اتوار، 17 نومبر، 2024

وی پی این کے استعمال پر پاکستانی اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ، غیر رجسٹرڈ استعمال کو گناہ قرار دیا

پاکستان میں مذہبی معاملات سے متعلق ملک کے اعلیٰ مشاورتی ادارے نے ایک فرمان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ممنوعہ مواد دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والا ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ پاکستانی حکام نے 15 نومبر کو فائر وال تعینات کرنے اور انٹرنیٹ کی نگرانی بڑھانے کے ساتھ ساتھ صارفین کو وی پی این پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹر کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے یہ اقدام سائبر سکیورٹی کو مضبوط کرنے اور دہشت گردی کے خلاف اقدام کے طور پر اٹھایا ہے۔

وی پی این کے استعمال پر اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ جاری کرنے کی اصل وجہ سامنے آئی ہے۔ کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال غیر اخلاقی یا غیر قانونی مقاصد کے لیے کرنا اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ کونسل کے صدر راغب نعیمی نے کہا کہ وی پی این کا استعمال گناہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال غلط معلومات پھیلانے، دہشت گردی کی حمایت اور سماج میں انتشار کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرتی ڈھانچے پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سماج میں اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے کے مترادف ہیں۔

وی پی این کا غلط استعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ معاشرتی اخلاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ کونسل نے یہ بھی کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرتی بگاڑ کو بڑھا سکتا ہے، جس سے عوامی زندگی میں انتشار اور بے راہ روی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، وی پی این کے ذریعے مختلف غیر قانونی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہیں جو اسلامی معاشرت کے اصولوں سے متصادم ہیں۔

وی پی این کے استعمال کے حوالے سے حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اسے دہشت گردانہ سرگرمیوں، مالی جرائم اور فحش مواد تک رسائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے اسے قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے پی ٹی اے کو غیر قانونی وی پی این کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اقدام آزادی پر متضاد کنٹرول کی علامت ہے، حالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی کے لحاظ سے ضروری اور مؤثر ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FHb97jD

ادویات: کم ہوتی تاثیر پر مشترکہ اقدامات کا عہد

اینٹی مائکروبیل رزسٹنس (اے ایم آر) پر دو روزہ چوتھی عالمی وزارتی کانفرنس16 نومبر کو سعودی شہر جدہ میں اس پیچیدہ طبی مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہر شعبے میں قابل ِعمل اقدامات سے متعلق اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ ختم ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل نے کہا کہ کانفرنس میں لیے جانے والے فیصلے رکن ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو جراثیمی مزاحمت کے خلاف ٹھوس اقدامات میں مدد دیں گے۔ یہ اعلامیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 'اے ایم آر' کے حوالے سے منظور کردہ سیاسی اعلامیہ کا تسلسل ہے۔ علاوہ ازیں، سعودی عرب میں 'اے ایم آر' کے حوالے سے آگاہی کا مرکز (ون ہیلتھ لرننگ حب) اور جراثیم کش ادویات تک رسائی اور ان کے انتظام و اہتمام کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان مراکز کا مقصد ضروری جراثیم کش ادویات اور اس مسلئے سے متعلقہ طبی تشخیص تک رسائی اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا۔

جدہ اعلامیہ میں 'اے ایم آر' پر چار رخی مشترکہ سیکرٹریٹ کے اہم کردار کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ سیکرٹریٹ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او)، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ)، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور جانوروں کی صحت سے متعلق عالمی ادارے (ڈبلیو او اے ایچ) پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک نیا 'بائیوٹیک برِج' بنانے کی بات بھی کی گئی ہے جس کی بدولت اس عالمگیر خطرے پر قابو پانےکے لیے تحقیق و ترقی اور اختراع میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

