منگل، 27 فروری، 2024

ہندوستان میں 70.7 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ’او ٹی ٹی‘ سروسز سے لطف اندوز

ممبئی: ہندوستان میں تقریباً 86 فیصد انٹرنیٹ صارفین (70.7 کروڑ) او ٹی ٹی آڈیو-ویڈیو سروسز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ انکشاف منگل کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا (آئی اے ایم اے آئی)، مارکٹنگ ڈیٹا اور انالیٹیکل کمپنی کانتار نے مشترکہ طور پر ’انٹرنیٹ ان انڈیا رپورٹ 2023‘ تیار کی ہے۔

رپورٹ سے معلوم چلا کہ اہم طور پر اسمارٹ ٹی وی، اسمارٹ اسپیکر، فائر اسٹکس، کروم کاسٹ، بلو رے وغیرہ سے چلنے والے غیر رسمی آلات کے ذریعے او ٹی ٹی سے لطف اندوز ہونے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر ملک بھر میں 2021-23 کے درمیان ان میں 58 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

آئی اے ایم اے آئی کے چیئرمین اور ڈریم اسپورٹس کے شریک بانی ہرش جین نے کہا، ’’انٹرنیٹ ان انڈیا آئی سی یو بی ای-2023 کے مطالعہ پر مبنی ہے، جس میں لکشدیپ کے علاوہ ہندوستان کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 90000 سے زیادہ گھرانوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال کا سب سے بڑا سروے ہے۔‘‘ انہوں نے یہ رپورٹ جیو ورلڈ کنونشن سنٹر میں انڈیا ڈیجیٹل سمٹ-2024 کے افتتاحی اجلاس میں جاری کی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روایتی لینئر ٹی وی (181 ملین) کے مقابلے زیادہ لوگ صرف انٹرنیٹ ڈیوائسز (208 ملین) پر ویڈیو مواد تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کے دیگر اعلیٰ استعمال کے معاملات میں مواصلات (621 ملین صارفین) اور سوشل میڈیا (575 ملین صارفین) شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، دیہی ہندوستان کے صارفین ان تمام استعمال کے معاملوں میں آگے ہیں، جو کی ہر استعمال کے معاملہ میں 50 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں۔

ہندوستان میں انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی رسائی نے 80 کروڑ کا نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ 2023 میں کل فعال انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 82 کروڑ تک پہنچ گئی، جس کا مطلب ہے کہ پچھلے سال 55 فیصد سے زیادہ ہندوستانیوں نے انٹرنیٹ استعمال کیا ہے۔

رپورٹ کے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انسائٹس کے پونیت اوستھی نے کہا، ’’ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رسائی میں سال بہ سال 8 فیصد کی معمولی شرح سے اضافہ ہوا۔ دیہی ہندوستان اکثریت میں ہیں جن کی تعداد 44.2 کروڑ یعنی 53 فیصد سے زیادہ ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/A6uDdGf

ہندوستان کا پہلا انسان بردار خلائی مشن جلد روانہ ہوگا، وزیر اعظم مودی نے کیا 4 خلابازوں کے ناموں کا اعلان

اسرو کے گگن یان مشن کے لیے خلا میں جانے والے چار خلابازوں کے ناموں کا انکشاف ہو گیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں انہوں نے گگن یان مشن کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور نامزد خلابازوں سے ملاقات کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم مودی نے جن ناموں کا اعلان کیا ہے ان میں فائٹر پائلٹ پرشانت بالا کرشنن نائر، انگد پرتاپ، اجیت کرشنن اور شوبھانشو شکلا شامل ہیں۔ ان میں سے، پرشانت کیرالہ کے پلکاڈ کے نین مارا کے رہائشی ہیں، جو فضائیہ کے گروپ کیپٹن کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ چار خلاباز ہندوستان میں ہر قسم کے لڑاکا طیارے اڑا چکے ہیں اور لڑاکا طیاروں کی خامیوں اور خصوصیات سے واقف ہیں ۔ ان تمام کو روس کے شہر جیوگنی میں واقع روسی خلائی تربیتی مرکز میں تربیت دی گئی ہے۔ فی الحال، یہ سبھی بنگلورو میں خلائی مسافر کی تربیتی سہولت میں تربیت لے رہے ہیں۔

