جمعرات، 22 جون، 2023

امریکہ میں فروخت ہو سکے گا لیبارٹری میں تیار چکن دو کمپنیوں نے حاصل کی منظوری

واشنگٹن: ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے پہلی مرتبہ دو کمپنیوں کو جانوروں کے خلیوں سے بنائے گئے چکن کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اجازت سے لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت صارفین کو پیش کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ایجنسی کے ایک ترجمان نے بدھ کو اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کے محکمہ زراعت نے اپسائیڈ فوڈز اور گڈ میٹ کی سہولیات پر فوڈ سیفٹی سسٹم کا جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی۔ ان دو کمپنیوں سے منسلک ریسٹورنٹس میں یہ مصنوعات جلد ہی دستیاب ہوں گی۔

دونوں کمپنیوں کو پہلے نومبر میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کلیئر کیا تھا ، پھر گزشتہ ہفتے یو ایس ڈی اے نے ان کے پروڈکٹ لیبلز کو کلیئر کر دیا تھا۔

اپسائیڈ فوڈز کی سی ای او اور بانی اوما والیتی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منظوری بنیادی طور پر اس بات کو بدل دے گی کہ گوشت ہماری میز پر کیسے آتا ہے۔ یہ زیادہ پائیدار مستقبل کی طرف ایک بڑا قدم ہے جو انتخاب اور زندگی کو محفوظ رکھتا ہے۔

’گُڈ میٹ‘ کے شریک بانی اور سی ای اور جوش ٹیٹرک نے بتایا کہ ہماری کمپنی 2020 میں سنگاپور میں لانچ ہوئی اور اب یہ دنیا میں کہیں بھی لیب میں تیار گوشت فروخت کرنے والی واحد کمپنی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/49wvyPf

بدھ، 21 جون، 2023

عالمی سطح پر میڈین موبائل اسپیڈ میں ہندوستان تین پائیدان اوپر چڑھا عالمی رینکنگ میں یو اے ای نمبر 1

ریلائنس جیو اور ایئرٹیل کی بدولت 5جی رول آؤٹ کے سبب ہندوستان مئی ماہ میں عالمی سطح پر میڈین موبائل اسپیڈ کے معاملے میں تین پائیدان چڑھ کر اپریل میں 59ویں مقام سے 56ویں مقام پر پہنچ گیا۔ نیٹورک انٹلیجنس اور کنکٹیویٹی اِنسائٹس پرووائیڈر اوکلا کے مطابق ہندوستان میں میڈین موبائل ڈاؤن لوڈ اسپیڈ اپریل میں 36.78 ایم بی پی ایس سے بڑھ کر مئی میں 39.94 ایم بی پی ایس ہو گئی۔

حالانکہ میڈین فکسڈ براڈبینڈ اسپیڈ میں ہندوستانی گلوبل رینکنگ میں ایک مقام نیچے آ گیا، اپریل میں 83ویں مقام سے مئی میں 84ویں مقام پر آ گیا۔ فکسڈ میڈین ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں ملک کا پرفارمنس اپریل میں 51.12 ایم بی پی ایس سے معمولی اضافہ کے ساتھ مئی میں 52.53 ایم بی پی ایس ہو گئی۔

یو اے ای میں گلوبل میڈین موبائل اسپیڈ سب سے زیادہ رہی، جبکہ ماریشس نے 11 رینک کی چھلانگ لگائی۔ مجموعی گلوبل فکسڈ میڈین اسپیڈ کے لیے بحرین نے رینک میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا۔ عالمی سطح پر 17 مقامات کی چھلانگ لگائی، ساتھ ہی سنگاپور اس مہینے بھی پہلے مقام پر رہا۔

