بدھ، 23 اگست، 2023

امریکی سائنسدانوں نے چین کے ساتھ سائنسی تعاون کے معاہدے کی تجدید کی درخواست کی

واشنگٹن: امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے فزکس کے دو پروفیسروں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ چین کے ساتھ سائنسی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے کی تجدید کرے۔

پروفیسر اسٹیون کیولسن اور پیٹر مائیکلسن نے 21 اگست کو صدر جو بائیڈن کے نام تحریر کردہ ایک کھلے خط میں کہا ’’امریکہ کو پروٹوکول کی تجدید کرنی چاہیے، کیونکہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔‘‘

انہوں نے جس پروٹوکول کا حوالہ دیا وہ امریکہ-چین سائنس اور ٹیکنالوجی تعاون کا معاہدہ ہے، جس پر دونوں ممالک کے درمیان 1979 میں دستخط ہوئے تھے اور اس کے بعد سے ہر پانچ سال بعد اس کی تجدید کی جاتی ہے۔ یہ اتوار کو ختم ہوجائےگا۔

کانگریس میں کچھ ریپبلکن ممبران نام نہاد ’’قومی سلامتی‘‘ کی تشویشات پر تجدید کی مخالفت کرتے ہیں، جس نے سائنسی برادری میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا ’’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ چین کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے سے ہماری اپنی تحقیق، ہمارے فوری ساتھیوں کے کام یا ہماری یونیورسٹیوں کے تعلیمی مشن پر براہ راست اور منفی اثر پڑے گا۔‘‘

پروفیسر کیولسن اور پروفیسر مائیکلسن امریکہ میں سائنس دانوں اور اسکالروں سے جمعرات تک اپنے خط پر دستخط کرنے اور اپنے ساتھیوں میں اس مہم کو فروغ دینے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

خط کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور چین کے درمیان سائنسی مصروفیات کا سنگ بنیاد رہا ہے اور اس سے امریکہ کو بے پناہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/F8cUILp

منگل، 22 اگست، 2023

چندریان 3 LIVE: آج شام کو سافٹ لینڈنگ کے لیے الٹی گنتی شروع

اسکولوں میں لائیو ٹیلی کاسٹ

آج شام 6.04 بجے چندریان 3 کی لینڈنگ پورے ملک میں براہ راست نشر کی جائے گی۔ اس تقریب کے لیے اسکول کھلے رہیں گے اور خلائی شائقین اس تاریخی لمحے کے لیے پارٹیوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی، جو جنوبی افریقہ میں برکس سربراہی اجلاس میں حصہ لے رہے ہیں، چندریان -3 کی لینڈنگ کے دوران عملی طور پر اسرو میں شامل ہوں گے۔

مشن کی کامیابی کے لئے دعائیں

ہندوستان کا مون مشن چندریان 3 آج شام چاند کی سطح پر اترنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سے قبل ملک بھر میں جوش و خروش نظر آ رہا ہے اور مشن کی کامیابی کے لیے دعائیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اسرو کے سائنسدانوں نے چندریان 3 کی لینڈنگ سے پہلے کے 20 منٹ کو ہندوستان کے لیے ’20 منٹ کی دہشت‘ قرار دیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/p0U6SVh

چندریان 3 چاند پر اترنے کے لیے تیار، ہندوستان تاریخ رقم کرنے سے ایک قدم دور

چنئی: ہندوستانی چاند مشن چندریان-3 بدھ کو چاند پر اترنے کے لیے تیار ہے۔ چاند مشن، چندریان 3 کامیابی کے ساتھ اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے اور چندریان لینڈر ماڈیول ( ایل ایم) 23 اگست کی شام 6.04 بجے چاند کے جنوبی قطبی علاقے پر اترے گا۔

اب تک، مشن بالکل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اب سب کی نظریں اس لینڈنگ پر ہیں جو اگر کامیاب ہو جاتا ہے، تو ہندوستان کو اقوام کے ایک ایلیٹ گروپ میں شامل کر دے گا جس میں امریکہ، روس اور چین شامل ہیں۔ اسرو کے سائنسدان نصف شب سے چندریان 3 مشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چندریان-3 کی لینڈنگ سے چند گھنٹے قبل، اسرو نے ایک سنگ میل حاصل کیا جب مدار میں لے جانے والے چندریان-2 نے کل چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول ( ایل ایم) رسمی طور پر استقبال کیا گیا۔ چندریان -2 آربیٹر چندریان -3 لینڈر کے ساتھ اسرو کے لئے بیک اپ مواصلاتی چینل ہوگا۔

اسرو نے ایکس چندریان -3 مشن پر ایک پوسٹ میں کہا: ’خوش آمدید دوست۔ سی ایچ-2 مدار نے باضابطہ طور پر سی ایچ -3 ایل ایم کا خیرمقدم کیا۔

اسرو نے 2019 میں کہا تھا کہ عین لانچنگ اور مداری تدبیریں کی وجہ سے چندریان-2 کے مداری مشن کی زندگی میں سات سال کا اضافہ ہوا ہے۔ چندریان-2 مشن، جو 22 جولائی 2019 کو شروع کیا گیا تھا، چاند کے نامعلوم جنوبی قطب کو تلاش کرنے کے لیے ایک مدار، لینڈر اور روور پر مشتمل تھا۔

چندریان-2 کو جولائی 2019 میں لانچ کیا گیا تھا اور روور کو لے جانے والا لینڈر ستمبر 2019 میں لینڈنگ سائٹ کے بالکل قریب تکنیکی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگیا، جس سے مشن 99.99 فیصد کامیاب رہا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4K6ANyx

پیر، 21 اگست، 2023

چندریان-3: اگر 23 اگست کو نہیں ہوئی لینڈنگ تو پھر اس کے لیے 27 اگست تک کرنا پڑے گا انتظار!

ہندوستان کا چندریان-3 کامیابی سے محض دو دن دور ہے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ وکرم لینڈر چاند کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اِسرو نے سافٹ لینڈنگ کے لیے 23 اگست کی شام تقریباً 6 بجے کا وقت بھی مقرر کر رکھا ہے، لیکن اِسرو کی طرف سے یہ جانکاری بھی دی گئی ہے کہ لینڈنگ کی تاریخ میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ اس تعلق سے اِسرو کے ایک سینئر افسر نے خود جانکاری مہیا کی ہے۔

دراصل چندریان-3 کی لینڈنگ چاند کے جس حصے میں ہونی ہے، وہاں اسپیس کرافٹ کو اتارنے کے لیے ایسی زمین کی تلاش کرنی ہے جہاں نہ تو زیادہ پہاڑ ہوں اور نہ ہی زیادہ گڈھے۔ یعنی برابر سطح والے حصے کی تلاش ہے جو ایک مشکل امر ہے۔ لینڈر ماڈیول میں لگے خاص کیمروں کے ذریعہ کھینچی گئی کچھ تصویروں کو شیئر کیا گیا ہے جس پر اِسرو کے سائنسدانوں کی گہری نظر ہے۔ اِسرو کے افسران کیمرے کے ذریعہ ہی لینڈنگ کے لیے زمین تلاش کر رہے ہیں۔ اگر لینڈنگ کے لیے زمین کی تلاش وقت مقررہ پر کر لی جاتی ہے تب تو 23 اگست کو یہ عمل انجام دیا جائے گا، ورنہ کسی دوسری تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

گجرات کے احمد آباد واقع اِسرو کے اسپیس ایپلی کیشن سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش ایم دیسائی نے تاریخ بدلنے کو لے کر ایک اہم جانکاری دی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چندریان کو چاند پر اتارنے سے دو گھنٹے پہلے لینڈر اور چاند کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا۔ سبھی حالات پر نظر رکھنے کے بعد ہی لینڈر کو چاند پر لینڈ کرانے کا فیصلہ ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر اِسرو کو لگتا ہے کہ لینڈر یا چاند کی حالت لینڈنگ کے لیے مناسب نہیں ہے، تو چاند پر لینڈنگ کی تاریخ 27 اگست تک کے لیے آگے بڑھا دی جائے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rNL5sMY

ہندوستان۔ روس کے درمیان چاند کو فتح کرنے کی دوڑ ختم، اسرو کو برتری

روس اور ہندوستان کے درمیان چاند کے قطب جنوبی کو فتح کرنے کی دوڑ ختم ہو گئی ہے کیونکہ 47 سال کے طویل وقفے کے بعد روس نے چاند کے جنوبی قطبی علاقے پر اترنے کے لیے اپنا لونا۔25 خلائی جہاز کامیابی سے لانچ کیا تھا، جو کریش ہو گیا ہے اور اس طرح روس اب اس دوڑ سے باہر ہو گیا ہے۔

23 اگست کو لینڈنگ کے ساتھ ہندوستان کا چندریان 3 قطب کی پوزیشن سنبھالے گا اور سطح پر جمے ہوئے پانی کا پتہ لگانے کے لیے اترنے والی چوتھی گاڑی بن جائے گی اور ہندوستان تاریخ رقم کرے گا۔
روس کے لونا-25 کو 14 جولائی کو لانچ کیے گئے چندریان-2 کے مقابلے میں بہت بعد میں لانچ کیا گیا تھا۔ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ لونا-25 کو لانچ کے 12 دنوں کے اندر 21-22 اگست کو چاند پر اترنا تھا۔ وہیں اسرو نے 23 اگست کو چندریان -3 کی سافٹ لینڈنگ کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس طرح چندریان 3 لانچ کے 42 دن بعد چاند کی سطح پر اترے گا۔

لونا 25 کے حادثے سے روس کا 47 سالہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ہندوستان کو اس کا فائدہ ہوا اور وہ 23 اگست کو رات 18.04 بجے اپنے چندریان 3 کی پاور لینڈنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان یہ اہم کارنامہ انجام دینے والا امریکہ، چین اور روس کے بعد دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/B3DAhVN

اتوار، 20 اگست، 2023

چندریان-3: لینڈر وکرم نئے مدار میں داخل، اب چاند سے صرف 25 کلومیٹر دور

نئی دہلی: چندریان-3 کا دوسرا اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سائنسدانوں نے بدھ کے روز خلائی جہاز کو چاند کی سطح پر اتارنے سے پہلے اہم مرحلے کی قریب سے نگرانی کی۔ لینڈر وکرم ایک ایسے مدار میں داخل ہو گیا ہے جہاں سے چاند کا قریب ترین نقطہ 25 کلومیٹر اور سب سے دور والا نقطہ 134 کلومیٹر ہے۔ اسرو نے کہا ہے کہ اس مدار سے وہ بدھ کو چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں سافٹ لینڈنگ کی کوشش کرے گا۔

