اتوار، 19 جنوری، 2025

امبر کی کہانی اور بجلی کا نام الیکٹریسٹی کیسے پڑا؟

بجلی کا زیور سے کیا تعلق ہے؟ میرے ساتھ اس سفر پر چلیں، تو آپ بہت کچھ نیا دیکھیں گے۔ دیوتا، بھیڑ، کڑکتی بجلی، وہ لڑکی جو پیڑ بن گئی، اپنی صحت کے لیے خون بہانا، بڑے ہیرے اور مقناطیسی کمپاس، یہ سب آپ کو اس سفر میں ملیں گے۔

اگر آپ امبر سے بنے زیور کو کسی اونی کپڑے یا بھیڑ کی کھال سے رگڑیں، تو آپ یہ دیکھیں گے کہ اب امبر کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ تو بالکل جادو سا لگتا ہے۔ اسی کو اسٹیٹک الیکٹریسٹی ( کہتے ہیں۔

ڈھائی ہزار سال پہلے امبر کی اسی خصوصیت کی طرف ایک یونانی فلسفی کا دھیان گیا۔ یہ فلسفی مائلیٹس کا تھالز تھا اور اس نے امبر کو دیکھ کر کہا کہ ہر چیز میں دیوتا موجود ہیں۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اسے امبر کے بارے میں کیسے پتا چلا، کیونکہ اس کی لکھی ہوئی کوئی بھی کتاب نہیں بچی۔ تھالز کے بارے میں کچھ باتیں صرف ارسطو سے ہی معلوم ہوئیں لیکن خود ارسطو کی بھی بہت کم کتابیں باقی ہیں، اس لیے ہم زیادہ تر صرف قیاس آرائیاں ہی کر سکتے ہیں۔

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ تھالز شاید ایک ہلکا پھلکا سائنسدان تھا جو اپنے چاروں طرف کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ میں نے تو ایک کارٹون دیکھا تھا جس میں تھالز دیہاتوں میں گھوم گھوم کر امبر کو بھیڑ کے گھنے بالوں میں رگڑ رہا ہے، مگر اب ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ سائنسدان نہیں بلکہ ایک فلسفی تھا۔ تو آئیے، اس کے اعزاز میں ہم نیچے دیا ہوا تجربہ کریں۔

فرض کیجئے کہ امبر سے بنا زیور ایک جوہری بہت احتیاط سے فر میں لپیٹ کر رکھتا ہے۔ کچھ دنوں بعد اس نے زیور نکال کر دیکھا کہ وہ کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور یہی ایک یونانی کہانی بن جاتی ہے۔ امبر کہاں سے آیا؟ اس کہانی کو یونانی شاعر اوویڈ نے اپنی نظم میں کچھ اس طرح لکھا ہے:

ایک دن سورج کے بچوں میں سے فیتھیان نے اپنے باپ کا اڑن کھٹولا چوری کیا اور اسے بہت دیوانے پن سے سارے آسمان میں گھمایا۔ اسے دیکھ کر بڑے دیوتا جوپیٹر کو بہت غصہ آیا اور اس نے بادلوں کی کڑکتی بجلی سے اڑن کھٹولے پر وار کیا تو فیتھیان اڑن کھٹولے سے گر کر دریا میں ڈوب کر مر گیا۔

اس خبر پر اس کی سبھی بہنوں نے دریا کے کنارے کھڑے ہو کر بلند آواز میں رونا شروع کر دیا۔ اس شور و غل سے سارے دیوتا بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے ان بہنوں کو پیڑ اور ان کے آنسوؤں کو امبر میں بدل دیا۔ یہ کہانی فیتھیان اور اس کی بہنوں کے لیے اچھی نہیں تھی لیکن جوہری دوکاندار کے لیے بہت فائدے مند ثابت ہوئی کیونکہ یہ مشہور ہوا کہ امبر میں دیوتاؤں کا حصہ شامل ہے، اس لیے امبر کے زیور بہت مہنگے ہو گئے اور دوکاندار کو خوب منافع ہوا۔

