جمعہ، 25 نومبر، 2022

اسرو آج آٹھ ’نینو سیٹلائٹ‘ اور ’اوشنسیٹ-3‘ کو خلا میں روانہ کرے گا، جانیں مشن کی خصوصیات

نئی دہلی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے حال ہی میں نجی سیکٹر کے مشن کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر کے تاریخ رقم کرنے کے بعد اپنے اگلے مشن پی ایس ایل وی-سی54/ای او ایس-06 کے لیے تیاری مکمل کر لی ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ اسرو اس مشن کے تحت 8 نینو سیٹلائٹ اوشنسیٹ-3 کے ساتھ لانچ کرے گا، جو اوشن سیٹ سیریز کا تھرڈ جنریشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ مشن سری ہری کوٹا سے ہفتہ (26 نومبر) کو صبح 11.46 بجے لانچ کیا جائے گا۔ اس کی 25 گھنٹے کی الٹی گنتی جمعہ (25 نومبر) کو صبح 10.46 بجے شروع ہوئی۔

مشن کا بنیادی پے لوڈ اوشنسیٹ-3 ہے۔ یہ اوشنسیٹ سیریز کا تیسری نسل کا سیٹلائٹ ہے، جو کہ اوشنسیٹ سیریز کے سیٹلائٹ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ سیریز سمندری اور ماحولیاتی مطالعہ کے لیے وقف ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سیٹلائٹ سمندری موسم کی پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ ملک کسی بھی طوفان کے لیے پہلے سے تیار رہے۔

اس سلسلے کا پہلا سیٹلائٹ-1 26 مئی 1999 کو لانچ کیا گیا تھا۔ پھر اوشنسیٹ-2 کو 23 ستمبر 2009 کو لانچ کیا گیا تھا۔ وہیں، 2016 میں اوشنسیٹ-2 کے اسکیننگ سکیٹرومیٹر ناکام ہونے کے بعد اسکینسیٹ-1 لانچ کیا گیا۔ اسی سیریز کے تھرڈ جنریشن سیٹلائٹ اوشنسیٹ-3 کو کل لانچ کیا جائے گا۔ اس سیریز کے سیٹلائٹس میں اوشین کلر مانیٹر موجود رہے۔ اس مشن میں بھی اوشن کلر مانیٹر او ای ایم 3، سی سرفیس ٹمپریچر مانیٹر (ایس ایس ٹی ایم)، کو-بینڈ اکیٹرومیٹر (ایس سی اے ٹی-3) اور اے آر جی او ایس جیسے پے لوڈز ہیں۔

اسرو اوشنسیٹ-3 اور 8 نینو سیٹلائٹوں میں پکسل کے آنند، بھوٹانسیٹ، دھرو انترکش کے تھائیبولٹ اور اسپیس فلائٹ یو ایس اے کے 4 اسٹروکاسٹ لانچ کرے گا۔ یہ پورا مشن تقریباً 8200 سیکنڈ (2 گھنٹے 20 منٹ) تک جاری رہے گا۔ جو کہ پی ایس ایل وی کا طویل مشن ہوگا۔ اس دوران پرائمری سیٹلائٹس اور نینو سیٹلائٹس کو دو مختلف سولر سنکرونس پولر آربٹس (ایس ایس پی او) میں لانچ کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N0jCtK1

چین نے بچوں کو ویڈیو گیم سے دور کرنے کا ناقابل یقین کارنامہ انجام دے دیا

بیجنگ: چین دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمنگ مارکیٹ ہے تاہم چینی حکومت نے ایسا اقدام کیا جس سے 75 فیصد سے زائد کم عمر بچوں کی اس عادت سے جان چھوٹ گئی۔

جب سے ٹیکنالوجی کی ترقی ہوئی ہے اور ہر چھوٹے بڑے کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ موبائل آیا ہے تب سے موبائل ہی سب سے بڑی مصروفیت بن گیا ہے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں میں بالخصوص آن لائن ویڈیو گیمنگ کی ایسی لت پڑی کہ مختلف ممالک میں اس پر روک ٹوک کرنے پر جان لینے جیسے سنگین واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں تاہم چین کی حکومت نے اپنی نئی نسل کو اس لت سے بچا لیا ہے۔

