جمعرات، 4 جون، 2026

مریخ کے ماحول پر تحقیق کرنے والا ناسا کا پہلا مشن ’میون‘ ختم، خلائی جہاز سے رابطہ منقطع

لاس اینجلس: امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ کے ماحول اور اس میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے والے اپنے تاریخی مشن ’مارس ایٹموسفیئر اینڈ وولیٹائل ایوولوشن‘ یعنی ’میون‘ کے باضابطہ خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق دسمبر 2025 میں خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اس کی بحالی کی تمام کوششیں ناکام رہیں، جس کے نتیجے میں مشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ناسا کے مطابق میون خلائی جہاز کو 18 نومبر 2013 کو روانہ کیا گیا تھا اور یہ 21 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں داخل ہوا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد مریخ کے ماحول، اس کی ساخت، گیسوں کے اخراج اور سیارے پر ماضی میں پانی کی موجودگی سے متعلق اہم معلومات جمع کرنا تھا۔

ابتدائی منصوبے کے تحت اس کی مدت صرف ایک سال مقرر کی گئی تھی، تاہم خلائی جہاز نے توقعات سے کہیں زیادہ کارکردگی دکھائی اور 100 برس سے زائد عرصے تک سائنسی مشاہدات جاری رکھے۔ رپورٹ کے مطابق خلائی جہاز سے آخری مرتبہ 6 دسمبر 2025 کو رابطہ ہوا تھا۔ اس وقت یہ مریخ کے عقب سے گزر رہا تھا۔ اس مرحلے کے بعد اچانک اس کا سگنل غائب ہو گیا اور زمین پر موجود کنٹرول مراکز اس سے دوبارہ رابطہ قائم نہ کر سکے۔

صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ناسا نے فروری میں ایک تحقیقاتی بورڈ تشکیل دیا تھا۔ بورڈ کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کا تعین کرے اور یہ جانچ کرے کہ آیا خلائی جہاز کو دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

بدھ کو جاری بیان میں ناسا نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مریخ کے عقب سے گزرنے کے بعد خلائی جہاز غیر معمولی رفتار سے گھومنے لگا تھا۔ اس کے نتیجے میں اس کی سمت اور مدار متاثر ہوئے، جبکہ شمسی توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی بیٹریاں مکمل طور پر ختم ہو گئیں، جس سے مواصلاتی نظام بند ہو گیا اور زمین سے رابطہ بحال نہ ہو سکا۔

تحقیقاتی بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’میون‘ اب اپنی سائنسی ذمہ داریاں انجام دینے اور معلومات زمین تک پہنچانے کے قابل نہیں رہا، اس لیے اس کی بحالی ممکن نہیں۔ تاہم ناسا کا کہنا ہے کہ خرابی کی حتمی وجہ کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اس بارے میں مکمل رپورٹ رواں سال کے اختتام تک جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

ناسا نے مشن کو باضابطہ طور پر بند کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق مشن کے دوران حاصل ہونے والا قیمتی سائنسی مواد محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں سائنس دان اور خلائی تحقیق سے وابستہ ماہرین اس سے استفادہ کر سکیں۔

واشنگٹن میں ناسا کے شعبۂ سیاروی سائنس کی ڈائریکٹر لوئیس پروکٹر نے کہا کہ میون نے مریخ کے ماحول اور وہاں موجود تابکاری کے بارے میں انتہائی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ ان کے مطابق یہ معلومات مستقبل میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی منصوبہ بندی اور ان کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/t30L9Gd

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں