پیر، 20 فروری، 2023

فیس بک کا قیمتاً بلیو ٹک 'تصدیق شدہ' سروس کا اعلان

فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے 19 فروری اتوار کے روز اعلان کیا کہ صارفین کی جانب سے ادائیگیوں کی بنیاد پر 'سبسکرپشن' سروس کا ایک نیا تجربہ شروع کیا جا رہا ہے۔

'میٹا ویری فائیڈ' سروس اس ہفتے پہلے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں دستیاب کرائی جائے گی، جو صارفین کی شناخت کی تصدیق کرنے کے ساتھ ہی انہیں ان کی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے نیلے رنگ کا بیج بھی فراہم کرے گی۔

کمپنی کے سی ای او مارک ذکربرگ نے کہا کہ سبسکرپشن میں نقالی سے بچنے کے لیے اضافی تحفظ اور ترجیحی کسٹمر سپورٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس کے لیے صارفین کو ویب سائٹ کے لیے ماہانہ تقریباً بارہ امریکی ڈالر کی فیس ادا کرنی ہو گی اور ایپل کے آئی او ایس یا اینڈرائیڈ سسٹم پر ماہانہ تقریباً پندرہ امریکی ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔

اس کا اعلان کرتے ہوئے مارک ذکر برگ نے کہا، ''اس ہفتے سے ہم ایک 'میٹا ویری فائیڈ' سبسکرپشن سروس شروع کر رہے ہیں، جو سرکاری شناخت کے ساتھ آپ کے اکاؤنٹ کی تصدیق کرے گا، نیلے رنگ کا بیج فراہم کرے گا نیز آپ کو نقل کرنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ہی کسٹمر سپورٹ تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔'' ان کا مزید کہنا ہے، ''یہ تمام نئے فیچر ہماری سبھی سروسز میں صداقت اور سلامتی کو بڑھانے سے متعلق ہیں۔''

دیگر سوشل میڈیا سبسکرپشنز

میٹا نے جس سروس کا اعلان کیا ہے وہ ایلون مسک کی اس اسکیم سے تقریباً ملتی جلتی ہے جو انہوں نے ٹویٹر پر ماہانہ آٹھ ڈالر کی فیس کی بات کہی تھی۔

گزشتہ برس ٹویٹر کے اعلان سے پلیٹ فارم پر جعلی اکاؤنٹس سے متعلق شرمناک خبریں آنی شروع ہوئیں، جس کی وجہ سے نہ صرف اشتہار دینے والے خوفزدہ ہو گئے بلکہ سائٹ کے مستقبل کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔

ان وجوہات کے سبب ایلون مسک دسمبر میں اس سروس کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اسے مختصر وقت کے لیے معطل کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ تاہم ذکربرگ نے اس بات پر زور دیا کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر پہلے سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

اسنیپ چیٹ، اسنیپ انک اور ٹیلی گرام جیسی سوشل میڈیا ایپس نے بھی گزشتہ برس ادائیگیوں کی بنیاد پر ایسی ہی سبسکرپشن سروسز کا آغاز کیا، جو کہ آمدن کا ایک نیا ذریعہ ہے۔

سن 2022 میں میٹا سیلز کی آمدن میں کمی

ورچوئل رئیلٹی کی دنیا میٹاورس پر ایک بڑا جوا کھیلنے کے بعد میٹا کافی دباؤ میں ہے۔ سن 2012 میں پبلک ہونے کے بعد سے اس ماہ کے اوائل میں میٹا نے پہلی بار اپنی آمدن میں کمی کی بات تسلیم کی ہے۔ گزشتہ برس اس کی فروخت میں ایک فیصد کی کمی ہو کر 116.6 بلین ڈالر ہی رہ گئی۔

فیس بک کے صارفین کے اضافے میں بھی کمی آئی ہے، تاہم کمپنی نے حال ہی میں یہ اعلان بھی کیا ہے کہ پہلی بار فیس بک پر یومیہ صارفین کی تعداد دو ارب تک پہنچ گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wfCAgKX

جمعہ، 17 فروری، 2023

انٹرنیٹ پر فون نمبر تلاش کرتے وقت رہیں ہوشیار، ٹھگوں نے بچھا رکھا ہے جال!