اسرو نے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا ’’دوسرے اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن نے لینڈر ماڈیول کے مدار کو کامیابی کے ساتھ 25 کلومیٹر - 134 کلومیٹر تک کم کر دیا ہے۔ ماڈیول اندرونی جانچ سے گزرے گا اور طلوع آفتاب کے وقت نامزد لینڈنگ سائٹ پر رکھا جائے گا۔‘‘ اسرو نے بتایا کہ یہاں سے 23 اگست کو شام 5.45 بجے لینڈنگ کی کوشش کی جائے گی۔

جمعہ کو پہلے ڈی بوسٹنگ آپریشن کے دوران اسرو کے سابق سربراہ کے سیون نے این ڈی ٹی وی کو بتایا تھا کہ چندریان-3 لینڈر کا ڈیزائن وہی ہے جو پچھلے چندریان-2 مشن میں استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، "ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ چندریان-2 کے مشاہدے کی بنیاد پر مشن میں کی گئی تمام غلطیوں کو درست کر لیا گیا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ چندریان-3 14 جولائی کو لانچ کے بعد 5 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا۔ پروپلشن اور لینڈر ماڈیولز کو الگ کرنے کی کل کی مشق سے پہلے اسے 6، 9، 14 اور 16 اگست کو چاند کے مدار میں اتارنے کی کوشش کی گئی، تاکہ یہ چاند کی سطح کے قریب آ سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/msNxi2W

ہفتہ، 19 اگست، 2023

چندریان 3 نے چاندکے قریب  قدم  بڑھایا ، اب صرف چند کلومیٹر کے  فاصلے پر

دوسرے ڈی بوسٹنگ آپریشن (رفتار کو کم کرنے کا عمل) نے مدار کو 25 کلومیٹر x 134 کلومیٹر تک کم کر دیا ہے یعنی اب چاند کی سطح سے وکرم لینڈر کا فاصلہ صرف 25 کلومیٹر رہ گیا ہے۔ اب بس  23  اگست کو کامیاب لینڈنگ کا انتظار  ہے۔ لینڈنگ سے پہلے، ماڈیول اندرونی جانچ سے گزرے گا اور نامزد لینڈنگ سائٹ پر طلوع آفتاب کا انتظار کرے گا۔

چاند کی سطح پر سافٹ  لینڈنگ کے لیے چندریان 3 کے لینڈر کی رفتار کو کم کرنا سب سے اہم ہے۔ یہ لینڈنگ مشن میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس سے قبل 18 اگست کو ڈیبوسٹنگ کا پہلا عمل کیا گیا تھا۔

اتوار کو ہونے والے دوسرے اور آخری ڈیبوسٹنگ کے بارے میں، اسرو نے بتایا کہ آپریشن کامیاب رہا اور اس نے مدار کو 25 کلومیٹر x 134 کلومیٹر تک گھٹا دیا ہے۔ 23 اگست 2023 کو ہندوستانی وقت کے مطابق شام 5.45 بجے کے قریب سافٹ لینڈنگ کے لیے پاورڈ ڈیسنٹ شروع ہونے کی امید ہے۔

لینڈر وکرم اس وقت چاند کے ایسے مدار میں ہے جہاں چاند کا قریب ترین نقطہ 25 کلومیٹر اور سب سے دور 134 کلومیٹر ہے۔ اس مدار سے، یہ بدھ (23 اگست) کو چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ  لینڈنگ کی کوشش کرے گا۔ ابھی تک کوئی مشن قطب جنوبی تک نہیں پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرو نے چندریان کو یہاں بھیجا ہے۔

لینڈر وکرم خودکار موڈ میں چاند کے مدار میں اتر رہا ہے۔ درحقیقت یہ خود ہی فیصلہ کر رہا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اترنے کے بعد ہندوستان یہ کامیابی حاصل کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ اب تک صرف امریکہ، سوویت یونین (موجودہ روس) اور چین ہی یہ کام کر پائے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FN6U1yf

جمعرات، 17 اگست، 2023

چندریان-3 سے متعلق بڑی خوشخبری آئی سامنے، آخری مرحلہ میں کامیابی کے ساتھ الگ ہوا لینڈر

چندریان-3 نے اب تک مشن چاند کو لے کر انتہائی کامیاب سفر کیا ہے اور تازہ ترین خبر یہ سامنے آئی ہے کہ چاند پر اس کی لینڈنگ سے ٹھیک پہلے ایک بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق جمعرات کی دوپہر 1.08 بجے چندریان-3 کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ عمل لینڈنگ سے پہلے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں چندریان-3 کے پروپلشن اور لینڈر ماڈیول کو علیحدہ کیا گیا ہے۔ اب وکرم لینڈر چاند کے 100 کلومیٹر احاطہ میں گردش کرے گا اور دھیرے دھیرے لینڈنگ کی طرف بڑھے گا۔

