اتوار، 20 ستمبر، 2026

مدار میں امریکی ہتھیار: ایک نئے اور پیچیدہ باب کا آغاز

امریکی محکمہ دفاع نے پہلی بار زمین کے مدار میں خلائی ہتھیاروں کی موجودگی کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر براہ راست حملے کرنے کے بجائے الیکٹرانک جنگ اور دشمن کے مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اگرچہ عالمی معاہدے خلا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی لگاتے ہیں، لیکن روایتی دفاعی آلات کے حوالے سے وہاں اب بھی گنجائش موجود ہے۔ امریکہ کے اس اعلان کے بعد چین اور روس جیسے حریف ممالک کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ اور کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خلا کو جنگی میدان قرار دینے سے دنیا بھر کی شہری اور فوجی مواصلات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال خلا میں موجود نازک ڈھانچے کی حفاظت اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے ایک نئے اور پیچیدہ باب کا آغاز ہے۔

زمین کے گرد جنگ کا میدان

ہماری جدید زندگی کی بنیاد ان خاموش مشینوں پر ہے جو زمین سے سینکڑوں میل اوپر خلا میں گردش کر رہی ہیں۔ چاہے وہ جی پی ایس کے ذریعے راستہ تلاش کرنا ہو، بینکنگ ٹرانزیکشنز ہوں یا انٹرنیٹ کی تیز رفتار فراہمی—ہماری ہر سرگرمی ان سیٹلائٹس کی مرہونِ منت ہے۔ لیکن کیا ہوگا اگر یہ پرامن علاقہ ایک متحرک میدانِ جنگ میں تبدیل ہو جائے؟ 14 ستمبر کو امریکی فضائیہ کے سکریٹری ٹرائے مینیک کی جانب سے کیا گیا اعلان عالمی سلامتی کے افق پر تشویش کے بادل لے آیا ہے۔ امریکہ نے پہلی بار باقاعدہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے مدار میں "اسپیس کنٹرول ویپنز" یا خلائی تسلط کے ہتھیار تعینات کر دیے ہیں۔ یہ انکشاف خلا کی تاریخ میں ایک سنگین موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو اس پرامن سرحد کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

امریکی موقف: صلاحیتوں سے ہتھیاروں تک

سفارتی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) دنیا میں الفاظ کا چناؤ محض اتفاق نہیں ہوتا۔ اس سے قبل امریکی حکام ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہوئے خلا میں موجود اپنے دفاعی آلات کو "صلاحیتوں کے حامل سسٹم" قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم، ٹرائے مینیک نے اس بار تمام ابہام ختم کرتے ہوئے واضح طور پر "ہتھیار" کا لفظ استعمال کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ شفافیت کی جانب ایک ایسی بڑی تبدیلی ہے جس کا مقصد روس اور چین کو واضح پیغام دینا ہے۔ جبکہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان ہتھیاروں کی تعیناتی کا مقصد کسی جارحیت کا آغاز نہیں بلکہ اپنی مشترکہ افواج (جوائنٹ فورس) کا دفاع کرنا ہے۔

سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن (ایس ڈبلیو ایف) کی ڈائریکٹر وکٹوریہ سیمسن نے اس بیان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’یہ پہلی بار ہے کہ کسی سرکاری اہلکار نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ خلا میں باقاعدہ طور پر ڈیزائن کردہ ہتھیار رکھے گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ہمیشہ 'صلاحیتوں والے نظام' کہا جاتا رہا ہے۔‘‘

الیکٹرانک ہتھیاروں کے ذریعے خاموش جنگ

جب ہم 'خلائی ہتھیاروں' کا نام سنتے ہیں، تو ذہن میں سائنس فکشن فلموں کی طرح سیٹلائٹس کے درمیان تصادم یا دھماکوں کا منظر ابھرتا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خاموش ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہتھیار ’کائنیٹک‘ یا تصادمی (یعنی طبعی قوت سے تباہ کرنے والے) ہونے کے بجائے ’الیکٹرانک وارفیئر‘ پر مبنی جیمرز ہو سکتے ہیں۔