لکھنؤ: سرچ انجن پر فون نمبر تلاش کرنا آسان لگ سکتا ہے لیکن بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ٹھگوں کا جال ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حالیہ دو واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں۔ پہلے معاملہ میں ایک شخص سے اس وقت 71000 روپے کی ٹھگی کر لی گئی جب اس نے اسپتال کا نمبر معلوم کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیا۔ اس کی بیوی بیمار تھی اور اس نے مشورہ کے لیے اس نمبر پر کال کی۔ متاثرہ بھگوان دین کو لکھنؤ کے ندرا نگر علاقہ میں ایک ڈاکٹر سے مشاورت کے لیے ایک مریض کو رجسٹر کرنے کے لیے ’فون پے‘ کے ذریعے 10 روپے جمع کرنے کو کہا گیا تھا۔

جب متاثرہ نے بتایا کہ وہ ایپ کے ذریعے ادائیگی نہیں کر سکتا تو ٹھگ نے اس سے اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر شیئر کرنے کو کہا، جو اس نے کر دیا۔ اسے ’کوئیک سپورٹ ایپ‘ ڈاؤن لوڈ کرنے اور ایپ کے ذریعے 10 روپے ادا کرنے کو کہا گیا۔ تھوڑی دیر بعد متاثرہ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایک او ٹی پی آیا اور ٹھگ نے اسے شیئر کرنے کو کہا۔

متاثرہ نے بتایا ’’مجھے ایک رجسٹریشن نمبر دیا گیا اور اگلے دن صبح 10 بجے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے لیے اسپتال جانے کو کہا گیا۔ تاہم جب میں وہاں پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ اسپتال نے کوئی ایڈوانس رجسٹریشن نہیں کیا۔ اس کی بیوی کے داخل ہونے کے بعد جب وہ پیسے نکالنے کے لیے اے ٹی ایم گیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے بینک اکاؤنٹ سے 71755 روپے نکال لیے گئے ہیں۔ اندرا نگر کے ایس ایچ او چھترپال سنگھ نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات کے لیے سائبر سیل کی مدد لی گئی ہے۔

ایک اور واقعہ میں امین آباد کے رہائشی کو چھاؤنی کے صدر علاقہ میں معروف دکان سے مٹھائی خریدنے کے بہانے 64 ہزار روپے سے زائد کا چونا لگایا گیا ہے۔ متاثرہ اشوک کمار بنسل نے گوگل پر دکان کا موبائل نمبر تلاش کرنے کے بعد دکان سے مٹھائی کا آن لائن آرڈر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے فون اٹھایا اس نے ادائیگی کے لیے اس کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات مانگیں۔

بنسل نے کہا ’’میں نے آرڈر کے لیے 64110 روپے ادا کر دئے لیکن جب میں آرڈر لینے دکان پر پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ موبائل نمبر جعلی ہے اور مجھ سے ٹھگی کی گئی ہے۔‘‘

سائبر سیل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تروینی سنگھ نے کہا کہ جب کوئی صارف ایسی (کوئیک سپورٹ) ایپ ڈاؤن لوڈ کرتا ہے تو وہ ایپ کو تمام اختیارات فراہم کر دیتا ہے۔ ان اختیارات میں ایپ میں دیگر تمام ایپس، گیلری اور رابطہ کی فہرستوں تک رسائی شامل ہے۔ اس اجازت سے شرپسندوں کو فون تک ریموٹ رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ جب کوئی الیکٹرانک ڈیوائس ریموٹ ایکسیس پر ہوتی ہے، تو وہ شخص جس نے ریموٹ ایکسیس لیا ہے وہ تمام سرگرمیاں واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب متاثرہ شخص اپنا نام، نمبر بھرنے اور سروس چارج کے طور پر 10 روپے ادا کرنے میں مصروف ہوتا ہے، تو ٹھگ پِن نمبر دیکھ سکتے ہیں، جسے بعد میں رقم نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9twQodJ

