ہفتہ، 29 جون، 2024

روسی سیٹلائٹ کا 100 سے زائد ٹکڑوں میں ٹوٹنا خطرناک، خلائی مسافروں کو لینی پڑی ایمرجنسی پناہ

روس کا ایک سیٹلائٹ (RESURS-P1) جو کہ خلاء میں غیر فعال تھا، وہ 26 جون 2024 کو ٹوٹ کر 100 سے زیادہ ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ اس کے ٹکڑے خلاء میں ہر طرف پھیل چکے ہیں۔ یہ واقعہ انتہائی فکر انگیز اور خطرناک ہے، اس کی وجہ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلائی مسافروں کو ایمرجنسی پناہ لینی پڑی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ خلاء میں ہوئے اس خوفناک حادثہ کا سب سے زیادہ اثر ہند نژاد امریکی سائنسداں اور خلاباز سنیتا ولیمس پر پڑا ہے۔ سنیتا اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے مشن کے دوران پھنس گئی ہیں۔ سنیتا ولیمس اپنے ساتھی خلاباز بوچ ولمور کے ساتھ خلائی اسٹیشن میں پناہ لیے ہوئی ہیں جو کہ بوئنگ کے اسٹارلائنر کیپسول میں سوار ہو کر وہاں پہنچی تھیں۔

روسی سیٹلائٹ کے ٹکڑے ہونے کے بعد سنیتا اور ان کے ساتھی خلابازوں کو فوراً بین الاقوائی خلائی اسٹیشن پر پناہ لینی پڑی۔ اس واقعہ کے بعد سنیتا اور ان کے ساتھیوں کو خلا سے زمین پر واپس آنے میں اب کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اس حادثہ کے بعد سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی خلائی مسافروں کی زمین پر واپسی سے متعلق غیر یقینی والی حالت بڑھ گئی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ روسی سیٹلائٹ کے ٹوٹنے کے بعد اس کا ملبہ 100 سے بھی زیادہ ٹکڑوں میں بکھر کر ہر طرف پھیل گیا ہے۔ یہ خلا میں بہت تیزی کے ساتھ اِدھر اُدھر بے قابو انداز میں دوڑ رہے ہیں۔ یہ کسی بھی وقت کسی بھی دیگر سیٹلائٹ سے ٹکرا کر اسے بھی تباہ کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے سنیتا ولیمس کے مشن کی مدت کار کو بڑھا دیا گیا ہے۔ ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیاں روسی سیٹلائٹ کے ملبہ کی نگرانی کر رہی ہیں اور اس مشکل حالت سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N4gkUOl

جمعہ، 28 جون، 2024

بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا جوانی میں پھیپھڑوں کی صحت کے لیے نقصان دہ: تحقیق

نئی دہلی: ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا مستقبل میں پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ محققین نے آلودگی کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (یو ایس سی) کے سائنسدانوں نے پایا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والے لوگ جوان میں برونکائٹس کی علامات جیسے دائمی کھانسی، بند ناک یا بلغم کی پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان بیماریوں کا سردی لگنے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

امریکن جرنل آف ریسپریٹری اینڈ کلینکل کیئر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1308 بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ ان کی بالغ ہونے پر تشخیص کے وقت اوسط عمر 32 سال تھی۔ تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ شرکاء میں سے ایک چوتھائی گزشتہ 12 مہینوں میں برونکائٹس کی علامات سے پریشان رہے۔

کیک اسکول آف میڈیسن میں آبادی اور صحت عامہ کے سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر، ایم ڈی ایریکا گارسیا نے کہا، ’’نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی سے ہمارے نظام تنفس پر زیادہ لطیف اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو جوانی میں بھی ہمیں متاثر کر سکتے ہیں۔‘‘

برونکائٹس کی علامات کی موجودگی پیدائش اور 17 سال کی عمر کے درمیان دو قسم کے آلودگیوں کے سامنے آنے سے وابستہ تھی۔ ایک گروپ میں ہوا میں موجود باریک ذرات جیسے دھول، پولن، جنگل کی آگ سے نکلنے والی راکھ، صنعتی اخراج اور گاڑیوں کے دھوئیں کے ذرات شامل ہیں۔جبکہ دوسرا نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ہے، جو آٹوموبائلز، ہوائی جہازوں، کشتیوں اور پاور پلانٹس میں دہن کی ایک ضمنی پیداوار ہے، جو پھیپھڑوں کے کام کو نقصان پہنچانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