سلیکشن انسٹی ٹیوٹ آف ایرو اسپیس میڈیسن (آئی اے ایم) نے گگن یان مشن کے لیے خلابازوں کے انتخاب کے لیے ٹرائلز کیے تھے۔ اس میں ملک بھر سے سینکڑوں پائلٹ پاس ہوئے تھے۔ ان میں سے ٹاپ 12 کو منتخب کیا گیا۔ کئی راؤنڈز کے بعد انتخابی عمل کو حتمی شکل دی گئی اور اس مشن کے لیے فضائیہ کے چار پائلٹوں کا انتخاب کیا گیا۔

اسرو نے ان چار پائلٹوں کو مزید تربیت کے لیے روس بھیجا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے ٹریننگ میں تاخیر ہوئی۔ یہ 2021 میں مکمل ہوا تھا۔ ان پائلٹس نے روس میں کئی طرح کی تربیت لی ہے۔ ٹریننگ کے دوران پائلٹ مسلسل پرواز کرتے رہے اور اپنی فٹنس پر بھی توجہ دے رہے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان چاروں کو گگن یان مشن کے لیے نہیں بھیجا جائے گا، بلکہ آخری پرواز میں مشن کے لیے صرف 2 یا 3 پائلٹوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

بنگلورو میں واقع اسرو کے ہیومن اسپیس فلائٹ سینٹر (ایچ ایس ایف سی) میں کئی قسم کے سمیلیٹر نصب کیے جا رہے ہیں۔ وہ صرف یہاں پریکٹس کر رہے ہیں۔

اسرو نے 2020 میں گگن یان مشن کا اعلان کیا تھا۔ گگن یان خلا میں ہندوستان کا پہلا انسان بردار مشن ہوگا۔ اگرچہ اسرو نے 2020 میں اس کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر کام 2007 سے جاری ہے۔ تاہم اس وقت بجٹ کی مجبوریوں کی وجہ سے پیشرفت نہیں ہو پائی تھی۔

اسرو کے پاس اس وقت طاقتور جی ایس ایل وی راکٹ انسانوں کو لے جانے کے قابل نہیں تھے۔ 2014 میں اسرو نے اس کے لیے جی ایس ایل وی مارک 2 راکٹ بنایا تھا۔ تاہم، اسرو نے  جی ایس ایل وی مارک 3 راکٹ کے ذریعے گگن یان مشن کے لیے تیاری کی ہے۔ چندریان کو اسی راکٹ سے لانچ کیا گیا۔ یوم آزادی کے موقع پر 15 اگست 2018 کو پی ایم مودی نے لال قلعہ سے اعلان کیا تھا کہ جلد ہی ہندوستان انسانوں کو خلا میں بھیجنے کا پروگرام شروع کرے گا۔

گگن یان کو 2025 میں لانچ کیا جانا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں اسرو نے سری ہری کوٹا سے گگنیان خلائی جہاز لانچ کیا تھا۔ یہ ٹیسٹ یہ جاننے کے لیے کیا گیا کہ آیا راکٹ کی خرابی کی صورت میں خلاباز محفوظ طریقے سے نکل سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گگن یان مشن کے تحت 3 خلابازوں کو 3 دن کے لیے 400 کلومیٹر دور زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں بحفاظت زمین پر لایا جائے گا۔ اس کے لیے 'کریو ماڈیول' راکٹ استعمال کیا جائے گا۔ یہ مشن ہندوستان کے لیے بہت اہم ہے۔ اگر یہ کامیاب ہو جاتا ہے تو ہندوستان امریکہ، چین اور روس کے بعد انسان بردار خلائی مشن بھیجنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/c8rmfji

ہفتہ، 24 فروری، 2024

اوڈیسیئس کی کامیاب مون لینڈینگ، نصف صدی سے زائد عرصے میں چاند پر پہنچنے والا پہلا امریکی خلائی جہاز

اوڈیسیئس، نصف صدی سے زائد عرصے میں چاند پر پہنچنے والا پہلا امریکی خلائی جہاز ہے۔ اوڈیسیئس نے 22 فروری کو چاند پر سافٹ لینڈنگ کی اور یوں کسی نجی کمپنی کے ذریعے بنائے گئے چاند پر اترنے والے پہلے روبوٹ کے طور پر تاریخ رقم کی۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے لینڈر کے پے لوڈ کے طور پر مواصلاتی آلات کے علاوہ دیگر آلات بھی بھیجے ہیں ۔ سات روزہ مشن کے دوران، ایجنسی اس بات کا تجزیہ کریگی کہ خلائی جہاز کی لینڈنگ کے اثرات کا چاند کی مٹی پر کیا رد عمل ہوا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اوڈیسیئس چاند کے قطب جنوبی کے ایک ناہموار خطہ میں ’ملاپرٹ اے ‘نامی گڑھے کے قریب یا مطلوبہ لینڈنگ سائٹ پر اترا ہے، ہدف کے شاید 2 یا 3 کلومیٹر کے اندر۔ اس کی تصدیق ناسا کا لونر ریکونیسنس آربیٹر نامی سیٹلائٹ کرے گا۔ اس خطہ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ منجمد پانی سے مالا مال ہوگا اور مستقبل میں چاند پرمستقل بیس قائم کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

