منگل، 26 دسمبر، 2023

اے آئی کی وجہ سے پے ٹی ایم میں 1000 ملازمتیں ختم، لاکھوں ملازمتوں پر مصنوعی ذہانت کا خطرہ

اے آئی کے حوالہ سے ماہرین نے جن خطرات سے آگاہ کیا تھا وہ اب سامنے آنے لگے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ادائیگی بینک پے ٹی ایم چلانے والی کمپنی ون 97 کمیونی کیشن لمیٹڈ کے تقریباً 1000 ملازمین اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کی نذر ہو گئے ہیں۔ ہے۔ کمپنی نے اپنے متعدد ڈویژنوں میں اخراجات کم کرنے کے لیے 1000 ملازمین کو باہر کا راستہ دکھایا ہے اور یہ عمل اکتوبر 2023 سے ہی شروع ہوا تھا۔

پے ٹی ایم کا کہنا ہے کہ کمپنی مصنوعی ذہانت کی مدد سے دہرائے جانے والے کاموں اور کرداروں کو ختم کر کے اپنے کاموں میں بڑی تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے۔ اے آئی سے چلنے والی آٹومیشن کے ذریعے کمپنی ملازمین کے اخراجات میں 10 سے 15 فیصد تک بچت کر سکے گی۔ اے آئی کی وجہ سے بظاہر 1000 لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سال 2023 میں دنیا کی کئی بڑی ایجنسیوں اور ماہرین اقتصادیات نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حکومتوں کو خبردار کیا ہے۔

عالمی سروے میں شامل 36 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے وہ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ مارچ 2023 میں گولڈمین سیکس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اے آئی کی وجہ سے 300 ملین کل وقتی ملازمتیں خطرے میں ہیں۔ پی ڈبلیو سی نے اپنے سالانہ عالمی ورک فورس سروے میں کہا ہے کہ ایک تہائی لوگ خوفزدہ ہیں کہ اے آئی اگلے تین سالوں میں ان کی ملازمتیں چھین سکتا ہے۔

دنیا مصنوعی ذہانت کے چیلنجوں اور خطرات سے آگاہ اور چوکنا ہو رہی ہے۔ ایسے میں اے آئی کو ریگولیٹ کرنے کی مکمل تیاریاں جاری ہیں۔ یورپی یونین نے اس سمت میں پہلا قدم اٹھایا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک بھی اے آئی کو ریگولیٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ حال ہی میں، امریکی کانگریس میں بھی اے آئی کے اثرات پر بحث ہوئی ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان اے آئی کو ریگولیٹ کرنے کے حق میں ہیں۔ چین نے پہلے ہی اے آئی کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OejfKyo

اتوار، 17 دسمبر، 2023

اے آئی کے ذریعے ٹرانس جینڈر کے حوالے سے رویے کو بدلا جا سکتا ہے؟

ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر ریس کا گھوڑا اپنی منزل کی جانب برق رفتاری سے دوڑ رہا ہے۔ مگر ٹرانس جینڈرز وہ واحد طبقہ ہے، جس کو اس ریس میں مقابلہ تو دور کی بات شامل ہونے کا حق بھی بامشکل سے ہی ملتا ہے۔ ٹرانس جینڈرز کو عموماً پاکستانی معاشرے میں ایسی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے گویا وہ معاشرے کا حصہ نہ ہوں، یا یوں کہہ لیجیے کہ معاشرہ انہیں اپنا حصہ تسلیم ہی نہیں کرتا۔

پاکستان کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے والی 19 برس کی ظرین راجپوت ایک ٹرانس جینڈر یوٹیوبر ہیں، جنہوں نے تقریبا 5 سالوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد حال ہی میں "بیسٹ انڑرپرینیور" ایوارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ورچوئل ٹرانس جینڈرز انفلوئینسر کی ضرورت اس طرح محسوس ہوتی ہے کہ وہ ایک ڈمی انفلوئینسر ہوگا، جس کی دماغی حالت کو کوئی بھی متاثر نہیں کر سکتا، اسے قتل ہو جانے کا خوف نہیں ہوگا، اسے یہ ڈر نہیں ہوگا کہ کوئی کچھ غلط کہہ دے گا، نہ ہی وہ ہمت ہارے گا، تو اس طرح کے ڈمی انفلوئینسر ٹرانس جینڈر سے کمیونٹی کی ڈٹ کر نمائندگی کے علاوہ ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی، جس سے ٹرانس جینڈر انفلوئینسر کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ معاشرے کے منفی رویے کو بدلا جا سکتا ہے۔

