پیر، 16 فروری، 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: ’اے آئی کا استعمال عوامی مفاد اور سب کے فائدے کے لیے ہو‘، وزیر اعظم مودی کا بیان

نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں جاری پانچ روزہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوسرے دن وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو عوامی بہبود اور سب کے فائدے کے لیے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ذہانت، استدلال اور فیصلہ سازی کی صلاحیت ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کو عوام کے لیے کارآمد بناتی ہے، اور اس سمٹ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اے آئی کو ہمہ گیر ترقی کے لیے استعمال کرنے کے امکانات تلاش کیے جائیں۔

پیر سے شروع ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کے رہنما، وزرا، ٹیکنالوجی ماہرین، محققین اور صنعت سے وابستہ نمائندے شریک ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت پر عالمی سطح کی کانفرنس گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہو رہی ہے۔ سمٹ میں سو سے زائد سرکاری نمائندے موجود ہیں جن میں بیس سے زیادہ سربراہان مملکت، ساٹھ وزرا اور نائب وزرا شامل ہیں، جبکہ پانچ سو سے زائد عالمی اے آئی رہنما بھی شرکت کر رہے ہیں۔

انیس فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی افتتاحی خطاب کریں گے جس میں وہ جامع اور ذمہ دار اے آئی کے لیے ہندوستان کے وژن کو پیش کریں گے۔ سمٹ کے نمایاں پہلوؤں میں تین عالمی اثر انگیز چیلنجز شامل ہیں جن کا مقصد ایسے قابلِ توسیع اور مؤثر اے آئی حل سامنے لانا ہے جو قومی ترجیحات اور عالمی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔ ان مقابلوں کے لیے ساٹھ سے زائد ممالک سے چار ہزار چھ سو پچاس سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے سخت جانچ کے بعد ستر ٹیموں کو فائنلسٹ منتخب کیا گیا ہے۔

18 فروری کو بھارتیہ ٹیکنالوجی سنستھان حیدرآباد کے اشتراک سے ایک اہم تحقیقی سمپوزیم بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ حیدرآباد سے منسلک اس ادارے کے تعاون سے ہونے والے اس پروگرام میں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سمیت مختلف خطوں سے تقریباً ڈھائی سو تحقیقی مقالے موصول ہوئے ہیں۔ اس موقع پر الار کارِس، صدر ایسٹونیا، اور مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو بھی شریک ہیں۔

سمٹ میں اے آئی سے چلنے والی سائنسی دریافتوں، سلامتی اور حکمرانی کے ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے تک مساوی رسائی اور گلوبل ساؤتھ میں تحقیقی تعاون جیسے موضوعات پر سنجیدہ تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کو پائیدار اور منصفانہ ترقی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lWokHxI

اتوار، 15 فروری، 2026

اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا آغاز، نئی دہلی بنا عالمی ٹیک مباحثے کا مرکز

نئی دہلی: ہندوستان میں اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت دنیا بھر سے ٹیکنالوجی ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں کی بڑی تعداد نئی دہلی میں جمع ہو رہی ہے۔ پانچ روزہ اس عالمی کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کی گورننس، معیشت اور سماج پر مرتب ہونے والے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی آج شام پانچ بجے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو’ کا افتتاح کریں گے۔ یہ ایکسپو 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا اور سمٹ کی مرکزی سرگرمیوں کا حصہ ہوگا۔ 100 سے زائد ممالک کی شرکت نے اس تقریب کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت عطا کر دی ہے اور ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی مکالمے کا مرکز بنا دیا ہے۔

یہ ایکسپو 70 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر محیط 10 مختلف میدانوں میں پھیلا ہوا ہے، جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس، تعلیمی و تحقیقی ادارے، مرکزی وزارتیں، ریاستی حکومتیں اور بین الاقوامی شراکت دار ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں اور منصوبوں کی نمائش کریں گے۔ تیرہ ممالک کے قومی پویلین بھی قائم کیے گئے ہیں جن میں آسٹریلیا، جاپان، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، سربیا، ایسٹونیا، تاجکستان اور افریقہ کے نمائندہ پویلین شامل ہیں، جو عالمی تعاون کی جھلک پیش کریں گے۔

