جمعہ، 30 مئی، 2025

کیا لیتھئم اگلے دور کا تیل بننے والا ہے؟

21ویں صدی میں توانائی کے متبادل ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس تبدیلی نے دنیا بھر میں بعض قدرتی وسائل کی اہمیت کو نئی جہت دی ہے اور ان میں سرِفہرست عنصر لیتھئم (Lithium) ہے۔ لیتھئم کو عموماً ’سفید سونا‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز، خاص طور پر بیٹریوں، میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مضمون لیتھئم کی سائنسی، تجارتی اور جغرافیائی اہمیت کو واضح کرے گا اور اس بات کا جائزہ لے گا کہ مستقبل میں کن ممالک کو اس قیمتی عنصر کی بدولت فائدہ ہونے والا ہے۔ مستقبل میں بجلی کی کاروں اور کمپیوٹر کی بیٹریوں کا اہم کردار ہے اور آنے والے دور میں ان کا کردار انہیں کے ارد گرد رہنا والا ہے۔ 

لیتھئم ایک نرم، ہلکی اور چاندی نما دھات ہے جو کیمیاوی عناصر میں سب سے ہلکی دھات مانی جاتی ہے۔ یہ عام طور پر سالٹ فلیٹس، زیر زمین آبی ذخائر، اور سخت چٹانوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ لیتھئم کا بنیادی استعمال لیتھئم آئن بیٹریوں میں ہوتا ہے، جو آج کل تقریباً ہر اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، اور خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) میں استعمال ہوتی ہیں۔

دنیا بھر میں توانائی کی ضروریات بدل رہی ہیں۔ روایتی ایندھن (تیل، کوئلہ، گیس) کے ماحولیاتی اثرات کے پیشِ نظر حکومتیں اور کمپنیاں متبادل توانائی کی طرف رخ کر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے مرکز میں لیتھئم ہے، جو بیٹری سے چلنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق، 2040 تک لیتھئم کی مانگ میں تقریباً 40 گنا اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظاموں میں استعمال کے لیے۔ یہ رجحان اس دھات کو تیل جیسا اسٹریٹجک اثاثہ بنا رہا ہے۔

دنیا میں لیتھئم کے ذخائر چند مخصوص خطوں میں مرتکز ہیں۔ چلی دنیا کے سب سے بڑے لیتھئم ذخائر کا حامل ملک ہے، خاص طور پر "لیتھئم ٹرائی اینگل" کا حصہ ہونے کی وجہ سے۔ یہ مثلث چلی، ارجنٹینا اور بولیویا پر مشتمل ہے، جو دنیا کے 60 فیصد سے زائد لیتھئم کے ذخائر رکھتا ہے۔آسٹریلیا دنیا میں سب سے زیادہ لیتھئم پیدا کرنے والا ملک ہے، خاص طور پر سخت چٹانی ذخائر سے۔ اس کی سپلائی چین نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ اور مستحکم ہے۔چین نہ صرف لیتھئم کا ایک بڑا پروڈیوسر ہے بلکہ لیتھئم بیٹریوں کی تیاری اور ریفائننگ میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ چینی کمپنیاں عالمی مارکیٹ پر حاوی ہیں اور وہ دیگر ممالک میں بھی ذخائر خرید رہی ہیں۔

اگر یہ ممالک اپنی پالیسیوں کو بہتر بنائیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو متوجہ کریں تو یہ دنیا کے لیتھئم مرکز بن سکتے ہیں۔ ان کی جغرافیائی برتری، ماحولیاتی سازگار حالات اور وسیع ذخائر انہیں اس دوڑ میں سب سے آگے رکھ سکتے ہیں۔

چین نے پہلے ہی عالمی سطح پر لیتھئم بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں میں برتری حاصل کر لی ہے۔ اس نے افریقہ اور جنوبی امریکہ میں کئی کانیں خرید کر اپنی سپلائی چین کو مضبوط کر لیا ہے۔ اگرچہ چین کے ذخائر محدود ہیں، لیکن اس کی صنعتی اور ٹیکنالوجیکل صلاحیت اسے آگے رکھتی ہے۔

آسٹریلیا کا مستحکم سیاسی نظام، جدید کان کنی کی ٹیکنالوجی، اور چین و امریکہ کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات اسے ایک اسٹریٹجک سپلائر بناتے ہیں۔ آسٹریلیا کی پوزیشن اسے دنیا کے دیگر بڑے صارفین کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بناتی ہے۔افریقہ میں بھی لیتھئم کے ذخائر دریافت ہو چکے ہیں، اور اگر ان ممالک میں استحکام آئے تو یہ دنیا کی سپلائی میں بڑا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

بہت سے علاقوں میں مقامی آبادی کو حقوق یا فوائد نہیں دیے جاتے، جس سے سماجی تنازعات جنم لیتے ہیں۔اگرچہ بہت سے ممالک کے پاس خام لیتھئم ہے، لیکن زیادہ تر ویلیو ایڈیشن (جیسے بیٹری بنانا) ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنی صنعتی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔

لیتھئم کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے دنیا کی جغرافیائی سیاست اور معیشت کو نئی جہت دے دی ہے۔ توانائی کے مستقبل کی دوڑ میں لیتھئم وہ ایندھن ہے جو دنیا کو روایتی ذرائع سے متبادل ذرائع کی طرف لے جا رہا ہے۔ اس دوڑ میں چلی، چین، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک پہلے ہی اہم مقام حاصل کر چکے ہیں، جبکہ دیگر ترقی پذیر ممالک جیسے بولیویا، ارجنٹینا اور افریقی ریاستیں بھی ابھرتے ہوئے کھلاڑی ہیں۔

اگر ان ممالک نے دانشمندانہ پالیسی اپنائیں، ماحول دوست طریقے اختیار کریں، اور مقامی کمیونٹیز کو شامل کریں تو وہ نہ صرف عالمی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ اپنی معیشتوں کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔ لیتھئم صرف ایک دھات نہیں، بلکہ یہ دنیا کی توانائی، معیشت اور سیاست کا مستقبل متعین کر رہا ہے یعنی لیتھئم مستقبل کا تیل بننے والا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ir2G4Wb

اتوار، 25 مئی، 2025

سائبر کرائم: عالمی نیٹ ورک کا خاتمہ

ایک وسیع بین الاقوامی کارروائی کے دوران امریکی اور یورپی حکام نے ایک روسی کی قیادت میں چلنے والے سائبر کرائم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو دنیا بھر میں لاکھوں کمپیوٹروں کو متاثر کرنے اور کروڑوں ڈالرز کے نقصانات کا سبب بنا۔ اس آپریشن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، ڈنمارک، اور نیدرلینڈز کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے حصہ لیا اور دنیا کے کچھ خطرناک ترین میلویئر نیٹ ورکس جیسے قک بوٹ (Qakbot)، ڈانا بوٹ (Danabot)، ٹرک بوٹ (Trickbot) اور کونٹی (Conti)کو نشانہ بنایا۔

ذرائع ابلاغ میں شائع رپوٹوں کے مطابق، اس نیٹ ورک کی قیادت رستم رفیلووچ گالیاموف کر رہا تھا، جو ماسکو میں مقیم ایک 48 سالہ روسی شہری ہے۔ 22 مئی کو امریکی عدالت نے اس کے خلاف فردِ جرم عائد کیا۔ گالیاموف پر الزام ہے کہ اس نے قک بوٹ نامی ایک خطرناک میلویئر تیار کیا، جو دنیا بھر میں رینسم ویئر حملوں کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ گالیاموف نے دوسرے ہیکرز کے ذریعے کیے گئے حملوں سے بھاری رقوم بطور حصہ وصول کیں، جن میں صرف ایک واردات میں تین لاکھ ڈالر سے زائد کرپٹو کرنسی شامل ہے، جو ایک امریکی موسیقی کمپنی سے وصولی گئی۔

یہ سائبر نیٹ ورک روس اور دبئی جیسے مقامات سے چل رہا تھا، اور اس نے مختلف شعبہ جات کو نشانہ بنایا، جیسے کہ لاس اینجلس کا ایک ڈینٹل کلینک اور ٹینیسی کی ایک میوزک کمپنی۔ قک بوٹ میلویئر نے تین لاکھ سے زائد کمپیوٹرز کو متاثر کیا اور اس کے ذریعے اسپتالوں، سرکاری اداروں اور کاروباروں پر حملے کیے گئے۔ علاوہ ازیں کچھ میلویئرز کی اقسام کو خاص طور پر جاسوسی کے لیے تیار کیا گیا تھا، جنہوں نے فوجی، سفارتی، اور حکومتی اداروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق، ان حملوں سے چوری ہونے والا ڈیٹا روسی سرورز پر محفوظ کیا گیا۔

