بدھ، 5 اگست، 2026

اسپیس ایکس راکٹ چاند سے ٹکرا گیا، خلائی ملبے کے بارے میں بڑھتے خدشات

اسپیس ایکس راکٹ کا ایک بھٹکا ہوا  ٹکڑا آخر کار چاند سے ٹکرا گیا۔ یہ اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کا حصہ تھا۔ سائنس دانوں نے اطلاع دی ہے کہ پچھلے ایک سال سے دور بھٹکے جانے کے بعد، یہ بدھ کے روز پیش گوئی کے مطابق چاند سے ٹکرا گیا۔

یہ ٹکڑا سکول بس کے سائز کا تھا اور اس کا وزن چار میٹرک ٹن (4,000 کلوگرام) تھا۔ اگرچہ یہ اثر، جو 5,400 میل فی گھنٹہ (8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے ہوا، ابھی تک باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے، لیکن خلائی ٹریکنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ راکٹ کا باقی ماندہ حصہ چاند سے ٹکرانا یقینی تھا۔ یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ اس اثر سے چاند کی دھول کے بادل اٹھ گئے ہوں گے۔ یہ دھول شاید سورج کی روشنی میں چمکتی ہو، لیکن زمین سے اسے کھلی آنکھوں سے دیکھنا مشکل تھا۔

یہ چاند پر ملبے کے جمع ہونے کا تازہ ترین معاملہ ہے۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ چاند پر خلاباز بھیجنے کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ اس مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ 2022 میں، ایک چینی راکٹ چاند کے مشن کے بعد نادانستہ طور پر چاند سے ٹکرا گیا، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی اور راکٹ کے ٹکڑے چاند پر گر چکے ہوں گے جن کا پچھلی چند دہائیوں میں پتہ نہیں چل سکا ہے۔

اسپیس ایکس کی جولیانا شائمن نے کہا کہ کمپنی مستقبل میں ایسے حادثات کو روکنے کے لیے ناسا کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصادم جان بوجھ کر نہیں ہوا۔ اس نے وضاحت کی کہ شمسی سرگرمی اور کشش ثقل کے امتزاج نے نادانستہ طور پر خلائی جہاز کو چاند کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈال دیا۔ متوقع اثر کی جگہ چاند کی مغربی جانب آئن سٹائن کریٹر کے قریب تھی (جو سورج کی روشنی میں رہتی ہے)۔ یہ چاند کے اگلے اور پچھلے اطراف کے کنارے کے قریب ہے، جنہیں زمین سے دیکھنا بہت مشکل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4qbU6Pv

منگل، 4 اگست، 2026

اسپیس ایکس کے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی، زمین کو کوئی خطرہ نہیں: ناسا

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ایک ناکارہ حصے کے بدھ کو چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم اس واقعے سے زمین کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ غیر معمولی واقعہ چاند کی سطح، اس کی ساخت اور خلائی تصادم کے اثرات کے بارے میں اہم سائنسی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز کے مطابق فالکن 9 راکٹ کا تقریباً پانچ ٹن وزنی بالائی حصہ (اپر اسٹیج) تقریباً 2.43 کلومیٹر فی سیکنڈ (تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ چاند کے مغربی حصے میں واقع آئن اسٹائن کریٹر کے قریب ٹکرائے گا۔

ناسا کے ترجمان جمی رسل نے کہا کہ اس واقعے سے زمین کے لیے کسی خطرے کا اندیشہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ادارہ اس راکٹ کے حصے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تصادم کے بعد بننے والے نئے گڑھے اور اس کے اثرات کا سائنسی مطالعہ کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ راکٹ کا وہی حصہ ہے جس نے جنوری 2025 میں اسپیس ایکس کے فالکن 9 مشن کے ذریعے فائر فلائی ایرو اسپیس کے بلیو گھوسٹ 1 اور جاپانی کمپنی آئی اسپیس کے ریزیلینس قمری لینڈرز کو خلا میں پہنچایا تھا۔ مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کے اس حصے کو ایسی مدار میں چھوڑ دیا گیا تھا جو بعد میں چاند کے ساتھ تصادم کے راستے میں آ گئی۔

لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے محقق اور اس تحقیق کے سربراہ بنجامن فرنانڈو کے مطابق تصادم کے نتیجے میں راکٹ کا حصہ مکمل طور پر تبخیر ہو جائے گا، جبکہ چاند کی سطح پر روشنی کی مختصر چمک، گرد و غبار کا بادل اور ایک نیا گڑھا بننے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر چاند سے ٹکرانے والے شہابی پتھروں کی رفتار اور کمیت کے بارے میں پہلے سے درست معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، لیکن اس راکٹ کے بارے میں یہ تمام معلومات معلوم ہیں، اس لیے یہ واقعہ قدرتی تصادم کے مطالعے کے لیے ایک مثالی موقع فراہم کرے گا۔ سائنس دان تصادم سے اٹھنے والے گرد و غبار کا تجزیہ کر کے چاند کی سطح کی معدنی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ناسا آئندہ برسوں میں آرٹیمس پروگرام کے تحت دوبارہ خلا نوردوں کو چاند پر بھیجنے اور وہاں طویل مدتی انسانی موجودگی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کے تصادم کا مطالعہ مستقبل کے قمری مشنز، رہائشی ڈھانچوں اور مدار میں موجود خلائی جہازوں کو لاحق ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

سائنس دانوں کے مطابق اس تصادم سے پیدا ہونے والی روشنی اتنی مدھم ہوگی کہ اسے برہنہ آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا، تاہم طاقتور دوربینوں کے ذریعے اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ محققین نے دنیا بھر کے شوقیہ فلکیات دانوں سے بھی اس نادر واقعے کا مشاہدہ کرنے اور اپنی اطلاعات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/783ypuB