ایکسپو میں 300 سے زائد منتخب نمائشی پویلین اور لائیو مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے، جنہیں عوام، کرہ ارض اور پیش رفت جیسے موضوعاتی سلسلوں میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 600 سے زیادہ اعلیٰ صلاحیت کے حامل اسٹارٹ اپس اپنے عملی حل پیش کریں گے، جن میں سے کئی ایسے ماڈلز متعارف کرا رہے ہیں جو پہلے ہی حقیقی نظاموں میں استعمال ہو رہے ہیں اور آبادی کے بڑے حصے کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

منتظمین کے مطابق اس تقریب میں بین الاقوامی مندوبین سمیت ڈھائی لاکھ سے زیادہ زائرین کی شرکت متوقع ہے۔ پانچ سو سے زائد سیشنز منعقد کیے جائیں گے جن میں تین ہزار دو سو پچاس سے زیادہ مقررین اور پینل اراکین شرکت کریں گے۔ ان مباحثوں کا مقصد مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کو سمجھنا اور ایسے اقدامات پر غور کرنا ہے جن سے یہ ٹیکنالوجی ہر عالمی شہری کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔

سمٹ کا ہدف عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کے اندر نئی شراکت داریوں کو فروغ دینا، پالیسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ اور جامع انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/VvB94TN

سائنس و ٹیکنالوجی: خواتین کی غیر متناسب نمائندگی... مدیحہ فصیح

بین الاقوامی ترقی کے موجودہ فریم ورک میں صنفی مساوات محض ایک بنیادی انسانی حق یا اخلاقی مطالبہ نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی استحکام، پائیدار اقتصادی ترقی اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے حصول کے لیے ایک ناگزیر تزویراتی (اسٹریٹجک) شرط ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور اور پائیدار ترقی کے اہداف کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ صنف کی بنیاد پر تفریق کا خاتمہ کیے بغیر ہم ایک پرامن اور خوشحال دنیا کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل اور اقتصادی سرگرمیوں سے باہر رکھا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے بلکہ ریاستوں کی ترقی کی رفتار اور سماجی ہم آہنگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کا بنیادی مشن صنفی مساوات کو عالمی امن، اقتصادی استحکام اور جمہوری حکمرانی کی ایک ایسی ٹھوس بنیاد کے طور پر تسلیم کرنا ہے جس پر مستقبل کی عالمی عمارت کھڑی ہے۔ تاہم، ان ہمہ گیر مقاصد کی راہ میں موجودہ دور کی سب سے بڑی رکاوٹ سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں خواتین کی غیر متناسب نمائندگی ہے، جو کہ ایک گہرے صنفی فرق کو جنم دے رہی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی میں صنفی فرق

اکیسویں صدی کے پیچیدہ عالمی چیلنجز، جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض، اور سائبر سیکورٹی، ایسے حل طلب مسائل ہیں جن کے لیے دنیا کو اپنی تمام تر انسانی ذہانت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس) وہ کلیدی شعبے ہیں جو مستقبل کی عالمی معیشت اور اختراعات کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر دنیا کی نصف آبادی، یعنی خواتین، ان شعبوں سے دور رہیں گی تو ہم نہ صرف ایک بڑے ٹیلنٹ پول سے محروم ہو جائیں گے بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہماری اجتماعی صلاحیت بھی محدود ہو جائے گی۔

