ہفتہ، 21 مارچ، 2026

کیا اسمارٹ فون سے ایپس غائب ہو جائیں گے؟ ’نتھنگ‘ کے مالک کارل پیئی نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

اسمارٹ فون ’نتھنگ‘ کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) کارل پیئی نے اسمارٹ فون کے مستقبل سے متعلق ایک حیران کرنے والی پیشین گوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں فون سے ایپس مکمل طور پر غائب ہو جائیں گے اور ان کی جگہ اے آئی ایجنٹس لے لیں گے۔ ایس ایکس ایس ڈبلیو ایونٹ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ایپ سسٹم اب پرانا اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔ مستقبل میں صارف صرف اپنی ضرورت بتائے گا اور اے آئی خود ہی تمام کام انجام دے دے گا۔

کارل پیئی کا ماننا ہے کہ آج ہم جس طرح اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، وہ تقریباً 20 سال پرانا ماڈل ہے۔ لاک اسکرین، ہوم اسکرین اور الگ الگ ایپس کا نظام زیادہ تبدیلی نہیں دیکھ پایا ہے۔ ہر کام کے لیے الگ ایپ کھولنی پڑتی ہے، جو صارف کے لیے وقت لینے والا اور پیچیدہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے اسے پرانا اور بورنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کسی کو کافی پینے جانا ہو تو اسے پہلے ٹیبل بک کرنا پڑتا ہے، پھر میسج بھیجنا ہوتا ہے، پھر کیلنڈر سیٹ کرنا اور اس کے بعد کیب بک کرنی پڑتی ہے۔ یعنی ایک چھوٹے سے کام کے لیے کئی ایپس کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ پورا عمل صارف کو ایک طرح سے ایڈمن کام جیسا لگتا ہے، جہاں انسان خود آپریٹر بن جاتا ہے۔

کارل پیئی کے مطابق مستقبل میں اے آئی ایجنٹ اس پورے عمل کو آسان بنا دے گا۔ صارف صرف اپنی ضرورت بتائے گا اور اے آئی خود سمجھ کر تمام مراحل مکمل کر دے گا۔ مثلاً کیب بک کرنا، ریسٹورنٹ ریزرویشن اور ریمائنڈر سیٹ کرنا سب خود بخود ہو جائے گا۔ اس سے صارف کا وقت بچے گا اور تجربہ کافی ہموار ہو جائے گا۔ انہوں نے ایپ ڈیولپرز اور کمپنیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر وہ مستقبل کے لیے تیار رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے سسٹم کو بدلنا ہوگا۔ ایپس کی جگہ اے آئی ایجنٹس کے لیے انٹرفیس تیار کرنا ہوگا، جیسے اے پی آئی اور کنیکٹر سسٹم۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسان نہیں بلکہ اے آئی ایجنٹس ایپس کو آپریٹ کریں گے، اس لیے کمپنیوں کو ابھی سے اس تبدیلی کے لیے تیار ہونا ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/SG2KV7t

جمعہ، 20 مارچ، 2026

ویب سائٹس پر ٹریفک دھماکہ کا خوف! کیا سال بھر میں انٹرنیٹ پر انسانوں کی بادشاہت ختم ہو جائے گی؟

انٹرنیٹ کی دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ اس بار تبدیلی صرف اتنی نہیں ہے کہ لوگ زیادہ آن لائن آئیں گے، بلکہ اصل تبدیلی یہ ہے کہ آنے والے وقت میں انٹرنیٹ پر ٹریفک تیزی سے بڑھے گا، لیکن اسے چلانے والے انسان نہیں بلکہ مشینیں ہوں گی۔ دنیا کی بڑی انٹرنیٹ سیکورٹی کمپنی ’کلاؤڈفلیئر‘ کے سربراہ ’میتھیو پرنس‘ نے کہا ہے کہ 2027 تک انٹرنیٹ پر انسانوں کے مقابلے میں بوٹس کی سرگرمیاں زیادہ ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں انٹرنیٹ کا مجموعی ٹریفک ریکارڈ سطح تک پہنچ جائے گا، لیکن اس میں انسانوں کی حصہ داری کم ہوتی جائے گی۔ یعنی انٹرنیٹ پہلے سے زیادہ مصروف ہوگا، ویب سائٹس پر ٹریفک زیادہ آئے گا، لیکن ان میں حقیقی صارفین کم ہوں گے۔

درحقیقت، اب تک ویب سائٹ ٹریفک کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ لوگ آ رہے ہیں، پڑھ رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اب اس میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ اب ٹریفک کا بڑا حصہ ان بوٹس سے آئے گا جو مسلسل ویب سائٹس کو اسکین کرتے ہیں، ڈاٹا حاصل کرتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر نیا مواد تیار کرتے ہیں۔ اس کے اثرات بہت بڑے ہوں گے۔

