پیر، 30 دسمبر، 2024

امریکہ کے ٹریزری ڈیپارٹمنٹ پر چینی ہیکرز کا حملہ، کئی دستاویزات کی چوری

واشنگٹن: چینی ہیکرز نے امریکی ٹریزری ڈیپارٹمنٹ کو ہیک کر کے کئی ورک اسٹیشن اور غیر درجہ بند دستاویزات تک رسائی حاصل کر لی۔ 8 دسمبر کو ہونے والے اس سائبر حملے میں ہیکرز نے ایک تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر پرووائیڈر کی سکیورٹی میں خامیاں تلاش کیں اور سسٹم میں دراندازی کی۔ امریکی حکام نے اس حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اسے ایک سنگین سائبر سکیورٹی واقعہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر پرووائیڈر بایونڈ ٹرسٹ نے ٹریزری ڈیپارٹمنٹ کو اطلاع دی کہ ہیکرز نے ان کی سکیورٹی کو بائی پاس کرتے ہوئے کئی ورک اسٹیشنز کا ریموٹ ایکسیس حاصل کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق، ہیکرز نے سسٹم میں دراندازی کرنے کے بعد، سکیورٹی کی ایک ’کی‘ چُرا لی تھی جو سرورز کی حفاظت کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

اس حملے کے بعد، ٹریزری ڈیپارٹمنٹ نے فوری طور پر متاثرہ سسٹمز کو آف لائن کر دیا تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔ وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ہیکرز کے پاس وزارت خزانہ کی معلومات تک مسلسل رسائی ہو، مگر یہ حملہ ایک سنگین سائبر سکیورٹی خلاف ورزی سمجھی جا رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد، امریکی ایجنسیوں بشمول ایف بی آئی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سائبر حملہ ایک منظم اور پیچیدہ حملہ تھا جس میں ہیکرز نے کسی خاص مقصد کے تحت سرکاری سسٹمز میں دراندازی کی۔ اس حملے نے امریکی حکام کو اپنی سائبر سکیورٹی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور یہ ان کی سائبر دفاعی حکمت عملی کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔

اس حملے میں کس قسم کی معلومات تک رسائی حاصل کی گئی، اس بارے میں حکام نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تاہم، ٹریزری ڈیپارٹمنٹ نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ ہیکرز کے پاس کوئی ایسی معلومات نہیں ہیں جو عوام یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔ حکام نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئندہ اس طرح کے حملے نہ ہوں اور ان کے سسٹمز کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔

اس واقعے نے امریکہ اور چین کے درمیان سائبر حملوں کے حوالے سے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین کی جانب سے کیے گئے متعدد سائبر حملوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں امریکی حکومت کے اہم اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ایک اور بڑے حملے میں چین کے جاسوسوں نے امریکی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نیٹ ورک کو ہیک کیا تھا، جس میں کئی حساس معلومات چین کے حکام تک پہنچیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JH71Elg

اِسرو نے ’اسپیڈیکس‘ لانچ کر رقم کی تاریخ، ہندوستان اب امریکہ، روس اور چین کے ایلیٹ کلب میں شامل

سال 2024 کے اختتام سے ٹھیک ایک دن قبل اِسرو نے خلائی سائنس کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ شری ہری کوٹا سے پی ایس ایل وی-سی 60 راکیٹ سے 2 چھوٹے اسپیس کرافٹ لانچ کیے گئے ہیں، اور یہ پہلی مرتبہ ہوگا جب اِسرو کے ذریعہ ارض سے 470 کلومیٹر اوپر 2 راکیٹس کی ڈاکنگ اور اَن ڈاکنگ کا عمل انجام دیا جائے گا۔ یعنی ہزاروں کلومیٹر کی رفتار سے اڑتے ہوئے 2 اسپیس کرافٹ کو پہلے جوڑا جائے گا، اور پھر انھیں علیحدہ کیا جائے گا۔

