جمعہ، 27 اکتوبر، 2023

وزیر اعظم مودی نے آئی ایم سی 2023 کا افتتاح کیا، نیٹ ورک آلات میں خود انحصاری کو سکیورٹی کے لیے ضروری قرار دیا

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے انٹرنیٹ ٹکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے موجودہ دور میں سائبر سیکورٹی اور بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ سائبر سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے نیٹ ورک آلات کے معاملے میں خود انحصاری بہت ضروری ہے۔

وزیر اعظم مودی آج راجدھانی میں انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی ) 2023 کا افتتاح کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کی 100 یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 5G ایپ ڈویلپمنٹ لیبارٹریز کے افتتاح کا بھی اعلان کیا۔ پرگتی میدان کے بھارت منڈپم میں منعقدہ اس سہ روزہ کانفرنس میں ٹیلی کام، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انڈسٹری کی کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔

وزیراعظم نے اس کانفرنس میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی نمائش بھی دیکھی۔ انہوں نے دہلی اور آس پاس کے علاقوں کے نوجوانوں سے نمائش میں آنے اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کی سمت کو دیکھنے اور اس سے تحریک لینے کی اپیل کی۔

سائبر سیکورٹی کی اہمیت کے بارے میں، انہوں نے کہا، "آپ سب جانتے ہیں کہ سائبر سیکورٹی اور انفراسٹرکچر کی سائبر سیکورٹی کتنی اہم ہے۔ حال ہی میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس میں اس موضوع پر خصوصی طور پر بحث کی گئی اور کہا گیا کہ جمہوری سماج میں گڑبڑی پیدا کرنے والوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان 2014 کے بعد ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نئی ​​بلندیاں حاصل کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم ہندوستان میں نہ صرف 5جی کی توسیع کررہے ہیں بلکہ 6جی کے شعبے میں بھی لیڈر بننے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

افتتاحی اجلاس سےٹیلی کام اوراطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی وشنو، ریلائنس جیو کے آکاش امبانی، بھارتی ایرٹیل کے سنیل بھارتی مترا اور ووڈافون آئیڈیا کے سربراہ کمار منگلم بڈلا نے بھی خطاب کیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ggo2VYU

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2023

گگن یان مشن کے پہلے مرحلے کا کامیاب تجربہ، اسرو چیف نے بتایا لانچ میں تاخیر کیوں ہوئی

سری ہری کوٹا: اسرو نے اپنے انتہائی اہمیت کے حامل مشن گگن یان کے پہلے مرحلے کی پرواز کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ گگن یان کے کرو ماڈیول کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا سے لانچ کیا گیا۔ ابتدائی طور پر یہ ٹرائل صبح 8.45 بجے ہونا تھا لیکن کمپیوٹر کی خرابی کی وجہ سے اسے لانچ سے کچھ دیر پہلے ہی روک دیا گیا۔ اسرو نے صرف آدھے گھنٹے میں تکنیکی خرابی کو دور کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ اسرو چیف نے گگن یان مشن کے کامیاب لانچ پر خوشی کا اظہار کیا۔

سری ہری کوٹا سے ٹیک آف کرنے کے بعد گگن یان خلیج بنگال میں اترا۔ ٹیک آف کے بعد سب سے پہلے آزمائشی گاڑی کرو ماڈیول اور کریو ایسکیپ سسٹم کو آسمان میں لے کر گئی اور پھر 594 کلومیٹر کی رفتار کے ساتھ کرو ماڈیول اور کرو ایسکیپ سسٹم 17 کلومیٹر کی اونچائی پر علیحدہ ہوا۔ اس کے بعد پانی سے ڈھائی کلومیٹر کی بلندی پر ماڈیول کے مین پیراشوٹ کھلنے کے ساتھ ہی ہی اس کی لینڈنگ خلیج بنگال میں ہوئی۔

اب یہاں سے کرو ماڈیول اور ایسکیپ ماڈیول کو بازیاب کیا جائے گا۔ اسرو کے اس ٹیسٹ کا مقصد 2025 کے لیے گگن یان مشن کی تیاری کرنا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ گگن یان مشن کے دوران خلابازوں کو کیسے محفوظ طریقے سے نکالا جائے گا۔

اسرو کے سربراہ ایس سومناتھ نے کہا، ’’میں گگن یان ٹی وی-ڈی 1 مشن کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوش ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے پھر سے تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے اس مشن کے پہلے مرحلے کی کامیابی پر تمام سائنسدانوں کو مبارکباد دی۔

