اتوار، 31 مئی، 2026

خلائی مہم جوئی: چینی کامیابی اور امریکی آزمائش

چینی خلابازوں نے سات ماہ مدار میں گزارنے کے بعد زمین پر محفوظ واپسی کے ساتھ ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا ہے، جس دوران انہوں نے اہم سائنسی نمونے بھی اکٹھے کیے۔ دوسری طرف، جیف بیزوس کی کمپنی کا نیو گلین راکٹ فلوریڈا میں ایک تجربے کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا، جس سے لانچ پیڈ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ حادثہ نہ صرف ایمیزون کے سیٹلائٹ مشن بلکہ ناسا کے مستقبل کے چاند مشن کے لیے بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس جائزہ میں عالمی خلائی دوڑ میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور اس شعبے میں موجود تکنیکی خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

خلائی افق پر بدلتی ہوئی صورتحال

عالمی خلائی منظر نامہ ایک ایسے اہم موڑ پر نظر آتا ہے جہاں دو بڑی طاقتوں کے پروگرام متضاد سمتوں میں گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف چین نے اپنے خلائی اسٹیشن کے آپریشنل استحکام اور تسلسل کا ثبوت دیا، تو دوسری طرف امریکہ کے نجی شعبے کو، جو ناسا کے قمری منصوبوں کا ستون ہے، 'ڈیویلپمنٹل وولیٹائلٹی' یا ترقیاتی اتار چڑھاؤ کے تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ ان واقعات کا مشاہدہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہ واقعات ہمیں دکھاتے ہیں کہ جہاں ایک طاقت (چین) ریاستی سرپرستی میں منظم اور مرحلہ وار پختگی حاصل کر رہی ہے، وہاں دوسری طاقت (امریکہ) نجی شعبے کے 'ہائی رسک، ہائی ریوارڈ' ماڈل کے تحت انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے۔ چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور جنوبی قطب (ساؤتھ پول) کے سنگ میل تک پہنچنے کے لیے ان دونوں قوتوں کی حالیہ پیشرفت اور رکاوٹوں کا تقابلی جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

چین کا خلائی مشن اور سائنسی ثمرات

چینی خلائی پروگرام نے شینزو-21مشن کی کامیاب واپسی کے ذریعے اپنی آپریشنل برتری کو ثابت کیا ہے۔ یہ مشن محض ایک واپسی نہیں بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے خلائی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔ اس مشن کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:

1.    تاریخی قیام اور ریکارڈ: خلا بازوں ژانگ لو، وُو فی اور ژانگ ہونگ ژانگ نے مدار میں 7 ماہ گزار کر چینی تاریخ کا طویل ترین ’ان-آربٹ‘ قیام کا ریکارڈ قائم کیا۔

2.    لاجسٹک پیچیدگی اور تحفظ: عملے کی واپسی شینزو-22 جہاز کے ذریعے عمل میں آئی۔ یاد رہے کہ نومبر 2025 میں شینزو-22 کو بطور 'ریسکیو ویسل' لانچ کیا گیا تھا، کیونکہ شینزو-21 کا اصل جہاز اس سے قبل شینزو-20 کے عملے کو واپس لانے کے لیے استعمال ہو چکا تھا جن کے کیپسول کی کھڑکی (ویو پورٹ) میں دراڑیں پائی گئی تھیں۔

3.    سائنسی ڈیٹا اور سیمپلز: اس مشن کے ذریعے 23 مختلف تجرباتی منصوبوں سے متعلق 41.14 کلو گرام وزنی سائنسی نمونے زمین پر منتقل کیے گئے۔

ان نمونوں میں مصنوعی جنین (آرٹیفیشل ایمبریوز) اور دماغی آرگنائڈز(برین آرگنائڈز) جیسے حساس حیاتیاتی مواد کی موجودگی چین کی 'لائف سائنسز' میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تجربات طویل مدتی گہری خلائی آبادکاری (ڈیپ اسپیس کولونائزیشن) کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، 'ایکسٹرا ٹیریسٹریل فلیم سنتھیسز' کے ذریعے نینو میٹریلز کی تیاری، خلائی آگ سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی، اور طبی الٹراساؤنڈ امیجنگ جیسے شعبوں میں ہونے والی تحقیق چین کو مینوفیکچرنگ اور ایرو اسپیس ایپلی کیشنز میں عالمی سطح پر ایک منفرد مقام عطا کر رہی ہے۔ چین اب شینزو-23 کے ذریعے اسپیس اسٹیشن میں ایک سالہ قیام کا تجربہ کرنے والا ہے، جو اس کے مستقل خلائی تسلط کے عزم کا ثبوت ہے۔