اس تحقیق میں جن بچوں پر توجہ مرکوز کی گئی جو فضائی آلودگی کے اثرات کے حوالے سے خاص طور پر حساس ہوتے ہیں۔ ان کی سانس اور مدافعتی نظام اب بھی ترقی کر رہے ہیں اور وہ بالغوں کے مقابلے میں اپنے جسمانی وزن کے مقابلے میں زیادہ سانس لیتے ہیں۔

ٹیم نے یہ بھی پایا کہ بچپن میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور ذرات کی نمائش سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہیں، تحقیق کے مطابق، بالغوں میں برونکائٹس کا اثر ان لوگوں میں زیادہ تھا جنہیں بچپن میں دمہ کی تشخیص ہوئی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GuM7IWw

بدھ، 26 جون، 2024

ہندوستان میں 5جی صارفین کی تعداد 2029 تک 84 کروڑ تک پہنچ جائے گی: رپورٹ

نئی دہلی: ہندوستان میں 5جی صارفین کی تعداد 2029 کے آخر تک 84 کروڑ کے قریب پہنچ سکتی ہے، جو موبائل صارفین کی تعداد کا 65 فیصد ہوگی۔ یہ اطلاع بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔ ایرکسن موبلٹی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں موبائل صارفین کی تعداد 2029 تک بڑھ کر 1.3 بلین ہونے کا امکان ہے۔

ایرکسن کے ایگزیکٹو وی پی (وائس پریزیڈنٹ) اور ہیڈ آف نیٹ ورکس فریڈرک جیڈلنگ نے کہا کہ جون 2024 کی ایرکسن موبلٹی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 5جی موبائل سبسکرپشنز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اچھے موبائل براڈ بینڈ اور فکسڈ وائرلیس تک رسائی کلیدی استعمال کے معاملات ہیں، جس سے اشارے ملتے ہیں کہ 5جی کی صلاحیتیں سروس فراہم کرنے والوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

عالمی سطح پر 2029 کے آخر تک 5جی سبسکرپشنز کی تعداد 5.6 بلین تک پہنچنے کی امید ہے۔ اس رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2029 کے آخر تک عالمی سطح پر کل موبائل صارفین میں سے 60 فیصد 5جی صارفین ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مڈ بینڈ کی تعیناتی بڑے پیمانے پر کی گئی ہے اور 2023 کے آخر تک یہ کوریج 90 فیصد آبادی تک تھی۔ سال 2023 کے آخر تک 5جی صارفین کی تعداد 119 ملین تک پہنچ گئی تھی، جو کہ کل صارفین کا 10 فیصد تھا۔

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے ٹیلی کام خدمات کے لیے 96238.45 کروڑ روپے کے اسپیکٹرم کی نیلامی شروع کر دی ہے۔ اس میں مختلف بینڈز کے 10522.35 میگا ہرٹز کے اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔ اس نیلامی کے عمل میں بھارتی ایئرٹیل، ووڈافون آئیڈیا اور ریلائنس جیو انفوکام حصہ لے رہی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EBSPNci

منگل، 25 جون، 2024

خلائی تحقیق کے میدان میں چین نے رقم کی تاریخ، چاند کے قطب جنوبی سے نمونے لانے والا پہلا ملک بنا

چینی خلائی مشن چینگ،ای-6 کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس لوٹ آیا ہے۔ مشن اپنے ساتھ چاند کے قطب جنوبی سے قمری مٹی اور چٹانوں کے نمونے لے کر آیا ہے، جس کے ساتھ چین چاند کے قطب جنوب سے نمونے زمین پر لانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

چینگ،ای-6 مشن کا ری انٹری کیپسول اندرونی منگولیا کے خطے سیزوانگ بینر میں نمونوں کے ساتھ لینڈ کر گیا۔ چاند کے قیمتی نمونوں کے ساتھ زمین پر واپسی چینی خلائی پروگرام کے لیے بہت بڑی پیشرفت ہے۔ خیال رہے کہ 3 مئی کو چینگ ای مشن چاند کی جانب روانہ ہوا تھا اور 2 جون کو چاند کی اس سائیڈ پر اترا جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتی۔