بغیر عملے کا روبوٹ خلائی جہاز 22 فروری کو چاند کی سطح پر پہنچا تو کریش لینڈنگ سے بچنے کے لیے زمین پر فلائٹ کنٹرولرز کو غیر آزمودہ طریقہ استعمال کرنے کی ضرورت پڑی ۔ اوڈیسیئس کے اصل لیزر رینج فائنڈرز کو غیر فعال کر دیا گیا کیونکہ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں خلائی جہاز بنانے والی نجی کمپنی انٹیوٹو مشینز (آئی ایم ) کے انجینئرز لینڈر کے لانچ سے قبل نادانستہ طور پر حفاظتی سوئچ کو ’ان لاک‘ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ مسئلہ کا پتہ ایک ہفتہ بعد چاند کے مدار کے دوران ہوا،اس وقت لینڈنگ میں صرف چند گھنٹے باقی تھے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے ہیوسٹن شہر میں قائم کمپنی، انٹیوٹو مشینز (آئی ایم ) نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی غلطی خلائی جہاز کے لیزر پر مبنی رینج فائنڈرز کی ناکامی کا باعث بنی، کس طرح انجینئرز نے لینڈنگ کے وقت سے چند گھنٹے قبل غلطی کا پتہ لگایا، اور کس طرح مشن کو ممکنہ طور پر بچایا گیا۔ کمپنی کے مطابق اوڈیسیئس کی حالت اس کے اترنے کے فوراً بعد مخدوش تھی۔ ایک متوقع ریڈیو بلیک آؤٹ کے بعد خلائی جہاز کے ساتھ مواصلات کو دوبارہ قائم کرنے اور زمین سے تقریباً 384,000 کلومیٹر (239,000 میل) کے فاصلے پر اس کی قسمت کا تعین کرنے میں کچھ وقت لگا۔ جب بالآخر رابطہ ہوا تو سگنل کمزورتھا، جس سے چاند پر سافٹ لینڈنگ کی تصدیق تو ہو گئی تھی لیکن مشن کنٹرول کے لیے لینڈر کی حالت اور پوزیشن کے بارے میں معلومات غیر یقینی تھی۔

انٹیوٹو مشینزکے سی ای او اور شریک بانی سٹیو آلٹیمس کے مطابق، اوڈیسیئس نامی 4.3 میٹریا 14 فٹ ہیکساگونل، چھ ٹانگوں والے لینڈر نے کمپنی کے لیزر آلے ناکام ہونے کے بعد چاند کی سطح پر اترنے کے لیے ناسا کے تجرباتی لیزر نیویگیشن سسٹم کا استعمال کیا ۔ یہ واضح نہیں کہ کیا ہوا لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اوڈیسیئس کی چھ ٹانگوں میں سے ایک پھسل گئی اور پھر روبوٹ گر گیا۔ ایک اور امکان یہ ہے کہ نیچے آتے ہی اوڈیسیئس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔ تاہم، سینسر لینڈر کی باڈی کے افقی پوزیشن میں ہونے کی نشاندہی کررہے ہیں۔ ریڈیو اینٹینا زمین کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور شمسی خلیے بیٹری سسٹم کو چارج کر رہے ہیں۔ وہ تمام سائنسی آلات جنہیں چاند پر مشاہدات کے لیے بنایا تھا وہ اوڈیسیئس کے سامنے کی طرف ہیں اور کچھ حد تک کام کرسکتے ہیں۔ غلط سمت میں واحد پے لوڈ ایک جامد آرٹ پروجیکٹ ہے جو چاند کی سطح پر نیچے کی طرف اشارہ کررہا ہے۔