نیو گلین کا حادثہ ایک بڑی رکاوٹ

چین کے منظم استحکام کے برعکس، امریکہ کے نجی خلائی شعبے کو 28 مئی کو ایک سنگین 'فلائٹ مینی فیسٹ ڈسپرشن' کا سامنا کرنا پڑا۔ بلیو اوریجن کا طاقتور 'نیو گلین' راکٹ فلوریڈا کے لانچ کمپلیکس-36 پر ایک پری لانچ "ہاٹ فائر" ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا۔

تکنیکی ناکامی اور تاریخ: نیو گلین اب تک صرف تین بار پرواز کر سکا ہے اور اس کا ریکارڈ مثالی نہیں رہا۔ اس سے قبل اپریل میں تیسری پرواز کے دوران یہ 'بلو برڈ 7' سیٹلائٹ کو درست مدار میں پہنچانے میں ناکام رہا تھا، جس کے بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے اسے گراؤنڈ کر دیا تھا۔

انفراسٹرکچر کا بحران: حالیہ دھماکے نے نہ صرف راکٹ کو تباہ کیا بلکہ لانچ کمپلیکس-36کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چونکہ یہ 'نیو گلین' کے لیے واحد دستیاب لانچ پیڈ ہے، اس لیے یہ حادثہ ایک بڑا 'انفراسٹرکچر بوٹل نیک' ثابت ہوگا۔

فوری نقصانات: اس حادثے کی وجہ سے 4 جون کو ایمیزون کے 49 براڈ بینڈ سیٹلائٹس کی روانگی کا مشن غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہو گیا ہے۔ 

'آرٹیمس' پر اثرات: یہ ناکامی ناسا کے 'آرٹیمس'پروگرام کے لیے ایک خطرناک زنجیر کا پہلا سرا ہے۔ نیو گلین راکٹ ہی 'بلیو مون' لینڈر کا کلیدی ذریعہ ہے، جس نے 2028 تک چاند کے جنوبی قطب پر بیس بنانے کے لیے دو نجی روورز وہاں پہنچانے ہیں۔ اس سال کے آخر میں بھیجے جانے والے روبوٹک پروٹو ٹائپ 'بلیو مون مارک 1' کی تاخیر اب یقینی دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ پروٹو ٹائپ اور ٹیسٹ مشنز بروقت مکمل نہ ہوئے تو امریکہ آرٹیمس-4 کے 2028 کے سنگ میل سے محروم ہو سکتا ہے، جس سے چاند کی دوڑ میں چین کو واضح سبقت حاصل ہو جائے گی۔ اس صورتحال میں ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے کہا ، "خلائی مہم جوئی میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی، اور بھاری بوجھ اٹھانے والے نئے راکٹوں کی تیاری انتہائی دشوار گزار عمل ہے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس غیر معمولی واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی مستقبل کے مشنز پر ہونے والے اثرات کا حتمی اندازہ لگایا جا سکے گا۔

انسانی عزم اور مسلسل جدوجہد

گزشتہ ہفتے کے واقعات چین کی آپریشنل پختگی اور امریکہ کی ترقیاتی مشکلات کے درمیان ایک واضح تضاد پیش کرتے ہیں۔ جہاں چین نے اپنی 'اسٹیٹ ڈریون' حکمت عملی سے استحکام حاصل کیا ہے، وہاں امریکہ کو نجی شعبے کی جدت پسندی میں چھپے خطرات کا سامنا ہے۔ تاہم، یہ دونوں واقعات انسانی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ خلائی سرحدوں کی تسخیر کبھی بھی سہل نہیں رہی۔ ناکامیاں اور تجربات ہی دراصل اس علم کی بنیاد بنتے ہیں جو انسان کو ستاروں تک لے جائے گا۔ چاند اور اس سے آگے کی منزلوں تک پہنچنے کا سفر جاری رہے گا، اور ہر چیلنج ہمیں مستقبل کی کامیابیوں کے قریب تر لے جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/pnXeO7t

