے قابل نہیں رہا، اس لیے اس کی بحالی ممکن نہیں۔ تاہم ناسا کا کہنا ہے کہ خرابی کی حتمی وجہ کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اس بارے میں مکمل رپورٹ رواں سال کے اختتام تک جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

ناسا نے مشن کو باضابطہ طور پر بند کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق مشن کے دوران حاصل ہونے والا قیمتی سائنسی مواد محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں سائنس دان اور خلائی تحقیق سے وابستہ ماہرین اس سے استفادہ کر سکیں۔

واشنگٹن میں ناسا کے شعبۂ سیاروی سائنس کی ڈائریکٹر لوئیس پروکٹر نے کہا کہ میون نے مریخ کے ماحول اور وہاں موجود تابکاری کے بارے میں انتہائی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ ان کے مطابق یہ معلومات مستقبل میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی منصوبہ بندی اور ان کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/t30L9Gd