اتوار، 20 ستمبر، 2026

مدار میں امریکی ہتھیار: ایک نئے اور پیچیدہ باب کا آغاز

امریکی محکمہ دفاع نے پہلی بار زمین کے مدار میں خلائی ہتھیاروں کی موجودگی کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر براہ راست حملے کرنے کے بجائے الیکٹرانک جنگ اور دشمن کے مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اگرچہ عالمی معاہدے خلا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی لگاتے ہیں، لیکن روایتی دفاعی آلات کے حوالے سے وہاں اب بھی گنجائش موجود ہے۔ امریکہ کے اس اعلان کے بعد چین اور روس جیسے حریف ممالک کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ اور کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خلا کو جنگی میدان قرار دینے سے دنیا بھر کی شہری اور فوجی مواصلات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال خلا میں موجود نازک ڈھانچے کی حفاظت اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے ایک نئے اور پیچیدہ باب کا آغاز ہے۔

زمین کے گرد جنگ کا میدان

ہماری جدید زندگی کی بنیاد ان خاموش مشینوں پر ہے جو زمین سے سینکڑوں میل اوپر خلا میں گردش کر رہی ہیں۔ چاہے وہ جی پی ایس کے ذریعے راستہ تلاش کرنا ہو، بینکنگ ٹرانزیکشنز ہوں یا انٹرنیٹ کی تیز رفتار فراہمی—ہماری ہر سرگرمی ان سیٹلائٹس کی مرہونِ منت ہے۔ لیکن کیا ہوگا اگر یہ پرامن علاقہ ایک متحرک میدانِ جنگ میں تبدیل ہو جائے؟ 14 ستمبر کو امریکی فضائیہ کے سکریٹری ٹرائے مینیک کی جانب سے کیا گیا اعلان عالمی سلامتی کے افق پر تشویش کے بادل لے آیا ہے۔ امریکہ نے پہلی بار باقاعدہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے مدار میں "اسپیس کنٹرول ویپنز" یا خلائی تسلط کے ہتھیار تعینات کر دیے ہیں۔ یہ انکشاف خلا کی تاریخ میں ایک سنگین موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو اس پرامن سرحد کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

امریکی موقف: صلاحیتوں سے ہتھیاروں تک

سفارتی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) دنیا میں الفاظ کا چناؤ محض اتفاق نہیں ہوتا۔ اس سے قبل امریکی حکام ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہوئے خلا میں موجود اپنے دفاعی آلات کو "صلاحیتوں کے حامل سسٹم" قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم، ٹرائے مینیک نے اس بار تمام ابہام ختم کرتے ہوئے واضح طور پر "ہتھیار" کا لفظ استعمال کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ شفافیت کی جانب ایک ایسی بڑی تبدیلی ہے جس کا مقصد روس اور چین کو واضح پیغام دینا ہے۔ جبکہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان ہتھیاروں کی تعیناتی کا مقصد کسی جارحیت کا آغاز نہیں بلکہ اپنی مشترکہ افواج (جوائنٹ فورس) کا دفاع کرنا ہے۔

سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن (ایس ڈبلیو ایف) کی ڈائریکٹر وکٹوریہ سیمسن نے اس بیان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’یہ پہلی بار ہے کہ کسی سرکاری اہلکار نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ خلا میں باقاعدہ طور پر ڈیزائن کردہ ہتھیار رکھے گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ہمیشہ 'صلاحیتوں والے نظام' کہا جاتا رہا ہے۔‘‘

الیکٹرانک ہتھیاروں کے ذریعے خاموش جنگ

جب ہم 'خلائی ہتھیاروں' کا نام سنتے ہیں، تو ذہن میں سائنس فکشن فلموں کی طرح سیٹلائٹس کے درمیان تصادم یا دھماکوں کا منظر ابھرتا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خاموش ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہتھیار ’کائنیٹک‘ یا تصادمی (یعنی طبعی قوت سے تباہ کرنے والے) ہونے کے بجائے ’الیکٹرانک وارفیئر‘ پر مبنی جیمرز ہو سکتے ہیں۔

ڈرہم یونیورسٹی کے پروفیسر بلیڈن بوون کے مطابق، خلا میں میزائلوں کے بجائے ریڈیو جیمنگ یا سگنلز کو مفلوج کرنے والے ہتھیاروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تصادمی ہتھیاروں سے پیدا ہونے والا ملبہ (ڈیبری) خلا میں گولی کی رفتار سے گھومنے لگتا ہے، جو خود حملہ آور ملک کے اپنے سیٹلائٹس کے لیے بھی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی پوشیدہ جنگ ہے جہاں دشمن کا مواصلاتی نظام خاموشی سے مفلوج کر دیا جاتا ہے، بغیر کسی ظاہری دھماکے کے۔

بیرونی خلا معاہدے میں قانونی خامیاں

خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے لیے 1967 میں "آؤٹر اسپیس ٹریٹی"نافذ کی گئی تھی۔ یہ معاہدہ خلا میں ایٹمی ہتھیار یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(ڈبلیو ایم ڈی) رکھنے پر تو پابندی لگاتا ہے، لیکن اس میں ایک بڑا قانونی سقم (لوپ ہول) موجود ہے۔ یہ معاہدہ روایتی ہتھیاروں، جیمرز یا زمین سے فضا میں مار کرنے والے اینٹی سیٹلائٹ نظاموں کے بارے میں خاموش ہے۔ یہی وہ گنجائش ہے جس نے بڑی طاقتوں کو اس قانونی خلا کا فائدہ اٹھانے اور مدار کو مسلح کرنے کا موقع دیا ہے۔

ایک نئی عالمی دوڑ کا آغاز

خلا کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے کی اس دوڑ میں امریکہ تنہا نہیں ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) اور سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے دیگر ممالک بھی اپنی خلائی جارحیت اور دفاع کی صلاحیتیں تیزی سے بڑھا رہے ہیں:

• چین اور روس: دونوں ممالک کے پاس زمین سے فضا میں مار کرنے والے (ڈاریکٹ ایسنٹ) اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار موجود ہیں۔ چین نے ایک "اسپیس ٹگ" کا مظاہرہ بھی کیا ہے جو کسی سیٹلائٹ کو پکڑ کر اس کا مدار بدل سکتا ہے (اگرچہ چین نے یہ تجربہ صرف اپنے ہی ایک پرانے سیٹلائٹ پر کیا تھا)۔

