پیر، 27 مارچ، 2023

کیا انسان کو کبھی موت نہیں آئے گی؟ سائنسدانوں کو ’ریورس ایجنگ‘ میں ملی پہلی کامیابی

معروف شاعر کرشن بہاری نور کی مشہور غزل کا ایک شعر ہے ’’زندگی، موت تیری منزل ہے، دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں‘‘۔ یہی تصور تھا اور ہے، لیکن کیا یہ بدل جائے گا اور انسان کو کبھی موت آئے گی ہی نہیں؟ کیا موت زندگی کی منزل نہیں رہے گی؟ کچھ ایسی ہی باتیں سائنس کی دنیا سے آ رہی ہیں۔

 جب بھی ہم لافانی کے بارے میں سوچتے ہیں تو یہ ایک سائنس فکشن فلم کی طرح لگتا ہے۔ پیدا ہوا تو موت ہوگی اور سائنسدانوں کے علاوہ ہر کوئی اس بات کو مانتا ہے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق انٹرنیشنل نان پرافٹ آرگنائزیشن ’ہیومینٹی پلس‘ کے سائنسدان ڈاکٹر جوز کورڈیرو کا دعویٰ ہے کہ چند سالوں کے بعد ہم پر امر ہونے کا راز کھل جائے گا۔ ان کے مطابق 2030 میں زندہ لوگ اپنی عمر میں سال بہ سال اضافہ کر سکیں گے اور 2045 کے بعد سائنسی طبقہ لوگوں کو لافانی بنانا شروع کر دے گا۔

ایسا کیسے ہوگا اس بارے میں فی الحال سائنسدان نے کھل کر کچھ نہیں بتایا، تاہم اس میں روبوٹکس اور اے آئی کی مدد لی جا سکتی ہے۔ ان کی مدد سے عمر بڑھتی جائے گی اور پھر ایک وقت آئے گا جب انسان صدیوں تک زندہ رہ سکے گا۔ اس پر دلیل دیتے ہوئے ڈاکٹر کورڈیرو نے کہا کہ پہلے اوسط عمر کم ہوتی تھی لیکن اب بڑھ گئی ہے۔ مثال کے طور پر، 1881 کے آس پاس، ہندوستان میں اوسط عمر صرف 25.4 سال تھی۔ اور 2019 میں یہ بڑھ کر 69.7 سال ہو گئی۔ اس فارمولے پر ڈی این اے کی عمر کو’ ریورس ایجنگ‘ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

ڈاکٹر کورڈیرو کے اس دعوے کے پیچھے ہارورڈ اور بوسٹن کی لیبز میں کی گئی تحقیق ہے، جس میں بوڑھے چوہوں کو پھر سے جوان بنایا گیا تھا۔ عمر کی وجہ سے جو بینائی کمزور تھی وہ بھی ٹھیک ہوگئی۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول اور بوسٹن یونیورسٹی کی اس مشترکہ تحقیق کو سائنسی جریدے سیل میں جگہ ملی۔ اس حوالے سے محقق ڈیوڈ سنکلیئر نے واضح طور پر کہا کہ عمر ایک پلٹ جانے والا عمل ہے، جس سے چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے۔

لیبارٹری میں چوہوں پر کیے گئے اس تجربے میں واضح طور پر دکھایا گیا کہ عمر کو لوٹا کر اسے جوان بنایا جا سکتا ہے۔ ایک چونکا دینے والی بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ عمر نہ صرف پیچھے لوٹتی ہے بلکہ اسے آگے بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ یعنی وقت سے پہلے کسی کو بڑا یا بوڑھا بنایا جاسکتا ہے۔

تحقیق اس تصور پر شروع ہوئی کہ جسم میں جوانی کی بیک اپ کاپی موجود ہے۔ اگر اس کاپی کو متحرک کیا جاتا ہے، تو خلیے دوبارہ بننا شروع ہو جائیں گے اور عمر واپس آنا شروع ہو جائے گی۔ اس تجربے سے یہ خیال بھی غلط ثابت ہوا کہ بڑھاپا جینیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ڈی این اے کمزور ہو جاتا ہے۔ یا کمزور خلیے وقت کے ساتھ ساتھ جسم کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔

تقریباً ایک سال کی تحقیق کے دوران بوڑھے اور کمزور بینائی والے چوہوں میں انسانی بالغ جلد کے خلیات ڈالے گئے جس کی وجہ سے وہ چند دنوں میں دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو گئے۔ اس کے بعد دماغ، پٹھوں اور گردے کے خلیات کو بھی اسی طرح نوجوانوں میں لایا جا سکتا تھا۔

سال 2022 کے اپریل میں کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی۔ ان کا دعویٰ زیادہ واضح تھا، جس کے مطابق ایک خاص طریقہ سے عمر کو 30 سال پیچھے لے جایا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے لیے جلد کے خلیوں کو دوبارہ پروگرام کیا گیا تاکہ وہ برسوں سال پیچھے جا سکیں۔ عمر بڑھنے والے خلیوں میں، اس نے کولیجن پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا، جو کہ پروٹین ہے جو جسم کو مضبوط اور جوان محسوس کرتا ہے۔ ملٹی اومک ریجوینیشن آف ہیومن سیلز کے عنوان سے یہ تحقیق eLife Journal میں شائع ہوئی۔ تحقیق کے بارے میں زیادہ معلومات عوامی ڈومین میں نہیں ہے کہ یہ کتنے لوگوں پر ہوا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Z5vhcYW

ہفتہ، 25 مارچ، 2023

اسرو نے پھر تاریخ رقم کر دی، ہندوستان کا سب سے بڑا راکٹ کیا لانچ، خلا میں لے گیا 36 سٹیلائٹ

سری ہری کوٹا: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے آج (26 مارچ) پھر تاریخ رقم کرتے ہوئے ہندوستان کے سب سے بڑے راکٹ کو خلا میں روانہ کر دیا۔ ایل سی ایم-3 نام کے اس راکٹ کے ساستھ 36 سٹیلائٹ بھی خلا میں بھیجے گئے ہیں۔ اسرو کا راکٹ برطانوی کمپنی کے 36 سیٹلائٹس کے ساتھ صبح 9 بجے سری ہری کوٹا سے روانہ ہوا۔

سرکاری معلومات کے مطابق لانچ ہونے والا راکٹ ’ایل وی ایم-3‘ 43.5 میٹر لمبا ہے اور اس کا کل وزن 5 ہزار 805 ٹن ہے۔ اس مشن کو ایل وی ایم3-ایم3/ون ویب انڈیا-2 کا نام دیا گیا ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کرکے اس مشن کے آغاز کی اطلاع دی تھی۔

ایل وی ایم3 اسرو کی سب سے بھاری لانچ وہیکل ہے جس نے اب تک پانچ کامیاب پروازیں مکمل کی ہیں جن میں چندریان-2 مشن بھی شامل ہے۔ خیال رہے کہ برطانیہ کی ’ون ویب‘ کمپنی نے 72 سیٹلائٹس کو لانچ کرنے کے لیے اسرو کی تجارتی شاخ ’نیواسپیس انڈیا لمیٹڈ‘ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔

معاہدہ کے تحت اسرو 23 اکتوبر 2022 کو 23 سیٹلائٹ لانچ کر چکا تھا اور آج باقی 23 سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں بھیج بھیجا گیا۔ اسرو کے اس لانچ کے ساتھ ہی زمین کے مدار میں ویب ون کمپنی کے سیٹلائٹس کی کل تعداد 616 ہو جائے گی۔ اسرو کے لیے اس سال کا یہ دوسرا لانچ ہے۔

اسرو کے مطابق، اس لانچ کے کامیاب ہونے کے بعد ون ویب انڈیا-2 خلا میں زمین کے نچلے مدار میں موجود 600 سے زیادہ سیٹلائٹس کو مکمل کر لے گا۔ جس سے دنیا کے ہر حصے میں اسپیس بیس براڈ بینڈ انٹرنیٹ پلان میں مدد ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/f5dU7Jw

