منگل، 30 اپریل، 2024

رینسم ویئر: تاوان کے لیے استعمال ہونے والا وائرس، اپنے کمپیوٹر کی کس طرح حفاظت کریں؟

حال ہی میں ایک عالمی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2023 میں ہندوستان کی پیداواری کی صنعت نے سب سے زیادہ رینسم ویئر یعنی بھتہ خوری یا تاوان کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹر پروگرام یا یوں کہیں کہ وائرس کے حملے برداشت کئے ہیں۔

کمپیوٹر وائرس کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دنیا کا سب سے پہلا وائرس 2 پاکستانی بھائیوں باسط علوی اور امجد علوی نے تیار کیا تھا، جو اس وقت محض 17 سال اور 24 سال کے تھے۔ دونوں بھائی لاہور میں ایک کمپیوٹر کی دکان چلاتے تھے۔ جب ان بھائیوں کو علم ہوا کہ ان کے صارفین ان کے سافٹ وئیر کی غیرقانونی کاپیاں تیار کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کے خلاف اقدام لینے کا فیصلہ کیا۔ دونوں بھائیوں نے ’برین‘ نام کا ایک پروگرام تیار کیا، جسے آج دنیا سب سے پہلے وائرس کے طور پر جانتی ہے۔

پاکستان کے دونوں بھائیوں نے جو وائرس بنایا تھا وہ کسی کمپیوٹر کے ڈیٹا پر حملہ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کسی دوسری طرح کی خرابی پیدا کرتا تھا، صرف پرائیریسی کی صورت میں خود کو کمپیورٹ پر لوڈ کر دیتا تھا لیکن بعد میں جو وائرس بنائے گئے ان کے ذریعے لوگوں کے کمپورٹر کو نشانہ بنایا گیا، ان کے ڈیٹا کی چوری کی گئی، حتی کہ بھتہ خوری تک کے لیے اس کا استعمال کیا جانے لگا اور آج بھی کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کا مینوفیکرنگ سیکٹر بھی وائرس کی ہی ایک قسم کی زد میں ہے، جسے رینسم ویئر کہا جاتا ہے۔

رینسم ویئر کا استعمال کرتے ہوئے ہیکرز مختلف اداروں سے اہم معلومات اور کمپنیوں سے ان کا ریکارڈ چوری کر لیتے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کی جانب سے کسی کمپنی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کے کمپیوٹر میں خرابی بھی پیدا کر دی جاتی ہے، جس سے کمپنی اپنے ضروری ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے قابل نہیں رہ جاتی۔ پھر ہیکرز متاثرہ کمپنی سے رابطہ کر کے اسے بلیک میل کرتے ہیں اور ڈیٹا واپس کرنے اور کمپیوٹر کو صحیح کرنے کے عوض تاوان مانگتے ہیں۔

چوری، ڈکیتی، راہزنی اور دیگر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو پکڑے جانے اور جیل جانے کا خدشہ ہوتا ہے لہذا انہوں نے دور سے ہی کسی شخص کو دھمکی دے کر یا اس کے ڈیٹا میں نقب زنی کر کے تاوان حاصل کرنے کے لیے رینسم ویئر کا استعمال شروع کر دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق رینسم ویئر کا پہلا معاملہ 1989میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد سے سالہا سال یہ جرم تقوقت حاصل کرتا گیا اور زیادہ منافع بخش بنتا چلا گیا۔ آج رینسم ویئر کی غالباً 20 سے زائد مختلف اقسام موجود ہیں۔

یہ وائرس موبائل فون کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ اسے کسی بھی موبائل ایپ میں چھپایا جا سکتا ہے اور ایپ انسٹال کرنے کے دوران وائرس فون میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے صارفین کو کسی بھی ایپ کو اپنے موبائل فون میں انسٹال کرنے سے پہلے گوگل پلے پر یہ جان لینا چاہئے کہ وہ ایپ کہاں سے آئی ہے اور اس کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے۔ اس طرح وہ ناقابل اعتماد ذرائع سے آنے والی ایپس کو انسٹال کرنے سے بچ سکتے ہیں۔

دیگر کمپیوٹر وائرس کی طرح رینسم ویئرکو بھی جعلی ای میل، ا سپیم میل، یا بھر نقلی سافٹ ویئر کی صورت میں بھیجا جاتا ہے۔ اگر صارف نے ان میں سے کسی پر بھی کلک کر دیا تو وہ وائرس ان کے کمپیوٹر میں داخل ہو جاتا ہے۔ رینسم ویئر کا استعمال کرنے والے ہیکرز آپ کے ڈیٹا کو لاک یعنی مقفل کر دیتے ہیں، چونکہ عام طور لوگ اپنے ڈیٹا کا ’بیک اپ’ تیار نہیں کرتے، لہذا اپنا ڈیٹا واپس لینے کی غرض سے وہ تاوان ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ رینسم ویئر جیسے خطرات سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے ڈیٹا کا وقتاً فوقتاً بیک اپ تیار کرتے رہیں۔ اگر اپ کے پاس بیک اپ ہوگا تو کسی حملے کی صورت میں اس کا استعمال کرتے ہوئے آپ اپنے ڈیٹا کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/h9wbmVn