رپورٹ کے مطابق چینگ،ای-6 مشن کا لینڈر چاند کے قطب جنوبی کے شمال مشرقی خطے میں واقع پول ایٹکن بیسن پر لینڈ ہوا اور 2 دن تک وہاں کی سطح اور چٹانوں سے نمونے جمع کرتا رہا۔ نمونے جمع کرنے کے بعد مشن کے لینڈر نے چاند کی سطح سے پرواز کر کے چاند کے مدار میں موجود آربٹر سے جڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد مشن نے زمین پر واپسی کا سفر شروع کیا اور 20 دنوں میں یہ مکمل کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ پہلی بار ہے جب چاند کے تاریک حصے سے نمونوں کو زمین پر لایا گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ، سوویت یونین اور چین کے مشن چاند سے نمونے زمین پر لا چکے ہیں لیکن یہ تمام اس سطح سے نمونے لائے تھے جو زمین سے نظر آتی ہے۔ چینگ،ای-6 کے ذریعے زمین پر واپس لائے گئے نمونوں سے چاند اور زمین کی ابتدائی تاریخ سے جڑے راز جاننے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق ان نمونوں سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ چاند کے بننے کا عمل کب شروع ہوا تھا۔

چینگ،ای-6 مشن کے سے ہٹ کر بھی چین کی جانب سے رواں دہائی کے دوران کئی مشنز چاند پر بھیجے جائیں گے، جن میں چینگ،ای-7 روبوٹیک مشن کو چاند کے قطب جنوبی پر بھیجا بھی شامل ہے۔ یہ مشن وہاں برف کے آثار دریافت کرے گا جبکہ خطے کے ماحول اور موسم کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔ چینگ،ای-8 مشن سے چینگ،ای مشن کا اختتام ہوگا جو وہاں ممکنہ طور پر ریسرچ اسٹیشن کے قیام کے لیے بھیجا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rh2f90O

جمعرات، 20 جون، 2024

امریکہ میں روسی کمپنی کسپرسکی کے اینٹی وائرس سافٹ ویئر پر پابندی عائد

واشنگٹن: امریکہ نے ماسکو میں قائم سائبر سیکورٹی کمپنی کسپرسکی کے بنائے گئے اینٹی وائرس سافٹ ویئر کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ میں کمپنی کی کارروائیاں ’روسی حکومت کی جارحانہ سائبر صلاحیتوں اور کسپرسکی کے آپریشنز پر اثر انداز ہونے یا اس کی ہدایت کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے‘ قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہیں۔

بیان میں کہا گیا، ’’کسپرسکی اب معمول کی دیگر سرگرمیوں کے علاوہ امریکہ میں اپنا سافٹ ویئر فروخت نہیں کر سکے گی اور نہ ہی اسے پہلے سے استعمال میں آنے والے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔‘‘

محکمہ نے کہا کہ کسپرسکی کے وسیع پیمانے پر انسٹال کردہ اینٹی وائرس سافٹ ویئرز کے ذاتی اور پیشہ ور صارفین کو خطرات کی وجہ سے متبادل تلاش کرنا چاہئے۔

یو ایس سکریٹری آف کامرس جینا ریمنڈو نے کہا، ’’روس نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ کسپرسکی لیب جیسی روسی کمپنیوں کا استحصال کرنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے، تاکہ وہ حساس امریکی معلومات کو جمع کر سکے اور اسے ہتھیار بنا سکے۔ ہم امریکی قومی سلامتی اور امریکی عوام کی حفاظت کے لیے اپنے پاس موجود ہر آلے کا استعمال جاری رکھیں گے۔‘‘

خیال رہے کہ امریکہ میں کسپرسکی سافٹ ویئر کی فروخت پر 20 جولائی سے پابندی عائد کر دی جائے گی اور روس کی یہ ملٹی نیشنل کمپنی 29 ستمبر تک موجودہ صارفین کو سافٹ ویئر اپ ڈیٹ فراہم کر سکے گی۔ کسپرسکی کا سافٹ ویئر صارفین کو ٹروجن ہورس، اسپائی ویئر اور دیگر سائبر خطرات سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