اوڈیسیئس مشن ڈائریکٹر ٹم کرین کے مطابق انجینئرز نے لینڈر کو ہدایت دی کہ وہ ناسا کے تجرباتی لیڈار پے لوڈ پر انحصار کرے -لیڈار ایک ریموٹ سینسنگ سسٹم جو اشیاء کے درمیان فاصلے کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اوڈیسیئس خلائی جہاز نے پہلی بار خلا میں مائع میتھین اور مائع آکسیجن کے پروپلشن ایندھن کو جلایا ، اور اپنی سات روزہ پرواز کے دوران بے عیب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہیں یقین ہے کہ لینڈر پر موجود پے لوڈ تقریباً 9 یا 10 دن تک کام کر سکیں گے، جس کے بعد قطبی لینڈنگ سائٹ پر سورج غروب ہو جائے گا۔

انٹیوٹو مشینز لینڈر سے تصاویر حاصل کرنے اور اس کی ساخت اور بیرونی آلات کا جائزہ لینے کے لیے پرامید ہے۔ ایمبری-ریڈل ایروناٹیکل یونیورسٹی کے ڈیزائن کردہ ’ایگل کیم ‘نامی ایک آلہ کو اوڈیسیئس کی لینڈنگ کی تصاویر لینے کے لیے ٹچ ڈاؤن سے 30 سیکنڈ پہلے پاپ آف ہونا تھا، لیکن اس ڈیوائس کو اترنے کے دوران جان بوجھ کر بند کر دیا گیا کیونکہ نیویگیشن سسٹم کو سوئچ آن کرنے کی ضرورت تھی۔ تاہم، ایمبری-ریڈل ٹیم آنے والے دنوں میں ایگل کیم کو چالو کرنے کی کوشش کرے گی، تاکہ وہ تقریباً 8 میٹر یا 26فٹ دور سے لینڈر کی تصویر کھینچ سکے۔ اس کی موجودہ فعالیت سے قطع نظر، اوڈیسیئس کا مارچ کے آغاز سے زیادہ کام کرنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ لینڈنگ سائٹ پر سورج غروب ہونے کے بعد، بیٹریاں چاند کی سرد رات میں زندہ نہیں رہیں گی۔ لہذا، کمپنی مزید 9 سے 10 دن کی کارروائیوں پر توجہ دےرہی ہے۔

ناسا کا کمرشل لونر پے لوڈ سروسز (سی ایل پی ایس)مشن خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے آرٹیمس پروگرام کا حصہ ہے۔اور انٹیوٹو مشینز (آئی ایم ) کا یہ مشن سی ایل پی ایس کا حصہ ہے، جس میں ایجنسی مختلف نجی امریکی کمپنیوں کو خدمات کے لیے ادائیگی کر رہی ہے۔ اوڈیسیئس کے معاملے میں، ناسا نے 11 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی فیس ادا کی۔ ایسی تمام کمپنیاں اپنے خلائی جہاز کی مالی اعانت، تعمیر، لانچ اور آپریشن کے علاوہ ناسا کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے تجارتی پے لوڈ تلاش کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔

اس سال کے لیے چھ سی ایل پی ایس مشنوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پہلا، پٹسبرگ میں قائم فرم ’ایسٹروبوٹک‘ کا ناکامی پر اس وقت ختم ہوا جب اس کا پیریگرین لینڈر چاند کے راستے میں تکنیکی مسائل کا شکار ہو گیا ۔ وہ چاند کی سطح پر نہیں اترا بلکہ اس روبوٹ کو زمین کی فضا میں جلانے کے لیے واپس لایا گیا ۔آئی ایم کے 2024 میں مزید دو مشن ہیں۔ اگلے میں چاند کی سطح پر روبوٹ ڈرل (سوراخ) کرتا نظر آئے گا۔ ٹیکساس کی ایک اور کمپنی ’فائر فلائی ایرو اسپیس ‘بھی آنے والے مہینوں میں چاند پر جائے گی ۔

ناسا سی ایل پی ایس کو اپنے سائنس پراجیکٹس کو انجام دینے کا ایک مفید اقتصادی طریقہ سمجھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ سی ایل پی ایس پالیسی ایک ترقی پذیر قمری معیشت بن جائے گی۔ ایجنسی کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ سے تعلق رکھنے والے جوئل کیرنز نے اوڈیسیئس لینڈنگ کو ایک بہت بڑا کارنامہ اور سی ایل پی ایس پالیسی کی تصدیق قرار دیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Q6kbAh8