میتهیو پرنس نے ایک کانفرنس میں مثال دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اگر کوئی انسان ڈیجیٹل کیمرہ خریدنے کے لیے 5 ویب سائٹس دیکھتا ہے تو یہ اس کی حد ہے۔ جبکہ ایک اے آئی ایجنٹ یا بوٹ اتنے ہی وقت میں 1000 یا پھر 5000 ویب سائٹس کو بھی اسکین کر سکتا ہے۔ یہ سب حقیقی ٹریفک میں شمار ہوگا اور ویب سائٹس پر ویسا ہی بوجھ ڈالے گا جیسا کسی انسان کے آنے سے پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنریٹو اے آئی سے پہلے انٹرنیٹ کے تقریباً 20 فیصد حصے پر بوٹ ٹریفک ہوتا تھا، لیکن 2027 تک یہ انسانوں سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔ اس کے لیے ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی آئیں گی۔

پہلی نظر میں یہ لگ سکتا ہے کہ ویب سائٹس کے لیے یہ اچھی خبر ہے، کیونکہ زیادہ ٹریفک کا مطلب زیادہ وزٹس ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ یہ ٹریفک حقیقی نہیں ہوگا بلکہ ڈاٹا حاصل کرنے کے لیے ہوگا۔ یعنی ویب سائٹس کھل رہی ہوں گی، سرور پر بوجھ بڑھ رہا ہوگا، لیکن سامنے کوئی انسان موجود نہیں ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے انٹرنیٹ کی معیشت پر دباؤ شروع ہوتا ہے۔ آج ویب سائٹس کی آمدنی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کتنے لوگ ان کے صفحات پر آئے، کتنی دیر رکے اور کتنے اشتہارات دیکھے۔ لیکن اگر ٹریفک کا بڑا حصہ مشینوں پر مشتمل ہو گیا تو یہ پورا ماڈل ہل جائے گا، کیونکہ مشینیں نہ اشتہارات دیکھتی ہیں اور نہ خریداری کرتی ہیں۔ تاہم، اس سے کمائی کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔

کئی بڑی کمپنیاں اب ایسے نظام بنانے میں مصروف ہیں جہاں ویب سائٹس بوٹس سے بھی فیس وصول کر سکیں۔ یعنی اگر کوئی مشین آپ کا ڈاٹا استعمال کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ یہ ایک بالکل نیا ماڈل ہوگا جہاں انسانوں کی جگہ مشینیں یعنی بوٹس گاہک بنیں گے۔ دوسری جانب، یہ ٹریفک صرف تعداد نہیں بڑھا رہا بلکہ انٹرنیٹ کے ڈھانچے کو بھی بدل رہا ہے۔ ایک انسان دن میں محدود بار ہی کسی ویب سائٹ پر جا سکتا ہے، لیکن ایک بوٹ ایک سیکنڈ میں ہزاروں درخواستیں بھیج سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آنے والے وقت میں انٹرنیٹ ٹریفک کئی گنا بڑھ سکتا ہے اور سرور لوڈ، ڈاٹا ٹرانسفر اور نیٹ ورک پر دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ ہوگا۔

مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ اگلے چند ایک سالوں میں انٹرنیٹ ٹریفک میں بڑا بدلاؤ دیکھنے کو ملے گا۔ کمپنیاں کمائی کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہیں، جن میں اے آئی کمپنیوں کا سب سے بڑا کردار ہوگا۔ اگر ان پر مناسب کنٹرول نہ کیا گیا تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ’کلاؤڈفلیئر‘ دنیا کی بڑی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کمپنیوں میں شامل ہے۔ یہ دنیا بھر کی متعدد بڑی ویب سائٹس کو خدمات فراہم کرتی ہے، جن میں کانٹینٹ ڈلیوری نیٹ ورک (سی ڈی این) بھی شامل ہے۔ اس کمپنی میں کسی خرابی (گلچ) کی صورت میں کئی بار عالمی سطح پر انٹرنیٹ سروسز متاثر ہو جاتی ہیں اور متعدد ویب سائٹس بند ہو جاتی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/b7fYoAV

پیر، 16 مارچ، 2026

اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، وائٹ کالر ملازمتیں جلد ختم نہیں ہوں گی: رگھو رام راجن

ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور آنے والے چند برسوں میں وائٹ کالر ملازمتوں کے مکمل طور پر ختم ہو جانے کا امکان نہیں ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کے معاشرے اور معیشت پر اثرات عام طور پر اندازوں سے زیادہ وقت میں سامنے آتے ہیں۔

پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں رگھو رام راجن نے لکھا کہ ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار، بازار میں مسابقت اور حکومتوں کی پالیسیاں یہ طے کریں گی کہ مصنوعی ذہانت کا پھیلاؤ کس طرح اور کتنی تیزی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن عملی سطح پر مختلف صنعتوں میں اس کے نفاذ میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں نئی ٹیکنالوجی کو پوری طرح رائج ہونے میں دہائیاں لگ گئیں۔ مثال کے طور پر خودکار ٹیلی فون ایکسچینج کا نظام انسانی آپریٹروں کی جگہ لینے میں کئی دہائیوں تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا تھا۔ راجن کے مطابق یہی صورتحال مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی پیش آ سکتی ہے، کیونکہ مختلف صنعتوں میں اسے اپنانے کے دوران تکنیکی، تنظیمی اور سماجی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں۔

