اتوار، 25 جنوری، 2026

مصنوعی ذہانت کی ترقی جوہری توانائی پر منحصر

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی، بجلی کی بے مثال عالمی طلب پیدا کر رہی ہے۔ بجلی کی یہ طلب عالمی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین چیلنج میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ چیلنج اُن ممالک کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع بھی فراہم کرتا ہے جو مصنوعی ذہانت کے لیے درکار وسیع اور صاف توانائی کو محفوظ بنا کر فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ٹیکنالوجی میں سبقت رکھنے والے ممالک کے لیے ایک نئی اور سنگین کمزوری کو بھی جنم دیتی ہے، جو ڈیجیٹل دور میں توانائی کی سلامتی کو قومی سلامتی کی اولین ترجیح بنا دیتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی توانائی کی طلب کا پیمانہ بہت بڑا ہے، جیسا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) اور دیگر اداروں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ سال 2030 تک عالمی بجلی کی طلب میں متوقع اضافہ 10 ہزار ٹیراواٹ-گھنٹے سے زیادہ ہے، جو آج تمام ترقی یافتہ معیشتوں کی کل کھپت کے برابر ہے۔ سال 2023 اور 2024 کے درمیان ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب میں تین چوتھائی سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سال 2030 تک ، ترقی یافتہ معیشتوں میں بجلی کی طلب میں ہونے والے اضافے کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ ڈیٹا سینٹرز کا ہوگا۔ اور اس دہائی کے آخر تک، صرف امریکہ میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ڈیٹا پروسیسنگ کی بجلی کی کھپت ایلومینیم، اسٹیل، سیمنٹ اور کیمیائی پیداوار کی مشترکہ کھپت سے تجاوز کر جائے گی۔

مصنوعی ذہانت کے لیے اس قدر توانائی اس لیے درکار ہے کیونکہ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے دسیوں ہزار سینٹرل پروسیسنگ یونٹس (سی پی یو) کو ہفتوں یا مہینوں تک مسلسل چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہسپتالوں، ٹرانسپورٹ، زراعت، اور تعلیم جیسے شعبوں میں اے آئی کا روزمرہ استعمال مسلسل توانائی استعمال کرتا ہے۔ ہر سیمولیشن میں بجلی کی ایک قابل ذکر مقدار خرچ کرتی ہے۔

توانائی کی یہ بڑھتی ہوئی طلب ایک بنیادی اسٹریٹجک سوال پیدا کرتی ہے کہ اس بے پناہ توانائی کو کہاں سے قابل اعتماد اور پائیدار طریقے سے حاصل کیا جائے گا؟ جواب جوہری توانائی میں پوشیدہ ہے۔

جوہری توانائی اے آئی انقلاب کا لازمی پارٹنر

مصنوعی ذہانت کی بے لگام اور مخصوص توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جوہری توانائی سب سے زیادہ قابل عمل اور اعلیٰ پیداواری حل کے طور پر ابھرتی ہے۔ اس کی اسٹریٹجک اہمیت ایک مستحکم، کاربن سے پاک توانائی کے ذریعہ کے طور پر ہے جو 24/7 کام کر سکتی ہے، جو ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔ شمسی اور ہوا جیسی قابل تجدید توانائی کے برعکس، جوہری توانائی موسمی حالات سے متاثر نہیں ہوتی، جو اسےاے آئی کے لیے ایک مثالی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

صنعت کے ماہرین اس نتیجے کی توثیق کرتے ہیں۔ گوگل کے ایک سینئر مینیجر، مینوئل گریسنگر، جو اے آئی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، نے اس ضرورت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں صاف، مستحکم، صفر-کاربن بجلی کی ضرورت ہے جو چوبیس گھنٹے دستیاب ہو۔ یہ بلاشبہ ایک انتہائی بلند معیار ہے، اور یہ صرف ہوا اور شمسی توانائی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اے آئی مستقبل کا انجن ہے، لیکن ایندھن کے بغیر انجن تقریباً بیکار ہے۔ جوہری توانائی نہ صرف ایک آپشن ہے، بلکہ مستقبل کے توانائی کے ڈھانچے کا ایک ناگزیر بنیادی جزو بھی ہے۔"

