اتوار، 29 ستمبر، 2024

سنیتا ولیمز کی زمین پر واپسی: ناسا اور اسپیس ایکس کا مشن خلا کی جانب روانہ

امریکہ کی نیشنل ایرو ناٹکس اور اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) اور اسپیس ایکس نے اپنے جدید مشن کے تحت ہندوستانی نژاد خلاباز سنیتا ولیمز اور ان کے ساتھی بوچ وِلْمور کو زمین پر واپس لانے کے لیے کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ ہو گیا۔ یہ مشن 29 ستمبر 2024 کو فلوریڈا کے کیپ کیناویرل اسپیس فورس اسٹیشن سے لانچ کیا گیا۔ اس مشن کا مقصد دونوں خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے واپس لانا ہے۔

خیال رہے کہ سنیتا ولیمز کو خلا میں جانے والی ہندوستانی نژاد دوسری امریکی خلاباز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ہندوستانی ثقافت کو اپنے مشنز میں شامل کیا ہے۔ 2006 میں جب وہ آئی ایس ایس گئیں تو ان کے ساتھ بھگوت گیتا کا ایک نسخہ بھی تھا۔

مشن کے دوران، ناسا نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اسپیس ایکس ڈریگن خلا بازوں کو آئی ایس کی طرف لے جا رہا ہے۔ نیا عملہ پانچ ماہ کے سائنسی مشن کے لیے وہاں پہنچے گا۔‘‘ اس مشن میں ناسا کے خلاباز نک ہیگ اور روس کے خلا باز الیگزینڈر گوربونوف شامل ہیں، جو کہ اسٹیشن پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پہلے، سنیتا اور بوچ وِلْمور کا سفر ایک اور خلا بازوں کی ٹیم کے ساتھ ہوا تھا، جس کا سامان بوئنگ کے اسٹار لائنر کے ذریعے فراہم کیا گیا تھا۔ مگر اس کے ٹیکنیکل مسائل کی وجہ سے ان کا سفر طویل ہوا۔ لیکن اب وہ محفوظ طریقے سے آئی ایس ایس پر پہنچ چکے ہیں۔ ناسا نے اسٹار لائنر کو انسانی سفر کے لیے غیر موزوں قرار دیا، مگر اس کی واپسی محفوظ رہی۔

اس مشن کی کامیابی نہ صرف ناسا اور اسپیس ایکس کے لیے ایک سنگ میل ہے بلکہ یہ ہندوستانی نژاد امریکیوں کے لیے بھی ایک فخر کا لمحہ ہے۔ سنیتا کی کامیابی نے ہر شعبے میں ہندوستانیوں کی قابلیت کو اجاگر کیا ہے۔ سنیتا ولیمز اور بوچ وِلْمور کی زمین پر واپسی کے بعد ان کی تجربات اور علم کی روشنی میں مزید ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ اس مشن کی کامیابی نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کی قابلیت اور محنت ہمیشہ اس کے خوابوں کی تعبیر کر سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/AFClqS4

جمعہ، 27 ستمبر، 2024

حساس ڈیٹا افشا کرنے پر حکومت کی کارروائی، متعدد ویب سائٹس بلاک کر دی گئیں

مرکزی حکومت نے شہریوں کا حساس ڈیٹا جیسے آدھار اور پین کی تفصیلات ظاہر کرنے پر متعدد ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بلاک کر دیا ہے۔ آئی ٹی کی وزارت نے اس اقدام کی تصدیق کی ہے کہ کچھ پورٹلز نے شہریوں کا نجی ڈیٹا عام کر دیا تھا، جس پر کاروائی کے طور پر ان ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا۔ حساس معلومات کا افشا ایک سنگین مسئلہ ہے جو ڈیٹا کی حفاظت اور شہریوں کی پرائیویسی کے خلاف ہے۔

یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں آدھار ایکٹ 2016 کی دفعہ 29(4) کے تحت ان ویب سائٹس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، کسی بھی شخص کی آدھار معلومات کو عام طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے کہا ہے کہ ان ویب سائٹس کی سیکورٹی خامیوں کا انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سرٹ-ان) نے تجزیہ کیا اور نشاندہی کی کہ ان ویب سائٹس میں سیکورٹی کی کئی خامیاں ہیں۔ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ویب سائٹس کے مالکان کو رہنمائی فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنے انفراسٹرکچر میں بہتری لائیں۔ ساتھ ہی سائبر ایجنسیز کی طرف سے تمام اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی آئی ٹی ایپلی کیشنز کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں حساس ڈیٹا کی حفاظت کسی بھی ملک کے لیے نہایت ضروری ہے۔ شہریوں کا حساس ڈیٹا جیسے آدھار اور پین کی تفصیلات کا لیک ہونا نہ صرف ان کی پرائیویسی کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ مالی نقصان کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت کو سائبر سیکورٹی اور ڈیٹا کی حفاظت کے معاملے میں انتہائی چوکنا رہنا چاہیے لیکن اس معاملے میں حکومت کی طرف سے بروقت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کی ذاتی معلومات لیک ہونے کا خطرہ پیدا ہوا، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت، ہندوستان میں حساس معلومات کی حفاظت اور ان کے غیر قانونی افشا کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہیں۔ لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ ان قوانین کو سختی سے نافذ کرے اور ایسے واقعات کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کرے۔

وزارت نے یہ بھی بتایا کہ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے اور اس ایکٹ کے تحت قوانین کا مسودہ تیار ہونے کے آخری مرحلے میں ہے۔ مزید یہ کہ آئی ٹی ایکٹ کے تحت اگر کوئی فرد متاثر ہوتا ہے تو وہ شکایت درج کر کے معاوضہ بھی طلب کر سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HpRirlX

ٹراپیکل طوفان کی وجہ سے ناسا کے اسپیس ایکس کرو 9 مشن کی لانچنگ میں تاخیر

امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا اور اسپیس ایکس نے اپنے نئے ’کرو 9‘ مشن کی لانچنگ میں تاخیر کا اعلان کیا ہے، جس کی اصل تاریخ 26 ستمبر تھی۔ یہ تاخیر ٹراپیکل طوفان ’ہیلین‘ کے پیش نظر کی گئی ہے، جو فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں اور بارش کا سبب بن سکتا ہے۔ ناسا اور اسپیس ایکس کی جانب سے یہ لانچ اب ہفتہ، 28 ستمبر کو دوپہر 1:17 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اس مشن میں ناسا کے خلاباز نک ہیگ اور روسکوسموس کے الیگزینڈر گوربونوف شامل ہیں، جو اسپیس ایکس کے ڈریگن اسپیس کرافٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے پانچ ماہ کے سفر پر روانہ ہوں گے۔ یہ پرواز ناسا کے کمرشل کرو پروگرام کے تحت اسپیس ایکس کے ساتھ نویں روٹیشن فلائٹ ہے، جس کا مقصد خلا میں انسانی مشن کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

طوفان ’ہیلین‘ جو خلیج میکسیکو سے گزر رہا ہے، فلوریڈا کے مشرقی ساحل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس طوفان کے باعث وہاں تیز ہوائیں اور شدید بارشوں کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے لانچنگ کے دوران محفوظ حالات کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

ناسا اور اسپیس ایکس کے مطابق لانچنگ کی مکمل تیاری پہلے ہی کر لی گئی تھی لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں ایجنسیاں طوفان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتی رہیں گی۔

اس مشن میں خلائی اسٹیشن پر نئے آلات اور سائنسی تجربات بھیجے جائیں گے، جس کا مقصد خلا میں انسانی موجودگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اسپیس ایکس اور ناسا نے اس مشن کے لیے کئی ماہ کی تیاری کی ہے اور اب اسے طوفان کے گزرنے کے بعد لانچ کیا جائے گا۔

یہ تاخیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خلا میں جانے والے مشنوں کی منصوبہ بندی نہایت محتاط انداز میں کی جاتی ہے اور موسم جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ عملے کی حفاظت اور مشن کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید تازہ کاری ناسا اور اسپیس ایکس کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/SOG3g1j