موجودہ اعداد و شمار اس صنفی عدم مساوات کا ایک تشویشناک ڈھانچہ جاتی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے باوجود، تحقیق کے لیے دستیاب وسائل کی عدم دستیابی اور صنفی تعصبات کے نتیجے میں سائنس کے شعبے میں گریجویٹ خواتین کا تناسب صرف 35 فیصد تک محدود ہے۔ ہائی ٹیک شعبوں میں یہ صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سائنس میں خواتین کی نمائندگی محض 26 فیصد ہے۔ جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیاد سمجھے جانے والے شعبے کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں یہ شرح محض 12 فیصد ہے، جو کہ مستقبل کے تکنیکی ڈھانچے میں ایک بڑے صنفی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس صورتحال پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو ان شعبوں سے خارج کرنا عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی، صحتِ عامہ اور خلائی سلامتی جیسے سنگین مسائل کے حل کو کمزور بناتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ صرف انفرادی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی "اجتماعی بھلائی" کا سوال ہے۔ اجتماعی بھلائی کے اہم عوامل جیسے قابلِ تجدید توانائی کا فروغ، آئندہ وباؤں کی روک تھام، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ، اور انسانی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے کے لیے خواتین سائنسدانوں کی اختراعی سوچ اور قیادت، طبی تحقیق میں خواتین کی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ میں صنفی نقطہ نظر کو اہمیت اور سائنسی امنگوں کی تکمیل کے ذریعے دنیا کے مستقبل کو زیادہ سے زیادہ انسانی ٹیلنٹ سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

اعداد و شمار اور عالمی قیادت کے بیانات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم محض سطحی تبدیلیوں کے بجائے ایسی مربوط اور پائیدار ترقیاتی حکمتِ عملیوں کی طرف پیش قدمی کریں جہاں صنفی شمولیت نظام کا لازمی حصہ ہو۔

جامع و پائیدار ترقی کے لیے نئے ماڈلز

مستقبل کی ترقی کا انحصار اب محض الگ تھلگ سائنسی ایجادات پر نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کو سماجی علوم اور مالیاتی نظام کے ساتھ مربوط کرنے پر ہے۔ ایک جامع ترقیاتی ماڈل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سماجی علوم، سٹیم اور مالیات کے مابین ایک فعال تعلق قائم کریں۔ خواتین اور لڑکیوں کے عالمی یومِ سائنس کے موقع پر اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ ان شعبوں کا باہمی ملاپ ہی پائیدار ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس تزویراتی ہم آہنگی کے اثرات درج ذیل صورتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں:

  1. ڈیجیٹل مہارتوں میں صنفی فرق کا خاتمہ: جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور تربیت کے ذریعے خواتین کو مستقبل کی لیبر مارکیٹ کے لیے تیار کرنا۔

  2. خواتین کی قیادت میں اسٹارٹ اپس کا فروغ: مالیاتی اداروں کے تعاون سے خواتین کی اختراعی کاروباری سوچ کو حقیقت میں بدلنا تاکہ معاشی تنوع پیدا ہو۔

  3. صنفی اعتبار سے حساس مصنوعی ذہانت: ایسے الگورتھم کی تیاری جو سماجی علوم کی مدد سے صنفی تعصبات کا خاتمہ کریں اور ٹیکنالوجی کو سب کے لیے منصفانہ بنائیں۔

  4. سماجی شمولیت پر مبنی مالیاتی وسائل: ایسے سرمایہ کاری کے ماڈلز متعارف کروانا جو صنفی برابری اور سماجی بہبود کو اپنی کامیابی کا بنیادی پیمانہ قرار دیں۔

ان ماڈلز کا مقصد ایک ایسا ایکو سسٹم تخلیق کرنا ہے جہاں مالیاتی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سماجی انصاف کے حصول کے لیے استعمال ہوں۔ یہ اسٹریٹجک تبدیلی انفرادی سطح پر رول ماڈلز کی کامیابی اور ادارہ جاتی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

یونیسف کا کردار اور عملی مثالیں

ثقافتی رکاوٹوں اور معاشرتی دقیانوسی تصورات کو توڑنے کے لیے رول ماڈلز اور مضبوط ادارہ جاتی پروگراموں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ کرغیزستان سے تعلق رکھنے والی معروف کیمیا دان اور کاروباری شخصیت عسیل سارتبائیوا اس کی ایک درخشندہ مثال ہیں۔ وہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بائیوٹیکنالوجی کمپنی اینسیلی ٹیک کی شریک بانی اور سی ای او ہیں۔ ان کی تحقیق کا مرکز ویکسین کا حرارتی استحکام ہے، یعنی وہ ایسا حل تلاش کر رہی ہیں جس سے ویکسین کو ریفریجریشن کے بغیر بھی محفوظ رکھا جا سکے، جو دور دراز اور ترقی پذیر علاقوں میں صحتِ عامہ کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔

سارتبائیوا اپنی سائنسی خدمات کے ساتھ ساتھ یونیسف کے 'گرلز ان سائنس' پروگرام کی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ ان ثقافتی رکاوٹوں کا مقابلہ کرتی ہیں جو لڑکیوں کو سائنس سے دور رکھتی ہیں جیسے کہ خاندانی اور پدرانہ رکاوٹیں جہاں بہت سے روایتی معاشروں میں لڑکیوں کے کیریئر کا فیصلہ ان کے والد کرتے ہیں۔

یونیسف کا یہ پروگرام نہ صرف سائنسی تعلیم فراہم کرتا ہے بلکہ لڑکیوں میں خود اعتمادی، ابلاغی مہارتیں اور رہنمائی کے ذریعے ان کی شخصیت سازی بھی کرتا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت ہزاروں لڑکیوں نے اپنے خوف پر قابو پا کر یونیورسٹی کی سطح پر سٹیم کے شعبوں کا انتخاب کیا ہے۔ اگرچہ نچلی سطح پر یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن مجموعی عالمی ڈھانچے کی پائیداری کے لیے عالمی سطح پر سیاسی استحکام اور تعاون ناگزیر ہے۔

’یو این ویمن‘ سے امریکہ کا انخلا

عالمی سطح پر صنفی مساوات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ’یو این ویمن‘ کا ایگزیکٹو بورڈ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کثیر الفریقی تعاون کے اس دور میں امریکہ جیسے بااثر ملک کا اس بورڈ کی رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ عالمی کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاسی منظر نامے میں خواتین کے حقوق کے خلاف ایک منظم مخالفت اور 'بیک لیش'دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکہ کا انخلا ایک ’جیو پولیٹیکل خلا‘ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے وہ قوتیں مضبوط ہوں گی جو صنفی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔

تاریخی طور پر ’یو این ویمن‘ کے ساتھ امریکی شراکت داری سے صنفی بنیادوں پر بننے والے قوانین، خواتین کی معاشی خود مختاری، امن و سلامتی میں خواتین کا کردار  اور  تشدد کے خاتمےبالخصوص  خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو روکنے کے لیے بین الاقوامی مہمات جیسے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ادارے کا موقف ہے کہ جب حقوق کی مخالفت میں شدت آ رہی ہو، تو کثیر الفریقی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ امریکہ جیسے ممالک کا قائدانہ کردار عالمی سطح پر صنفی مساوات کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے حیاتی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کی عدم موجودگی سے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کا ایجنڈا کمزور پڑ سکتا ہے۔

مستقبل کا منظر نامہ

اس تجزیے کا نچوڑ یہ ہے کہ دنیا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنی زیادہ سے زیادہ انسانی صلاحیتوں کو کس طرح اور کتنی تیزی سے بروئے کار لاتے ہیں۔ سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور میتھ میٹکس) کے شعبوں میں خواتین کا بڑھتا ہوا فرق محض ایک شماریاتی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک بحران ہے جو ہماری مجموعی انسانی ترقی کو پس پشت ڈال سکتا ہے۔ ہمیں ایسے اسٹریٹجک ماڈلز کو اپنانا ہوگا جو ٹیکنالوجی، مالیات اور سماجی انصاف کو ایک مربوط فریم ورک میں ڈھال سکیں۔