کمپیوٹر کی خرابی کو دور کرنے کے بعد، اسرو نے ٹویٹ کیا کہ گگنیان کے ٹی وی-ڈی ون لانچ کو روکنے کی وجہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور اسے درست کیا گیا ہے۔ اب لانچ صبح 10 بجے ہوگی۔ اس سے پہلے جیسے ہی لانچ کو روک دیا گیا تھا، اسرو چیف ایس سومناتھ نے کہا تھا، 'آج لفٹ آف کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکی۔ مشن کا پہلا ٹیسٹ آج صبح 8 بجے ہونا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے اس کا وقت تبدیل کر کے 8:45 کر دیا گیا تھا۔ انجن ٹھیک طرح سے اگنائٹ نہیں سکتا تھا۔ جس کے بعد آدھے گھنٹے میں مسئلہ ٹھیک کر کے مشن کا پہلا مرحلہ شروع کر دیا گیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/6QdTogJ

ہفتہ، 14 اکتوبر، 2023

حکومت نے 23 اگست کو 'قومی خلائی دن' کے طور پر مطلع کیا

نئی دہلی: حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ 23 ​​اگست کو، جس دن چندریان-3 چاند کے قطب جنوبی پر اترا، اسے قومی خلائی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ خلائی محکمہ کی طرف سے 13 اکتوبر کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ تاریخی لمحے کو یادگار بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا، ’’ہندوستان چاند پر خلائی جہاز اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک اور چاند کی سطح کے جنوبی قطب کے قریب اترنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وکرم لینڈر نے چاند کی سطح کا مطالعہ کرنے کے لیے پرگیان روور کو بھی تعینات کیا تھا۔ اس تاریخی مشن کے نتائج آنے والے سالوں تک بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں گے۔‘‘

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 23 ​​اگست خلائی مشنوں میں ملک کی پیشرفت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نوجوان نسلوں کو ’ایس ٹی ای ایم‘ کے تعاقب میں دلچسپی بڑھانے اور خلائی شعبے کو بڑا فروغ دینے کی ترغیب دی۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 26 اگست کو بنگلورو میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے صدر دفتر کے دورے کے دوران 23 اگست کو قومی خلائی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MfJI19N

بدھ، 4 اکتوبر، 2023

گلوبل وارمنگ: سوئٹزر لینڈ کے پگھلتے گلیشیئرز

سوئٹزرلینڈ دنیا کےخوبصورت ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سرسبز پہاڑوں کی برف پوش چوٹیاں اس کے حسن میں چار چاند لگاتی ہیں۔ یورپ کے زیادہ تر گلیشیئرز اسی ملک میں ہیں۔ لیکن اب ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ دو سالوں میں سوئٹزرلینڈ کے گلیشیئرز 10 فیصد تک پگھل گئے ہیں۔گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا موسم کی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کی شدت میں اضافےکی نشان دہی کے علاوہ مسقتبل کے خطرات کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔ پہاڑوں سے برف کا خاتمہ زندگی کی بقا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

زمین کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھنے میں گلیشیئرز کا اہم کردار ہوتا ہے۔ وہ سورج سے آنے والی حرارت کو واپس خلا میں پلٹ دیتے ہیں۔ جب ان کے حجم میں کمی آتی ہے تو سورج سے آنے والی حرارت زیادہ مقدار میں زمین میں جذب ہو جاتی ہے۔ اس کا دوہرا نقصان ہوتا ہے۔ پہلا یہ کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے پہاڑوں پر کم برف پڑتی ہے۔ اگر پہاڑوں پر گلیشیئرز موجود ہوں تو برف کی نئی تہہ انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ اور انہیں سورج کی براہ راست حرارت سے بچاتی ہے۔ جس سے ان کے پگھلنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ اگر سردیوں میں برف باری کم ہو تو گلیشیئر براہ راست سورج سے آنے والی حرارت کا ہدف بن کر تیزی سے پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں کچھ ایسی ہی صورتحال ہے جس کے سبب ایک ہزار کے قریب چھوٹے گلیشیئر زپانی بن کر بہہ گئے ہیں۔