ظرین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس محنت کے میٹھے پھل کو پانے کے لیے انہوں نے زمانے کی تلخیاں اور گالیاں تک برداشت کی ہیں، ''اگر میں کسی عوامی جگہ پر اپنے وی لاگ میں اردگرد کا ماحول دکھانے کی کوشش کروں تو لوگوں کی طنز بھری نگاہیں مجھ سے ہٹتی نہیں ہیں، صرف یہی نہیں اس پر جو جملے کسے جاتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہیں، کہا جاتا یے کہ یہ ہیجڑا ہے اسے تو بھیک مانگنی چاہیے یا ڈانس کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے اپنے پہلے وی لاگ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا، ''جب میں نے اپنا پہلا وی لاگ اپلوڈ کیا تو میرے اپنے گھر والوں نے سب سے پہلے کہا کہ ٹرانس جینڈر پیدا ہو کر تم نے ہمیں معاشرے میں شرمندہ کیا ہے۔ مجھے تو گھر سے ہی سب سے پہلے دھتکارا گیا۔ باقی لوگوں کے کمنٹس اتنے ہراسانی پر مبنی ہوتے ہیں اور ایسی باتیں جن کا تکلیف گالی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔"

ٹرانس جینڈرز اور مرد و خواتین کے انفلوئینسر ہونے کے فرق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ظرین نے کہا کہ لفظ انفلوئینسر کو ٹرانس جینڈرز کے ساتھ معاشرہ اب تک قبول نہیں کر پایا، اس کی ایک بڑی وجہ ٹرانس جینڈر انفلوئینسرز کی تعداد میں کمی ہے، ''انفلوئینسرز کی پارٹیوں میں مرد اور خواتین کے علاوہ ٹرانس جینڈر انفلوئینسرز کو دعوت تو دی جاتی ہے۔ لیکن اس کا بھیانک چہرہ بعد میں اس صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ پھر وہی لوگ کہتے ہیں آپ ہمیں وی لاگ میں مت لائیے گا، ہمارے ساتھ تصویر مت لگائیے گا۔‘‘

کراچی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر میسم رضا حمانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ، ''ہماری روزمرہ کی زندگیوں میں ٹیکنالوجی کا اثر ہمارے خیال سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹیکنالوجی میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کے رویوں کو اپنے سانچے میں ڈھال کر بدل دے، اس کی سب سے بڑی مثال انسٹاگرام پر انفلوئینسرز ہیں، انہیں انفلوئینسر کہا ہی اس لیے جاتا ہے کیونکہ وہ عوامی رویے کو کافی حد تک بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے کچھ خطرناک پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانس جینڈر ہمارے معاشرے میں ویسے ہی ایک حساس کمیونٹی ہے اور اگر کوئی ورچوئل ٹرانس جینڈرز انفلوئینسر بنا کر اس کا غلط استعمال کرے تو اس کمیونٹی کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں، ''ٹیکنالوجی کا کنٹرول ہونا بہت ضروری ہے ورنہ ٹیکنالوجی کا منفی استعمال بہت سے طوفان برپا کر سکتا ہے۔‘‘

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور انسانی حقوق کی نامور کارکن نگہت داد کہتی ہیں کہ ٹرانس جینڈرز کے ڈیجیٹل حقوق کی بات کی جائے تو ٹرانس جینڈرز اپنے آن لائن حق کے لیے خاص طور پر اگر اپنی شناخت کے حوالے سے آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں گالم گلوچ، اور نفرت انگیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا یے۔ کیونکہ انہیں ٹرانس جینڈر ہونے کہ وجہ سے سنجیدہ ہی نہیں لیا جاتا، ''ان کے ساتھ بالکل ایسا ہی رویہ اختیار کیا جاتا ہے جیسے شروعات میں خواتین کے ساتھ سوشل میڈیا پر کیا جاتا تھا۔ جن کو اب معاشرہ کافی حد تک قبول کر چکا ہے۔ مگر اب اس چکی میں ٹرانس جینڈرز پس رہے ہیں۔‘‘