جمعرات، 19 ستمبر، 2024

ہندوستان میں آئی فون 16 سیریز کی فروخت کا آغاز، ایپل اسٹوروں کے باہر خریداروں کا ہجوم

ممبئی: مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آج سے ہندوستان میں اپنی نئی آئی فون 16 سیریز کی فروخت شروع کر دی ہے۔ یہ سیریز 9 ستمبر 2024 کو کمپنی کے سالانہ ایونٹ ’اِٹس گلو ٹائم‘ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی خصوصیات کے ساتھ متعارف کروائی گئی تھی۔ ممبئی کے بی کے سی (باندرا کرلا کمپلیکس) میں واقع اسٹور پر فروخت کے آغاز سے پہلے ہی خریداروں کی لمبی قطاریں لگ چکی تھیں اور کئی لوگ اسٹور کے کھلنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی لوگ آئی فون 16 کے لیے پرجوش ہیں اور اسے خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسٹور کھلنے سے قبل لوگ قطاروں میں کھڑے تھے اور کچھ دوڑتے ہوئے بھی دیکھے گئے، جیسا کہ پچھلے سال آئی فون 15 کی لانچنگ کے وقت ہوا تھا۔ ایک صارف، اُجول شاہ، نے کہا، ’’میں گزشتہ 21 گھنٹوں سے قطار میں کھڑا ہوں۔ میں کل صبح 11 بجے یہاں پہنچا تھا اور آج صبح 8 بجے اسٹور میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوں گا۔ میں اس فون کے لیے بہت پرجوش ہوں اور اس کے لیے ممبئی کا ماحول بھی بالکل نیا ہے۔‘‘

ایپل نے اس بار آئی فون 16 سیریز میں چار نئے فونز لانچ کیے ہیں، جن میں ڈیزائن اور خصوصیات کے لحاظ سے کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کمپنی نے پہلی بار پچھلے ماڈلز کی نسبت نئے آئی فون کو کم قیمت میں متعارف کروایا ہے۔ ہندوستان میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ آئی فون کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے، جبکہ پچھلے سال قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

چار نئے ماڈلز کی قیمتیں:

آئی فون 16 اور آئی فون 16 پلس کو پانچ رنگوں الٹرامرین، ٹیل، پنک، سفید اور سیاہ میں پیش کیا گیا ہے۔ ان ماڈلز میں 128GB، 256GB، اور 512GB اسٹوریج کے اختیارات موجود ہیں۔ آئی فون 16 کی ابتدائی قیمت 79,900 روپے اور آئی فون 16 پلس کی ابتدائی قیمت 89,900 روپے مقرر کی گئی ہے۔

آئی فون 16 پرو (128GB) کی ابتدائی قیمت 1,19,900 روپے ہے، جبکہ آئی فون 16 پرو میکس (256GB) کی قیمت 1,44,900 روپے ہے۔

خصوصیات کے لحاظ سے آئی فون 16 میں 6.1 انچ اور آئی فون 16 پلس میں 6.7 انچ کا ڈسپلے دیا گیا ہے، جس کی برائٹنس 2000 نٹس تک ہے۔ اس کے علاوہ، کیمرہ کیپچر بٹن دیا گیا ہے جس کی مدد سے صارف ایک کلک میں کیمرہ کو کھول سکتے ہیں اور تصاویر لے سکتے ہیں۔

نئے آئی فون 16 سیریز میں A18 چپ سیٹ دیا گیا ہے، جو نہ صرف اسمارٹ فونز بلکہ کچھ ڈیسک ٹاپس کو بھی مقابلہ دے سکتا ہے۔ اس میں ایپل انٹیلی جنس کا فیچر شامل ہے جو صارفین کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8tqpEPj