جمعرات، 11 اپریل، 2024

پیگاسس جیسے اسپائی ویئر کے ذریعے صحافیوں، سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے موبائل فون پر حملہ، ایپل نے خبردار کیا

واشنگٹن: آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل نے اپنے صارفین کو پیگاسس جیسے جدید ترین اسپائی ویئر حملوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے محدود تعداد میں لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسپائی ویئر حملوں کی زد میں آنے والے افراد میں صحافی، کارکن، سیاست دان اور سفارت کار شامل ہیں۔

تاہم، ایپل نے ان حملوں کے حوالے سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ زیادہ لاگت کی وجہ سے اسپائی ویئر اکثر محدود تعداد میں ہی استعمال کیا جاتا ہے لیکن کرائے کے اسپائی ویئر کا استعمال کرتے ہوئے حملے جاری ہیں اور عالمی سطح پر کیے جا رہے ہیں۔

ایپل نے اپنے جاری کردہ خطرے کے نوٹیفکیشن میں پچھلی تحقیق اور رپورٹس کی بنیاد پر اشارہ کیا کہ اس طرح کے حملے تاریخی طور پر حکومت سے منسلک جماعتوں کی جانب سے کئے جاتے ہیں۔ یہ نوٹیفکیشن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سال ہندوستان سمیت تقریباً 60 ممالک میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

معروف فون بنانے والی کمپنی نے کہا، ’’خطرے کے انتباہات ان صارفین کو مطلع کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں جو ذاتی طور پر کرائے کے اسپائی ویئر کے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح کے حملے باقاعدہ سائبر کرائم کی سرگرمیوں اور صارفین کے میلویئر سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں کیونکہ کرایہ پر لیے گئے اسپائی ویئر حملہ آور مخصوص افراد اور ان کے فون کی ایک چھوٹی تعداد کو نشانہ بنانے کے لیے غیر معمولی وسائل استعمال کرتے ہیں۔‘‘

ایپل نے کہا کہ کرائے کے اسپائی ویئر حملوں کی لاگت لاکھوں ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ حملوں کی مدت کم ہونے کی وجہ سے ان کا پتہ لگانا اور روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس طرح کے حملے زیادہ تر صارفین پر نہیں کیے جاتے۔

کمپنی نے کہا، ’’ایپل اس طرح کے حملوں کا پتہ لگانے کے لیے مکمل طور پر اندرونی خطرے کی انٹیلی جنس اور تحقیقات پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ ہماری تحقیقات کبھی بھی مکمل طور پر قطعی نہیں ہو سکتی ہیں لیکن یہ خطرے کے انتباہات انتہائی قابل اعتماد ہیں۔ اس کو بہت سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔‘‘

پچھلے سال ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ دنیا بھر میں تقریباً 49 فیصد تنظیمیں ملازمین کے آلات پر حملوں یا حفاظتی خلاف ورزیوں کا پتہ لگانے سے قاصر ہیں۔ سائبر سیکورٹی فرم چیک پوائنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں ہندوستان میں موبائل میلویئر سے متاثر ہونے والی تنظیموں کی ہفتہ وار اوسط 4.3 فیصد تھی، جب کہ ایشیا پیسفک خطے میں اوسط 2.6 فیصد تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/C5xe1Ju

ہفتہ، 6 اپریل، 2024

Urdu stories for kids 2 | Chonti aur tidda | An Ant and A Grasshopper

چینی ہیکر مصنوعی ذہانت پر مبنی مواد کے ذریعے ہندوستان کے عام انتخابات کو متاثر کریں گے: مائیکروسافٹ

نئی دہلی: رواں برس دنیا کے کئی اہم ممالک میں انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں ہندوستان، جنوبی کوریا اور امریکہ شامل ہیں۔ مائیکروسافٹ نے انتباہ دیا ہے کہ چین کے ہیکر اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا استعمال کر کے ان انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔

مائیکروسافٹ کے مطابق چینی ہیکر میم، ویڈیو اور آڈیو کے ذریعے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹیک کمپنی کے مطابق چین ووٹروں کو منقسم کرنے کے لیے فرضی سوشل میڈیا کھاتوں کا استعمال کر رہا ہے۔ کمپنی نے پوسٹ میں کہا، ’’چین نے دنیا بھر میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اے آئی پر مبنی مواد کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔‘‘