ڈرہم یونیورسٹی کے پروفیسر بلیڈن بوون کے مطابق، خلا میں میزائلوں کے بجائے ریڈیو جیمنگ یا سگنلز کو مفلوج کرنے والے ہتھیاروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تصادمی ہتھیاروں سے پیدا ہونے والا ملبہ (ڈیبری) خلا میں گولی کی رفتار سے گھومنے لگتا ہے، جو خود حملہ آور ملک کے اپنے سیٹلائٹس کے لیے بھی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی پوشیدہ جنگ ہے جہاں دشمن کا مواصلاتی نظام خاموشی سے مفلوج کر دیا جاتا ہے، بغیر کسی ظاہری دھماکے کے۔

بیرونی خلا معاہدے میں قانونی خامیاں

خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے لیے 1967 میں "آؤٹر اسپیس ٹریٹی"نافذ کی گئی تھی۔ یہ معاہدہ خلا میں ایٹمی ہتھیار یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(ڈبلیو ایم ڈی) رکھنے پر تو پابندی لگاتا ہے، لیکن اس میں ایک بڑا قانونی سقم (لوپ ہول) موجود ہے۔ یہ معاہدہ روایتی ہتھیاروں، جیمرز یا زمین سے فضا میں مار کرنے والے اینٹی سیٹلائٹ نظاموں کے بارے میں خاموش ہے۔ یہی وہ گنجائش ہے جس نے بڑی طاقتوں کو اس قانونی خلا کا فائدہ اٹھانے اور مدار کو مسلح کرنے کا موقع دیا ہے۔

ایک نئی عالمی دوڑ کا آغاز

خلا کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے کی اس دوڑ میں امریکہ تنہا نہیں ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) اور سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے دیگر ممالک بھی اپنی خلائی جارحیت اور دفاع کی صلاحیتیں تیزی سے بڑھا رہے ہیں:

• چین اور روس: دونوں ممالک کے پاس زمین سے فضا میں مار کرنے والے (ڈاریکٹ ایسنٹ) اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار موجود ہیں۔ چین نے ایک "اسپیس ٹگ" کا مظاہرہ بھی کیا ہے جو کسی سیٹلائٹ کو پکڑ کر اس کا مدار بدل سکتا ہے (اگرچہ چین نے یہ تجربہ صرف اپنے ہی ایک پرانے سیٹلائٹ پر کیا تھا)۔

• ہندوستان بھی اینٹی سیٹلائٹ صلاحیت کا مظاہرہ کر کے اس کلب میں شامل ہو چکا ہے۔

• دیگر ممالک: فرانس، برطانیہ، اسرائیل، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک بھی الیکٹرانک وارفیئر، سگنل جیمنگ اور خلائی جاسوسی کے نظاموں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔

انسانیت کے لیے سنگین نتائج

خلا میں بڑھتی ہوئی یہ عسکری سرگرمیاں کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہیں۔ وکٹوریہ سیمسن کے مطابق، خلا کو مسلح کرنے کا فیصلہ خود اس کے بانیوں کے لیے الٹا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "خلا کو مسلح کرنے کا دروازہ کھول کر امریکہ سب سے زیادہ کھوئے گا۔ اس سیارے پر موجود ہر شخص کسی نہ کسی طرح خلا پر مبنی ڈیٹا اور خدمات استعمال کرتا ہے۔ خلا تک رسائی یا اس کے استعمال میں کوئی بھی مداخلت ہر کسی کو متاثر کرے گی۔"

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو ممالک ٹیکنالوجی میں جتنے زیادہ ایڈوانس ہیں، خلا میں کسی بھی تنازع کی صورت میں ان کا معاشی اور دفاعی ڈھانچہ اتنا ہی زیادہ کمزور اور غیر محفوظ ہو جائے گا۔