فروری میں ہندوستان میڈین موبائل اسپیڈ میں عالمی سطح پر 66ویں مقام پر تھا، جبکہ مارچ میں ہندوستان 64ویں مقام پر تھا۔ چپ بنانے والی کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو افسر کرسٹیانو امون نے کہا کہ کوالکام ہندوستان میں لاکھوں باشندوں کی سروس کے لیے ریلائنس جیو کے تعاون سے 5جی فکسڈ وائرلیس ایکسس (ایف ڈبلیو اے) کو چالو کر رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/tfsirHV

منگل، 20 جون، 2023

گلوبل وارمنگ کے تباہ کن اثرات: ہندوستان و پاکستان میں طوفان کینیڈا کے جنگلات میں اگ

ماحولیاتی سائنس اور اَرضیات کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اس کرّۂ اَرض کے درپیش سنگین مسائل سے بخوبی واقف ہیں کہ فی زمانہ ہماری زمین، اس پر آباد تمام جانداروں کو قدرتی ماحول کے سنگین مسائل سے کیا کیا خدشات اور خطرات کا سامنا ہے۔ موسمی تبدیلیاں، زمینی، فضائی اور آبی آلودگی، شہروں میں آبادی کا بڑھتا ہوا دبائو، اوزون کی پرت میں ہونے والے شگاف، کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا مسئلہ، جنگلات کی کٹائی کے منفی اَثرات، جنگلی حیاتیات اور سمندری حیاتیات کی بتدریج تباہی، سمندروں کی سطح کا بلند ہونا، برفانی طوفان، موسلادھار بارشیں، خشک سالی، غذائی قلّت، بھوک، قحط سمیت دیگر مسائل ان میں شامل ہیں۔

امریکی صدر کنیڈی نے کہا تھا کہ ہمارے زیادہ مسائل اور مصائب کا خود انسان ذمہ دار ہے۔ ان مسائل کو انسان ہی کو حل کرنا ہوگا۔ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے 1960 کی دہائی میں آوازیں اُٹھنی شروع ہوئی اور ایک غیرسرکاری تنظیم ’گرین پیس‘کا قیام 1971ء کو ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں عمل میں آیا۔ اس تنظیم کے بنیادی اغراض و مقاصد میں عالمی امن، قدرتی ماحول کا تحفظ اور جوہری تجربات کا خاتمہ ہے۔

ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔گرین ہاؤس گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین، نائٹرس آکسائیڈ اور پانی کے بخارات شامل ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں بے تحاشہ اضافہ گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے جس کے زیر اثر موسمیاتی تبدیلی کے سبب ہمیں سیلاب اور جنگل کی آگ جیسے واقعات کے خطرے کا سامنا رہتاہے ۔ اس سے یہ امکان بھی بڑھ جاتا ہے کہ ایک ہی موسم میں متعدد آفات رونما ہو سکتی ہیں۔