امریکہ میں سرکاری آلات پر اس کی تنصیب پر 2017 سے پابندی عائد ہے۔ جرمنی میں بھی وفاقی دفتر برائے انفارمیشن سیکورٹی نے سافٹ ویئر کے استعمال کے خلاف خبردار کیا ہے۔ تاہم، کسپرسکی نے اس کی مصنوعات سے کوئی طرح کا خطرہ لاحق ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نجی عالمی سائبر سیکورٹی کمپنی ہے جس کا روسی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yYxsXQj

ہفتہ، 15 جون، 2024

جوہری توانائی کے بغیر کاربن سے چھٹکارا ناممکن

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں 2023 کی اقوام متحدہ کی آب و ہوا کی کانفرنس (کاپ 28) میں جوہری توانائی کی شبیہہ کو اس وقت تقویت ملی، جب 198 ممالک نے جوہری توانائی کو کم اخراج والی ٹیکنالوجیز کی فہرست میں شامل کیا، جن کو بڑھانے کی ضرورت ہے اگر دنیا فوسل فیول(جیواشم ایندھن) پر انحصار ختم کرنا چاہتی ہے ۔ اس کانفرنس سے جوہری توانائی کی ضرورت اور افادیت کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا۔ لیکن جوہری پاور پلانٹس میں توانائی پیدا کرنے کے عمل سے پیدا ہونے والا انتہائی تابکار فضلہ، اور خرچ شدہ ایندھن (جوہری توانائی کے حصول میں صرف ہونے والا ایندھن) کا مسئلہ وقتاً فوقتاً تشویش کا باعث رہا ہے۔

خرچ شدہ ایندھن کے محفوظ انتظام سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے پہلے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے جوہری توانائی کی نمو ، اور اس توانائی کو سمجھنے میں کاپ28 کے اعلامیہ سے جو فرق پڑ سکتا ہے پر گفتگو کرتے ہوئے ’اقوام متحدہ خبر نامہ‘ کو بتایا کہ جوہری توانائی ماحول دوست توانائی کے حصول میں پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جوہری توانائی کو عام کیے بغیر کاربن کے اخراج پر قابو پانا ممکن نہیں، تاہم اس مقصد کے لیے حکومتوں کو اس توانائی سے وابستہ منفی تاثر کو دور کرنا ہو گا۔ جوہری توانائی کئی طرح کی قابل تجدید توانائی سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ دنیا کو اصل خطرہ معدنی ایندھن سے ہے جو کرہ ارض کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔

اگرچہ جوہری توانائی زیادہ تر بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن اس کے بارے میں تاثر کچھ اچھا نہیں ہے۔ اس کی وجہ 1985 میں موجودہ یوکرین کے علاقے چرنوبل اور 2011 میں جاپان کے شہر فوکوشیما میں پیش آنے والے جوہری حادثات ہیں۔ علاوہ ازیں، یوکرین پر روس کے حملے کے بعد وہاں ژیپوریژیا جوہری پلانٹ کو لاحق خطرات نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا ہے۔

گروسی کے مطابق عوامی تاثر، پالیسی اور جوہری توانائی کے بارے میں سمجھ بوجھ کے حوالے سے دبئی اعلامیے کی بہت اہمیت ہے۔ جوہری توانائی ماحول دوست توانائی کے حصول میں پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آج دنیا میں جتنی ماحول دوست اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سے پاک توانائی پیدا ہو رہی ہے اس میں ایک تہائی سے زیادہ حصہ جوہری توانائی کا ہے۔ آج یورپ میں پیدا ہونے والی مجموعی توانائی میں نصف حصہ جوہری توانائی کا ہے۔ اسی لیے ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں اس کی خاص اہمیت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی سال تک چرنوبل اور پھر فوکوشیما کی وجہ جوہری توانائی کے بارے میں بہت سی غلط اطلاعات عام رہی ہیں جنہوں نے اس توانائی کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بھی پیدا کی ہے۔

اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں بھی جوہری توانائی کے خلاف مزاحمتی رویہ دیکھنے کو ملا ہے حتیٰ کہ اسے سرے سے مسترد بھی کیا گیا ہے۔ اسی لیےکاپ 28میں جوہری توانائی کو قابل تجدید توانائی قرار دیا جانا ایک بڑا قدم تھا۔ اس موقع پر بہت سے اہم ممالک نے اپنی ہاں پیدا ہونے والی توانائی میں جوہری توانائی کی شرح تین گنا بڑھانے کے وعدے بھی کیے۔ گروسی نے اسے حقیقت پسندی سے تعبیر کیا۔ علاوہ ازیں موسمیاتی تبدیلی پر سائنس دانوں کے بین الاقوامی پینل نے اعتراف کیا ہے کہ جوہری توانائی کے بغیر 2050 تک کاربن کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔ اسی لیے جوہری توانائی کی پیداوار بڑھے گی اورآئی اے ای اے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنائے گا کہ یہ اضافہ محفوظ طریقے سے ہو اور اس کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔

جوہری توانائی کے بارے میں پھیلی غلط اطلاعات کی مثال دیتے ہوئے گروسی نےکہا کہ ایک عام سوچ یہ ہے کہ فوکوشیما جوہری حادثے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ اس وقت جاپان میں آنے والے سونامی سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے لیکن تابکاری سے ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اعدادوشمار کے مطابق جوہری توانائی کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد دیگر طرح کی قابل تجدید توانائی کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ گروسی نے دلیل دی کہ بہت سے لوگ فضائی حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن لوگ جہازوں پر سفر کرنا ترک نہیں کرتے۔ لہذا حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا جوہری توانائی پر 100 فیصد انحصار کرنے لگے، بلکہ بیک وقت کئی طرح کی توانائی سے موثر طور پر کام لینا ہوگا جس میں جوہری توانائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔

گروسی نے اعتراف کیا اگرچہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں ایک اہم مسئلہ ترقی پذیر ممالک کو قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مالی مدد دینا ہے لیکن جوہری بجلی گھروں کے لیے خطیر رقم درکار ہے اور اس وقت عالمی سطح پر جوہری توانائی کے لیے مالیاتی وسائل کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ان پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ گروسی کے مطابق ہندوستان سے چین، ارجنٹائن سے برازیل، میکسیکو، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ تک دنیا کے جنوبی حصے میں جوہری توانائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ افریقہ کے متعدد ممالک بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ماڈیولر ری ایکٹروں کی بدولت یہ توانائی ان ممالک کے لیے زیادہ سستی ہے۔

آئی اے ای اے جوہری توانائی کے فوائد اور اس کے امکانات کی بات کرتا ہے۔ ساتھ ہی ادارہ جوہری سلامتی کا بھی ذمہ دار ہے۔ دونوں ذمہ داریاں بظاہر ایک دوسرے سے متضاد ہیں لیکن گروسی اسے کسی اور زاویے سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یوکرین میں جوہری تنصیبات (ژیپوریژیا جوہری پاور پلانٹ) پر قبضہ ہو چکا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ دراصل جنگ ہے جو اس پلانٹ کے ارد گرد ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 440 جوہری ری ایکٹر کام کر رہے ہیں جن میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں آیا۔ اسی لیے آئی اے ای اے یوکرین میں کسی حادثے سے بچنے کے لیے اتنی فعال رہی ہے۔ کسی بھی اہم صنعتی سرگرمی کی طرح جوہری توانائی کا حصول بھی خطرات مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جوہری فضلہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اسے ٹھکانے لگانے کا اچھی طرح انتظام کیا جاتا ہے اور اس کی مقدار محدود ہوتی ہے۔ تجارتی بنیادوں پر 70 سال سے جاری کام میں کبھی اس فضلے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ اس کے بجائے معدنی ایندھن کرہ ارض کو لاحق بہت بڑے خطرات کا سبب ہے۔

آئی اے ای اےکی لیبارٹریوں میں سائنسی اور جوہری تحقیق جاری ہے۔ ایجنسی اونکولوجی اور ریڈیو تھراپی جیسے شعبوں میں ترقی پذیر ممالک کی جوہری ٹیکنالوجی سے کام لینے کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مدد مہیا کرتی ہے۔ جوہری توانائی ایریڈی ایشن (شعاع ریزی) ٹیکنالوجی کے ذریعے غذائی تحفظ بھی مہیا کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فصلوں کو گلنے سڑنے سے بچانے، خشک سالی کا مقابلہ کرنے والے بیجوں کی تیاری، کیڑے مکوڑوں کا خاتمہ کرنے اور زکا وائرس یا ملیریا کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کووڈ۔19 وبا کے بعد جرثوموں اور جانوروں سے پھیلنے والے وائرس اور امراض کی بروقت نشاندہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ آئی اے ای اے کا دوسرا رخ ہے جہاں جوہری توانائی سے ترقی کے کام میں مدد لی جا رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/aPqjstg