نگہت داد مزید کہتی ہے ٹیکنالوجی میں جنس کی تفریق یقینی طور پر آئے گی جب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو استعمال کر کے کچھ بھی تخلیق کرنے والے افراد اسی معاشرے کا حصہ ہوں گے۔ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں بھی اسی لیے ہے کہ کیا اے آئی معاشرے کی اخلاقیات کو مد نظر رکھ کر پراڈکٹس بنا رہا ہے۔ اس لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان اے آئی ماڈلز کو بنانے والوں کو اس بات کا کتنا علم ہے کہ مختلف جنسی شناخت اور ان کی حساسیت کیا ہے۔ ان تمام مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

عائشہ مغل پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر لیکچرار ہیں اور سوشل میڈیا پر ٹرانس جینڈرز کی نمائندگی بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرانس جینڈر کو ہمیشہ سے ایک الگ ہی مخلوق سمجھا گیا ہے، ''مجھ پر اور میری کمیونٹی کی دیگر ساتھیوں پر سوشل میڈیا کے ذریعے بہت بار ذاتی حملے کیے گئے ہیں، اور گزشتہ دو برسوں سے سوشل میڈیا پر ٹرانس جینڈرز کی موجودگی کو بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چند ٹرانس جینڈر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مسائل اور کچھ بے رحم لوگوں کے بھید کھولنے لگے تھے۔‘‘

عائشہ مغل مزید کہتی ہیں سوشل میڈیاکا صحیح استعمال بہت کم ٹرانس جینڈر جانتے ہیں اور وہ بھی ہراساں کیے جانے کے ڈر سے استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے ان کی تعداد سوشل میڈیا پر آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

ان کے بقول چند ایک ٹرانسجیندر ز ایسے بھی ہیں، جو خاصی پڑھی لکھی اور بہترین جاب کرر ہی ہیں لیکن ایسے ٹرانس جینڈرز کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے، ''لوگ اکثر ٹرانس جینڈرز پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہمارا طبقہ بھیک مانگتا ہے، ناچ گانا کرتا ہے اور بعض غلط کام بھی کرتے ہیں لیکن اب ہماری برادری سرا آہستہ آہستہ ان کاموں کو چھوڑ رہی ہے کیوں کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح محنت مزدوری، نوکری اور کسی ہنرمندی کے بل بوتے پر روزی کمانا چاہتی ہے مگر اس راہ کو اپنانے میں سب سے بڑا مسئلہ ٹرانس جینڈر ز کا ان پڑھ ہونا ہے۔ اس لیے کسی بھی پلیٹ فارم پر ایک مضبوط کمیونٹی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔ کیونکہ تعلیم اور ہنر کے ذریعے کسی کو بھی بآسانی مات دی جا سکتی ہے۔‘‘

ٹرانس جینڈر ز کو شکایت ہے کہ دنیا کتنی بھی بدل جائے، لیکن وہ جس جگہ بھی جائیں انہیں لوگوں کے طنزیہ اور ذومعنی فقروں اور تحقیر آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Z5xWiqs

ہفتہ، 9 دسمبر، 2023

ہندوستان میں ہر سال تیار ہوں گئے 5 کروڑ آئی فون، 50 ہزار لوگوں کو ملے گا روزگار

نئی دہلی: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل آئندہ دو سے تین سالوں میں ہندوستان میں 5 کروڑ آئی فون تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ اس کی سالانہ مینوفیکچرنگ کا 25 فیصد ہوگا۔ یعنی دنیا میں استعمال ہونے والے ایک چوتھائی آئی فون ہندوستان میں تیار ہوں گے۔ یہ اطلاع امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فی الحال ایپل سالانہ 20 کروڑ آئی فون تیار کرتا ہے، جس میں سے بیشتر چین میں تیار ہوتے ہیں۔

