جمعرات، 28 جولائی، 2022

چاند پر ملی ایسی جگہ جہاں بسائی جا سکتی ہے انسانوں کی بستی، سورج کی تپش بھی نہیں!

چاند پر انسانوں کو بسانے کے لیے کوششیں عرصۂ دراز سے جاری ہیں۔ اس تعلق سے سائنسداں اکثر نئی نئی جانکاریاں دیتے رہتے ہیں اور ریسرچ کا سلسلہ بھی تیزی کے ساتھ چل رہا ہے۔ چونکہ چاند پر سورج کا خطرناک ریڈیئشن موجود ہے، اس لیے وہاں تپش یعنی درجہ حرارت غیر معمولی پائی جاتی ہے۔ لیکن اب ناسا کے سائنسدانوں نے غالباً اس مسئلہ کا حل تلاش کر لیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چاند پر کچھ ایسے مقامات کی تلاش میں کامیابی ملی ہے جہاں درجہ حرارت انسانوں کے لیے آرام دہ ہے۔ دراصل چاند پر موجود کچھ ایسے گڈھوں کے بارے میں پتہ لگایا گیا ہے جہاں درجہ حرارت 17 ڈگری سلسیس ہے۔

دراصل چاند کے بیشتر حصے ایسے ہیں جہاں پر انسانی بستی بسانا مشکل ہے۔ دن کے وقت چاند پر درجہ حرارت زمین سے 15 گنا زیادہ (تقریباً 127 ڈگری سلسیس) تک ہوتا ہے۔ چاند کے تاریکی والے حصے میں درجہ حرارت منفی 173 ڈگری سلسیس تک گر جاتا ہے۔ لیکن نئے تلاش کیے گڈھوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہاں سورج کی تپش بہت زیادہ نہیں اور اس سے مستقبل میں چاند مشن کافی آسان ہو جائے گا۔ امریکی اسپیس ایجنسی ناسا کے لونر ریکانیسنس آربٹر کے پروجیکٹ سائنسداں نوح پیٹرسن نے چاند کے گڈھوں کی اس خوبی کے بارے میں بتایا ہے۔

سائنسداں نوح پیٹرسن کا کہنا ہے کہ ’’یہ جانتے ہوئے کہ یہ گڈھے ایک مستحکم ماحول بناتے ہیں، ہمیں چاند کی ان خصوصیات کو جاننے اور تلاش کرنے کے امکان کی تصویر کشی کرنے میں مدد کرے گا۔‘‘ چاند کے گڈھوں کو 2009 میں تلاش کیا گیا تھا، تبھی سے سائنسداں اس بات کی دریافت کر رہے ہیں کہ کیا انھیں شیلٹر کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انھیں آپ چاند کے کریٹر سے مت جوڑ لیجیے۔ یہ گڈھے چاند کی سطح پر کھوکھلے غاروں جیسے ہوتے ہیں۔

نئی تحقیق کی قیادت کرنے والے ٹائلر ہووَرتھ نے کہا کہ ’’200 سے زیادہ گڈھوں میں سے تقریباً 16 لاوا ٹیوب کے ہیں۔‘‘ بہرحال، اس وقت اسٹڈی کے لیے سائنسداں 328 فیٹ گہرے گڈھے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، جسے میر ٹرینکوئلی ٹیٹس کی شکل میں جانا جاتا ہے۔ چٹان کی تھرمل پراپرٹی جاننے کے لیے کمپیوٹر ماڈل کا استعمال کیا گیا۔ اس میں انھوں نے پایا کہ جن مقامات پر گڈھے میں پرچھائی ہے وہاں درجہ حرارت 17 ڈگری سلسیس ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/kmszQCl

بدھ، 27 جولائی، 2022

وُہان کے لیب سے نہیں بازار سے انسانوں میں پہنچا کووڈ، نئی تحقیق میں دعویٰ

امریکہ کے کیلیفورنیا یونیورسٹی سین ڈیاگو میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم کا ریزلٹ اس اصول کو خارج کرتا ہے کہ کورونا وائرس بدنام زمانہ وُہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی لیب سے لیک ہوا تھا، جس سے اب تک کم از کم 64 لاکھ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ کووڈ-19 وبا کی شروعات 2019 میں چین کے وُہان میں ہوانن سی فوڈ ہول سیل مارکیٹ میں ہوئی تھی، اور اس کے نتیجہ کار کئی اسپل اوور واقعات ہوئے، جن میں سارس-کوو-2 وائرس زندہ جانوروں سے وہاں کام کرنے والے یا خریداری کرنے والے انسانوں کے جسم میں پہنچا۔

