منگل، 20 اکتوبر، 2026

ایس بی آئی کے لاکھوں صارفین کا ڈیٹا ہیک ہونے کا دعویٰ، 2722 دستاویزات بھی حاصل کرنے کا انکشاف

نئی دہلی: ایک نامعلوم ہیکر گروپ نے ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سے متعلق خفیہ صارفین کی معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مبینہ طور پر حاصل کیے گئے ڈیٹا میں صارفین کی ذاتی تفصیلات، قرض کی درخواستیں، اکاؤنٹ کھولنے سے متعلق دستاویزات اور دیگر اہم ریکارڈ شامل ہیں۔ تاہم، اس دعوے کی صداقت اور ڈیٹا کے اصل ماخذ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سائبر سکیورٹی پر نظر رکھنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سائبرپلس 56 نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے ہیکر گروپ کے اس دعوے کی اطلاع دی۔ پوسٹ کے مطابق، ’سیریسِم‘ نام سے سرگرم اس گروپ کے پاس مبینہ طور پر ایس بی آئی سے متعلق سی ایس وی فارمیٹ میں 3.75 لاکھ ڈیٹا اندراجات اور 2722 پی ڈی ایف دستاویزات موجود ہیں۔

سائبرپلس 56 کے مطابق، مبینہ طور پر افشا کیے گئے ڈیٹا میں صارفین کی ذاتی معلومات، رہائشی پتے، قرض کے لیے دی گئی درخواستیں، ان کے ساتھ منسلک دستاویزات اور درخواستوں سے متعلق دیگر ریکارڈ شامل ہیں۔ ہیکر گروپ نے اس مواد کو اپنے ڈیٹا افشا کرنے کے سلسلے کی پہلی کھیپ کے طور پر پیش کیا ہے۔

سائبرپلس 56 نے 16 اکتوبر کو پہلی مرتبہ اس دعوے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم، ڈیٹا اندراجات کی تعداد سے یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ اس معاملے سے کتنے صارفین متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایک ہی شخص سے متعلق متعدد ریکارڈ بھی ان میں شامل ہو سکتے ہیں۔

اس معاملے میں ابھی تک ایسی کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے جس سے ثابت ہو کہ ہیکر گروپ نے ایس بی آئی کے کمپیوٹر نظام میں نقب لگائی ہے یا مبینہ دستاویزات براہ راست بینک کے نظام سے حاصل کی گئی ہیں۔ اخبار ’اکنامک ٹائمز‘ نے 20 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ خبر کی اشاعت تک ایس بی آئی نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میل کا جواب نہیں دیا تھا۔ اس لیے فی الحال ہیکر گروپ کے دعوے کو ثابت شدہ ڈیٹا لیک قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

سائبرپلس 56 نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ڈیٹا حقیقی ثابت ہوتا ہے تو اس کا استعمال شناخت کی چوری، مالی دھوکہ دہی، صارفین کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے فشنگ حملوں اور جعلی قرض کی درخواستیں تیار کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

یہ معاملہ ہندوستان کے مالیاتی شعبے کو درپیش سائبر سکیورٹی کے خطرات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ بینکوں کے صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات افشا ہونے کی صورت میں ان کے غلط استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ دریں اثنا، ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے رواں سال کے آغاز میں ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے اور بینکاری نظام کو مزید محفوظ بنانے کی کوششوں کے تحت تجارتی بینکوں کے لیے سائبر سکیورٹی سے متعلق تقاضوں کو سخت کیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/eQ6tZpG

پیر، 19 اکتوبر، 2026

جنوبی کوریا کی مشہور کافی چین پر سائبر حملہ، 27.6 لاکھ صارفین کا ذاتی ڈیٹا لیک

سیول: جنوبی کوریا کی معروف کافی چین ہولیز پر سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً 27.6 لاکھ صارفین کی ذاتی معلومات ہیکروں کے ہاتھ لگ گئی ہیں۔ لیک ہونے والی معلومات میں صارفین کی تاریخ پیدائش، موبائل نمبر، پتے اور ای میل آئی ڈی شامل ہیں۔ کمپنی نے پیر کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت اور معلومات کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری نوٹس کے مطابق، ہیکروں نے 3 ستمبر سے 7 اکتوبر کے درمیان اس کے سسٹم تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ اس دوران ممبرشپ پروگرام سے وابستہ تقریباً 27.6 لاکھ صارفین کی ذاتی معلومات متاثر ہوئیں۔ تاہم، کمپنی نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس کے دائرے کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

ہولیز کے مطابق، ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیک ہونے والا ڈیٹا صارفین کے موجودہ ڈیٹا بیس کا حصہ نہیں تھا، بلکہ ممبرشپ سروس میں پہلے کی گئی تبدیلیوں کے دوران استعمال ہونے والی عارضی ڈیٹا فائلوں میں محفوظ تھا۔ کمپنی نے اس واقعے پر صارفین سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیٹا کی حفاظت اور ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا میں سائبر حملوں اور صارفین کی ذاتی معلومات کے تحفظ کو لے کر تشویش بڑھ رہی ہے۔ اسی ماہ ملک کے کئی مالیاتی اداروں میں بھی ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