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل، مینوئل گروسی، اس بات سے متفق ہیں اور جوہری توانائی کو اے آئی انقلاب کا لازمی توانائی پارٹنر قرار دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، "صرف جوہری توانائی ہی کم کاربن بجلی کی پیداوار، چوبیس گھنٹے قابل اعتمادی، انتہائی اعلیٰ توانائی کی کثافت، گرڈ کے استحکام اور حقیقی توسیع پذیری جیسی پانچ ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔"

جوہری-مصنوعی ذہانت کی برتری کے لیے سیاسی دوڑ

اے آئی انقلاب میں جوہری توانائی کے کلیدی کردار نے ایک شدید جغرافیائی سیاسی مقابلے کو جنم دے دیا ہے۔ اس نئے توانائی کے منظر نامے میں قیادت غالباً 21ویں صدی میں تکنیکی اور معاشی غلبے کا تعین کرے گی۔ دنیا بھر کی بڑی طاقتیں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے حکمت عملی بنا رہی ہیں۔

امریکہ اس وقت ایک رہنما کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ، 94 جوہری پلانٹس موجود ہیں اور 10 نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ یہ ملک دنیا کی صف اول کی اے آئی کمپنیوں کا مرکز بھی ہے۔ مائیکروسافٹ کا 20 سالہ بجلی کی خریداری کا معاہدہ، جس نے تھری مائل آئی لینڈ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی، محض ایک مثال نہیں، بلکہ عوامی-نجی شراکت داری کا ایک بلیو پرنٹ ہے جو امریکہ کے ٹیک اور جوہری شعبوں کو براہ راست جوڑ کر اس کی موجودہ برتری کو مستحکم کرتا ہے۔

روس جوہری توانائی کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہونے کی وجہ سے ایک منفرد پوزیشن رکھتا ہے۔ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں اپنی مضبوط تحقیقی بنیاد کے ساتھ، روس جدید ری ایکٹر ٹیکنالوجی کا ایک سرکردہ آپریٹر اور ڈویلپر ہے۔ یہ کردار نہ صرف روس کے لیے اقتصادی فائدہ مند ہے، بلکہ یہ خریدار ممالک کے لیے اسٹریٹجک انحصار پیدا کرتا ہے اور ماسکو کو طویل مدتی جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔

چین ایک ابھرتے ہوئے چیلنجر کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چین کا اے آئی اور جوہری توانائی دونوں میں بیک وقت "بڑی کامیابیاں" حاصل کرنا ایک سوچی سمجھی، ریاستی سرپرستی میں چلنے والی دوہری حکمت عملی ہے جس کا مقصد مستقبل کی معیشت کے دماغ (اے آئی) اور جسم (توانائی) دونوں پر قابو پا کر مغرب کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ اپنے’اے آئی بوم‘ کے دوران، چین نے زیر تعمیر نئے جوہری ری ایکٹرز کی تعداد میں دنیا میں پہلا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

یورپ، جو دنیا کے "سب سے گنجان ڈیجیٹل کوریڈورز" (فرینکفرٹ، ایمسٹرڈیم اور لندن) کا گھر ہے، اس دوڑ میں اپنی پوزیشن کو دوبارہ مضبوط کر رہا ہے۔ فرانس اور برطانیہ جیسی روایتی جوہری طاقتیں جوہری توانائی کی تعمیر پر "دگنی محنت" کر رہی ہیں، جبکہ پولینڈ جیسے ابھرتے ہوئے ممالک بھی اپنے پروگراموں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل معیشت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

نئے مراکز بھی اس دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ جاپان بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور اپ گریڈیشن میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں، متحدہ عرب امارات نے ایک جوہری توانائی پروگرام قائم کیا ہے اور خود کو ایک علاقائی اے آئی مرکز کے طور پر ابھارا ہے، جو توانائی کی سلامتی کے ذریعے معاشی تنوع حاصل کرنے کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔یہ جغرافیائی سیاسی منظر نامہ مسلسل ان تکنیکی جدتوں سے تشکیل پا رہا ہے جو اس مقابلے کے اگلے مرحلے کی وضاحت کریں گی۔

