بدھ، 23 اکتوبر، 2024

حکومت کا نیا اسپیم ٹریکنگ سسٹم، فرضی بین الاقوامی کالز کو کرے گا بلاک

نئی دہلی: حکومت ہند نے ایک نیا اسپیم ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا ہے جو ہندوستانی نمبروں کے طور پر ظاہر ہونے والی ان کمینگ بین الاقوامی کالز کی شناخت کر کے انہیں بلاک کر سکتا ہے۔ اس سسٹم کا نام 'انٹرنیشنل ان کمینگ اسپوفڈ کالز پریوینشن سسٹم' ہے، جسے ٹیلی کام کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے پیش کیا ہے۔

سائبر مجرم ایک نئے طریقۂ واردات میں بین الاقوامی کالز کو ہندوستان کے مقامی نمبر (+91 سے شروع ہونے والا) کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ کالنگ لائن آئیڈینٹیٹی (سی ایل آئی) کے تحت فون نمبر کا ظاہر ہونا ضروری ہے، مگر مجرم سی ایل آئی میں ہیر پھیر کر کے کال کو ہندوستان سے آئی ہوئی کال کی شکل میں دکھاتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ کال ہندوستان کے باہر سے کی جا رہی ہوتی ہے۔

سائبر مجرم اس طرح کے فرضی مقامی نمبر سے متاثرہ شخص کا اعتماد جیتتے ہیں اور پھر مالی دھوکہ دہی یا دوسرے خطرناک مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سرکاری اہلکار، قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسر یا متاثرہ شخص کے خاندان کا رکن بن کر پیسہ یا ذاتی ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کئی مرتبہ یہ مجرم متاثرہ شخص پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ اسے گرفتار ہونے کے خوف سے مالی ادائیگی پر مجبور کیا جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فرضی کالوں کا استعمال مالی فراڈ، سرکاری اہلکاروں کے طور پر دھمکانے اور مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کر کے متاثرہ افراد کو لوٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں مجرم فرضی موبائل نمبروں کے ذریعے سیکس ریکٹ میں گرفتاری، ڈرگ اسمگلنگ اور پولیس کی طرف سے دھمکیاں دے کر لوگوں سے پیسے نکلوا چکے ہیں۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نیا سسٹم ایسے جعلی نمبروں کی شناخت کر کے انہیں بلاک کرتا ہے، اس سے پہلے کہ سائبر مجرم متاثرہ شخص تک پہنچ پائیں۔ نئے سسٹم نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 1.35 کروڑ کالوں کی اسپوف کالز کے طور پر شناخت کی اور بلاک کیا، جو آنے والی بین الاقوامی کالوں کا 90 فیصد ہے۔ اس سسٹم کے نفاذ سے انڈین ٹیلی کمیونیکیشن صارفین کو +91 نمبر والی فرضی کالوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8xtgd1l

اتوار، 20 اکتوبر، 2024

عالمی آبی چکر میں عدم توازن

زمین پر زندگی کے لیے پانی ایک لازمی ضرورت ہے اور پانی ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے۔ واٹر سائیکل یا آبی چکر زمین کےاندر اور ماحول میں پانی کی حرکت ہے اور اس میں پانی کے بخارات اور ورن (بارش) جیسے عمل شامل ہیں۔ آج ہونے والی بارش شاید دنوں پہلے کسی دور دراز سمندر کاپانی رہی ہو ۔ اور ہو سکتا ہے کہ کسی دریا کا پانی کسی اونچے پہاڑ کی چوٹی پر برف کی شکل میں رہا ہو۔ پانی فضا میں، زمین پر، سمندر میں اور زیر زمین ہے۔ یہ واٹر سائیکل کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ بدل رہا ہے۔

عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے بخارات کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ بخارات اوسطاً زیادہ بارش کا سبب بنتے ہیں، اور اس صدی کے دوران آب و ہوا کے گرم ہونے پر ان کے اثرات میں اضافہ متوقع ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مطلب دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کا بدلنا ہے۔ یہ زیادہ شدید موسمی واقعات کا باعث بن رہا ہے جس کے اثرات انسانی صحت پر پڑ سکتے ہیں، پینے کے صاف پانی، خوراک اور پناہ گاہ تک رسائی اور گرمی، خشک سالی یا سیلاب سے نمٹنے کی لوگوں کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔

زیادہ بخارات کی وجہ سے ہوا میں زیادہ پانی ہوتا ہے لہذا طوفان کچھ علاقوں میں زیادہ شدید بارشیں پیدا کر سکتے ہیں اور سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ زیادہ بخارات پانی کو بھاپ میں بدل دیتے ہیں اور کچھ علاقوں میں خشک سالی کا سبب بنتے ہیں۔ خشک سالی کا شکار جگہوں کے اگلی صدی میں مزید خشک ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح، سمندر کی سطح کا گرم پانی سمندری طوفانوں کو تیز کر سکتا ہے، جس سے مزید خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ یہ طوفان مستقبل میں مزید طاقتور اور تباہ کن ثابت ہوں گے۔

دنیا کے زیادہ علاقوں میں گرمی کی لہریں عام ہو گئی ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2020 کی دہائی تک، سمندر کی سطح ایک صدی پہلے کی نسبت 0.1- 0.2 میٹر (0.30-0.75 فٹ) زیادہ ہو گئی ہے۔ 21ویں صدی میں، اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج متوقع سطح پر جاری رہا تو سطح سمندر میں 1.1 میٹر (3.6 فٹ) تک اضافے کی توقع ہے۔

سطح سمندر میں اضافہ دو طریقوں یا وجوہات سے ہوتا ہے۔ پہلا، پگھلتے ہوئے گلیشیئرز سے پانی دریاؤں میں بہتا ہے اور سمندر میں شامل ہو جاتا ہے۔ پچھلے 100 سالوں میں پہاڑی گلیشیئرز، آرکٹک گلیشیرز اور گرین لینڈ کی برف کے سائز میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔ دوسرا، سمندر کا پانی گرم ہونے کے ساتھ پھیلتا ہے، اس کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے سمندر میں پانی زیادہ جگہ لیتا ہے اور سطح سمندر بلند ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، سمندر کا پانی گرم ہو رہا ہے اور اس میں تیزابیت بڑھ رہی ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں اتھلے سمندروں میں گرم پانی دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی مرجان کی چٹانوں کی موت کا سبب بنا ہے۔ سمندری برف کا سکڑنا ایک اور عنصر ہے جو زیادہ گرمی کا باعث بنتا ہے۔ ہر سال، سمندری برف کی مقدار جو آرکٹک اوقیانوس کا احاطہ کرتی ہے سردیوں میں بڑھتی ہے اور پھر گرمیوں میں اس کے کناروں پر پگھل جاتی ہے۔ لیکن حال ہی میں، گرم درجہ حرارت کی وجہ سے گرمیوں میں زیادہ برف پگھلی ہے اور سردیوں میں برف کم جمی ہے۔