مشین اور انسان پھر آمنے سامنے... انشومنی رودر

جب بھی کوئی نئی تکنیک دستک دے رہی ہوتی ہے تو وہ دور پرانے چلے آ رہے نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی ہوتی ہے۔ میں اسے ’ڈائنامائٹ فیز‘ کہتا ہوں جس کا استعمال آپ پہلے سے قائم نظام کی دھجیاں اڑانے یا پھر بڑے پہاڑوں کے سینے میں سرنگ جیسی تعمیر کر انسانیت کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھانے میں کر سکتے ہیں۔ آرٹیفیشیل انٹلیجنس (اے آئی)، خاص طور پر جنریٹیو اے آئی آج اسی طرح کے ’ڈائنامائٹ فیز‘ میں ہے۔ تخلیقی آرٹ یا پروڈکٹ کے ذریعہ روزی روٹی چلانے والے فنکار اور مصنف جیسے لوگوں کے پیروں تلے جیسے زمین کھسکتی نظر آ رہی ہے۔ اس لیے یہ جاننے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اتھل پتھل مچانے والے اس واقعہ کا ان لوگوں کی تخلیقیت اور روزی روٹی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

ایک ایسے شخص کے طور پر جو اپنی روزی روٹی کے لیے تقریباً چھ سال تک تحریر و تخلیق پر منحصر رہا ہو اور اس کے بعد کے تقریباً 12 سال گیمز، ہیلتھ کیئر، تعلیم، میڈیا اور پیمنٹ سے جڑے تکنیکی صارفین مصنوعات کی تخلیق پر، اس کے لیے یہ موضوع اہم ہے اور دلچسپ بھی۔ کسی چیز کی تخلق کرنا ایک ذاتی قسم کا کام ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے ہنر، جسے پانے کے لیے سالوں کی محنت اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصنف، فنکار، کوڈرس اور ڈیزائنرس... سب کے ساتھ یہی بات نافذ ہوتی ہے۔ کسی بھی خاص فن کے بارے میں ہم اس کے ماہرین کو پڑھنے، دیکھنے، سننے، ان کے نظریہ کو سمجھنے سے سیکھتے ہیں اور اس ضمن میں سب سے زیادہ کارگر وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ہم خود کرنا شروع کرتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ہم اس کام میں اپنا ایک خاص اسٹائل تیار کر پاتے ہیں۔

فنکار اکثر اس سے ڈرتے ہیں کہ ان کی تخلیق کو اصلی نہیں بلکہ کسی دیگر تخلیق سے متاثر مانا جا سکتا ہے۔ ’نقلچی‘ قرار دیئے جانے کا خوف انھیں ستاتا رہتا ہے۔ پھر بھی یہ غیر متنازعہ حقیقت ہے کہ ہم سبھی نے نقل کے ذریعہ ہی سیکھا۔ کوئی بھی اس بچے (یا یہاں تک کہ ایک ایپل پنسل کو آڑا ترچھا چلاتے ایک نوجوان) سے سوال نہیں کرتا جو ونسینٹ وین گو کی سورج مکھی کو دیکھ کر اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

میں نے سب سے پہلے جو کہانیاں لکھیں، وہ بالکل ’پنچ تنتر‘ اور اینڈ بلائٹن کی اسکولی کہانیوں جیسی تھیں۔ فنتاسی فکشن کے رائٹر کے طور پر ٹیری پراچتیٹ کی آنکھیں موند کر نقل نہیں کرنے یا ’ٹولکن‘ جیسی ’بھیانک‘ نظم (اس کے باوجود کہ میں نے وکرم سیٹھ کی ’بیسٹلی ٹیلس‘ کی نقل کی) لکھنے میں بھی مجھے سالوں لگ گئے۔ تقریباً 10 لاکھ الفاظ ہاتھ سے لکھنے کے بعد ہی میں نے اپنی محدود صلاحیتوں میں ’اصلی‘ ہونے کے اعتماد کو محسوس کرنے کی ہمت پیدا کر سکا۔