سائنس جرنل میں فرسٹ ریلیز کے ذریعہ سے آن لائن شائع کی گئی تحقیقوں سے پتہ چلا ہے کہ ایک پیتھوجینک جانور سے انسان میں کامیابی کے ساتھ پہنچا، جسے ایک جونوٹک واقعہ کی شکل میں جانا جاتا ہے۔ یہ مانتا ہے کہ سارس-کوو-2 وائرس جانوروں سے انسانوں میں کم از کم دو بار اور شاید دو درجن سے زائد بار پہنچا۔

یو سی سین ڈیاگو اسکول آف میڈیسن میں گلوبل پبلک ہیلتھ کے انفیکشن والے امراض کے محکمہ میں ایسو سی ایٹ پروفیسر جوئل او ورتھائم نے کہا کہ یہ اہم ہے کہ ہم کووڈ-19 کے پیدا ہونے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانیں، کیونکہ صرف یہ سمجھ کر کہ وبا کیسے شروع ہوتی ہے، ہم مستقبل میں انھیں روکنے کی امید کر سکتے ہیں۔ ورتھائم نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ عام اتفاق ہے کہ یہ وائرس درحقیقت ہوانن مارکیٹ سے آیا تھا، لیکن ابھی تک کسی نے اسے ایک مضبوط معاملہ نہیں بنایا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NxgMl6Z

منگل، 26 جولائی، 2022

نیلامی 5G اسپیکٹرم: پہلے دن 1.45 لاکھ کروڑ کی بولیاں لگائی گئیں

نئی دہلی: ملک میں منگل کے روز 5G اسپیکٹرم کی نیلامی شروع ہو گئی اور پہلے دن 1.45 لاکھ کروڑ روپے کی بولیاں موصول ہوئیں۔ مکیش امبانی، سنیل بھارتی متل اور گوتم اڈانی کی کمپنیوں نے ریڈیو ویو کے لیے اب تک کی سب سے بڑی نیلامی کے لیے بولی لگائی۔ تمام چار درخواست دہندگان، امبانی کی ریلائنس جیو، متل کی بھارتی ایئرٹیل، ووڈافون-آئیڈیا اور اڈانی گروپ کی کمپنی نے 5G اسپیکٹرم نیلامی میں حصہ لیا۔

ٹیلی مواصلات کے وزیر اشونی وشنو نے کہا کہ 700 میگا ہرٹز بینڈ پر بھی بولیاں موصول ہوئی ہیں۔ اسپیکٹرم کو 14 اگست تک الاٹ کرنے کا ہدف ہے جبکہ 5G خدمات سال کے آخر یعنی دسمبر تک کئی شہروں میں شروع ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا حکومت کو بولی لگانے کے پہلے دن 1.45 لاکھ کروڑ روپے کی بولیاں موصول ہوئیں۔ یہ توقع سے زیادہ ہے اور 2015 کے ریکارڈ تجاوز کر گئی ہیں۔ پہلے دن نیلامی کے چار راؤنڈ ہوئے اور درمیانی اور اعلیٰ بینڈ میں کمپنیاں نے زیادہ دلچسپی ظاہر کی۔ کمپنیوں نے 3300 میگا ہرٹز اور 26 گیگا ہرٹز بینڈز میں سرگرمی سے بولیاں لگائیں۔

وزیر ٹیلی کام کے مطابق بولی میں شامل چار کمپنیوں کی شرکت نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیلامی پر کمپنیوں کے ردعمل سے لگتا ہے کہ وہ مشکل وقت سے نکل آئی ہیں۔ اشونی وشنو نے کہا کہ حکومت ریکارڈ وقت میں اسپیکٹرم مختص کرے گی اور دسمبر تک 5G خدمات شروع ہونے کی امید ہے

طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نیلامی کے دوران یہ معلوم نہیں ہوگا کہ کس کمپنی نے کتنا سپیکٹرم حاصل کیا ہے۔ نیلامی سپیکٹرم کے لیے (600 میگا ہرٹز، 700 میگا ہرٹز، 800 میگا ہرٹز، 900 میگا ہرٹز، 1800 میگا ہرٹز، 2100 میگا ہرٹز، 2300 میگا ہرٹز)، درمیانے (3300 میگا ہرٹز) اور ہائی (26 گیگا ہرٹز) فریکوئنسی بینڈز کے لئے کی جا رہی ہے۔ نیلامی بدھ کے روز یعنی آج بھی جاری رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق 5G سروسز کی آمد سے انٹرنیٹ کی رفتار 4G کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ ہو جائے گی۔ اس میں انٹرنیٹ کی رفتار ایسی ہوگی کہ چند سیکنڈ میں موبائل پر فلم ڈاؤن لوڈ کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ یہ ای-ہیلتھ، میٹاورس، جدید ترین موبائل کلاؤڈ گیمنگ سمیت مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کرے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/xD63k98

اتوار، 24 جولائی، 2022

چین نے وینٹیان لیب ماڈیول کو خلائی مدار میں پہنچایا

بیجنگ: چین کی انسان بردار خلائی ایجنسی (سی ایم ایس اے) نے تیانگونگ خلائی اسٹیشن سے لانچ کیے گئے وینٹیان لیبارٹری ماڈیول کو کامیابی سے خلائی مدار میں پہنچا دیا ہے۔ سی ایم ایس اے کے مطابق، مین ماڈیول کو خلائی مدار میں پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق 0313 بجے، وینٹیان کے لانچ کے تقریباً 13 گھنٹے بعد پہنچایا گیا۔

لیب ماڈیول کو اتوار کے روز صوبہ ہینان میں وینچانگ خلائی جہاز لانچ پیڈ سے لانگ مارچ 5B کیریئر راکٹ کے ذریعہ لانچ کیا گیا۔ ورکنگ کمپارٹمنٹ، ائیر لاک کمپارٹمنٹ اور ریسورس کمپارٹمنٹ اس ماڈیول کے تین حصے ہیں۔ وینٹیان 17.9 میٹر (55.7 فٹ) لمبا، 4.2 میٹر محیط اور 23 ٹن وزنی ہے۔ یہ اس وقت چین کا سب سے بڑا خلائی جہاز ہے۔ چین اس سال زمین کے نچلے مدار میں اپنا پہلا خلائی اسٹیشن تعمیر کرنے کے لیے پرامید ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bh2UxdF

بھارت میں فیس بک کے لیے چیلنج: عریانیت، خواتین کو لاحق خوف

دو فروری کو جب پہلی مرتبہ فیس بک کے پلیٹ فارم پر صارفین کی تعداد بہت کم نظر آئی، تو اس کے مالیاتی شعبے کے سربراہ نے کہا کہ بھارت میں چونکہ موبائل ڈیٹا بہت مہنگا ہوگیا ہے، اس لیے دنیا کی اس بہت بڑی مارکیٹ میں اس کمپنی کی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ لیکن اسی روز اس امریکی ٹیکنالوجی گروپ نے بھارت میں فیس بک کے بزنس کے حوالے سے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی اپنے اسٹاف کے سامنے پیش کی۔ سن دو ہزار انیس سے دو ہزار اکیس کے درمیان دو برسوں تک کی گئی اس تحقیق میں فیس بک کو درپیش چیلنجز اور مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس تحقیق کے مطابق بہت سی خواتین نے فیس بک کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ اس پر مردوں کا غلبہ ہے اور وہ اپنی سلامتی اور پرائیویسی کے حوالے سے فکر مند تھیں۔ اس پہلو پر پہلے کبھی توجہ نہیں دی گئی تھی۔

فیس بک کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مواد کے تحفظ کا فکر اور اپنے اکاونٹ پر غیر مطلوبہ افراد کی بھیڑ خواتین کے فیس بک استعمال کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں جبکہ ''خواتین کو الگ کر کے بھارت میں کامیابی نہیں مل سکتی۔‘‘

اس تحقیقاتی رپورٹ میں جن دیگر رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں عریانیت سے پُر مواد،ایپ ڈیزائن کی پیچیدگی، مقامی زبان اور شرح خواندگی بھی شامل ہیں۔ یہ رپورٹ دسیوں ہزار افراد کے ساتھ بات چیت اور انٹرنیٹ سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی۔