ہندوستان اس مشن کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے کے بعد امریکہ، روس اور چین کے ایلیٹ کلب میں شامل ہو گیا ہے۔ اِسرو کے اس مشن کا نام ’اسپیس ڈاکنگ ایکسپریمنٹ‘ یعنی ’اسپیڈیکس‘ (SpaDex) دیا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ اِسرو نے اب اس ڈاکنگ سسٹم پر پیٹنٹ بھی لے لیا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ عام طور پر کوئی بھی ملک ڈاکنگ اور اَن ڈاکنگ کی پیچیدہ باریکیوں کو شیئر نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اِسرو کو اپنا خود کا ڈاکنگ میکنزم بنانا پڑا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ خلا میں خود کا خلائی اسٹیشن بنانے اور چندریان-4 کی کامیابی کا خواب اسپیڈیکس مشن پر مرکوز ہے۔ اس مشن میں 2 اسپیس کرافٹ شامل ہیں۔ ایک کا نام ٹارگیٹ یعنی ہدف ہے، جبکہ دوسرے کا نام چیزر یعنی پیچھا کرنے والا ہے۔ دونوں کا وزن 220 کلوگرام ہے۔ پی ایس ایل وی-سی60 راکیٹ سے 470 کلومیٹر کی اونچائی پر دونوں اسپیس کرافٹ کو الگ الگ سمت میں لانچ کیا گیا۔ آگے بڑھتے ہوئے ٹارگیٹ اور چیزر کی رفتار 28 ہزار 800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی۔

بتایا جا رہا ہے کہ لانچ کے تقریباً 10 دنوں بعد ڈاکنگ کا عمل شروع ہوگا۔ یعنی ٹارگیٹ اور چیزر کو آپس میں جوڑا جائے گا۔ تقریباً 20 کلومیٹر کی دوری سے چیزر اسپیس کرافٹ تیزی کے ساتھ ٹارگیٹ اسپیس کرافٹ کی طرف بڑھے گا۔ اس کے بعد یہ دوری گھٹتے ہوئے 5 کلومیٹر تک پہنچے گی، پھر ڈیڑھ کلومیٹر ہوگی، اس کے بعد 500 میٹر، اور اسی طرح دھیرے دھیرے قریب ہوتے ہوئے دونوں اسپیس کرافٹ (ٹارگیٹ اور چیزر) آپس میں جڑ جائیں گے۔

جب چیزر اور ٹارگیٹ کے درمیان کی دوری 3 میٹر ہوگی، تب ڈاکنگ یعنی دونوں اسپیس کرافٹ کے آپس میں جڑنے کا عمل شروع ہوگا۔ چیزر اور ٹارگیٹ کے جڑنے کے بعد الیکٹریکل پاور ٹرانسفر کیا جائے گا۔ اس پورے عمل کو زمین سے ہی کنٹرول کیا جائے گا۔ اِسرو کے لیے یہ مشن ایک بہت بڑا تجربہ ہے، کیونکہ مستقبل کے خلائی پروگرام کا انحصار اس مشن پر ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ جب ایک ہی مشن کو کئی مراحل میں لانچ کیا جاتا ہے تو یہ تکنیکی لازمی ہوتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/t23H1re

اتوار، 29 دسمبر، 2024

آن لائن جرائم پر بین الاقوامی کنونشن منظور

آن لائن جرائم کی روک تھام اور دنیا بھر کے لوگوں کو ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سائبر جرائم کے خلاف کنونشن منظور کر لیا ہے ۔ یہ کنونشن رکن ممالک کی پانچ سالہ کوششوں کے بعد طے پایا گیا۔ اس کے اصول و ضوابط طے کرنے میں سول سوسائٹی، اطلاعاتی تحفظ کے ماہرین اور تعلیمی و نجی شعبے سے آرا بھی لی گئیں ۔ یہ فوجداری انصاف کا پہلا عالمی معاہدہ ہے جس پر تقریباً 20 سال سے بات چیت جاری تھی۔ آئندہ سال ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں اس پر دستخط کیے جائیں گے۔ 40 ممالک کی جانب سے توثیق ملنے کے تین ماہ بعد یہ باقاعدہ طور سے نافذالعمل ہو جائے گا۔ اس کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک اس پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے 24 دسمبر کو اس کنونشن سے متعلق قرارداد کو بغیر رائے شماری کے منظور دے دی۔ یہ کنونشن اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے جنم لینے والے نمایاں خطرات کو تسلیم کرتا ہے جسے جرائم پیشہ عناصر غیرمعمولی حجم، رفتار اور وسعت کی حامل مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے کام میں لا سکتے ہیں۔ اس میں ریاستوں، کاروباروں اور معاشرے پر ایسے جرائم کے انتہائی منفی اثرات کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ کنونشن میں دہشت گردی، انسانوں اور منشیات کی اسمگلنگ اور آن لائن مالیاتی جرائم سے لاحق خطرات اور ان سے تحفظ کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ کنونشن کے مطابق سائبر جرائم کے مقابل غیرمحفوظ لوگوں کے لیے انصاف کو ترجیح دینا بہت ضروری ہے، لہٰذا آن لائن جرائم کے خلاف تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی معاونت، صلاحیتوں میں اضافے اور ممالک کے مابین تعاون کو بڑھانا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے مطابق یہ معاہدہ سائبر جرائم کی روک تھام اور ان کا مقابلہ کرنے کی غرض سے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ممالک کے اجتماعی عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنائے گا۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اس معاہدہ میں شمولیت اختیار کریں اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ بعد ازاں ان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے سے رکن ممالک کو جرائم سے متعلق معلومات اور ثبوتوں کے تبادلے، متاثرین کی حفاظت اور جرائم کی روک تھام اور آن لائن دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کا غیرمعمولی پلیٹ فارم میسر آئے گا۔

