اتوار، 22 جنوری، 2023

ہم کہاں سے آئے: چاول کی کہانی... وصی حیدر

 (35ویں وسط)

2011 میں ہندوستان کے جنوب مشرقی علاقہ سے متعلق ایک اہم بڑا تحقیقاتی مضمون چھپا۔ ڈینمارک کے مشہور جینیٹکس کے تحقیقاتی مرکز اور ان کے ساتھ دنیا کے 26 خاص انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے مل کر اس علاقہ کے پچھلے 8000 سال تک پرانے انسانی ڈھانچوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیقات کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کے پچھلے 4000 ہزار سالوں میں اس علاقہ کی آبادی میں کئی بار بڑی تبدیلیاں ہوئیں اور یہ زیادہ تر چین سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے اس زمانے میں ہوئیں، جب چین میں کھیتی باڑی کا انقلاب آچکا تھا اور بڑھتی آبادی کی وجہ سے کچھ لوگ نئی جگہوں کی تلاش میں نکلے۔

7500 قبل مسیح سے 3500  قبل مسیح تک چین کی یانگسی اور پیلی دریا کی وادی میں رہنے والے لوگ چاول اور باجرے کی فصل اگانا خوب اچھی طرح جان چکے تھے۔ چین سے ایشیا کے جنوب مشرقی علاقہ میں آنے والے لوگ زیادہ تر دو راستوں سے آئے۔ پہلا زمینی راستہ جس کے ساتھ اسٹرو اشیاٹک زبانیں اس علاقہ میں پھیلیں۔  دوسرا راستہ کچھ لوگ ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک چھوٹی چھوٹی ناؤ کے ذریعہ اس علاقے میں پھیلے اور اس طرح ملیشیا، انڈونیشیا اور فلیپائن میں اپنی کھیتی کرنے کا ہنر، رسم و رواج اور زبانیں لے کر پہنچے۔

ہندوستان میں 2000  قبل مسیح سے پہلے اسٹرو اشیاٹک لوگوں کی عدم موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کے یہ لوگ جنوبی مشرقی ایشیا سے ہندوستان آئے، یہ وہی وقت تھا جب ہڑپا تہذیب کا زوال ہو رہا تھا۔ 2011 میں چھپی جینیٹکس کی اہم دریافت یہ ہے کہ ہندوستان میں منڈا زبان بولنے والے لوگوں کے وائی کروسوم (جو اگلی نسل کو اپنے والد سے ملتا ہے) میں تقریباً 25 فیصدی حصّہ جنوب مشرقی ایشیا کے لوگوں سے ملتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کے 2000 قبل مسیح کے بعد یہ لوگ ہندوستان اپنی زبانیں، رسم رواج اور کھیتی کا ہنرلائے اور یہاں پہلے سے بسے لوگوں میں گھل مل گئے۔ اب اس سوال کا جواب معلوم کریں کہ کیا یہ باہر سے آنے والے لوگوں نے ہندوستان میں چاول کی کھیتی شروع کی۔ اس کا جواب بھی سائنسی تحقیقات سے ملا۔

چاول اور اس کی کامیاب فصل اگانے کے ہنر پر 2018 میں ایک بہت تفصیلی تحقیقاتی مقالہ چھپا، جس کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں۔

 ایشیا میں چاول کی دو خاص قسمیں ہیں جن کے نام انڈیکا اور جیپونیکا ہیں اور ان سے نکلی ہوئی کچھ اور مقامی شاخیں بھی ہیں۔ کھدائی میں حاصل ہوئے بیجوں کی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کے اتر پردیش کے سنت کبیر نگرمیں 7000 قبل مسیح کے آس پاس چاول کی کھیتی شروع ہو چکی تھی۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے جنگلی چاول کو پالتو بنانے کے تجربہ مختلف جگہوں پر کامیاب ہو رہے تھے۔ تو ہمارے سوال کا ایک ادھورا جواب یہ ہے کے ہندوستان میں چاول باہر سے نہیں آیا۔ چاول کی ہماری قسم انڈیکا ہے، لیکن چاول کی کہانی کا ایک اہم رخ اور ہے۔