بدھ، 15 فروری، 2023

سمندر میں غرق جائیں گے ممبئی اور نیویارک جیسے بڑے شہر! اقوامی متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ: موسمیاتی تبدیلی میں شدت نے دنیا کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس حوالہ سے جو رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں وہ ایک بڑے بحران کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اگر سطح سمندر میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو ممبئی اور نیویارک سمیت دنیا کے کئی بڑے شہر سمندر میں غرق آ جائیں گے۔ دنیا بھر میں محسوس کی جا رہی موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے یہ انتباہ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ ممبئی اور نیویارک جیسے بڑے شہروں کو سطح سمندر میں اضافے سے سنگین اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ سطح سمندر میں اضافہ اپنے آپ میں ایک بڑا خطرہ ہے اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح مستقبل کو غرق کر رہی ہے۔

انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا ’’ہر براعظم کے بڑے شہر مثلاً قاہرہ، لاگوس، ماپوٹو، ڈھاکہ، جکارتہ، ممبئی، شنگھائی، بنکاک، لندن، لاس اینجلس، نیویارک، بیونس آئرس، سینٹیاگو اور کوپن ہیگن کو کو سنگین اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘

گوٹیرس نے کہا کہ عالمی اوسط سمندر کی سطح 1900 کے بعد گزشتہ 3000 سالوں میں کسی بھی پچھلی صدی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے اور یہ کہ عالمی سمندر گزشتہ صدی میں پچھلے 11000 سالوں میں کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق، خواہ عالمی درجہ حرارت (گلوبل وارمنگ) ’معجزانہ طور پر‘ 1.5 ڈگری سیلسیس تک ہی محدود کیوں نہ رہے، پھر بھی یہ سمندر کی سطح میں نمایاں اضافہ کا باعث بنے گا۔

گوٹیرس نے یہ بیان اقوام دنیا بھر کے چھوٹے جزیروں، ترقی پذیر ریاستوں اور دیگر نشیبی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’سطح سمندر میں اضافہ - بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے مضمرات‘ کے موضوع پر ہونے والی بحث کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا ’’سطح سمندر میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ بڑھتے ہوئے سمندر سے کچھ نشیبی علاقوں اور یہاں تک کہ ممالک تک کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ یہ خطرہ خاص طور پر تقریباً 900 ملین لوگوں کے لیے سنگین ہے جو کم اونچائی والے ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ زمین پر دس میں سے ایک شخص ہے، کچھ ساحلی علاقوں میں پہلے ہی سطح سمندر میں اضافے کی اوسط شرح تین گنا زیادہ ہے۔

سربراہ اقوام متحدہ نے کہا ’’ہمیں متاثرہ آبادی کے تحفظ اور ان کے ضروری انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھنا چاہئے۔ بڑھتے ہوئے سمندر سے پیدا ہونے والے تباہ کن سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درکار سیاسی عزم پیدا کرنے میں سلامتی کونسل کا اہم کردار ہے۔ ہم سب کو اس اہم مسئلے پر بات کرتے رہنا چاہیے اور اس بحران کی اگلی خطوط پر موجود لوگوں کی زندگیوں، معاش اور برادریوں کی مدد کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QSE1zJd

اتوار، 12 فروری، 2023

ہم کون ہیں! کیا آرین ہندوستان سے سارے ایشیا میں پھیلے، ڈی این اے کی زبانی... وصی حیدر

(37ویں قسط)

کچھ عرصہ پہلے تک اس سمجھ کی گنجائش تھی کے شاید آرین ہندوستان سے اپنی انڈو یوروپین زبان کو لے کر پورے ایشیا اور یورپ تک پھیلے لیکن اب جینیٹکس اور خاص کر پرانے انسانی ڈھانچوں کی تحقیقات نے اس بحث کو پورے طور سے ختم کر دیا۔