جدید اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا انسانی ترقی میں نہایت اہم کردار ہے لیکن اس کے ذریعے سائبر جرائم کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے نئے کنونشن کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے رکن ممالک کو ان جرائم کی روک تھام کے ساتھ عوام کے حقوق کے آن لائن تحفظ کی غرض سے بین الاقوامی تعاون کے ذرائع میسر آئیں گے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ ولی کے مطابق یہ کنونشن بچوں کے جنسی استحصال، جدید طریقوں سے کیے جانے والے آن لائن فراڈ اور منی لانڈرنگ جیسے سائبر جرائم سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ اس ضمن میں ان کا ادارہ تمام ممالک کو اس کنونشن پر عملدرآمد میں مدد دینے اور انہیں اپنی معیشتوں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کو سائبر جرائم سے تحفظ کے لیے درکار تمام ذرائع مہیا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

قبل ازیں، سعودی عرب نے دسمبر کے وسط میں ریاض میں 19ویں انٹرنیٹ گورننس فورم کی میزبانی کی۔ اس موقع پر، مصنوعی ذہانت کی ماہر محترمہ ایوانا بارٹولیٹی نے رائے دی کہ کمپنیوں اور حکومتوں کو مصنوعی ذہانت کے آلات و مصنوعات کے ممکنہ غلط استعمال سے افراد کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے۔ وہ ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی وپرو کی گلوبل چیف پرائیویسی اور اے آئی گورننس آفیسر، اور کونسل آف یورپ کی مشیر اور ویمن لیڈنگ ان اے آئی نیٹ ورک کی شریک بانی ہیں۔

ایک انٹرویو میں، انہوں نے خواتین اور عالمی جنوب کی جانب سے اے آئی صنعت میں نمائندگی کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ یورپ میں اس صنعت میں کام کرنے والوں میں سے صرف 28 فیصد خواتین ہیں۔ ہر اے آئی پروڈکٹ ایسے عناصر پر مبنی ہوتا ہے جنہیں لوگ منتخب کرتے ہیں۔ لہذا، کافی خواتین اور تنوع کا نہ ہونا مسئلہ کا باعث ہے۔ لیکن یہ صرف زیادہ خواتین کوڈرز اور پروگرامرز رکھنے کا معاملہ نہیں ہے، یہ ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جو مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ اے آئی اور ٹیکنالوجی میں جانے کے بہت سے طریقے ہیں، اور ضروری نہیں کہ وہ کوڈر ہی بنیں۔

بارٹولیٹی نے دعوی کیا کہ جس طرح سے ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے وہ غیر جانبدار نہیں ہے کیونکہ کوئی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا ڈیٹا شامل کرنا ہے۔ لہذا، اے آئی کی طرف سے کی گئی پیشین گوئیاں غیر جانبدار نہیں ہیں۔ ہمیں اے آئی کی گورننس، آڈیٹنگ، تحقیقاتی صحافت کے لیے خواتین کے علاوہ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا غلط ہو رہا ہے۔