جدہ اعلامیہ کا خیرمقدم کرتے ہوئےیونیپ میں کیمیائی مادوں اور صحت کے شعبے کی سربراہ جیکولین الواریز نے کہا ہے کہ یہ کامیاب کثیرفریقہ طریقہ کار اور مختلف شعبوں کے مشترکہ کام سے حاصل ہونے والے فوائد کی مثال ہے۔ جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جراثیمی مزاحمت سے نمٹنے اور اس معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کے لیے خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کے پاس مختلف قسم کی صلاحتیں ہیں۔ کسی کو پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا اور سبھی ممالک کا اکٹھے آگے بڑھنا یقینی بنانا ہو گا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ناصرف روایتی طریقے سے کام لینا ہو گا بلکہ مزید تحقیق کے مواقع تخلیق کرنے اور مسائل کے ماحول دوست اور پائیدار حل نکالنے کی کوشش بھی کرنا ہو گی تاکہ سبھی کو یہ محسوس ہو کہ ان کے پاس خود کو تحفظ دینے کے مواقع موجود ہیں۔

اینٹی مائکروبیل رزسٹنس یا جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور پیراسائٹ پر اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ چونکہ ادویات کے خلاف مزاحمت اینٹی بائیوٹِکس اور دیگر جراثیم کش علاج کو غیر موثر بناتی ہے اور انفیکشن کے علاج کو مزید مشکل یا ناممکن بنا دیتی ہے اس سے سپر بگ پیدا ہو سکتے ہیں جن کو ادویات کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا جو ان جراثیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے پہلا انتخاب ہیں۔ نتیجتاً بیماری کے پھیلاؤ، اس کی شدت میں اضافے، معذوری اور موت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

قبل ازیں، کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سنجیدہ صورتحال پر اپنے تجزیہ میں کہا کہ اے ایم آر سے صرف دوائیوں کو کم موثر بنانے کا محض خطرہ نہیں ہے بلکہ اب ایسا ہو رہا ہے۔ جس تشویش پر بات کی جا رہی ہے وہ صرف سپر بگ انفیکشن کی وجہ سے لوگوں کے مرنے کا محض خطرہ نہیں ہے، بلکہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سال 13 لاکھ لوگ مر رہے ہیں۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس ’کاپ29 ‘ میں شرکت کے بعد سعودی عرب پہنچنے پر ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ اے ایم آر کے خلاف ایکشن بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تعلق سے کارروائی۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے اے ایم آر سے متعلق سیاسی اعلامیہ میں واضح اہداف طے کیے گئے ہیں اور اب اس عہد کو کارروائی میں تبدیل کرنا ہے۔ خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے اس اعلان پر عمل درآمد کے لیے انہوں نے تین ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ سب سے پہلے، ملکی اور بین الاقوامی دونوں ذرائع سے پائیدار فنانسنگ میں اضافہ۔ دوسرا، تحقیق، ترقی، اور اختراع میں اضافہ اور تیسرا، مناسب استعمال کو یقینی بناتے ہوئے معیاری اینٹی مائکروبیلز تک مساوی رسائی میں اضافہ۔ انہوں نے کہا، اے ایم آر کی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ جراثیم کش ادویات کے نامناسب استعمال سے پھیلتی ہے ۔ لوگوں کے بڑی تعداد میں مرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ان ادویات تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ اے ایم آر پر کارروائی کو تیز کریں، تعاون کا عہد کریں، اور جانوں کی حفاظت کرنے والی ادویات کی حفاظت کریں۔

سعودی وزیر صحت فہد الجلاجیل نے اپنے خطاب میں شرکاء کو متنبہ کیا کہ اے ایم آر زندگی کے تمام پہلوؤں پر گہرا اثر ڈالتی ہے اور صحت عامہ، معاشی استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ یہ چیلنج کوئی سرحد نہیں جانتا اور ہر عمر اور گروہ کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وزارتی میٹنگ میں شریک تمام ممالک اس چیلنج کی شدت سے بخوبی واقف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اس ضمن میں 'جدہ اعلامیہ' میں اہم سعودی اقدامات شامل ہیں، جیسے کہ اینٹی مائکروبیل مزاحمت کی حمایت کے لیے ایک عالمی سائنسی کمیٹی کی تشکیل، تحقیق اور ترقی میں مدد کے لیے 'بائیو ٹیکنالوجی پُل' کا قیام، اور ایک مجوزہ علمی مرکز جس کا مقصد اے ایم آر کے بارے میں عوامی بیداری کو بڑھانا ہے۔ سعودی وزیر صحت نے زور دے کر کہا کہ اعلامیہ کانفرنس کی تھیم ، 'اعلان سے عمل درآمد تک' پر مرکوز ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیاسی اعلامیہ میں طے پانے والے معاہدوں کو پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موثر اینٹی بایوٹک کے بغیر ہمیں جدید ادویات کے فوائد سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس قیمتی تحفے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔

اس موقع پر مشرقی بحیرہ روم کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان البالخی نے کہا کہ امن میں اے ایم آر سے نمٹنے کی کوششیں ایک مشکل ایجنڈا ہے، اور جنگ و تنازعات میں یہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ لوگوں کے پاس خود کو محفوظ رکھنے اور جراثیم کش مزاحمت کے لیے افزائش گاہ بنانے سے بچنے کے لیے مناسب حفظان صحت اور صحت کے آلات کی کمی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او ایسے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو اے ایم آر کے پھیلاؤ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور کھلے میں رفع حاجت کے چیلنجوں کو کم کرنا ان میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ایف اے او کے ایک اہلکار کے مطابق تقریباً 70 فیصد اینٹی بائیوٹِکس مویشیوں کی پیداوار، آبی زراعت اور پودوں کی پیداوار میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اگر ہم اے ایم آر مسئلے پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے جڑ سے قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ممالک، کسان، نجی شعبے، تعلیمی ادارے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو کاشتکاری میں اینٹی مائکروبیلز پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ ہمیں خوراک کی پیداوار کے طریقے تبدیل کر کے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آج 8 ارب کے مقابلے 2050 تک ہم 10 ارب لوگوں کو خوراک فراہم کرا سکیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bAFXP52

ہفتہ، 16 نومبر، 2024

مصنوعی ذہانت کے ذریعے ابتدائی مراحل میں جگر کی بیماری کی تشخیص ممکن

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جگر کی خطرناک بیماری مَیٹابولک-ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) کے ابتدائی مراحل میں تشخیص اب ممکن ہوچکی ہے۔ یہ بات ایک امریکی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ یہ بیماری جگر میں چربی کے درست انداز میں نہ جم سکنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ایم اے ایس ایل ڈی جگر کی دنیا میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دائمی بیماریوں میں سے ایک ہے، جو اکثر موٹاپے، ذیابیطس اور غیرمعمولی کولیسٹرول جیسی دیگر بیماریوں سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ بیماری اکثر بغیر کسی ظاہری علامت کے شروع ہوتی ہے، جس کے باعث اس کا ابتدائی مرحلے میں پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کے ذریعے اے آئی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے 834 مریضوں میں اس بیماری کے نشانات کا پتہ چلایا گیا۔ تاہم، ان میں سے صرف 137 مریضوں کے ریکارڈ ہی مکمل طور پر دستیاب تھے، اور 83 فیصد کیسز میں بیماری کی بروقت تشخیص ممکن نہ ہو سکی۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جگر کے دیگر مسائل مثلاً فائبروسس، نان-الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز (این اے ایف ایل ڈی)، اور ہیپاٹوسیلولر کینسر کی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق لِیور میٹنگ کے دوران پیش کی جائے گی، جس کا انعقاد امریکن ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف لیور ڈیزیز کے تحت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت جگر کی بیماریوں کی تشخیص میں ایک نیا انقلابی قدم ہے، جو مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OSdUbpy

جمعہ، 15 نومبر، 2024

اسرو نے مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے ملایا ہاتھ، امریکہ سے لانچ ہوگا ہندوستانی سیٹلائٹ جی سیٹ-20

ہندوستانی خلائی ایجنسی 'اسرو' نے مشہور صنعت کار ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خاص دوست اور دنیا کے امیر ترین کاروباری ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اگلے ہفتہ کی شروعات میں فالکن 9 راکیٹ سے ہندوستان کے سب سے جدید مواصلاتی سیٹلائٹ جی سیٹ-20 (جی سیٹ این-2) کو خلا میں لے جائے گی۔