16 اکتوبر 2024 کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، دنیا کا آبی چکر انسانی تاریخ میں پہلی بار توازن سے باہر ہوا ہے، جو پانی کی بڑھتی ہوئی تباہی کو ہوا دے رہا ہے جو معیشتوں، خوراک کی پیداوار اور زندگیوں کو تباہ کر دے گا۔ گلوبل کمیشن آن دی اکنامکس آف واٹر یا پانی کی اقتصادیات پر عالمی کمیشن کے ماہرین نے اس عدم توازن کی وجہ کئی دہائیوں کی اجتماعی بدانتظامی اور پانی کی کم قدر کو قرار دیا۔ یہ کمیشن نیدرلینڈز کی حکومت سے وابستہ ہے اور اسے آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ یا اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم نے سہولت فراہم کی ہے، جو دنیا کے امیر ترین ممالک کا ایک گروپ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے اجتماعی مستقبل کے لیے میٹھے پانی کی دستیابی پر مزید اعتماد نہیں کر سکتے۔ آبی چکر میں رکاوٹیں پہلے ہی مصائب کا باعث بن رہی ہیں۔ تقریباً 3 ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 1,000 بچے روزانہ غیر محفوظ پانی اور صفائی ستھرائی سے متعلق بیماریوں سے مرتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ کھانے پینے کے نظام میں تازہ پانی ختم ہو رہا ہے اور شہر دھس رہے ہیں کیونکہ ان کے نیچے موجود پانی خشک ہو رہا ہے۔ اور یہ مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا کی خوراک کی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ ایسے علاقے میں ہے جہاں پانی کی سپلائی میں کمی متوقع ہے۔ فوری کارروائی کے بغیر اس کے نتائج اور بھی تباہ کن ہوں گے۔ رپورٹ میں موجودہ طرز عمل میں تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں شدید اقتصادی اثرات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ان مسائل کے مشترکہ اثرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زیادہ آمدنی والے ممالک کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح 2050 میں اوسطاً 8 فیصد اور کم آمدنی والے ممالک میں 10 سے 15 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے شریک مصنف جوہان راکسٹروم نے کہا کہ بارش تمام میٹھے پانی کا ذریعہ ہے اور اس پر مزید بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں 'نیلے پانی'، جیسے جھیلوں، دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی اور 'سبز پانی' یا مٹی اور پودوں میں موجود نمی کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ سبز پانی کی فراہمی کو طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے لیکن یہ آبی چکر کے لیے اہم ہے کیونکہ جب پودے پانی کے بخارات چھوڑتے ہیں تو یہ فضا میں واپس آجاتا ہے، جو زمین پر ہونے والی تمام بارشوں کا نصف حصہ پیدا کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آبی چکر میں رکاوٹیں موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ سبز پانی کی فراہمی پودوں کی مدد کے لیے ضروری ہے جو زمین کو گرم کرنے والے کاربن کو ذخیرہ کر سکتی ہے۔ لیکن گیلی زمینوں اور جنگلات کو تباہ کرکے انسان اسے نقصان پہنچاتے ہیں، جس کے سبب یہ کاربن سنکس ختم ہو رہے ہیں اور گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نتیجے میں ، موسمیاتی تبدیلی سے خشکی بڑھ رہی ہے، نمی کم کر رہی ہے اور آگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

انگلینڈ کی ریڈنگ یونیورسٹی میں کلائمیٹ سائنس کے پروفیسر رچرڈ ایلن نے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی آبی چکر میں انسانی وجہ سے ہونے والی رکاوٹ کی ایک سنگین تصویر پیش کرتی ہے، یہ سب سے قیمتی قدرتی وسیلہ ہے جو بالآخر ہماری روزی روٹی کو برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے سی این این کو بتایا، قدرتی وسائل کے بہتر انتظام اور سیارے کو گرم کرنے والی آلودگی میں بڑے پیمانے پر کمی کے ذریعے ہی بحران سے نمٹا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبی چکر کو ایک 'مشترکہ بھلائی' کے طور پر تسلیم کریں اور اسے اجتماعی طور پر حل کریں۔ ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، نہ صرف سرحدوں پر پھیلی جھیلوں اور دریاؤں کے ذریعے، بلکہ فضا میں موجود پانی کی وجہ سے بھی، جو بہت زیادہ فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ملک میں کیے گئے فیصلے دوسرے ملک میں بارش میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر جنرل اور رپورٹ شائع کرنے والے کمیشن کی شریک چیئرمین، نگوزی اوکونجو-ایویلا نے کہا کہ پانی کا عالمی بحران ایک المیہ ہے لیکن یہ پانی کی معاشیات کو تبدیل کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔ پانی کی صحیح قدر کرنا ضروری ہے، تاکہ اس کی کمی اور اس کے بہت سے فوائد کو پہچانا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UrtRgiD

جمعرات، 10 اکتوبر، 2024

زمین سے ٹکرایا شمسی طوفان، امریکی ایجنسیاں پریشان، بلیک آؤٹ کا خطرہ

لاس اینجلس: یو ایس نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے مطابق جمعرات کو ایک طاقتور شمسی طوفان زمین سے ٹکرا گیا۔ ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ یہ سمندری طوفان ہیلن اور ملٹن سے نمٹنے کے لیے کی جا رہی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