اِسرو نے جو آفیشیل بیان جاری کیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ لینڈر اور پروپلشن کامیابی کے ساتھ الگ ہو گئے ہیں۔ اب جمعہ کی شام 4 بجے لینڈر ماڈیول کو نچلے مدار میں ڈی بوسٹ کیا جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب چاند کے پاس ہندوستان کے 3 پروپلشن ماڈیول ہیں۔ یعنی ہندوستان چاند پر قدم رکھنے کے بالکل قریب ہے۔

واضح رہے کہ اگر چندریان-3 کی چاند پر کامیابی کے ساتھ لینڈنگ ہوتی ہے (جس کے پورے امکانات ہیں) تو ہندوستان چاند پر پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہوگا۔ خاص بات یہ ہے کہ چندریان-3 چاند کے جنوبی قطب میں لینڈ ہوگا، جہاں ابھی تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے۔

بہرحال، پروپلشن اور وکرم لینڈر کے علیحدہ ہونے کے بعد اب ایک ہفتے تک ہر کسی کی سانسیں تھمی ہوں گی۔ چندریان-3 کی لینڈنگ 23 اگست کو ہونی ہے، لیکن اس سے پہلے آج کا دن بہت اہم ہے۔ اِسرو کے مطابق جمعرات کو چندریان-3 کے پروپلشن اور لینڈر الگ ہو گئے ہیں، ایسی حالت میں دونوں چاند کے مدار کے 100x100 کلومیٹر رینج میں ہوں گے۔ دونوں کو کچھ دوری پر رکھا جائے گا تاکہ ان میں ٹکر نہ ہو پائے۔ الگ ہونے کے بعد لینڈر اب بیضوی دائرے میں گھومے گا اور اپنی رفتار کو دھیمی کرتا جائے گا۔ دھیرے دھیرے یہ چاند کی طرف بڑھے گا۔ اب 18 اگست کافی اہم دن ہے جب لینڈر کی رفتار دھیمی کی جائے گی اور اس کے بعد ہی لینڈر کو چاند کی طرف بھیجا جائے گا۔ بعد ازاں سافٹ لینڈنگ کا عمل شروع ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MGhlB2V

منگل، 15 اگست، 2023

چندریان 3 سافٹ لینڈنگ سے صرف ایک مدار کی دوری پر، لینڈر اور کیریئر یہاں سے ہوں گے علیحدہ

ہندوستان کا پروقار مشن چندریان-3 چاند کی طرف اپنے آخری مدار میں پہنچ گیا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے چندریان کے سفر میں اہم لیکن فیصلہ کن تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ اسرو کے مطابق اس مدار میں پہنچنے کے بعد وہ لینڈر کو الگ کرنے کا عمل شروع کریں گے۔

ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ آج انجن کو کامیابی سے آن کرنے کے بعد اس نے چاند کی طرف جانے والا مدار مکمل کر لیا ہے۔ اب اس کا فاصلہ 153 کلومیٹر رہ گیا ہے۔ یہاں سے لینڈر کو الگ کیا جائے گا اور 17 اگست سے ایک اور چکر مکمل کرنے کے بعد اس مشن کا کیریئر اپنا الگ سفر شروع کرے گا۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو لینڈر اپنے شیڈول کے مطابق 23 اگست کو چاند پر سافٹ لینڈنگ کرے گا۔

مرکزی سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر جتیندر پرساد نے کہا ہے کہ ہم چاند کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ اسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو آنے والے دنوں میں ان کا لینڈر چاند پر ہوگا۔ اس کامیابی سے چاند کے سفر کے لیے مزید دروازے کھل جائیں گے۔

اگر یہ مشن کامیابی سے مکمل ہوجاتا ہے تو ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ یہی نہیں، ہندوستان دنیا کا پہلا ملک ہوگا جس نے بغیر کسی بھاری راکٹ کے اس مشن کو پورا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور کارنامہ بھارت کے کھاتے میں آئے گا جس کے مطابق بھارت سب سے کم لاگت پر اس مشن کو انجام دینے والا ملک ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GaJqXpg

پیر، 14 اگست، 2023

سورج کا معمہ حل کرنے کی طرف اِسرو بڑھا رہا قدم، مشن سورج یعنی 'آدتیہ ایل 1' کی لانچنگ کے دن قریب

ایک طرف اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) چندریان-3 کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کو لے کر پُرجوش ہے، اور دوسری طرف اس نے سورج کا معمہ حل کرنے کے لیے بھی قدم بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ اِسرو نے مشن سورج کی تیاریاں شروع کر دی ہے اور اس کے تحت 'آدتیہ ایل 1' کی لانچنگ کی الٹی گنتی شروع بھی ہو گئی ہے۔ اِسرو نے جانکاری دی ہے کہ 'آدتیہ ایل 1' آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا اسپیس پورٹ پہنچ چکا ہے۔ اس مشن کی لانچنگ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 'آدتیہ ایل 1' کو اِسرو کے یو آر راؤ سیٹلائٹ سنٹر میں بنایا گیا ہے، جہاں سے اب آدتیہ ایل 1 سیٹلائٹ لانچنگ کے لیے شری ہری کوٹا پہنچ چکا ہے۔ یہ سورج کی تحقیق کے لیے بھیجا جانے والا اِسرو کا پہلا مشن ہے۔ آدتیہ ایل 1 کو سورج-زمین سسٹم کے لینگویج پوائنٹ کے قریب ہالو آربٹ میں نصب کیا جائے گا۔ یہ زمین سے پندرہ لاکھ کلومیٹر دور واقع ہے۔ اِسرو نے بتایا کہ ایل 1 پوائنٹ کے نزدیک ہالو آربٹ (مدار) میں سیٹلائٹ کو نصب کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں سے لگاتار سورج پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور یہاں سورج گہن کا بھی اثر نہیں ہوتا۔ اس سے سورج کی سرگرمیوں اور اس کے خلائی موسم پر پڑنے والے اثرات کا تجزیہ کرنے میں بہت فائدہ ہوگا۔