سمندری طوفان بپرجوائے گزشتہ جمعرات کی شام پاکستان اور ہندوستان سے ٹکرایا جس کے بعد دونوں ممالک کے ساحلی علاقے اور صوبے تیز بارش اور تیز ہواؤں کی لپیٹ میں ہیں۔ بپرجوائے کی تباہ کاریاں ابھی تک جاری ہیں اور اس نے ہندوستانی صوبوں بالخصوص گجرات و راجستھان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری جانب آگ موسم گرما کا ایک بڑا خطرہ ہے .ہر موسم گرما میں جنگل کی آگ آسٹریلیا سے کینیڈا تک سرخیوں میں آتی ہےجو لاکھوں ایکڑ جنگل کو تباہ کرتی ہے۔ اس وقت کینیڈا ساحل سے ساحل تک آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ہزاروں افراد کو نکالا جا چکا ہے، لاکھوں فضائی آلودگی کا شکار ہیں، یہاں تک کہ نیویارک میں بھی دم گھٹ رہا ہے۔گزشتہ سالوں میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب، بحرالکاہل کے جزیروں میں آنے والے طوفان اور افریقہ میں خشک سالی، عالمی سطح پر کسی کارروائی کا نقطہ آغاز پیدا نہیں کرسکے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ’دی گارجین‘ نے سوال کیا ہے کہ اب جب کہ آب و ہوا کے اثرات مغربی طاقت کو متاثر کر چکے ہیں، کیا یہ عالمی شمال میں حکومتوں کو سنجیدہ ہونے کی ترغیب دے گا؟ مزید یہ کہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سائنسی معلومات کی کمی رکاوٹ نہیں ہے۔ اور نہ ہی صاف ستھرے، محفوظ، سستے توانائی کے متبادل کی کمی ہے۔بلکہ جیسا (IPCC – Intergovernmental Panel on Climate Change) یا موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل نے پچھلے سال کہا تھا - رکاوٹ فوسل فیول کے مفادات پر منحصر ہے جو اپنے منافع کو عوام کی حفاظت سے اوپر رکھتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر، بڑے تیل کی کمپنیاں کئی دہائیوں سے آب و ہوا کی بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پیرس معاہدے میں فوسل فیول، تیل، گیس یا کوئلہ کے الفاظ شامل ہی نہیں ہیں۔ اور دوسری جانب دنیا 2030 تک 110 فیصد زیادہ تیل، گیس اور کوئلہ پیدا کرنے کی راہ پر گامزن ہے ۔ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے، تیل اور گیس کی کمپنیوں نے سچائی میں خلل ڈالا ہے اور ترقی کو روکا ہے۔ انہوں نے عوام کو قائل کرنے کے لیے PR مہموں پر لاکھوں خرچ کیے ہیں کہ فوسل فیول کو پھیلانا محفوظ، معقول اور ناگزیر ہے اور یہ کہ فوسل فیول کا متبادل مسائل کا شکار اور ناقابل اعتبار ہیں۔ اور یہ پروپگنڈا کامیاب بھی ہے۔

دنیا کو فوسل فیول کی پیداوار اور اخراج کو مرحلہ وار ختم کرنے کے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ اور اس میں امیر فوسل فیول پیدا کرنے والے ممالک کو عالمی جنوب کے ممالک کو صاف توانائی کی منتقلی میں مدد کرنی چاہیے تاکہ یہ تیز رفتار اور منصفانہ طریقے سے ہو سکے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تیل، گیس اور کوئلہ ہمیں جلا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 101 نوبل انعام یافتہ اور 3000 سے زیادہ سائنسدان فوسل فیول کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر زور دے رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/b9hKgGS

پیر، 5 جون، 2023

اسٹرابیری چاند پوری دنیا میں رات کے آسمان کو روشن کرتا ہے۔ تصویریں دیکھیں


 

دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شاندار اسٹرابیری پورے چاند کے حیرت انگیز نظارے کا علاج کیا گیا جو ہفتے کے آخر میں رات کے آسمان میں چمکتا تھا۔ اسٹرابیری مون، جسے روز چاند کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے اوپر، اسٹون ہینج کے پیچھے اور دیگر کئی مقامات پر لوگوں نے پکڑ لیا۔ انٹرنیٹ صارفین نے چمکتے چاند کی خوبصورت تصاویر شیئر کیں، جو کہ گلابی رنگ میں دکھائی دے رہا تھا اور رات کے آسمان پر چمکتا تھا



سی این این کے مطابق اسٹرابیری کے چاند کا جون کے مہینے میں پورے چاند کی رنگت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق قدیم روایات سے ہے۔ اس کا نام مقامی امریکی قبائل سے پڑا ہے "جون کے حامل 'اسٹرابیری کے پکنے کی نشانی کے لیے جو کہ جمع ہونے کے لیے تیار ہیں"، جیسا کہ دی اولڈ فارمرز ایلمانک کے مطابق، جو کہ نوٹ کرتا ہے، "جیسے جیسے پھول کھلتے ہیں اور ابتدائی پھل پکتے ہیں، جون ایک مہینہ ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے بڑی فراوانی کا وقت۔"