امبر کی اس کہانی کے بعد الیکٹریسٹی کی سمجھ کے بارے میں اگلے 2500 سال تک کچھ خاص نہیں ہوا۔ وقت کا پہیہ رفتہ رفتہ آگے بڑھتا رہا اور اب ہماری کہانی کا اگلا اہم موڑ سن 1600 کے انگلستان میں ملکہ الزبتھ کے زمانہ میں ایک عجیب و غریب شخصیت والے ڈاکٹر ولیم گلبرٹ تک پہنچا۔

گلبرٹ نے مقناطیس کی خصوصیات پر ایک کتاب لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔ گلبرٹ کی شہرت اور کامیابی بھی بہت عجیب ہے کیونکہ نہ وہ کچھ خاص خوش شکل تھا اور نہ ہی خوشگوار خصلت کا مالک تھا۔ مثال کے طور پر اس نے اپنے زمانے کے ہر مشہور شخص کا ذکر بہت برے الفاظ میں کیا اور وہ اپنے علاوہ سب کو بالکل جاہل سمجھتا تھا۔ اس کی شہرت شروع میں ایک کامیاب ڈاکٹر کے طور پر ہوئی، لیکن وہ بھی عجیب معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں زیادہ تر علاج دو طرح سے کیا جاتا تھا، پہلا طریقہ بیمار کا تھوڑا خون بہا کر اور دوسرا اس کو تھوڑی مقدار میں زہر پلا کر۔ لگتا ہے کہ گلبرٹ ان دونوں کاموں میں ماہر ہوگا، جبھی وہ اتنا مقبول ہوا کہ اسے ملکہ الزبیتھ کا خاص ڈاکٹر مقرر کیا گیا۔ لیکن الزبیتھ اتنی سمجھدار تھیں کہ انہوں نے اس طرح کے کسی ڈاکٹر کو کبھی ہاتھ نہیں لگانے دیا۔

یورپ میں اس زمانے کو رینیسانس کہتے ہیں، یہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’دوبارہ جنم لینا‘ ہے۔ وہ زمانہ تھا جب یورپ میں آرٹ، سائنس اور کلچر میں ایک نئی تازگی آئی اور پرانے عقیدوں اور پابندیوں کو کھلے عام بدلنے کی خواہش کا خیرمقدم کیا گیا۔گلبرٹ کو مقناطیس کی خصوصیات سمجھنے کا بہت شوق تھا اور وہ اس کے مختلف تجربات کرتا رہتا تھا۔

مقناطیسی کا سب سے پرانا ذکر چوتھی صدی قبل مسیح کے چین کے گویگوزی کا ہے۔ میگنٹ (مقناطیس) لفظ کا یونانی زبان سے تعلق ہے۔ یہ بھی ایک کہانی ہے کہ یونان میں ایک مگنیس نامی چرواہے نے یہ دیکھا کہ ان کے ڈنڈے کا لوہا اور جوتے کی کیلیں ایک پتھر سے چپک گئی تھیں۔ قدرتی طور پر پائے جانے والے اس پتھر کو مقناطیسی پتھر یا لوڈسٹون کا نام دیا گیا۔ مصر میں مقناطیس کا استعمال کر کے مندروں میں پوجا کی چیزوں کو ہوا میں لٹکا کر کرشمہ دکھایا جاتا تھا۔ چین میں ایک بادشاہ نے اپنے محل کی حفاظت کے لیے اس کے دروازوں کو مقناطیس سے بنوایا تاکہ اس سے کوئی ہتھیار لے کر اندر نہ آ سکے۔