چین کی ینگتسی ندی کے آس پاس چاول کی جو کامیاب کھیتی ہوئی وہ جینیٹکس کے حساب سے فرق ہونے کی وجہ سے جیپونیکا کہلاتی ہے۔  تحقیقات یہ بتاتی ہے کے جب لوگ جنوب مشرقی ایشیا سے ہندوستان آے تو اپنے ساتھ چاول یعنی جیپونیکا اور اس کی کھیتی کا ہنر اپنے ساتھ لائے۔ جب ہندوستانی چاول انڈیکا اور چینی چاول جیپونیکا کا آاپس میں میل (hybridization)  ہوا تو چاول کی فصل کی پیداوار بہت بڑھی۔

چاول کی فصل کی کہانی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کے انسان نے ہمیشہ ایک دوسرے کے تجربوں سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی ہے۔ ہر تہذیب کو اپنے الگ نیوٹن کے قانون کھوجنے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے بھی باہر کے لوگوں کو بہت کچھ دیا ہے۔ صرف چاول ہی نہیں بلکہ آسام میں باہر سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ کئی رس والے پھل اور آم اپنے ساتھ لانے۔

ان تحقیقات کا نتیجہ یہ ہے کہ 2000 قبل مسیح کے آس پاس ہندوستان کی رنگا رنگ انسانی آبادی میں ایک اور رنگ شمال مشرق اور جنوب مشرق سے آنے والے لوگ لائے اور وہ مقامی لوگوں میں گھل مل گئے۔ انسانی آبادی کی تاریخ کا پہیہ دھیمے دھیمے آگے بڑھتا رہا۔ اب تک کی کہانی کے حساب سے ہم کون ہیں: افریقہ سے آنے والے لوگ پھر ایران کے زرگوس علاقہ سے آنے والے اور اس کے بعد شمال اور جنوب سے آنے والے لوگ۔ یہ سب لوگ اپنے ساتھ طرح طرح کے رسم ورواج اور کہانیاں لے کر آئے جنہون ے ہماری موجودہ تہذیب کو بنایا اور سنوارا۔ اس کہانی کا ایک اہم پہلو ابھی باقی ہے۔ یہ سوال کے جینیٹکس کی سائنسی معلومات ہم کو آرینس کے بارے میں کیا یہ بتاتی کے وہ کون تھے اور کیا وہ باہر سے ہندوستان ؤئے۔ اس کا جواب اگلی چند قسطوں میں ملاحظہ فرمائیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MPpnf3c

پیر، 16 جنوری، 2023

پاکستانی سائنسدان کی ایجاد، چائے کی پتی سے الزائمر کی تشخیص

پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عنبر عباس برطانیہ میں نیو کاسل یونیورسٹی سے با حیثیت ریسرچ سکالر وابستہ ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ مشترکہ تحقیق میں چائے کی استعمال شدہ پتی کے 'پھوک‘ سے گریفین کوانٹم ڈاٹس تیار کیے ہیں، جنہیں پانی کے علاوہ انسانی جسم میں آئرن کی موجودگی کی شناخت کے لیے بطور سینسر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کوانٹم ڈاٹس کی تیاری کے لیے چائے کی پتی کا استعمال کیوں؟

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گریفین کو دنیا بھر میں طب خصوصاﹰ دوا سازی میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کی ٹیم کم خرچ اور ماحول دوست طریقے سے کوانٹم ڈاٹس بنانے کی خواہاں تھی جس کے لیے استعمال شدہ چائے کی پتی کا پھوک بہترین انتخاب تھا۔ چائے کی استعمال شدہ پتی کو یونہی پھینک دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ری سائیکل کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر عباس مزید بتاتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں کی ٹیم نے سیاہ چائے کی پتی کو تقریبا 50 ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم کیا۔ اگلے مرحلے میں اسے بلند درجہ حرارت میں 200 سے 250 سینٹی گریڈ ڈگری تک گرم کر کے اس میں آکسون کیمیکل شامل کیا گیا، جس سے گریفین بہت چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ انتہائی چھوٹے جسامت کے ان ذرات کی خصوصیت یہ تھی کہ ان میں بینڈ گیپ بن جانے کے باعث اب ان سے روشنی خارج ہو رہی تھی۔

