بدھ، 22 نومبر، 2023

گزشتہ 3 سالوں میں اوزون کی سطح پر موجود سراخ مزید وسیع ہو گیا، نئی تحقیق میں دعویٰ

ماحولیاتی تبدیلی کے سبب اوزون کی سطح میں موجود سراخ لگاتار وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ نئی تحقیق میں گزشتہ تین سالوں کے دوران انٹارکٹک اوزون سراخ بڑھنے کی یہ بات سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں پایا گیا ہے کہ عوامی سوچ کے برعکس اوزون سطح میں سراخ گزشتہ تین سال میں سب سے بڑا رہا ہے۔ ’نیچر کمیونکیشنز جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق محققین نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں انٹارکٹک کے اوپر اوزون کی سطح قابل ذکر طور سے بڑا ہو گیا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق اوزون سطح میں سراخ طویل وقت تک بنا رہا ہے۔ حالانکہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس کے لیے صرف کلوروفلورو کاربن (سی ایف سی) ہی ذمہ دار نہیں ہے۔ سی ایف سی دراصل کاربن، ہائیڈروجن، کلورین اور فلورین پر مشتمل گرین ہاؤس گیسوں کو کہا جاتا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ اوزون سطح میں سراخ کا سائز لگاتار بڑھ رہا ہے۔ زمین کی فضا میں اوزون سطح لوگوں کو امراض جلد سے بچانے میں مدد کرتی ہے۔ سورج کی مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روکنے میں اوزون لیئر بہت اہم کردار نبھاتے ہیں۔

نئی اسٹڈی کی چیف رائٹر حنا کیسینچ ہیں۔ حنا نیوزی لینڈ کی اوٹاگو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی امیدوار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انٹارکٹک اوزون سطح پر مطالعہ کرنے کے دوران ریسرچ ٹیم کو 19 سال قبل کے مقابلے میں سراخ کے مرکز میں بہت کم اوزون ملا۔ حنا کے مطابق تحقیق کے دوران پائی گئی باتوں کا مطلب ہے کہ اوزون سطح میں سراخ کا سائز بڑا ہوا ہے۔ ساتھ ہی بیشتر بسنت موسم کے دوران سراخ زیادہ بڑا اور گہرا بھی ہے۔ ریسرچ ٹیم نے 2004 سے 2022 کی مدت میں ماہانہ اور روزانہ اوزون تبدیلی کا تجزیہ کیا۔ انٹارکٹک اوزون سراخ کے اندر الگ الگ اونچائی اور عرض بلد پر مطالعہ کیا گیا۔

ریسرچ کر رہیں حنّا نے کہا کہ تحقیق کے دوران ہم نے اوزون کی سطح کمزور ہونے اور انٹارکٹک کے اوپر قطبی بھنور میں آنے والی ہوا میں تبدیلی کے درمیان رشتہ کے بارے میں پتہ لگایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حال کے سالوں میں بڑے اوزون سراخ کی وجہ صرف سی ایف سی نہیں ہو سکتے۔ محققین کا ماننا ہے کہ اوزون سطح میں سراخ کی وجہ بے حد پیچیدہ ہے۔ اوزون سطح کو تباہ کرنے والی اشیا کا استعمال بند کرنے کے لیے 1987 کا مانٹریل پروٹوکول اپنایا گیا۔ اس کے تحت اوزون کو تباہ کرنے والے انسان کے ذریعہ تیار کیمیائی مصنوعات کے پروڈکشن اور اس کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/j9b8UH4

ہفتہ، 18 نومبر، 2023

چندریان-4: اس بار 30 کلو کی جگہ 350 کلو کا لینڈر چاند کی سطح پر اتارنے کے تئیں اِسرو پرعزم!