ہمیں اب تحقیق سے معلوم ہے کہ ہر چیز تھوڑی بہت مقناطیسی ہوتی ہے کیونکہ سب چیزیں ایٹم سے بنی ہیں اور اس خصوصیت کا بجلی سے گہرا تعلق ہے۔ ہر ایٹم میں الیکٹران نیوکلیس کے چاروں طرف چکر لگاتے ہیں جس کی وجہ سے ایک بجلی بہتی ہے اور اس سے ایٹم ایک چھوٹا مقناطیس بن جاتا ہے۔ اگر ایٹم کے زیادہ تر الیکٹران ایک ہی سمت میں چکر لگائیں تو وہ ایٹم ایک طاقتور مقناطیس بن جاتا ہے۔ اب اگر اس چیز کے زیادہ تر ایٹم کے مقناطیس ایک ہی سمت ہوں تو وہ چیز ایک طاقتور مقناطیس بن جاتی ہے۔ مقناطیس کی تفصیلی کہانی کا کہیں اور ذکر ہوگا، ہم فی الحال گلبرٹ کی کہانی کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔

گلبرٹ نے دیکھا کہ اگر ایک چھوٹا مقناطیس کسی نوکیلی چیز پر ایسا رکھا جائے کہ وہ آسانی سے گھوم سکے تو وہ ہمیشہ زمین کے شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مقناطیس کی یہ خصوصیت پرانے زمانے میں بھی لوگوں کو معلوم تھی لیکن شاید گلبرٹ وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ لکھا کہ چھوٹا مقناطیس اس لیے شمال کی طرف رہتا ہے کیونکہ ہماری زمین خود ایک بڑا مقناطیس ہے۔

اپنی ڈاکٹری کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اٹھارہ سال مقناطیس کے ساتھ کھیلتے ہوئے، گلبرٹ نے امبر کو رگڑنے کے بعد کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو کھینچنے پر بھی غور کیا۔ اس نے یہ سوچا کہ امبر بھی مقناطیس کی طرح ہو جاتا ہے۔ باریکی سے تجربہ کرنے پر اس نے پایا کہ حالانکہ امبر کی ’اسٹیک الیکٹریسٹی‘ مقناطیس کی طرح چھوٹی چیزوں کو کھینچتی ہے لیکن وہ کئی معنوں میں الگ ہے۔ پہلی تو یہ کہ مقناطیس مستقل ہوتا ہے، جبکہ امبر کو رگڑنا پڑتا ہے۔ دوسرا فرق یہ کہ مقناطیس ہر موسم میں کام کرتا ہے، جب کہ امبر صرف سوکھے دنوں میں اور اگر ہوا میں نمی ہو یا پانی ہو تو امبر بالکل کام نہیں کرتا۔ تیسرا اور بہت اہم فرق یہ کہ مقناطیس صرف کچھ خاص چیزوں کو کھینچتا ہے، جبکہ رگڑا ہوا امبر تقریباً ہر چیز کو کھینچتا ہے۔

ان دریافتوں کے بعد، اس نے مختلف چیزوں پر رگڑ کر تجربات کیے اور یہ دیکھا کہ صرف امبر ہی نہیں، بلکہ بہت سی چیزیں رگڑنے کے بعد امبر کی طرح کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں اور فر کو کھینچتی ہیں۔ چونکہ یہ خصوصیت سب سے پہلے امبر میں دریافت ہوئی تھی، اس لیے گلبرٹ نے اسے امبر کے یونانی نام ’الیکٹران‘ اور لاطینی میں ’الیکٹریئس فورس‘ کا نام دیا، جو پھر انگریزی میں ’الیکٹرک فورس‘ بن گیا۔ اس طرح ’الیکٹریسٹی‘ کو اس کا نام ملا۔

باوجود بہت دھیان سے تجربات کرنے کے گلبرٹ سے ایک بڑی غلطی ہوئی۔ اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ مقناطیس اپنی طرف کھینچتا (attract) اور دور بھی بھگاتا (repel) ہے۔ مخالف پولز ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں اور ایک جیسے پولز کے بیچ ریپلشن ہوتا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ الیکٹریکس بھی ایسی ہو سکتی ہے جو ریپل کرے۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ الیکٹریکس میں صرف کشش ہوتی ہے۔ اس بات کا علم ہونے میں 70 سال اور لگے لیکن وہ کہانی پھر کبھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LDsCotB