مالیاتی ریگولیٹرز کے مطابق، جمعہ تک 16 مالیاتی اداروں میں تقریباً ایک لاکھ معاملات میں ذاتی معلومات لیک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس ماہ کے آغاز میں کے بی کُک مِن بینک اور شنہان بینک سمیت متعدد مالیاتی اداروں میں بھی صارفین اور دیگر متعلقہ افراد کی معلومات متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

مالیاتی خدمات کمیشن (ایف ایس سی) نے کہا ہے کہ متعلقہ ادارے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ڈیٹا لیک کے مزید واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق، اب تک سامنے آنے والی معلومات میں بینک اکاؤنٹ نمبر، کریڈٹ کارڈ نمبر اور دیگر انتہائی حساس مالیاتی تفصیلات کے لیک ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جنوبی کوریا میں تقریباً 530 آؤٹ لیٹس چلانے والی ہولیز کافی چین کی ملکیت کے جی گروپ کے پاس ہے۔ یہ گروپ اسٹیل سازی، آٹوموبائل اور لاجسٹکس سمیت متعدد شعبوں میں کاروبار کرتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CwUohDk

خلا کا ملبہ ہٹانے کے لیے ہندوستان اور جاپان کی کمپنیوں میں تعاون کا معاہدہ

ہندوستان اور جاپان کی دو کمپنیاں خلا میں بڑھتے ہوئے ملبے سے نمٹنے کے لیے اپنی ٹیکنالوجی یکجا کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ ہندوستانی سامٹیل ایویونکس اور جاپانی بل کمپنی نے ستمبر 2026 میں بنگلورو اسپیس ایکسپو کے دوران تعاون کا معاہدہ کیا تھا۔ اب دونوں ادارے اس شراکت کو آگے بڑھانے اور اپنی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ استعمال کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

آج تک کی رپورٹ کے مطابق، 15 اکتوبر کو گروگرام میں دونوں کمپنیوں کے عہدیداروں نے منصوبے پر بات چیت کی۔ یہ ملاقات بنگلورو میں طے پانے والے معاہدے کے بعد پیش رفت کا حصہ تھی۔ کمپنیاں اپنے آلات اور ٹیکنالوجی کی مطابق جانچ رہی ہیں، تاکہ مستقبل میں انہیں مشترکہ طور پر استعمال کیا جا سکے۔ ان کا مقصد مدار میں پہلے سے موجود ناکارہ سیٹلائٹس اور ان کے ٹکڑوں کو ہٹانے کے امکانات پر کام کرنا ہے۔ تاہم کسی مخصوص مشن، راکٹ یا لانچ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سیٹلائٹ موسم کی پیش گوئی، مواصلات اور کئی دوسری اہم خدمات فراہم کرتے ہیں۔ جب ان کا مشن مکمل ہوجاتا ہے تو بعض ناکارہ سیٹلائٹ مدار میں رہ جاتے ہیں۔ ان کے ٹکڑے تیز رفتاری سے حرکت کرتے ہیں اور فعال سیٹلائٹس سے ٹکرا کر انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے تصادم سے نہ صرف خلائی آلات متاثر ہوتے ہیں، بلکہ زمین پر فراہم کی جانے والی خدمات میں بھی خلل پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

بل کمپنی کی ٹیکنالوجی کو پوسٹ مشن ڈسپوزل، یعنی مشن کے بعد سیٹلائٹ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا نظام، کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد سیٹلائٹ کا طے شدہ کام مکمل ہونے کے بعد اسے بے کار حالت میں مدار میں چھوڑنے سے روکنا ہے۔ اس طریقے سے مستقبل میں نیا خلائی ملبہ پیدا ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی پہلے سے خلا میں موجود پرانے ٹکڑوں کو ہٹانے کے لیے نہیں بنائی گئی۔

اسی لیے بل کے نظام کو سامٹیل کے ڈیبری ریموول وہیکل، یعنی ملبہ ہٹانے والی گاڑی، کے ساتھ جوڑنے کی تجویز زیر غور ہے۔ دونوں کمپنیاں یہ جانچ رہی ہیں کہ بل کے آلات پہلے سے مدار میں موجود ملبہ ہٹانے میں کس طرح مدد دے سکتے ہیں۔ اس مرحلے پر وہ ٹیکنالوجی کے امتزاج، اس کے ممکنہ استعمال اور عملی امکانات کا مطالعہ کر رہی ہیں۔

سامٹیل ایویونکس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو پونیت کورا نے کہا کہ خلا کو محفوظ رکھنا کسی ایک کمپنی کے لیے آسان نہیں، اس کے لیے مختلف اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ بل کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو یاسوہیتو اوتو کے مطابق خلا پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کی ٹیکنالوجی آئندہ ملبہ بننے سے روکنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن پرانے ملبے سے نمٹنے کے لیے اضافی حل بھی ضروری ہیں۔

مدار میں موجود کچرا فعال سیٹلائٹس، موسم کی نگرانی اور مواصلاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے سیٹلائٹ کا کام ختم ہونے کے بعد اسے محفوظ طریقے سے ہٹانے یا اس کا مدار تبدیل کرنے کے طریقے اہم سمجھے جارہے ہیں۔ سامٹیل اور بل اسی مسئلے کے حل کے لیے اپنے نظاموں کو یکجا کرنے کا امکان دیکھ رہی ہیں۔ فی الحال یہ ابتدائی تیاری ہے؛ آگے کی پیش رفت میں مشترکہ ٹیکنالوجی کی آزمائش اور کسی ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی شامل ہوسکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/BJ0OuGW