ہفتہ، 29 جولائی، 2023

کامیابی کی طرف اِسرو کے بڑھتے قدم، پی ایس ایل وی-سی56 کی الٹی گنتی شروع، 30 جولائی کی صبح ہوگا لانچ

چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ کے بعد اب اِسرو کامیابی کی طرف مزید ایک قدم بڑھانے جا رہا ہے۔ دراصل 30 جولائی 2023 کی صبح 6.30 بجے اِسرو سات سیٹلائٹ لانچ کرے گا۔ سبھی سیٹلائٹ کی لانچنگ شری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز کے لانچ پیڈ سے ہوگی اور سیٹلائٹس کو خلا میں پہنچانے کے لیے پی ایس ایل وی-سی56 راکٹ کا استعمال کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں اِسرو کا بیان سامنے آیا ہے۔ اس بیان کے مطابق سنگاپور کے ڈی ایس-ایس اے آر سیٹلائٹ اور پی ایس ایل وی راکیٹ پر 6 شریک مسافر سیٹلائٹس کی لانچنگ کی الٹی گنتی ہفتہ کے روز ستیش دھون خلائی مرکز میں شروع ہو گئی۔ الٹی گنتی کے دوران چار مراحل والی گاڑی میں پروپیلنٹ بھرنے کا عمل انجام دیا جائے گا۔ 44.4 میٹر طویل چار مراحل والی گاڑی پی ایس ایل وی-سی56، 228 ٹن وزن کے ساتھ اتوار کی صبح 6.30 بجے ’شار رینج‘ سے پہلے لانچ پیڈ سے پرواز بھرے گا۔

اسرو نے جانکاری دی ہے کہ پی ایس ایل وی-سی55/ٹیلیوس-2 کی اپریل میں ہوئی کامیاب لانچنگ کے بعد 30 جولائی کے مشن کو انجام دیا جا رہا ہے اور اس مشن سے سنگاپور کے لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوں گی۔ پی ایس ایل وی-سی56 پانے ساتھ ڈی ایس-ایس اے آر، ایک رڈرار امیجنگ اَرتھ آبزرویشن سیٹلائٹ لے جائے گا، جو نیو اسپیس انڈیا لمیٹد کے ایک وقف کمرشیل مشن میں 6 شریک مسافر سیٹلائٹس کے ساتھ پرائمری سیٹلائٹ ہے۔ نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ اِسرو کا کمرشیل برانچ ہے اور سیٹلائٹس کو سنگاپور میں گاہکوں کی خدمات کے لیے لانچ کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/G4RkmPa

جمعہ، 21 جولائی، 2023

گوگل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز سے میڈیا انڈسٹری کو خدشات

دنیا کی معروف تکنیکی کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی وہ جن ٹولز کی تیاری کر رہا ہے اس کا مقصد خبر نگاری میں صحافیوں کے لازمی کردار کو تبدیل کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ٹولز صحافیوں کوتحقیق کرنے اور مضامین لکھنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

گوگل نے جمعرات کو بتایا کہ وہ میڈیا کمپنیوں بالخصوص چھوٹے پبلشرز کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایسے ٹولز کی تیاری پر کام کررہا ہے جو"صحافیوں کو خبروں کی شہ سرخیاں لکھنے یا مختلف انداز تحریر کے متبادل فراہم کرنے "میں مدد گار ہوں گے۔

گوگل کی ترجمان جین سرائیڈر نے اس سلسلے میں کمپنی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے ابتدائی مراحل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "ہمارا مقصد صحافیوں کو ان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اس طریقے سے استعمال کرنے کا انتخاب فراہم کرنا ہے جس سے ان کے کام اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ جیسا کہ ہم جی میل اور گوگل ڈاکس کے طورپر لوگوں کو معاون ٹولز دستیاب کر رہے ہیں۔" انہوں نے کہا، "ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان ٹولز کا مقصد رپورٹنگ، تخلیق اور اپنے مضامین کے حقائق کی جانچ پڑتال میں صحافیوں کے بنیادی کردار کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی ایسا کرسکتے ہیں۔"