جمعہ، 17 جنوری، 2025

اسرو کا اسپیس ڈاکنگ تجربہ کامیاب، تاریخی ویڈیو جاری؛ انڈوکنگ کی تیاری شروع

ہندوستانی خلائی تحقیقاتی تنظیم (اسرو) نے 16 جنوری کو اپنا پہلا اسپیس ڈاکنگ تجربہ (SpaDeX) کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ تاریخی کامیابی اسرو کو پہلی ہی کوشش میں حاصل ہوئی، جس میں دو سیٹلائٹ کو خلا میں آپس میں جوڑ دیا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ بھارت روس، امریکہ، اور چین کے بعد چوتھا ملک بن گیا ہے جو اسپیس ڈاکنگ میں مہارت رکھتا ہے۔

اسرو کی جانب سے حالیہ تجربے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح خلا میں دو سیٹلائٹس کو ڈاکنگ کے ذریعے جوڑا گیا۔ ویڈیو میں اسرو کے سائنسدانوں کو مشن کی کامیابی پر خوشی اور تجسس سے بھرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ اسرو کے سربراہ وی نارائن اپنی ٹیم کو کامیاب مشن پر مبارکباد دیتے بھی نظر آئے۔

اسرو کے اس تاریخی اقدام کی دنیا بھر میں ستائش کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل کے ہندوستانی خلائی مشنز کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ اسپیس ڈاکنگ کے ذریعے گگن یان، چاند پر انسانوں کی روانگی، اور ہندوستان کے اپنے اسپیس اسٹیشن کے منصوبوں کو بہتر انداز میں مکمل کیا جا سکے گا۔

اب اسرو کا اگلا قدم انڈوکنگ یعنی دونوں خلائی جہازوں کو الگ کرنا ہے، جس کے دوران پاور ٹرانسفر سسٹمز کی جانچ کی جائے گی۔ ہندوستان نے 2035 تک اپنے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا ہدف رکھا ہے، جسے 'ہندوستانی اسپیس اسٹیشن' کہا جائے گا۔ موجودہ کامیابی اس بڑی پیش رفت کا پہلا سنگ میل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QABCuUa

ہفتہ، 11 جنوری، 2025

ہندوستانی روبوٹک سسٹم نے 286 کلومیٹر دور سے انجام دی کامیاب سرجری

نئی دہلی: ہندوستانی ساختہ سرجیکل روبوٹک سسٹم 'ایس ایس آئی منتر' نے 286 کلومیٹر کی دوری سے ٹیلیر وبوٹک سرجری انجام دے کر طب کی دنیا میں تاریخ رقم کی ہے۔ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے دور سے دو کامیاب 'روبوٹک کارڈیک سرجریاں' مکمل کی گئیں۔

ڈاکٹر سدھیر سریواستو نے گڑگاؤں میں بیٹھ کر ایس ایس آئی منتر 3 سرجیکل روبوٹک سسٹم کی مدد سے جے پور کے منی پال اسپتال میں آپریشن کیے۔ پہلا آپریشن 'انٹرنل میمری آرٹری ہارویسٹنگ' تھا، جسے محض 58 منٹ میں مکمل کیا گیا، جب کہ دوسرا آپریشن 'روبوٹک بیٹنگ ہارٹ ٹی ای سی اے بی' تھا، جو کارڈیک سرجری کی سب سے مشکل اقسام میں سے ایک ہے۔

ان پیچیدہ سرجریوں میں تاخیر کا وقت صرف 35 سے 40 ملی سیکنڈ رہا، جس سے انقلابی سائنسی پیش رفت اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ ہوا۔

ڈاکٹر سدھیر سریواستو، جو ایس ایس انوویشن کے بانی اور سی ای او ہیں، نے کہا، "ٹیلیر وبوٹک سرجری کی صلاحیتوں سے ہم جغرافیائی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے بہترین طبی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملک کے لیے، جہاں دیہی آبادی اور صحت کی سہولتوں میں بڑا فرق ہے، یہ انقلابی قدم ثابت ہوگا۔"