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے اسٹریٹجک فوائد

روایتی بڑے ری ایکٹرز کے علاوہ، جوہری توانائی سے چلنے والے اے آئی کا مستقبل تکنیکی جدت طرازی، خاص طور پر چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر)سے متعین ہوگا۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز ایک انقلابی ٹیکنالوجی کے طور پر ابھر رہے ہیں کیونکہ یہ اے آئی صنعت کو لچکدار، محفوظ اور موثر توانائی فراہم کرتے ہیں۔

اس میدان میں پہل کرنے والوں نے پہلے ہی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ گوگل نے ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ متعدد چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز سے جوہری توانائی خریدی جا سکے، جو 2030 تک کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، گوگل کی جانب سے خلا پر مبنی شمسی نیٹ ورکس جیسے غیر روایتی حل کی تلاش اس طویل مدتی، کثیر نسلی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا واضح اشارہ ہے جو معروف ٹیک کمپنیاں توانائی پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہیں، تاکہ زمینی حدود کے خلاف خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تکنیکی پیشرفت اس بات کی نشاندہی ہے کہ اے آئی کے لیے توانائی کا مستقبل نہ صرف بڑا ہے، بلکہ ہوشیار، زیادہ لچکدار اور زیادہ تقسیم شدہ بھی ہوگا۔

مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی کا امتزاج

ہمارے دور میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی بے پناہ توانائی کی طلب ایک اہم چیلنج ہے، اور جوہری توانائی واحد قابل توسیع، قابل اعتماد اور صاف توانائی کا حل ہے جو اس طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو قومیں اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں اور اس پر عمل کر رہی ہیں، وہ 21ویں صدی کی تکنیکی اور معاشی تقدیر کی تشکیل کریں گی۔ ترقی یافتہ ممالک کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے کہ وہ ایک دوہری حکمت عملی میں جارحانہ سرمایہ کاری کریں: روایتی جوہری صلاحیت کو بڑھائیں اور ساتھ ہی ساتھ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز جیسی جدید ٹیکنالوجیز میں پیش قدمی کریں۔ یہ صرف توانائی پیدا کرنے کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ تکنیکی خودمختاری، اقتصادی مسابقت، اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے بارے میں بھی ہے۔

مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی کا امتزاج محض ایک ابھرتا ہوا رجحان نہیں، بلکہ یہ وہ مرکزی ستون بن چکا ہے جس پر 21ویں صدی کے بقیہ حصے میں جغرافیائی سیاسی اور معاشی طاقت کی تعمیر اور مقابلہ کیا جائے گا۔ جو قومیں اس امتزاج میں مہارت حاصل کریں گی، وہ مستقبل کے اصول لکھیں گی؛ اور جو ناکام رہیں گی، وہ ان اصولوں کے تابع ہوں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5osDjWK

بدھ، 21 جنوری، 2026

اے آئی کے مواقع غیر مساوی، صلاحیت سازی کے بغیر خطرات بڑھیں گے: آئی ایم ایف چیف

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ملازمت کے شعبے میں پائی جارہی تشویش کے دوران انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی وجہ سے لیبر مارکیٹ یعنی ملازمت کے شعبے میں سونامی جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کچھ ملازمتوں کو بہتر بنا رہا ہے تو وہیں کچھ نوکریوں کی جگہ بھی لے رہا ہے۔

داؤس میں منعقد ورلڈ اکنامک فورم ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس کے دوران ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جارجیوا نے کہا کہ دنیا اب اے آئی کے دور میں داخل ہو چکی ہے لیکن انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اے آئی کی جانب سے پیش کیے جانے والے مواقع ہر جگہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ کہیں زیادہ مواقع ہیں تو کہیں بہت کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی تیزی سے معیشتوں کو تبدیل کر رہا ہے۔ کچھ کام بڑھ رہے، کچھ ختم ہو رہے ہیں۔ ہمیں لوگوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے اور معاشرے کو اس کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف سربراہ نے بتایا کہ اے آئی کی وجہ سے ترجمہ، زبان سمجھنے اور تحقیق سے متعلق کاموں میں پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ ان شعبوں میں اے آئی لوگوں کی مدد کر رہا ہے، ان کی جگہ نہیں لے رہا ہے۔ حالانکہ انہوں نے ان کمیونٹیز کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جہاں اے آئی ابھی تک ناقابل رسائی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق دنیا میں اوسطاً 40 فیصد ملازمتیں اے آئی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ان میں کچھ ملازمتیں بہتر بن رہی ہیں، کچھ بدل رہی ہیں اور کچھ ختم بھی ہوسکتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ اثر تقریباً 60 فیصد نوکریوں پر ہے جبکہ غریب ممالک میں یہ 20 سے 26 فیصد کے درمیان ہے۔ جارجیوا نے کہا کہ اے آئی کی وجہ سے عالمی اقتصادی ترقی پر 0.1 سے 0.8 فیصد تک تک کا اثرپڑتا ہے۔ اگر پیداواری صلاحیت میں 0.8 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو دنیا کی معاشی نمو کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