فیس بک کی ترقی میں مسلسل کمی

فیس بک کی ترقی کی رفتار گزشتہ برس سست پڑنے لگی تھی۔ ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت میں چھ ماہ کے دوران فیس بک صارفین کی تعداد میں صرف چند لاکھ کا اضافہ ہوا۔ دوسری طرف واٹس ایپ اور انسٹاگرام جیسی ایپس استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق، ''انٹرنیٹ اور دیگر ایپس کے مقابلے میں فیس بک کی ترقی کی رفتار سست ہے۔‘‘

اس رپورٹ کے حوالے سے جب فیس بک سے رابطہ کیا گیا، تو ایک ترجمان نے بتایا کہ کمپنی اپنی پروڈکٹس کو سمجھنے کے لیے مسلسل ریسرچ کرتی ہے تاکہ انہیں بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔ ترجمان نے کہا، ''سات ماہ پرانی تحقیق کو بھارت میں ہمارے بزنس کا پیمانہ قرار دینا گمراہ کن ہو گا۔‘‘

صنفی عدم مساوات بھی باعث تشویش

فیس بک کی اپنی تحقیقات میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ صنفی عدم مساوات فیس بک کے لیے بھارت میں ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی کوشش فیس بک پچھلے کئی سال سے کر رہا ہے لیکن اسے زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔

تحقیقات کے مطابق، ''یوں تو بھارت میں انٹرنیٹ پر بالعموم صنفی عدم مساوات ہے، لیکن فیس بک کے صارفین میں یہ عدم مساوات اور بھی زیادہ ہے۔‘‘ رپورٹ میں اس کی وجہ آن لائن سکیورٹی کے حوالے سے تشویش اور سماجی دباو بتائی گئی ہے۔ محققین نے دیکھا کہ فیس بک استعمال کرنے والی 79 فیصد خواتین نے اپنی تصویر یا دیگر مواد کے غلط استعمال کے متعلق تشویش ظاہر کی۔ اس کے علاوہ 20 تا30 فیصد نے بتایا کہ سروے کے سات دنوں کے اندر انہوں نے فیس بک پر عریانیت دیکھی تھی۔

فیس بک پر عریانیت کے معاملے میں بھارت دیگر ملکوں سے کافی اوپر ہے۔ امریکہ اور برازیل میں دس فیصد صارفین کے سامنے ایسی پوسٹس آئیں جن میں عریانیت تھی۔ ایک دوسرے سروے کے مطابق انڈونیشیا میں ایسے لوگوں کی تعداد 20 فیصد تھی۔

خاندان کا دباؤ اور منفی سوچ

اس تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت کے پس منظر میں دیگر دو باتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بالخصوص خواتین کے لیے فیس بک استعمال نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے: ''خاندان اجازت نہیں دیتا۔‘‘ اس کے علاوہ، ''دیگر ملکوں کے مقابلے میں منفی سو چ کہیں زیادہ ہے۔‘‘

فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر صنفی عدم مساوات صرف ان کے پلیٹ فارم کا نہیں بلکہ پوری انڈسٹری کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سن 2016 کے بعد فیس بک نے سلامتی اور تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی ٹیم کی تعداد چار گنا بڑھا کر 40 ہزار سے زائد کر دی ہے۔ اور رواں برس جنوری سے اپریل کے درمیان عریانیت اور جنسی سرگرمیوں سے متعلق97 فیصد مواد کو کوئی شکایت کیے جانے سے پہلے ہی ہٹا دیا گیا تھا۔

خواتین کے ہراساں کیے جانے اور انہیں دھمکیوں سے محفوظ رکھنے کی خاطر کافی اقدامات نہ کرنے کے سبب بھی فیس بک کو دنیا بھر میں تنقید کا شکار ہونا پڑا ہے۔ سن 2019 میں اس نے بتایا تھا کہ اس کی ایک ٹیم اس بات کو یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے کہ خواتین کو کیسے محفوظ رکھا جائے اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ایسے مواد کو ہٹا دیا جائے جو غیر محفوظ دکھائی دیتا ہو۔ فیس بک کے ترجمان کے مطابق بھارت میں خواتین صارفین کی مدد کے لیے 'ویمنز سیفٹی ہب‘ اور دیگر پرائیویسی فیچر بھی شروع کیے گئے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ''بھارت میں فیس بک استعمال کرنے والے صارفین دیگر کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں اور کمپنی کی ٹیموں کو بھارت میں ترقی اور اپنی اسٹریٹیجک پوزیشن کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کیونکہ بھارت میں کمپنی کے لیے نتائج عالمی نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ZOUvhjz