اے آئی سسٹم کی منصفانہ اور شفاف طریقے سے تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف حکومتوں، نجی شعبے، بڑی ٹیک کمپنیوں، کارپوریٹس اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون جاری ہے ۔ لیکن مزید اقدام کی ضرورت ہے، کیونکہ مستقبل میں درستگی اور شفافیت ایک قانونی ضرورت بن سکتی ہے۔ ہر ملک کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اے آئی معاشرے میں موجودہ عدم مساوات کو بڑھاوا نہ دے، یا انٹرنیٹ کو مزید غیر محفوظ نہ بنا دے، جہاں جعلی ویڈیوز، تصاویر اور غلط معلومات پھیلانا بہت آسان ہے۔ اس تناظر میں، اسکولوں میں تعلیم اور اے آئی خواندگی ایک تنقیدی ذہنیت کو تیار کرنے کے لیے اہم ہیں۔ لیکن لوگوں کو یہ بتانا کہ وہ اپنی آن لائن حفاظت کے لیے خود ذمہ دار ہیں سراسر ناانصافی ہے۔ بارٹولیٹی نے تسلیم کیا کہ اے آئی خواندگی بہت اہم ہے، لیکن ذمہ داری مصنوعات بنانے والی بڑی ٹیک کمپنیوں اور ان مصنوعات کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے والی حکومتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hCwmuLK

ہفتہ، 21 دسمبر، 2024

’اِسرو‘ اور ’ایسا‘ کے درمیان ایک بڑے معاہدہ پر ہوا دستخط، خلائی تحقیق میں مل کر کام کرنے کا راستہ ہموار

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) اور یوروپی خلائی ایجنسی (ایسا) کے درمیان خلائی شعبہ میں ایک بڑا اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ ہفتہ کے روز اِسرو نے اس سلسلے میں جانکاری دی اور بتایا کہ اس معاہدہ کے تحت خلائی مسافر تربیت، مشن پر عمل درآمد اور تحقیقی تجربات سے متعلق سرگرمیوں پر تعاون کیا جائے گا۔ اس معاہدہ پر اِسرو چیف ایس. سومناتھ اور ایسا ڈائریکٹر جوسف ایشبیچنر نے دستخط کیے۔

اِسرو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس معاہدہ کے تحت دونوں ایجنسیاں انسانی تلاش و جستجو اور تحقیق میں تعاون کریں گی۔ خصوصاً خلائی مسافر تربیت، تجربات، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ایسا کی سہولیات کا استعمال، انسان اور بایو میڈیکل ریسرچ تجربات پر عمل درآمد، ساتھ ہی تعلیم و عوامی بیداری کی سرگرمیوں پر مل کر کام کیا جائے گا۔ جاری بیان میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ’ایکسیوم-4‘ مشن میں اِسرو کے گگن یاتری اور ایسا کے خلائی مسافر شامل ہیں۔ اس مشن میں ہندوستانی سائنسدانوں کے ذریعہ کی گئی کچھ تحقیق کا استعمال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کیا جائے گا۔

اس موقع پر سومناتھ نے کہا کہ اِسرو نے انسانی خلائی پرواز کے لیے ایک خاکہ تیار کیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان اپنے سودیشی خلائی اسٹیشن بی ایس ایس (بھارتیہ انترکش اسٹیشن) بھی بنانے جا رہا ہے اور اس سے ایسا کے ساتھ تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔ علاوہ ازیں ایسا ڈائریکٹر ایشبیچنر نے اس معاہدے کو دونوں ایجنسیوں کے لیے بہت اہم بتایا اور اِسرو کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدہ سے دونوں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EuPwtKf

پیگاسس معاملہ: امریکی عدالت نے ہیکنگ کے لیے این ایس او گروپ کو قصوروار قرار دیا، وہاٹس ایپ کی ہوئی جیت

پیگاسس معاملے میں وہاٹس ایپ کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ این ایس او گروپ ٹیکنالوجی کو ہیکنگ کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کو آیا اور اسے 'میٹا' کے میسجنگ ایپ کے ذریعہ 2019 میں امریکہ میں دائر ہائی پروفائل مقدمے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ اسپائی ویئر متاثرین کے لیے بھی بڑی جیت ہے۔

واضح ہو کہ پیگاسس شروع سے ہی کسی فون یا الیکٹرونک ڈیوائس پر خفیہ طریقے سے نظر رکھنے اور جانکاریاں جمع کرنے کے لیے جانا جاتا ہے اور اس اسپائی ویئر کا اس دوران وہاٹس ایپ کے ذریعہ لوگوں سے جڑی جانکاری چرانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