آپریشن "اینڈ گیم" کا آغاز

جرمنی کی وفاقی تفتیشی ایجنسی، بنڈس کریمینال امٹ (بی کے اے) نے 2022 میں "آپریشن اینڈ گیم" شروع کیا۔ اس میں 37 مشتبہ افراد کی نشاندہی کی گئی جن میں سے20 کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے۔ زیادہ تر مشتبہ افراد کا تعلق روس سے ہے۔ ایجنسی نے قک بوٹ اور ٹرک بوٹ جیسے نیٹ ورکس سے منسلک 18 افراد کی تلاش کے لیے عوام سے مدد کی اپیل بھی کی۔مطلوب افراد میں ویٹالی نیکولایووچ کووالیو بھی شامل ہے، جسے دنیا کے سب سے پیشہ ور اور منظم رینسم ویئر گروپـکونٹی کا سرغنہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے دنیا بھر کی سینکڑوں کمپنیوں کو نشانہ بنایا اور ایک ارب یورو مالیت کا کرپٹو والٹ بنایا۔ کووالیو کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ٹرک بوٹ، کونٹی، اور 2022 میں قائم ہونے والے نئے گروپس ـ رایل اور بلیک سوٹ سے منسلک رہا ہے۔

سال2023 میں قک بوٹ کا نیٹ ورک ختم کیے جانے کے باوجود، گالیاموف نے نئے طریقے تلاش کر کے سائبر حملے جاری رکھے۔ استغاثہ کے مطابق، اس نے کمپنیوں کے ای میل ان باکسز میں "اسپام بامبنگ" کے ذریعے نیوز لیٹرز بھیج کر خود کو آئی ٹی سپورٹ ظاہر کیا اور سسٹمز تک رسائی حاصل کی۔گالیاموف کا اہم کلائنٹ کونٹی رینسم ویئر گروہ بھی تھا، جس نے 2021 کے صرف چار ماہ ڈھائی کروڑ ڈالر سے زائد کمائے۔ اس دوران قک بوٹ کے ذریعے وسکونسن کی ایک کمپنی اور نیبراسکا کی ایک ٹیک فرم پر بھی حملے کیے گئے۔ لیکن 2022 کے اوائل میں، روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ایک یوکرینی ہیکر نے کونٹی کا ڈیٹا لیک کر کے گروپ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد کونٹی کا نیٹ ورک بکھر گیا، لیکن گالیاموف نے نئے کلائنٹس کے ساتھ کام جاری رکھا۔

امریکی محکمہ انصاف کی کارروائیاں

امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ روسی سرزمین پر موجود سائبر مجرموں کو بے نقاب کرنا ان کی ترجیح ہے، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب روسی حکومت انہیں اس وقت تک تحفظ دیتی ہے جب تک وہ مقامی اداروں کو نشانہ نہ بنائیں۔ اگرچہ امریکہ اور روس کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی شناخت اور ان کے اثاثوں کی ضبطگی بھی ایک اہم قدم ہے۔ سال 2023 میں امریکی محکمہ خارجہ نے قک بوٹ کے پیچھے موجود افراد کی معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی مقرر کیا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ گالیاموف کی گرفتاری اسی انعام کے نتیجے میں ہوئی یا نہیں۔

سائبر کرائم کے خلاف عالمی انتباہ

جرمنی کی وفاقی تفتیشی ایجنسی (بی کے اے)کے صدر ہولگر مینچ کے مطابق، "ہم نے 'آپریشن اینڈ گیم 2.0' کے ذریعے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہماری حکمتِ عملی مؤثر ہے — چاہے وہ گم نام ڈارک نیٹ میں ہی کیوں نہ ہو۔" اگرچہ گالیاموف، کووالیو، اور دیگر کی حوالگی ممکن نظر نہیں آتی، لیکن ان کے چہروں کو بے نقاب کرنے، ان کے اثاثے منجمد کرنے، اور ان کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے سے ان کے جرائم پر ضرب ضرور لگے گی۔یہ مشترکہ بین الاقوامی اقدام سائبر کرائم کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے: سرحدیں اب مجرموں کے لیے رکاوٹ نہیں، اور عالمی تعاون سے ان کے منظم نیٹ ورکس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bP1gIWn