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان نو تیار شدہ کوانٹم ڈاٹس کو آزمانے کے لیے سترہ مختلف بھاری دھاتوں کے آئنز کو پانی میں گھول کر تجربات کیے گئے۔ جن سے یہ امر سامنے آیا کہ آئرن یا لوہے کی موجودگی میں یہ تیز نیلی روشنی کا اخراج کرتے ہیں۔ لہذا انہیں مختلف طرح کے حیاتیاتی اور ماحولیاتی نظاموں میں لوہے کی ذرات کی نشاندہی کے لیے بطور سینسر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر عنبر عباس کے بقول دنیا بھر میں اعصابی امراض خصوصا الزائمر اور ڈیمینشیا کی بڑھتی ہوئی شرح ایک تشویشناک امر ہے۔ سائنسدان کافی عرصے سے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عباس نے ماضی قریب کی تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر باربرا مہر کا حوالہ دیا، جو لانکیسٹر یونیورسٹی مانچسٹر میں پروفیسر ہیں۔ دو برس قبل انہوں نے فضا سے ہوا کے کچھ سیمپلز لے کر ان کا لیبارٹری تجزیہ کیا تھا تو حیران کن طور پر آزاد فضا میں ہزاروں کی تعداد میں خوردبینی ذرات کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ ان ذرات میں زیادہ مقدار آئرن کی تھی۔

ڈاکٹر باربرا مہر کی تحقیق سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ فضا میں بڑھتی ہوئی آئرن، ایلومینیم اور ٹی ٹینیئم کے ذرات کی مقدار انسانی دماغ کے خلیات کو متاثر کر کے متعدد اعصابی امراض کا سبب بن رہی ہے، جس میں پارکنسن اور الزائمر سر فہرست ہیں۔

ڈاکٹر عنبر عباس کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ ان کی مشترکہ تحقیق کا مثبت پہلو یہ کہ اس طرح الزائمر کے مریضوں کے جسم میں آئرن کی شناخت نا صرف با آسانی ممکن ہو گی بلکہ یہ ایک سستا اور ماحول دوست طریقہ ہے۔ یہ گریفین کوانٹم ڈاٹس تیار کرنے کے لیے اس سے پہلے تیزاب کا استعمال کیا جاتا تھا، جس پر لاگت بھی زیادہ آتی تھی اور مضر اثرات الگ تھے۔

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تیار کردہ گریفین کوانٹم ڈاٹس کو پانی میں آئرن اور دیگر بھاری دھاتوں کی شناخت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں صنعتی فضلہ آبی ذخائر میں شامل ہونے کی وجہ سے لوہے، نکل، کرومیم وغیرہ جیسی دھاتوں کے ذرات کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو کینسر، جگر، گردے اور جلدی امراض کا سبب بن رہے ہیں۔

ڈاکٹر عباس کے مطابق یہ ضروری ہے کہ مقامی سطح پر صاف پانی کے ذخائر میں بھاری دھاتوں کی مقدار معلوم کر کے ان کی صفائی کا انتظام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے یہ گریفین کوانٹم ڈاٹس آئیڈیل ہیں کیونکہ یہ سستے اور ماحول دوست طریقے سے تیار کیے گئے ہیں جس کے لیے خام مال یعنی چائے کی پتی کا پھوک ہر جگہ با آسانی دستیاب ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Hx5XUL4

اتوار، 15 جنوری، 2023

ہم کہاں سے آے: آرین سے پہلے اور کون ہندوستان آیا، زبان کی کہانی... وصی حیدر

(34 ویں قسط)

اسٹرو ایشیاٹک زبانیں ایشیا کے جنوب مشرقی علاقہ (تھائی ینڈ، لاؤس، مینمار، ملیشیا، بنگلہ دیش، نیپال، ویت نام، کمبوڈیا اور جنبوبی چین) سے پھیلیں اور یہ ہندوستان، بنگلہ دیش، نیپال اور چین کے جنوبی علاقہ میں اب بھی بولی جاتی ہیں اور دنیا میں ان کے بولنے والوں کی تعداد تقریباً بارہ کروڑ ہے۔