ایک نئی بحث چھڑجانے کا امکان

گوگل کے اس پیش رفت سے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارمز مثلاً چیٹ جی پی ٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور فوائد کے بارے میں بحث تیز ہوجانے کا امکان ہے۔ کیونکہ اس اے آئی ٹول نے انسانی تقریر کی نقل کرنے کی صلاحیت سے صارفین کو دنگ کردیا ہے لیکن اس نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، غلط معلومات اور انسانی کارکنوں کی جگہ مشینوں کے لینے کے بارے میں خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

پرنٹ ایڈورٹائزنگ کی آمدنی میں کمی کے ساتھ ہی ملازمین کی تعداد میں مسلسل کمی کرنے کی وجہ سے عالمی میڈیا انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے۔ صرف امریکی نیوز رومز میں ہی رواں برس کے ابتدائی پانچ مہینوں کے دوران ریکارڈ 17436ملازمتیں ختم کردی گئیں۔

گوگل کی جانب سے اس نئے ٹول، جسے جینیسس کا نام دیا گیا ہے،کو ڈیولپ کرنے کے متعلق سب سے پہلے نیویارک ٹائمز نے خبر دی۔ اس نے بتایا کہ اسے ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کے مالک نیوز کارپ کو پیش کیا گیا ہے۔ ٹائمز کے مطابق میڈیا سے وابستہ بعض اہم افراد، جنہوں نے گوگل کی اس پیش کش کا مشاہدہ کیا ہے، انہوں نے اسے " پریشان کن" قرار دیا ہے۔

تاہم کچھ میڈیا تنظیموں نے تخلیقی مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کردیا ہے۔ نیوز رومز عام طور پر درستگی، سرقہ اور کاپی رائٹ کے خدشات کے مدنظر خبریں جمع کرنے کے مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) نے گزشتہ ہفتے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت کا اعلان کیا تھا جس سے چیٹ جی پی ٹی تخلیق کرنے والی اس کمپنی کو مصنوعی ذہانت کو زیادہ بہتر اور درست بنانے کے لیے اے پی کے 1985 کے بعد سے آرکائیوز کو استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TmPdVL6

بدھ، 19 جولائی، 2023

مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اقوام متحدہ کی پہلی میٹنگ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مصنوعی ذہانت کے خطرات پر منگل کے روز اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس کی صدارت رواں ماہ ادارے کے صدر برطانیہ نے کی۔ برطانوی وزیر خارجہ جیمس کلیورلی نے اس موقع پرکہا کہ "مصنوعی ذہانت بنیادی طورپر انسانی زندگی کے ہر پہلو کو بد ل دے گی۔"

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہمیں تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز پر گلوبل گورننس تشکیل دینے کی فوری ضرورت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور معیشتوں کو فروغ دینے میں مدد کرسکتی ہے تاہم انہوں نے خبر دار کیا کہ ٹیکنالوجی غلط معلومات کو ہوا بھی دیتی ہے اور ہتھیاروں کی حصولیابی میں ریاستی اور غیر ریاستی دونوں ہی عناصر کی مدد کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش، معروف آرٹیفیشیئل انٹلیجنس اسٹارٹ اپ انتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک اورچائنا یوکے سینٹرفار اے آئی ایتھکس اینڈ گورننس کے شریک ڈائریکٹر پروفیسر زینگ ایی نے 15رکنی سلامتی کونسل کو اس موضوع پر بریف کیا۔ گوٹیریش کا کہنا تھا،" اے آئی کے فوجی اور غیر فوجی دونوں طرح کے استعمال عالمی امن اور سلامتی کے لیے بہت سنگین نتائج کے حامل ہوسکتے ہیں۔"

انہوں نے اے آئی کے سلسلے میں اقوام متحدہ میں ایک نئے ادارے کی تشکیل کے متعلق بعض ملکوں کی جانب سے مطالبات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے "بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن یا ماحولیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی پینل کے طرز پر قائم کیا جاسکتا ہے۔"

اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون نے مصنوعی ذہانت کو دو دھاری تلوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اے آئی کے رہنما اصولوں کی تیاری میں اقوام متحدہ کے مرکزی رابطہ کار کے کردار کی حمایت کرتا ہے۔ ژانگ کا کہنا تھا، "خواہ یہ اچھا ہو یا برا، نیک ہو یا بد، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بنی نوع انسان اسے کس طرح استعمال کرتی ہے، اسے کس طرح منظم کرتی ہے اور ہم سائنسی ترقی اور سلامتی کے درمیان کس طرح توازن پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ترقی کو منظم کرنے کے لیے لوگوں اورمصنوعی ذہانت کی اچھائی کے استعمال پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اور اس ٹیکنالوجی کو "بے لگام گھوڑا "بننے سے روکنا ہوگا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب سفیر جیفری ڈی لارینٹس نے بھی کہا کہ انسانی حقوق کو درپیش خطرات، جن سے امن اور سلامتی کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، سے نمٹنے کے لیے ممالک کو اے آئی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ، "کسی بھی رکن ممالک کو مصنوعی ذہانت کا استعمال سینسر کرنے، مجبور کرنے، لوگوں کو کچلنے یا بے اختیار کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہئے۔" روس نے سوال کیا کہ کیا سلامتی کونسل، جس پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے، کو مصنوعی ذہانت پر بات کرنی چاہئے۔ اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمیتری پولیانسکی نے کہا، "ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پیشہ ورانہ، سائنسی اور مہارت پر مبنی بحث کریں جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور خصوصی پلیٹ فارمز پر یہ بحث پہلے سے ہی جاری ہے۔"

امریکہ میں پیشہ ور مصنفین کی سب سے بڑی تنظیم آتھرز گلڈ نے اوپن اے آئی، میٹا، مائیکروسافٹ، الفابیٹ، آئی بی ایم اور اسٹیبلیٹی اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو افسران کے نام ایک خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت والی کمپنیاں ان کی کاپی رائٹ تخلیقات کا بلا اجازت استعمال بند کریں۔ اس خط پر ہزاروں مصنفین اور ادیبوں نے دستخط کیے ہیں، جن میں مارگریٹ ایٹ ووڈ، جوناتھن فرانزن، جیمس پیٹرسن، سوزین کولنز اور ویئٹ تھان نوگئین شامل ہیں۔

خط میں مصنفین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہماری اجازت، مرضی، ہمارا نام یا ہمیں معاوضہ دیے بغیر آپ کے اے آئی سسٹم کے ذریعہ ہماری تخلیقات کا استعمال استحصال اور ناانصافی کے مترادف ہے۔" خط میں کہا گیا ہے، "یہ ٹیکنالوجیز ہماری زبان، کہانیوں، طرز تحریر اور آئیڈیاز کو نقل کرلیتی ہیں۔ لاکھوں کاپی رائٹ کتابیں، مضامین، مقالے اور نظمیں اے آئی سسٹمز کے لیے "خوراک" فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایسے لامحدود کھانے کی طرح ہیں جن کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جارہی ہے۔"

مصنفین نے کہا کہ "آپ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ لہذایہ مناسب ہوگا کہ آپ ہماری تخلیقات کا استعمال کرنے پر ہمیں معاوضہ ادا کریں کیونکہ ہماری تخلیقات کے بغیر مصنوعی ذہانت بے وقعت اور انتہائی محدود رہے گی۔" امریکی مصنفین نے گزشتہ ماہ اوپن اے آئی کو اپنے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو ٹرین کرنے کے لیے ان کی تخلیقات کے مبینہ غلط استعمال پر مقدمہ دائر کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UJ1eK2j

منگل، 18 جولائی، 2023

’چندریان-3‘ نے مدار تبدیل کرنے کا تیسرا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کیا، اِسرو نے کہا ’سب کچھ ٹھیک ہے‘

چندریان-3 چاند کے اپنے سفر پر آگے بڑھ رہا ہے اور اِسرو کا کہنا ہے کہ ابھی تک سب کچھ طے منصوبوں کے مطابق ہوا ہے۔ یعنی ہندوستان کے اس چاند مشن میں سب کچھ ٹھیک ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس مرتبہ چندریان کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کامیاب ہونے والی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق چندریان-3 نے مدار تبدیل کرنے کا اپنا تیسرا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔ اِسرو نے جانکاری دی ہے کہ مشن اپنے طے وقت پر ہے اور مدار (آربٹ) بدلنے کا تیسرا عمل (اَرتھ باؤنڈ آربٹ مینیووَر) بنگلورو سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔

اس سے قبل پیر کے روز چندریان-3 کامیابی کے ساتھ زمین کے دوسرے مدار میں داخل ہوا تھا۔ اِسرو نے اس سلسلے میں بیان جاری کر تفصیلی جانکاری بھی دی تھی۔ اِسرو نے اس وقت بتایا تھا کہ چندریان-3 زمین سے 41603 کلومیٹر x 226 کلومیٹر دور واقع زمین کے مدار میں موجود ہے۔ اس سے قبل اتوار کو چندریان-3 نے زمین کے پہلے مدار سے دوسرے مدار میں چھلانگ لگائی تھی۔ حالانکہ اب چندریان-3 تیسرے مدار میں چھلانگ لگا چکا ہے۔

واضح رہے کہ اِسرو نے 14 جولائی کو کامیابی کے ساتھ چندریان-3 مشن کو لانچ کیا تھا۔ یہ ہندوستان کا تیسرا مشن ہے جو چاند پر بھیجا گیا ہے۔ اس مشن کے تحت ہندوستان کا منصوبہ چاند کے جنوبی قطب پر چندریان-3 کی سافٹ لینڈنگ ہے۔ ہندوستان اگر اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ہندوستان ایسا کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ ابھی تک امریکہ، روس اور چین نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/2qfTcWG

جمعہ، 14 جولائی، 2023

چندریان-3 نے لانچنگ کے بعد چاند کی طرف اپنا سفر شروع کیا، پی ایم مودی نے پیش کی نیک خواہشات

کروڑوں ہندوستانیوں کی نظر آج چندریان-3 یعنی ہندوستان کے تیسرے چاند مشن کی لانچنگ پر مرکوز تھی۔ ٹھیک 2.35 بجے شری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ ہوئی اور پھر ستیش دھون خلائی مرکز میں جشن کا دور شروع ہو گیا۔ ہندوستان کے تیسرے چاند مشن کا آغاز انتہائی کامیاب ہوا ہے اور اِسرو چیف ایس سومناتھ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ایل وی ایم 3-ایم 4 راکیٹ نے چندریان 3 کو آربٹ میں نصب کر دیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ چندریان-3 نے تو چاند کی طرف اپنا سفر بھی شروع کر دیا ہے۔

چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سائنسدانوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کی ہے۔ اس وقت پی ایم مودی فرانس میں ہیں اور انھوں نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’چندریان-3 نے ہندوستان کے خلائی سفر میں ایک نیا باب لکھا ہے۔ یہ ہر ہندوستان کے خوابوں اور امیدوں کی اونچی پرواز ہے۔ یہ خاص حصولیابی ہمارے سائنسدانوں کی انتھک محنت و خود سپردگی کا ثبوت ہے۔ میں ان کے جذبے اور صلاحیت کو سلام کرتا ہوں۔‘‘

اِسرو کے سابق سائنسداں نمبی نارائن نے بھی چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ کے لیے اِسرو ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’’میں اِسرو ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں... امید کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک بہت ہی کامیاب مشن ہوگا۔‘‘ علاوہ ازیں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، مرکزی وزیر منسکھ منڈاویا، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما، سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش اور دیگر سیاسی و سماجی ہستیوں نے بھی سائنسدانوں کو چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ پر مبارکباد پیش کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آج صبح سے ہی ستیش دھون خلائی مرکز میں کافی ہلچل دیکھنے کو مل رہی تھی۔ چندریان-3 کی لانچنگ کی پوری تیاری ہو چکی تھی اور پورے ملک میں اس کی کامیابی کے لیے لوگ دعائیں کر رہے تھے۔ قبل سے مقررہ وقت 2.35 بجے چندریان-3 کو لانچ کیا گیا، اور اس کے ساتھ ہی سبھی کے چہرے کھِل اٹھے۔ چندریان-3 لانچ ہونے کے بعد بوسٹر اور پے لوڈ کو راکیٹ سے الگ کر دیا گیا، پھر چندریان-3 کا لانچ تیسرے اور آخری مرحلے میں پہنچا جب کرایوجنک انجن اسٹارٹ ہوا اور نچدریان کو لے کر وہ آگے کی طرف بڑھ گیا۔ بعد ازاں مشن ڈائریکٹر ایس موہن کمار نے جانکاری دی کہ چندریان-3 کامیابی کے ساتھ آربٹ میں نصب ہو گیا۔ یعنی چندریان-3 کامیاب لانچنگ کے بعد چاند کے سفر پر آگے بڑھ گیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QSs60ti