• ہندوستان بھی اینٹی سیٹلائٹ صلاحیت کا مظاہرہ کر کے اس کلب میں شامل ہو چکا ہے۔

• دیگر ممالک: فرانس، برطانیہ، اسرائیل، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک بھی الیکٹرانک وارفیئر، سگنل جیمنگ اور خلائی جاسوسی کے نظاموں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔

انسانیت کے لیے سنگین نتائج

خلا میں بڑھتی ہوئی یہ عسکری سرگرمیاں کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہیں۔ وکٹوریہ سیمسن کے مطابق، خلا کو مسلح کرنے کا فیصلہ خود اس کے بانیوں کے لیے الٹا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "خلا کو مسلح کرنے کا دروازہ کھول کر امریکہ سب سے زیادہ کھوئے گا۔ اس سیارے پر موجود ہر شخص کسی نہ کسی طرح خلا پر مبنی ڈیٹا اور خدمات استعمال کرتا ہے۔ خلا تک رسائی یا اس کے استعمال میں کوئی بھی مداخلت ہر کسی کو متاثر کرے گی۔"

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو ممالک ٹیکنالوجی میں جتنے زیادہ ایڈوانس ہیں، خلا میں کسی بھی تنازع کی صورت میں ان کا معاشی اور دفاعی ڈھانچہ اتنا ہی زیادہ کمزور اور غیر محفوظ ہو جائے گا۔

امریکی اعتراف نے اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی ہے کہ خلا اب محض سائنسی تحقیق کی جولان گاہ نہیں بلکہ ایک 'وار فائٹنگ ڈومین' بن چکا ہے۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ خلا کی سپر پاورز، جو اس ٹیکنالوجی پر سب سے زیادہ انحصار کرتی ہیں، وہی اس عدم استحکام سے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ لہٰذا، عالمی طاقتوں کو کسی نئے جامع معاہدے کے ذریعے خلا کو تباہی سے بچانے کے لیے اکٹھا ہونا پڑے گا، یا پھر وہ زمین کے بعد اب خلا میں بھی ایک ایسی جنگ کا آغاز کر دیں گے جس میں فاتح کوئی نہیں ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ybkKFpI

پیر، 14 ستمبر، 2026

اے آئی کی بڑھتی طاقت سے انسانیت کے مستقبل کو خطرہ؟ ٹیک مارکیٹ میں بھونچال، امریکہ اور چین آمنے سامنے

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی، اس کے ممکنہ خطرات اور اس ٹیکنالوجی میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی مسابقت نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اے آئی کے شعبے سے وابستہ اہم شخصیات کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کم کرنے اور زیادہ حفاظتی اقدامات کی اپیل کے بعد پیر کو دنیا کے کئی بازاروں میں ٹیک کمپنیوں کے حصص میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔

جنوبی کوریا میں چِپ ساز کمپنی ایس کے ہائنکس کے حصص 6.4 فیصد جبکہ سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص 4.1 فیصد گر گئے۔ اوپن اے آئی میں بڑا سرمایہ کاری رکھنے والی جاپانی کمپنی سافٹ بینک کے حصص میں 10 فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی۔

یورپی بازاروں میں بھی یہی رجحان نظر آیا۔ جرمنی کی سیمی کنڈکٹر کمپنی انفینین کے حصص 7.6 فیصد جبکہ نیدرلینڈز کی چِپ ساز کمپنی اے ایس ایم ایل کے حصص 5.2 فیصد گر گئے۔ امریکہ میں ہیولٹ پیکارڈ کے حصص میں 10 فیصد، انٹیل اور سانڈسک میں 7 فیصد، کوالکوم اور مائیکرون میں 6 فیصد جبکہ اوریکل میں 5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اے آئی چِپ بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے حصص بھی 3 فیصد نیچے آئے۔ ٹیک کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 1.2 فیصد تک گر گیا۔

سرمایہ کاری کے ادارے اے جے بیل کے سرمایہ کاری ڈائریکٹر رس ماؤلڈ کے مطابق اے آئی سے متعلق حصص گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل بڑھ رہے تھے، تاہم اب سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات اور کنٹرول درکار ہیں۔ بعض سرمایہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اے آئی کمپنیوں کی قدر و قیمت حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جس سے 1990 کی دہائی کے آخر کے ڈاٹ کام دور جیسی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اوپن اے آئی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین بھی اے آئی کی ترقی میں احتیاط پر زور دینے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اے آئی سیفٹی کمپنی اینتھروپک کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے ایسے آزاد جائزہ کار مقرر کریں گے جنہیں کمپنی کے ملازمین جیسی رسائی حاصل ہوگی۔ آلٹمین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ انسانیت اے آئی کے ہاتھوں اپنے مستقبل پر کنٹرول کھو سکتی ہے یا طاقت کسی ایک مقام پر حد سے زیادہ مرتکز ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اے آئی پر جاری بحث کے دوران چین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اس ٹیکنالوجی کی ترقی میں چین سے آگے رہنا چاہیے۔ انہوں نے اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے خلاف مبینہ ’’سازش‘‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس صورت حال سے خوش ہونے والا واحد ملک چین ہے۔

چین نے اے آئی گورننس سے متعلق خدشات اور سخت مسابقت کے بیانیے پر تنقید کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وو تاؤ نے کہا کہ خطرات، تصادم اور بدنیتی پر مبنی مسابقت کی باتیں عالمی اے آئی گورننس کے عمل میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور کسی کے مفاد میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو اے آئی کی ترقی کے لیے کھلے، جامع، سب کے لیے فائدہ مند اور انسانی فلاح پر مبنی تعاون کرنا چاہیے۔ چین کے اس ردعمل نے واضح کر دیا ہے کہ اے آئی کے مستقبل، اس کی رفتار اور اس کے انتظام کے معاملے میں دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات بدستور گہرے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/iceKxkf