اس سیشن میں ہندوستان کے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ صرف بڑا اے آئی ماڈل بنانا ہی کسی ملک کو طاقتور نہیں بناتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانچویں صنعتی انقلاب کی معیشت کو سمجھنا ہوگا۔ اس دور میں حقیقی طاقت آراو آئی یعنی سرمایہ کاری پر ملنے والے فوائد سے آئے گی۔ سب سے کم لاگت میں سب سے زیادہ پانے والی ٹیکنالوجی ہی کامیاب ہوگی۔

سعودی عرب کی وزارت سرمایہ کاری میں وزیر خالد الفالح نے کہا کہ اے آئی کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔ ہر ملک اس کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بنانا چاہتا ہے لیکن اے آئی کی اصل طاقت اس وقت سامنے آئے گی جب یہ ہر کسی کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کا پھیلاؤ صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پوری دنیا میں پھیلنا چاہیے۔ خالد الفالح نے یہ بھی کہا کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/PVnZDBe

اتوار، 18 جنوری، 2026

اے آئی کے بڑھتے استعمال سے 7 میں سے 10 پیشہ وروں کو اپنی ملازمت کے کردار میں تبدیلی کی توقع: رپورٹ

نئی دہلی: کام کی جگہوں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے پیشہ ورانہ دنیا میں بے چینی اور توقعات دونوں کو جنم دیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق آئندہ دو سے تین برسوں میں بڑی تعداد میں پیشہ ور افراد اپنی ملازمت کی نوعیت، ذمہ داریوں اور کام کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کی توقع کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ٹولس اور نئے ورک فلو معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں روایتی کردار بدلنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

اس مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ 71 فیصد پیشہ ور افراد کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کی ذمہ داریوں میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ رپورٹ نومبر 2025 میں مختلف شعبوں سے وابستہ 1,704 پیشہ وروں کے آن لائن سروے پر مبنی ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کو اپنانے کی رفتار تو تیز ہے، مگر اداروں کی جانب سے مناسب تربیت اور رہنمائی کی فراہمی اس رفتار کے مطابق نہیں ہو پا رہی۔

سروے میں شامل 61 فیصد افراد نے کہا کہ ان کی کمپنیوں نے انہیں اے آئی کے مؤثر استعمال کے بارے میں خاطر خواہ رہنمائی فراہم نہیں کی۔ صرف 37 فیصد پیشہ وروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں مناسب تربیت دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس منظم معاونت کی کمی نے کام کی جگہوں پر اے آئی کے بارے میں ملازمین کے رویّے کو متاثر کیا ہے اور کئی مقامات پر غیر یقینی کیفیت پیدا کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 55 فیصد پیشہ ور افراد کے نزدیک اے آئی کو مجبوری کے تحت اپنایا جا رہا ہے، جبکہ 37 فیصد کا خیال ہے کہ ادارے حقیقی کاروباری ضرورت سے زیادہ رجحانات کے زیر اثر اے آئی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ بہت سے ادارے اپنے عملے کو مکمل طور پر تیار کیے بغیر نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں۔

ان خدشات کے باوجود اے آئی کا عملی استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تقریباً 67 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے کاموں کو آسان یا خودکار بنانے کے لیے اے آئی ٹولس استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم تجربات یکساں نہیں رہے۔ 69 فیصد نے کہا کہ اے آئی سے ان کے کام کے عمل میں آسانی آئی، جب کہ 25 فیصد کے نزدیک اس سے پیچیدگی میں اضافہ ہوا۔