اتوار، 15 ستمبر، 2024

تجارتی خلائی صنعت: کامیاب نجی اسپیس واک

اسپیس ایکس کے پولارس ڈان مشن نے 12 ستمبر کو پہلی نجی اسپیس واک کے ساتھ تاریخ رقم کی جب دو خلابازوں نے اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول سے باہر نکل کر دنیا کی پہلی نجی اسپیس واک کی۔ ٹیک صنعتکار جیرڈ آئزاک مین اور اسپیس ایکس انجینئر سارہ گیلس نے اسپیس واک کرنے والی پہلی شہری جوڑی بن کر تاریخ رقم کی۔ آئزاک مین نے اسپیس ایکس کے بالکل نئے اسپیس سوٹ کی جانچ کرنے کے لیے ایلون مسک کی کمپنی کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ ناسا نے اسے تجارتی خلائی صنعت کے لیے 'ایک بڑی چھلانگ' کے طور پر سراہا ہے۔ کمرشل اسپیس واک اس پانچ روزہ پرواز کا بنیادی مرکز تھا جس کی مالی اعانت جیرڈ آئزاک مین اور ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے کی ہے، اور سالوں کی ترقیاتی کوششوں کا نتیجہ ہے جو مریخ اور دیگر سیاروں کو آباد کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

زمین سے سیکڑوں میل کی بلندی پر اس جرات مندانہ کوشش کے دوران آئزاک مین اور ان کا عملہ اس وقت تک انتظار کرتا رہا جب تک کہ ان کا کیپسول ہیچ (دروازہ) کھولنے سے پہلے ڈی پریشرائز نہ ہو جائے۔ اس طرح، آئزاک مین اسپیس واکرز کے ایک چھوٹے سے ایلیٹ گروپ میں شامل ہونے والے پہلے شخص بن گئے جس میں اب تک درجن بھر ممالک کے صرف پیشہ ور خلاباز شامل تھے۔ یہ خلائی چہل قدمی آسان اور تیز تھی۔ ناسا کے طویل دورانیہ کے مقابلے اس مشن میں ہیچ بمشکل آدھا گھنٹہ کھلا تھا۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے خلابازوں کو مرمت کے لیے اکثر اسٹیشن کے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ جوڑے میں اور سامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ان کی خلائی چہل قدمی سات سے آٹھ گھنٹے تک ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ مشن دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ختم ہو گیا۔

اسپیس ایکس پولارس ڈان مشن 10 ستمبر کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے شروع کیا گیا تھا جو 1970 کی دہائی میں اپولو پروگرام کے بعد نصف صدی میں سب سے زیادہ گہرائی میں چلا گیا تھا۔ ڈریگن خلائی جہاز 1400 کلومیٹر (870 میل) کی بلندی پر پہنچ گیا تھا۔ خلائی چہل قدمی کے لیے مدار نصف کم کر کے 700 کلومیٹر (435 میل) کر دیا گیا۔ عملے کے چاروں ارکان نے اپنے آپ کو سخت خلا (ویکیم) سے بچانے کے لیے نئے اسپیس واکنگ سوٹ پہن لیے اور 12 ستمبر کی صبح، خالص آکسیجن ان کے سوٹوں میں بھرنا شروع ہو گئی جو ان کی خلائی چہل قدمی کے آغاز کی نشاندہی کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد، آئزاک مین نے ہیچ کھولا اور ہاتھ اور پیروں سے پکڑ کر 'اسکائی واکر' نامی ڈھانچے پر چڑھ گیا، نیچے زمین کا ایک دلفریب منظر تھا۔ اس نے کیلیفورنیا میں مشن کنٹرول کو بتایا کہ یہ بہت خوبصورت ہے۔ تقریباً 10 منٹ باہر رہنے کے بعد، آئزاک مین کو گلیس نے تبدیل کر دیا۔ وہ بے وزنی میں کیپسول سے باہر اوپر نیچے ہو رہی تھیں، لیکن گھٹنوں سے زیادہ نہیں۔ انہوں نے اپنے بازو گھمائے اور مشن کنٹرول کو رپورٹس بھیج دیں۔ ان دونوں کے پاس 3.6-میٹر (12 فٹ) ٹیتھرز (رسی) تھے لیکن انہوں نے ان کو نہیں کھولا یا لٹکایا جیسا کہ خلائی اسٹیشن پر ہوتا ہے، جہاں خلاباز معمول کے مطابق بہت کم مدار میں تیرتے ہیں اور ان کا استعمال کرتے ہیں۔