امریکی اعتراف نے اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی ہے کہ خلا اب محض سائنسی تحقیق کی جولان گاہ نہیں بلکہ ایک 'وار فائٹنگ ڈومین' بن چکا ہے۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ خلا کی سپر پاورز، جو اس ٹیکنالوجی پر سب سے زیادہ انحصار کرتی ہیں، وہی اس عدم استحکام سے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ لہٰذا، عالمی طاقتوں کو کسی نئے جامع معاہدے کے ذریعے خلا کو تباہی سے بچانے کے لیے اکٹھا ہونا پڑے گا، یا پھر وہ زمین کے بعد اب خلا میں بھی ایک ایسی جنگ کا آغاز کر دیں گے جس میں فاتح کوئی نہیں ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ybkKFpI

پیر، 14 ستمبر، 2026

اے آئی کی بڑھتی طاقت سے انسانیت کے مستقبل کو خطرہ؟ ٹیک مارکیٹ میں بھونچال، امریکہ اور چین آمنے سامنے

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی، اس کے ممکنہ خطرات اور اس ٹیکنالوجی میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی مسابقت نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اے آئی کے شعبے سے وابستہ اہم شخصیات کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کم کرنے اور زیادہ حفاظتی اقدامات کی اپیل کے بعد پیر کو دنیا کے کئی بازاروں میں ٹیک کمپنیوں کے حصص میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔

جنوبی کوریا میں چِپ ساز کمپنی ایس کے ہائنکس کے حصص 6.4 فیصد جبکہ سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص 4.1 فیصد گر گئے۔ اوپن اے آئی میں بڑا سرمایہ کاری رکھنے والی جاپانی کمپنی سافٹ بینک کے حصص میں 10 فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی۔

یورپی بازاروں میں بھی یہی رجحان نظر آیا۔ جرمنی کی سیمی کنڈکٹر کمپنی انفینین کے حصص 7.6 فیصد جبکہ نیدرلینڈز کی چِپ ساز کمپنی اے ایس ایم ایل کے حصص 5.2 فیصد گر گئے۔ امریکہ میں ہیولٹ پیکارڈ کے حصص میں 10 فیصد، انٹیل اور سانڈسک میں 7 فیصد، کوالکوم اور مائیکرون میں 6 فیصد جبکہ اوریکل میں 5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اے آئی چِپ بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے حصص بھی 3 فیصد نیچے آئے۔ ٹیک کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 1.2 فیصد تک گر گیا۔

سرمایہ کاری کے ادارے اے جے بیل کے سرمایہ کاری ڈائریکٹر رس ماؤلڈ کے مطابق اے آئی سے متعلق حصص گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل بڑھ رہے تھے، تاہم اب سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات اور کنٹرول درکار ہیں۔ بعض سرمایہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اے آئی کمپنیوں کی قدر و قیمت حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جس سے 1990 کی دہائی کے آخر کے ڈاٹ کام دور جیسی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اوپن اے آئی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین بھی اے آئی کی ترقی میں احتیاط پر زور دینے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اے آئی سیفٹی کمپنی اینتھروپک کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے ایسے آزاد جائزہ کار مقرر کریں گے جنہیں کمپنی کے ملازمین جیسی رسائی حاصل ہوگی۔ آلٹمین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ انسانیت اے آئی کے ہاتھوں اپنے مستقبل پر کنٹرول کھو سکتی ہے یا طاقت کسی ایک مقام پر حد سے زیادہ مرتکز ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اے آئی پر جاری بحث کے دوران چین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اس ٹیکنالوجی کی ترقی میں چین سے آگے رہنا چاہیے۔ انہوں نے اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے خلاف مبینہ ’’سازش‘‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس صورت حال سے خوش ہونے والا واحد ملک چین ہے۔