چین کی حکومت نے ایک سال قبل 18 سال سے کم عمر بچوں میں ویڈیو گیم کی لت پر قابو پانے کے لیے ان کے ویڈیو گیم کھیلنے پر بڑی پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے لیے اوقات متعین کردیے تھے اور انہیں ہفتے کے تین دن جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو روانہ صرف رات 8 سے 9 بجے تک آن لائن ویڈیو گیم کھیلنے کی اجازت تھی۔

اس پابندی کو ایک سال گزرنے کے بعد چین کی ویڈیو گیمنگ انڈسٹری سے وابستہ اعلیٰ اختیاری سرکاری کمیٹی اور ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی سی این جی نے پیر کے روز انتہائی حوصلہ افزا رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب گیم کھیلنے کے اوقات متعین کر دیے جانے کی وجہ سے ویڈیو گیم کی لت پر بنیادی طور پر قابو پالیا گیا ہے اور اب 75 فیصد سے زیادہ کم عمر افراد ایک ہفتے میں تین گھنٹے سے بھی کم ویڈیو گیم کھیلتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں 9 سے 19 برس کے درمیان عمر کے تقریباً98 فیصد افراد کے پاس کوئی نہ کوئی موبائل فون ہے اور 18 برس یا اس سے کم عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 186 ملین ہے۔ تاہم حکومتی پابندی کے کے بعد گیمنگ کمپنیوں کی جانب سے ویڈیو گیم کی لعنت کے انسداد کے نظام کے تحت گیم کھیلنے والے 90 فیصد سے زائد نو عمروں کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔

چین میں اب ویڈیو گیم کھیلنے والوں کو اپنا شناختی کارڈ استعمال کرنا ضروری ہے اور آن لائن گیم کھیلنے سے قبل انہیں اپنا اندراج کرانا پڑتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرنی پڑتی ہے کہ وہ عمر کے حوالے سے جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔

گیمنگ فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اوقات کے اندر ہی نوعمروں کو ویڈیو گیمنگ کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ البتہ حالیہ دنوں میں اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ بیجنگ ویڈیو گیمنگ سیکٹر کے حوالے سے اپنے موقف میں نرمی پیدا کر رہا ہے اور حکام نے اپریل تک نو ماہ کے لیے رجسٹریشن منجمد کر دینے کے بعد اب نئے نام کی منظوری دینے کا سلسلہ دھیرے دھیرے شروع کر دیا ہے۔

گزشہ ہفتے ہی ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ٹینسینٹ کو 18ماہ کے بعد ویڈیو گیم کا پہلا لائسنس ملا ہے۔ پابندیوں کی وجہ دنیا میں ویڈیو گیم تیار کرنے والی کمپنیوں میں سرفہرست سمجھی جانے والی ٹینسیٹ اپنا امتیازی مقام کھونے کی دہلیز تک پہنچ گئی تھی

واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمنگ مارکیٹ ہے تاہم وہاں کا سرکاری میڈیا اس صنعت کو "روحانی افیم” قرار دیتا ہے۔ ویڈیو گیم کی صنعت پر ٹیکنالوجی ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اکثر کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں اور ان کے خلاف ریکارڈ جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف طویل تفتیش اور کمپنی کے شیئروں کی ابتدائی عوامی پیش (آئی پی او) کو معطل کیے جانے جیسے اقدامات بھی ہوتے رہتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XqlGLu4

جمعرات، 17 نومبر، 2022

وکرم-ایس لانچنگ: ہندوستان کے خلائی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز، ملک کا پہلا نجی راکٹ ’وکرم-ایس‘ ہوگا لانچ

نئی دہلی: ہندوستان آج خلا میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ملک کا پہلا پرائیویٹ راکٹ 'وکرم-ایس' لانچ کرنے جا رہا ہے۔ اس راکٹ کو حیدرآباد میں واقع اسکائی روٹ ایرو اسپیس کمپنی نے تیار کیا ہے۔ 'وکرم-ایس' کی لانچنگ آج (جمعہ) صبح 11:30 بجے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے ہوگی۔ اس مشن کا نام 'پررامبھ' رکھا گیا ہے۔ نجی شعبے کے داخلے کے بعد ملک کی خلائی صنعت میں کو بھی نئی بلندیاں حاصل ہوں گی۔