موجودہ ہندوستان کے تقریباً تین چوتھائی لوگ انڈو یوروپین زبانیں بولتے ہیں۔ مختصراً یہ زبانیں ہندی، گجراتی، بنگالی، پنجابی اور مراٹھی ہیں۔ پوری دنیا کے تقریباً 40 فیصدی لوگ انگریزی، فرانسیسی، اسپنش،پرتگالی، جرمن، روسی اور ایرانی بولتے ہیں جو انڈو یوروپین زبانیں ہیں۔ ہندوستان ان زبانوں کی مشرقی حد ہے، یعنی ہمارے مشرق میں کوئی بھی انڈو یوروپین زبان استعمال نہیں کرتا۔

یہ سوال اہم ہے کے ہندوستان میں اتنے بڑے پیمانہ پر انڈو یوروپین زبانوں کا استمال کیوں اور کیسے ہوا؟ اس سوال کے دو ہی جواب ممکن ہیں، پہلا تو یہ زبانیں ہندوستان سے صرف ہمارے شمال مغرب میں پھیلیں یا دوسرا جواب یہ کہ یہ زبانیں ہندوستان میں باہر سے آئیں۔ اس مضمون میں ہم صرف اس پر غور کریں گے کہ اگر یہ ہندوستان سے سارے شمالی مغربی ایشیا اور یوروپ گئیں تو ہم کو اس کے کیا جینیٹکس کی تحقیقات میں ثبوت ملنے چاہیئں۔ اس سلسلہ میں حال ہی میں کی گئی پرانے انسانی ڈھانچوں کی ڈی این اے تحقیقات سے دلچسپ انکشاف ہوا ہے۔

اگر ہم یہ مان لیں کے سنسکرت یا اس کا کوئی شروعاتی نسخہ ہندوستان سے چند لوگ ایشیا اور یوروپ لیکر گئے تو ہم کو ڈی این اے تحقیقات میں کیا ملنا چائے؟ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ہندوستان میں افریقہ سے آے ہوے پہلے ہوموسیپینس کے ڈی این اے کی ملاوٹ ان تمام جگہوں اور خاص کر یورپ کے لوگوں میں ہونی چاہیے۔ ہم سب کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ افریقہ سے آنے والے ہوموسیپینس نے انسانوں کی اور قسموں پر غالب آ کر پوری دنیا کو آباد کیا۔ ارتقا کی منزلیں ہزاروں سال میں طے کرتے ہوے انھیں لوگوں نے ہڑپہ کی عظیم تہذیب کو جنم دیا۔ اگر ہندوستان سے خاصی تعداد میں ہجرت کر کے ہڑپہ سے پہلے یا بعد میں یہ لوگ اپنی زبان کو لے کر پورے ایشیا اور یورپ میں پھیلے تو ان کے ڈی این اے کے نشانات ان جگہوں پر ملنے چاہئیں۔ ڈی این اے کی تحقیقات نے ثابت کر دیا کہ نہ ہی ایشیا کے اور ملکوں میں اور نہ یورپ میں کوئی پرانا ہندوستانی ڈی این اے یا اس کے کسی اور میوٹیشین کے کوئی نشان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے ڈی این اے تحقیقات نے بلاشبہ یہ ثابت کر دیا کہ دنیا میں انڈو یورپین زبانیں پھیلانے والے ہندوستان سے نہیں گئے۔

ڈی این اے تحقیقات کا ایک اور اہم نتیجہ ہے جس کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اس کو آپ کے دلوں میں کوئی شبہ پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔ یوروپ اور امریکہ میں ایک خانہ بدوش بہت کم تعداد والی قوم ہے جو جپسی یا روما کہلاتی ہے۔ اگر آپ روم میں کلوسیم گھومنے جائیں تو یہ جپسی آپ کو دیکھنے کو ضرور مل جائیں گے۔ لوگ یہ ہدایت دیتے ہیں کی اپنا پرس ذرا احتیاط سے سنبھالیں، ورنہ غائب ہو جائے گا۔ جنیٹکس کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ یہ روما قوم کے لوگ 1500 سال پہلے پنجاب، سندھ، راجستھان اور ہریانہ سے ہجرت کرتے ہوۓ یورپ پہنچے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کی ان لوگوں کی ہجرت کا وقت انڈو یوروپین زبانوں کی خاصی اچھی طرح بھیلنے کے کافی بعد کا ہے یعنی جب یہ یورپ پہنچے تب تک انڈو یورپین زبانیں یورپ اور ایشیا میں پھیل چکی تھیں۔