ہیچ کھلنے سے پہلے، عملہ اپنے خون سے نائٹروجن کو نکالنے کے لیے 'پری بریتھ' کے طریقہ کار سے گزرا تاکہ 'ڈی کمپریشن' کو روکا جا سکے۔ اس کے بعد کیبن کے دباؤ کو خلا کے ویکیم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے آہستہ آہستہ کم کیا گیا۔ کیپسول کے اندر واپس آنے سے پہلے، آئزاک مین اور سارہ گیلس نے اسپیس ایکس کے اگلی نسل کے سوٹ پر حرکت کے ٹیسٹ کرنے میں چند منٹ گزارے جن میں ہیڈز اپ ڈسپلے، ہیلمٹ کیمروں اور بہتر مشترکہ نقل و حرکت کا نظام شامل ہیں۔ خلائی چہل قدمی ایک گھنٹہ 46 منٹ بعد کیبن میں دوبارہ دباؤ بننے کے بعد ختم ہوئی۔

نجی طور پر فنڈڈ پولارس ڈان مشن میں عملے کے چار ارکان تھے – جیرڈ آئزاک مین، سابق ایئر فورس تھنڈر برڈ پائلٹ اسکاٹ پوٹیٹ، اور اسپیس ایکس کی انجینئرز سارہ گیلس اور اینا مینن۔ آپریشن کی منصوبہ بندی میں غلطی کی بہت کم گنجائش تھی۔ تاہم، کچھ خرابیاں تھیں۔ آئزاک مین کو بٹن دبانے کے بجائے دستی طور پر ہیچ کو کھولنا پڑا۔ باہر جانے سے پہلے، گیلس نے ہیچ سیل میں خرابی کی اطلاع دی۔ اسکاٹ پوٹیٹ اور اینا مینن کیپسول کے اندر سے نگرانی کے لیے اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔ عملے کے ان چاروں ارکان نے سفر سے پہلے سخت تربیت حاصل کی تھی۔ اسپیس ایکس کے تبصرہ نگار نے کہا کہ یہ پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ اسپیس واک کے اختتام کے بعد مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے X کے ذریعے کہا، آج کی کامیابی تجارتی خلائی صنعت کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے۔

یہ اسپیس ایکس کے لیے ایک اور اہم سنگ میل تھا، جس کی بنیاد ایلون مسک نے 2002 میں رکھی تھی۔ ابتدائی طور پر صنعت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد، اسپیس ایکس ایک پاور ہاؤس بن گیا ہے جس نے 2020 میں ناسا کے خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک سواری فراہم کرنے کے لیے ایک اسپیس شپ فراہم کرنے میں ایرو اسپیس دیوقامت بوئنگ کو شکست دی۔ حالانکہ یہ تجارتی شعبے کے لیے پہلی ہے، لیکن یہ اسپیس واک ابتدائی خلائی دور کے کارناموں سے کمتر تھی۔ ابتدائی خلائی مسافر جیسے سوویت خلاباز الیکسی لیونوف ٹیتھرز پر اپنے خلائی جہاز سے دور چلے گئے تھے، اور کچھ منتخب خلائی شٹل خلابازوں نے مکمل طور پر غیر منسلک پرواز کے لیے جیٹ پیکس کا استعمال کیا تھا۔

دولت مند مسافر چند منٹوں کے بے وزن ہونے کا تجربہ کرنے کے لیے نجی راکٹوں پر سوار ہونے کے لیے بھاری رقم دے رہے ہیں۔ دوسروں نے کئی دن یا ہفتوں تک خلا میں رہنے کے لیے لاکھوں خرچ کیے ہیں۔ خلائی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ناگزیر ہے کہ کچھ لوگ خلائی چہل قدمی میں سنسنی کی تلاش کریں گے، جسے لانچ اور مدار میں دوبارہ داخلے کے بعد خلائی پرواز میں سب سے خطرناک سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہ سب سے زیادہ روح کو ہلا دینے والا بھی ہے۔