اتوار، 13 ستمبر، 2026

موسمیاتی بحران، عالمی معاشی سلامتی کے لیے خطرہ...مدیحہ فصیح

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو محض ایک سیاسی تنازع سمجھنا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے کیونکہ یہ اب ایک شدید عالمی معاشی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ رپورٹوں سے انکشاف ہوا ہے کہ زمین نے اپنی تاریخ کا گرم ترین اگست کا مہینہ ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں فصلوں کی بربادی، پانی کی قلت اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کی وجہ سے یورپی معیشت کو اربوں یورو کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ایل نینو جیسے موسمی مظاہر نے عالمی سطح پر درجہ حرارت میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے، جو نہ صرف خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے بلکہ سائنسدانوں کے مطابق یہ سلسلہ مستقبل قریب میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ مہنگائی اور معاشی عدم استحکام سے بچنے کے لیے صاف توانائی کی طرف منتقلی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ممالک ماضی کے وعدوں پر بحث کرنے کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دیں تاکہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے تباہ کن اثرات کو روکا جا سکے۔

ماحولیاتی تبدیلی: ایک عالمی معاشی ایمرجنسی

دنیا نے حال ہی میں تاریخ کا گرم ترین مہینہ 'اگست' ریکارڈ کیا ہے، جہاں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.65 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ یہ محض ایک موسمیاتی اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک ایسی تلخ معاشی حقیقت ہے جو براہِ راست آپ کی جیب پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ زمین کی بڑھتی ہوئی تپش اب صرف گلیشیئرز پگھلنے کا نام نہیں، بلکہ یہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، غذائی قلت اور معاشی عدم استحکام کا پیش خیمہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، ماحولیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی ادارے(یو این ایف سی سی سی)کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن اسٹیل نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو محض ایک 'ثقافتی جنگ'یا سیاسی نظریاتی بحث سمجھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، یہ اب ایک "براعظمی معاشی سلامتی کی ہنگامی صورتحال" بن چکی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، صرف اس موسمِ گرما کی شدید لہروں اور اس سے وابستہ آفات نے یورپ کو مجموعی طور پر 180 ارب یورو کا معاشی نقصان پہنچایا ہے، جو خطے کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے پورے ایک فیصد کے برابر ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے؛ جب شدید گرمی سے بجلی کے گھر بند ہوتے ہیں، فصلیں جل جاتی ہیں اور تجارتی راستے خشک ہو جاتے ہیں، تو اس کا نقصان کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ پوری معیشت کو ہوتا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کو 'سیاسی رنگ' دینا دراصل ان مخصوص مفادات کو تحفظ دینے کی ایک تزویراتی کوشش ہے جو بنیادی ڈھانچے اور زراعت کی تباہی سے نظریں چرانا چاہتے ہیں۔

کلائمیٹ ایکشن پر نرمی کی بھاری قیمت

جیواشم ایندھن (فوسل فیولز) پر مسلسل انحصار نہ صرف کرہِ ارض کو گرم کر رہا ہے بلکہ یہ افراطِ زر اور مہنگائی کے عالمی بحران کا سب سے بڑا محرک بھی ہے۔ سائمن اسٹیل نے اس معاشی حقیقت کو ایک طاقتور پیرائے میں بیان کیا ہے، ان کے مطابق، "ماحولیاتی اقدامات پر نرمی برتنے کا مطلب ہے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے بوجھ سے چشم پوشی کرنا، اپنی خودمختاری اور سلامتی پر سمجھوتہ کرنا، اور معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع کو داؤ پر لگانا۔"

ماہرین کا ماننا ہے کہ قومی سلامتی اور خودمختاری کا کلائمیٹ ایکشن سے گہرا تعلق ہے۔ مقامی سطح پر صاف توانائی کے ذرائع اپنا کر ممالک عالمی ایندھن کی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ اور بیرونی گیس و تیل کی درآمدات پر اپنا انحصار کم کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف قومی سلامتی مضبوط ہوتی ہے بلکہ عام شہری کا بجٹ بھی محفوظ رہتا ہے۔

صاف توانائی میں سرمایہ کاری

ایک اہم عالمی تبدیلی یہ آئی ہے کہ دنیا اب 'صاف توانائی' (کلین انرجی) کی طرف تیزی سے مڑ رہی ہے۔ گزشتہ برس اس شعبے میں سرمایہ کاری 2 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو کہ جیواشم ایندھن پر کی جانے والی سرمایہ کاری سے دوگنا ہے۔ یہ تبدیلی محض ماحول دوستی نہیں بلکہ ایک ٹھوس معاشی حکمتِ عملی ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال مغربی ایشیا کے حالیہ تنازعات کے دوران سامنے آئی، جہاں تنازع کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہی یورپ نے صرف شمسی توانائی کے استعمال کی بدولت گیس کی درآمدات کی مد میں 30 ارب یورو کی خطیر رقم بچائی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ صاف توانائی کی طرف منتقلی معاشی خود کفالت کا تیز ترین راستہ ہے۔

درجہ حرارت کی خطرناک سمت

سال 2015کے پیرس معاہدے میں درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے کا عہد کیا گیا تھا، لیکن موجودہ عالمی پالیسیاں ہمیں 2.6 ڈگری سیلسیس کی خطرناک سمت میں لے جا رہی ہیں۔ اگر بین الاقوامی تعاون کا فقدان رہا، تو یہ تپش 4 ڈگری سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جو کہ انسانی زندگی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔اس کے جسمانی اور معاشی اثرات پہلے ہی واضح ہیں: ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئرز پگھلنے سے تباہ کن سیلاب آ رہے ہیں۔ شمالی افریقہ میں پانی کی شدید قلت اور بجلی کی بندش سے لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔اور یورپ کے اہم تجارتی دریا، جیسے رائن اور ڈینیوب، اس قدر خشک ہو رہے ہیں کہ مال بردار جہازوں کی آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

ایل نینو کے اثرات اور مستقبل

طویل مدتی ماحولیاتی بگاڑ کے ساتھ ساتھ 'ایل نینو'جیسے مختصر مدتی عوامل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او)کے مطابق، 2026 میں درجہ حرارت کے تمام ریکارڈ ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ یہی موسمیاتی رجحان ہے۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ بارشوں اور درجہ حرارت کے پیٹرن میں آنے والی یہ تبدیلیاں 2027 تک برقرار رہیں گی۔ مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر سمندروں کے درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ،اوسط سے زیادہ سمندری طوفانوں کی سرگرمی (صرف حالیہ دور میں 19 طوفان ریکارڈ کیے گئے) اور انڈونیشیا اور دیگر علاقوں میں خشک سالی کے باعث جنگلات کی آگ (وائلڈ فائر) میں شدید تیزی جیسے کلیدی خطرات شامل ہیں ۔