چندریان-3 کی کامیابی کے بعد ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) نے اب مزید دو چاند مشن کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ احمد آباد واقع اسرو سنٹر کے ڈائریکٹر نلیش دیسائی نے ہندوستانی موسمیاتی سائنس ادارہ کے 62ویں یومِ تاسیس پر جمعہ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس سلسلے میں اہم جانکاریاں دیں۔ انھوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’ہم اس بار چاند کی قطبی تحقیق کے مشن پر کام کرنے جا رہے ہیں۔ چندریان-3 سے ہم 70 ڈگری تک گئے تھے، اس بار 90 ڈگری تک جانے کا منصوبہ ہے۔‘‘

نلیش دیسائی نے بتایا کہ سائنسداں چاند کے تاریک حصے کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لیے ہم 90 ڈگری تک جائیں گے اور وہاں ایک بڑے رووَر کو اتاریں گے۔ اس کا وزن 350 کلوگرام تک ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ چندریان-3 کا رووَر صرف 30 کلوگرام کا تھا۔ یعنی چندریان-4 مشن میں لینڈر بھی بہت بڑا ہوگا۔ اس مشن کے تعلق سے نلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے چندریان-4 مشن کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسے لونر سیمپل ریٹرن مشن کہا جائے گا۔ اس مشن میں ہم چاند پر اتریں گے اور اس کی سطح سے نمونہ لے کر واپس آ سکیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا مستقبل میں کئی اہم پروجیکٹ پر اِسرو کے ساتھ مل کر کام کرنے والا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں اعلیٰ سطح پر گفت و شنید بھی ہوئی۔ ناسا جیٹ پروپلشن لیباریٹری کے ڈائریکٹر لاری لیشن نے اِسرو ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور اِسرو چیف و خلائی محکمہ کے سکریٹری ایس سومناتھ کے ساتھ میٹنگ کی۔ اِسرو نے اس ملاقات کے بعد کہا کہ ’’یہ بے حد خوشی کی بات ہے۔ ڈاکٹر لاری لیشن نے ’ناسا-اِسرو سنتھیٹک ایپرچر رڈار (این آئی ایس اے آر)‘ کو کامیاب بنانے میں اِسرو کے یو آر راؤ سیٹلائٹ سنٹر (یو آر ایس سی) میں ایک ٹیم کی شکل میں مل کر کام کیا۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GKsfEie

جمعہ، 17 نومبر، 2023

’چیٹ جی پی ٹی‘ بنانے والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے ’سی ای او‘ سیم آلٹ مین کو کیا برطرف

واشنگٹن: چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے جمعہ کو کہا کہ اس نے سی ای او سیم آلٹ مین کو برطرف کر دیا ہے۔ کمپنی کو لگتا ہے کہ وہ اب مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ فرم کی قیادت کرنے کے قابل نہیں ہے۔

اے ایف پی کی خبر کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کو تقریباً ایک سال قبل 38 سالہ آلٹ مین نے تیار کیا تھا۔ چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے اجراء کے ساتھ وہ ٹیک کی دنیا میں ایک سنسنی بن گئے، جو بے مثال صلاحیتوں والا مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ ہے۔ چیٹ جی پی ٹی چند لمحات میں وہ کام دیتا ہے جسے کرنے میں گھنٹوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

اوپن اے آئی بورڈ نے ایک بیان میں کہا، ’’آلٹ مین کو برطرف کرنے کا فیصلہ انتہائی غور و فکر کے ساتھ کیا گیا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد بورڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ سیم آلٹ مین اپنے کام کے بارے میں واضح نہیں تھے، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنے کام کو انجام دینا مشکل ہو گیا تھا۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ "بورڈ کو اب اوپن اے آئی کی قیادت جاری رکھنے کی ان کی صلاحیت پر اعتماد نہیں ہے۔‘‘

پچھلے سال ایپ کو جاری کرنے کے آلٹ مین کے فیصلے کے ایسے نتائج نکلے جن کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، جس نے مسوری میں پیدا ہونے والے اسٹینفورڈ کے طالب علم کو گھریلو شہرت اور اسٹارڈم کی طرف راغب کیا۔ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ اے آئی ریس کا آغاز ہوا، جس میں ٹیک کمپنیاں ایمیزون، گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ’’بورڈ اوپن اے آئی کے قیام اور ترقی میں سیم کی بہت سی شراکتوں کے لیے شکر گزار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کے ساتھ نئی قیادت ضروری ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ آلٹ مین کی جگہ کمپنی کی چیف ٹیکنالوجی آفیسر میرا موراتی کو عبوری بنیادوں پر مقرر کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ehuzg4D