راکٹ کا نام 'وکرم-ایس' ہندوستان کے عظیم سائنسدان اور اسرو کے بانی ڈاکٹر وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارٹی سینٹر (ان-اسپیس) کے چیئرمین پون گوینکا نے کہا کہ یہ ہندوستان میں نجی شعبے کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے۔ انہوں نے اسکائی روٹ کو راکٹ لانچ کرنے کی اجازت دینے والی پہلی ہندوستانی کمپنی بننے پر مبارکباد دی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اسرو کے رہنما خطوط کے تحت سری ہری کوٹا سے 'اسکائی روٹ ایرو اسپیس' کے ذریعہ تیار کردہ پہلا نجی راکٹ لانچ کرکے تاریخ رقم کرنے والا ہے۔

وکرم-ایس ذیلی مدار میں پرواز کرے گا۔ یہ ایک طرح کی ٹیسٹ فائل ہوگی، اگر ہندوستان کو اس مشن میں کامیابی ملتی ہے تو اس کا نام نجی خلائی راکٹ لانچنگ کے معاملے میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ وکرم-ایس ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ ہونے کے بعد 81 کلومیٹر کی اونچائی پر پہنچے گا۔ اس مشن میں دو ملکی اور ایک غیر ملکی گاہک کے تین پے لوڈ کو لے جایا جائے گا۔ وکرم-ایس ذیلی مداری پرواز چنئی سے اسٹارٹ اپ اسپیس کڈز، آندھرا پردیش سے اسٹارٹ اپ این-اسپیس ٹیک اور آرمینیائی اسٹارٹ اپ بازوم کیو اسپیس ریسرچ لیب سے تین پے لوڈ لے کر جائیں گے۔

کم بجٹ میں راکٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سستے لانچنگ کے لیے اس کا ایندھن تبدیل کیا گیا ہے۔ اس لانچنگ میں عام ایندھن کی بجائے ایل این جی یعنی مائع قدرتی گیس اور مائع آکسیجن (ایل او ایکس) کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ ایندھن کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک بھی ہے۔ اسکائی روٹ ایرو اسپیس کمپنی راکٹ کے کامیاب لانچنگ کو لے کر بہت سنجیدہ ہے۔ کمپنی نے لانچ کرنے سے پہلے راکٹ کا کئی طریقوں سے تجربہ کیا ہے۔ 25 نومبر 2021 کو ناگپور میں واقع سولر انڈسٹری لمیٹڈ۔ اس کے پہلے تھری ڈی پرنٹ شدہ کرائیوجینک انجن کا اس کی آزمائشی سہولت میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TfZFQU4

منگل، 15 نومبر، 2022

بچوں کے اسکرین ٹائم کو دن میں 2 گھنٹے تک محدود کریں: تحقیق

الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ بشریات کے ایک ریسرچ اسکالر کے ذریعہ کی گئی ایک تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسکرین ٹائم بالخصوص بچوں کے لئے، روزانہ دو گھنٹے سے کم کیا جانا چاہئے۔ یہ تحقیق ٹی وی، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون جیسے ڈیجیٹل آلات کی ملکیت کو منظم کرنے کے لیے والدین کی نگرانی اور پالیسی سازی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

اس تحقیق کو سیج (ایس اے جی ای) کی جانب سے بین الاقوامی جریدے ’بلیٹن آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ سوسائٹی‘ میں شائع کیا گیا تھا اور اس کا انعقاد ریسرچ اسکالر مادھوی ترپاٹھی نے کیا تھا، جنہوں نے اسسٹنٹ پروفیسر شلیندر کمار مشرا کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ یہ ڈیجیٹل آلات کی ملکیت کو منظم کرنے کے لیے والدین کی نگرانی اور پالیسی کی تشکیل کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق الہ آباد ریاست میں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے اس کے پیش نظر یہاں دو مراحل کے بے ترتیب نمونے لینے کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے 400 بچوں پر ایک کراس سیکشنل تحقیق کی گئی۔ پہلے مرحلے میں الہ آباد شہر کے 10 میونسپل وارڈوں کا انتخاب کیا گیا۔ ان وارڈوں کی کل آبادی 11000 سے 22000 کے درمیان ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہر منتخب وارڈ سے بچوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے منتخب کیا گیا، تاکہ نمونے کا سائز حاصل کیا جا سکے۔

ترپاٹھی نے کہا ’’نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر گھروں میں ٹیلی ویژن کے بعد ڈیجیٹل کیمرے، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، کنڈلز اور ویڈیو گیمز موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے بچے زیادہ اسکرین پر وقت گزارتے ہیں، جو نہ صرف انہیں جسمانی طور پر متاثر کرتا ہے اور ان کی بینائی کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mkZQzrP