اتوار، 9 جولائی، 2023

ہڑپہ کا زوال اور ویدوں کا سوال

(43ویں قسط)

اس بات کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہڑپہ کی عظیم تہذیب کے زوال کے کئی اسباب ہوں گے۔ لمبے عرصہ کے سوکھے میں کھیتی کی بربادی نے اس تہذیب کی قوت کو ختم کیا اور اس کے ساتھ ہی میسوپوٹامیا (جو اس وقت خود بہت برے دور سے گزر رہی تھی) سے تجارت کے بند ہونے سے کاروبار اور سماجی زندگی بکھرنے لگی۔ وہاں کے لوگوں کے سامنے سواۓ اس کے کوئی اور راستہ نہی تھا کے وہ وہاں سے زیادہ زرخیزمشرق میں گنگا کی وادیوں اور جنوبی ہندوستان کی طرف ہجرت کریں اور پرانی چیزوں کو بھول کر ایک نئی شروعات کریں۔ ہڑپہ کی بکھرتی تہذیب کو ختم کرنے اور لوگوں کی ہجرت میں شاید سٹیپپے کے گھڑسوار جنگو آرینس کے آنے کا بھی آخری اہم رول رہا ہوگا۔

 حالانکہ ہڑپہ کی تہذیب تقریباً 1900 قبل مسیح کے آس پاس ختم ہوئی لیکن اپنے وقت کی سب سے بڑی تہذیب سے جڑے یہ لوگ، اپنی زبان، مذہب، کہانیاں، عقیدے، ریت رواج اور کلچر اپنے ساتھ لیکر کئی لہروں میں اور جگہوں پر جاکر وہاں پہلے سے بسے لوگوں میں گھل مل گئے۔ انھیں وقتوں کے اس پاس آرینس اپنی چراگاہوں میں گھومنے کے نئے طور طریقوں، گھڑ سواری اور metallurgy کے ہنر کو لائے اور اپنے زیادہ اثر رسوخ کی وجہ سے اپنی انڈو یورپین زبان اور مذہبی رسومات کو پھیلانے میں کامیاب ہوئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان پر ہڑپہ کے لوگوں کی تہذیب کے اثر سے بدلاؤ بھی آئے۔

 جنوبی ہندوستان میں ہڑپہ سے ہجرت کرنے والوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول تھا کیونکہ وہاں تجارت کی وجہ سے پہلے ہی کچھ ہڑپہ سے آئے لوگ موجود تھے جو اپنی ڈراوڈین زبانوں کو پھیلانے میں کامیاب تھے۔ جینیٹکس کی زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کے کہ ہڑپا کے لوگوں نے جنوبی ہندوستان جاکر وہاں لوگوں میں گھل ملکر جو شاخ بنائی وہ ہمارے Ancestral South Indians  ہیں اور مشرق میں آرینس کے ساتھ ملکر جو شاخ بنی وہ Ancestral North Indian ہیں۔ مختصرا ہڑپہ کے لوگ ہماری آبادی کا گوند ہیں یا ہمارے pizza کے اوپر پھیلی ٹماٹر کی چٹنی۔

ان سٹیپپے سے آنے والے اشرافیہ گھوڑوں پر گھومنے کے شوقین لوگوں کو بستیاں یا شہر بسانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ شاید اسی وجہ سے یہاں پر 500 قبل مسیح کے بعد ہی شہروں کا ابھرنا شروع ہوا یعنی آرینس کے آنے کے تقریبا ایک ہزارسال بعد اور اس بیچ ہڑپہ کے سنسان شہر دھول اور مٹی میں دبتے چلے گئے اور ہمکو ان کی حیرت انگیز تہذیب کے بارے میں صدیوں بعد پتا چلا۔