بدھ، 21 مئی، 2025

گوگل کا اے آئی انقلاب: بیِم اور اے آئی موڈ نے بدل دیا انٹرنیٹ کا چہرہ

گوگل نے اپنی سالانہ ڈویلپرز کانفرنس گوگل آئی/او 2025 کے دوران دو اہم اور انقلابی فیچرز متعارف کروائے ہیں، ایک طرف سرچ انجن کے لیے نیا ’اے آئی موڈ‘، تو دوسری جانب ویڈیو کالنگ کے لیے 3ڈی تجربے والا بیم۔ ان دونوں اقدامات کا مقصد صارفین کے ڈیجیٹل تعامل کو مزید فطری اور مؤثر بنانا ہے۔

گوگل نے امریکہ میں ’اے آئی موڈ‘ نامی نئی فیچر متعارف کرائی ہے، جو سرچ انجن کے استعمال کو کسی ماہر سے گفتگو کے تجربے میں بدل دیتی ہے۔ اس موڈ کے تحت صارفین پیچیدہ سوالات کر سکتے ہیں اور گوگل کا نیا ماڈل 'جیمینی 2.5' ان کا تفصیلی اور مربوط جواب دیتا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اب تقریباً ڈیڑھ ارب صارفین ’اے آئی اوورویوز‘ کا استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے سرچ انجن کا روایتی ویب لنک ماڈل پیچھے ہوتا جا رہا ہے۔

گوگل کا دعویٰ ہے کہ اے آئی اوورویوز سے صارفین کو زیادہ پیچیدہ اور مفصل معلومات آسانی سے مل رہی ہیں، تاہم کچھ تجزیاتی اداروں جیسے ‘برائٹ ایج’ کا ماننا ہے کہ اس کا ویب ٹریفک پر منفی اثر بھی پڑا ہے۔

بیِم: ویڈیو کالنگ میں نیا انقلاب

گوگل نے اپنے پرانے پروجیکٹ ’اسٹار لائن‘ کو نئے نام ’بیِم‘ کے تحت دوبارہ پیش کیا ہے۔ یہ نیا پلیٹ فارم ویڈیو کالنگ کو 2ڈی سے 3ڈی میں بدل کر حقیقت سے قریب تر بناتا ہے۔

بیم کا مقصد زیادہ قدرتی، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات چیت جیسے تجربے کو ممکن بنانا ہے، جو خاص طور پر کاروباری اور ادارہ جاتی صارفین کے لیے مفید ہوگا۔ اس میں گوگل کی کلاؤڈ اور اے آئی ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔

پہلی بار 2021 میں پیش کیے گئے پروجیکٹ اسٹار لائن کا مقصد یہی تھا کہ کال کے دوران سامنے والا شخص حقیقی قد و قامت اور حرکات کے ساتھ نظر آئے۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی عام صارفین تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکی۔ اب گوگل نے اسے بیم کے تحت بہتر کر کے پھر سے لانچ کیا ہے۔

مستقبل کی جھلک

گوگل جلد ہی ایسے فیچرز کا تجربہ بھی شروع کرے گا جن کے ذریعے صارفین لائیو ویڈیو کے ذریعے سرچ کر سکیں گے، یا خودکار طریقے سے کنسرٹ جیسے ایونٹس کے ٹکٹ خرید سکیں گے۔

گوگل کے سی ای او، سندر پچائی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، "ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں دہائیوں کی محنت اب دنیا بھر کے لوگوں کے لیے حقیقی تجربات میں تبدیل ہو رہی ہے۔"



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hAYdKrm

جمعرات، 15 مئی، 2025

رازداری کا مقدمہ: ’سیری‘ سے متعلق کیس میں ایپل سمجھوتے پر آمادہ، صارفین کو ملے گا 8500 روپے تک معاوضہ

’ایپل‘(Apple) کو اپنی وائس اسسٹنٹ سروس ’سیری‘(Siri) کو لے کر امریکہ میں درج ایک مقدمے میں سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔ کمپنی پر الزام تھا کہ ’سیری‘ بغیر اجازت کے یوزرس کی نجی بات چیت ریکارڈ کرتی تھی۔ اس معاملے میں ’ایپل‘ اب قریب 790 کروڑ کا سیٹلمنٹ کرنے کو راضی ہو گیا ہے۔ اہل یوزرس کو 8500 روپے تک کا معاوضہ مل سکتا ہے۔

یہ مقدمہ 2019 میں درج کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ ’سیری‘ کئی بار بغیر کمانڈ کے خود بہ خود فعال ہو جاتی تھی اور یوزرس کی نجی بات چیت ریکارڈ کر لیتی تھی۔ ان میں کچھ ریکارڈنگس میں صحت سے جڑی جانکاری اور نجی بات چیت بھی شامل تھی، جنہیں مبینہ طور پر باہری کانٹریکٹرس کو بھیجا گیا تھا۔