جمعہ، 23 فروری، 2024

مشن سورج: ’آدتیہ ایل-1‘ نے سورج سے متعلق دی انتہائی اہم جانکاری، سائنسداں حیران

اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کے سائنسداں اس وقت کئی پروجیکٹس میں مصروف ہیں۔ روزانہ کسی نہ کسی پروجیکٹ سے متعلق خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ تازہ خبر مشن سورج یعنی ’آدتیہ ایل-1‘ سے متعلق آ رہی ہے جس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔ دراصل آدتیہ ایل-1 پر لگے ایک پے لوڈ میں لگے ایڈوانسڈ سنسر نے سورج کی سطح پر ہونے والے کورونل ماس اجیکشن کے اثر سے متعلق ایک اہم انکشاف کیا ہے۔ سنسر سے کورونل ماس اجیکشن کے دوران کثرت کے ساتھ شمسی ہواؤں میں الیکٹران اور آین کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔

جس پے لوڈ کے سنسر نے یہ انکشاف کیا ہے، وہ ’پلازما اینالائزر پیکیج فور آدتیہ‘ (پاپا) ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ پے لوڈ پاپا کو ہوائی توانائی الیکٹران اور آین کے تجزیہ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں دو سنسر سولر وِنڈ الیکٹرانک انرجی پروب (سویپ) اور سولر وِنڈ آین کمپوزیشن اینالائزر (سویکار) لگے ہیں۔ سویپ سنسر 10 ای وی کے درمیان کے الیکٹران کو شمار کرتا ہے۔ ان سنسرز کی مدد سے شمسی ہواؤں کی سمت کا بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ پے لوڈ پاپا کو وکرم سارابھائی اسپیس سنٹر کی اسپیس فزکس لیباریٹری اینڈ ایویونکس اینٹٹی کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔

اِسرو نے بتایا کہ سورج کی سطح پر کورونل ماس اجیکشن کے واقعہ کو پہلے 15 دسمبر 2023 کو اور پھر 11-10 فروری 2024 کو پے لوڈ پاپا کے ذریعہ درج کی گئی۔ اِسرو نے جاری بیان میں بتایا کہ پے لوڈ پاپا نے جانکاری دی ہے کہ مجموعی الیکٹران اور آین کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور ایل 1 پوائنٹ پر ڈیپ اسپیس کلائمیٹ آبزرویٹری اور ایڈوانسڈ کمپوزیشن ایکسپلورر سیٹلائٹس سے حاصل وقت تنوع اور شمسی ہواؤں کے پیمانوں اور مقناطیسی علاقہ کی پیمائش میں بھی یکسانیت پائی گئی۔ علاوہ ازیں 11-10 فروری کو ہوئی کورونل ماس اجیکشن کے چھوٹے چھوٹے کئی واقعات ہوئے اور اس دوران الیکٹران آین اور وقت تنوع میں فرق ملا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rjWbUNZ

جمعرات، 22 فروری، 2024

اِسرو کا نیا کارنامہ، دنیا کے جیوسنکرونس مدار میں کامیابی کے ساتھ نصب ہوا انسیٹ-3 ڈی ایس

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) نے ایک بار پھر سائنس کے شعبہ میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔ اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جانکاری دی ہے کہ انسیٹ-3 ڈی ایس سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ اَرتھ یعنی دنیا کے جیوسنکرونس مدار میں نصب ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ سبھی چار لیکوئڈ ایپوجی موٹر (ایل اے ایم) فائرنگ پوری ہو گئی ہے۔ اب سیٹلائٹ کو مدار ٹیسٹنگ لوکیشن پر 28 فروری 2024 تک پہنچنے کی امید ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جیوسنکرونس مدار میں ایک مکمل دن 23 گھنٹے 56 منٹ اور 4 سیکنڈ کے برابر ہوتا ہے۔ اس میں سیٹلائٹ کا مدار دنیا گھماؤ کے برابر ہو جاتا ہے۔ یہ مدار گول یا پھر نامکمل گول ہو سکتا ہے۔ اِسرو کی سیٹلائٹ انسیٹ-3 ڈی ایس کو گزشتہ 17 فروری کو شری ہریکوٹا واقع ستیش دھون اسپیس سنٹر سے لانچ کیا گیا تھا۔ انسیٹ-3 ڈی ایس کو جی ایس ایل وی ایف-14 لانچ وہیکل سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔ جی ایس ایل وی-ایف 14 کو ’ناٹی بوائے‘ (نٹ کھٹ لڑکا) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ دراصل اس جی ایس ایل وی کے 40 فیصد لانچ ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس راکٹ کا نام ’ناٹی بوائے‘ پڑ گیا ہے۔