اسرو اور اسپیس ایکس کے درمیان کئی سودے ہوئے ہیں۔ جی سیٹ-این2 کو امریکہ کے کیپ کینا ویرل سے لانچ کیا جائے گا۔ یہ 4700 کلوگرام کا سیٹلائٹ ہندوستانی راکیٹوں کے لیے بہت وزنی تھا، اس لیے اسے غیر ملکی کمرشیل لانچ کے لیے بھیجا گیا۔ ہندوستان کا اپنا راکیٹ 'دی باہو بلی' یا لانچ وہیکل مارک-3 زیادہ سے زیادہ 4000 سے 4100 کلو گرام تک کے وزن کو خلائی مدار میں لے جا سکتا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان اب تک اپنے زیادہ وزنی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کے لیے ایرین اسپیس پر منحصر تھا، لیکن حال میں اس کے پاس کوئی بھی چالو راکیٹ نہیں ہے اور ہندوستان کے پاس واحد قابل اعتماد متبادل اسپیس ایکس کے ساتھ جانا تھا کیونکہ یوکرین جنگ کے سبب روس بھی اپنے راکیٹ کو کاروباری طور پر لانچ کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس سے اپنا سیٹلائٹ بھیجنے کے لیے انہیں اچھی ڈیل ملی ہے۔ اسپیس ایکس اپنے طاقتور راکیٹ فالکن سے ہندوستانی سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجے گا۔

اسرو کے ذریعہ تیار جی سیٹ این-2 سیٹلائٹ 14 سال تک کام کرے گا۔ یہ ایک تجارتی لانچ ہے۔ اس سیٹلائٹ کی مدد سے ہندوستان میں نیٹ ورک بہتر ہوگا اور ہوائی خدمات کے دوران بھی انٹرنیٹ کنکٹیویٹی مل سکے گی۔ ایسا اندازہ ہے کہ جی سیٹ این-2 کی لانچنگ میں فالکن 9 راکیٹ کے اس کمرشیل لانچ پر 6 سے 7 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ایلن مسک کے سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ خدمات میں اسٹار لنک کو لائسنس دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IBFkCra

منگل، 12 نومبر، 2024

کمزور نظر آنے والی تصویر وائرل ہونے پر سنیتا ولیمس کی صحت کے بارے میں وضاحت

خلا میں کئی مہینوں سے پھنسی ہند نژاد امریکی خؒلا باز سنیتا ولیمس کی صحت کو لے کر کافی باتیں ہونے لگی ہیں۔ جب سے ایک تصویر جاری ہوئی ہے جس میں ان کے گال دھنسے ہوئے ہیں اور وہ کافی کمزور دکھائی دے رہی ہیں، تب سے ہی ان کے تئیں لوگوں کی فکر بڑھ گئی ہے۔ اس درمیان خبر ہے کہ خود سنیتا ولیمس نے اپنی صحت کے سلسلے میں اَپڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی ایسی تصویر کی وجہ بھی بتائی ہے۔

ہندوستان ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق ولیمس نے اپنی تازہ صحت کی وجہ فلوئڈ شفٹس کو بتایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی صحت کے بارے میں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

منگل کو نیو انگلینڈ اسپورٹس نیٹ ورک کلب ہاؤس کڈس شو سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا "ساتھیوں! خلا میں آپ جانتے ہیں کہ ان کے سر تھوڑے بڑے لگنے لگتے ہیں، کیونکہ فلوئڈس جسم کے ساتھ یکساں طور سے پھیل جاتے ہیں"۔ انہوں نے آگے کہا کہ وہ پہلے کی طرح ہی صحت مند ہیں اور وزن میں بھی کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں طویل وقت تک رہنے کے بعد ان کا وزن بڑھ گیا ہے اور ساتھ ہی جانگھیں بھی تھوڑی بڑھ گئی ہیں۔

ناسا کے ترجمان جمی رسل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ "ناسا کے سبھی خلاباز کی مستقل طبی جانچ ہوتی ہے، ان کے پاس فلائٹ سرجن ہوتے ہیں جو ان کی نگرانی کرتے ہیں اور ان سبھی کی صحت بہتر ہے۔" حالانکہ ولیمس کے مشن میں سیدھے طور پر شامل رہے ناسا کے ایک ملازم نے دعویٰ کیا تھا کہ خلاباز مسافر کا وزن کافی کم ہو گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9H1SpCA