بہرحال، اِسرو کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق آدتیہ ایل 1 کے ساتھ 7 پیلوڈ بھی خلاء میں بھیجے جائیں گے۔ یہ پیلوڈ سورج کی فوٹوسفیئر، کروموسفیئر اور سب سے باہری سطح کا مطالعہ الیکٹرو میگنیٹک اور پارٹیکل اور میگنیٹک فیلڈ ڈٹیکٹرس کی مدد سے کریں گے۔ ان میں سے 4 پیلوڈ لگاتار سورج پر نظر رکھیں گے اور باقی 3 یلوڈ حالات کے حساب سے پارٹیکل اور میگنیٹک فیلڈ کا مطالعہ کریں گے۔ اِسرو نے بتایا کہ آدتیہ ایل 1 کے پیلوڈ سورج کی کورونل ہیٹنگ، کورونل ماس انجکشن، پری فلیئر اور فلیئر سرگرمیوں کے بارے میں اور سورج میں ہونے والی سرگرمیوں کے خلاء کے موسم پر پڑنے والے اثر کے بارے میں اہم جانکاری دیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8TUkMvr

اتوار، 13 اگست، 2023

چین نے دنیا کا پہلا ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچر ریڈار سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا

بیجنگ: چین نے لانگ مارچ-3 بی راکٹ کے ذریعے آفات کی نگرانی کے لیے دنیا کا پہلااے-ایس اے آر 401، ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچر رڈار سیٹلائٹ خلا میں چھوڑا ہے۔

چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) نے اتوار کے روز بتایا کہ ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1:26 پر سیٹلائٹ کو سیچوان صوبے کے زیچانگ اسپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا۔ سیٹلائٹ لانچ کے فوراً بعد کامیابی کے ساتھ مقررہ مدار میں داخل ہو گیا۔

سی این ایس اے نے بتایا کہ یہ دنیا کا پہلا ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچررڈار (ایس اے آر) سیٹلائٹ ہے جو پروجیکٹ کے نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیٹلائٹ چین کی قدرتی آفات کی خلائی نگرانی کو بہتر بنائے گا اور اس کی آفات سے بچاؤ اور تخفیف کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ لانچ لانگ مارچ راکٹ فیملی کا 483 واں مشن تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HehpKr3

جمعہ، 11 اگست، 2023

روس نے تقریباً نصف صدی بعد اپنا پہلا چاند مشن روانہ کر دیا

روس کی سرکاری خلائی ایجنسی کا یہ مشن چاند کے قطب جنوبی پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا پہلا مشن ہے۔ اس مشن کا مقصد چاند کے قطب جنوبی کے قریب منجمد پانی کی تلاش ہے۔

روس کی خلائی ایجنسی روس کاسموس نے بتایا کہ لونا۔25 خلائی جہاز کو سویوز راکٹ کے ذریعہ ووستوچنی خلائی اڈے سے جمعے کے روز لانچ کیا گیا۔ راکٹ کو چاند تک پہنچنے میں پانچ دن لگیں گے۔ اس کے بعد جہاز تین ممکنہ لینڈنگ سائٹس میں سے کسی ایک پر اترنے سے قبل چاند کے مدار میں مزید سات دن گزارے گا۔

چاند پر منجمد پانی کی تلاش

لونا 25 مشن کا مقصد چاند کے قطب جنوبی پر سافٹ لینڈنگ کرنے میں دیگر ملکوں پر سبقت حاصل کرنا ہے۔ اب تک روس کے علاوہ امریکی، چینی، بھارتی، جاپانی اور اسرائیلی مشن اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ لونا 25 مشن چاند کی مٹی (ریگیولتھ) میں 15سینٹی میٹر تک کی گہرائی سے پتھر کے نمونے لے کر منجمد پانی کی تلاش کرے گا۔ یہ خلائی جہاز ایک وسیع تر زاویے والا توانائی اور کمیت کی جانچ کرنے والا ڈسٹ مانیٹر بھی لے کر گیا ہے، جو چاند کے خارجی کرّہ میں آئن پیرامیٹرز کی پیمائش فراہم کرے گا۔

لونا۔25 سائنسی آلات کے پلاننگ گروپ کے سربراہ میکسم لیٹواک کا کہنا تھا، "سائنسی نقطہ نظر سے سب سے اہم کام، سادہ الفاظ میں، وہاں لینڈنگ ہے، جہاں کوئی اور نہ اترا ہو۔ " انہوں نے مزید کہا کہ لونا۔25 کے لینڈنگ ایریا کی مٹی میں برف کی علامات ہیں اور اسے مدار سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

'مقصد سیاسی مسابقت ہے'