آئزاک مین کی عمر 41 سال ہے۔ وہ شفٹ4 کریڈٹ کارڈ پروسیسنگ کمپنی کے بانی اور سی ای او ہیں۔ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ اس فلائٹ میں انہوں نے کتنی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ پولارس نامی پروگرام کے تحت تین پروازوں میں سے پہلی تھی اور اسے پولارس ڈان کہا جاتا ہے۔ 12 ستمبر تک صرف 263 افراد نے 12 ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اسپیس واک کی تھی۔ سوویت یونین کے الیکسی لیونوف نے اسے 1965 میں شروع کیا تھا اور اس کے چند ماہ بعد ناسا کے ایڈ وائٹ نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/sRgKoPr

جمعہ، 13 ستمبر، 2024

زمین سے 400 کلومیٹر دور خلا میں سنیتا ولیمز کی پریس کانفرنس، واپسی میں تاخیر پر کہا - 'اس پیشے میں ایسا ہی ہوتا ہے’

خلا بازوں سنیتا ولیمز اور بُچ ولمور نے حال ہی میں 420 کلومیٹر کی بلندی پر واقع خلائی اسٹیشن سے ایک اہم پریس کانفرنس کی۔ جس میں انہوں نے اپنے حالیہ مشن اور بوئنگ کیپسول کی واپسی میں تاخیر کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا۔ ولیمز اور ولمور دونوں ہی اس وقت خلا میں موجود ہیں اور ان کا مشن ابھی جاری ہے۔

سنیتا ولیمز نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’اس مقام پر مجھے خوشی ملتی ہے۔ مجھے یہاں خلا میں رہنا بہت پسند ہے، اور یہ میری پسندیدہ جگہوں میں سے ایک ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے حالیہ مشن کے دوران دو مختلف خلا بازی کی گاڑیوں میں پرواز کرنے کے اپنے تجربات پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم ٹیسٹر ہیں، یہی ہمارا کام ہے اور ہم نے اس کا بھرپور لطف اٹھایا ہے۔‘‘

پریس کانفرنس میں ولیمز نے وضاحت کی کہ بوئنگ کے اسٹار لائنر کیپسول کی واپسی میں تاخیر کی وجہ سے انہیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیپسول، جو کہ جون میں بین الاقوامی خلا اسٹیشن تک پہنچا تھا، کی واپسی میں تکنیکی مسائل کے باعث تاخیر ہوئی۔ ناسا نے فیصلہ کیا کہ کیپسول میں موجود خلابازوں کی واپسی کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ اضافی وقت درکار ہے، کیونکہ خراب کیپسول میں واپس آنا خطرناک ہو سکتا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ولیمز اور ولمور کا مشن ایک متوقع آٹھ دن کی مدت سے بڑھ کر آٹھ ماہ تک جاری رہنے کی امید ہے۔

ولیمز نے اپنے خلا میں قیام کی خوشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’یہ پیشہ ایسے ہی ہوتا ہے، اور ہمیں اس میں پیش آنے والی مشکلات کو قبول کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خلا میں رہتے ہوئے ان کے لئے سب سے مشکل چیز یہ رہی کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ قیمتی وقت گزارنے کا موقع کھو بیٹھے۔ اس کے باوجود، انہوں نے اپنے مشن کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انہیں خلا میں رہنا پسند ہے۔

وہیں، بچ ولمور نے بھی پریس کانفرنس کے دوران اپنے تجربات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹار لائنر کے پہلے ٹیسٹ پائلٹ کے طور پر ان کی توقعات کے برعکس، انہیں خلا میں زیادہ وقت گزارنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر یہی ہمارا پیشہ ہے۔‘‘ ولمور نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کے ہائی اسکول کے آخری سال میں موجود نہ ہونے کا افسوس بھی ظاہر کیا۔

دونوں خلا بازوں نے اپنے ملک میں ملنے والی دعاؤں اور نیک خواہشات کا شکریہ ادا کیا، جو کہ ان کی مدد کر رہی ہیں تاکہ وہ خلا میں اپنے مشن کو کامیابی سے مکمل کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں خلا اسٹیشن پر سات نئے خلابازوں کا استقبال کیا گیا ہے، جن میں دو روسی اور ایک امریکی شامل ہیں۔