جمعرات، 16 نومبر، 2023

دماغ کو زندہ رکھنے اور پڑھنے کے آلات ایجاد

سائنسدانوں نے دماغ کو جسم سے الگ کر کے زندہ رکھنے کا ڈیوائس یا آلہ ایجاد کر لیا ہے۔ اس ڈیوائس کے ذریعے نئی ٹیکنالوجی اور تحقیق کی کا راستہ ہموار ہوگا جو آج سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے جو دماغ کے جسم کے باقی حصوں سے آزاد یا الگ ہونے کے باوجود دماغ کو زندہ رکھ سکتا ہے۔

امریکہ میں یو ٹی ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کے ریسرچرز ،کیٹامین کے ساتھ اینستھیٹائزڈ ،خنزیر کے دماغ میں خون کے بہاؤ کو الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ کمپیوٹرائزڈ الگورتھم نے ضروری بلڈ پریشر، حجم، درجہ حرارت اور غذائی اجزاء کو برقرار رکھا جس کی عضو کو ضرورت ہوتی ہے۔ نیورولوجسٹ کی ٹیم نے رپورٹ کیا کہ دماغ کی سرگرمی میں پانچ گھنٹے کی مدت میں کم سے کم تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، باوجود اس کے کہ جسم کے باقی حصوں سے کوئی حیاتیاتی ان پٹ حاصل نہیں ہوا۔

سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے کی کامیابی سے دوسرے جسمانی افعال کے اثر کے بغیر، انسانی دماغ کا مطالعہ کرنے کے لیے نئے طریقے پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں دماغ کی پیوند کاری یا ٹرانسپلانٹ کے امکانات کو روشن کرتی ہے۔

یوجین میک ڈرموٹ سینٹر میں نیورولوجی، پیڈیاٹرکس اور فزیالوجی کے پروفیسر جوآن پاسکول نے کہا،یہ نیا طریقہ ایسی تحقیق کو ممکن بناتا ہے جو جسم سے آزاد دماغ پر مرکوز ہے، جس سے ہمیں جسمانی سوالات کے جوابات اس طریقے سے دینے کی اجازت ملتی ہے جو کبھی نہیں کیا گیا تھا۔

اپنی نوعیت کا پہلا نظام، جسے ایکسٹرا کارپوریل پلسٹائل سرکولیٹری کنٹرول (ای پی سی سی) کہا جاتا ہے، پہلے ہی بیرونی عوامل پر غور کیے بغیر دماغ پر ہائپوگلیسیمیا کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔ کم بلڈ شوگر کی تحقیق میں عام طور پر جانوروں کے کھانے کی مقدار کو محدود کرنا، یا انہیں انسولین کے ساتھ خوراک دینا شامل ہے، تاہم جانوروں کے جسموں کے پاس میٹابولزم کو تبدیل کرکے ان عوامل کی تلافی کرنے کے اپنے قدرتی طریقے ہیں۔ اس طرح دماغ کو الگ تھلگ کرنے سے ریسرچرز کو جسم کے قدرتی دفاعی میکانزم سے آزادانہ طور پر غذائی اجزاء کی مقدار کے اثرات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔

اس تحقیق کی تفصیل ’سائنسی رپورٹس ‘نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے ، جس کا عنوان تھا ’مین ٹیننس آف پگ برین فنکشن انڈر ایکسٹرا کارپوریل پلسٹائل سرکولیٹری کنٹرول (ای پی سی سی)‘ ۔

دماغ کے تعلق سے ایک اور پیش رفت میں سائنسدانوں نے دماغ پڑھنے والا آلہ بھی ایجاد کر لیاہے۔ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ دماغی کمپیوٹر انٹرفیس کی دیگر ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں تیز اور کم بوجھل ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسا دماغی امپلانٹ ایجاد کیا ہے جو اس کے پہننے والوں کو صرف خیالات کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بات چیت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی کے نیورو سائنسدانوں، نیورو سرجنز اور انجینئرز کی طرف سے تیار کردہ ـ اسپیچ پروسٹھیٹک یا مصنوی بولی ـ دماغی اشاروں کو الفاظ میں تبدیل کرنے کے قابل ہے۔ریسرچرز کا دعویٰ ہے کہ دماغی کمپیوٹر انٹرفیس اور دماغ پڑھنے والی دیگر ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں اسپیچ پروسٹھیٹک ’نیورولوجیکل ڈس آرڈر‘ یا اعصابی عوارض میں مبتلا لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔

ڈیوک یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن میں نیورولوجی کے پروفیسر گریگوری کوگن کے مطابق بہت سے مریض ایسے عارضوں میں مبتلا ہیں جیسے لاک ان سنڈروم، جو ان کی بولنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔لیکن ان کو بات چیت کرنے کے لیے دستیاب موجودہ ٹولز عام طور پر بہت سست اور بوجھل ہیں۔

سائنس دانوں کی ٹیم 256 خاص طور پر ڈیزائن کئے گئے مائکروسکوپک دماغ کے سینسروں کو میڈیکل گریڈ پلاسٹک کے ڈاک ٹکٹ سائز کے ٹکڑے پر پیک کرنے میں کامیاب رہی، جس کا تجربہ دماغ کی سرجری سے گزرنے والے مریضوں پر کیا گیا تھا ،جیسے کہ ٹیومر کو ہٹانا وغیرہ۔

اس تجربہ کے شرکاء سے کہا گیا کہ وہ بے تکے یا بے معنی الفاظ سنیں اور پھر انہیں بلند آواز میں بولیں۔ صرف 90 سیکنڈ کے بولے گئے ڈیٹا کے ساتھ، پھر عصبی سرگرمی کو الفاظ میں بیان کرنے کے لیے ایک اے آئی الگورتھم استعمال کیا گیا۔ ریسرچرز اب اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اس کی رفتار کو بہتر بنایا جا سکے اور اسے وائرلیس بنایا جا سکے۔ مزید براں اسے جاری رکھنے کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے 24 لاکھ ڈالر کی گرانٹ فراہم کی ہے۔

پروفیسر کوگن کے مطابق مریض گھومنے پھرنے کے قابل ہو جائیں گے اور انہیں بجلی کے آؤٹ لیٹ سے منسلک نہیں ہونا پڑے گا، جو کہ واقعی دلچسپ ہے۔ ڈیوک انسٹی ٹیوٹ فار برین سائنسز کے فیکلٹی ممبر جوناتھن ویوینٹی کے مطابق ہم اس مقام پر ہیں جہاں یہ قدرتی تقریر کے مقابلے میں اب بھی بہت سست ہے، لیکن آپ اس رفتار کی پیش رفت کو دیکھ کر پرامید ہو سکتے ہیں کہ آپ وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

تحقیق کا ایک تفصیلی مطالعہ ’نیچر کمیونیکیشنز‘ نامی جریدے میں ’ہائی ریزولوشن نیورل ریکارڈنگز اسپیچ ڈی کوڈنگ کی درستگی کو بہتر بناتی ہیں‘ کے زیر عنوان شائع ہوا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/tjk64Xw

بدھ، 15 نومبر، 2023

دنیا کا سب سے تیز انٹرنیٹ ہوا لانچ، ایک سیکنڈ میں 150 فلم ڈاؤن لوڈ کرنے کی صلاحیت!