حالانکہ ’ایپل‘ نے ان الزامات سے انکار کیا ہے، لیکن بغیر مقدمہ لڑے سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ’سیری‘ ہمیشہ سے یوزرس کی رازداری کا دھیان رکھتی ہے اور اس نے کبھی بھی ریکارڈنگس کو فروخت کرنے یا مارکیٹنگ کے لیے استعمال نہیں کیا۔

 جس نے بھی 17 ستمبر 2014 سے 31 دسمبر 2024 کے درمیان ’ایپل‘ ڈیوائس پر ’سیری‘ کا استعمال کیا ہے، جس کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے ’سیری‘ ایکٹیویشن اور نجی بات چیت ریکارڈ ہونے کا واقعہ ہوا ہو، وہ معاوضہ کے لیے دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 100 ڈالر (تقریباً 8500 روپے) فی یوزرس ادائیگی ہوگی جبکہ ہر اہل ڈیوائس پر 20 ڈالر تک ملیں گے۔ یوزرس زیادہ سے زیادہ 5 ڈیوائسز کے لیے دعویٰ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس iPhone, iPad, MacBook, Apple Watch, HomePod, iPod “Touch اور Apple TV ہے تو معاوضہ کے لیے دعویٰ کر سکتے ہیں۔

معاوضہ کے لیے https://ift.tt/3swNUcv سیٹلمنٹ پورٹل پر جانا ہوگا اور ضروری جانکاری دینی ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hrTdw2A

اتوار، 11 مئی، 2025

پیشاب اور گندے پانی سے سبز ہائیڈروجن! آسٹریلوی محققین کا سستا اور ماحول دوست نظام

آسٹریلیا کے محققین نے پیشاب اور گندے پانی سے سستی اور ماحول دوست سبز ہائیڈروجن پیدا کرنے کے لیے ایک نیا نظام تیار کیا ہے۔ ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک جدید نِکل فیرروسیانائیڈ کیٹالسٹ تیار کیا ہے جو یوریا سے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے عمل کو زیادہ مؤثر اور توانائی کی بچت کے ساتھ ممکن بناتا ہے۔

روایتی طریقوں سے ہائیڈروجن کی پیداوار، جیسے پانی کی الیکٹرولائسز، مہنگی اور توانائی سے بھرپور ہوتی ہے۔ تاہم، یوریا (جو پیشاب میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے) کا استعمال اس عمل کو زیادہ سستا اور پائیدار بناتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یوریا کے استعمال سے ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے درکار توانائی میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آتی ہے، اور اس سے پیدا ہونے والی ہائیڈروجن کی لاگت بھی کم ہوتی ہے۔

ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے محققین نے نِکل فیرروسیانائیڈ پر مبنی ایک نیا کیٹالسٹ تیار کیا ہے جو یوریا سے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ یہ کیٹالسٹ نہ صرف توانائی کی بچت کرتا ہے بلکہ گندے پانی میں موجود یوریا کی مقدار کو بھی کم کرتا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ہائیڈروجن کی پیداوار کو سستا اور پائیدار بناتی ہے بلکہ گندے پانی کے مؤثر استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لاتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ نظام موجودہ فضلہ کو قیمتی توانائی کے وسائل میں تبدیل کرتا ہے، جو کہ ایک سرکلر اکانومی کی جانب اہم قدم ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ga5vO2k

الیکٹرومیگنیٹک ویوز: نوعیت، خصوصیات اور فرق

الیکٹرومیگنیٹک ویو کی بات میں اپنے بچپن کی ایک کہانی سے شروع کرتا ہوں۔ جب میں چار پانچ سال کا تھا اور ہر طرح کی چیز کھانا شروع کی تو ہر چیز مختلف نظر آئی۔ مثلاً میں اس کا ذکر کروں کہ ایک سبزی ’آلو‘ دسیوں طریقوں سے کھایا جاتا ہے، جیسے آلو کا پراٹھا، آلو کی ترکاری، آلو کا بھرتا، گوشت کے ساتھ آلو، چپس، فرنچ فرائز وغیرہ وغیرہ۔ چند ہی سالوں بعد یہ سمجھ میں آیا کہ یہ سب مختلف چیزیں اپنے طریقوں میں الگ ہو سکتی ہیں، مگر سب کی اصل چیز ایک ہی ہے، یعنی آلو۔