مائیکروسافٹ کے مطابق اے آئی ٹولز ہیکرز کے لیے ہتھیاروں کی طرح خطرناک ثابت ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ انہیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر رہے ہیں۔ اب ان اے آئی ٹولز کے ذریعے ڈیپ فیک اور ایڈیٹ ویڈیوز بنانا آسان ہے۔ ہیکرز جعلی اکاؤنٹس کو آسانی سے چلا سکتے ہیں اور یہاں تک کہ مشہور رہنماؤں کی آوازوں کو بھی کلون کیا جا سکتا ہے، پھر اسے بڑے پیمانے پر عوامی سطح پر شیئر کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ وائرل ہو کر لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) سے وابستہ لوگوں کے گمراہ کن سوشل میڈیا کھاتوں نے امریکی ووٹروں کو تقسیم کرنے والے اہم مسائل پر متنازعہ سوالات اٹھانا شروع کر دئے ہیں۔ رواں سال تائیوان کے صدارتی انتخابات میں بھی چین سے وابستہ سائبر ہیکروں نے اے آئی پر مبنی مواد کا استعمال کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CEarmsR

جمعرات، 4 اپریل، 2024

ایپل نے اپنے 600 سے زیادہ ملازمین کو فارغ کر دیا، کئی پروجیکٹ بند کرنے کا فیصلہ

سال 2024 میں دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ رواں برس جن کمپنیوں نے اجتماعی طور پر اپنے ملازمین کو فارغ کیا ہے ان میں اب آئی فون تیار کرنے والی مشہور کمپنی ایپل بھی شامل ہو گئی ہے۔ ایپل نے حال ہی میں اپنے 600 سے زیادہ ملازمین کو فارغ کیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، تازہ ایپل نے تازہ برطرفیوں کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی نے کیلیفورنیا ایمپلائمنٹ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاس فائلنگ میں اس کی اطلاع دی ہے۔ فائلنگ کے حوالہ سے بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایپل نے کیلیفورنیا میں 600 سے زیادہ ملازمین کو برطرف کیا ہے۔ کمپنی نے برطرفیوں کا یہ فیصلہ کار اور اسمارٹ واچ ڈسپلے پروجیکٹ کے بند ہونے کی وجہ سے لیا ہے۔

برطرفیوں کی یہ خبر اس وجہ سے سنگین ہے کہ ایپل کا شمار صرف ٹیک انڈسٹری میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ ایپل کا شیئر امریکی بازار میں 0.49 فیصد کی تنزلی کے ساتھ 168.82 ڈالر پر ہے۔ کمپنی کا ایم کیپ 2.61 ٹریلین ڈالر ہے اور اس لحاظ سے یہ کمپنی صرف مائیکروسافٹ سے ہی پیچھے ہے اور دوسری سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی ہے۔

ایپل کا صدر دفتر کیلیفورنیا کے کوپرٹینو میں واقع ہے۔ مقامی قانون کے مطابق کمپنیوں کو برطرفیوں کا ملازمین کو فارغ کرنے کے بارے میں اطلاع دینی ہوتی ہے۔ ایپل نے ورکر ایڈجسٹمنٹ اینڈ ڑیتینگ نوٹیفکیشن (وارن پروگرام) پر عمل کرتے ہوئے آٹھ الگ الگ فائلنگ میں ملازمین کی برطرفیوں کی اطلاع دی۔

کمپنی کی فائلنگ کے مطابق، برطرفی کا شکار ہوئے لوگوں میں کم سے کم 87 ملازمین ایپل کی سیکریٹ فیسلٹی میں کام کر رہے تھے، جہاں نیکسٹ جنریشن اسکرین ڈیولپمنٹ کا کام ہو رہا تھا۔ وہیں، باقی ملازمین نزید میں واقع دوسری عمارت میں کام کرتے تھے جو کار پروجیکٹ کے لیے وقف تھی۔

ایپل کے کار پروجیکٹ کے حوالہ سے دنیا بھر میں تجسس پایا جاتا ہے۔ حال ہی میں کئی موبائل اور گیجٹ کمپنیوں نے برقی گاڑی (ای وی) تیار کرنے کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ شیاومی اور ہواوے جیسی چینی اسمارٹ فون کمپنیاں ای وی مارکیٹ میں اتر چکی ہیں۔ ایپل نے کچھ روز قبل اپنا پروٹوٹائپ (نمونا) پیش کیا تھا، لیکن اس سال کے اوائل میں خبر آئی کہ ایپل نے کار پروجیٹ سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lqRfxLX