لیکن جنریٹیو آرٹیفیشیل انٹلیجنس مجھے سوچ میں ڈال دیتا ہے۔ ایل ایل ایم (لارج لینگویج ماڈل) ایک طرح کا مشین لرننگ ماڈل ہے جو تمام طرح کے لسانی کام کر سکتا ہے۔ اس سے جڑے کئی سوالات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ کیا ایل ایل ایم کو دنیا کے بہترین فکشن رائٹرس کی کتابوں کے بارے میں اس طرح تربیت کی جا سکتی ہے کہ وہ کوئی الگ ہی ’اصل‘ کتاب لکھ دے؟ پھر، موسیقی اور مصوری کے شعبہ میں کیا ہوگا؟ اگر آپ ایک فنکار ہیں، تو کیا جنریٹیو اے آئی کسی اور کو آپ کے خاص اسٹائل میں تصویر بنانے کے قابل بنا سکتا ہے؟ کیا اس سے بالآخر فنکاروں کی آمدنی ماری جائے گی؟

اس موضوع پر جب میں نے اوروں سے بات کرنی شروع کی تو پتہ چلا کہ اس نئے تکنیکی ٹول کے ضمن میں اخلاقیات، معاشیات اور اس سے جڑی پالیسیوں کو لے کر دوسرے لوگوں کے ذہن میں بھی اسی طرح کے سوال امنڈ رہے ہیں۔ کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ضروری تھا کہ میں خود اس میں گہرائی تک اتروں۔ میرے لیے اس نئی تکنیک کو سیکھنا اور پھر اپنے تجربات کو شیئر کرنا ضروری تھا۔ آپ کو یہ دلچسپ لگ سکتا ہے کہ ایک شخص جو خود ایک فنکار ہے، تباہی مچانے والے اس ’ڈائنامائٹ فیز‘ میں بھی کچھ مثبت نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر آپ ایک ٹیکنالوجسٹ یا تکنیک سے جڑے صارف مصنوعات بنانے والے ہیں تو بھی یہ آپ کو دلچسپ لگ سکتا ہے۔ اور پھر آپ ایک اے آئی ماہر بھی ہو سکتے ہیں جو یہ سوچ کر اپنا دھیان اِدھر جمائے کہ دیکھیں جو میں بنا رہا ہوں، اس پر دنیا کس طرح رد عمل کر رہی ہے۔ زیادہ امکان ہے کہ آپ ایک تماش بین ہوں جو دور سے یہ سب دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہو کہ آخر یہ بلا ہے کیا؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو سیٹ بیلٹ باندھ کر ایک نئے سفر کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

جنریٹیو اے آئی، ایل ایل ایم اور ان کے ماڈل:

اس مضمون کا یہ حصہ بازار میں دستیاب مختلف جنریٹیو ٹیکسٹ اے آئی ٹولس کی مدد سے تیار کیا گیا۔ اس سے ایل ایل ایم کی لکھنے کی قابلیت کا اندازہ ہوا۔ بے شک میں نے اسے اچھی طرح ایڈٹ کیا اور اس بات کا خاص خیال رکھا کہ اس میں دی گئی باتیں درست ہوں اور جہاں بھی مجھے لگا کہ روانی ٹوٹ رہی ہے، وہاں میں نے ان کی از سر نو تحریر بھی کی۔ لیکن موٹے طور پر ان ٹولس کو میں نے بہت ہی کام کا پایا۔ خاص طور پر بڑے ٹیکسٹ کا اختصار کرنے والے ٹول کا تو میں مرید ہو گیا۔ میرا ماننا ہے کہ اس تکنیک سے اچھی تحریر کو نقصان تو نہیں ہونے جا رہا، الٹے اس ابھرتی ہوئی تکنیک سے تحریریں مزید بہتر ہوں گی۔

جنریٹیو اے آئی:

جنریٹیو اے آئی ایک طرح کا آرٹیفیشیل انٹلیجنس ہے جو ٹیکسٹ، امیج اور میوزک جیسی نئی اشیا تیار کر سکتا ہے۔ جس بھی اشیا کے ضمن میں اسے ٹرینڈ کیا جاتا ہے، یہ اس میں پیٹرن اور رشتوں کو تلاش کرنے میں ایک نیورل نیٹورک ماڈل کا استعمال کرتا ہے۔ ایک بار جب وہ پیٹرن تلاش کر لیتا ہے تو اس کا استعمال نئی اشیا تیار کرنے میں کرتا ہے۔