خلا میں ہونے کے باوجود، ولیمز اور ولمور نے اپنے شہری حقوق اور ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے خلا سے ہی نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لئے غیر حاضری ووٹ کی درخواست بھی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہری کلمات کو پورا کرنا ضروری سمجھتے ہیں، چاہے وہ خلا میں ہی کیوں نہ ہوں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3baFDi5

اتوار، 1 ستمبر، 2024

ٹیلی گرام: اظہار کی آزادی بمقابلہ قانون کا نفاذ

ٹیلی گرام ایپ کے بانی، 39 سالہ پاول دوروف کو 24 اگست کو پیرس کے بورجٹ ہوائی اڈے پر ٹیلی گرام پر اعتدال (موڈریشن) کی کمی سے متعلق وارنٹ پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ان سے بہت سارے جرائم سے متعلق الزامات کے تحت تفتیش کی جا رہی ہے، بشمول ان الزامات کہ ان کا پلیٹ فارم (ٹیلی گرام) فراڈ کرنے والوں، منشیات کے اسمگلروں اور چائلڈ پورنوگرافی پھیلانے والے لوگوں کی مدد کرنے میں ملوث ہے۔ ٹیلی گرام اور اس کے مواد میں اعتدال کی کمی، دہشت گرد گروپوں اور انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے استعمال کے لیے بھی جانچ کی زد میں ہے۔

دوروف کی حراست نے ایپ فراہم کرنے والوں کی مجرمانہ ذمہ داری پر روشنی ڈالی ہے اور اس بحث کو ہوا دی ہے کہ آزادی اظہار کہاں ختم ہوتی ہے اور قانون کا نفاذ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ ان کی گرفتاری نے یوکرین اور روس دونوں ممالک میں خاص تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ٹیلی گرام انتہائی مقبول ایپ ہے اور روس یوکرین جنگ کے دوران فوجی اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔

دوروف اب باضابطہ تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں اور دوران تفتیش انہیں فرانس چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ فرانسیسی پراسیکیوٹر یا استغاثہ کے بیان کے مطابق روسی نژاد ارب پتی سے ان کے پلیٹ فارم پر مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق متعدد مشتبہ جرائم کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن میں گینگ کے غیر قانونی لین دین میں ملوث ہونا اور حکام کو معلومات فراہم کرنے سے انکار شامل ہے۔ دوروف کو 50 لاکھ یورو کی ضمانت کے ساتھ عدالتی نگرانی میں فرانس میں رہنا ہوگا اور ہفتے میں دو بار پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرنا ہوگا۔

استغاثہ نے سی این این کو بتایا، دوروف کو 96 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا، فرد جرم عائد کرنے سے پہلے فرانسیسی قانون کے تحت کسی کو زیادہ سے زیادہ اتنے ہی وقت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ پیرس کے ہوائی اڈے پر ان کی ڈرامائی گرفتاری کے بعد انہیں پولیس کی حراست سے رہا کر دیا گیا اور پوچھ گچھ کے لیے عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔ فرانسیسی قانونی نظام میں رسمی تفتیش کا مطلب جرم نہیں ہے، لیکن اس بات کی نشاندہی ہے کہ استغاثہ کے خیال میں ایک سنگین تفتیش کا کیس بنتا ہے۔ دوروف پر ابھی تک باضابطہ طور پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فرانسیسی قومی دفتر برائے نابالغان نے مختلف جرائم سے متعلق عدالت کی درخواستوں پر ٹیلی گرام کی جانب سے جواب کی تقریباً عدم موجودگی کی اطلاع دی ہے جن میں اسمگلنگ، آن لائن نفرت انگیز تقاریر، اور پیڈو فیلیا کے جرائم شامل ہیں۔ جن مشتبہ کارروائیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ان میں پلیٹ فارم انتظامیہ کی ملی بھگت شامل ہے جو ایک منظم گینگ میں غیر قانونی لین دین کو ممکن بناتا ہے، اور یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ٹیلی گرام نے 26 اگست کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے یورپی یونین کے قوانین کی پاسداری کی ہے اور اس کا اعتدال (موڈریشن) صنعت کے معیارات کے مطابق ہے اور مسلسل بہتر ہو رہا ہے۔ ٹیلی گرام کے سی ای او پاول دوروف کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور وہ اکثر یورپ کا سفر کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ کرنا مضحکہ خیز ہے کہ پلیٹ فارم یا اس کا مالک اس پلیٹ فارم کے غلط استعمال کے ذمہ دار ہے۔