جمعہ، 29 مئی، 2026

چین میں اب ہر روبوٹ کوملے گی ڈیجیٹل آئی ڈی

روبوٹکس میں سرفہرست چین نے ایک نیا اقدام کیا ہے۔ ایک منفرد شناختی نمبر عام طور پر انسانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ حکومتیں اور کمپنیاں افراد کی شناخت کی تصدیق اور ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ہندوستان کا آدھار کارڈ بھی ایسا ہی نظام ہے۔ اب چین روبوٹس کے لیے بھی ایسا ہی نظام نافذ کرنے جا رہا ہے۔ چین میں ڈیجیٹل شناختی نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت ہر اے آئی سے چلنے والے روبوٹ کو ایک منفرد کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ اس سے فیکٹری کے آغاز سے ریٹائرمنٹ تک اس کے سفر کو ٹریک کرنے میں مدد ملے گی۔

چین نے اس اقدام کے لیے ہیومنائڈ فل لائف سائیکل مینجمنٹ سروس پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت چین میں تیار ہونے والے ہر ہیومنائڈ کو 29 ہندسوں کا شناختی کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ یہ روبوٹ کو شروع سے آخر تک ٹریک کرنے کی اجازت دے گا۔ چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تیزی سے بڑھتے ہوئے روبوٹکس سیکٹر کی نگرانی کرے گا اور مشترکہ معیارات قائم کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم روبوٹ کی تیاری، فروخت، مقصد، دیکھ بھال، ری سائیکلنگ اور آخر میں ڈسپوزل سے متعلق تمام معلومات فراہم کرے گا۔

یہ نیا ضابطہ روبوٹ بنانے والی کمپنیوں، فروخت کنندگان، سروس فراہم کرنے والوں، صارفین اور ری سائیکلنگ کمپنیوں پر لاگو ہوگا۔ نئے ضوابط میں ایک سخت شق بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی روبوٹ سسٹم میں رجسٹرڈ نہیں ہے تو اسے مارکیٹ میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔

چین روبوٹکس کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہاں نہ صرف روبوٹ تیار کیے جا رہے ہیں بلکہ عوامی استعمال کے لیے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ چین میں ٹریفک کے انتظام، پروموشنز اور ڈیلیوری سمیت مختلف کاموں کے لیے روبوٹ تعینات کیے گئے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/VuwdIm8

جمعرات، 21 مئی، 2026

خلائی اسٹیشن میں مرچ کی کاشت، ناسا مستقبل کے طویل خلائی مشنوں کی تیاری میں مصروف

امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں باغبانی کے اپنے اہم تجربات کی نئی تصاویر جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پودوں کی کاشت صرف زمین تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب خلائی ماحول میں بھی سبزیاں اور پودے اگانے کی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد مستقبل کے طویل خلائی سفر، خاص طور پر چاند اور مریخ کے ممکنہ مشنوں کے لیے بہتر تیاری کرنا ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری تصاویر میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلانورد تھامس مارش برن کو خلائی اسٹیشن کے جدید پودا افزائش نظام میں اگنے والی مرچوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تجربہ ایسے سائنسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت خلائی ماحول میں خوراک پیدا کرنے کے امکانات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

ایک اور تصویر میں خلائی اسٹیشن کے اندر سرخ اور گلابی روشنی میں اگنے والی مرچیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پودوں کی نشوونما کے لیے خاص روشنی کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے پورا حصہ سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔

ناسا نے خلائی اسٹیشن میں ’ویجی‘ نامی ایک چھوٹا خلائی باغ بھی تیار کیا ہے۔ یہ ایک مختصر مگر جدید نظام ہے، جس میں ایک وقت میں چھ پودے اگائے جا سکتے ہیں۔ خلا میں پودے اگانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ خرد کشش ثقل کے ماحول میں پانی عام طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پانی چھوٹے بلبلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے خصوصی مٹی نما نظام استعمال کیا جاتا ہے، جہاں پانی، ہوا اور غذائی اجزا کا متوازن انتظام موجود ہوتا ہے۔