گزشتہ کچھ سالوں سے یہ تصویر تبدیل ہو رہی ہے اور اب ہندوستان میں بھی اس مینوفیکچرنگ میں حصہ بڑھنے لگا ہے۔ فی الحال ہندوستان میں 5 فیصد مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے او ایپل ہندوستان میں لگاتار اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے۔ ایپل کے لیے مینوفیکچرنگ کرنے والی تائیوانی کمپنیاں فاکسکان اور پیگاٹران ہندوستان میں آئی فون تیار کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں بنگلورو اور چنئی میں اپنے پلانٹ تیار کر رہی ہیں۔ اب ٹاٹا گروپ نے بھی اس میں قدم بڑھانا شروع کیا ہے۔

دراصل، ٹاٹا گروپ نے حال ہی میں ایک دیگر تائیوانی کمپنی وسٹران کے بنگلورو میں واقع آئی فون پلانٹ کو حاصل کر لیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، اب ٹاٹا گروپ تمل ناڈو کے ہوسور میں ایک بڑا آئی فون اسمبلی پلانٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس میں 20 آئی فون اسمبلی لائن ہوں گی۔ اس کے علاوہ آئندہ دو سالوں کے اندر 50 ہزار لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ ا پلانٹ کو آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال میں شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس قدم سے ٹاٹا کی ایپل کے ساتھ شراک داری مضبوط ہوگی، جس کے پاس پہلے سے ہی کرناٹک میں ایک آئی فون فیکٹری ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں ایپل رفتہ رفتہ ہندوستان پر اپنا انحصار بڑھا رہا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران کمپنی نے ہندوستان میں 7 ارب ڈالر سے زیادہ کے آئی فون اسمبل کئے تھے، جو ڈیوائس تخلیق کاری کا تقریباً 7 فیصد تھا۔ وہیں، رواں سال عالمی فروخت کے پہلے دن ہندوستان میں تیار کردہ آئی فون بھی پیش کئے گئے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UASeuvr

جمعرات، 7 دسمبر، 2023

خلاء میں پھر تاریخ رقم کرنے کی تیاری، اِسرو کے مشن 2025 کی تفصیل منظر عام پر!

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن یعنی اِسرو نے رواں سال چندریان-3 کے ذریعہ کامیابی کی نئی تاریخ رقم کی۔ اس مشن سے ہندوستان چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا پہلا اور واحد ملک بن گیا۔ چندریان-3 کے بعد آدتیہ ایل-1 اور پھر گگن یان فلائٹ کی کامیاب ٹیسٹنگ کی گئی۔ اب اِسرو پھر سے تاریخ رقم کرنے کی طرف تیزی کے ساتھ قدم بڑھا رہا ہے۔

اِسرو کے تعلق سے نئی جانکاری یہ سامنے آئی ہے کہ آئندہ دو سالوں میں ادارہ کچھ اہم مشن کو لانچ کرنے والا ہے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں وقفہ سوال کے دوران حکومت نے آئندہ دو سالوں میں لانچ ہونے والے اِسرو کے خلائی مشن کی جانکاری دی۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ اِسرو 2024 اور 2025 میں کون کون سے مشن خلا میں بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اہم ’نثار‘ اور ’گگن یان‘ مشن ہے۔

گگن یان مشن میں 3 خلائی مسافر کو خلا میں بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ یہ ہندوستان کا پہلا انسانی مشن ہوگا۔ اس مشن میں اسپیس کرافٹ کو زمین سے 400 کلومیٹر دور کے مدار میں نصب کیا جائے گا۔ یہ مشن 3 دن طویل ہوگا۔ خلا میں 3 دن گزارنے کے بعد سبھی خلائی مسافروں کو سمندر میں بہ حفاظت لینڈ کرایا جائے گا۔ اس مشن پر تیزی کے ساتھ کام ہو رہا ہے۔

جہاں تک گگن یان مشن کی بات ہے، اس کی پہلی ٹیسٹ فلائٹ رواں سال اکتوبر ماہ میں لانچ کی گئی تھی۔ اس کا مقصد کرو ماڈیول کی ٹیسٹنگ تھی۔ گگن یان کے اس تجربہ سے پتہ لگایا گیا کہ خلائی سفر کے دوران کچھ گڑبڑی ہونے پر بھی خلائی مسافر محفوظ کس طرح رہیں گے۔ گگن یان مشن کا ہدف 2025 میں ہندوستانیوں کو خلا میں بھیجنے کا ہے۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں بتایا کہ آنے والے وقت میں گگن یان پروگرام کے تحت ٹیسٹ فلائٹس کو پلان کیا گیا ہے۔