جے پور کے منی پال اسپتال میں کارڈیک سرجری کے سربراہ ڈاکٹر لَلِت ملک نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی فاصلاتی رکاوٹوں کو دور کر کے مریضوں کو جدید اور وقت پر طبی مداخلت فراہم کرتی ہے۔

ایس ایس انوویشن کا تیار کردہ ایس ایس آئی منتر 3 دنیا کا واحد روبوٹک سسٹم ہے جسے ٹیلیر وبوٹک سرجری اور ٹیلِی پروکٹرنگ کے لیے ریگولیٹری منظوری ملی ہے۔ حال ہی میں سی ڈی ایس سی او سے حاصل کی گئی منظوری نے فاصلاتی سرجری اور میڈیکل ایجوکیشن کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس انقلابی اقدام سے طبی ماہرین کو دور بیٹھ کر بھی علاج کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/cRo4CMv

اتوار، 5 جنوری، 2025

اسپیڈیکس: ہندوستانی اسپیس پروگرام کی تاریخی کامیابی

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کا اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ (اسپیڈیکس) ایک تاریخی کامیابی ہے، جس نے ہندوستان کو خلا میں ڈاکنگ کی ٹیکنالوجی کے عالمی رہنماؤں کے ہم پلہ کر دیا ہے۔ ہندوستان نے یہ سنگ میل 30 دسمبر 2024 کو پی ایس ایل وی ۔سی 60 کی کامیاب اڑان کے ذریعے حاصل کیا، جو سری ہری کوٹہ سے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ کا مقصد خلا میں موجود خلائی جہازوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے (ڈاکنگ) اور الگ کرنے (انڈوکنگ) کے لیے ضروری ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کا تجربہ کرنا ہے۔ ڈاکنگ مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے ایک اہم صلاحیت ہے، خاص طور پر ان مشنوں کے لیے جو عملے والے خلائی اسٹیشنز، سیٹلائٹ کی سروسنگ یا بین سیاروی تحقیق سے متعلق ہوں۔ یہ تجربہ اسرو کی وسیع تر خواہشات کا حصہ ہے، جس کا مقصد مختلف ایپلی کیشنز کے لیے خود مختار خلائی سسٹمز کی ترقی ہے، جن میں سیٹلائٹ کی سروسنگ، خلائی اسٹیشن کے لیے لاجسٹکس، اور طویل المدت خلائی مشن شامل ہیں۔

اسپیس ڈاکنگ کا مطلب ہے خلا میں دو خلائی جہازوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور انہیں محفوظ طریقے سے جوڑنا۔ یہ عمل خلاء بازوں کے ذریعے دستی طور پر (مینولی) یا روبوٹک سسٹمز کے ذریعے خودکار طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکنگ کی اہمیت اس لیے ہے کہ خلائی جہازوں کو خلائی اسٹیشنز (جیسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن یا مستقبل میں ہندوستانی خلائی اسٹیشن) سے جوڑنے کی ضرورت ہوگی تاکہ سامان، عملہ اور آلات پہنچائے جا سکیں۔ دوسرے عملہ والے مشن کے دوران عملے کو خلائی اسٹیشنز میں منتقل کرنے کے لیے بھی ڈاکنگ کی صلاحیت ضروری ہے۔ مستقبل کے خلائی جہازوں کو خلا میں ایندھن بھرنے، مرمت یا اپگریڈنگ کے لیے ڈاک کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بین سیاروی مشنوں کے لیے ڈاکنگ ٹیکنالوجی ضروری ہے، جہاں خلائی جہازوں کو عملے کی منتقلی کے لیے یا خلا میں کسی بڑے خلائی جہاز کو جوڑنے کے لیے ڈاکنگ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

اسرو کی اسپیس ڈاکنگ ٹیکنالوجی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور اس کی کامیابی کے لیے کئی سنگ میل اور مندرجہ ذیل تجربات اہم ہیں:

1۔ گگن یان مشن ڈاکنگ ٹیسٹنگ: گگن یان مشن اسرو کا پرجوش انسانی خلائی پرواز کا پروگرام ہے، جس کا مقصد ہندوستانی خلاء بازوں کو خلا میں بھیجنا ہے۔ اس پروگرام کے ایک حصے کے طور پر، ڈاکنگ کی صلاحیتیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں کہ خلائی جہاز مستقبل میں ہندوستانی خلائی اسٹیشن یا دیگر خلائی جہازوں کے ساتھ محفوظ طریقے سے ڈاک کر سکے۔ لہٰذا گگن یان خلائی جہاز کو خلائی اسٹیشن یا دیگر خلائی گاڑیوں کے ساتھ جوڑنے کے لیے خودکار ڈاکنگ سسٹمز کی ضرورت ہوگی۔ اس سے خلاء بازوں کو خلائی جہازوں کے درمیان منتقلی یا خودکار طور پر مشن کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ اسرو ڈاکنگ کے میکانزم تیار کر رہا ہے جو انتہائی قابل اعتماد، درست، اور خلا کے سخت حالات میں کام کرنے کے قابل ہوں۔

2۔ اسپیس ڈاکنگ سسٹمز پر تحقیق اور ترقی: اسرو ڈاکنگ سسٹمز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز جیسے ڈاکنگ اور انڈوکنگ میکانزم، گائیڈنس اور نیویگیشن سسٹمز، خودکار رینڈی وؤس ٹیکنالوجیز اور روبوٹک آرمز کی ترقی پر کام کر رہا ہے۔ یہ سسٹمز مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے اہم ہیں، جن میں سیٹلائٹ کی سروسنگ، عملے کی منتقلی اور خلائی اسٹیشن کے مشن شامل ہیں۔

3۔ اسرو کا چندریان اور گگن یان ڈاکنگ ٹیسٹ: 2019 میں، اسرو نے چندریان-2 مشن میں پہلی بار خودکار ڈاکنگ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تاکہ خلائی جہازوں کے رینڈی وؤس کی ٹیکنالوجی کو آزمایا جا سکے۔ ڈاکنگ کا تجربہ سیٹلائٹ کی اسمبلی کے لیے درکار ٹیکنالوجیز کی جانچ کرنے کے لحاظ سے کامیاب رہا۔

گگن یان کے لیے، اسرو ایک خودکار ڈاکنگ سسٹم تیار کر رہا ہے جو عملے کی پرواز سے پہلے آزمایا جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی گگن یان کو ایک خلائی اسٹیشن کے ساتھ ڈاک کرنے یا خلا میں دیگر خلائی جہازوں کے ساتھ رینڈی وؤس کرنے کے قابل بنائے گی۔

4۔ اسٹروسیٹ اور مستقبل کے ڈاکنگ ٹیسٹ: گگن یان اور چندریان کے علاوہ، اسرو نے اپنے سیٹلائٹ مشنوں میں ڈاکنگ کی صلاحیتوں کو شامل کیا ہے۔ مثال کے طور پر، ہندوستان کی پہلی مختص کثیر لہریں خلائی آبزرویٹری، اسٹروسیٹ نے رینڈی وؤس اور ڈاکنگ کے عمل کے کچھ پہلوؤں کا مظاہرہ کیا، جو مستقبل کے مشنوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

5۔ ٹیسٹ بیڈ تجربات (رینڈی وؤس اور ڈاکنگ): اسرو نے ڈاکنگ ٹیکنالوجی کو درست ثابت کرنے کے لیے کئی ٹیسٹ بیڈ تجربات تیار کیے ہیں۔ ان تجربات میں خودکار رینڈی وؤس اور ڈاکنگ کی ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا گیا ہے، جس میں خلائی جہاز کی درست نگرانی اور ڈاکنگ کے عمل کو بہت زیادہ درستگی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ یہ تمام تجربات اور منصوبے اسرو کی خلا میں ڈاکنگ کے حوالے سے تکنیکی مہارت کو بڑھانے اور مستقبل کے مشنوں کے لیے ضروری صلاحیتوں کو تیار کرنے کے لیے اہم ہیں۔