رگھو رام راجن نے بعد میں پیشہ ورانہ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں کی جانے والی کئی پیش گوئیاں اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہیں کہ معاشرے اور سیاست کا کردار بھی اس ٹیکنالوجی کے اثرات کو شکل دینے میں اہم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق عوامی رائے اور سیاسی رد عمل بھی یہ طے کریں گے کہ اے آئی معیشت اور ملازمتوں کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔

اپنے تجزیے میں راجن نے اے آئی پر مبنی معیشت کے مختلف ممکنہ راستوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طاقتور اے آئی نظام تیار کر کے نمایاں تکنیکی برتری حاصل کر لیتی ہیں تو وہ ان نظاموں پر انحصار کرنے والے کاروباروں سے زیادہ قیمتیں وصول کر سکتی ہیں۔ اس صورت میں مختلف صنعتوں کی کمپنیاں اپنے کئی کام خودکار بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال بڑھا سکتی ہیں اور وائٹ کالر ملازمین کی تعداد کم کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملازمتوں سے محروم ہونے والے کچھ افراد خوردہ تجارت یا مہمان نوازی جیسے خدماتی شعبوں کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے ان شعبوں میں مسابقت بڑھنے اور اجرتوں میں کمی آنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم راجن نے ایک اور امکان کی بھی نشاندہی کی، جس میں متعدد اے آئی نظام بازار میں ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت کریں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں پیداواری صلاحیت میں ہونے والا اضافہ چند کمپنیوں تک محدود رہنے کے بجائے پوری معیشت میں زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1NyHfa6

جمعہ، 6 مارچ، 2026

اے آئی اور ڈیپ فیک کے ذریعے مالی دھوکہ دہی میں اضافہ، امریکہ کو سائبر جرائم سے اربوں ڈالر کا نقصان

واشنگٹن: امریکہ میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے مالی دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہاؤس فنانشل سروسز سب کمیٹی برائے مالیاتی ادارہ جات کی ایک سماعت کے دوران ارکان کانگریس کو بتایا گیا کہ مجرم جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دے کر بڑی رقوم حاصل کر رہے ہیں۔

سماعت میں امریکی خاندانوں، معمر شہریوں اور چھوٹے کاروباروں کو نشانہ بنانے والے بڑھتے اسکیمرز اور مالی فراڈ کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ سب کمیٹی کے چیئرمین اینڈی بار نے کہا کہ جیسے جیسے مجرم نئی ٹیکنالوجی اپنا رہے ہیں اور عالمی نیٹ ورکس کے ذریعے سرگرم ہیں، مسئلے کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھوکہ دہی سے ہونے والا نقصان صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کا تعلق لوگوں کی ریٹائرمنٹ کی جمع پونجی، بچوں کی تعلیم کے لیے محفوظ فنڈز اور چھوٹے کاروباروں کی بچت سے ہے جو بعض اوقات ایک ہی واقعے میں ختم ہو جاتی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اینڈی بار نے بتایا کہ 2024 میں امریکی شہریوں نے سائبر جرائم کے باعث 16.6 ارب ڈالر کے نقصان کی اطلاع دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ مجرم اب مصنوعی ذہانت، آواز کی نقل تیار کرنے والی ٹیکنالوجی، جعلی کالر شناخت اور فرضی سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

سب کمیٹی کے رکن بل فوسٹر نے کہا کہ ریگولیٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ بڑھنے کے باوجود اسکیمرز کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر دھوکہ دہی اب آن لائن ماحول میں انجام دی جا رہی ہے اور مجرم مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی دستاویزات اور شناخت تیار کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

سماعت کے دوران بینکوں اور کریڈٹ یونینوں کے نمائندوں نے بتایا کہ مالیاتی ادارے اکثر اس طرح کے فراڈ کے خلاف آخری دفاعی دیوار ہوتے ہیں، حالانکہ بہت سے اسکیمرز مالیاتی نظام کے باہر اور اکثر امریکہ سے باہر سے کارروائیاں کرتے ہیں۔

ٹینیسی کے بینک آف لنکن کاؤنٹی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر گائے ڈیمپسی نے کہا کہ چھوٹے مالیاتی ادارے فراڈ کی روک تھام پر زیادہ وسائل خرچ کر رہے ہیں لیکن وہ اس مسئلے کو اکیلے حل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک معمر شخص آن لائن دھوکہ دہی کے باعث اپنا گھر 85 ہزار ڈالر میں فروخت کرنے پر مجبور ہو گیا۔

ماہرین نے کانگریس پر زور دیا کہ وفاقی اداروں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے اور مالیاتی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو آسان بنایا جائے تاکہ دھوکہ دہی کے طریقوں کی جلد نشاندہی ہو سکے اور صارفین کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dx2WzYK