ہفتہ، 27 مئی، 2023

مصنوعی خوبصورتی کے لیے مصنوعی ذہانت: کتنی نقصان دہ؟

چہرے پر دانے، کیلیں، داغ، دھبے، سوراخ اور جلد کی کثافت وغیرہ، ہر انسان ان چیزوں سے آشنا ہے تاہم اب سوشل میڈیا نیٹ ورکس میں ان چیزوں کو جس طرح بڑھا چڑھا کر اور شدت سے پیش کیا جا رہا ہے اُس سے ان بے ضابطگیوں کو انسانوں کے لیے قابل فکر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب سوشل نیٹ ورک پر آپ کو اکثر بہت ہی خوبصورت بالوں، بے عیب جلد اور چمکتے سفید دانتوں کے ساتھ مسکراتے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ اس مصنوعی خوبصورتی کے پیچھے مصنوعی ذہانت کارفرما ہے ۔ یعنی مصنوعی ذہانت مصنوعی خوبصورتی بھی پیدا کرتی ہے۔

چہرے کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے کے لیے فلٹر پروگرامز کا استعمال عروج پر ہے اور حالیہ برسوں میں خود فلٹرز زیادہ سے زیادہ نفیس ہو گئے ہیں۔ چہرے کے کسی بھی نقص کو چھپانے سے لے کر چکنی جلد، چہرے کے دانوں کو غائب کرنے اور گھنی بھنووں تک فلٹر کا استعمال پورے چہرے کو بدل دیتا ہے اور ان سب چیزوں کو ممکن بناتا ہے۔

فیس ٹیون ایپ

اسرائیلی کمپنی لائٹ ٹرکس کی فیس ٹیون ایپ کو 200 ملین سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ تائیوان کے YouCam میک اپ اور سنگاپور کے BeautyPlus میں سے ہر ایک کے 100 ملین سے زیادہ ڈاؤن لوڈز ہیں۔ کچھ سال پہلے، صرف تصاویر کو بہتر بنایا جا سکتا تھا لیکن اس دوران خود کو فلمانے والے لوگوں کے چہروں کو بھی ویڈیوز میں اتنے نفیس اور جامع طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے کہ امیج پروسیسنگ مشکل سے ہی پہچانی جا سکتی ہے۔

دریں اثناء TikTok پر دو نئے فلٹرز نے ہلچل مچا دی۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے، ''ٹین ایجر نظرآنا‘‘ دوسری طرف ''بولڈ گلیمر‘‘ فلٹر آپ کے اپنے چہرے کو خوبصورت ہونٹوں، زیادہ چمکدار آنکھوں، پتلی ناک اور بے عیب جلد کے ساتھ ایک خوبصورتی کی مثالی تصویر میں تبدیل کردیتا ہے۔ ان نت نئے فلٹرز کی ایجاد ہونے سے پہلے چہرے کے آدھے حصے کو کبھی ڈھانپ کر اور کبھی برہنہ کر کے ان تبدیلیوں کو بے نقاب کیا جا سکتا تھا، لیکن اب ان نئے فلٹرز سے یہ ممکن نہیں رہا۔

ڈپریشن اور خود خیالی کا ڈس آرڈر

بہت سے صارفین کی نفسیات پر 'خود خیالی ڈس آرڈر‘ کے سنگین نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ برطانوی وائی ایم سی اے کی ایک تحقیق کے مطابق، دو تہائی نوجوان سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے خوبصورتی کا جو معیار پیش کیا جاتا ہے اُس سے شدید نفسیاتی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ برطانوی نوجوانوں کی تنظیم 'گرل گائیڈنگ‘ کے ایک سروے کے مطابق 11 سے 21 سال کی عمر کی تمام لڑکیوں میں سے تقریباً ایک تہائی اب اپنی کوئی غیر ترمیم شدہ تصویر پوسٹ نہیں کرنا چاہتیں۔