’یو این ویمن‘ اقوام عالم کے مابین ایک تعمیری مکالمے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مشترکہ ذمہ داریوں کی بنیاد پر صنفی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو مل کر ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں کسی بھی لڑکی کا سائنسی سفر اس کی جنس کی وجہ سے ختم نہ ہو۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھنے کی خواہش مند ہر لڑکی کے لیے بہت سادہ مگر نہایت طاقتور پیغام یہ ہے کہ ’’ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔‘‘ آپ کی ذہانت، بصیرت اور اختراعی سوچ دنیا کے مستقبل کو ایک نئی اور روشن سمت دے سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8d0aSuB

ہفتہ، 14 فروری، 2026

نئی تحقیق میں انکشاف، ملازمتوں کو ختم کرنے کے بجائے مہارت پر مبنی تبدیلیاں لا رہا ہے اے آئی

جیسے جیسے دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہورہا ہے، اس کے استعمال کے حوالے سے فکرمندی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر میں۔ عالمی سطح پر مختلف کمپنیوں میں ملازمین کی حالیہ برطرفیوں کو بھی کئی بار اے آئی سے جوڑ کردیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ انڈین کونسل آف ریسرچ ہن انٹرنیشنل اکانومک ریلیشنس (آئی سی آر آئی ای آر) کے ذریعہ اوپن اے آئی کے تعاون سے تیار ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں اس خیال کو پوری طرح سہی نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔

’اے آئی اور نوکریاں، یہ وقت مختلف نہیں ہے‘عنوان سے شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق آئی ٹی کے شعبے میں نوکریاں فی الحال براہ راست طور پراے آئی کی وجہ سے ختم نہیں ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی کی آمد نے کام کے طریقوں کو زیادہ منظم اور موثر بنا دیا ہے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور کام کے عمل کو تبدیل کیا ہے لیکن یہ بڑے پیمانے پر انسانی ملازمین کی جگہ نہیں لے رہا ہے۔ یہ سروے نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان ہندوستان بھر کے 10 شہروں میں 650 آئی ٹی فرموں میں کیا گیا، جس میں بھرتی کے رجحانات، کاروباری طلب، پیداواری صلاحیت اور مہارت کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اے آئی پیداوار کو آسان بناتا ہے اور ہنر مند پیشہ ور افراد کو تبدیل کرنے کے بجائے ان کی قدر میں اضافہ کرتا ہے۔ جب کہ کمپنیوں کے داخلہ سطح پر بھرتیوں میں معمولی کمی ضرورآئی ہے لیکن درمیانی اور سینئر سطح کی بھرتیاں پہلے کی طرح جاری ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر کے رجحانات بڑی حد تک پری کوویڈ کے رجحانات کے مطابق ہیں اور اے آئی نے ان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی ہے۔

حالانکہ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ زیادہ آٹومیشن کا شکار کردار زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سافٹ ویئر ڈویلپرز، ڈیٹا انجینئرز اور ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹرز جیسے تکنیکی کرداروں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی ملازمتوں کو ختم کرنے کے بجائے مہارت پر مبنی تبدیلیاں لا رہا ہے، جس کے لیے افرادی قوت کو نئی ٹیکنالوجیز کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ERWk2xb

منگل، 3 فروری، 2026

سپریم کورٹ میں واٹس ایپ اور میٹا کی سخت سرزنش، پرائیویسی پالیسی کو گمراہ کن قرار دیا