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گیں

 خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گیں...غالب۔

انتھنی نے اپنی مشور کتاب

"The Horse, the Wheel and the Language”  میں اس کا تفصیل سے ذکر کیا ہے کے ارینس گھاس کے میدانوں میں گھومنے والے جہاں بھی گئے وہاں اپنے اثر سے بسی آبادیوں اور شہروں کو ختم کیا۔ ہم کو یہ نہیں معلوم کے سٹیپپے سے آنے والے مختلف گروپ ہندوستان کن کن راستوں سے آئے لیکن یہ معلوم ہے کہ ویدوں اور خاص کر رگوید ( سب سے پرانا ہے۔ تاریخدانوں کے خیال میں یہ ویدک سنسکرت میں مذہبی منتر 1900 -1200 قبل مسیح میں بنے۔ حالانکہ یہ منتر آرینس کی مذہبی رسومات اور کائینات کی تشکیل کے بیانات ہیں لیکن ان سے آرینس کی زندگی کے طور طریقوں کی معلومات حاصل ہوتی ہے) اس میں اور کھدائی سے حاصل ہوئی ہڑپہ تہذیب میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کی شروع کے ویدوں میں ہڑپہ کے لوگوں کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بعد کے ویدوں کے بیانات میں ان دو مختلف تہذیبوں کے فرق کم ہوتے گئے۔

 رگوید کے خاص دیوتا: اندرا، ورونا اور اسوین ہیں جن کا ہڑپہ تہذیب کی حاصل ہوئی جیزوں میں کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی رگوید میں ہڑپہ کی ہزاروں موہروں پر بنی تصویروں کا کوئی ذکر ہے۔ ہڑپہ کی موہروں میں کثرت سے Unicorn کی تصویر اور موہن جودارو کے مشہورGreat Bath  کا کوئی حوالہ رگوید میں نہیں ہے۔ ہڑپہ تہذیب کے شہروں کی کھدائی سے یہ معلوم ہوا کی ان کی مذہبی رسومات میں لنگ (phallus god ) پوجا کی بہت اہمیت تھی لیکن رگوید میں اس کی طرف بہت نفرت کا اظہار ہے۔

 کھدائی کے مشہور ماہر  R۔S۔Bisht

جنہوں نے Dholavira کی کھدائی میں حاصل ہوئی چیزوں کو باریکی سے پرکھا) نے لکھا ہے کہ ان جگہوں پر لنگوں کو توڑنے اور مسخ کرنے کے صاف ثبوت ہیں۔ رگوید میں خاص ہدایت بھی ہے کے ان لنگوں کو اپنے پوجا گھروں کے نزدیک نہ آنے دو اور یہ ذکر بھی کے اندر دیوتا نے ان لنگ دیوتاؤں کو کیسے مار ڈالا۔ Bisht صاحب نے کھدائی کی رپورٹ میں لکھا ہے کے dholavira میں چھہ جگہوں پر لنگ ملے اور ہرجگہ ان کو ارادتاً مسخ کیا گیا تھا۔ مختصرا رگوید لنگ پوجا کی طرف خاص نفرت کا اظہار کرتا ہے جو ہڑپہ کی مذہبی رسومات کا اہم حصہ تھا۔

حالانکہ Bisht صاحب زیادہ تر تاریخ دانوں کے اس خیال سے متفق نہیں ہیں کے ہڑپہ تہذیب ویدک یا آرینس نہیں ہے (شاید سیاست کی وجہ سے) لیکن وہ یہ قبول کرتے ہیں کے وید لنگ پوجا کے خلاف ہیں اور ہڑپہ میں گھوڑے یا اس کی کسی بھی طرح کی تصویر کی غیر موجودگی ایک اہم مسلہ ہے جس کا حل شاید جبھی ہو پائے گا جب ہم ہڑپہ کی لکھی زبان کو پڑھنے میں کامیاب ہوں گے۔

شروع کے ویدوں میں ہڑپہ کی تہذیب کے ذکر کی غیر موجودگی اور اہم باتوں میں بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ مثلا ہڑپہ کو سبھی باہر کے لوگ Meluhha کے نام سے جانتے تھے۔ اپنے عروج کے وقت ہڑپہ کے لوگوں کا Mesopotamia کی تجارتی، سماجی اور سیاسی زندگی سے گہرا تعلق تھا اور ان رشتوں کی سہولت کے لیے انہوں نے عمان کے آس پاس اپنی نوابادیان بنائی جہاں معدنیات حاصل کرنے کے لیے کانکنی بھی شروع کی۔ ہڑپہ تہذیب کے لوگوں کی ان تمام حیرت انگیز کامیابیوں کا ویدوں میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ بغیر گھوڑے کے اہم مسئلہ کے بھی یہ صاف دکھائی دیتا ہے کے ویدوں کی دنیا کا ہڑپہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آرینس اور ہڑپہ تہذیب میں کوئی تعلق نہیں ہے، اس بحث میں گھوڑے کی کہانی کیوں اہم ہے اسکا ذکر اگلی قسط میں ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/2q7v9ZC