جرمن یوٹیوبر سلوی کارلسن کہتی ہیں،''یہ ایک شیطانی کھیل ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتی ہیں،''جیسے ہی ہم فلٹرز کے ساتھ عوامی طور پر ظاہر ہوتے ہیں، ہمیں پسندیدگیوں کی ایموجیز کی شکل میں مثبت فیڈ بیک ملتا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے اندر ڈوپامین تیزی سے گردش کر رہا ہے لیکن اگر ہم دیگرانسانوں کو بغیر فلٹر کے پمپلز یا دانوں ، چہرے کے دھبوں یا سیاہ حلقوں کے ساتھکو دکھائیں تو کیا ہوگا؟ کارلسن کہتی ہیں، ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے کہ ہم باہر کی دنیا کے سامنے اپنے چہرے کی بہترین شکل پیش کریں، یہ عمل ہمیں تباہ کر دیتا ہے۔‘‘

ریاستی ضابطے زیر بحث

مصنوعی ذہانت کی مدد سے مصنوعی خوبصورتی کے رجحان پر قابو پانے کے لیے کئی ریاستیں قانون سازی پر غور کر رہی ہیں۔ ناروے اور اسرائیل میں، پہلے سے ہی ان تصاویر کے لیے لیبلنگ لازمی ہے جن میں فلٹر کے ذریعے ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ فرانس میں ایسے ہی ا‍قدامات کے طور پر تصویر اور ویڈیو ریکارڈنگ کے لیے ایک مسودہ قانون تیار کیا گیا ہے اور وہاں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے انفلونسرز کو 300,000 یورو تک کا جرمانہ یا چھ ماہ کی قید کی سزا تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح کے ضوابط پر پہلے ہی سے برطانیہ میں بھی بحث کی جا رہی ہے تاہم جرمنی میں ابھی تک اس طرح کی کوئی قانونی شرط موجود نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/g8ocrVZ

جمعہ، 19 مئی، 2023

امریکی سپریم کورٹ نے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو اعانت ’داعش‘ کے الزام سے کیا بری

واشنگٹن: امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ جاری کرتے ہوئے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو داعش کی معاونت کے الزام سے بری کر دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تینوں بڑی کمپنیوں پر داعش کی معاونت کے الزام پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تین بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔

سپریم کورٹ نے اس قانون کے بارے میں وسیع تر بحث میں داخل ہوئے بغیر اپنا فیصلہ سنایا جس نے ٹیکنالوجی گروپوں کو ایک چوتھائی صدی تک ان کے آن لائن شائع کیے جانے والے مواد پر قانونی چارہ جوئی سے محفوظ رکھا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے دو الگ الگ مقدمات میں فیصلہ سنایا۔

پہلے مقدمے میں نومبر 2015 میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والی ایک نوجوان امریکی خاتون کے والدین نے یو ٹیوب کی پیرنٹ کمپنی گوگل کے خلاف شکایت درج کرائی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ وہ [یو ٹیوب] کچھ صارفین کو ویڈیوز تجویز کر کے داعش کے پھیلاؤ میں معاونت کر رہا ہے۔

دوسرے مقدمہ میں یکم جنوری 2017 کو استنبول کے ایک نائٹ کلب پر حملے کے شکار افراد کے لواحقین نے کہا تھا کہ فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل کو اس حملے میں "شامل" سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے اپنے پلیٹ فارمز سے ‘داعش’ کے لوازمہ ہٹانے کی ٹھوس کوششیں نہیں کیں۔

جسٹس کلیرنس تھامس نے عدالت کے متفقہ فیصلے میں لکھا کہ"حقیقت یہ ہے کہ برے عناصر ان پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ مدعا علیہان نے جان بوجھ کر خاطر خواہ مدد فراہم کی اور اس طرح ان تنظیموں کی مدد ہوئی۔"

انہوں نے لکھا کہ "ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شکایت کنندگان کے الزامات یہ ثابت کرنے کے لیے ناکافی تھے کہ مدعا علیہان نے داعش کو دہشت گردی میں مدد کرتے رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9mBVIsb