چین نے اے آئی گورننس سے متعلق خدشات اور سخت مسابقت کے بیانیے پر تنقید کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وو تاؤ نے کہا کہ خطرات، تصادم اور بدنیتی پر مبنی مسابقت کی باتیں عالمی اے آئی گورننس کے عمل میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور کسی کے مفاد میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو اے آئی کی ترقی کے لیے کھلے، جامع، سب کے لیے فائدہ مند اور انسانی فلاح پر مبنی تعاون کرنا چاہیے۔ چین کے اس ردعمل نے واضح کر دیا ہے کہ اے آئی کے مستقبل، اس کی رفتار اور اس کے انتظام کے معاملے میں دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات بدستور گہرے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/iceKxkf

اتوار، 13 ستمبر، 2026

موسمیاتی بحران، عالمی معاشی سلامتی کے لیے خطرہ...مدیحہ فصیح

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو محض ایک سیاسی تنازع سمجھنا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے کیونکہ یہ اب ایک شدید عالمی معاشی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ رپورٹوں سے انکشاف ہوا ہے کہ زمین نے اپنی تاریخ کا گرم ترین اگست کا مہینہ ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں فصلوں کی بربادی، پانی کی قلت اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کی وجہ سے یورپی معیشت کو اربوں یورو کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ایل نینو جیسے موسمی مظاہر نے عالمی سطح پر درجہ حرارت میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے، جو نہ صرف خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے بلکہ سائنسدانوں کے مطابق یہ سلسلہ مستقبل قریب میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ مہنگائی اور معاشی عدم استحکام سے بچنے کے لیے صاف توانائی کی طرف منتقلی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ممالک ماضی کے وعدوں پر بحث کرنے کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دیں تاکہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے تباہ کن اثرات کو روکا جا سکے۔

ماحولیاتی تبدیلی: ایک عالمی معاشی ایمرجنسی

دنیا نے حال ہی میں تاریخ کا گرم ترین مہینہ 'اگست' ریکارڈ کیا ہے، جہاں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.65 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ یہ محض ایک موسمیاتی اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک ایسی تلخ معاشی حقیقت ہے جو براہِ راست آپ کی جیب پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ زمین کی بڑھتی ہوئی تپش اب صرف گلیشیئرز پگھلنے کا نام نہیں، بلکہ یہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، غذائی قلت اور معاشی عدم استحکام کا پیش خیمہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، ماحولیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی ادارے(یو این ایف سی سی سی)کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن اسٹیل نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو محض ایک 'ثقافتی جنگ'یا سیاسی نظریاتی بحث سمجھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، یہ اب ایک "براعظمی معاشی سلامتی کی ہنگامی صورتحال" بن چکی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، صرف اس موسمِ گرما کی شدید لہروں اور اس سے وابستہ آفات نے یورپ کو مجموعی طور پر 180 ارب یورو کا معاشی نقصان پہنچایا ہے، جو خطے کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے پورے ایک فیصد کے برابر ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے؛ جب شدید گرمی سے بجلی کے گھر بند ہوتے ہیں، فصلیں جل جاتی ہیں اور تجارتی راستے خشک ہو جاتے ہیں، تو اس کا نقصان کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ پوری معیشت کو ہوتا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کو 'سیاسی رنگ' دینا دراصل ان مخصوص مفادات کو تحفظ دینے کی ایک تزویراتی کوشش ہے جو بنیادی ڈھانچے اور زراعت کی تباہی سے نظریں چرانا چاہتے ہیں۔

کلائمیٹ ایکشن پر نرمی کی بھاری قیمت

جیواشم ایندھن (فوسل فیولز) پر مسلسل انحصار نہ صرف کرہِ ارض کو گرم کر رہا ہے بلکہ یہ افراطِ زر اور مہنگائی کے عالمی بحران کا سب سے بڑا محرک بھی ہے۔ سائمن اسٹیل نے اس معاشی حقیقت کو ایک طاقتور پیرائے میں بیان کیا ہے، ان کے مطابق، "ماحولیاتی اقدامات پر نرمی برتنے کا مطلب ہے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے بوجھ سے چشم پوشی کرنا، اپنی خودمختاری اور سلامتی پر سمجھوتہ کرنا، اور معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع کو داؤ پر لگانا۔"