این او اے اے کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر (ایس ڈبلیو پی سی) کے مطابق، منگل کی شام کو سورج سے کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) پھوٹ پڑا اور جمعرات کی صبح 11:15 (ای ایس ٹی) پر تقریباً 1.5 ملین میل فی گھنٹہ (2.4 ملین کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے زمین پر پہنچا۔

نیوز ایجنسی نے ایس ڈبلیو پی سی کے حوالے سے بتایا کہ طوفان جی-4 (شدید) سطح پر پہنچ گیا۔ اسے جی-4 جیو میگنیٹک اسٹارم واچ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کو جی-4 یا اس سے زیادہ جیو میگنیٹک اسٹارم واچ فعال رہا۔ ایس ڈبلیو پی سی جیو میگنیٹک طوفان کے حالات کے بارے میں انتباہات جاری کرتا ہے۔

این او اے اے کے مطابق، یہ طوفان ہیلن اور ملٹن سمندری طوفانوں کے لیے جاری بحالی کی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس میں ریڈیو بلیک آؤٹ، پاور گرڈ پر دباؤ، اور جی پی ایس سروسز کی تنزلی شامل ہیں۔

سی ایم ای سورج کے کورونا سے مقناطیسی میدانوں اور پلازما ماس کے بڑے پیمانے پر اخراج ہیں۔ جب یہ زمین کی طرف آتا ہے تو یہ زمین کے مقناطیسی میدان میں بڑے خلل پیدا کرتا ہے جسے جیو میگنیٹک طوفان کہا جاتا ہے۔ اس سے ریڈیو بلیک آؤٹ اور بجلی کی کٹوتی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/y25fRve

منگل، 1 اکتوبر، 2024

بیرون ملک جانے کے بعد 30 ہزار ہندوستانی ’سائبر غلامی‘ کا شکار، زیادہ تر کا پنجاب، مہاراشٹر اور تمل ناڈو سے تعلق

نئی دہلی: سائبر فراڈ کے حوالے سے ایک بڑی معلومات سامنے آئی ہے، سیاحتی ویزا پر گئے تقریباً 30 ہزار ہندوستانی واپس نہیں آئے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو ’سائبر غلام‘ بنایا گیا ہے اور ان پر دباؤ ڈال کر سائبر جرائم کیے جا رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والے بیورو آف امیگریشن (بی او آئی) نے ایک ڈیٹا تیار کیا، جس کے مطابق جنوری 2022 سے مئی 2024 کے درمیان 73138 لوگوں نے ہندوستان سے وزیٹر ویزے پر کمبوڈیا، تھائی لینڈ، میانمار اور ویتنام کا سفر کیا۔ ان میں سے 29466 ابھی تک ہندوستانی واپس نہیں آئے ہیں۔ اس میں 20-39 سال کی عمر کے لوگوں کی تعداد تقریباً نصف یعنی 17115 ہے۔ یہ اطلاع انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سے ملی ہے۔ اس میں 90 فیصد لوگ مرد ہیں۔

ہندوستان واپس نہ آنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد پنجاب (3667)، مہاراشٹر (3233) اور تمل ناڈو ریاست (3124) سے ہے۔ دوسری ریاستوں سے جانے والوں کی تعداد کافی کم ہے۔ اطلاعات کے مطابق شبہ ہے کہ ان لوگوں پر ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ سائبر فراڈ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کو نوکریوں کا لالچ دے کر سائبر غلام بنایا گیا ہے۔

سائبر غلامی کے تحت کام کرنے والے لوگوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس میں انٹرنیٹ پر دستیاب پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہندوستانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ ہندی اور مقامی زبان بول سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اب تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان لوگوں کی تفصیلات کی تصدیق اور جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں ہندوستان میں سائبر فراڈ کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں، جہاں لوگوں کو مختلف دھوکے دے کر لوٹا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5nTtpvL