بالکل اسی طرح آپ نے جو فرق سنے ہیں، جیسے ریڈیو ویوز، مائیکرو ویوز، انفرا ریڈ، لائٹ ویوز، الٹرا وائلٹ، ایکس ریز اور گاما ریز، یہ سب بھی دراصل ایک ہی طرح کی ویو ہیں اور سب ایک ہی رفتار سے خلا میں سفر کرتی ہیں۔ ان سب کو الیکٹرومیگنیٹک ویو کہا جاتا ہے اور یہ کسی بھی ویو کی طرح توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں۔ ان سب میں ہمارا سب سے پسندیدہ حصہ سفید روشنی کا وہ حصہ ہے جس کی مدد سے ہم چیزوں کو دیکھ پاتے ہیں اور یہ روشنی سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے: وائلٹ، انڈیگو، بلو، گرین، یلو، اورنج اور ریڈ۔ ان تمام ویوز کا مختلف نام دینے کا مقصد یہ ہے کہ ان میں کچھ نہ کچھ فرق ہے۔

اس فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں ویو کی خصوصیات کو جاننا ضروری ہے۔ ویو کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے آپ سمندر کے کنارے یا کسی بڑی جھیل میں لہروں کو دیکھیں۔ آپ نے بچپن میں جھیل کے کنارے سے دور پتھر پھینک کر پانی میں لہروں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ جب پتھر پانی میں گرتا ہے، تو پانی کی سطح ہلتی ہے اور اس سے لہریں پھیلتی ہیں جو جھیل کے کنارے تک پہنچتی ہیں۔ اگر ہم بار بار پتھر ایک ہی جگہ پھینکیں تو لہریں مسلسل اسی جگہ سے پھیلتی رہیں گی۔

اگر آپ غور سے پانی کی لہروں کو دیکھیں تو ویو آتے وقت پانی اوپر نیچے ہلتا رہتا ہے، مگر ویو آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اس طرح کی ویو کو ’ٹرانسورس ویو‘ کہتے ہیں۔ ویو کے اوپر والے حصے کو ’کریسٹ‘ اور نیچے والے حصے کو ’ٹرف‘ کہتے ہیں۔ پورے ایک کریسٹ اور ٹرف کی دوری کو ویو لینتھ کہتے ہیں۔ اگر آپ جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر آتی ہوئی لہروں کو گنیں، تو جتنی لہریں ایک سیکنڈ میں آتی ہیں، اسے ویو کی فریکوئنسی کہتے ہیں۔ فریکوئنسی اور ویو لینتھ کے درمیان ایک اہم تعلق ہوتا ہے۔ اگر فریکوئنسی زیادہ ہو تو ویو کی لینتھ کم ہوگی اور اگر فریکوئنسی کم ہو تو ویو کی لینتھ زیادہ ہوگی۔

فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی کے درمیان ایک اہم رشتہ ہے۔ اگر ان دونوں کو آپس میں ضرب دیں تو ویو کی رفتار حاصل ہوتی ہے، جو اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ویو کس مادّے میں سفر کر رہی ہے۔ مثلاً، پانی کی ویو کی رفتار پانی کی خصوصیات اور اس کے درجہ حرارت پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریکوئنسی زیادہ ہو تو ویو کی لمبائی کم ہوگی اور اگر فریکوئنسی کم ہو تو ویو کی لمبائی زیادہ ہو گی، کیونکہ ویو کی رفتار مادّے کی خصوصیات پر منحصر ہوتی ہے۔ ویو کے اوپر والے حصے کی اونچائی کو ایمپلیٹیوڈ کہا جاتا ہے۔

الیکٹرو میگنیٹک ویو بھی تقریباً پانی کی ویو کی طرح ایک ٹرانسورس ویو ہوتی ہے، جس میں الیکٹرک اور مقناطیسی (میگنیٹک) فیلڈ اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں۔ یہ ویو سفید روشنی کی رفتار سے حرکت کرتی ہیں اور ان سب کے لیے فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی کا ضرب ویو کی رفتار کے برابر ہوتا ہے۔ سفید روشنی کی رفتار تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ (یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ) ہوتی ہے، جو کہ کسی بھی رفتار کی اوپری حد ہے۔

ان تمام ویوز کے مختلف نام ان کی فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی میں فرق کی وجہ سے ہیں۔ ہم جو رنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتے ہیں، ان کے حساب سے ان کی فریکوئنسی کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/e3BRmg2