ماہرین کا ماننا ہے کہ قومی سلامتی اور خودمختاری کا کلائمیٹ ایکشن سے گہرا تعلق ہے۔ مقامی سطح پر صاف توانائی کے ذرائع اپنا کر ممالک عالمی ایندھن کی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ اور بیرونی گیس و تیل کی درآمدات پر اپنا انحصار کم کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف قومی سلامتی مضبوط ہوتی ہے بلکہ عام شہری کا بجٹ بھی محفوظ رہتا ہے۔

صاف توانائی میں سرمایہ کاری

ایک اہم عالمی تبدیلی یہ آئی ہے کہ دنیا اب 'صاف توانائی' (کلین انرجی) کی طرف تیزی سے مڑ رہی ہے۔ گزشتہ برس اس شعبے میں سرمایہ کاری 2 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو کہ جیواشم ایندھن پر کی جانے والی سرمایہ کاری سے دوگنا ہے۔ یہ تبدیلی محض ماحول دوستی نہیں بلکہ ایک ٹھوس معاشی حکمتِ عملی ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال مغربی ایشیا کے حالیہ تنازعات کے دوران سامنے آئی، جہاں تنازع کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہی یورپ نے صرف شمسی توانائی کے استعمال کی بدولت گیس کی درآمدات کی مد میں 30 ارب یورو کی خطیر رقم بچائی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ صاف توانائی کی طرف منتقلی معاشی خود کفالت کا تیز ترین راستہ ہے۔

درجہ حرارت کی خطرناک سمت

سال 2015کے پیرس معاہدے میں درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے کا عہد کیا گیا تھا، لیکن موجودہ عالمی پالیسیاں ہمیں 2.6 ڈگری سیلسیس کی خطرناک سمت میں لے جا رہی ہیں۔ اگر بین الاقوامی تعاون کا فقدان رہا، تو یہ تپش 4 ڈگری سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جو کہ انسانی زندگی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔اس کے جسمانی اور معاشی اثرات پہلے ہی واضح ہیں: ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئرز پگھلنے سے تباہ کن سیلاب آ رہے ہیں۔ شمالی افریقہ میں پانی کی شدید قلت اور بجلی کی بندش سے لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔اور یورپ کے اہم تجارتی دریا، جیسے رائن اور ڈینیوب، اس قدر خشک ہو رہے ہیں کہ مال بردار جہازوں کی آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

ایل نینو کے اثرات اور مستقبل

طویل مدتی ماحولیاتی بگاڑ کے ساتھ ساتھ 'ایل نینو'جیسے مختصر مدتی عوامل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او)کے مطابق، 2026 میں درجہ حرارت کے تمام ریکارڈ ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ یہی موسمیاتی رجحان ہے۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ بارشوں اور درجہ حرارت کے پیٹرن میں آنے والی یہ تبدیلیاں 2027 تک برقرار رہیں گی۔ مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر سمندروں کے درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ،اوسط سے زیادہ سمندری طوفانوں کی سرگرمی (صرف حالیہ دور میں 19 طوفان ریکارڈ کیے گئے) اور انڈونیشیا اور دیگر علاقوں میں خشک سالی کے باعث جنگلات کی آگ (وائلڈ فائر) میں شدید تیزی جیسے کلیدی خطرات شامل ہیں ۔