اس خلائی باغ میں اب تک سلاد کے مختلف پتے، چینی بند گوبھی، سرسوں، سرخ پتوں والی سبزیاں اور پھول بھی کامیابی سے اگائے جا چکے ہیں۔ کچھ سبزیوں کو خلاباز کھا چکے ہیں، جبکہ کچھ نمونے زمین پر تحقیق کے لیے بھیجے گئے۔

ماہرین کے مطابق خلا میں پودے صرف خوراک کا ذریعہ نہیں، بلکہ خلابازوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ تازہ خوراک، ہریالی اور فطرت سے وابستگی کا احساس طویل خلائی مشنوں کے دوران ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ناسا ایک جدید پودا افزائش نظام پر بھی کام کر رہا ہے، جس میں سیکڑوں حساس آلات لگائے گئے ہیں۔ یہ نظام زمین پر موجود سائنس دانوں کو مسلسل معلومات فراہم کرتا رہتا ہے۔ مستقبل میں مرچ کے علاوہ ٹماٹر، بیری اور دیگر فصلوں کی خلائی کاشت بھی ناسا کے منصوبوں میں شامل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OQmMF1J

جمعہ، 15 مئی، 2026

آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کیسے ممکن؟ والدین کے لیے 5 مؤثر مشورے

ڈیجیٹل دور میں بچوں کی زندگی کا بڑا حصہ اب انٹرنیٹ سے جڑ چکا ہے۔ تعلیم، کھیل، ویڈیوز، دوستوں سے رابطہ اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے بچے روزانہ گھنٹوں آن لائن وقت گزارتے ہیں۔ اگرچہ انٹرنیٹ علم اور تفریح کا ایک مفید ذریعہ ہے لیکن اس کے ساتھ سائبر بُلنگ، غلط معلومات، نامناسب مواد اور پرائیویسی سے جڑے کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ بچوں کو ایک محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے والدین کے لیے چند اہم مشورے دیے ہیں، جن پر عمل کر کے بچوں کو آن لائن دنیا کے خطرات سے بچایا جا سکتا ہے اور انہیں متوازن ڈیجیٹل زندگی گزارنے میں مدد دی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سب سے ضروری بات بچوں کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا ہے۔ والدین کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بچے آن لائن کس سے بات کرتے ہیں، کون سی ویب سائٹس یا ایپس استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کیا شیئر کرتے ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی تصویر، ویڈیو یا تبصرہ ایک مستقل “ڈیجیٹل نشان” چھوڑ دیتا ہے، جو بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے بچوں کو ذمہ داری کے ساتھ آن لائن برتاؤ کی تعلیم دینا بہت اہم ہے۔

یونیسیف کے مطابق والدین کو گھر میں گیجٹس کے استعمال کے واضح اصول بنانے چاہئیں۔ بچوں کے سونے، پڑھنے اور کھیلنے کے اوقات متاثر نہ ہوں، اس کا خاص خیال رکھا جائے۔ اگر بچے کو آن لائن کسی بات سے خوف، دباؤ یا بے چینی محسوس ہو تو اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ بلا جھجھک والدین سے بات کر سکتا ہے۔

ماہرین نے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ بچوں کے فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنا ضروری ہے تاکہ سکیورٹی خامیوں سے بچا جا سکے۔ پرائیویسی سیٹنگز فعال رکھنا، ویب کیم کو ضرورت نہ ہونے پر بند یا ڈھانپ دینا اور کم عمر بچوں کے لیے پیرنٹل کنٹرول کا استعمال مفید مانا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہیے کہ وہ اپنا نام، پتہ، اسکول یا ذاتی تصاویر کسی اجنبی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین اگر بچوں کے ساتھ آن لائن وقت گزاریں تو وہ ان کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ساتھ ویڈیوز دیکھنا، کھیل کھیلنا یا تعلیمی مواد تلاش کرنا نہ صرف رشتہ مضبوط بناتا ہے بلکہ بچوں کو غلط معلومات اور نقصان دہ مواد سے دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ اشتہارات، جعلی خبروں اور منفی پیغامات کو کیسے پہچانا جائے۔ عمر کے مطابق مناسب ایپس اور کھیلوں کا انتخاب بھی والدین کی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ بچے غیر مناسب مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

یونیسیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کے بڑے خود موبائل یا سوشل میڈیا کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال کریں گے تو بچے بھی وہی عادت اپنائیں گے۔ بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرتے وقت احتیاط کرنا اور آن لائن گفتگو میں شائستگی اختیار کرنا بھی مثبت مثال قائم کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ بچوں کو ایسے پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی ترغیب دینی چاہیے جہاں وہ نئی مہارتیں سیکھ سکیں، اپنی دلچسپیوں کو آگے بڑھا سکیں اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ تاہم اس کے ساتھ جسمانی کھیل، خاندانی وقت اور آف لائن سرگرمیوں کا توازن برقرار رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

یونیسیف نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسکولوں کی ڈیجیٹل پالیسیوں اور مقامی ہیلپ لائنز کے بارے میں بھی معلومات رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yobzwXl

اتوار، 3 مئی، 2026

ڈیجیٹل دنیا: خواتین کی سیلف سنسرشپ

مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے جدید دور میں خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف آن لائن تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس نے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے ڈیپ فیکس اور نجی تصاویر کے غیر قانونی پھیلاؤ کو آسان بنا دیا ہے، جس کا مقصد خواتین کی آواز کو دبانا اور ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

اس ہراساں کیے جانے کے عمل سے خواتین میں ذہنی امراض، جیسے کہ ڈپریشن اور بے چینی کی شرح بڑھی ہے اور بہت سی خواتین خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خود ساختہ سنسرشپ یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ موجودہ قانونی تحفظ ناکافی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو کام کی جگہوں اور سوشل میڈیا پر شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ نہ صرف انفرادی زندگیوں بلکہ جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم

ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب، جو ہماری آواز بننا تھا، اب ہماری شناخت مٹانے کا آلہ بن چکا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں خواتین، بالخصوص صحافی اور انسانی حقوق کی علمبردار، ایک ایسی جنگ کا سامنا کر رہی ہیں جہاں ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہیں۔ ڈیجیٹل خاموشی (ڈیجیٹل سائلنسنگ) کے عنوان سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ ایک بھیانک تصویر پیش کرتی ہے: ٹیکنالوجی اب صرف ترقی کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ اسے منظم طریقے سے "ڈیجیٹل استبداد"کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ آدھی آبادی کو عوامی منظر نامے سے غائب کر دیا جائے۔

بدسلوکی کا نیا خطرناک ہتھیار

مصنوعی ذہانت نے آن لائن تشدد کو نہ صرف پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اسے ایک خطرناک وسعت دے دی ہے۔ اب بدسلوکی صرف ٹرولنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اے آئی کی مدد سے کسی کی ساکھ منٹوں میں راکھ کی جا سکتی ہے۔ سال 2025کے ایک عالمی سروے کے مطابق : 12 فیصد خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو ان کی ذاتی تصاویر کی غیر رضامندی کے ساتھ تشہیرکا سامنا کرنا پڑا۔ 6 فیصد خواتین "ڈیپ فیکس"کا شکار ہوئیں، جہاں اے آئی کے ذریعے ان کی ایسی جعلی تصاویر یا ویڈیوز بنائی گئیں جو دیکھنے میں بالکل حقیقی لگتی ہیں۔ اور ہر تین میں سے ایک خاتون کو انٹرنیٹ پر بن مانگی پیش قدمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو پلیٹ فارمز کی نظامیاتی ناکامی کا ثبوت ہے۔

اعداد و شمار میں دگنا اضافہ

یہ کوئی وقتی لہر نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا بحران ہے۔ سال 2020 کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن تشدد کی رپورٹنگ میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی کالیوپی منگیرو اس صورتحال کو جمہوری پسپائی سے جوڑتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’’مصنوعی ذہانت بدسلوکی کو آسان اور زیادہ نقصان دہ بنا رہی ہے۔ یہ جمہوری پسپائی اور منظم صنفی عداوت (نیٹ ورکڈ مِسوجنی)کے تناظر میں ان حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہے جو ہم نے دہائیوں کی محنت سے حاصل کیے تھے۔‘‘