روسی اور غیر ملکی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشن کا ایک اہم جغرافیائی سیاسی کردار بھی ہے۔ ایک معروف روسی خلائی تجزیہ کار وٹالی ایگوروف نے کہا کہ "چاند کا مطالعہ اس مشن کا مقصد نہیں ہے۔" انہوں نے کہا کہ "مقصد دو سپر پاورز، چین اور امریکہ، اور بہت سے ان دوسرے ممالک کے درمیان سیاسی مسابقت ہے، جو خلائی سپر پاور کا اعزاز بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

امریکہ کی فورڈہم یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر آصف صدیقی نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ روس اتنی دہائیوں کے بعد چاند پر اترنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا،" آخری مرتبہ یہ 1976میں ہوئی تھی اس لیے اس پر بہت زیادہ دباو تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "چاند کے متعلق روس کی خواہش بہت سے مختلف چیزوں سے مل جاتی ہیں۔ میرے خیال میں سب سے پہلے یہ عالمی سطح پر قومی طاقت کا اظہار ہے۔"

لونا۔25 کی لانچنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب ایک اور خلائی جہازبھارت کا چندریان۔3 پہلے ہی چاند پر پہنچنے کی طرف گامزن ہے۔ دونوں ممالک 25 اگست کے آس پاس چاند کے جنوبی قطب پر پہنچنے والے پہلے ملک بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

روس کے خلائی عزائم کی تجدید

سوویت یونین 1959میں چاند پر اترنے والا پہلا ملک تھا۔ لیکن خلائی دوڑ بالآخر مریخ اور دوسرے مشنز تک محدود ہوکر رہ گئی۔ سن 1991میں سوویت یونین کے سقوط کے بعد روس زمین کے مدار سے باہر تحقیقاتی خلائی جہازوں کو بھیجنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن ماسکو نے مغربی پابندیوں کے باوجود خلاء کی تلاش جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور اس نے یورپی خلائی ایجنسی کے آلات کو روسی ساختہ آلات سے تبدیل کردیا ہے۔

ایگوروف کہتے ہیں کہ "غیر ملکی الیکٹرانکس ہلکے ہیں جب کہ گھریلو الیکٹرانکس زیادہ بھاری ہیں۔ اور گرچہ سائنس دانوں کے پاس چاند کے پانی کا مطالعہ کرنے کا کام ہوسکتا ہے لیکن روس کاسموس کا بنیادی کام صرف چاند پر اترنا ہے تاکہ ماسکو کھوئی ہوئی سویت مہارت کو بحال کرسکے اور نئے دور میں اس کام کو انجام دینے کا طریقہ سیکھ سکے۔" لونا۔25 ایک وسیع روسی پروگرام کا حصہ ہے، جس میں سن 2040 تک چاند پر خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا تصور شامل ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے گزشتہ سال ووستو چنی خلائی اڈے میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا،" کسی بھی طرح کی مشکلات کے باوجود اور ہمیں آگے بڑھنے سے روکنے کی بیرونی کوششوں کے باوجود، ہم آگے بڑھنے کے لیے اپنے آبا ؤ اجداد کے عزائم سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔"



from Qaumi Awaz https://ift.tt/v5cFWqC

بدھ، 9 اگست، 2023

ایٹمی دھماکوں کے اثرات

دوسری جنگ عظیم (1939-45) کے دوران 6 اگست 1945 کو ایک امریکی بمبار طیارہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا تھا۔ دھماکے سے ایک اندازے کے مطابق 80000 افراد فوری طور پر ہلاک ہوئے۔ مزید دسیوں ہزار بعد میں تابکاری کا شکار ہوئے۔ تین دن بعد 9 اگست کو دوسرے بمبار نے ناگاساکی پر ایک اور ایٹمی بم گرایا، جس سے ایک اندازے کے مطابق 40000 افراد ہلاک ہوئے۔ نتیجتاً جاپان کے شہنشاہ ہیروہیتو نے 15 اگست کو ایک ریڈیو خطاب میں ’ایک نئے اور انتہائی ظالمانہ بم‘ کی تباہ کن طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے دوسری جنگ عظیم میں اپنے ملک کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ اس تباہ کن جنگ کے خاتمے کو 78 سال ہو گئے ہیں۔

امریکی ایٹمی پروگرام: مین ہٹن پروجیکٹ

دوسری جنگ عظیم شروع ہونے سے پہلے، 1939 میں امریکی سائنسدانوں کا ایک گروپ ، جن میں یورپ میں فاشسٹ حکومتوں کے پناہ گزین بھی شامل تھے ، نازی جرمنی میں جوہری ہتھیاروں کی تحقیق کے بارے میں فکر مند ہو گئےتھے۔ 1940 میں، امریکی حکومت نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو شروع کیا، جو دوسری جنگ عظیم میں امریکی داخلے کے بعد سائنسی تحقیق اور ترقی کے دفتر اور جنگی محکمے کی مشترکہ ذمہ داری کے تحت آیا۔ یو ایس آرمی کور آف انجینئرز کو ٹاپ سیکرٹ پروگرام کے لیے ضروری سہولیات کی تعمیر کا کام سونپا گیا تھا، جس کا کوڈ نام ’دی مین ہٹن پروجیکٹ‘تھا۔