ہفتہ، 8 جون، 2024

چین کا قمری مشن واپسی سفر پر روانہ

چین کا بغیر عملے کاچینگ 6 مشن مسلسل تاریخ رقم کر رہا ہے۔ اس نے چاند کے دور یا تاریک پہلو جو زمین سے نظر نہیں آتا، سے پہلی مرتبہ نمونے اکٹھے کیے ہیں اور ان نمونوں کو مدار میں خلائی جہاز کے درمیان منتقل کیا ہے۔ یہ منتقلی نمونوں کے سفر کے اگلے مرحلے یعنی زمین پر واپسی کے لیے ضروری تھی ۔ مشن کے دو خلائی جہازوں نے 6 جون کو قمری مدار میں ڈوکنگ کی اور حاصل کئے گئے نمونے زمین پر واپسی کے ماڈیول میں کامیابی سے منتقل کیے۔ ’چینگ 6 پراب‘ کے ایسنڈر اور اس کے آربیٹر ماڈیول کی کامیاب ملاقات اور ڈوکنگ مقامی وقت دوپہر 2:48 بجے ہوئی۔ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) کے مطابق چاند کے نمونے کے کنٹینر کی محفوظ منتقلی 3:24 بجے تک مکمل ہو گئی۔ یہ دوسرا موقع تھا جب کسی چینی خلائی جہاز نے چاند کے مدار میں ملاپ اور ڈوکنگ حاصل کی تھی۔ اس سے قبل چینگ 5 نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ چینگ 6 ڈوکنگ کی فوٹیج سی این ایس اے نے اپنے ویبو اکاؤنٹ پر شائع کی اور سوشل میڈیا (ٹویٹر) کے ذریعے شیئر کی ہے۔

سی این ایس اے کا تازہ ترین مشن تاریخ رقم کرنے والا کوئی پہلا مشن نہیں ہے۔ 2 جون کوچینگ 6 غیر دریافت شدہ اپولو بیسن کریٹر میں اترا، جو کہ چاند کے دور کی طرف بڑے جنوبی قطب ایٹکن بیسن کے اندر واقع ہے۔ اس وقت چاند کے دور یا تاریک سمت کی طرف سافٹ لینڈنگ کرنے والا یہ صرف دوسرا مشن بن گیا۔ اس مشکل آپریشن کو انجام دینے کا پچھلا مشن چینگ4 روبوٹک لینڈر اور روور تھا - یعنی اب تک، چین واحد ملک ہے جس نے چاند کے دور یا تاریک سمت پر کامیابی سے سافٹ لینڈنگ کی ہے۔

چینگ 6 راکٹ - جو مشن کے لینڈر کو بھی چاند کی سطح پر لے گیا - 4 جون کی صبح نمونے حاصل کرنے کے بعد چاند کے گرد مدار میں داخل ہوا۔ اس کے بعد، یہ مدار کے تقریباً 9.3 میل (15 کلومیٹر) کے فاصلے پر پہنچا۔ ایسنڈر ( نمونہ لے جانے والے راکٹ) اور آربیٹر کے درمیان وزن کے وسیع فرق کی وجہ سے ملاقات اور ڈوکنگ کے دوران دونوں خلائی جہازوں کے درمیان ٹکراؤ سے بچنے کے لیے بہت احتیاط برتنی پڑی۔