ڈی این اے تحقیقات پر ایک بہت بڑا ریسرچ مضمون 2011 میں چھپا جس کا ذکر ضروری ہے۔ یہ معلوم ہوا کہ روما کے لوگوں میں 65 سے لے کر 95 فیصد یورپین جینس ہیں اور باقی حصّہ ڈی این اے میوٹیشن ہونے کے بعد ایم ہیپلوگروپ کا ہے جو ہندوستانی ہے اور روما کے علاوہ یورپ کی پوری آبادی میں کسی بھی انسان میں ہندوستانی جینس کے کوئی بھی نشان نہیں ملے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈی این اے تحقیقات یہ بلا شبہ ثابت کرتی ہے کہ آرین یا انڈو یورپین زبانیں ہندوستان سے نہیں پھیلیں۔

اگلی قسط میں اس بات کا ذکر ہوگا کے اگر آرین باہر سے ہندوستان آے تو ان کا ڈی این اے تحقیقات میں کیا ثبوت ملا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/sJz1pCU

پیر، 6 فروری، 2023

ٹک ٹاک: عالمی حکام کی توجہ کا مرکز کیوں؟

جہاں ایک طرف نوجوانوں میں یہ ویڈیو اسٹریمنگ ایپ مقبول تر ہوتی جا رہی ہے وہیں دوسری جانب عالمی سطح پر قانون ساز اس بحث میں مصروف ہیں کہ اگر وہ ٹک ٹاک کو غیر قانونی قرار نہیں دے سکتے تو اسے سخت حدود کا پابند کس طرح بنایاجائے۔

گو یورپی یونین کی جانب سے نئی قانون سازی کی جارہی ہے جس کے تحت ٹک ٹاک کو نقصان دہ مواد پر سختی سے نظر رکھنے پر مجبور کیا جاسکے گا تاہم امریکا سے جاپان تک دنیا کے کئی ممالک اس غور و فکر میں ہیں کہ اس ایپ کو مزید ریگولیٹ کریں یا بھارت کی طرح ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کردیں۔

ضابطہ کاروں کو خدشہ ہے کہ چینی حکومت اس ایپ کو اپنے مفادات کے فروغ کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ حکومت صارفین کے ڈیٹا تک خفیہ رسائی حاصل کرتے ہوئے گمراہ کن معلومات پھیلا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی برسلز کی غیر منافع بخش تنظیم، ایکسس ناؤ (Access Now) سے منسلک ماہر ایسٹیل ماس، کا ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا، ''چینی حکومت کی جانب سے ممکنہ نگرانی کے جائز خدشات موجود ہیں۔ ایسے میں ٹک ٹاک پر خصوصی طور پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دنیا میں تیزی سے پھیلتا ہوا سوشل میڈیا ہے اور اس کے صارفین میں اکثریت کم عمر افراد کی ہے۔‘‘

ٹک ٹاک کی مالک کمپنی، ByteDance کو صارفین کی معلومات اکھٹا کرتے ہوئے انہیں استعمال کرنے کے طریقہ کار پر پہلے ہی کافی عرصے سے کڑی جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ تاہم ضابطہ کاروں کی جانب سے کمپنی پر دباؤ میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب گزشتہ برس دسمبر میں یہ بات سامنے آئی کہ ByteDance کے ملازمین نے پریس کو لیک کی جانے والی معلومات کی تفتیش کے لیے مغربی صحافیوں کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ٹک ٹاک کی ترجمان نے اس واقعے کو ''چند مخصوص افراد کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی‘‘ کا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ اب وہ افراد ByteDance کے ملازم نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد کمپنی نے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹک ٹاک کے صارفین کا ڈیٹا چین سے باہر موجود مراکز میں محفوظ کیا جاتا ہے تاہم چین میں موجود چند ہی ملازمین کو اس تک رسائی دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیجنگ حکومت نے نہ تو کبھی ٹک ٹاک صارفین کا ڈیٹا طلب کیا اور نہ ہی کبھی ایسی معلومات انہیں مہیا کی گئیں۔