اے آئی پر اعتماد کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ صرف 49 فیصد پیشہ وروں نے کہا کہ وہ اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات پر بغیر دستی جانچ کے بھروسا کرتے ہیں۔ تقریباً 36 فیصد نے واضح کیا کہ وہ ایسی معلومات پر بالکل اعتماد نہیں کرتے، جبکہ 15 فیصد کے مطابق ان کا اعتماد کام کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ رپورٹ مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی کا مستقبل تربیت، اعتماد اور مؤثر نفاذ سے جڑا ہوا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/WtCP1GS

آرٹیمس 2: انسان کی چاند پر واپسی کی تیاری

امریکی خلائی ادارے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کا طاقتور ترین راکٹ فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر پہنچ چکا ہے، جو پچاس سال سے زائد عرصے کے بعد چاند کی جانب پہلے انسانی مشن کی تیاریوں کا اہم سنگ میل ہے۔ آرٹیمس 2 نامی یہ دس روزہ مشن چار خلابازوں کو زمین کے مدار سے نکال کر چاند کے گرد چکر لگوائے گا تاکہ مستقبل میں وہاں اترنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کی منتقلی کے بعد اب ایندھن اور کاؤنٹ ڈاؤن کی مشقیں کی جائیں گی، جبکہ اس کی روانگی فروری 2026 کے اوائل میں متوقع ہے۔ اس مہم میں استعمال ہونے والا ’اورین‘ خلائی جہاز یورپی ساختہ ماڈیول پر انحصار کرتا ہے جو عملے کے لیے بجلی، آکسیجن اور پانی فراہم کرے گا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن میں خلابازوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے، اسی لیے لانچ سے قبل تمام تکنیکی پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

اپولو 17 مشن کے 50 سال سے زائد عرصے بعد، 1972 کے بعد پہلی بار انسانیت ایک نئے قمری دور کا آغاز کر رہی ہے۔ ناسا کے ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ، اور کینیڈین خلائی ایجنسی کے جیریمی ہینسن پر مشتمل عملہ چاند کی طرف روانہ ہونے والا ہے۔ لیکن اس نئے آرٹیمس 2 مشن کی تفصیلات میں کئی ایسے حیران کن حقائق پوشیدہ ہیں جن سے زیادہ تر لوگ واقف نہیں۔ ذیل میں اس تاریخی کوشش کے سب سے زیادہ مؤثر اور غیر متوقع پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایک خلائی جہاز کا زمین پر سست سفر

یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ 98 میٹر بلند اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کو لانچ پیڈ تک صرف 6.5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 12 گھنٹے لگے۔ اسے ایک دیوہیکل مشین، جسے کرالر-ٹرانسپورٹر کہا جاتا ہے، نے صرف 1.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے منتقل کیا۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ خلا کے سفر کو شروع کرنے کے لیے کس قدر بڑی اور وزنی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آسمانی کامیابیوں سے پہلے زمینی چیلنجز پر قابو پانا کتنا ضروری ہے۔

چاند پر اُترنا نہیں، چکر لگانا مقصد

لوگوں کے گمان کے برعکس، 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن چاند پر نہیں اترے گا۔ اس کا اصل مقصد چاند کے گرد سفر کرنا ہے تاکہ مستقبل کے آرٹیمس 3 مشن کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ چاند کے گرد پرواز کے دوران، عملے کو چاند کے مشاہدے کے لیے تین گھنٹے وقف کیے جائیں گے، جس میں وہ تصاویر لیں گے اور اس کی ارضیات کا مطالعہ کریں گے تاکہ چاند کے جنوبی قطب پر مستقبل میں اترنے کی تیاری کی جا سکے۔ ناسا کے مطابق آرٹیمس 3 مشن 2027 سے پہلے چاند پر نہیں اترے گا۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ 2028 اس مشن کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ تاریخ ہو سکتی ہے، جو خلائی تحقیق میں درپیش پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