خلائی جہازوں کی ڈاکنگ کے لیے پیچیدہ ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہوتی ہے اور اسرو ان اجزاء کی ترقی پر کام کر رہا ہے جو خودکار اور دستی دونوں ڈاکنگ آپریشنز کے لیے ضروری ہیں:

خودکار رینڈی وؤس اور ڈاکنگ: یہ ٹیکنالوجی مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ خلائی جہازوں کو خودکار طور پر ایک دوسرے کے قریب لانے، رینڈی وؤس کرنے اور ڈاک کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ خلائی جہاز کے اندرونی سسٹمز ڈاکنگ کے دوران نیویگیشن، گائیڈنس اور کنٹرول کو سنبھالتے ہیں۔

ڈاکنگ میکانزم: ڈاکنگ سسٹم میں وہ جسمانی کنیکٹر اور آلات شامل ہیں جو دو خلائی جہازوں کے درمیان محفوظ جوڑ کو یقینی بناتے ہیں۔ اسرو ڈاکنگ رنگز، میکانیکل آرمز اور محفوظ لاکنگ میکانزم پر کام کر رہا ہے جو محفوظ جوڑ کو یقینی بنائیں۔

خلائی جہازوں کی ڈاکنگ کے لیے پیچیدہ ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہوتی ہے، اور اسرو ان اجزاء کی ترقی پر کام کر رہا ہے جو خودکار اور دستی دونوں ڈاکنگ آپریشنز کے لیے ضروری ہیں:

کمیونیکیشن سسٹمز: ڈاکنگ کے لیے دونوں خلائی جہازوں کے درمیان کمیونیکیشن ضروری ہے۔ اس میں ریڈیو فریکوئنسی کمیونیکیشن، ڈیٹا شیئرنگ اور ویژوئل سسٹمز شامل ہیں جو خلائی جہاز کو ڈاکنگ کی سمت میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

سینسر اور گائیڈنس سسٹمز: دقیق نیویگیشن سینسرز کو خلائی جہاز کو ڈاکنگ پورٹ کی طرف رہنمائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں لیڈار (لائٹ ڈیٹیکشن اینڈ رینجنگ)، ریڈار، آپٹیکل سسٹمز اور لیزر کمیونیکیشن سسٹمز شامل ہیں جو درست پیمائش فراہم کرتے ہیں۔

سیفٹی پروٹوکولز: اسرو ایمرجنسی انڈوکنگ، ڈاکنگ کی ناکامی کی صورت میں متبادل منصوبوں، اور ڈاکنگ کے بعد آپریشنز (جیسے عملے کی منتقلی، سامان کی فراہمی وغیرہ) کے لیے سسٹمز تیار کر رہا ہے۔

اسرو کے اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ کی مستقبل کے عملے والے مشنوں کے لیے بہت اہمیت ہے۔ اسرو کی ڈاکنگ ٹیکنالوجی کی کامیابی عملے کی منتقلی، ری سپلائی مشنوں اور خلائی اسٹیشنز (ہندوستانی اور بین الاقوامی دونوں) کے آپریشنز کے لیے درکار ہوگی۔ مزید برآں، مستقبل میں ہندوستانی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ خلائی اسٹیشن کے ساتھ خودکار طور پر ڈاک کرنے کی صلاحیت لاجسٹکس، عملے کی تبدیلی کے مشنوں، اور سائنسی تحقیق کے لیے ضروری ہوگی۔ ڈاکنگ کی ٹیکنالوجی سیٹلائٹ کی سروسنگ کے لیے بھی معاون ثابت ہوگی، جس میں سیٹلائٹ کی مرمت، اپگریڈنگ یا ایندھن بھرنے کی صلاحیت شامل ہے، جس سے ان کی عملی زندگی میں اضافہ ہوگا اور متبادل کی ضرورت کم ہوگی۔