ابھی تک ہم نے ہندوستان آنے والے صرف دو خاص بڑے گروپ کا ذکر کیا ہے جو آپس میں گھل مل گئے اور ہڑپا کی عظیم تہذیب کو جنم دیا اور موجودہ ہندوستانی آبادی کی بنیاد ڈالی: پہلا گروپ افریقہ سے آنے والے ہوموسیپینس کا ہے جو تقریباً 80 ہزار سال پہلے آئے اور چند ہزار سالوں میں ہندوستان کے مختلف حصّوں کو آباد کیا۔ 7000 قبل مسیح کے آس پاس ایران کے زرگوس پہاڑیوں کے آس پاس رہنے والے نئی نئی چراگاہوں کی تلاش میں ہندوستان کے شمال مغربی علاقہ میں آکر بسے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ کھیتی کے شروعاتی تجربے کی جانکاری لے کر آئے جس کا تجربہ یہاں بسے لوگ بھی کر رہے تھے۔ ان آنے والے لوگوں نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ مل کر موجودہ پاکستان کے مہرگڑھ میں ایک نئی تہذیب کا بیج ڈالا جو وقت گزرنے کے ساتھ 2600 قبل مسیح کے آس پاس ایک بڑے پیڑ یعنی ہڑپا کی تہذیب کی شکل میں ابھرا۔ ان دونوں آنے والے لوگوں کے بارے میں ہم کو بہت کچھ معلوم ہے کیونکہ ان کے بارے میں بہت عرصہ سے تحقیقات ہوئیں ہیں۔ ہڑپا تہذیب کے زوال کے وقت انسانوں کا ایک تیسرا گروپ، اسٹرو ایشیاٹک زبان بولنے والے لوگ آئے لیکن ان کے بارے میں ابھی تک بہت کم تحقیقات ہوئیں ہیں، امید ہے کے یہ کمی شاید اب پوری ہوگی۔

ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں کی چار خاص مختلف دھاریں ہیں

پہلی: دراوڑ زبانیں (تامل، تلگو، ملیالم اور کننڑ) جو آبادی کے پانچویں حصّہ کے لوگ بولتے ہیں۔ یہ زبانیں جنوبی ایشیا کے علاوہ دنیا میں کہیں اور نہیں بولی جاتیں۔  

دوسری: ہندوستان میں استعمال ہونے والی زبانیں (ہندی، اردو، بنگالی، بھوجپوری، مراٹھی، پنجابی، کشمیری، راجستھانی، سندھی اسامیا، میتھلی اور اوڑیہ) انڈو یورپین خاندان سے ہیں جو آبادی کے تین چوتھائی لوگ بولتے ہیں۔ انڈو یورپین زبانیں ایشیا سے یورپ پہلی ہوئی ہیں۔

تیسری: زبانیں (168 زبانیں جن میں خاص منڈا اور کھاسی) اسٹرو ایشیاٹک ہیں جوموجودہ آبادی کے ایک فصدی سے کچھ زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ یہ میگھالیہ سے نکوبار جزیرے تک پھیلی ہوئی ہیں اس کے علاوہ یہ زبانیں جنوبی اور مشرقی ایشیا کے علاقہ میں بولی جاتی ہیں۔

چوتھی: زبانوں (ان میں خاص آٹھ : برمیز، تبتن، بائی، لولو، کرین، مٹائی، ہنی اور جنگپو) کا خاندان تبتو برمن ہیں جو چین اور جنوبی ایشیا میں بولی جاتی ہیں لیکن ہندوستان میں ان کے بولنے والے ایک فصدی سے بھی کم لوگ ہیں۔

مختلف زبانوں کے پھیلنے کی داستان کافی دلچسپ ہے لیکن اس کا تفصیلی ذکر یہاں ممکن نہیں۔ ضروری نہیں کے باہر سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ آکر مقامی لوگوں پر غالب ہو جائیں، تجارت اور شدت سے رابطہ بھی زبانوں کو پھیلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کی سب سے بہتر مثال ہندوستان میں انگریزی زبان کا پھیلنا ہے۔

اس بات کا ذکر پہلے ہو چکا ہے کہ دراوڑ زبانوں کی جڑ ہڑپہ تہذیب کے اسکرپٹ میں ہے۔ ہڑپہ تہذیب کے لوگ مختلف وقتوں پر اور خاص کر اپنے زوال کے وقت، 2000 قبل مسیح کے آس پاس نئی بہتر جگہوں کی تلاش میں جنوبی ہندوستان میں اپنے ساتھ دراوڑ زبان کا شروعاتی نسخہ لاۓ۔