زمین کا ایک نیا نظارہ

چاند کے گرد چکر لگانے کے اس محتاط منصوبے سے بھی پہلے، مشن کا ایک اور حیران کن مرحلہ ہے جو ہمارے اپنے سیارے یعنی زمین پر مرکوز ہے۔ مشن کے پہلے دو دنوں کے لیے ایک منفرد منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چاند کی طرف روانہ ہونے سے پہلے، عملہ زمین کے گرد ایک بلند مدار میں وقت گزارے گا، جو تقریباً 64 ہزار 4سو کلومیٹر (40ہزار میل) کی دوری تک پہنچے گا۔ یہ فاصلہ چاند تک کے راستے کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ اس مرحلے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے خلا باز کرسٹینا کوچ کہتی ہیں کہ "ہماری کھڑکی سے پوری زمین ایک واحد کرے کی صورت میں دکھائی دے گی، ایک ایسا نظارہ جو ہم میں سے کسی نے اس زاویے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔" یہ مرحلہ نہ صرف تکنیکی جانچ کا موقع ہے بلکہ عملے کے لیے انسانیت کے مشترکہ گھر کو ایک ایسے تناظر میں دیکھنے کا ایک موقع بھی ہے جو زمین پر ہمارے وجود کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکی مشن کا یورپی ماڈیول

اس تاریخی مشن پر روانہ ہونے والے ’اورین‘ خلائی جہاز کا ایک اہم جزو، یورپی سروس ماڈیول، ناسا نے نہیں بنایا ہے۔ یہ ماڈیول جرمنی کے شہر بریمن میں ایئربس نے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ یہ ماڈیول انتہائی اہم کام انجام دیتا ہے: چاند تک پہنچنے کے لیے پروپلشن فراہم کرنا، تمام برقی توانائی پیدا کرنا، اور عملے کو زندہ رکھنے کے لیے ہوا (آکسیجن اور نائٹروجن) اور پانی فراہم کرنا۔ ایئربس کی انجینئر سیان کلیور کے مطابق، "یورپی سروس ماڈیول بہت اہم ہے - بنیادی طور پر ہم اس کے بغیر چاند تک نہیں پہنچ سکتے۔"

خلا بازوں کا پرسکون رویہ

کئی سال کی تاخیر کے بعد اس مشن کو شروع کرنے کے لیے ناسا پر بے پناہ دباؤ ہے۔ اس دباؤ کے برعکس، خلا بازوں کا رویہ انتہائی پرسکون ہے۔ خلا باز کرسٹینا کوچ کہتی ہیں کہ "لانچ کے دن خلا باز سب سے پرسکون لوگ ہوتے ہیں۔ اور میرے خیال میں... ایسا اس لیے محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم اس مشن کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوتے ہیں جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں، جس کی ہم نے تربیت حاصل کی ہے۔" اس تیاری اور حفاظت کے عزم کو آرٹیمس مشن مینجمنٹ ٹیم کے چیئر جان ہنی کٹ کے الفاظ سے مزید تقویت ملتی ہے۔ ان کے مطابق، "ہم تب ہی پرواز کریں گے جب ہم تیار ہوں گے... عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہوگی۔"

آرٹیمس 2 مشن صرف ایک راکٹ کا لانچ نہیں ہے؛ یہ محتاط منصوبہ بندی، بین الاقوامی تعاون، اور گہرے انسانی نقطہ نظر کی کہانی ہے۔ جیسا کہ کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن نے کہا، یہ مشن مزید لوگوں کو چاند کو غور سے دیکھنے پر مجبور کرے گا۔ جب انسانیت ایک بار پھر ستاروں کی طرف اپنی نظریں اٹھا رہی ہے، تو یہ نیا چاند کا سفر ہمیں کائنات اور خود اپنے بارے میں کیا سکھائے گا... یہ تو آنے والے وقت ہی بتائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NiRnkMp

جمعرات، 15 جنوری، 2026

اے آئی چپس پر ٹرمپ حکومت کا فیصلہ، 25 فیصد ٹیرف، عالمی سپلائی چین کے لیے چیلنج

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں حکومت نے منتخب جدید کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق چپس پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امریکہ کی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت وہ ہائی اینڈ اے آئی چپس براہ راست متاثر ہوں گی جنہیں امریکی کمپنیاں چین کو فراہم کرنے کی تیاری میں تھیں۔