بہرحال، انسیٹ-3 ڈی ایس سیٹلائٹ موسم کی جانکاری دینے والا ایک سیارہ ہے جو انسیٹ-3 ڈی سیٹلائٹ کی جدید شکل ہے۔ انسیٹ-3 ڈی ایس سیٹلائٹ کی مدد سے موسم اور قدرتی آفات کی درست جانکاری مل سکے گی۔ انسیٹ-3 ڈی ایس سے سمندر کی سطح اور اس کے درجہ حرارت پر پڑنے والے اثر کا مطالعہ کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی انسیٹ-3 ڈی ایس کی مدد سے ڈاٹا کلیکشن پلیٹ فارمس سے ڈاٹا کو جمع کیا جا سکے گا۔ انسیٹ-3 ڈی ایس کی پوری فنڈنگ حکومت ہند کے ارتھ سائنس منسٹری نے کی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5wmIFTN

بدھ، 21 فروری، 2024

’گگن یان مشن‘ کے لیے پوری طرح تیار ہے ’سی ای 20 کرایوجینک انجن‘، سیفٹی سرٹیفکیٹ ہوا حاصل

’گگن یان مشن‘ لانچ کرنے کے لیے 2025 کا ہدف رکھا گیا ہے اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ہندوستان کے پہلے انسانی خلائی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے اِسرو کے سائنسداں خوب محنت کر رہے ہیں۔ اس مشن کے تعلق سے ایک بڑی خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ ’سی ای 20 کرایوجینک انجن‘ کو سیفٹی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔ کئی سخت ٹیسٹنگ کے بعد سی ای 20 کرایوجینک انجن کو یہ سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے۔

سی ای 20 کرایوجینک انجن کو سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل ہونا ’گگن یان مشن‘ کے لیے بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مشن اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ اگر ہندوستان نے کامیابی حاصل کی تو امریکہ، چین اور روس کے بعد ہندوستان انسانی خلائی مشن کا کامیاب تجربہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔

بہرحال، اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’سی ای 20 کرایوجینک انجن اب گگن یان مشن کے لیے بالکل تیار ہے۔ سخت ٹیسٹنگ سے انجن کی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔ پہلے انسانی پرواز ایل وی ایم 3 جی 1 کے لیے تیار کیے گئے سی ای 20 کرایوجینک انجن کو کئی ٹیسٹنگ سے ہو کر گزرنا پڑا، جس کے بعد اسے سیفٹی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ سی ای 20 انجن کا گراؤنڈ کوالیفکیشن ٹیسٹ کا آخری دور 13 فروری کو مکمل ہوا تھا۔ اس کے تحت اس کرایوجینک انجن کی انسانی ریٹنگ عمل کو کامیاب مانا گیا ہے۔

اِسرو نے اس تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ گراؤنڈ کوالیفکیشن ٹیسٹ اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ پتہ کیا جا سکے کہ انجن ٹھیک سے کام کرے گا یا نہیں، انجن حفاظت کی شکل میں کیسا ہے اور یہ پوری طرح تیار ہے یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ سخت سیکورٹی اور اعتماد کے پوائنٹس کو یہ پورا کرتا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ گگن یان مشن کے تحت اسرو انسانوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس مشن کے تحت تین لوگوں کی ٹیم کو خلا میں زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا اور پھر انھیں بہ حفاظت زمین پر واپس اتارا جائے گا۔ 2025 میں اس مشن کو لانچ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پہلے یہ مشن 2022 میں ہی لانچ ہونا تھا، لیکن کورونا وبا اور مشن کی پیچیدگیوں کے سبب اس میں تاخیر ہو گئی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vX2ngst

اتوار، 18 فروری، 2024

انسان کے لیے نقصان دہ بیکٹیریا مریخ پر نشونما پا سکتے ہیں

جرمن ایرو اسپیس سینٹر کی ایک نئی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں رہنے والے چند ایسے بیکٹیریا جو جسم پر زیادہ دباؤ پڑنے سے بیماریوں کا سبب بنتےہیں، وہ مریخ پر نا صرف زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ وہاں ان کی نشونما بھی ممکن ہے۔سائنسدان ایک عرصے سے مریخ پر انسانوں کی آبادکاری کے لیے تحقیق میں مصروف ہیں۔ دنیا بھر کی اسپیس ایجنسیاں مریخ کی جانب مشن روانہ کر رہی ہیں تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے مکمل ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔ اس ڈیٹا سے لیباٹریز میں تجربات کر کے یہ معلوم کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے کہ انسان مریخ کے شدید ماحول اور انتہائی کم درجۂ حرارت میں کس طرح زندہ رہ سکیں گے۔