ہندوستان میں اسٹرو اشیاٹک زبانوں کے دو خاص بڑے خاندان ہیں: منڈا اور کھاسی- منڈا زبانوں میں مندری، سنتھالی، ہو-زیادہ تر مشرقی علاقوں میں خاص کر جھارکھنڈ میں استعمال ہوتی ہیں۔ کورکو کے کچھ بولنے والے مدھیہ پردیش اور مہاراشر میں بھی ہیں۔ کھاسی خاندان کی زبانیں زیادہ تر میگھالا اور اسم کے کچھ حصوں میں بولی جاتی ہیں۔ منڈا اور کھاسی زبانوں کا اہم رشتہ مون کھمیر زبانوں سے ہے جو ویتنام، کمبوڈیا، لاؤس اور جنوبی چین کے لوگ استمال کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسٹرو اشیاٹک زبانوں کے بولنے والے تقریباً دس کروڑ لوگ ہیں۔ اس لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

ہندوستان میں تقریباً 700 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان سب کے بولنے والوں کا اس ملک پر برابر کا حق ہے۔ ہمارے ملک کی یہ خوبصورتی ہے کے اس میں بہت رنگوں کی ملاوٹ ہے۔  ان زبانوں کے بولنے والے لوگوں کے ہندوستان آنے سے منسلک یہ سوال بھی ہے کہ کیا یہی لوگ ہندوستان میں چاول اور اس کی کھیتی کی ترکیبیں اپنے ساتھ لائے۔

چاول کی کہانی کا ذکر اگلی قسط میں ہوگا۔ 



from Qaumi Awaz https://ift.tt/nEy3DxA

اتوار، 8 جنوری، 2023

سوشل میڈیا کا بہتر استعمال، کیا نئے پلیٹ فارم مددگار ہوں گے؟

سوشل میڈیا کو چھوڑنا یا اس کا استعمال کم کرنا نئے سال کا ایک بہترین عہد ہو سکتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنے سے جسمانی اور دماغی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

بہت سے لوگوں نے مستقل یا عارضی طور پر انٹرنیٹ سے بریک لیا، جس سے ان کی پیداواری صلاحیت، ارتکاز اور خوشی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لیکن یہ نام نہاد 'ڈیجیٹل ڈی ٹاکسنگ‘ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ دوستوں اور خاندان کے ساتھ جڑے رہنے جبکہ خبروں اور آن لائن مباحثوں کا حصہ بننے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام بڑے پلیٹ فارمز کے الگورتھم، جو صارفین کے ان ایپس پر گزارے جانے والے وقت کو بڑھانے کے لیے ہیں، انہیں تجارتی اور تفریحی تصاویر اور ویڈیوز کے بھنور میں پھنسا سکتے ہیں۔

ڈچ ڈاکٹر ایلسیلین کوپرز نے اس مسئلے کا یہ حل پیش کیا کہ انہوں نے ایک غیر تجارتی اور کم مقبول ایپ کا استعمال شروع کر دیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ میرے لیے پر سکون اور انتہائی خوشگوار تجربے کا باعث بنا ہے‘‘۔

کوپرز بی ریئل ایپ استعمال کرتی ہیں۔ اس ایپ کے یوزر ہر روز اپنی زندگی کا ایک ہی سنیپ شاٹ پوسٹ کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ دن کے کسی بھی وقت ایک نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے صارف کو اپنی تصویر کھینچنے اور پوسٹ کرنے کے لیے فقط دو منٹ دیے جاتے ہیں۔ کوپر کے مطابق دو منٹ میں کوئی بھی انسان مصنوعی طور پر خوش نظر آنے والی تصویر نہیں بنا سکتا۔ ان کے مطابق، ''اس ایپ پر آپ فلٹرز کا استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ تو آپ صرف وہی پوسٹ کر سکتے ہیں، جو آپ اس لمحے کر رہے ہوتے ہیں‘‘۔

بی ریئل نامی اس ایپ کو 2022ء کے موسم گرما میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سال اسے 10 سب سے زیادہ ڈاؤنلوڈ کی جانے والی ایپس میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں میں ایک مختلف اور کم پریشانی کا باعث بننے والی سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