انسانیت کے مشترکہ دشمن

ہم ایک ایسے منقسم دور میں جی رہے ہیں جہاں سیاسی نظریات کا ٹکراؤ عروج پر ہے، لیکن مہنگائی، معاشی عدم تحفظ اور ماحولیاتی تباہی وہ مشترکہ دشمن ہیں جن کا سامنا ہر شخص کو ہے۔ انٹالیا، ترکی میں ہونے والی آئندہ 'کاپ 31' کانفرنس ایک تزویراتی موڑ ثابت ہوگی، جہاں دنیا کو محض نئے معاہدے کرنے کے بجائے عملی نفاذ پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ صحت، روزگار اور خوشحالی کا راستہ ماحولیاتی اقدامات سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔آخر میں ہمیں اس سوال پر غور کرنا چاہیئے: کیا ہم واقعی اس 'معاشی قیمت' کو ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں جو کلائمیٹ ایکشن پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ہمیں چکانی پڑے گی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اب خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Dw8jgZ1

بدھ، 9 ستمبر، 2026

لاہول اسپیتی میں فلکیات و فلکی طبیعیات مرکز قائم کرنے کی تیاری، سائنسی تحقیق کو ملے گا فروغ

ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے بدھ کے روز مرکزی سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ اس دوران ریاست میں سائنسی تحقیق، طلبہ میں سائنسی رجحان اور دور دراز و قبائلی علاقوں میں سائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کو فروغ دینے سے متعلق متعدد تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں وزیر اعلیٰ سکھو نے لاہول اسپیتی اور پنگی جیسے بلند پہاڑی قبائلی علاقوں میں فلکیات اور فلکی طبیعیات کے مراکز قائم کرنے کی ریاستی حکومت کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز کو لداخ کے ہینلے میں جاری کامیاب فلکیاتی منصوبوں کی طرز پر ترقی دی جا سکتی ہے۔

سکھو نے کہا کہ لاہول اسپیتی اور دیگر بلند پہاڑی علاقوں کے جغرافیائی اور قدرتی حالات فلکیاتی تحقیق اور آسمانی اجرام کے مشاہدے کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ ایسے مراکز قائم ہونے سے خطے میں فلکیاتی تحقیق کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں اور طلبہ میں سائنس کے تئیں دلچسپی بھی بڑھے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فلکیات مراکز کے قیام سے قبائلی علاقوں میں سائنس پر مبنی اور پائیدار سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے خطے کی منفرد جغرافیائی خصوصیات کو سائنسی تعلیم اور تحقیق کے مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

ملاقات کے دوران ریاست میں طلبہ کے اندر سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں دلچسپی بڑھانے کے لیے خواہش مند بلاکس کے اسکولوں میں سائنس میوزیم قائم کرنے کی تجویز پر بھی بات ہوئی۔ سکھو نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس میوزیم طلبہ میں سائنسی تجسس پیدا کرنے، عملی تجربات کے ذریعے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے اور سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں دلچسپی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے مقامی موسمیاتی نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ہر گرام پنچایت میں خودکار بارش ناپنے والے آلات (آٹومیٹک رین گیج) اور بلاک سطح پر خودکار موسمیاتی مراکز (آٹومیٹک ویدر اسٹیشن) قائم کرنے کے منصوبے میں تیزی لانے کی اپیل کی۔

سکھو نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے پنچایت اور بلاک کی سطح پر موسم سے متعلق درست اور حقیقی وقت کی معلومات دستیاب ہو سکیں گی۔ اس سے موسمیاتی نگرانی زیادہ سائنسی اور مؤثر بنے گی، جبکہ کسانوں کو اپنے علاقے کے مطابق موسم کی درست معلومات حاصل ہوں گی، جس سے وہ بہتر منصوبہ بندی اور بروقت فیصلے کر سکیں گے۔

ملاقات میں لیونڈر کی سائنسی بنیادوں پر کاشت کو فروغ دینے کے لیے بھی تعاون طلب کیا گیا۔ سکھو نے سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کے ذریعے لیونڈر کی کاشت سے متعلق مظاہراتی مراکز کے دائرہ کار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کسانوں کو موزوں کاشت کی تکنیکوں سے آگاہ کرنے اور اسے متبادل منافع بخش فصل کے طور پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/7t8lOkN

’مصنوعی ذہانت ہماری جان کے لیے خطرہ‘، انتھروپک کے ریسرچر نے کیا حیرت انگیز دعویٰ، ملازمت سے دیا استعفیٰ

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی رسائی موجودہ دور میں انسان کی زندگی کے ہر شعبے تک ہو چکی ہے۔ اے آئی ہمارے لیے فائدہ مند ہے یا نقصاندہ، اس پر بھی پوری دنیا میں خوب بحث ہو رہی ہے۔ اس درمیان انتھروپک کمپنی کے ایک ریسرچر کا دعویٰ وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے ہے کہا کہ رواں دہائی کے آخر تک مصنوعی ذہانت انسانی جان کے لیے خطرہ بن جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ ’انتھروپک‘ امریکہ کی ایک بڑی اے آئی تحقیق و سیکورٹی کمپنی ہے، اور جیکب کاکسن اس میں بطور ریسرچر کام کرتے تھے۔ انھوں نے اس ملازمت سے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے کہ اے آئی لیبز ایسے سسٹم بنا رہی ہیں جو انسانی جان کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ جیکب نے بدھ کی صبح اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ وہ انتھروپک میں ہو رہے کاموں کو دیکھتے ہوئے کمپنی چھوڑ رہے ہیں۔

اس سے قبل جیکب کاکسن اوپن اے آئی میں کام کرتے تھے، لیکن وہاں بھی انھوں نے ملازمت چھوڑ دیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ اے آئی کمپنیاں سپر انٹلیجنس کو بہتر بنانے کی جلدبازی میں جان سے کھیل رہی ہیں۔ جیکب نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’میں نے آج انتھروپک سے استعفیٰ دے دیا۔ میں نے گزشتہ 3 سال اوپن اے آئی اور انتھروپک دونوں میں پری-ٹریننگ ریسرچ میں گزارے۔ کوئی بھی کمپنی ذمہ داری سے کام نہیں کر رہی ہے۔ یہ کمپنیاں انسانی زندگی کے ساتھ جوا کھیل رہی ہیں۔‘‘