اگلے کئی سالوں میں سائنسدانوں نے نیوکلیئر فِشن کے لیے کلیدی مواد یعنی یورینیم اور پلوٹونیم تیار کرنے پر کام کیا۔ انہوں نے انہیں لاس الاموس، نیو میکسیکو بھیجا، جہاں جے رابرٹ اوپین ہائیمر کی قیادت میں ایک ٹیم نے ان مواد کو قابل عمل ایٹم بم میں تبدیل کرنے کے لیے کام کیا۔ 16 جولائی 1945 کی صبح ، مین ہٹن پروجیکٹ نے نیو میکسیکو کے الموگورڈو میں واقع تثلیث ٹیسٹ سائٹ پر ایک ایٹمی ڈیوائس — ایک پلوٹونیم بم — کا پہلا کامیاب تجربہ کیا۔

جاپانیوں کو ہتھیار ڈالنے کی دھمکی

اس ایٹمی تجربہ کے وقت تک اتحادی طاقتیں جرمنی کو یورپ میں شکست دے چکی تھیں۔ تاہم، جاپان نے بحرالکاہل میں تلخ انجام تک لڑنے کا عزم ظاہر کیا، واضح اشارے کے باوجود (1944 کے اوائل میں) کہ ان کے جیتنے کے امکانات بہت کم تھے۔ اپریل 1945 کے وسط (جب صدر ہیری ٹرومین نے عہدہ سنبھالا) اور جولائی کے وسط کے درمیان ،جاپانی افواج کے ذریعے اتحادی افواج کی ہلاکتیں بحرالکاہل میں تین سال تک جاری رہنے والی جنگ کاتقریباً نصف تھیں ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شکست کے امکان نے جاپان کو اور بھی زیادہ مہلک بنا دیاتھا۔ جولائی کے آخر میں، جاپان نے پوٹسڈیم اعلامیہ میں پیش کردہ ہتھیار ڈالنے کے اتحادیوں کے مطالبے کو مسترد کر دیا، اعلامیہ میں دھمکی دی گئی تھی کہ انکار کی صورت میں اتحادی جاپان کو مکمل تباہ کر دیں گے۔

اس صورتحال میں جنرل ڈگلس میک آرتھر اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے جاپان پر روایتی بمباری کو جاری رکھنے کی حمایت اور ایک بڑے حملے کی پیروی کی، جسے ’آپریشن ڈاؤن فال‘ کا نام دیا گیا تھا۔ انہوں نے امریکی صدرکو مشورہ دیا کہ اس طرح کے حملے کے نتیجے میں دس لاکھ تک امریکی ہلاکتیں ہوں گی۔ ہنری اسٹمسن، جنرل ڈوائٹ آئزن ہاور اور مین ہٹن پروجیکٹ کے متعدد سائنسدانوں کے اخلاقی تحفظات کے باوجود، اتنی زیادہ ہلاکتوں سے بچنے کے لیے، ٹرومین نے ایٹم بم کے استعمال کا فیصلہ اس امید میں کیا کہ اس طرح جنگ کافوری اختتام ہوجائےگا-بم کے حامیوں جیسے ٹرومین کے وزیر خارجہ جیمز بائرنس کا خیال تھا کہ ایٹمی بم کی تباہ کن طاقت نہ صرف جنگ کا خاتمہ کرے گی بلکہ دنیا میں امریکہ کو ایک غالب پوزیشن فراہم کرے گی۔

’لٹل بوائے‘ اور ’فیٹ مین‘

ٹوکیو سے تقریباً 500 میل کے فاصلے پر واقع تقریباً 350,000 لوگوں کا مینوفیکچرنگ مرکز ہیروشیما کو پہلے ہدف کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ بحرالکاہل کے جزیرے ٹنیان پر امریکی اڈے پر ، 9000 پاؤنڈ سے زیادہ کا یورینیم-235 بم ایک ترمیم شدہ B-29 بمبار پر لادا گیا۔ طیارے نے صبح 8:15 پر پیراشوٹ کے ذریعے بم’لٹل بوائے‘کوگرایا جو ہیروشیما سے 2000 فٹ اوپر12-15000 ٹن TNT کے برابر دھماکے میں پھٹ گیا۔ اس دھماکہ سے شہر کا پانچ مربع میل تباہ ہو گیا۔

ہیروشیما کی تباہی فوری طور پر جاپانی ہتھیار ڈالنے میں ناکام رہی۔ 9 اگست کو ایک اور B-29 بمبار کو ٹنیان سے اڑایا گیا۔ اس کا بنیادی ہدف، کوکورا شہرتھا لیکن گھنے بادلوں نے بمبار کو ثانوی ہدف ناگاساکی پہنچا دیا جہاں صبح 11:02 پر پلوٹونیم بم ’فیٹ مین‘ گرایا گیا۔ ہیروشیما میں استعمال ہونے والے بم سے زیادہ طاقتور، اس بم کا وزن تقریباً 10,000 پاؤنڈ تھا اور اسے 22 کلوٹن کے دھماکہ کے لیے بنایا گیا تھا۔ ناگاساکی ٹپوگرافی، جو پہاڑوں کے درمیان تنگ وادیوں میں واقع تھی، نے بم کے اثر کو کم کر دیا، جس سے تباہی 2.6 مربع میل تک محدود ہو گئی۔

