پیر، 27 جون، 2022

ناسا نے آسٹریلیا سے پہلا راکٹ لانچ کیا

کینبرا: ناسا نے پیر کے روز 27 سالوں میں پہلی بار آسٹریلیا کی سرزمین سے راکٹ لانچ کیا ہے۔ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق بارش اور ہوا کی وجہ سے لانچ میں تاخیر کے بعد ذیلی ساؤنڈنگ راکٹ نے آج صبح شمالی علاقہ جات کے آرنہیم اسپیس سینٹر سے کامیابی کے ساتھ پرواز بھری۔

1995 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی خلائی ایجنسی نے آسٹریلیا سے راکٹ لانچ کیا ہے اور غیر ملکی سرزمین پر تجارتی لانچ پیڈ سے پہلی بار لانچ کیا ہے۔ ناسا نے کہا کہ این ٹی سے اڑان بھرنے والے تین میں سے پہلے راکٹ نے صرف جنوبی نصف کرہ میں فلکی طبیعیات کے مطالعہ کرنے کے لیے خلا میں تقریباً 300 کلومیٹر کا سفر کیا۔

شمالی علاقہ جات کی وزیر اعلیٰ نتاشا فائلز نے اس لانچ کو آسٹریلیا کے لیے ایک قابل فخر لمحہ قرار دیا۔ آرنہیم اسپیس سینٹر ، ایکویٹوریئل لانچ آسٹریلیا (ای ایل اے) کے زیر ملکیت اور چلایا جاتا ہے، جس کا مقصد 2024 تک سالانہ 50 لانچوں کی میزبانی کرنا ہے۔ اگلی لانچ 4 جولائی کو ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3GvwWUk

اتوار، 26 جون، 2022

ناسا نے آسٹریلیا سے پہلا راکٹ لانچ کیا

کینبرا: ناسا نے پیر کے روز 27 سالوں میں پہلی بار آسٹریلیا کی سرزمین سے راکٹ لانچ کیا ہے۔ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق بارش اور ہوا کی وجہ سے لانچ میں تاخیر کے بعد ذیلی ساؤنڈنگ راکٹ نے آج صبح شمالی علاقہ جات کے آرنہیم اسپیس سینٹر سے کامیابی کے ساتھ پرواز بھری۔

1995 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی خلائی ایجنسی نے آسٹریلیا سے راکٹ لانچ کیا ہے اور غیر ملکی سرزمین پر تجارتی لانچ پیڈ سے پہلی بار لانچ کیا ہے۔ ناسا نے کہا کہ این ٹی سے اڑان بھرنے والے تین میں سے پہلے راکٹ نے صرف جنوبی نصف کرہ میں فلکی طبیعیات کے مطالعہ کرنے کے لیے خلا میں تقریباً 300 کلومیٹر کا سفر کیا۔

شمالی علاقہ جات کی وزیر اعلیٰ نتاشا فائلز نے اس لانچ کو آسٹریلیا کے لیے ایک قابل فخر لمحہ قرار دیا۔ آرنہیم اسپیس سینٹر ، ایکویٹوریئل لانچ آسٹریلیا (ای ایل اے) کے زیر ملکیت اور چلایا جاتا ہے، جس کا مقصد 2024 تک سالانہ 50 لانچوں کی میزبانی کرنا ہے۔ اگلی لانچ 4 جولائی کو ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3GvwWUk

سعودی عرب میں ’فیوچر اسپیس‘ کے نام سے پہلے ٹیکنالوجی مرکز کا آغاز

الریاض: سعودی خلائی کمیشن اور چین کی بڑی ٹیکنالوجی فرم ہواوے نے مملکت میں فیوچر اسپیس کے نام سے پہلے ٹیکنالوجی تجربہ مرکز کا افتتاح کر دیا ہے۔ ہواوے نے ایک بیان میں کہا کہ فیوچر اسپیس چین سے باہر سب سے بڑا نمائشی مرکز ہے، اس میں تھری ڈی پرنٹنگ، خود کار ڈرائیونگ اور برین ویو روبوٹ کنٹرول جیسی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہوں گی۔

سعودی عرب میں اپنی نوعیت کی پہلی نمائش فیوچراسپیس کا مقصد نوجوان جدت پسندوں کو بولنے کے مواقع فراہم کرنا ہے-اس کا بڑامقصد ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں مدد کے لیے اپنے مقامی ٹیلنٹ کی صلاحیتوں کو نکھارنا، پروان چڑھانا اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے استفادے کے لیے مملکت کی کوششوں کوآگے بڑھانا ہے۔