جیکب کاکسن نے اے آئی کے بارے میں اپنے نظریات سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ہماری جان لے سکتا ہے۔ جو لوگ اے آئی سسٹم کی طاقت کو کم سمجھ رہے ہیں، وہ غلطی کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلد ہی ’سپرہیومن سسٹم‘ بن جائیں گے اور کسی بھی چیز کو ہیک کر سکیں گے۔ راتوں رات کسی بھی شعبے میں انقلاب لا سکیں گے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ سپر انٹلیجنٹ اے آئی سسٹم چند ہی برسوں میں انسانیت کو ختم کر سکتے ہیں اور انہیں بنانے والے لوگ اس بات کو جانتے ہیں۔ 27 سالہ سابق انتھروپک ریسرچر نے متنبہ کیا کہ اے آئی بنانے والے لوگ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اس دہائی کے اختتام تک ہم سب کو مار سکتا ہے۔ سینئر ریسرچرز بھی اس خطرے سے واقف ہیں۔

جیکب کاکسن نے دعویٰ کیا کہ کئی سینئر اے آئی ریسرچرز مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انسانیت کے خاتمے کو لے کر پریشان ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ یہ کوئی مارکیٹنگ اسٹنٹ نہیں ہے۔ کوئی بھی دوسری انسانی سرگرمی اس سطح کا خطرہ پیدا نہیں کرتی، جتنا کہ مصنوعی ذہانت۔ جیکب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انتھروپک بھی اس بارے میں اچھی طرح جانتی ہے، لیکن وہ خود کو بہتر اے آئی سسٹم بنانے والی پہلی کمپنی بننا چاہتی ہے، اس لیے وہ تمام چیزوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ABO6dnh

ہفتہ، 29 اگست، 2026

NYC Audio Tours: Explore New York at Your Own Pace

 





Discover New York City in a completely different way with an NYC audio tour. Instead of following a large group or sticking to a fixed schedule, you can explore the city at your own pace while listening to fascinating stories about its landmarks, history, culture, and hidden gems.

From Times Square and Central Park to the Statue of Liberty, Wall Street, Brooklyn Bridge, and Greenwich Village, audio tours make sightseeing more engaging and informative. Many self-guided tours use GPS or smartphone technology to provide narration as you reach different locations.

Audio tours are especially convenient for independent travelers, families, and couples. You can pause whenever you want, take photos, stop for lunch, or spend extra time at places that interest you. Some tours are also available in multiple languages, making them accessible to international visitors.

Whether this is your first visit to New York or you're returning to discover more of the city, an NYC audio tour offers an affordable and flexible way to experience the Big Apple—one story at a time.

بدھ، 5 اگست، 2026

اسپیس ایکس راکٹ چاند سے ٹکرا گیا، خلائی ملبے کے بارے میں بڑھتے خدشات

اسپیس ایکس راکٹ کا ایک بھٹکا ہوا  ٹکڑا آخر کار چاند سے ٹکرا گیا۔ یہ اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کا حصہ تھا۔ سائنس دانوں نے اطلاع دی ہے کہ پچھلے ایک سال سے دور بھٹکے جانے کے بعد، یہ بدھ کے روز پیش گوئی کے مطابق چاند سے ٹکرا گیا۔

یہ ٹکڑا سکول بس کے سائز کا تھا اور اس کا وزن چار میٹرک ٹن (4,000 کلوگرام) تھا۔ اگرچہ یہ اثر، جو 5,400 میل فی گھنٹہ (8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے ہوا، ابھی تک باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے، لیکن خلائی ٹریکنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ راکٹ کا باقی ماندہ حصہ چاند سے ٹکرانا یقینی تھا۔ یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ اس اثر سے چاند کی دھول کے بادل اٹھ گئے ہوں گے۔ یہ دھول شاید سورج کی روشنی میں چمکتی ہو، لیکن زمین سے اسے کھلی آنکھوں سے دیکھنا مشکل تھا۔

یہ چاند پر ملبے کے جمع ہونے کا تازہ ترین معاملہ ہے۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ چاند پر خلاباز بھیجنے کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ اس مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ 2022 میں، ایک چینی راکٹ چاند کے مشن کے بعد نادانستہ طور پر چاند سے ٹکرا گیا، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی اور راکٹ کے ٹکڑے چاند پر گر چکے ہوں گے جن کا پچھلی چند دہائیوں میں پتہ نہیں چل سکا ہے۔

اسپیس ایکس کی جولیانا شائمن نے کہا کہ کمپنی مستقبل میں ایسے حادثات کو روکنے کے لیے ناسا کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصادم جان بوجھ کر نہیں ہوا۔ اس نے وضاحت کی کہ شمسی سرگرمی اور کشش ثقل کے امتزاج نے نادانستہ طور پر خلائی جہاز کو چاند کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈال دیا۔ متوقع اثر کی جگہ چاند کی مغربی جانب آئن سٹائن کریٹر کے قریب تھی (جو سورج کی روشنی میں رہتی ہے)۔ یہ چاند کے اگلے اور پچھلے اطراف کے کنارے کے قریب ہے، جنہیں زمین سے دیکھنا بہت مشکل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4qbU6Pv

منگل، 4 اگست، 2026

اسپیس ایکس کے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی، زمین کو کوئی خطرہ نہیں: ناسا

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ایک ناکارہ حصے کے بدھ کو چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم اس واقعے سے زمین کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ غیر معمولی واقعہ چاند کی سطح، اس کی ساخت اور خلائی تصادم کے اثرات کے بارے میں اہم سائنسی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز کے مطابق فالکن 9 راکٹ کا تقریباً پانچ ٹن وزنی بالائی حصہ (اپر اسٹیج) تقریباً 2.43 کلومیٹر فی سیکنڈ (تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ چاند کے مغربی حصے میں واقع آئن اسٹائن کریٹر کے قریب ٹکرائے گا۔

ناسا کے ترجمان جمی رسل نے کہا کہ اس واقعے سے زمین کے لیے کسی خطرے کا اندیشہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ادارہ اس راکٹ کے حصے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تصادم کے بعد بننے والے نئے گڑھے اور اس کے اثرات کا سائنسی مطالعہ کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ راکٹ کا وہی حصہ ہے جس نے جنوری 2025 میں اسپیس ایکس کے فالکن 9 مشن کے ذریعے فائر فلائی ایرو اسپیس کے بلیو گھوسٹ 1 اور جاپانی کمپنی آئی اسپیس کے ریزیلینس قمری لینڈرز کو خلا میں پہنچایا تھا۔ مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کے اس حصے کو ایسی مدار میں چھوڑ دیا گیا تھا جو بعد میں چاند کے ساتھ تصادم کے راستے میں آ گئی۔

لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے محقق اور اس تحقیق کے سربراہ بنجامن فرنانڈو کے مطابق تصادم کے نتیجے میں راکٹ کا حصہ مکمل طور پر تبخیر ہو جائے گا، جبکہ چاند کی سطح پر روشنی کی مختصر چمک، گرد و غبار کا بادل اور ایک نیا گڑھا بننے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر چاند سے ٹکرانے والے شہابی پتھروں کی رفتار اور کمیت کے بارے میں پہلے سے درست معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، لیکن اس راکٹ کے بارے میں یہ تمام معلومات معلوم ہیں، اس لیے یہ واقعہ قدرتی تصادم کے مطالعے کے لیے ایک مثالی موقع فراہم کرے گا۔ سائنس دان تصادم سے اٹھنے والے گرد و غبار کا تجزیہ کر کے چاند کی سطح کی معدنی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ناسا آئندہ برسوں میں آرٹیمس پروگرام کے تحت دوبارہ خلا نوردوں کو چاند پر بھیجنے اور وہاں طویل مدتی انسانی موجودگی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کے تصادم کا مطالعہ مستقبل کے قمری مشنز، رہائشی ڈھانچوں اور مدار میں موجود خلائی جہازوں کو لاحق ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

سائنس دانوں کے مطابق اس تصادم سے پیدا ہونے والی روشنی اتنی مدھم ہوگی کہ اسے برہنہ آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا، تاہم طاقتور دوربینوں کے ذریعے اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ محققین نے دنیا بھر کے شوقیہ فلکیات دانوں سے بھی اس نادر واقعے کا مشاہدہ کرنے اور اپنی اطلاعات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/783ypuB

جمعرات، 30 جولائی، 2026

آنر کا روبوٹ فون اگست میں لانچ ہوگا!

چینی کمپنی آنر یعنی Honor جلد ہی اپنا پہلا روبوٹ فون متعارف کروا رہی ہے۔ اس فون کی خاص بات اس کا کیمرہ ہو گا، جو کسی عام ا سمارٹ فون کی طرح فکس نہیں ہوتا۔ اس میں ایک منفرد روبوٹک کیمرہ سسٹم ہے جو ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران گھوم سکتا ہے، آپ کی پیروی کرسکتا ہے اور پیشہ ورانہ کیمرے جیسی حرکت فراہم کرسکتا ہے۔آنر اس فون کو چین میں 12 اگست کو لانچ کرے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک نیا اسمارٹ فون نہیں ہے بلکہ موبائل فوٹو گرافی کا اگلا مرحلہ ہے۔ اسی لیے اسے روبوٹ فون کا نام دیا گیا ہے۔

اس فون کے اوپر ایک خصوصی کیمرہ ماڈیول نصب ہے، جو ضرورت پڑنے پر پاپ آؤٹ اور مختلف سمتوں میں گھوم سکتا ہے۔ یہ صرف کیمرے کی نقل و حرکت کا نظام نہیں ہے، بلکہ یہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سامنے موجود شخص یا چیز کو خود بخود ٹریک بھی کر سکتا ہے۔ اگر کوئی چہل قدمی کر رہا ہے یا ویڈیو لے رہا ہے تو کیمرہ خود بخود ان کا پیچھا کرے گا۔ اس سے ویڈیو ریکارڈنگ ہموار اور زیادہ سنیما میں دکھائی دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آنر اسے روبوٹ فون کہہ رہا ہے۔

آنر نے تصدیق کی ہے کہ روبوٹ فون میں ٹرپل رئیر کیمرہ سیٹ اپ ہوگا۔ پرائمری کیمرہ 200 میگا پکسلز کا ہوگا، ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ فون نہ صرف ہائی ریزولوشن کی تصاویر لینے بلکہ دور کی چیزوں کی بہتر تصاویر لینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔آنر اس فون کو نہ صرف فوٹو گرافی کے لیے تیار کر رہا ہے بلکہ ویڈیو بنانے والوں کو بھی ذہن میں رکھ کر تیار کر رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/DS0ekfz

بدھ، 22 جولائی، 2026

تحقیق و ترقی کی دوڑ میں امریکہ کے برابر پہنچا چین، وائٹ ہاؤس رپورٹ میں انکشاف

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک اہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کے شعبے میں چین اب امریکہ کے برابر کا حریف بن چکا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیجنگ کی منظم حکمت عملی اور مسلسل سرمایہ کاری کے باعث مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اس کی صلاحیتیں تیزی سے مضبوط ہو رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ ’سائنس: اے نیو گولڈن ایج‘ میں امریکہ کے تقریباً 200 ارب ڈالر سالانہ وفاقی تحقیقاتی نظام کی ازسر نو تشکیل کے لیے ایک جامع خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیق و ترقی پر چین کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور قوتِ خرید کے مساوی (پرچیزنگ پاور پیریٹی) کے حساب سے بعض پیمانوں پر یہ اخراجات اب امریکہ کے برابر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ میں اس مقابلے کو سرد جنگ کے دور کی سائنسی اور تکنیکی مسابقت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ امریکہ، چین اور یورپی یونین کے درمیان موازنے پر مبنی ایک چارٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ امریکہ کو تحقیق و ترقی کے اخراجات کے معاملے میں اپنے برابر کا عالمی حریف ملا ہے۔

دستاویز کے مطابق چین نے سائنسی تحقیق کو اپنی عالمی مسابقتی حکمت عملی کا مرکزی جزو بنا لیا ہے۔ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر فیصلے کیے جا رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تحقیقاتی سرگرمیوں کے درمیان مؤثر تال میل قائم کیا گیا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت چین بنیادی سائنسی تحقیق کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کرنے، اہم ٹیکنالوجیز میں تیزی سے پیش رفت کرنے اور اختراعی نظام کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہا ہے۔