سی این ایس اے کے مطابق دونوں خلائی جہازوں نے ملاقات اور ڈوکنگ کے لئےایک 'ہینڈ شیک' اور 'ہولڈ ٹائیٹ' طریقہ اپنایا جسے مکمل ہونے میں تقریباً 21 سیکنڈ لگے۔ کیپچر کے لیے صرف 1 سیکنڈ کا استعمال کیا جاتا ہے، 10 سیکنڈ دونوں خلائی جہاز کی سیدھ کو درست کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اور آخری 10 سیکنڈ دونوں کو ایک ساتھ لاک کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ملاقات اور ڈوکنگ مکمل کرنے کے بعد، ایسنڈر نے چاند کی مٹی کا نمونہ منتقل کیا۔ منتقلی کے طریقہ کار کی مدد سے نمونہ کا کنٹینر 200 سے 300 ملی میٹر چوڑے ایک تنگ چینل سے گزرا جسے ریٹرنر نےپکڑ لیا۔ نمونے کی منتقلی کو مکمل کرنے کے بعد، ایسنڈر الگ کر دیا گیاجب کہ دوسرا حصہ آربیٹر چاند کے گرد پرواز کرتا رہے گا، زمین کے گرد مدار میں منتقل ہونے کے لیے مناسب موقع کے انتظار میں۔ چاند کے گرد انتظار کا یہ وقت تقریباً 14 دن تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ ایک بار زمین کا چکر لگانے کے بعد، چینگ 6 آربیٹر نمونہ ریٹرنر کینسٹر کو بھیج سکتا ہے، جس کے 25 جون کو پیراشوٹ کے ذریعے چین کے اندرونی منگولیا کے ریگستانوں میں زمین پر واپس آنے کی امید ہے۔

سائنسی برادری کا ردعمل

لیسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن بارسٹو نے کہا کہ یہ ایک بہت اہم کامیابی ہے۔ صرف امریکہ اور روس نے چاند سے نمونے برآمد کیے ہیں، لینڈنگ اور پھر ٹیک آف۔ یہ چین کے خلائی پروگرام میں ایک متاثر کن صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ چاند سے اڑان بھرنا ایک تکنیکی کارنامہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل ہے جب یہ کارنامہ چاند کے دور یا زمین سے اس کی مخالف سمت سے کیا جائے۔ مانچسٹر یونیورسٹی کے ڈاکٹر رومین ٹارٹیز نےاس بات سے اتفاق کیا اور کہا اب تک، چینگ 6 منصوبوں کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ بہت پرجوش ہے کیونکہ ہر قدم ہمیں ان نمونوں کو زمین پر واپس لانے کے قریب لے جارہا ہے۔ امید ہے کہ ان نمونوں کا گہرا مطالعہ سائنسدانوں کو چاند کے نصف کرہ کے بارے میں دیرپا اسرار کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو مستقل طور پر خلا میں رہتا ہے۔ چاند کا دور کا حصہ - جسے کبھی کبھی 'ڈارک سائیڈ' کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ زمین سے نظر نہیں آتا ہے – قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ تحقیق کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’چینگ 6 پراب‘ کے ذریعے واپس لائے گئے نمونے چاند اور نظام شمسی کی تشکیل اور ارتقاء کے بارے میں بے مثال معلومات فراہم کر سکتے ہیں، اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ چاند کے قریب اور دور سمتوں کے اطراف اتنے مختلف کیوں ہیں، اور سراغ فراہم کرتے ہیں کہ زمین زندگی کو کیسے برقرار رکھتی ہے۔ بارسٹو نے کہا، وہ نہیں جانتے کہ چین نمونے شیئر کرنے کا کوئی منصوبہ ہے، لیکن پر امید ہیں کہ برطانیہ کو ان پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ مریخ سے نمونے کی واپسی کے ہمارے منصوبوں کے ساتھ بہت اچھا رہے گا۔ ٹارٹیز نے کہا کہ وہ اور مانچسٹر یونیورسٹی میں ان کے ساتھی بھی چینگ 6 کے نمونوں پر کام کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پہلے بیجنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک بین الاقوامی کنسورشیم میں شامل تھے تاکہ چاند کے نمونوں کا مطالعہ کیا جا سکے جو چین کے پہلے چاند مشن، چینگ 5 کے ذریعے واپس آئے تھے۔

سائنسدانوں نے خبردار کیاہے کہ چینگ 6 مشن ابھی تک نامکمل ہے، اسے کامیاب اور مکمل اسی صورت قرار دیا جا سکتا ہےجب چاند کے نمونے لے کر آنے والا کنٹینر 25 جون کے قریب زمین پر واپس آئے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/DryAK3e

اتوار، 2 جون، 2024

واٹس ایپ نے اپریل میں ہندوستان میں 71 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس بند کر دئے

نئی دہلی: واٹس ایپ نے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اپریل کے مہینے میں ہندوستان میں 71 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بند کر دئے۔ کمپنی نے ہفتے کے روز کہا، ’’بین کئے گئے 7182000 واٹس ایپ اکاؤنٹس میں سے 1,302,000 کو صارفین کی جانب سے کوئی رپورٹ موصول ہونے سے پہلے ہی فعال طور پر بلاک کر دیا گیا تھا۔‘‘