ہواوے سعودی عرب کے چیف ایگزیکٹوآفیسر (سی ای او) ایرک یانگ نے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ہم یہاں ہواوے میں اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ مستقبل کی پیشین گوئی کرنے کا بہترین طریقہ اسے خود تخلیق کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں سعودی عرب میں فیوچراسپیس شروع کرنے اور سعودی عرب کے وژن 2030 کے حصے کے طور پر مملکت کے ڈیجیٹل عزائم کے حصول میں مدد دینے کا اعزاز حاصل ہے۔ اب تخیّلات اس بات کا تعیّن کریں گے کہ ہم مستقبل میں کس حد تک جاسکتے ہیں؛ کارروائی اس بات کا تعین کرے گی کہ ہم کتنی جلدی وہاں پہنچتے ہیں‘‘۔

یہ مرکزعوام کے لیے کھلا رہے گا اور اندازہ ہے کہ اگلے پانچ سال کے دوران میں قریباً دو لاکھ زائرین اس کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔

سعودی خلائی کمیشن کے سی ای او ڈاکٹرمحمد التمیمی نے اس موقع پرکہا کہ فیوچراسپیس دنیا کے جدید ترین ٹیکنالوجی تجربے کے مراکز میں سے ایک ہے۔ہم نوجوانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجیوں سے متعارف کرنا چاہتے ہیں اورانھیں نئے طریقوں سے ٹیکنالوجی کا تصور کرنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔

الریاض میں چین کے سفیر وی کنگ چن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اورچین کے درمیان تعلقات سے دونوں ممالک کو بے پایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں۔جب سعودی عرب اپنے تزویراتی قومی اہداف کے حصے کے طور پر ڈیجیٹل تبدیلی پر عمل پیرا ہے تو ہواوے اور سرکاری ایجنسیوں جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان سرکاری اور نجی سطح پر شراکت داری مقامی تکنیکی ماحولیاتی نظام میں نئی قدر کا اضافہ کرتی ہے۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dt15R3w

جمعہ، 17 جون، 2022

سب سے پرانا اور مقبول ترین براؤزر 'انٹرنیٹ ایکسپلورر' مکمل طور پر ختم

دنیا کی مقبول ترین کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ کی پہچان بننے والے دنیا کے پرانے اور مقبول ترین براؤزر 'انٹرنیٹ ایکسپلورر' کو باضابطہ طور پر بند کر دیا۔ انٹرنیٹ ایکسپلورر 15 جون کے بعد سے دستیاب نہیں ہوگا۔ مائیکرو سافٹ نے ابتدائی طور پر 27 سال قبل 1995 میں 'انٹرنیٹ ایکسپلورر' براؤزر کو متعارف کرایا تھا اور اس وقت وہی اکیلا براؤزر تھا۔

'انٹرنیٹ ایکسپلورر' کئی سال تک انٹرنیٹ کی پہچان بنا رہا تاہم 2004 میں موزیلا فاؤنڈیشن نے اس کے ٹکر میں فائر فوکس کو باضابطہ طور پر متعارف کرایا۔ اگرچہ فائر فوکس براؤزر 2002 میں ہی بن چکا تھا تاہم اسے عام صارفین کے لیے 2004 میں متعارف کرایا گیا۔ فائر فوکس کے بعد گوگل نے 2008 میں گوگل کروم براؤزر کو متعارف کراکر سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

فائر فوکس اور گوگل کروم کے بعد انٹرنیٹ ایکسپلورر کو لوگ تقریبا بھول ہی گئے تھے تاہم مائیکرو سافٹ نے نئے براؤزر ایج کو گوگل کروم جیسا بنا کر اس حوالے سے اپنی بادشاہی واپس لینے کی کوشش کی لیکن اس کی کوششیں ناکام رہیں۔ 'انٹرنیٹ ایکسپلورر' تمام ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں ڈیفالٹ براؤزر کے طور پر کام کرتا تھا، تاہم کمپنی نے 2020 میں اسے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن اب کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ 'انٹرنیٹ ایکسپلورر' ونڈوز 10 اور ونڈوز الیون کے صارفین کے لیے بھی دستیاب نہیں ہوگا اور 15 جون کے بعد براؤزر کسی بھی ڈیسک ٹاپ پر موجود نہیں ہوگا۔ مائیکرو سافٹ نے 4 سال قبل 2016 میں ہی صارفین کو 'انٹرنیٹ ایکسپلورر' سے جان چھڑانے کا مشورہ دے کر عندیہ دیا تھا کہ ممکنہ طور پر کمپنی مذکورہ براؤزر کو بند کر دے گی۔

کمپنی نے 2016 سے ہی 'انٹرنیٹ ایکسپلورر' کے پرانے ورژن کی سپورٹ ختم کردی تھی تاہم ویب براؤز کے نئے 2013 میں متعارف کرائے گئے گیارہویں ورژن کو سپورٹ فراہم کی جا رہی تھی۔ مائیکرو سافٹ نے گزشتہ چند سال میں متعدد بار اپنے صارفین کو 'انٹرنیٹ ایکسپلورر' کی خامیوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے رواں سال کے آغاز میں اپنے نئے براؤزر 'مائیکرو سافٹ ایج' استعمال کرنے کی تجویز دی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NQprfBz