جنوری 2024ء کے اوائل میں ایسٹرو بائیولوجی سائنس جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق چار ایسے مائیکروبز، جو انسانوں میں متعدد امراض کا سبب بنتے ہیں وہ مریخ کے شدید ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور وہاں ان کی نشونما بھی ممکن ہے۔ جرمن ایروسپیس سینٹر کے سائنسدانوں نے لیبارٹری میں مصنوعی طور پر مریخ کا ماحول تیار کر کے یہ تجربات کیے ہیں۔

تحقیق کیا ہے؟

جرمن ایرو سپیس سینٹر کولون سے وابستہ سائنسدانوں کی اس ٹیم کی سربراہی توماسو زکاریا نے کی ہے۔ زکاریا نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ مریخ کی سطح پر درجہ حرارت انتہائی کم ہے اور وہاں ایسے دیگر عوامل کی صورت حال بھی نامناسب ہے، جنہیں کسی سیارے پر انسانی زندگی کے لیے لازمی سمجھا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود سائنسدان نظام شمسی کے دیگر سیاروں کی نسبت مریخ پر ممکنہ طور پر انسانی آبادیاں میں زیادہ دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کہ ایک تو یہ سیارہ زمین سے نسبتا قریب ہے اور پھر مریخ کا ایک دن بھی زمین کے ایک دن کی طرح چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔

زکاریا کے مطابق لیبارٹری میں مریخ کا مصنوعی ماحول تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس کے لیے پانی کی عدم موجودگی، ہوا کا انتہائی کم دباؤ، سورج کی جھلسا دینے والی الٹرا وائلٹ تابکار شعاؤں اور مہلک زہریلی نمکیات کو مصنوعی طریقے سے اکھٹا کرنا ہوتا ہے۔

توماسو زکاریا بتاتے ہیں کہ انسانی جسم میں چار عام بیکٹیریا رہتے ہیں، جو یوں تو بے ضرر ہیں لیکن بیرونی عوامل یا دباؤ کے زیر اثر ہمارے لیے مہلک ثابت ہوتے اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ زکاریا کی ٹیم نے مریخ کے تیار کردہ مصنوعی ماحول میں ان بیکٹیریا پر بار بار تجربات کیے۔ زکاریا کے مطابق حیرت انگیز طور پر یہ مائیکروب نا صرف اس شدید ماحول میں زندہ رہے بلکہ ان کی ٹیم نے نوٹ کیا کہ یہ مصنوعی طور پر تیار کردہ مریخ کی مٹی یا ریگولتھ میں نشونما بھی پا سکتے ہیں۔

تحقیق کے لیے ان بیکٹیریا کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

جرمن ایرو سپیس سینٹر سے وابستہ سائنسدان توماسو زکاریا بتاتے ہیں کہ بیکٹیریا انتہائی سخت جان اور لچکدار ہوتے ہیں، جو زمین پر اربوں سالوں سے موجود ہیں۔ لہذا مریخ یا کسی دوسرے سیارے یا سیارچے پر تحقیق کے لیے بیکٹیریا موزوں ترین سمجھے جاتے ہیں۔

زکاریا کے مطابق 2020ء میں کی گئی ایک تحقیق میں نوٹ کیا گیا تھا کہ یہی بیکٹیریا ایسے میڈیم میں زندہ رہ سکتے ہیں، جو میٹیورائٹ کے انتہائی کم نمکیات والے سیمپل سے مشابہہ تھا۔ زکاریا اس ٹیم کا حصہ تھے۔ اس تحقیق سے انہیں تحریک ملی اور انہوں نے نئی ٹیم کے ساتھ مریخ کے ماحول میں یہی تجربات کرنے کا فیصلہ کیا۔

ابتدائی حوصلہ افزاء نتائج کے بعد زکاریا کی ٹیم نے ان بیکٹیریا کی کالونیوں کو مصنوعی طور پر تیار کردہ مریخ کی مٹی میں رکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا خیال تھا کہ بیکٹیریا پر زہریلے اثرات پڑنے سے وہ فورا ہی مر جائیں گی۔ مگر حیرت انگیز طور پر چار میں سے تین بیکٹیریل انواع زندہ رہیں اور 21 دن تک ان کی نشونما بھی نوٹ کی گئی۔