(انشومنی رود کا یہ مضمون ہندی ہفتہ وار ’سنڈے نوجیون‘ سے لیا گیا ہے)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9KkHzyR

جمعہ، 17 مارچ، 2023

امریکہ اور برطانیہ کےبعد نیوزی لینڈ میں بھی ٹک ٹاک پر پابندی

سائبر سکیورٹی خدشات کے مدنظر کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں نے پہلے ہی سرکاری آلات میں چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت والے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اب نیوزی لینڈ کے پارلیمانی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے والے تمام آلات میں ٹک ٹاک پر31 مارچ سے پابندی لگادی جائے گی۔

نیوزی لینڈ کی پارلیمانی خدمات کے سربراہ رفائل گونزالویز مونٹرو نے بتایا کہ سائبر سکیورٹی کے ماہرین کے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جن افراد کو اپنی جمہوری ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے اس ایپ کی ضرورت ہوتی تھی انہیں اس کا متبادل فراہم کیا جائے گا۔ اس پلیٹ فارم تک فی الحال ویب براوزر کے ذریعہ رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ سائبر سکیورٹی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی سائبر سی ایکس کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی سکیورٹی کی حفاظت اور بالخصوص قانون سازوں کے آلات میں حساس نوعیت کی اطلاعات کے مدنظر یہ پابندی ضروری تھی۔

سائبر سی ایکس میں سکیورٹی ٹیسٹنگ کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر ایڈم بوئیلیو نے کہا، "اگر ٹک ٹاک کو چین کے مفادات کے لیے کام کرنے کا حکم دیا گیا تو اس سے ہماری سکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ اس لیے حکومت کی طرف سے فراہم کیے جانے والے فونز پر یہ پابندی ضروری ہے۔"

انہوں نے مزید کہا "ہمیں ٹک ٹاک کے علاوہ دیگر غیر ملکی ٹیکنالوجی سے ممکنہ خطرات کا جلد از جلد جائزہ لینا ہوگا۔ ہم جتنا زیادہ غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں ہمارے ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ اتنا ہی زیادہ بڑھ رہا ہے۔"

ٹک ٹاک پر سب سے پہلے بھارت نے پابندی لگائی تھی

ٹک ٹاک پر پابندی کا سلسلہ سن 2020 میں اس وقت شروع ہوا جب پہلی مرتبہ بھارت نے اس پر پابندی عائد کر دی۔ بھارت اور چین کے درمیان ہونے والے سرحدی تصادم، جس میں متعدد بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، کے بعد نئی دہلی نے چینی ایپ پر پابندی عائد کردی تھی۔ بھارت کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی خود مختاری کے دفاع کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسی سال ٹک ٹاک پر، چین کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، پابندی عائد کردی۔ برطانیہ نے جمعرات 16مارچ کوحکومتی آلات میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔

کابینی وزیر اولیور ڈاوڈین نے بتایا کہ برطانیہ کے سائبر سکیورٹی ماہرین کی طرف سے جانچ کے بعد یہ "واضح ہے کہ اس کی وجہ سے حساس حکومتی اعدادوشمار کے لیے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ بعض پلیٹ فارم کو استعمال کرکے ان تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔"

امریکی صدر جو بائیڈن بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ٹک ٹاک نے اپنی ملکیت والی کمپنی بائٹ ڈانس سے خود کو الگ نہیں کیا تو اس پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ بائٹ ڈانس کسی بھی طرح کے اعدادو شمار چینی حکام کو منتقل کرنے کی تردید کرتی ہے۔

چین کا ردعمل

چین نے برطانیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلے کو سیاسی قرار دے دیا۔ برطانوی فیصلے پر لندن میں چینی سفارتخانے نے ردعمل میں کہا کہ برطانیہ میں سرکاری فونز میں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے۔

چینی سفارتخانہ کے مطابق فیصلہ برطانیہ میں متعلقہ کمپنیوں کے معمول کے کاموں میں مداخلت ہے اور ایسے فیصلے سے برطانیہ کے اپنے مفادات کو ہی نقصان پہنچے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/K57lrmu