ٹک ٹاک کس طرح مقبول ہوا

انٹرنیٹ کی تاریخ میں کوئی ایپ اتنی تیزی سے مقبول نہیں ہوئی جتنی کہ ٹک ٹاک۔ چند برسوں کے اندر ہی یہ ایپ خبریں اور معلومات فراہم کرنے والا دنیا کا معروف ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن گیا جس کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سن 2018 میں ByteDance نے چینی ایپ Douyin کی طرز پر عالمی مارکیٹ میں ٹک ٹاک کو لانچ کیا۔ ستمبر 2021 میں پلیٹ فارم نے اعلان کیا کہ اس کے ماہانہ سرگرم صارفین کی تعداد ایک بلین تک پہنچ گئی ہے۔ فیس بُک کو یہ ہی سنگ میل طے کرنے میں آٹھ برس لگے۔ ڈاون لوڈ کے اعداد وشمار کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم یہ تعداد کتنی ہے، ٹک ٹاک کی جانب سے یہ معلومات کمپنی کی پالیسی کے باعث فراہم نہیں کی گئی ہے۔

تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ٹک ٹاک کا 'فار یو‘ پیج اس ایپ کی مقبولیت کے پیچھے چھپا راز ہے۔ یہ پیج ویڈیوز کا ایسا سلسلہ دیتا ہے جو ہر صارف کو مختلف انداز میں نظر آتا ہے۔ صارف جیسے ہی اس ایپ کو کھولتے ہیں تو یہ خودکار طریقے سے کام کرتے ہوئے صارف کی توجہ سے منسلک مواد کا تجزیہ شروع کر دیتا ہے مثلا صارف کس طرح کا مواد دیکھنا چاہتا ہے یا کتنی دیر کوئی ویڈیو دیکھ رہا ہے۔ اس طرح سے کچھ ہی وقت میں اس کا الگوردم یہ سیکھ لیتا ہے کہ استعمال کرنے والے صارف کی دلچسپی کا باعث کس انداز کا مواد ہے۔

کیا ٹک ٹاک ہائی جیک ہو سکتا ہے؟

خبروں تک رسائی کے لیے ٹک ٹاک کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور ڈی ڈبلیو سمیت کئی بڑے خبر رساں ادارے اس پلیٹ فارم پر باقاعدگی سے پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ تاہم تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے طاقتور الگوردم کو جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرس رے سمیت دیگر امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خصوصی طور پر بیجنگ حکومت اس ایپ پر جاری مواد کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہوئے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے یا بیرون ممالک سماجی انتشاری کو پھیلانے نے کے استعمال کر سکتی ہے۔

ٹک ٹاک کی ترجمان نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اس پلیٹ فارم کی کوشش رہی ہے کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز سے قابو کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے حقائق جانچنے والی مختلف تنظیموں کے ساتھ پارٹنرشپ کے علاوہ حکومتی یا اس کا اثر رسوخ رکھنے والے اکاؤنٹ سے ویڈیو اپ لوڈ ہونے پر صارفین کو مطلع کیا جاتا ہے۔

ضابطہ کاری

یورپی یونین کی جانب سے جلد ہی ایسی قانون سازی کا اطلاق کیا جائے گا جس کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز پر لازم ہوگا کہ وہ یورپی یونین کے منتخب کردہ تجزیہ کاروں کو اپنے اندرونی کام کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ تاہم ابھی یہ طے نہیں کیا گیا کہ کیا ان پلیٹ فارمز میں ٹک ٹاک بھی شامل ہے یا نہیں۔

دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان میں اس ماہ قانون سازوں کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے ایک بل پر ووٹنگ ہو گی۔ اگر اکثریت رائے سے یہ بل پاس ہو گیا تو امریکی صدر جو بائڈن کی قانونی انتظامیہ ٹاک ٹاک پر وسیع تر قومی مفادات کے تناظر میں ملک بھر میں پابندی عائد کر سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TzfWcpg