اس کے علاوہ مستقبل کے بین سیاروی مشنوں میں خلائی جہازوں کو ایک دوسرے یا دیگر فلکیاتی اجسام (جیسے مریخ) کے ارد گرد مدار میں خلائی اسٹیشنز کے ساتھ ڈاک کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اسرو کی ڈاکنگ ٹیکنالوجیز ان مشنوں میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ڈاکنگ ٹیکنالوجیز کی ترقی ہندوستان میں کمرشل خلائی سرگرمیوں کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے، جیسے خلائی سیاحت، نجی سیٹلائٹ کی خدمت، اور نجی خلائی اسٹیشنز، جس سے نئے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔ اسرو کا کامیاب اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ ہندوستان کا مستقبل کی انسانی خلائی پرواز، خلائی تحقیق، سیٹلائٹ کی سروسنگ کی صلاحیتوں میں اہم پیش رفت ہے۔ کامیاب ڈاکنگ ٹیکنالوجی نے اسرو کو عالمی خلائی کمیونٹی میں ایک اہم کھلاڑی بنا دیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/nYbrjvw

بدھ، 1 جنوری، 2025

خوش آمدید 2025: اِسرو خلا میں اونچی پرواز کے لیے تیار، کچھ نئی تاریخ رقم کرنے پر ہے نظر

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ ’اِسرو‘ کے لیے 2024 تاریخی ثابت ہوا۔ اب اِسرو 2025 میں بھی خلا کے کئی راز جاننے کو پُرجوش ہے۔ خلا میں اونچی پرواز کے لیے تیار اِسرو اس سال کچھ نئی تاریخ رقم کرنے پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ یعنی 2025 میں بھی ہندوستان کچھ نئے ریکارڈ بنانے کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔

2025 میں اِسرو کئی منصوبوں کو لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مارچ 2025 میں ناسا اور اِسرو مشترکہ طور پر ’نسار‘ سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ ناسا اور اِسرو کے درمیان تعاون کے تحت بنایا گیا ہے۔ ’نسار‘ کا مطلب ’ناسا-اسرو سنتھیٹک اپرچر رڈار‘ ہے۔ اس سیٹلائٹ کو آندھرا پردیش کے ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا جانا ہے۔

اس سیٹلائٹ کو ہر 12 دنوں میں ارض کے تقریباً پورے زمینی علاقہ و برف کی سطحوں کی نگرانی کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ ایکو سسٹم (ماحولیاتی نظام)، زمین اور سمندری برف و ٹھوس ارض میں ہونے والی تبدیلیوں کو ٹریک کرے گا۔ نسار تقریباً 40 فیٹ (12 میٹر) قطر والے ڈرم کے سائز کے ریفلیکٹر انٹینا کے ساتھ رڈار ڈاٹا جمع کرے گا۔ یہ ارض کی زمین اور برف کی سطحوں میں ایک انچ تک تبدیلی کا تجزیہ کرنے کے لیے نسار نامی سگنل-پروسیسنگ تکنیک کا استعمال کرے گا۔

نسار کے علاوہ 2025 میں اِسرو مزید 6 سیٹلائٹ لانچ کرنے والا ہے۔ اِسرو بحریہ کے لیے جی سیٹ-7 آر، آرمی کے لیے جی سیٹ-7بی، براڈ بینڈ اور اِن-فلائٹ کنکٹیویٹی کے لیے جی سیٹ-این2، ڈیفنس، پیرا ملٹری، ریلوے، فشریز کے لیے جی سیٹ-این3 کے علاوہ گگن یان کے ساتھ رابطہ بنائے رکھنے کے لیے 2 سیٹلائٹ لانچ کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی 6 نگرانی سیٹلائٹ بھی لانچ کیے جائیں گے۔

2025 میں لوگوں کی نظر ہندوستان کے دیرینہ گگن یان مشن پر بھی رہے گی۔ ملک کا پہلا انسانی خلائی طیارہ پروگرام 2025 کی شروعات میں روبوٹ ویوم متر کے ساتھ آخری تجرباتی پرواز سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے 2026 میں گگن یان کے ذریعہ پہلے ہندوستانی باشندہ کو خلاء میں بھیجا جا سکے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/l5QjDUe