منگل، 14 مارچ، 2023

سائبر سیکورٹی اور پرائیویسی کے لئے پہلے سے انسٹال شدہ ایپ کو ہٹانے کا حکم دے سکتی ہے حکومت، رپورٹ

نئی دہلی: مرکزی حکومت سائبر سیکورٹی اور پرائیویسی کے تعلق سے اہم قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آنے والے دنوں میں مرکزی حکومت اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ پہلے سے انسٹال شدہ ایپس کو ہٹا دیں اور حکومت کے تجویز کردہ نئے سیکورٹی قوانین کے تحت بڑے آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹس کی لازمی اسکریننگ کی اجازت دیں۔

حالانکہ نئے قوانین کی نوعیت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے لیکن اس کا دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسمارٹ فون مارکیٹ ہندوستان پر بڑا اثر پڑنے کا امکان ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے سیمسنگ، شیاؤمی، ویوو اور ایپل سمیت کئی بڑی کمپنیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صارفین میں ڈیٹا کے غلط استعمال اور جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر آئی ٹی وزارت ان نئے قواعد پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ میں ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پہلے سے انسٹال شدہ ایپس سیکورٹی کے حوالے سے کمزور کڑی ثابت ہو سکتی ہیں۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ چین سمیت کوئی بھی بیرونی ملک اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

خیال رہے کہ مرکز نے 2020 سے چینی ایپس کی تحقیقات کو تیز کر دیا ہے اور ٹک ٹاک سمیت 300 سے زائد چینی ایپس پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ عالمی سطح پر بھی بہت سے ممالک نے چینی فرموں مثلاً ہواوائی اور ہیک ویزن کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کو خدشہ ہے کہ چین ان ڈیٹا کو غیر ملکی شہریوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ حالانکہ چین ان الزامات کی تردید کرتا رہتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4l1SWXf

جمعرات، 9 مارچ، 2023

ایپل کے چین پر انحصار میں کمی کے لیے بھارت مددگار

گو کہ چین اپنی زیروکووِڈ پالیسی کا خاتمہ کر چکا ہے، تاہم تین برس کے سخت ترین لاک ڈاؤن نے سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں لیکن ایپل اپنی پروڈکشن سائٹس کو متنوع بنانے کی تلاش میں مصروف ہے اور اس کے لیے بھارت ایک اچھی آپشن ہے۔

گزشتہ برس امریکی کمپنی ایپل کے لیے آئی فون تیار کرنے والا تائیوانی ادارہ فوکس کون چین علاقے زینگ زو میں قائم اپنے کارخانے میں پروڈکشن کو سست بنانے پر مجبور ہو گیا تھا۔ اس علاقے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چینی حکومت نے سخت ترین لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا تو اس کمپنی نے اپنے ہزاروں ملازمیں کو اس لاک ڈاؤن سے بچانے کے لیے کمپنی کی عمارت ہی میں روکے رکھا۔ اس کے نتیجے میں زبردست مظاہرے بھی ہوئے۔

تائیوان پر ممکنہ چینی حملے کے خطرات، خطے میں سلامتی کی صورتحال کو لاحق خدشات اور مستقبل میں چین پر مغربی ممالک کی ممکنہ پابندیوں کو سامنے رکھتے ہوئے فوکس کون سمیت مختلف کاروباری ادارے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنی گارٹنر کے ریسرچ ڈائریکٹر رنجیت اتوال نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ''ٹیکنالوجی ادارےسپلائی چین کو متنوعبنانے کے لیے چین سے باہر دیکھ رہے ہیں تاکہ کسی ایک ملک یا ایسے ممالک جن کے ساتھ امریکی تعلقات مسائل کا شکار ہیں، پر پروڈکشن کا انحصار کم کیا جا سکے۔‘‘

بھارت کو اس معاملے میں کئی اعتبار سے برتری حاصل ہے۔ یہ ملک رواں برس تیز ترین اقتصادی نمو کی حامل اقتصادیات میں شامل ہے جب کہ اس کے پاس نوجوانوں کی ایک بھرپور ہنرمند قوت بھی موجود ہے۔ بھارتی آبادی میں اٹھارہ سے پچیس برس تک کی عمر کے نوجوانوں کا تناسب بھی مقابلتاﹰ کافی زیادہ ہے جب کہ بھارت میں کم از کم تنخواہ بھی چین کے مقابلے میں ایک تہائی یا نصف کم ہے۔