اس معاملے کی سماعت کے دوران یو ایس ڈسٹرکٹ جج فلیس ہیملٹن نے وہاٹس ایپ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے این ایس او گروپ کو ریاست اور وفاقی ہیکنگ قوانین کی خلاف ورزی کے لیے قصوروار قرار پایا۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ این ایس او گروپ نے وہاٹس ایپ کی خدمات شرائط اور امریکی کمپیوٹر فراڈ اور ابیوز ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے اس سافٹ ویئر کو بنانے والی کمپنی اور اس کے مالک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جج ہیملٹن نے کہا کہ این ایس او گروپ نے قانونی عمل میں خلل پیدا کی ہے۔ ایسا اس لیے بھی کیونکہ اس نے وہاٹس ایپ کو اسپائی ویئر کا سورس کوڈ نہیں دیا ہے۔ جبکہ عدالت نے اسے 2024 کی شروعات تک یہ کوڈ دینے کے لیے کہا تھا۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ عدالت کے حکم کے بعد بھی کمپنی نے کوڈ یہاں نہیں دیا اور اس کی بجائے کمپنی نے کوڈ کو صرف اسرائیل میں دستیاب کرایا اور اس کا جائزہ صرف اسرائیلی شہریوں تک محدود رکھا۔ ہمارے مطابق یہ پوری طرح سے اصول کے خلاف ہے۔

امریکی عدالت کے اس فیصلے سے یہ تو صاف ہو گیا ہے کہ پیگاسس آج کے دور میں کسی کے بھی موبائل میں گھس کر ضروری معلومات نکال سکتا ہے۔ ساتھ ہی جس طرح سے اسپائی ویئر کو بنانے والی کمپنی نے امریکی عدالت کی بات نہ مانتے ہوئے متعلقہ کوڈ میٹا کو دستیاب نہیں کرایا، اس سے یہ بھی صاف ہو جاتا ہے کہ پیگاسس کسی بھی ملک کے قانون اور وہاں کی عدالت کے حکم کو اپنے اوپر نافذ نہیں کرتا ہے۔ امریکی عدالت کے ذریعہ قصوروار قرار دیے جانے کے بعد اب دنیا کے کئی ملک بھی پیگاسس پر اپنی نظر رکھیں گے اور ذرا بھی شبہہ ہونے پر وہ اس کی جانچ کرانے کے لیے امریکی عدالت کے حکم کو بنیاد بنا سکتے ہیں.



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IFK7ZOl

بدھ، 18 دسمبر، 2024

ناسا نے سنیتا ولیمس اور بچ ولمور کی واپسی میں مزید تاخیر کی تصدیق کی، فروری میں زمین پر واپس آنا ممکن نہیں

ہند نژاد امریکی خلا باز سنیتا ولیم کی خلا سے واپسی ایک بار پھر ٹل گئی ہے۔ اس سلسلے میں خلائی ایجنسی 'ناسا' نے منگل کو ایک اَپڈیٹ جاری کیا۔ اس کے مطابق خلا سے انہیں واپس لانے کے مشن میں مزید تاخیر ہوگی۔ اب انہیں کم سے کم مارچ کے آخر تک وہیں رہنا ہوگا۔ واضح ہو کہ گزشتہ کئی مہینوں سے سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی بُچ ولمور انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ دونوں فروری میں زمین پر لوٹنے والے تھے۔

سینئر خلا باز سنیتا ولیمس اور بُچ ولمور جون میں بوئنگ کے اسٹار لائنر اسپیس کرافٹ پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ یہ مشن صرف 8 دن کا تھا لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اسٹار لائنر میں تکنیکی خرابی آ گئی اور ان کی واپسی نہیں ہو سکی۔ اب 'ناسا' نے اپنے ایک بلاگٹ پوسٹ میں واپسی کے لیے مزید انتظار کرنے کی خبر دی ہے۔ اس سے 8 دنوں کا یہ مشن 9 مہینے سے زیادہ کا ہو جائے گا۔

سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی کی واپسی کے لیے ایک دوسرا طیارہ خلا میں بھیجا گیا تھا۔ کرو-9 کے دو خلائی مسافر ستمبر میں ڈریگن اسپیس کرافٹ کے ذریعہ آئی ایس ایس پہنچے تھے۔ اس میں سنیتا ولیمس اور ولمور کے لیے دو خالی سیٹیں تھیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ فروری 2025 میں چاروں واپس گھر لوٹ آئیں گے۔ حالانکہ 'ناسا' نے منگل کو کہا کہ کرو-10 جو کہ کرو-9 اور ان دونوں خلائی مسافروں کو لے کر آئے گا، اب مارچ 2025 سے پہلے لانچ نہیں ہو پائے گا۔