سائنسی آلات پر عائد جی ایس ٹی میں اضافہ، چدمبرم نے حکومتی فیصلہ کو ظالمانہ حرکت قرار دیا

نئی دہلی: اشیائے خورد و نوش پر جی ایس ٹی عائد کرنے کے بعد مودی حکومت حزب اختلاف کے نشانہ پر ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلی ایسی حکومت ہے جس نے آٹا، دال، دہی اور دیگر گھریلوں اشیاء پر بھی ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ وہیں، کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر پی چدمبرم نے سائنسی آلات پر جی ایس ٹی میں اضافہ کے حوالہ سے حکومت پر نکتہ چینی کی ہے۔

سابق وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے سائنسی آلات پر جی ایس ٹی میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے اتوار کو کہا کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ہمیں جس سائنسی علم کی ضرورت ہے وہ آسمان کی طرف دیکھ کر اور اپنے ماضی کی یادوں میں کھونے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

چدمبرم نے ٹوئٹ کیا، ’’تحقیقاتی اداروں اور یونیورسٹیوں کے لیے درکار سائنسی آلات پر جی ایس ٹی کو 5 فیصد سے بڑھا کر 12-18 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ ظالمانہ حرکت وزارت سائنس کے بجٹ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 3.9 فیصد کی کمی کے بعد کی گئی ہے۔

ادھر، گھریلو اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے پر اپوزیشن نے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ پرنٹنگ، رائٹنگ یا ڈرائنگ انک، کٹنگ بلیڈ کے ساتھ چاقو، چمچ، کانٹے، کاغذی چاقو، پنسل شارپنرز اور ایل ای ڈی لیمپ جیسی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 12 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دی گئی ہے۔

ادھر، یومیہ 5000 روپے سے زیادہ قیمت والے اسپتال کے کمروں پر بھی 5 فیصد جی ایس ٹی عائد ہوگی، حالانکہ آئی سی یو بیڈز کو جی ایس ٹی کے اضافہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ شرح کی یہ نظرثانی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مہنگائی عام آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LWOgJID

پیر، 11 جولائی، 2022

کائنات کی پہلی مکمل رنگین تصویر جاری

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے لی گئی کائنات کی پہلی مکمل رنگین تصویر جاری کی ہے۔ سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ تصاویر میں ایس ایم اے سی ایس 0723 دکھایا گیا ہے۔ تصویر میں گلیکسی کلسٹرز کا ایک بہت بڑا جھرمٹ نظر آ رہا ہے۔ اس سے پہلی بار پرانی اور دور کی کہکشاؤں کے بارے میں گہرائی سے دیکھا گیا ہے۔

بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس پیر کو یہ تصویر وائٹ ہاوس میں ایک بریفنگ کے دوران دیکھ چکے ہیں۔ مریکی صدر جو بائیڈن نے اس موقع پر کہا کہ ’یہ تصاویر دنیا کے لیے ایک یاد دہانی ہیں کہ امریکہ اب بھی بڑے کام کر سکتا ہے اور امریکی لوگ، خصوصاً ہمارے بچے، کے لیے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم اپنی صلاحیت سے کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ‘’ہم وہ امکانات دیکھ سکتے ہیں جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھیں، ہم ان مقامات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں آج تک کسی نے رسائی حاصل نہیں کی۔‘‘ دس ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ گذشتہ سال 25 دسمبر کو لانچ کی گئی تھی، جسے مشہور ہبل ٹیلی سکوپ کا جانشین قرار دیا گیا ہے۔

ساڑھے چھ میٹر چوڑے سنہری شیشے اور انتہائی حساس انفراریڈ آلات کی مدد سے ویب ٹیلی اسکوپ کہکشاؤں کی وہ مسخ شدہ شکل (سرخ قوس) تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جو بگ بینگ کے 600 ملین سال بعد موجود تھی۔ (کائنات کی عمر تقریبا 13 اشاریہ آٹھ ارب سال بتائی جاتی ہے)۔

لیکن اس فلکیاتی دور بین کی نظر اس سے بھی کہیں دور تک پہنچ رہی ہے۔ اس سے حاصل ڈیٹا کے معیار کی مدد سے سائنس دان بتا سکتے ہیں کہ یہ ٹیلی اسکوپ اس تصویر میں موجود سب سے دور نظر آنے والی شے سے بھی کہیں آگے تک خلا میں جھانک سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wukKUif