مزید کیا پیش رفت متوقع ہے؟

توماسو زکاریا نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ان کی ٹیم اب انہی بیکٹیریا پر نئے تجربات کا آغاز کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ شدید ماحول میں کس طرح زندہ رہے۔ اس طرح سائنسدانوں کو خلائی سفر کے دوران انسانی جسم پر پڑنے والے منفی اثرات کو مزید بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

زکاریا کے مطابق سپیس فلائٹ کے دوران خلا بازوں کے جسم کا مدافعتی نظام تناؤ اور بے ضابطگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہ چار بیکٹیریا بھی جسم پر دباؤ پڑنے سے پیتھوجنز کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ لہذا مزید تحقیق سے خلا بازوں کا سفر محفوظ بنانے اور ان کی صحت سے متعلق بہتر اقدامات کرنے میں مدد ملے گی۔

مریخ پر انسانی آباد کاری سے متعلق کیا پیش رفت ہوئی؟

توماسو زکاریا کے مطابق ان کی تحقیق کےنتائج بتاتے ہیں کہ مریخ کے مشن کے لیے خلابازوں کو اپنے ساتھ بہت سی ادویات ساتھ لے جانا ہوں گی۔ کیونکہ یہ عام بیکٹیریا مریخ پر زندہ رہ سکتے ہیں لہذا کمزور مدافعتی نظام کے ساتھ خلا باز وہاں جلد ہی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔

وہ کہتے ہیں،'' جیسا کے ہمارے تجربات سے ثابت ہوا عین ممکن ہو کہ یہ مائیکروب وہاں نشونما پا کر مزید خطرناک ہو جائیں۔ لہذا انسان بردار مریخ مشن کو اس طرح کے ''بگز‘‘ یا جرثوموں سے محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ جس کے لیے ابتدا میں مریخ پر صرف روبوٹک گاڑیاں بھیجی جائیں جو وہاں انسانوں کی آباد کاری کے ضروری انتظامات کریں اور بالکل الگ تھلگ کالونیاں تشکیل دیں۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ykba4cy

گھاس کاٹنے کی اسمارٹ مشین کے ذریعے بھی ’سائبر حملوں‘ کا خطرہ!

نئی دہلی: باغ میں گھاس کاٹنے والی اسمارٹ مشین کے ذریعے بھی آپ کی سائبر سیکورٹی کی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے۔ یہ انکشاف ایک تحقیق میں کیا گیا۔ وی پی این سروس فراہم کرنے والے ’جین شیلڈ‘ کے مطابق، آپ کے آلے کو گھاس کاٹنے کی مشین یعنی لان موور کے سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے ہیک کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے کہا کہ "آپ کے گارڈن میں گھاس کاٹنے کی مشین انٹرنیٹ سے منسلک آلات جیسے انٹرنیٹ آف تھنگس کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ سہولت والے ٹولز حساس آلات میں دخل اندازی کا راستہ بھی کھولتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے گھاس کاٹنے کی مشین سمیت اسمارٹ ڈیوائسز والے گھروں میں ہفتہ وار تقریباً 12 ہزار ہیکنگ کی کوششیں سامنے آئی ہیں۔

جین شیلڈ کے ٹیکنالوجی ماہر سٹیفن بلیک نے کہا، ’’یہ ایک عجیب دنیا ہے جہاں آپ کا لان کاٹنے والا رینسم ویئر کے حملے کے لیے ایک داخلی مقام بن سکتا ہے۔‘‘

تحقیق میں ایک جعلی اسمارٹ ہوم بنایا گیا، جس میں کئی طرح کی اسمارٹ ڈیوائسز تھیں، جو انٹرنیٹ سے منسلک تھیں۔ ہیکرز نے فی گھنٹہ 14 بار آلات میں گھسنے کی کوشش کی۔

بلیک نے کہا، ’’یہ مجرم واقعی آپ کے لان کی گھاس کاٹنے والی مشین کے ساتھ ساتھ گڑبڑ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ آپ کے گھر کے نیٹ ورک میں ایسے کمزور نکات تلاش کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں جن سے وہ فائدہ اٹھا سکیں،" بلیک نے کہا۔

محققین کے مطابق انٹرنیٹ آف تھنگز ڈیوائسز سائبر مجرموں میں کئی وجوہات کی بنا پر مقبول ہیں، جن کی وجہ سے ان کی خلاف ورزی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔

محققین نے آپ کے انٹرنیٹ آف تھنگ ڈیوائسز کو محفوظ بنانے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے ہیں جیسے ڈیفالٹ سیٹنگز کو تبدیل کرنا، باقاعدہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس وغیرہ۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XD5YIR1