وہیں پیر کو سنیتا ولیمس بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرسمس مناتی ہوئی نظر آئی تھیں۔ 'ناسا' نے اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر ساجھا کی تھیں، جس سے سنیتا ولیمس کے مداحوں کو کافی خوشی ہوئی تھی۔ اب لوگوں کو سنیتا ولیمس کی خلا سے زمین پر جلد سے جلد واپسی کا انتظار ہے، حالانکہ ان کا انتظار مزید طویل ہو گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EdesMBK

ہفتہ، 14 دسمبر، 2024

اوپن اے آئی کے ناقد ہند-امریکی انجینئر سُچیر بالاجی کی پراسرار موت، ایلون مسک کا اظہارِ افسوس

اوپن اے آئی پر سوال کھڑے کرنے والے ہند نژاد امریکی اے آئی ریسرچر سُچیر بالاجی کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی ہے۔ سین فرانسسکو کے بُچانن اسٹریٹ واقع فلیٹ میں 26 سال کے سُچیر کی لاش پائی گئی۔ سُچیر بالاجی 4 سال تک اوپن اے آئی کے ساتھ جڑے تھے۔ اس کے علاوہ وہ چَیٹ جی پی ٹی کے ڈیولپمنٹ کے لیے بھی کام کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اوپن اے آئی پر بڑے الزامات لگائے تھے۔

جانچ افسروں نے بتایا کہ سُچیر کو دوپہر قریب 1 بجے مردہ حالت میں پایا گیا۔ میڈیکل اکزامینر نے موت کی وجہ کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا ہے۔ پولیس نے صرف اتنا اشارہ دیا ہے کہ یہ قتل نہیں ہے بلکہ خودکشی کا معاملہ نظر آ رہا ہے۔ سُچیر کی موت سے ہر کوئی حیران ہے۔ دنیا کے امیر ترین کاروباری ایلن مسک نے بھی سچیر کی موت پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا 'ایکس' پر اپنے ایک پوسٹ میں ان کی تصویر ساجھا کرتے ہوئے غم کا اظہار کیا ہے۔ ویسے اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین کے ساتھ مسک کا بھی لمبے وقت سے تنازعہ چلا آ رہا ہے۔

واضح ہو کہ کچھ دنوں قبل سُچیر نے کہا تھا کہ چَیٹ جی پی ٹی کے لیے بغیر اجازت کے ہی پروگرامروں اور صحافیوں، فن کاروں کے کاپی رائٹ میٹیریل کا دھڑلے سے استعمال کیا گیا۔ اس سے ان کے کاروبار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ سُچیر کے اس بیان کے بعد اوپن اے آئی پر بڑے سوال کھڑے ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ قانونی طور پر بھی اوپن اے آئی مشکل میں آ گیا۔

23 اکتوبر کو نیو یارک ٹائمز کے انٹرویو میں سُچیر نے کہا تھا کہ اوپن اے آئے انٹرپرینیور اور کاروباریوں کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہی لگتا تھا کہ مجھے فوراً یہ کمپنی چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس انٹرویو کے لیے نیویارک ٹائمز ان کے پاس نہیں آیا بلکہ اتنا ضروری خلاصہ کرنے کے لیے انہوں نے خود میڈیا کو بلایا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lDGzFqS

منگل، 10 دسمبر، 2024

سال 2024: تاریخ کا سب سے گرم سال، قدرتی آفات میں اضافہ

یورپی یونین کی ’کاپرنکس کلائمیٹ چینج سروس‘ (سی3ایس) کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 کو تاریخ کا سب سے گرم سال قرار دیا گیا ہے۔ جنوری سے نومبر تک عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے (1850-1900) کے مقابلے میں 1.5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے قبل سال 2023 کو سب سے گرم سال کے طور پر مانا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ بڑھتی ہوئی گرمی انسان کی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

سال 2024 میں دنیا بھر میں قدرتی آفات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اٹلی اور جنوبی امریکہ کو شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ نیپال، سوڈان اور یورپ میں طوفانی بارشوں اور سیلابوں نے تباہی مچائی۔ میکسیکو، مالی اور سعودی عرب میں گرمی کی لہر کے باعث ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی طرح امریکہ اور فلپائن میں تباہ کن طوفانوں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