رپورٹ میں خودکار سائنسی تجربہ گاہوں کے میدان میں بھی چین کو امریکہ کا مضبوط حریف قرار دیا گیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی مدد سے تجربات کی منصوبہ بندی اور ان کے نفاذ کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اپنی قومی تجربہ گاہوں میں اس نوعیت کی ابتدائی سہولتیں قائم کی ہیں، تاہم چین اور کینیڈا جیسے ممالک اس شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے سفارش کی ہے کہ وفاقی وسائل کو مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، جوہری انشقاق و امتزاج، جدید مواصلاتی نظام، روبوٹکس، مینوفیکچرنگ اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر مرکوز کیا جائے۔ رپورٹ میں ہندوستان یا اس کے سائنسی اداروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی قومی ٹیکنالوجی مشن میں اسے ممکنہ شراکت دار کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

البتہ مالی سال 2028 کی تحقیقاتی ترجیحات سے متعلق میمورنڈم میں وفاقی ایجنسیوں کو ایسے منصوبوں پر غور کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں بین الاقوامی شراکت دار اخراجات میں حصہ دار ہوں۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ماضی میں امریکہ میں ہونے والی کئی اہم سائنسی دریافتوں کا صنعتی فائدہ دوسرے ممالک کو حاصل ہوا۔ اسی پس منظر میں وائٹ ہاؤس نے امریکی تحقیقاتی نظام میں بنیادی اصلاحات اور نئی ترجیحات کے تعین کی ضرورت پر زور دیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/gfjDGWB

جمعہ، 3 جولائی، 2026

زمین کی جانب گرتی ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین کو بچانے کا مشن، زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی 22 سال پرانی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کے ماحول میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک خصوصی خلائی مشن شروع کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد دوربین کو موجودہ نچلے مدار سے زیادہ بلند مدار میں پہنچانا ہے تاکہ وہ مزید کئی برس تک سائنسی تحقیق کا حصہ بنی رہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو خلائی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پرانی خلائی دوربین کو زیادہ بلند مدار میں منتقل کر کے اس کی عملی مدت میں اضافہ کیا جائے گا۔

ناسا کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ سوئفٹ خلائی دوربین کا مدار مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس کی بلندی میں اضافہ نہ کیا گیا تو امکان ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل جائے گی۔ اسی خطرے کے پیش نظر ادارے نے اس خصوصی مشن کا آغاز کیا ہے تاکہ دوربین کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کی خدمات مزید جاری رکھی جا سکیں۔

اس مشن کے لیے ناسا نے امریکی خلائی کمپنی کیٹالسٹ اسپیس کا انتخاب کیا ہے۔ کمپنی کا ایک چھوٹا خلائی جہاز سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچے گا، جہاں وہ اپنے روبوٹک بازوؤں کی مدد سے دوربین کو پکڑ کر آہستہ آہستہ زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ اس خلائی جہاز کو نارتھروپ گرومن کے تعاون سے مارشل جزائر سے فضا میں روانہ کیا گیا ہے اور اسے دوربین تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگنے کی توقع ہے۔

ناسا نے اس منصوبے کے لیے تقریباً 3 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے ہیں، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 30 ارب روپے کے برابر بنتے ہیں۔ اگر مشن کامیاب رہا تو سوئفٹ خلائی دوربین کم از کم مزید 5 برس تک فعال رہ کر خلائی تحقیق کے لیے اہم معلومات فراہم کرتی رہے گی۔

سوئفٹ خلائی دوربین کو 2004 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس کا ابتدائی مشن صرف دو برس کے لیے مقرر کیا گیا تھا، لیکن یہ گزشتہ 2 دہائیوں سے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس دوربین نے کائنات میں رونما ہونے والے متعدد اہم خلائی واقعات کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کی ہیں اور آج بھی پوری طرح فعال ہے۔

یہ دوربین خاص طور پر گاما شعاعی دھماکوں سمیت کائنات میں ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکوں، پھٹتے ہوئے ستاروں اور دیگر غیر معمولی خلائی واقعات کا مشاہدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سوئفٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی نئے خلائی واقعے کی اطلاع ملتے ہی چند منٹوں میں اپنا رخ تبدیل کر سکتی ہے، جبکہ کئی بڑی خلائی دوربینوں کو ایسا کرنے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

ناسا کو امید ہے کہ اگر تمام مراحل منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے تو سوئفٹ خلائی دوربین ستمبر تک دوبارہ معمول کے مطابق سائنسی مشاہدات شروع کر دے گی اور آنے والے برسوں میں بھی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3UFO5y0

چلتے ای رکشہ کے اچانک بند ہونے کا معاملہ، حکومت نے چینی ایپ پر لگائی روک

حکومت ہند نے ایسے موبائل ایپس کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جن کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان کے ذریعے بعض ای رکشوں کو دور سے بند کیا جا سکتا تھا۔ ’دی ہندی‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق متعلقہ چینی ایپ کو گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ حکام نے اس معاملے کو سائبر سکیورٹی اور عوامی تحفظ سے جوڑتے ہوئے فوری اقدامات کیے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض ای رکشوں کو ایک مخصوص موبائل ایپ کے ذریعے اچانک بند کیا جا رہا ہے۔ ان ویڈیوز کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر ایسے نظام کا غلط استعمال کیا جائے تو سڑک پر چلتی گاڑی کو روک کر نہ صرف مسافروں بلکہ دیگر راہگیروں کی جان بھی خطرے میں ڈالی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بیشتر ای رکشوں میں لیتھیم آئن بیٹری کے ساتھ بیٹری مینجمنٹ سسٹم نصب ہوتا ہے، جس کا مقصد بیٹری کی کارکردگی، درجہ حرارت، وولٹیج، کرنٹ اور چارج کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ یہ نظام اکثر بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون سے جڑ جاتا ہے تاکہ ڈرائیور بیٹری کی معلومات دیکھ سکے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کم قیمت والے بعض چینی بیٹری مینجمنٹ سسٹمز میں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوتے۔ اگر ایسے نظام میں بلوٹوتھ رابطے کو محفوظ نہ بنایا گیا ہو تو کوئی دوسرا شخص بھی مخصوص موبائل ایپ استعمال کرکے چند میٹر کے فاصلے سے اس سسٹم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر رسائی مل جائے تو وہ بیٹری کے ڈسچارج سوئچ کو بند کر کے موٹر تک بجلی کی فراہمی روک سکتا ہے، جس سے ای رکشہ چلنا بند ہو جاتا ہے۔

حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ایپس کو ایپ اسٹورز سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو ایسی ایپس حکومت کی نظر میں آئی تھیں جنہیں بعد میں ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایپ اسٹور چلانے والی کمپنیوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایسی ایپس دستیاب نہ ہوں جو عوامی سلامتی یا سائبر سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ای رکشہ مالکان کو صرف مستند کمپنیوں کے بیٹری مینجمنٹ سسٹمز استعمال کرنے چاہئیں اور غیر ضروری بلوٹوتھ رابطہ بند رکھنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو سسٹم کا سکیورٹی پاسورڈ تبدیل کیا جائے اور صرف سرکاری یا مستند ایپس ہی استعمال کی جائیں۔ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا اچانک گاڑی بند ہونے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ کمپنی یا مجاز سروس مرکز سے رابطہ کرنا چاہیے۔ حکومت کی حالیہ کارروائی سے فوری خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم طویل مدت میں محفوظ برقی گاڑیوں کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی نظام اپنانا بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LbQhAnH

منگل، 30 جون، 2026

اسمارٹ ڈریسنگ: زخم کا درد کم کرنے اور جلد بھرنے میں مددگار

نئی دہلی: مرکزی اعلیٰ تعلیمی ادارے این آئی ٹی راؤرکیلا کے محققین نے زخموں کے علاج کے لیے ایک جدید اسمارٹ ڈریسنگ تیار کی ہے، جو نہ صرف زخم میں انفیکشن کے خطرے کو کم کرتی ہے بلکہ ڈریسنگ تبدیل کرتے وقت ہونے والے درد اور تکلیف میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی زخم کو تیزی سے بھرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں جدید طبی علاج کے شعبے میں اہم پیش رفت کی بنیاد بن سکتی ہے۔

یہ نئی ڈریسنگ ایک خصوصی نینو فائبر تہہ پر مشتمل ہے، جس میں قدرتی جراثیم کش خصوصیات رکھنے والا کرکیومن شامل کیا گیا ہے، جو ہلدی سے حاصل ہونے والا مؤثر جزو ہے۔ اس نینو فائبر تہہ کو زخم اور روایتی کاٹن گاز کے درمیان رکھا جاتا ہے، جس کے باعث ڈریسنگ کا زخم سے براہ راست رابطہ کم ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے ڈریسنگ ہٹاتے وقت نئے بننے والے بافتوں کو نقصان پہنچنے کا امکان کم ہو جاتا ہے اور مریض کو کم درد محسوس ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اس نینو فائبر تہہ کے ذریعے کرکیومن بتدریج اور مسلسل زخم تک پہنچتا رہتا ہے، جس سے دوا کی مؤثر مقدار طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ اس عمل سے زخم کے اردگرد صاف اور جراثیم سے محفوظ ماحول قائم رہتا ہے، انفیکشن کے امکانات گھٹتے ہیں اور بار بار ڈریسنگ تبدیل کرنے یا اضافی ادویات استعمال کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔

این آئی ٹی راؤرکیلا کے شعبۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور طبی انجینئرنگ کے معاون پروفیسر پروفیسر پرسون کمار نے بتایا کہ جن مریضوں کے زخموں کی بار بار ڈریسنگ کرنا پڑتی ہے، انہیں ہر مرتبہ شدید تکلیف اور بے آرامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نئی اسمارٹ ڈریسنگ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے تاکہ علاج کو زیادہ آرام دہ اور مؤثر بنایا جا سکے۔

عام طور پر زخموں کی دیکھ بھال کے لیے کاٹن گاز بینڈیج استعمال کی جاتی ہے کیونکہ یہ نسبتاً سستی، استعمال میں آسان اور زخم سے خارج ہونے والے خون اور دیگر رطوبتوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم روایتی کاٹن گاز کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ یہ زخم کی سطح سے چپک جاتی ہے، جس کے باعث ڈریسنگ تبدیل کرتے وقت نئے بننے والے بافتے متاثر ہوتے ہیں اور انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے محققین نے چائٹوسان سے تیار کردہ حفاظتی تہہ کو الیکٹرو اسپن نینو فائبر کے ساتھ ملا کر ایک نئی قسم کی اسمارٹ کاٹن گاز ڈریسنگ تیار کی ہے۔ تجربہ گاہ میں کیے گئے مختلف تجربات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ یہ ڈریسنگ عام کاٹن گاز کے مقابلے میں زخم سے بہت کم چپکتی ہے، جبکہ اس میں موجود کرکیومن مسلسل خارج ہو کر جراثیم کش تحفظ فراہم کرتا ہے اور خلیوں کی افزائش کے ساتھ نئے بافتوں کی تشکیل کے عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔

پروفیسر پرسون کمار کے مطابق اس نئی ڈریسنگ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ زخم کے بھرنے کے قدرتی عمل کو متاثر کیے بغیر خلیوں کی نشوونما میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کو کم تکلیف کے ساتھ بہتر علاج میسر آ سکتا ہے۔

لاگت کے حوالے سے محققین نے بتایا کہ دس سینٹی میٹر چوڑے اور چار میٹر لمبے عام کاٹن گاز رول کی قیمت تقریباً تیس روپے ہوتی ہے، جبکہ اسی سائز کی اسمارٹ ڈریسنگ اگر تجارتی پیمانے پر تیار کی جائے تو اس کی متوقع قیمت پچاس سے ساٹھ روپے کے درمیان ہوگی، جو جدید طبی سہولت کے مقابلے میں مناسب سمجھی جا رہی ہے۔

یہ تحقیقی نتائج معروف سائنسی جریدے ایمرجنگ میٹیریلز میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق میں پروفیسر پرسون کمار کے ساتھ پروفیسر دیویندر ورما، پروفیسر ایرو بنوتھ، سواگاتیکا بارک، ریکا رانی پردھان، شکھا ترپاٹھی اور سمدریتا رائے بھی شریک رہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کے لیے پیٹنٹ حاصل کرنے اور طبی آزمائشوں کے لیے صنعتی اداروں کے تعاون سے مزید تحقیق کی جائے گی، جس سے مستقبل میں زخموں کے علاج کا ایک زیادہ مؤثر اور آرام دہ طریقہ دستیاب ہونے کی امید ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OClnK70