انسانیت کے مشترکہ دشمن

ہم ایک ایسے منقسم دور میں جی رہے ہیں جہاں سیاسی نظریات کا ٹکراؤ عروج پر ہے، لیکن مہنگائی، معاشی عدم تحفظ اور ماحولیاتی تباہی وہ مشترکہ دشمن ہیں جن کا سامنا ہر شخص کو ہے۔ انٹالیا، ترکی میں ہونے والی آئندہ 'کاپ 31' کانفرنس ایک تزویراتی موڑ ثابت ہوگی، جہاں دنیا کو محض نئے معاہدے کرنے کے بجائے عملی نفاذ پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ صحت، روزگار اور خوشحالی کا راستہ ماحولیاتی اقدامات سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔آخر میں ہمیں اس سوال پر غور کرنا چاہیئے: کیا ہم واقعی اس 'معاشی قیمت' کو ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں جو کلائمیٹ ایکشن پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ہمیں چکانی پڑے گی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اب خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Dw8jgZ1

بدھ، 9 ستمبر، 2026

لاہول اسپیتی میں فلکیات و فلکی طبیعیات مرکز قائم کرنے کی تیاری، سائنسی تحقیق کو ملے گا فروغ

ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے بدھ کے روز مرکزی سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ اس دوران ریاست میں سائنسی تحقیق، طلبہ میں سائنسی رجحان اور دور دراز و قبائلی علاقوں میں سائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کو فروغ دینے سے متعلق متعدد تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں وزیر اعلیٰ سکھو نے لاہول اسپیتی اور پنگی جیسے بلند پہاڑی قبائلی علاقوں میں فلکیات اور فلکی طبیعیات کے مراکز قائم کرنے کی ریاستی حکومت کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز کو لداخ کے ہینلے میں جاری کامیاب فلکیاتی منصوبوں کی طرز پر ترقی دی جا سکتی ہے۔

سکھو نے کہا کہ لاہول اسپیتی اور دیگر بلند پہاڑی علاقوں کے جغرافیائی اور قدرتی حالات فلکیاتی تحقیق اور آسمانی اجرام کے مشاہدے کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ ایسے مراکز قائم ہونے سے خطے میں فلکیاتی تحقیق کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں اور طلبہ میں سائنس کے تئیں دلچسپی بھی بڑھے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فلکیات مراکز کے قیام سے قبائلی علاقوں میں سائنس پر مبنی اور پائیدار سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے خطے کی منفرد جغرافیائی خصوصیات کو سائنسی تعلیم اور تحقیق کے مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

ملاقات کے دوران ریاست میں طلبہ کے اندر سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں دلچسپی بڑھانے کے لیے خواہش مند بلاکس کے اسکولوں میں سائنس میوزیم قائم کرنے کی تجویز پر بھی بات ہوئی۔ سکھو نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس میوزیم طلبہ میں سائنسی تجسس پیدا کرنے، عملی تجربات کے ذریعے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے اور سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں دلچسپی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے مقامی موسمیاتی نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ہر گرام پنچایت میں خودکار بارش ناپنے والے آلات (آٹومیٹک رین گیج) اور بلاک سطح پر خودکار موسمیاتی مراکز (آٹومیٹک ویدر اسٹیشن) قائم کرنے کے منصوبے میں تیزی لانے کی اپیل کی۔

سکھو نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے پنچایت اور بلاک کی سطح پر موسم سے متعلق درست اور حقیقی وقت کی معلومات دستیاب ہو سکیں گی۔ اس سے موسمیاتی نگرانی زیادہ سائنسی اور مؤثر بنے گی، جبکہ کسانوں کو اپنے علاقے کے مطابق موسم کی درست معلومات حاصل ہوں گی، جس سے وہ بہتر منصوبہ بندی اور بروقت فیصلے کر سکیں گے۔

ملاقات میں لیونڈر کی سائنسی بنیادوں پر کاشت کو فروغ دینے کے لیے بھی تعاون طلب کیا گیا۔ سکھو نے سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کے ذریعے لیونڈر کی کاشت سے متعلق مظاہراتی مراکز کے دائرہ کار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کسانوں کو موزوں کاشت کی تکنیکوں سے آگاہ کرنے اور اسے متبادل منافع بخش فصل کے طور پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/7t8lOkN