کاپر نکس کے ماہر جولیئن نکولس نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بڑھتا ہوا درجہ حرارت دنیا کو مزید خطرات سے دو چار کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق فوسل فیول کے استعمال اور کاربن کے اخراج کو کم کرنا از حد ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا ایک دن بھٹی کی مانند جل اٹھے گی۔

ماہرین کے مطابق، ماحولیاتی پیٹرنز جیسے ال نینو اور لا نینا درجہ حرارت کو متاثر کرتے ہیں۔ امپیریل کالج لندن کے ماہر فریڈرک اوٹو نے کہا کہ آئندہ سال لا نینا کی وجہ سے درجہ حرارت میں عارضی کمی کا امکان ہے، لیکن یہ معمول پر آنے کا اشارہ نہیں۔ آئندہ سالوں میں بھی ہیٹ ویو، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور طوفان جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ سال 2024 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ اگرچہ کئی ممالک نے اسے کم کرنے کا عزم کیا تھا لیکن ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/E7ho9iJ

ہفتہ، 7 دسمبر، 2024

تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ: ٹاپ-10 ممالک کی فہرست میں 3 مسلم ممالک سب سے آگے، امریکہ، جاپان اور چین کو بھی چھوڑا پیچھے

ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بغیر انٹرنیٹ کے آپ کوئی کام نہیں کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اس کی رفتار کی بھی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار سے متعلق حالیہ دنوں میں ورلڈ بینک نے ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والے ٹاپ-10 ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ٹاپ 10 ممالک میں سرفہرست ٹاپ 3 مسلم ممالک ہیں۔ متحدہ عرب عمارات فہرست میں پہلے درجہ پر ہے جبکہ قطر اور کویت بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر ہے۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں کہ تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے والے 10 سرفہرست ممالک کون کون ہیں۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق فہرست میں ٹاپ پر ہے متحدہ عرب عمارات (یو اے ای)۔ وہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 398.5 ایم بی پی ایس ہے۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر قطر ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 344.3 ایم بی پی ایس ہے۔ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر کویت ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 239.83 ایم بی پی ایس بتائی گئی ہے۔ چوتھے نمبر پر جنوبی کوریا ہے۔ وہاں کے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 141.23 ایم بی پی ایس ہے۔ فہرست میں پانچواں مقام نیدرلینڈ کو حاصل ہوا ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 133.44 ایم بی پی ایس ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 130.05 ایم بی پی ایس موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے ساتھ ڈنمارک نے فہرست میں چھٹی پوزیشن حاصل کی ہے۔ 128.77 ایم بی پی ایس کے ساتھ ناروے ساتویں نمبر پر ہے۔ سعودی عرب 122.28 ایم بی پی ایس موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے ساتھ آٹھویں مقام پر ہے۔ فہرست میں نویں مقام پر بلغاریہ ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 117.64 ایم بی پی ایس ہے۔ اس فہرست میں دسویں نمبر پر لکژمبرگ کو جگہ ملی ہے۔ وہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 114.42 ایم بی پی ایس ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1VYq0US

اسمارٹ فون اسکرین کے ’گرین لائن‘ مسئلے کے لیے ون پلس نے متعارف کرائی لائف ٹائم وارنٹی

موبائل کمپنی ’ون پلس‘ نے ہندوستان میں اپنے صارفین کے لیے اسمارٹ فونز کی اسکرینوں میں گرین لائن کے مسئلے کے لیے لائف ٹائم وارنٹی متعارف کرائی ہے۔ یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ ون پلس اپنے صارفین کی ضروریات اور ان کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اب تک اس بات کا سامنا کرنے والے صارفین کی تعداد زیادہ تھی جو اپنے ڈیوائسز میں ’گرین لائن‘ یعنی اسکرین پر سبز رنگ کی لائن دیکھنے کی شکایت کرتے تھے اور اس کو ٹھیک کرنے کے لیے انہیں اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یہ نیا اقدام ’گرین لائن-وری فری سلوشن‘ کے نام سے جانا جائے گا۔ اس کا مقصد اسکرین کی AMOLED پینلز کو زیادہ مستحکم اور محفوظ بنانا ہے۔ اس کے لیے ون پلس نے جدید پی وی ایکس مٹیریل استعمال کیا ہے جو اسکرین کے کناروں کو مزید مضبوط بناتا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ پانی اور آکسیجن جیسے عوامل سے بچاؤ بھی فراہم کرتا ہے جو اسکرین کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ اس نئے سسٹم کو ایک سخت معیار کی جانچ سے گزارا گیا ہے جس میں 85 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت اور 85 فیصد نمی کے تحت اسکرینز کو ٹیسٹ کیا گیا۔