بمباری کے بعد کا نتیجہ

جاپانی شہنشاہ ہیروہیتو نے 15 اگست 1945 کو ایک ریڈیو خطاب میں اپنے ملک کے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ اس خبر کے بعد’جاپان میں فتح‘ کی تقریبات پورے امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک میں شروع ہو گئیں۔ ہتھیار ڈالنے کے رسمی معاہدے پر 2 ستمبر کو، ٹوکیو بے میں لنگر انداز امریکی جنگی جہاز میسوری پر دستخط کیے گئے۔

ہیروشیما اور ناگاساکی پر بمباری سے دونوں شہروں کا زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا اور ان سے ہونے والی ہلاکتوں کی صحیح تعداد نامعلوم ہے۔ تاہم، اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان دھماکوں اور تابکاری کے طویل مدتی مضر اثرات سے ہیروشیما میں تقریباً 70,000 سے 135,000 افراد اور ناگاساکی میں 60,000 سے 80,000 افراد ہلاک ہوئے۔

علاوہ ازیں ہیروشیما اور ناگاساکی ایٹمی دھماکوں نے سرد جنگ اور دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ جیسے عالمی اثرات کو بھی جنم دیا۔ سرد جنگ ایک ایسی دشمنی تھی جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی دو سپر پاورز یعنی امریکہ اور سوویت یونین کے ساتھ ساتھ ان کے متعلقہ اتحادیوں کو سیاسی، اقتصادی اور جوہری برتری کے لیے لڑتے دیکھا۔

اس وقت دنیا میں 9 ممالک ایسے ہیں جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ وہ ہیں روس، امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ، ہندوستان، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل۔ ان میں سے اسرائیل نے کبھی بھی کسی جوہری تجربہ کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ حالانکہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کو جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر ان کا استعمال آئندہ کسی جنگ میں ہوتا ہےتو انسان و جاندار زندہ نہیں رہ سکیں گے اور پوری دنیا کا صفایا ہو جائے گا۔

ایٹمی ہتھیار سے زیادہ تباہی اور اموات

ایک ایٹمی ہتھیار کسی شہر کو تباہ کر سکتا ہے اور اس کے زیادہ تر لوگوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بم دھماکے اس کی اہم مثالیں ہیں۔ جدید شہروں پر جوہری دھماکوں یادو ممالک کے درمیان ایک بڑی ایٹمی جنگ سے کروڑوں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

عام شہری سب سے بڑا شکار

جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے ہونے والی تباہی صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہ سکتی۔ جوہری حملے سے زیادہ تر ہلاکتیں عام شہریوں کی ہوتی ہیں۔ لوگ جوہری دھماکے اور اس کے نتیجے میں تابکاری سے یا تو مارے جاتے ہیں یا طویل مدتی صحت کے اثرات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ پڑوسی شہروں یا ممالک میں رہنے والے بھی ایٹمی دھماکے کے اثرات سے دوچار ہوں گے۔جوہری ہتھیار عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان فرق نہیں کرسکتے ، دوسرے جوہری دھماکوں پر کنٹرول نہ ہونا انھیں غیر انسانی ہتھیاروں کی ایک بہترین مثال بناتا ہے جسے غیر قانونی قرار دینے کی ضرورت ہے۔

تابکاری بیماری، ماحولیاتی آلودگی اور قحط کا باعث

جوہری ہتھیار آئنائزنگ تابکاری پیدا کرتے ہیں ، جو رابطہ میں آتا ہے یہ ان لوگوںکو مار دیتی ہے یا بیمار کرتی ہے، ماحول کو آلودہ کرتی ہے، اور کینسر اور جینیاتی نقصان سمیت طویل مدتی صحت کے اثرات مرتب کرتی ہے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا بھی ماحول پر اثر پڑتا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کی پیداوار دیرپا تابکار آلودگی کا باعث بنتی ہے۔

دنیا میں ایک فیصد سے بھی کم جوہری ہتھیاروں کا استعمال عالمی آب و ہوا میں خلل ڈال سکتا ہے اور تقریباً دو ارب افراد کو جوہری قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ اور روس کے پاس موجود ہزاروں جوہری ہتھیار ایک جوہری موسم سرما کا باعث بن سکتے ہیں، جو ضروری ماحولیاتی نظام کو تباہ کر سکتے ہیں جن پر تمام زندگی کا انحصار ہے۔

متاثرین کو انسانی امداد فراہم کرنا مشکل

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کوئی مدد فراہم کرنا مشکل ہوگا ۔ معالجین اورامدادی عملہ تابکاری سے آلودہ علاقوں میں کام کرنے سے قاصر ہوں گے۔ جوہری جنگ پہلے سے موجود کسی بھی امدادی نظام کو مغلوب کر دے گی اوربے گھر پناہ گزینوں کا ایسابحران پیدا کرے گی جس کا ہم نے کبھی تجربہ نہیں کیا ہے۔

محدود وسائل جوہری ہتھیاروں پر خرچ

اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہوئے بھی کہ جوہری ہتھیار صحت اور ماحولیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتے ہیں، دنیا کے کئی ممالک عوامی فنڈز کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ترقیاتی و فلاہی پروگراموں کو ترجیح دینے کے بجائے اپنے محدود وسائل جوہری ہتھیاروں پر خرچ کر رہے ہیں اور یوں اہم سماجی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/93mdtSs