اِسرو کے آئندہ اسپیس مشنوں میں ’نثار‘ یعنی سنتھیٹک ایپرچر رڈار مشن بھی شامل ہے۔ اِسرو یہ مشن امریکہ کی اسپیس ایجنسی ناسا کے ساتھ مل کر رہا ہے۔ اس مشن کا ہدف دوہری فریکوئنسی والے رڈار امیجنگ سیٹلائٹ کو ڈیزائن کرنے سے لے کر اسے لانچ کرنا ہے۔ ناسا کے مطابق اس سے ملنے والا ڈاٹا سائنسدانوں کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو بہتر ڈھنگ سے سمجھنے کے لیے جانکاری دے گا۔ نثار کو تین الگ الگ مراحل میں تیار کیا جا رہا ہے۔ نثار سے 12 دنوں میں پوری زمین کا نقشہ تیار کیا جا سکے گا۔ اس سیٹلائٹ کو ستیش دھون خلائی مرکز سے جنوری 2024 میں لانچ کیے جانے کی امید ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/7kfn2Nd

منگل، 5 دسمبر، 2023

چندریان 3 کا پروپلشن ماڈیول چاند کے مدار سے زمین کے مدار میں آتا ہے، اسرو کا نیا تجربہ

نئی دہلی: چاند کے جنوبی قطب پر چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) نے ایک بار پھر سب کو حیران کر دیا ہے۔ اس بار اسرو نے چاند کے گرد گھومنے والے پروپلشن ماڈیول کو زمین کے مدار میں واپس بلایا ہے۔ اسرو نے یہ تجربہ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے خلائی جہاز کو بھی واپس بلا سکتا ہے۔

اسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ میں کہا، ’’ایک اور منفرد تجربے میں پی ایم (پروپلشن ماڈیول) کو قمری مدار سے زمین کے مدار میں لایا گیا ہے۔ چندریان-3 مشن کا بنیادی مقصد چاند کے جنوبی قطبی علاقے کے قریب نرم لینڈنگ کر کے وکرم اور پرگیان پر آلات کا استعمال کرتے ہوئے تجربات کرنا تھا۔ خلائی جہاز 14 جولائی 2023 کو لانچ کیا گیا تھا۔‘‘

لینڈر وکرم نے 23 اگست کو چاند کی سطح پر تاریخی لینڈنگ کی اور اس کے بعد پرگیان لینڈ کیا گیا۔ اسرو نے ایک بیان میں کہا، "چندریان-3 مشن کے مقاصد پوری طرح سے حاصل کر لیے گئے ہیں،" انہوں نے مزید کہا کہ پروپلشن ماڈیول کا بنیادی مقصد لینڈر ماڈیول کو جیو سٹیشنری ٹرانسفر آربٹ (جی ٹی او) سے چاند کے آخری قطبی مدار تک پہنچانا ہے۔ سرکلر مدار تک پہنچنے اور لینڈر کو الگ کرنے کے لیے۔ خلائی ایجنسی نے کہا کہ علیحدگی کے بعد پے لوڈ 'اسپیکٹرو پولاریمیٹری آف ہیبی ایبل سیارہ ارتھ' کو بھی پروپلشن ماڈیول میں چلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی منصوبہ اس پے لوڈ کو پروپلشن ماڈیول کی زندگی کے دوران تقریباً تین ماہ تک چلانے کا تھا لیکن چاند کے مدار میں ایک ماہ سے زیادہ کام کرنے کے بعد پروپلشن ماڈیول کے پاس 100 کلوگرام سے زیادہ ایندھن دستیاب تھا۔ اسرو نے کہا کہ پی ایم میں دستیاب ایندھن کو مستقبل کے قمری مشن کے لیے اضافی معلومات اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وزیراعظم زمین کے گرد چکر لگا رہے ہیں اور 22 نومبر کو اس نے 1.54 لاکھ کلومیٹر کی بلندی پر چاند کے مدار کے قریب ترین مقام کو عبور کیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hv741cL