ون پلس کی اس نئی حکمت عملی کا مقصد اپنے صارفین کے اعتماد کو مزید بڑھانا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ یہ لائف ٹائم وارنٹی خاص طور پر ہندوستانی مارکیٹ کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جہاں انتہائی گرم اور مرطوب موسم میں اسکرین کی خرابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ون پلس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رابن لیو نے اس پیش رفت کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کمپنی نے ہمیشہ سے ہی تکنیکی ترقی کے ذریعے صارفین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کہنا تھا، ’’ہم نے ہمیشہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپنی مصنوعات میں شامل کیا ہے تاکہ ہم اپنے صارفین کی توقعات پر پورا اتر سکیں۔‘‘

یہ وارنٹی اس وقت شروع کی جا رہی ہے جب ون پلس نے اپنے ’پروجیکٹ اسٹار لائٹ‘ کے تحت ہندوستانی مارکیٹ میں 6000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کے ذریعے کمپنی اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NBHZyP4

جمعرات، 5 دسمبر، 2024

جیریڈ آئزاک مین ہوں گے 'ناسا' کے نئے سربراہ، ٹرمپ نے باندھے تعریفوں کے پُل

امریکی انتخاب جیتنے والے ریپبلکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو 47ویں صدر کے طور پر حلف لیں گے۔ حلف برداری سے قبل انہوں نے کئی اہم محکموں کے سربراہوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ اب انہوں نے امریکہ میں 'ناسا' کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے جیریڈ آئزاک مین کو 'ناسا' کے سربراہ کے طور پر نامزد کیا ہے۔ جیرڈ آئزاک مین ٹرمپ کی نئی حکومت میں نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن یعنی ناسا کے سربراہ کے طور پر کام کریں گے۔

ٹرمپ نے 'ایکس' پر ایک پوسٹ کے ذریعہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ جیریڈ کو 'ناسا' کا سربراہ نامزد کرنے پر مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یہ ایک بہترین بزنس لیڈر، پائلٹ، ایسٹروناٹ اور ایک قابل رہنما ہیں۔ جیریڈ آئزاک مین نے 25 برس سے اینٹگریٹیڈ پمنٹس اور کامرس ٹیکنالوجی کمپنی شفٹ4 کے بانی اور سی ای او کے طور بخوبی اپنی خدمات انجام دی ہیں۔

ایک دہائی سے زیادہ وقت تک جیریڈ نے ڈریکن انٹرنیشنل کے سی ای او اور شریک بانی کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ یہ اپنی غیر معمولی صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پوسٹ میں بتایا کہ جیریڈ کو خلاء اور ریسرچ میں کافی دلچسپی ہے۔ ایک خلاباز کے طور پر ان کا تجربہ اور تندہی سے کام کرنا 'ناسا' کو بڑی اونچائیوں تک لے جائے گا۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر کی اہم ذمہ داری ملنے سے جیریڈ آئزاک مین کافی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناسا کی قیادت کرنے کے لیے وہ پُرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا "میرے آخری خلائی مشن پر میرے عملہ اور میں نے زمین سے کافی دور تک سفر کیا تھا۔ یہ اتنی زیادہ دوری تھی کہ جتنی گزشتہ نصف صدی میں کی ہوگی۔ انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ موجودہ وقت میں دوسرے خلائی عہد کی شروعات ہے۔ ایسے میں مینوفیکچرنگ، بایو ٹیکنالوجی، کھدائی اور شاید توانائی کے نئے ذرائع کے لیے کامیابی کے بہت سے امکانات ہیں۔

واضح ہو کہ امریکی ارب پتی صنعت کار جیریڈ کو خلا میں چلنے والے پہلے غیر پیشہ ور خلائی مسافر کا اعزاز حاصل ہے۔ پہلے خلائی مشن کے علاوہ 2021 میں انہوں نے زمین کا چکر لگانے والی پہلی پرائیویٹ اسپیس جیٹ فلائٹ میں ٹیم مینجمنٹ اور قیادت کی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/r4xFNZu