’مصنوعی ذہانت ہماری جان کے لیے خطرہ‘، انتھروپک کے ریسرچر نے کیا حیرت انگیز دعویٰ، ملازمت سے دیا استعفیٰ

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی رسائی موجودہ دور میں انسان کی زندگی کے ہر شعبے تک ہو چکی ہے۔ اے آئی ہمارے لیے فائدہ مند ہے یا نقصاندہ، اس پر بھی پوری دنیا میں خوب بحث ہو رہی ہے۔ اس درمیان انتھروپک کمپنی کے ایک ریسرچر کا دعویٰ وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے ہے کہا کہ رواں دہائی کے آخر تک مصنوعی ذہانت انسانی جان کے لیے خطرہ بن جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ ’انتھروپک‘ امریکہ کی ایک بڑی اے آئی تحقیق و سیکورٹی کمپنی ہے، اور جیکب کاکسن اس میں بطور ریسرچر کام کرتے تھے۔ انھوں نے اس ملازمت سے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے کہ اے آئی لیبز ایسے سسٹم بنا رہی ہیں جو انسانی جان کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ جیکب نے بدھ کی صبح اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ وہ انتھروپک میں ہو رہے کاموں کو دیکھتے ہوئے کمپنی چھوڑ رہے ہیں۔

اس سے قبل جیکب کاکسن اوپن اے آئی میں کام کرتے تھے، لیکن وہاں بھی انھوں نے ملازمت چھوڑ دیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ اے آئی کمپنیاں سپر انٹلیجنس کو بہتر بنانے کی جلدبازی میں جان سے کھیل رہی ہیں۔ جیکب نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’میں نے آج انتھروپک سے استعفیٰ دے دیا۔ میں نے گزشتہ 3 سال اوپن اے آئی اور انتھروپک دونوں میں پری-ٹریننگ ریسرچ میں گزارے۔ کوئی بھی کمپنی ذمہ داری سے کام نہیں کر رہی ہے۔ یہ کمپنیاں انسانی زندگی کے ساتھ جوا کھیل رہی ہیں۔‘‘

جیکب کاکسن نے اے آئی کے بارے میں اپنے نظریات سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ہماری جان لے سکتا ہے۔ جو لوگ اے آئی سسٹم کی طاقت کو کم سمجھ رہے ہیں، وہ غلطی کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلد ہی ’سپرہیومن سسٹم‘ بن جائیں گے اور کسی بھی چیز کو ہیک کر سکیں گے۔ راتوں رات کسی بھی شعبے میں انقلاب لا سکیں گے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ سپر انٹلیجنٹ اے آئی سسٹم چند ہی برسوں میں انسانیت کو ختم کر سکتے ہیں اور انہیں بنانے والے لوگ اس بات کو جانتے ہیں۔ 27 سالہ سابق انتھروپک ریسرچر نے متنبہ کیا کہ اے آئی بنانے والے لوگ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اس دہائی کے اختتام تک ہم سب کو مار سکتا ہے۔ سینئر ریسرچرز بھی اس خطرے سے واقف ہیں۔

جیکب کاکسن نے دعویٰ کیا کہ کئی سینئر اے آئی ریسرچرز مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انسانیت کے خاتمے کو لے کر پریشان ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ یہ کوئی مارکیٹنگ اسٹنٹ نہیں ہے۔ کوئی بھی دوسری انسانی سرگرمی اس سطح کا خطرہ پیدا نہیں کرتی، جتنا کہ مصنوعی ذہانت۔ جیکب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انتھروپک بھی اس بارے میں اچھی طرح جانتی ہے، لیکن وہ خود کو بہتر اے آئی سسٹم بنانے والی پہلی کمپنی بننا چاہتی ہے، اس لیے وہ تمام چیزوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ABO6dnh