فوکس کون نے عالمی وبا سے قبل بھارت میں آئی فونز کی تیاری شروع کی تھی، جب کہ اب وہ بھارت میں اپنی سرگرمیوں میں اضافے کی خواہش مند ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ تائیوانی الیکٹرانک کمپنی تامل ناڈو میں واقع اپنے کارخانے میں ملازمین کی تعداد میں تین گنا اضافہ کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ تک لے جانے کی کوشش میں ہے۔ اس ایک کارخانے سے یہ کمپنی سالانہ بیس ملین آئی فون تیار کرے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق فوکس کون تامل ناڈو کی ہمسایہ ریاست کرناٹک میں بھی ایک فیکٹری لگا رہی ہے اور اس فیکٹری میں بھی تقریباﹰ اتنی ہی تعداد میں ملازمین رکھے جائیں گے۔ مقامی میڈیا پر چہ مگوئیاں ہیں کہ یہ نیا پلانٹ سات سو ملین ڈالر کی خطیر رقم سے قائم کیا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GCmKkp1

اتوار، 5 مارچ، 2023

آرین کہاں سے آئے، ڈی این آئے کی زبانی... وصی حیدر

(39ویں قسط)

ایشیا کی چراگاہوں (Steppe) سے تقریباً 2000 قبل مسیح سے ایک ہزار سال تک اچھی زرخیز جگہوں کی تلاش میں لوگ جنوبی ایشیا لگاتار آتے رہے۔ ایسا بلکل بھی نہیں کے وہ لوگ فوج لے کر آئے ہوں اور انہوں نے ہندوستان کو فتح کیا ہو اور ہڑپہ کی تہذیب کو ختم کیا ہو۔ ہڑپہ کی کھدایوں میں کسی طرح کی لڑائیوں کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ ان نتیجوں پر پہنچنے کے سلسلہ میں 2018 میں ایک بہت تفصیلی تحقیقاتی مضمون چھپا، جس کا سب سے اہم کام پورے مرکزی اور جنوبی ایشیا کے پرانے انسانی ڈھانچوں کے ڈی این آئے تحقیقات سے ان کے رشتوں کو معلوم کرنا تھا۔ تو آخر اس سے کیا نئی دریافت حاصل ہوئی۔

سب سے پہلی دریافت تو یہ کہ کزاخستان سے جنوبی ایشیا اور خاص کر ترکمنستان، ازبکستان اور تاجکستان کی طرف لوگ سب سے پہلے 2100 قبل مسیح کے اس پاس گئے اور اس کے بعد تقریباً 1000 سال تک یہ لوگ جنوبی ایشیا آتے رہے۔ اس ہجرت میں یہ لوگ شمالی افغانستان، ازبکستان، تاجکستان اور جنوبی ایشیا آئے۔ اپنے اس سفر میں وہ BMAC تہذیب (جو 2300 سے 1700 قبل مسیح تک رہی Oxus ندی کے کنارے بسی تھی) پر اپنا اثر چھوڑا، لیکن انہوں نے ہندوستان پہنچ کر ہڑپہ کی ختم ہوتی تہذیب کے لوگوں میں گھل مل کر ایک نئی تہذیب کو جنم دیا، جو اب ہندوستان کی دو بڑی دھاروں میں سے ایک ہے۔ دوسری اہم دھارا وہ ہے جو ہڑپہ کے لوگوں کی جنوبی ہندوستان کی طرف ہجرت کے بعد وہاں پہلے سے بسے افریقہ سے آئے ہوئے ہندوستانیوں میں گھل مل کر پروان چڑھی اور انہوں نے دراوڑ زبانوں اور ایک انفرادی کلچر کو جنم دیا۔ آنے والے آرین اور ہڑپہ کے لوگوں نے مل کر انڈو یوروپین زبانوں اور ایک نئی تہذیب کو بنایا۔

تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کے 2100 قبل مسیح سے پہلے BMAC کے لوگوں میں Steppe کے ڈی این آئے کی ملاوٹ بلکل بھی نہیں ہے پر اس کے بعد 1700 قبل مسیح تک نہ صرف BMAC میں بلکہ اس کے چاروں طرف لوگوں میں Steppe کے ڈی این آئے موجود ہیں۔  اس دریافت کا پہلے ذکر ہو چکا ہے کے موجودہ ایران کے شہر سوختہ میں تین ایسے ڈھانچنے ملے جو 3100 سے 2200 قبل مسیح کے ہیں اور ان کا تعلق ہڑپہ کے علاقہ سے ہے یعنی یہ لوگ ہڑپہ سے ایران گئے اور وہاں ختم ہوئے۔

یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ہڑپہ کے لوگوں کا ایران کے زخروز علاقہ کی آبادیوں سے گہرا تجارتی اور کلچرل تعلق تھا۔ ان تینوں ڈھانچوں میں 14-42 فیصدی جینز افریقہ سے آئے ہوئے پہلے ہندوستانیوں کے اور باقی ایرانی زخروز علاقے کے لوگوں کے ہیں، ان میں ایشیا کے Steppe کے لوگوں کے جینزکی کوئی ملاوٹ نہیں ہے۔ اس دریافت سے بھی یہی ثابت ہوا کے steppe سے آنے والے آرین 2100 قبل مسیح کے بعد ہی ہندوستان آئے۔

لیکن اس سلسلے کی فیصلہ کن معلومات پاکستان کے سوات وادی کی انسانی ڈھانچوں کی ڈی این آئے تحقیقات کے نتیجے ہیں۔ یہ ڈھانچے 1200 قبل مسیح کے ہیں۔ ان کے ڈی این اے ان پرانے تین ہندوستانیوں جیسے ہیں (جو ایران میں پائے گئے ) لیکن ایک بہت اہم فرق یہ ہے کہ یہ ان سے ایک ہزار سال بعد کے ہیں اور ان میں steppe سے آئے ہوئے آرین کے 22 فیصدی جینز کی ملاوٹ ہے۔ یعنی اس ایک ہزار سال میں آنے والے آرین مقامی آبادی میں گھل مل چکے تھے۔ اس تحقیقاتی مقالہ میں اس کا بھی ذکر ہے کے موجودہ ہندوستان میں انڈو یوروپین بولنے والے خاص پجاری، سنکرت اور ویدک کلچر کے رکھوالے لوگوں میں steppe سے آئے ہوئے آرینس کے جینز کی ملاوٹ اور تمام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ Steppe  کے یہ لوگ یمنایا کہلاتے تھے۔ یہی لوگ 3000 قبل مسیح کے آس پاس یوروپ کی طرف بھی گئے۔ ان کے بارے میں کچھ اور تفصیل آگے کچھ قسطوں میں ہوگی۔

ان تحقیقات کی روشنی میں ہماری موجودہ ہندوستانی آبادی کچھ اس طرح کی ہے۔ پہلا گروپ افریقہ سے آئے ہوئے پہلے ہوموسیپینس اور ہڑپا کے لوگ جنمیں ایران کے زگروز کے لوگوں کے جینز کی ملاوٹ: ان سب سے ہندوستان کے دراوڑ زبانیں بولنے والے لوگ بنے۔ دوسرا بڑا گروپ ہڑپا کے لوگوں میں باہر سے آنے والے آرین کے گھل مل کر انڈو یوروپین زبانیں بولنے والے لوگ۔ اس کے علاوہ اور بھی چھوٹے گروپ جو جنوب مشرق سے آئے۔ مختصراً اصل ہندوستانی کی تلاش فضول ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف ہمارے لیے سچ ہے بلکہ موجودہ دنیا کے ہر ملک کی آبادی کئی طرح کی رنگا و رنگ دھاراوں کی ملاوٹ ہے جیسے قوس قزح کے خوبصورت رنگ۔

 اگلی قسط میں یمنایا (Ymnaya) یعنی ہندوستان آنے والے آرین کا ذکر ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NeqVAp3