ٹک ٹاک، فیس بک یا یوٹیوب جیسے زیادہ تر پلیٹ فارمز کے لیے مسئلہ ان کے الگورتھم یا ان کے کاروباری ماڈل ہیں۔ وہ وقت، جو ایک عام صارف سوشل میڈیا ایپس پر گزارتا ہے،اسے سوشل میڈیا پر اشتہار دینے والی کمپنیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ ایپس کی بہتری کے لیے اس ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار اس ڈیٹا کو تھرڈ پارٹیز کو بھی فروخت کر دیا جاتا ہے۔

یہ کاروباری ماڈل سوشل میڈیا سے منسلک مسائل، جیسے کہ دماغی صحت پر اثرات، صارف کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کی صلاحیت، ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔

پروفیسر کرسٹیان مونٹاگ، جو جرمنی کی اُلم یونیورسٹی میں مالیکیولر سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں، نے 2022ء میں شائع ہونے والے ایک ریسرچ پیپر میں ان 'بگ ٹیک فنکشنل ماڈلز‘ کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب تک صارفین سوشل میڈیا کے استعمال کی قیمت اپنے ڈیٹا کی صورت میں ادا کرتے رہیں گے، تب تک یہ مسائل حل نہیں ہو سکتے‘‘۔

سوشل میڈیا کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی ایپس اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈیسینٹرلائزڈ سٹرکچر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد ایلگورتھم کے بجائے صارف کو ہی شائع ہونے والے مواد کا کنٹرول دینا ہے۔

میسٹوڈون انہی ایپس میں سے ایک ہے، جس پر ایک مرکزی سرور کے بجائے باہم منسلک کئی سرورز صارفین کے اکاؤنٹس مینج کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر سرور کے اپنے اصول اور ضوابط ہوتے ہیں۔ اس نئی تشکیل، جسے 'فیڈیورس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک سرور کے صارفین کو دوسرے سرورز کے صارفین کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ٹویٹر جیسے پلیٹ فارم کے مقابلے میں میسٹوڈون پر کمیونٹیز کو اپنے لیے اصول و قواعد خود بنانے کی آزادی ہوتی ہے۔

ایلون مسک کی جانب سے ٹویٹر خریدے جانے کے بعد میسٹوڈون ایپ ہیڈ لائینز کی زینت بنی کیونکہ یہ ہی وہ ایپ ہے، جسے صارفین نے ٹویٹر چھوڑنے کے بعد جوائن کیا۔ کچھ ماہرین نے اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ان نئے پلیٹ فارم کی ڈی سینٹرلائزڈ پالیسی مواد کو مانیٹر کرنے اور نامناسب یا نقصان دہ پوسٹس کو حذف کرنے کے مراحل کو مشکل بنا سکتی ہے۔ تاہم مونٹاگ ان تجربات کے مستقبل کے بارے میں پرامید نظر آتے ہیں، ''میرے خیال میں فیڈیورس مستقبل ہو سکتا ہے‘‘۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ پہلے سے موجودہ بڑے پلیٹ فارمز سے مقابلہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔

سینٹر فار ہیومن ٹیکنالوجی ان اداروں میں سے ایک ہے، جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی سخت نگرانی کے حق میں ہے اور ساتھ ہی ان کے تباہ کن بزنس ماڈل کو ختم کروانے کے لیے مہم چلا رہا ہے۔ مونٹاگ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیز کو ریگولیٹ کرنا اور ان سے ہونے والے نقصان کو کم کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنے کہ نئے آئیڈیاز۔

بڑی ٹیک کمپنیوں کے نقصانات کو کم کرنے کے علاوہ، ریگولیشن متعارف کروانے سے نئے اسٹارٹ اپس کے لیے مقابلے کی فضا بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہمیں ایسے طریقہ کار متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو صارفین کو مختلف پلیٹ فارمز پر بات چیت کرنے کے مواقع فراہم کریں‘‘۔

سائنسدان اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کو عوامی بھلائی کا بہتر ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ سوشل میڈیا کو ایسے کاروباری ماڈل سے الگ کرنا ضروری ہے، جو صارفین کے ڈیٹا اور وقت پر انحصار کرتا ہے۔ یہ وہ واحد طریقہ ہے، جس کے ذریعے سوشل میڈیا کے ''صحت مند‘‘ استعمال کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XpvIQz4