جمعہ، 28 اپریل، 2023

اسرائیل نے گائے کے بغیر لیباریٹری میں تیار دودھ کی فروخت کو منظوری دی

تل ابیب: اسرائیلی حکومت نے درست خمیر سے تیار کردہ دودھ اور ڈیری مصنوعات کے لیے اپنا پہلا مارکیٹنگ اور فروخت کا لائسنس جاری کیا ہے۔ اسرائیل انوویشن اتھارٹی (آئی آئی اے) نے جمعرات کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ مقامی فوڈ اسٹارٹ اپ ریملک کو ان روزمرہ کھانے کی اشیاء کی مارکیٹنگ کا لائسنس مل گیا ہے جن کے پروٹین اصلی دودھ کے پروٹین کی طرح ہیں۔

پنیر، دہی اور آئس کریم سمیت ڈیری مصنوعات بنانے کے لیے پروٹین کو وٹامنز، معدنیات اور غیر جانوروں کی چربی کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ ریملک کے مطابق، اس پیداواری عمل سے وہ کولیسٹرول اور لیکٹوز جیسے ناپسندیدہ اجزاء سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں اورمویشی پروری میں استعمال ہونے والے گروتھ ہارمونز اور اینٹی بائیوٹک سے پاک ہیں۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس عمل کے لیے روایتی ڈیری کے مقابلے زمین کے وسائل کا ایک حصہ درکار ہوتا ہے، جبکہ پیداوار میں کارکردگی میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوتا ہے۔ آئی آئی اے نے کہا، "یہ فوڈ ٹیکنالوجی کے میدان میں، اسرائیل اور دنیا دونوں میں ایک تاریخی دن ہے۔ حکومت کی طرف سے منظوری پوری اسرائیلی فوڈ ٹیکنالوجی مارکیٹ کے لیے بھی پہلا اور اہم سنگ میل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dT87HwU

ہفتہ، 8 اپریل، 2023

اے آئی کی مدد سے تخلیق کردہ تصاویر، اصل اور نقل کا فرق کسیے ہو؟

ایسی تصاویر بنانا اب سے پہلے کبھی آسان نہیں رہا جتنا اب ہے کہ حیران کن حد تک حقیقت سے قریب تر ہوں مگر جعلی ہوں۔ کوئی بھی فرد جس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہو اور جو آرٹیفیشل انٹلیجنس کا استعمال جانتا ہو وہ ایسی تصاویر چند سیکنڈز میں تخلیق کر سکتا ہے اور یہ تصاویر سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے وائرل ہو سکتی ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں ایسی کئی تصاویر وائرل ہوئی ہیں۔ جیسے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی گرفتاری یا جنرل موٹرز کی سی ای او میری بارا اور ایلون مسک کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کئی مثالوں میں سے فقط دو ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اے آئی سے تخلیق کردہ یہ دونوں تصاویر ایسے واقعات کو ظاہر کرتی ہیں جو کبھی رونما ہی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ فوٹوگرافروں نے بھی ایسے پورٹریٹ شائع کیے ہیں جو مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ تصاویر مضحکہ خیز ہو سکتی ہیں تاہم ڈی ڈبلیو نے جن ماہرین سے بات کی، ان کے مطابق یہ غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے لحاظ سے حقیقی خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن یا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سیاستدانوں کی گرفتاری دکھانے والی تصاویر کی تصدیق معتبر اور قابل بھروسا ذرائع سے فوراﹰ کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اے آئی کے ماہر ہنری اجڈر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ دیگر تصاویر کی حقیقت معلوم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جیسے کہ وہ تصاویر جن میں موجود لوگ اتنے معروف نہ ہوں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی کے ایک جرمن رکن پارلیمان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اے آئی کی مدد سے بنی ہوئی چیختے ہوئے مردوں کی تصویر پوسٹ کی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ ملک میں مہاجرین کی آمد کے خلاف ہے۔ اجڈر کے مطابق اے آئی کی مدد سے بنائی گئی صرف لوگوں کی تصاویر ہی غلط فہمی کا باعث نہیں بنتیں بلکہ ایسے واقعات اور حادثات کی تصاویر بھی سامنے آئے ہیں جو کبھی رونما ہی نہیں ہوئے۔ ایسا ہی کچھ 2001 میں ہوا جب یہ خبر عام ہوئی کہ امریکہ اور کینیڈا کے بحر الکاہل کے شمال مغربی علاقے میں زلزلہ آیا ہے اور اس حادثے نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔

تاہم یہ حادثہ کبھی پیش آیا ہی نہیں اور انٹرنیٹ پر لگائی گئی تصاویر اے آئی کی مدد سے تخلیق کی گئیں تھیں۔ اجڈر کے مطابق یہ زیادہ پریشانی کی بات ہے کیونکہ انسانی تصاویر کے مقابلے میں جگہوں کی تصاویر کے متعلق سچائی جاننا ایک مشکل امر ہے۔ تاہم بہت تیزی سے ترقی کرنے کے باوجود یہ اے آئی ٹولز بھی غلطیاں کر سکتے ہیں۔ اپریل 2023 تک مڈ جرنی، ڈال ای اور ڈیپ اے آئی جیسے پروگارمز میں کئی غلطیاں دیکھی گئی ہیں۔خصوصاﹰ ان تصاویر میں جن میں لوگ دکھائی دے رہے ہوں۔

ڈی ڈبلیو کی حقائق کی جانچ کرنے والی ٹیم نے کچھ تجاویز مرتب کی ہیں جن سے آپ کو یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا کوئی تصویر جعلی ہے یا نہیں۔ لیکن محتاط رہیں، اے آئی ٹولز اس تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہیں کہ یہ ٹپس صرف فوری طور پر ہی کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔

زوم ان کریں اور غور سے دیکھیں

اے آئی سے بنائی گئی بہت سی تصاویر پہلی نظر میں حقیقی لگتی ہیں۔ اس لیے ہمارا پہلا مشورہ، انہیں زوم کریں اور غور سے دیکھیں ہے۔ایسا کرنے کے لیے ہائی ریزولوشن والی تصویر کا انتخاب کریں۔ تصاویر کو زوم کرنے سے اس میں موجود غلطیاں واضح ہوں گی جو شاید پہلی نظر میں دکھائی نہ دی ہوں۔

’امیج سورس‘ تلاش کریں

اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ کوئی تصویر اصلی ہے یا اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے تو اس تصویر کا سورس تلاش کری‍ں۔ جہاں یہ تصویر سب سے پہلے شائع کی گئی تھی اس کے نیچے کیے گئے کمنٹس میں صارفین کے کمنٹس سے بھی آپ کو مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لیے آپ ریورس امیج سرچ ٹیکنیک کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے 'گوگل امیج ریورس سرچ‘ 'ٹن آئی‘ یا یانڈیکس جیسے ٹولز کا استعمال کر کے اس تصویر کی حقیقت جان سکتے ہیں۔

جسمانی ساخت پرتوجہ دیں

کیا تصویر میں دکھائے گئے لوگوں کے جسمانی ساخت میں کچھ گڑبڑ ہے؟ جب جسمانی ساخت کی بات آتی ہے تو اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں تضادات دکھنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہاتھ بہت چھوٹے یا انگلیاں بہت لمبی ہو سکتی ہیں۔ یا سر اور پاؤں باقی جسم سے میل نہیں کھاتے۔ یہی حال اوپر کی تصویر کا ہے، جس میں پوٹن کو شی جن پنگ کے سامنے گھٹنے ٹیکے دیکھا جا سکتا ہے لیکن پوٹن کا ایک جوتا بڑا اور چوڑا ہے۔