خیال رہے کہ میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ کے ہندوستان میں 55 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔ اسے ملک بھر سے 10,554 شکایات موصول ہوئیں اور جن پر کارروائی کی گئی ان کی تعداد صرف چھ تھی۔ نئے انڈین آئی ٹی رولز 2021 کے تحت اپنی ماہانہ تعمیل رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ کو ملک میں شکایت اپیلاٹ کمیٹی سے بھی دو آرڈر موصول ہوئے اور اس نے دونوں کی تعمیل کی۔

کمپنی نے کہا کہ ’’ہم اپنے کام میں شفافیت برقرار رکھیں گے۔ ہم مستقبل کی رپورٹس میں اپنی کوششوں کے بارے میں معلومات شامل کریں گے۔‘‘

واضح رہے کہ مارچ میں واٹس ایپ نے ہندوستان میں 79 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مارچ میں پلیٹ فارم کو ریکارڈ 12,782 شکایات موصول ہوئیں اور ان میں سے 11 پر کارروائی کی گئی۔

کمپنی ان کوششوں کی نگرانی کے لیے انجینئرز، ڈیٹا سائنسدانوں، تجزیہ کاروں، محققین، اور قانون کے نفاذ، آن لائن سیکورٹی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ماہرین کی ایک ٹیم کی تقرری کرتی ہے۔

واٹس ایپ کا کہنا تھا، ’’ہم صارفین کے فیڈ بیک پر پوری توجہ دیتے ہیں۔ غلط معلومات کو روکنے، سائبرسیکوریٹی کو فروغ دینے اور انتخابی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ماہرین کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہیں۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/fw7X01O

ہفتہ، 1 جون، 2024

لوگ اسپیس ایکس کے ذریعے چاند اور مریخ پر آسانی سے جا سکیں گے: ایلون مسک

اسپیس ایکس کی مدد سے لوگ مستقبل میں آسانی سے چاند اور مریخ کا سفر کر سکیں گے۔ یہ بیان کمپنی کے سی ای او ایلون مسک نے ہفتے کے روز دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے، مسک نے کہا کہ وقت کے ساتھ اسپیس ایکس اس طرح کی صلاحیت پیدا کر لے گا جس کی مدد سے آسانی سے کوئی بھی شخص مریخ اور چاند کا سفر کر سکے گا۔

ٹیک بزنس مین نے مزید کہا کہ اس سال مجھے امید ہے کہ اسپیس ایکس پورے پے لوڈ کا 90 فیصد لو ارتھ مدار میں لے جائے گا۔فی الحال، اسپیس ایکس کے راکٹ فالکن کو 80 فیصد تک دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے سب سے بڑے راکٹ 'اسٹار شپ' کو دوبارہ 100 فیصد دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ 2026 میں آرٹیمیس 3 مشن کے تحت خلابازوں کو اسٹار شپ سے چاند پر بھیجا جائے گا۔ اس خلائی گاڑی کی اب تک تین سے زائد آزمائشی پروازیں ہو چکی ہیں اور چوتھی پرواز بھی جلد ہونے کا امکان ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ریگولیٹرز سے اجازت ملے گی۔ 5 جون کو ہم چوتھی آزمائشی پرواز شروع کریں گے۔

سٹار شپ کی تیسری آزمائشی پرواز نے دوبارہ قابل استعمال راکٹ کی وشوسنییتا میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ چوتھی آزمائشی پرواز میں، ہماری توجہ مدار میں واپس جانے سے ہٹ کر اسٹارشپ اور سپر ہیوی کو دوبارہ استعمال کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے پر مرکوز ہوگی۔

مزید وضاحت کی کہ اس کا بنیادی مقصد خلیج میکسیکو میں سپر ہیوی بوسٹر کے ساتھ لینڈنگ برن اور سافٹ سپلیش ڈاؤن کرنا اور اسٹار شپ کی کنٹرولڈ انٹری حاصل کرنا ہے۔ خیال رہے کہ مسک کی سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک 99 ممالک تک پہنچ چکی ہے اور 30 ​​لاکھ سے زیادہ لوگ اسے استعمال کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انڈونیشیا اور فجی میں اسٹار لنک سروس شروع کی گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/AO0vG1d