روس نے پاول دوروف کو حراست میں لینے پر فرانس پر تنقید کی ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا کہ اس سب نے ایک بار پھر فرانسیسی قیادت کے حقیقی رویے کو ظاہر کیا ہے جس نے آزادی اظہار اور اظہار رائے کے تحفظ کے بین الاقوامی اصولوں کو صریحاً پامال کیا ہے۔ روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس امید کا اظہار کیا کہ دوروف کے پاس اپنے قانونی دفاع کے لیے تمام ضروری مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو ٹیلی گرام کے سی ای او کو روسی شہری کی حیثیت سے تمام ضروری مدد اور تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن صورتحال اس وجہ سے پیچیدہ ہے کہ وہ فرانس کے شہری بھی ہیں۔ انہوں نے روس میں ایپ کے مستقبل کے بارے میں خدشات کو بے اثر کرنے اور صارفین کو ایپ پر اپنے حساس پیغامات کو حذف کرنے کی کالوں سے دور رہنے کی کوشش کی۔ روس اور فرانس کے علاوہ، پاول دوروف متحدہ عرب امارات اور کیریبین جزیرے کے سینٹ کٹس و نیوس کے بھی شہری ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ بھی اس کیس کی پیروی کر رہی ہے اور فرانس سے کہا ہے کہ وہ دوروف کو تمام ضروری قونصلر خدمات فراہم کرے۔

روس اور ایکس (ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک کے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے کہ فرانس دوروف کی گرفتاری سے آزادی اظہار کو دبا رہا ہے، صدر ایمانوئل میکرون نے 26 اگست کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں اسے غلط معلومات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دوروف کی گرفتاری سیاسی اقدام نہیں بلکہ آزادانہ تحقیقات کا حصہ ہے۔ میکرون نے لکھا کہ فرانس اظہار رائے کی آزادی کے لیے پرعزم ہے لیکن شہریوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور حقیقی زندگی دونوں میں آزادی کو قانونی فریم ورک کے اندر برقرار رکھا جاتا ہے۔

ٹیلی گرام کو 2013 میں دوروف اور اس کے بھائی نکولائی نے شروع کیا تھا۔ گزشتہ ماہ دوروف نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی ایپ کے 95 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں، جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے میسجنگ پلیٹ فارمز میں سے ایک بناتا ہے۔ ایپ پر ہونے والی بات چیت کو انکرپٹ کیا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں - اور خود ٹیلی گرام- صارفین کی پوسٹ پر بہت کم نگرانی کرتے ہیں۔

دوروف 1984 میں سوویت یونین میں پیدا ہوئے اور 20 کی دہائی والی عمر میں وہ ’روس کے مارک زکربرگ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے 2014 میں ملک چھوڑا اور اب دبئی میں رہتے ہیں، جہاں ٹیلی گرام کا ہیڈکوارٹر ہے۔ بلومبرگ کے مطابق، ان کی مالیت ایک اندازے کے مطابق 9.15 ارب ڈالر ہے اور پچھلی دہائی کے دوران انہوں نے ایک شاہانہ طرز زندگی کو برقرار رکھا ہے۔

ٹیلی گرام نے آزادی اظہار کے گروپوں سے تعریفیں حاصل کی ہیں اور جن ممالک میں حکومتوں کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں ان ممالک میں نجی مواصلات کو فعال کیا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی سرگرمیوں کو مربوط کرنے والے لوگوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے - بشمول وہ دہشت گرد جنہوں نے نومبر 2015 میں پیرس کے دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ دوروف نے 2016 میں سی این این سے کہا تھا کہ یہ یا تو محفوظ ہے یا غیر محفوظ ۔ آپ اسے مجرموں کے خلاف محفوظ اور حکومتوں کے لیے کھول نہیں سکتے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/fKpqHYv