سوئس اکیڈمی آف سائنسز نے گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ گرمیوں کی تیز گرمی اور سردیوں میں کم برف کے سبب صرف دو سالوں میں گلیشیئرز نے 10 فیصد برف کھو دی ہے۔ اکیڈمی کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں 2023 کے دوران کل گلیشیئر کے حجم کا 4 فیصد غائب ہو چکاہے، جو کہ 2022 میں 6 فیصد کمی کے ساتھ ایک ہی سال میں دوسری سب سے بڑی کمی ہے۔ اکیڈمی نے کہا کہ صرف دو سالوں میں اتنی برف پگھل گئی ہے جتنی کہ تیس سال( 1960 اور 1990 کے درمیان) میں پگھلی تھی۔ موسم کے اعتبار سے مسلسل دو انتہائی سالوں کے سبب گلیشیئرز ٹوٹ رہے ہیں اور بہت سے چھوٹے گلیشیئرز تو غائب ہی ہو گئے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں گلیشیئر مانیٹرنگ سینٹر (GLAMOS )کے ماہرین ملک کے 1400 گلیشیئرز کےممکنہ پگھلنے کے بارے میں ابتدائی انتباہی علامات کی تلاش میں مصروف ہیں ۔ تحقیقی ٹیم کے سربراہ میتھیاس ہس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ پہلے ہی 1000 چھوٹے گلیشیئرز کھو چکا ہے اور اب بڑے اور اہم گلیشیئرز کھونے کی شروعات ہو چکی ہے ۔ گلیشیئر موسمیاتی تبدیلی کے سفیر ہیں۔ وہ یہ بالکل واضح کرتے ہیں کہ موسمی اعتبار سے کیا ہو رہا ہے کیونکہ وہ بڑھتے درجہ حرارت کا جواب انتہائی حساس انداز میں دیتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مطالعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر آپ آب و ہوا کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور گلیشیئرز کو بچانا چاہتے ہیں تو یہ کچھ کرنے کا وقت ہے ۔

سوئٹزرلینڈبری طرح متاثر ہواہے ۔ ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر برف کا نقصان سردیوں میں برف کی کم مقدار کے سبب ہوا- جنوبی اور مشرقی علاقوں میں گلیشیئرز تقریباً اتنی ہی تیزی سے پگھل گئے جتنی تیزی سے 2022 کے ریکارڈ پگھلے تھے۔ جنوبی والیس علاقہ اور اینگاڈین وادی میں 3200 میٹر (10,500 فٹ) سے اوپر کی سطح پر کئی میٹر برف پگھل گئی۔ یہ ایک ایسی اونچائی ہے جہاں گلیشیئرز نے ابھی تک اپنا توازن برقرار رکھا ہوا تھا۔ ملک کے مختلف مقامات پر برف کی موٹائی کا اوسط نقصان 3 میٹر یا 10 فٹ تک تھا جبکہ وسطی برنیس اوبرلینڈ اور والیس کے کچھ حصوں میں صورتحال کم ڈرامائی تھی - جیسے کہ والیس میں الیٹسچ گلیشیئر اور برن کے کینٹن میں پلین مورٹے گلیشیر جہاں موسم سرما میں زیادہ برف باری ہوتی ہے۔ لیکن ایسے علاقوں میں بھی برف کی اوسط موٹائی کے 2 میٹر سے زیادہ کا نقصان بہت زیادہ ہے ۔

سوئٹزر لینڈ کے پہاڑوں پر زیادہ تر برف فروری میں پڑتی ہے۔ اس سال فروری کے پہلے نصف میں برف کی گہرائیوں کی پیمائش عام طور پرسال 1964، 1990 یا 2007 کی سردیوں کے مقابلے میں زیادہ تھی، جس کی ایک وجہ کم برف باری بھی تھی۔ لیکن فروری کے دوسرے نصف حصے میں برف کی سطح میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی، جو طویل مدتی اوسط کاصرف 30 فیصد تھی۔گزشتہ پچیس سالوں سے قائم، 2000 میٹر سے اوپر واقع خودکار مانیٹرنگ اسٹیشن کے مطابق برف کی سطح میں ریکارڈ کمی درج کی گئی ہے۔ مزید براں انتہائی گرم جون مہینے کی وجہ سے برف معمول سے دو سے چار ہفتے پہلے پگھل گئی، اور موسم گرما کے وسط میں ہونے والی برف باری بھی بہت تیزی سے پگھل گئی۔

سوئس ماہرین موسمیات نے اگست میں اطلاع دی تھی کہ صفر ڈگری سیلسیس کی سطح (جہاں پانی جم جاتا ہے) تقریباً 5300 میٹر (17,400 فٹ) پر ریکارڈ کی گئی جو کہ بلند ترین سطح ہے۔ دوسرے لفظوں میں پہاڑوں کی جن بلندیوں پر پہلے سال بھر درجہ حرارت صفر ڈگری ہوا کرتا تھا اور وہاں پورا سال برف جمی رہتی تھی، اب وہاں کا درجہ حرارت صفر سے بڑھ گیا ہے اور برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FqUkSJG