کیا آپ یقین کریں گے کہ انٹرنیٹ کی اسپیڈ اتنی زیادہ ہو جب ایک سیکنڈ میں 150 فلمیں ڈاؤن لوڈ کی جا سکیں۔ ایسا ممکن بنایا ہے چین کی کمپنیوں نے۔ دراصل دنیا کا سب سے تیز انٹرنیٹ لانچ ہو چکا ہے۔ چینی کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس انٹرنیٹ کے ذریعہ 1.2 ٹیرا بائٹ (ٹی بی) فی سیکنڈ پر ڈاٹا ٹرانسمٹ کیا جا سکتا ہے۔ جنوبی چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ انٹرنیٹ اسپیڈ فی الحال دنیا میں موجود سب سے تیز انٹرنیٹ اسپیڈ کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ تیز ہے۔ پہلے ایسا اندازہ تھا کہ چین یہ انٹرنیٹ اسپیڈ 2025 میں حاصل کر سکے گا، لیکن اس نے سبھی کو حیران کرتے ہوئے 2023 میں ہی یہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ پروجیکٹ سنگھوا یونیورسٹی، چائنا موبائل، ہواویئی ٹیکنالوجیز اور سینینٹ کارپوریشن نے مل کر لانچ کیا ہے۔ 3000 کلومیٹر سے زیادہ چوڑائی تک پھیلا یہ نیٹورک ایک وسیع آپٹیکل فائبر کیبلنگ سسٹم کے ذریعہ سے بیجنگ، وُہان اور گوانگژو کو جوڑتا ہے۔ یہ فی سیکنڈ حیرت انگیز 1.2 ٹیرا بائٹ (1200 گیگا بائٹس) فی سیکنڈ ڈاٹا ٹرانسمٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا کے بیشتر انٹرنیٹ بیک بون نیٹورک صرف 100 گیگا بائٹس فی سیکنڈ پر کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ میں بھی انٹرنیٹ کے حالیہ اَپگریڈ کے بعد اسپیڈ 400 جی بی فی سیکنڈ تک ہی ہے، جو چین کے نئے نیٹورک سے بہت پیچھے ہے۔

بیجنگ-وُہان-گوانگژو کنکشن دیرینہ فیوچر انٹرنیٹ ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر (ایف آئی ٹی آئی) پروجیکٹ کا حصہ ہے، جو ایک دہائی سے چل رہا ہے۔ یہ جولائی میں فعال ہوا اور پیر کے روز آفیشیل طور پر لانچ کیا گیا۔ اس انٹرنیٹ نیٹورک نے سبھی آپریشنل ٹیسٹ کو پار کر لیا ہے اور بھروسہ مند کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ چین جلد ہی اس ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس کی توسیع ملک کے دیگر حصوں میں بھی کرے گا۔

بہرحال، ہواویئی ٹیکنالوجیز کے نائب سربراہ وانگ لیئی نے بتایا کہ اس نیٹورک کی اصل اسپیڈ کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ’’صرف ایک سیکنڈ میں 150 ہائی ڈیفنشن (ایچ ڈی) فلموں کے برابر ڈاٹا ٹرانسفر کرنے میں اہل ہے۔‘‘ اس درمیان چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ایف آئی ٹی آئی پروجیکٹ لیڈر وو جیانپنگ نے کہا کہ سپر فاسٹ لائن نہ صرف ایک کامیاب آپریشن تھا، بلکہ یہ چین کو مزید تیز انٹرنیٹ بنانے کے لیے ایڈوانس ٹیکنالوجی بھی دیتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QqBO9EW

منگل، 14 نومبر، 2023

’نثار‘ مشن پر ساتھ مل کر کام کر رہے اِسرو اور ناسا، 2024 میں مشن لانچ کرنے کی تیاری

ہندوستانی خلائی ایجنسی اِسرو اور امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنسداں ایک ساتھ مل کر ’نثار‘ (این آئی ایس اے آر) مشن پر کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جیٹ پروپلشن لیباریٹری (جے پی ایل)، نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کی ڈائریکٹر لاری لیشن نے کہا کہ ’’دونوں خلائی ایجنسیوں اسرو اور ناسا کے سائنسداں ناسا-اِسرو سنتھیٹک ایپرچر رڈار (این آئی ایس اے آر) مشن پر مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ خلائی طیارہ سے آنے والے ڈاٹا کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ نثار مشن کو 2024 کے شروع میں لانچ کیا جانا ہے۔ نثار (ناسا-اسرو سنتھیٹک ایپرچر رڈار) کی مختصر شکل ناسا اور اِسرو کے ذریعہ مشترکہ طور سے تیار کی جا رہی ہے تاکہ زمین کی سطح اور برف کی سطح کی سرگرمیوں کو بے حد باریکی سے ٹریک کیا جا سکے۔ لیشن نے بنگلورو میں خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ ’’ہم نثار پر ناسا اور اِسرو کے درمیان کام کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں، جو زمین کی سطح کو دیکھنے کے لیے ایک رڈار مشین ہے اور ساتھ ہی بتائے گا کہ یہ کس طرح تبدیل ہو رہی ہے۔ ہندوستان میں وہ یہ سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ساحلوں پر مینگروو ماحول کیسا ہے اور کس طرح بدل رہا ہے۔ ہم پتہ لگائیں گے کہ برف کی چادریں کس طرح بدل رہی ہیں اور دنیا بھر میں زلزلے و آتش فشاں کیسے آ رہے ہیں۔ ہماری زمین کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے کئی الگ الگ پہلو ہیں۔‘‘