خود ساختہ سنسرشپ

جب ڈیجیٹل فضا زہریلی ہو جاتی ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان "خاموشی" کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ صحافت کے بنیادی جوہر پر حملہ ہے۔ تقریباً 45 فیصد خواتین صحافیوں نے بدسلوکی کے خوف سے سوشل میڈیا پر خود ساختہ (سیلف) سنسرشپ اختیار کر لی ہے، جو کہ سال 2020 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 22 فیصد خواتین صحافی اب اپنے پیشہ ورانہ کام اور تحقیقاتی رپورٹنگ میں بھی سنسرشپ کا شکار ہو رہی ہیں۔ جب ایک صحافی کسی طاقتور گروہ کے خلاف لکھنے سے اس لیے رک جاتی ہے کہ اسے آن لائن وحشیانہ مہم کا ڈر ہے، تو یہ صرف اس کی خاموشی نہیں بلکہ جمہوریت کی موت ہے۔

ذہنی صحت پر گہرے اثرات

آن لائن تشدد کے زخم جسمانی نہیں ہوتے، مگر ان کی اذیت زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 24.7فیصد خواتین صحافی انزائٹی یا ڈپریشن کا شکار ہیں، جبکہ 13 فیصد میں پی ٹی ایس ڈی(پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس انسانی المیے کو ان دو الگ الگ کہانیوں سے سمجھا جا سکتا ہے: ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک ماحولیاتی صحافی بتاتی ہیں کہ ’’جب دائیں بازو کے گروہ مجھے آن لائن 'غدار' قرار دیتے ہیں اور واٹس ایپ پر جھوٹے الزامات پھیلائے جاتے ہیں، تو اپنے ہی ملک میں رہنا خوفناک ہو جاتا ہے۔ ہم نے تحقیقاتی رپورٹنگ سے ہاتھ کھینچ لیا ہے کیونکہ یہ گروہ اب میرے رشتہ داروں کو ہراساں کرتے ہیں۔‘‘

اسی طرح ایک اور صحافی اور کمیونٹی آرگنائزر نے اپنی ملازمت چھوڑنے کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ "آن لائن دباؤ اس قدر ناقابلِ برداشت تھا کہ میں نے دسمبر 2023 میں استعفیٰ دے دیا۔ اب میں گھر پر ہوں اور صرف اپنی ذہنی صحت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں اب صرف چاول کی کانجی پر گزارہ کر رہی ہوں کیونکہ کام سے نکالے جانے کے بعد میرے پاس کوئی مالی سہارا نہیں بچا۔"

قانونی خلا اور بگ ٹیک کی ذمہ داری

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بحران قوانین کی کمی سے زیادہ ’نظامیاتی ناکامی‘ کا نتیجہ ہے۔ ورلڈ بینک کے ڈیٹا کے مطابق، دنیا کے 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں سائبر ہراسانی کے خلاف موثر قوانین موجود ہیں۔ اگرچہ پولیس رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے11فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد اور قانونی کارروائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچی ہے، لیکن اصل مسئلہ ’سہولت کاروں‘ کا ہے۔ گوگل، میٹا اور ایکس (ٹویٹر) جیسے پلیٹ فارمز اس تشدد کو روکنے کے بجائے اسے ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ جب تک ٹیکنالوجی کمپنیاں جوابدہ نہیں ہوں گی، صرف قوانین کافی نہیں ہوں گے۔

’ڈیجیٹل سائلنسنگ‘ یا خاموش کر دینے کا یہ عمل دراصل ہماری آنے والی نسلوں کی آواز چھیننے کی کوشش ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو انسانی حقوق کی پامالی کے لیے ڈھال بنایا جاتا رہا، تو وہ وقت دور نہیں جب ڈیجیٹل دنیا صرف ایک مخصوص گروہ کی جاگیر بن کر رہ جائے گی۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم واقعی ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں جہاں آدھی آبادی کی آواز کو دبانے کے لیے ٹیکنالوجی کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہو؟ اس کا جواب ہماری خاموشی میں نہیں بلکہ مزاحمت اور مطالبہ انصاف میں چھپا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Yjpfenz