حکومتی وضاحت کے مطابق ٹیرف کا اطلاق ’این ویڈیا‘ کے ایچ ٹو 100اے آئی پروسیسر اور اے ایم ڈی کی ایم آئی 325 ایکس جیسی جدید چپس پر ہوگا۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جو تکنیکی طور پر نہایت حساس سمجھی جاتی ہیں اور جن کی تیاری زیادہ تر تائیوان میں ہوتی ہے۔ اگر ان چپس کو چین کو فروخت کیا جاتا ہے تو متعلقہ کمپنیوں کو اضافی پچیس فیصد محصول ادا کرنا ہوگا۔

یہ قدم محض مالی محصول تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس بندوبست کے ذریعے حکومت کو آمدنی حاصل ہوگی جبکہ محدود شرائط کے تحت بعض چپس کی فروخت کی اجازت بھی دی جائے گی جن پر پہلے پابندیاں عائد تھیں۔ اس حکمت عملی کو مکمل پابندی کے بجائے کنٹرول شدہ اجازت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنی سیمی کنڈکٹر ضرورت کا بڑا حصہ بیرونی سپلائی چین سے حاصل کرتا ہے، جو اقتصادی اور سلامتی دونوں زاویوں سے تشویش کا باعث ہے۔ اسی لیے ہائی اینڈ چپس پر ابتدائی طور پر محدود دائرے میں ٹیرف نافذ کیا گیا ہے، تاہم مستقبل میں مزید سخت اقدامات کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ امریکی ڈیٹا سینٹرز، اسٹارٹ اپس، شہری صنعتی استعمال اور عوامی شعبے کے لیے درآمد کی جانے والی چپس اس فیصلے سے مستثنیٰ رہیں گی۔ این ویڈیا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظور شدہ تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے امریکی صنعت کا مسابقتی رہنا ناگزیر ہے۔ مجموعی طور پر یہ فیصلہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں تجارت، سلامتی اور جدید ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑتے جا رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Hw6vmtL

منگل، 6 جنوری، 2026

ہندوستان چاول کی پیداوار میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے مقام پر پہنچا

نئی دہلی: مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ ہندوستان چاول کی پیداوار کے معاملے میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان نے 150.18 ملین ٹن چاول پیدا کیا، جبکہ چین کی پیداوار 145.28 ملین ٹن رہی۔ وزیر زراعت نے یہ معلومات قومی دارالحکومت میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران فراہم کیں۔

شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ چاول کی پیداوار میں یہ پیش رفت اعلیٰ پیداوار دینے والے بیجوں کی ترقی، زرعی تحقیق اور کسانوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان اب نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک ہے بلکہ عالمی منڈی میں ایک اہم چاول برآمد کنندہ بھی بن چکا ہے۔ وزیر کے مطابق اس کامیابی میں سائنسی تحقیق اور جدید زرعی طریقوں کا اہم کردار رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے اسی موقع پر ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے تیار کی گئی 25 فصلوں کی 184 نئی اور بہتر اقسام کو بھی جاری کیا۔ ان میں اناج، دالیں، تیل دار اجناس، چارہ فصلیں، گنا، کپاس، جیوٹ اور تمباکو کی اقسام شامل ہیں۔ وزیر نے کہا کہ ان اقسام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ کسانوں کو زیادہ پیداوار اور بہتر معیار کی فصل حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔

شیو راج سنگھ چوہان نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ان نئی اقسام کو جلد از جلد کسانوں تک پہنچایا جائے تاکہ وہ ان سے عملی فائدہ حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق بہتر بیج کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیر زراعت نے زرعی سائنس دانوں سے یہ بھی کہا کہ وہ دالوں اور تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ ملک کو ان شعبوں میں خود کفیل بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے گزشتہ گیارہ برسوں میں 3,236 اعلیٰ پیداوار والی اقسام کو منظوری دی گئی، جو کہ زرعی تحقیق میں تیزی کی عکاس ہے۔

مرکزی وزیر کے مطابق نئی اقسام کو موسمیاتی تبدیلی، مٹی کے زیادہ نمکین ہونے، خشک سالی اور دیگر حیاتیاتی و غیر حیاتیاتی دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ زرعی شعبہ مستقبل کے چیلنجوں کا بہتر انداز میں سامنا کر سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Eyf3O6a