لیشن کا کہنا ہے کہ ’’بنگلورو میں جے پی ایل (جیٹ پروپلشن لیباریٹری) کے ہمارے ساتھی کا اِسرو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنا بہت دلچسپ رہا ہے۔ حیرت انگیز تعاون، شاندار ٹیم وَرک اور ایک دوسرے سے سیکھنا، ٹیم بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ مشن پر اِسرو اور ناسا مل کر 50-50 فیصد کی طرح کام کر رہے ہیں۔‘‘ ناسا سے تعلق رکھنے والی لیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ زمینی سائنس سے الگ ہر طرح کی چیزوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، غالباً چاند اور مریخ سیارہ پر مستقبل کے مشنوں میں بھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/e3iDrZ2

بدھ، 8 نومبر، 2023

عالمی سطح پر 2023 گرم ترین سال، اکتوبر سب سے زیادہ گرم مہینہ

اکتوبر کا ریکارڈ درجہ حرارت اس بات کی ضمانت ہے کہ 2023 گرم ترین سال ہو گا۔ صنعتی دور سے پہلے اس مہینے کے اوسط سے موازنہ کریں تو یہ 1.7 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم رہا اور مسلسل پانچواں مہینہ جس کی بنا پر 2023 کو یقینی طور پر اب تک کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا۔

اس سال اکتوبر کا مہینہ 2019 کے پچھلے ریکارڈ کے مقابلے میں 0.4 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم تھا۔ مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹس کے مطابق یورپی موسمیاتی ایجنسی ،کلائمیٹ چینج سروس، جو عالمی سطح کی ہوا ،سمندری درجہ حرارت اور دیگر اعداد و شمار کا مشاہدہ شائع کرتی ہے، کی ڈپٹی ڈائریکٹر سمانتھا برجیس نے کہا ہےکہ جس حساب سے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں وہ حیران کن ہے۔ پچھلے کئی مہینوں کی مجموعی حدت کے بعد، اس بات کو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ 2023 گرم ترین سال ریکارڈ ہوگا۔

سائنس دان آب و ہوا کے متغیرات کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ ہمارا سیارہ انسانی پیدا کردہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے نتیجے میں کیسے تیار ہو رہا ہے۔ ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں گلوبل فیوچر لیبارٹری کے نائب صدر پیٹر شلوسر کے مطابق گرم سیارے کا مطلب ہے شدید موسم اور شدید واقعات جیسے خشک سالی یا سمندری طوفان جن میں زیادہ پانی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، یہ ایک واضح نشانی ہے کہ ہم ایک ایسے موسمیاتی نظام میں جا رہے ہیں جس کا زیادہ سے زیادہ لوگوں پر اثر پڑے گا۔ہمیں اس انتباہ کو بہتر طور پر لینا چاہیے بلکہ حقیقت میں ہمیں 50 سال پہلے لینا چاہیے تھا اور صحیح نتیجہ اخذ کرنا چاہیے تھا۔