سپریم کورٹ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ اور اس کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی 2021 کی پرائیویسی پالیسی کے معاملے پر سخت ریمارکس کے ساتھ کڑی سرزنش کی۔ عدالت میں اس پالیسی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوران مرکز کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مؤقف اختیار کیا کہ واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی ’استحصالی‘ نوعیت کی ہے کیونکہ اس کے تحت نہ صرف صارفین کا ڈیٹا شیئر کیا جاتا ہے بلکہ اسے تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی میں صارفین کی حقیقی رضامندی شامل نہیں اور عام آدمی اس کی باریکیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی کمپنی ہندوستان کے آئین اور یہاں کے قوانین کی پاسداری نہیں کر سکتی تو اسے یہاں کاروبار کرنے کا حق بھی حاصل نہیں۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت کسی بھی صورت شہریوں کی پرائیویسی پر سمجھوتہ برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کو نہایت چالاکی سے تیار کیا گیا دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عام صارف کو گمراہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایک غریب بزرگ خاتون، سڑک کنارے ریڑھی لگانے والی عورت یا صرف تمل زبان بولنے والی خاتون اس پالیسی کے پیچیدہ نکات کیسے سمجھ پائے گی، یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کمپنیاں ہندوستان میں خدمات فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں، نہ کہ صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کر کے اسے شیئر یا فروخت کرنے کے لیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات عدالت کو بھی واٹس ایپ کی پالیسی سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے، تو پھر دیہی علاقوں میں رہنے والے عام لوگ اس کے مضمرات کیسے جان سکیں گے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کی نجی زندگی اور باخبر رضامندی کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کی جا سکتی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ڈیٹا اور اشتہارات کے تعلق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک ذاتی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ڈاکٹر واٹس ایپ پر دو یا تین دواؤں کے نام بھیجتا ہے تو چند ہی منٹوں میں انہی دواؤں سے متعلق اشتہارات نظر آنے لگتے ہیں، جو ڈیجیٹل نگرانی اور صارفین کے رویوں کی نگرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جسٹس جوئے مالیا باگچی نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی پی ڈی پی ایکٹ بنیادی طور پر پرائیویسی کی بات کرتا ہے، مگر یہاں مسئلہ صارفین کی رویہ جاتی عادات اور ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کے استعمال کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسی بڑی ٹیک کمپنیوں پر سخت، جدید اور مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

واٹس ایپ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کمپنی نے اپنی پرائیویسی پالیسی کو دیگر ممالک کے قوانین کے مطابق ڈھال لیا ہے، تاہم اس دلیل کے باوجود سپریم کورٹ مطمئن نظر نہیں آئی۔ عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کرنے کے لیے وقت دیا اور معاملہ تین ججوں کی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے بھیج دیا۔ اس کیس کی اگلی سماعت 9 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔

یہ معاملہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ مقابلہ جاتی کمیشن نے نومبر 2024 میں واٹس ایپ پر 213 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ کمیشن کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے اپنی غالب حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ بعد ازاں جنوری 2025 میں این سی ایل اے ٹی نے غالب حیثیت کے غلط استعمال کے نتیجے کو تو ہٹا دیا، لیکن جرمانہ برقرار رکھا۔ اسی تضاد کو چیلنج کرتے ہوئے میٹا نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/KSXDUBk

اتوار، 1 فروری، 2026

مصنوعی ذہانت: ٹیکنالوجی نہیں انسانیت کا امتحان

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں عوامی بحث اکثر دو انتہاؤں پر مبنی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے انسانیت کی تباہی کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے محض ایک اور تکنیکی ترقی قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس شور اور خوف سے پرے، اقوام متحدہ ایک اہم اور "عوام پر مبنی" مکالمے کو فروغ دے رہا ہے جو ٹیکنالوجی کو انسانی اقدار کے تابع رکھنے پر مرکوز ہے۔ اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو منظم کرنے کے نقطہ نظر سے چند مؤثر اور حیران کن انکشافات کو اجاگر کیا ہے۔

ملازمتوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ کام کی تبدیلی

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق 41 فیصد آجر مصنوعی ذہانت کی وجہ سے افرادی قوت میں کمی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے ایک زیادہ پیچیدہ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس تنظیم کا کلیدی نکتہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت تقریباً ہر چار میں سے ایک ملازمت کرنے کے طریقے کو نمایاں طور پر تبدیل کرے گی، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے ملازمتوں میں مجموعی طور پر کمی آئے۔ مستقبل کے کرداروں میں منفرد انسانی مہارتوں جیسے تخلیقی صلاحیت، اخلاقی استدلال، اور پیچیدہ فیصلہ سازی کی ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ کارکنوں کے لیے مسلسل سیکھنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی ذہنیت اپنانا ضروری ہوگا۔