جمعہ، 7 جولائی، 2023

ٹوئٹر کا میٹا کو 'تھریڈز' بنانے پر قانونی کارروائی کی دھمکی

ٹوئٹر نے سوشل میڈیا کی عالمی کمپنی میٹا کو اپنا نیا ٹیکسٹ ایپ تھریڈزلانچ کرنے پر قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کے وکیل کی جانب سے میٹا کے سی ای او مارک زکر برگ کے نام ایک آن لائن نیوز پورٹل پرایک خط شائع کیا گیا ہے جس میں سوشل میڈیا ایپ تھریڈز کی لانچ کرنے پر میٹا پر ہرجانے کا مقدمہ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ایلون مسک کے وکیل الیکس سپارو نے خط میں لکھا کہ، "ٹوئٹر اپنے حقوق املاک دانش کو سختی سے نافذ کرنا چاہتا ہے۔ اور میٹا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ٹوئٹر کے تجارتی راز اور دوسری اہم معلومات استعمال کرنا بند کرے۔" انہوں نے تھریڈز کو ٹوئٹر کی "ہوبہو نقل"قرار دیا ہے۔

ٹوئٹر کے وکیل نے اپنے خط میں الزام لگایا کہ میٹا نے ٹوئٹر کے سابقہ ملازمین کو ملازمت پر رکھا ہے جن کے پاس ان کے بقول ٹوئٹر کے تجارتی رازوں اور اہم معلومات تک رسائی تھی، اور اب بھی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ یہ خط میٹا کوایک "رسمی نوٹس" ہے تاکہ وہ ممکنہ قانونی کارروائی کی صورت میں تمام متعلقہ دستیاویزات کو محفوظ رکھے۔

میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے سپارو کے الزامات کے جواب میں نئے ایپ پر لکھا، "تھریڈز کی انجینئرنگ ٹیم میں ٹوئٹر کا کوئی بھی سابق ملازم نہیں ہے۔ یہ (ایپ) ایک نئی چیز ہے۔" ایسوی ایٹیڈ پریس نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ جب اس نے اس معاملے پر تبصرہ کے لیے ٹوئٹر سے رابطہ کیا تو اسے ایک پوپ ایموجی موصول ہوا۔ ارب پتی کاروباری ایلون مسک کی قیادت میں کمپنی کی جانب سے صحافیوں کے تئیں رویے کاایک معیاری خود کار اظہار ہے۔

تھریڈز ہے کیا؟

میٹا کا تھریڈز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر سے بہت حد تک مشابہ ہے۔ تھریڈز پر مائکروبلاگنگ کا تجربہ ٹوئٹر سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ پانچ سو حرفوں تک ٹوئٹ کی طرح ہی کی کسی بھی پوسٹ کو یہاں پر تھریڈ کہا جاتا ہے۔ اس پوسٹ میں الفاظ کے علاوہ فوٹو، لنک اور پانچ منٹ تک کی ویڈیو بھی پوسٹ کی جا سکتی ہے۔صارفین ٹوئٹر کی طرح ہی کسی بھی تھریڈ کو ری پوسٹ، رپلائی، اور کوٹ کر سکتے ہیں۔

میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ کے بقول تھریڈز کا مقصد ایک دوستانہ جگہ بنانا ہے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ ٹوئٹر کبھی بھی زیادہ کامیاب نہ ہوسکا، اور وہ اس بار کچھ مختلف کرنا چاہتے ہیں۔ تھریڈز کو ایلون مسک کی ملکیت والے ٹوئٹر کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج مانا جا رہا ہے۔ ویسے اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا کے ممکنہ حریفوں کا ایک سلسلہ سامنے آتا رہا ہے، تاہم کوئی بھی اب تک ٹوئٹر کے قریب نہیں پہنچ سکا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FQChHxW