یہ سال غیر معمولی طور پر بہت گرم رہا ہے کیونکہ سمندر گرم ہو رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ ماضی کے مقابلے میں گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے میں کمزور پڑرہے ہیں۔ برجیس کے مطابق ،تاریخی طور پر سمندر نے موسمیاتی تبدیلی سے 90 فیصد اضافی گرمی جذب کر لی ہےلیکن ’ال نینو‘ کے سبب آنے والے مہینوں میں مزید گرمی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ال نینو قدرتی آب و ہوا کا ایک ایساچکر ہےجو سمندر کے کچھ حصوں کو عارضی طور پر گرم کرتا ہے اور دنیا بھر میں موسمی تبدیلیوں کو چلاتا ہے۔شلوسر نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کو اس حدت کے نتیجے میں مزید ریکارڈ ٹوٹنے کی توقع کرنی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چھوٹے قدم آگے بڑھیں گے۔ زمین پر درجہ حرارت پہلے ہی صنعتی دور سے پہلے کے مقابلہ 1.5 ڈگری سیلسیس سے بڑھ رہا ہے جسے پیرس معاہدے کے مقاصد کے تحت محدود کرنا تھا۔ دوسرے یہ کہ زمین نے ابھی تک اس حدت کا مکمل اثر نہیں دیکھا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سیارے کوگرم کرنے والے اخراج کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیریس نے 20 ستمبر کو منعقد ہوئے موسمیاتی سربراہی اجلاس میں ’جہنم کے دروازے‘ سے خبردار کیا، لیکن کاربن آلودگی پھیلانے والے ممالک خاموش رہے۔ اعلیٰ بین الاقوامی عہدیداروں نے کہا کہ دنیا کے رہنما اب بھی گرمی بڑھانےوالی گیسوں کی آلودگی کو روکنے کے لیے کافی کام نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اخراج کرنے والی بڑی قوموں سے مزید کام کرنے کی التجا کی۔ لیکن وہ قومیں خاموش رہیں۔ انہیں بولنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ منتظمین کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی نیا اقدام نہیں تھا۔ اقوام متحدہ نے صرف ان ممالک کوبلایا تھاجنہوں نے اپنی کوششوں پر زور دیا ہے، اور یہ ممالک دنیا کی سالانہ کاربن آلودگی کے صرف نویں حصے کے ذمہ دار ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے آب و ہوا کے عزائم پرخصوصی سربراہی اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں، گرمی کے خوفناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پریشان کسان سیلاب کی زد میں آنے والی فصلوں کو بہتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت بیماری کو جنم دیتا ہے اور ہزاروں لوگ تاریخی بھڑکتی آگ کے خوف سے بھاگ رہے ہیں۔

اس سربراہی اجلاس میں صرف ان عالمی رہنماؤں کو بلایا گیا تھا جو نئے ٹھوس اقدامات کے ساتھ آئے لیکن ان ممالک کے رہنماؤں نے جو خود سب سے زیادہ گرمی پیدا کرنے والی گیسوں کا اخراج کرتے ہیں انہوں نے پوچھنا بھی گوارا نہیں سمجھا۔ چین، امریکہ ، ہندوستان، روس، برطانیہ اور فرانس کے سربراہان مملکت نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ امریکہ، جس نے کئی دہائیوں کے دوران فضا میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کیا ہے، اپنے آب و ہوا کے ایلچی جان کیری کو سربراہی اجلاس میں بھیجا تھا لیکن کیری کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

اس کے برعکس امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم کو بات کرنے اور ان کی ریاست کی کوششوں کو بیان کرنے کی اجزت دی گئی۔علاوہ ازیں یورپی کمیشن کے صدر کو بھی بولنے کی اجازت دی گئی۔ 32 قومی رہنما جنہوں نے کوالیفائی کیا وہ دنیا کی کاربن ڈائی آکسائیڈ آلودگی کے صرف 11 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چین اور امریکہ دونوں ان 32 ممالک سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔

اگرچہ 2015 میں دنیا نے صنعتی دور سے پہلے سے گرمی کو 1.5 ڈگری سیلسیس (2.7 ڈگری فارن ہائیٹ) تک محدود کرنے کا ہدف اپنایا تھا، اس کے بجائے زمین 2.8 ڈگری سیلسیس (5 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہے – 19ویں صدی کے وسط سے اب تک دنیا پہلے ہی کم از کم 1.1 ڈگری سیلسیس گرم کر چکی ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ گٹیرس نے ایک خطرناک اور غیر مستحکم دنیا سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی مستقبل طے نہیں ہے۔ یہ دنیا کےلیڈروں پر منحصر ہے کہ وہ اس کا تعین کریں۔ انہوں نے زیادہ اخراج کرنے والے ممالک ، جنہوں نے حیاتیاتی یا فوسل ایندھن سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ، سے اخراج کو کم کرنے کے لئے اضافی کوششیں کرنے اور دولت مند ممالک سے اس ضمن میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مدد کرنے پر زور دیا۔لیکن وہ سب ممالک خاموش ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/apQc9ZB