بچوں کو تشویشناک خطرہ

اقوام متحدہ نے بچوں کو نشانہ بنانے والے نقصان دہ، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آن لائن مواد سے متعلق ایک فوری بحران کی نشاندہی کی ہے۔ چائلڈ لائٹ گلوبل چائلڈ سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کا ایک چونکا دینے والا اعداد و شمار یہ ہے کہ امریکہ میں ٹیکنالوجی کی مدد سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز 2023 میں 4,700 سے بڑھ کر 2024 میں 67,000 سے زیادہ ہو گئے۔

کوسماس زوازاوا، جو بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے ایک ڈائریکٹر ہیں، نے ان خطرات کی ایک تشویشناک فہرست پیش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مجرم بچے کے رویے کا تجزیہ کرکے انہیں پھنسانے (گرومِنگ) اور جنسی استحصال کے لیے جعلی تصاویر (ڈیپ فیکس) بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔

تعلیم میں مزید اساتذہ کی ضرورت

اقوام متحدہ کی ایک غیر متوقع دلیل یہ ہے کہ تعلیم کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنے سے زیادہ اہم انسانی اساتذہ میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار اس کی تائید کرتے ہیں کہ "عالمی تعلیمی نظام کو 2030 تک 4 کروڑ 40 لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہوگی۔" شفیقہ آئزکس، جو یونیسکو (اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم) میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی سربراہ ہیں، اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ "ہمارا ماننا ہے کہ یہ دلیل دینا ایک غلطی ہے کہ ہمیں اساتذہ میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔" ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت ڈیٹا کی منتقلی کا انتظام کر سکتی ہے، لیکن یہ انسانی ترقی کا انتظام نہیں کر سکتی، تعلیم بنیادی طور پر ایک سماجی، انسانی اور ثقافتی تجربہ ہے نہ کہ کوئی تکنیکی ڈاؤن لوڈ۔

انسانی حقوق مصنوعی ذہانت کی لازمی بنیاد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ انسانیت کی تقدیر کو "کبھی بھی کسی الگورتھم کے 'بلیک باکس' کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے"۔ یہی اصول یونیسکو کی 2021 کی "مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات پر سفارش" کی بنیاد ہے۔ اس کی مرکزی دلیل یہ ہے کہ انسانی حقوق کوئی اختیاری خصوصیت نہیں ہو سکتے؛ انہیں تمام پائیدار مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے "لازمی بنیاد" ہونا چاہیے۔ اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مصنوعی ذہانت کا ٹول جو انسانی وقار، مساوات، یا آزادی کے لیے خطرہ ہو، اسے محدود یا ممنوع قرار دیا جانا چاہیے، اور حکومتوں کو اس معیار کو نافذ کرنا چاہیے۔

حکومتیں کی جانب سے سخت اقدامات

یہ صرف نظریاتی باتیں نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر کی حکومتیں عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا 2025 کے آخر تک 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ حکومت نے اس کی وجہ ایک کمیشنڈ رپورٹ کو قرار دیا جس میں بتایا گیا کہ 10 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً دو تہائی بچوں نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، پرتشدد یا پریشان کن مواد دیکھا تھا اور نصف سے زیادہ سائبر بلینگ کا شکار ہوئے تھے۔ یہ کوئی الگ تھلگ کیس نہیں ہے؛ ملیشیا، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا جیسے دیگر ممالک بھی اسی طرح کے ضوابط پر غور کر رہے ہیں۔

سلیکون ویلی کی تباہی اور یوٹوپیا کی بحثوں سے پرے، اقوام متحدہ ایک زیادہ گہرا سچ سامنے لا رہا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق، مصنوعی ذہانت کا چیلنج تکنیکی نہیں، بلکہ انسانی ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا جواب 'گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ' جیسے اقدامات کے ذریعے دیا جا رہا ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے نئی مہارتوں، کمزوروں کے لیے مضبوط تحفظ، اور عالمی انسانی حقوق پر مبنی ایک بنیاد کی ضرورت ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/gAL0W2d