اے آئی کی غلطیوں پر نظر رکھیں

اے آئی کی عمومی غلطیوں میں انسانی ہاتھوں کی ساخت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مڈ جرنی جیسے پروگرام میں ہاتھ میں چھٹی انگلی کی موجودگی اس کی ایک مثال ہے۔ لیکن کیا آپ کو محسوس ہوا کہ پوپ فرانسس کی دائیں والی تصویر میں صرف چار انگلیاں ہیں؟ اور کیا آپ نے دیکھا کہ ان کی بائیں ہاتھ کی انگلیاں غیر معمولی طور پر لمبی ہیں؟ یہ تصاویر جعلی ہیں۔

اے آئی سے بنائی گئی تصاویر میں اور بھی بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں جسیے کے لوگوں کے معمول سے زیادہ دانت یا کانوں کی ایسی ساخت جو عجیب و غریب ہو۔ آپ پوٹن اور شی والی تصویر ایک بار پھر دیکھ لیں۔ تاہم، اے آئی کے ماہر ہنری اجڈر نے خبردار کیا ہے کہ مڈجرنی جیسے پروگراموں کے نئے ورژن ہاتھوں کی ساخت بہتر دکھانے کے قابل ہو رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ صارفین اس قسم کی غلطیوں پر تصاویر کو پرکھنے پر زیادہ دیر تک انحصار نہیں کر سکیں گے۔

کیا تصاویر نکلی اور بے عیب دکھائی دیتی ہیں؟

مڈجرنی ایپ خاص طور پر ایسی تصاویر بناتی ہے جو حقیقت سے قریب تر لگتی ہیں۔ اسی صورت میں آپ کو اپنے قوتِ فیصلہ کا استعمال کرنا ہوگا۔ کیا ایسی بے عیب اور بہترین تصویر حقیقی ہو سکتی ہے؟ جرمن ریسرچ سینٹر فار اے آئی کے اینڈریاس ڈینگل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''چہرے بہت خالص ہیں اور جو کپڑے دکھائے گئے ہیں وہ بھی بہت ہم آہنگ ہیں۔‘‘

اے آئی کی تصاویر میں لوگوں کے نقش و نگار بلکل پرفیکٹ دکھائی دیتے ہیں اور ان کے بال اور دانت بھی بے عیب نظر آتے ہیں جو کہ اصل زندگی میں ممکن نہیں۔کچھ تصاویر تو اتنی شاندار ہوتی ہیں کہ پروفیشنل فوٹوگرافر بھی دھوکا کھا جاتے ہیں۔

پس منظر کا جائزہ لیں

کسی تصویر کا پس منظر اکثر یہ ظاہر کر سکتا ہے کہ آیا اس میں ہیرا پھیری کی گئی ہے یا نہیں۔ کچھ کیسز میں اے آئی پروگرامز لوگوں اور اشیا کو دو بار استعمال کرتے ہیں اس لیے اے آئی سے بنی تصاویر کا پس منظر دھندلا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس دھندلی تصویر میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ اوپر دی گئی مثال کی طرح جس کا مقصد آسکر میں ول اسمتھ کو ناراض ظاہر کرنا ہے۔ غور سے دیکھیں اس کا پس منظر مصنوعی طور پر دھندلا دکھائی دیتا ہے۔

نتیجہ

اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو ابھی بھی تھوڑی تحقیق کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی بہتر ہو رہی ہے اور مستقبل میں غلطیاں کم ہونے کا امکان کیا ہیں؟ کیا اے آئی ڈیٹیکٹر ہیرا پھیری کا پتا لگانے میں ہماری مدد کرسکیں گے؟ ہماری تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر اے آئی ڈٹیکٹرز سراغ لگانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

جن ماہرین کا ہم نے انٹرویو کیا وہ کہتے ہیں کہ ٹولز ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہیں اور یہ بھی کہ ان کے ذریعے حقیقی تصاویر کو جعلی قرار دیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے، شکوک و شبہات کی صورت میں حقیقی واقعات اور جعلی تصاویر کی پہچان کے لیے کامن سینس کا استعمال کریں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1fGrQAk