مصنوعی ذہانت: تیز تر انسانی ترقی کی ضامن

انسانی ترقی کی رفتار لوگوں کی آزادی اور فلاح و بہبود کے پیمانے سے ناپی جاتی ہے۔کووڈ-19کی وبا کے بعد سے انسانی ترقی سست روی کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 6 مئی کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ لاکھوں زندگیاں بہتر بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کئی دہائیوں تک انسانی ترقی کے اشاریے مسلسل بہتری کی طرف گامزن رہے، اور اقوامِ متحدہ کے محققین نے پیش گوئی کی تھی کہ سال 2030 تک دنیا کی آبادی کو اعلیٰ سطح کی ترقی حاصل ہو جائے گی۔ تاہم، گزشتہ چند سالوں میں کووڈ۔19 جیسے غیر معمولی عالمی بحرانوں کے بعد یہ امیدیں معدوم ہوگئی ہیں اور دنیا بھر میں ترقی کا عمل رک گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کی جانب سے شائع ہونے والی سالانہ "ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ" کے مطابق امیر اور غریب ممالک کے درمیان عدم مساوات مسلسل چوتھے سال بڑھ رہی ہے۔ عالمی دباؤ، جیسے بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگیاں اور شدید قرضوں کا بحران، حکومتوں کی عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت کو محدود کر رہے ہیں، جس کے باعث ترقی کے روایتی راستے سکڑتے جا رہے ہیں۔ یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر، آخم اسٹینر کے مطابق یہ سست روی عالمی ترقی کے لیے ایک حقیقی خطرے کی علامت ہے۔ اگر 2024 کی یہ سست رفتار ترقی معمول بن گئی، تو 2030 کا ترقیاتی ہدف حاصل کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کم محفوظ، زیادہ منقسم اور معاشی و ماحولیاتی جھٹکوں کے لیے زیادہ کمزور ہو جائے گی۔

مایوس کن اشاروں کے باوجود، رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کے بارے میں پرامیدی ظاہر کی گئی ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کس تیزی سے مفت یا کم لاگت والے اے آئی ٹولز کو کاروباری اداروں اور افراد نے اپنا لیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان کے کام پر مثبت اثر ڈالے گی اور نئے مواقع پیدا کرے گی۔ خاص طور پر وہ افراد جو کم یا درمیانی سطح کی ترقی یافتہ جگہوں پر رہتے ہیں، مصنوی ذہانت یا اے آئی کے حوالے سے کافی پرجوش ہیں ۔ ان میں سے 70 فیصد کا کہنا ہے کہ اے آئی ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی، جبکہ دو تہائی کا خیال ہے کہ وہ اگلے ایک سال کے اندر تعلیم، صحت و دیگر شعبوں میں اے آئی کا استعمال کریں گے۔

سال2025 کی ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مصنفین نے کچھ سفارشات پیش کی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت تعلیم اور صحت کے نظام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مؤثر انداز میں مددگار ثابت ہو۔ ان سفارشات کے مطابق، ایک ایسی معیشت تشکیل دی جائے جو اے آئی اور انسانی اشتراک پر مبنی ہو، نہ کہ ان کے مابین مسابقت پر، اور اے آئی کی تیاری سے لے کر اس کے نفاذ تک ہر مرحلے میں انسان کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اقوامِ متحدہ کے ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ آفس کے ڈائریکٹر، پیڈرو کونسےساو کے مطابق، "ہم جو فیصلے آج کریں گے، وہ اس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے انسانی ترقی پر اثرات کی میراث طے کریں گے"۔ صحیح پالیسیوں اور انسانوں پر مرکوز سوچ کے ذریعے اے آئی ایک ایسا اہم ذریعہ بن سکتی ہے جو علم، مہارت اور نئے خیالات تک رسائی فراہم کر کے کسانوں سے لے کر چھوٹے کاروباریوں تک سب کو بااختیار بنا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کا اثر کیا ہوگا، اس کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ یہ کوئی خودکار قوت نہیں، بلکہ اُن معاشروں کی اقدار اور عدم مساوات کی عکاسی اور تقویت کا ذریعہ ہے جو اسے تشکیل دیتے ہیں۔ ’ترقی میں مایوسی‘ سے بچنے کے لیے اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی ادارہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اے آئی گورننس کے لیے عالمی سطح پر مضبوط تعاون ضروری ہے، نجی شعبے کی جدت اور عوامی مفادات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے، اور انسانی وقار، برابری اور پائیداری کے عزم کو از سر نو مضبوط کیا جائے۔ رپورٹ کے پیش لفظ میں آخم اسٹینر لکھتے ہیں کہ 2025 کی رپورٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ انسانوں اور اس بات کے بارے میں ہے کہ وہ گہرے تغیرات کے دور میں خود کو نئے سرے سے کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔

رپورٹ میں دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان ترقی کی الگ الگ رفتار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ریسرچ، انفراسٹرکچر، اور سرمایہ کاری کے شعبے میں امریکہ، کینیڈا اور مغربی یورپ عالمی سطح پر غالب ہیں، لیکن انہیں مزدوروں پر اثرات، عوامی اعتماد، اور شمولیت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ ممالک اختراع میں رہنمائی کرتے ہیں، مگر مصنوی ذہانت اپنانے کی رفتار، افرادی قوت کی تیاری، اور آبادیاتی نمائندگی میں تفاوت موجود ہے۔ اس گروپ کے تمام ممالک کا ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) بہت بلند ہے، جس کی وجہ ان کا جدید انفراسٹرکچر اور مضبوط عوامی خدمات ہیں۔

امریکہ، جرمنی، برطانیہ، اور کینیڈا سائنسی علم کی تیاری اور اے آئی سے متعلق تکنیکی صلاحیتوں کے عالمی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ 2024میں امریکہ نے دنیا میں اے آئی میں سب سے زیادہ سات ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس کے بعد چین اور یورپی یونین کا نمبر آتا ہے۔ علاوہ ازیں، امریکہ میں دنیا کے تقریباً نصف ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں، جو کمپیوٹ پاور میں عالمی سطح پر شدید عدم توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔ زیادہ تر بڑے پیمانے پر اے آئی ماڈلز اب بھی امریکی اداروں کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ مغربی یورپ ماڈل تیاری میں پیچھے ہے۔

افریقہ، خاص طور پر صحارا کے علاقوں کو بڑے ڈھانچہ جاتی ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مصنوعی ذہانت تعلیم، صحت، اور زراعت کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن بجلی، انٹرنیٹ، اور کمپیوٹنگ پاور کی شدید کمی اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی اور مؤثر استعمال میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مشرقی ایشیا دنیا میں اے آئی کا ایک بڑا مرکز ہے، جہاں چین اس کی تحقیق، روبوٹکس، اور ڈیٹا کے نظام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم ، اس خطے میں اے آئی سیفٹی یا مصنوی ذہانت کی حفاظت کے مد میں سرمایہ کاری ناکافی ہے، جبکہ ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور ریگولیٹری تیاری میں بھی ساختی تقسیم موجود ہے۔ لاطینی امریکہ کو عدم مساوات، تعلیمی ترقی کی سست رفتاری، اور ڈیجیٹل فرق جیسے مسائل درپیش ہیں۔ عرب ممالک نے ڈیجیٹل اور اے آئی ترقی میں دلچسپی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن ڈیجیٹل خلیج اور صنفی پابندیوں کے باعث ان کی رفتار سست ہے۔ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ اے آئی میں سرمایہ کاری اور پیداوار زیادہ تر اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں مرکوز ہے اور دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے فوائد تک رسائی غیر مساوی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/E9sk7xa

جمعہ، 2 مئی، 2025

کائنات کے رازوں کی تلاش، ناسا کی اسفیرایکس دوربین کے ذریعے آسمان کی نقشہ سازی شروع

لاس اینجلس: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی نئی خلائی آبزرویٹری اسفیرایکس (SPHEREx) نے باضابطہ طور پر اپنے سائنسی مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مشن کائنات کی ابتدا، کہکشاؤں کے ارتقاء اور زندگی کے بنیادی اجزاء کی تلاش میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ ناسا نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسفیرایکس آئندہ دو برسوں میں پورے آسمان کی جامع نقشہ سازی کرے گا، جس سے سائنسی برادری کو لیے غیر معمولی ڈیٹا حاصل ہوگا۔

اس خلائی دوربین کا باضابطہ لانچ 11 مارچ کو عمل میں آیا تھا، جس کے بعد اس نے چھ ہفتے آزمائش، کیلیبریشن اور دیگر تیاریوں میں گزارے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے تمام آلات مکمل فعالیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اب اسفیرایکس نے مکمل سائنسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے، جو ناسا کی خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کی نمائندگی کرتا ہے۔

ناسا کے مطابق اسفیرایکس ہر روز تقریباً 3,600 تصاویر لے گا اور منظم انداز میں پورے آسمان کا سروے کرے گا۔ اپنے 25 ماہ کے مشن کے دوران یہ آبزرویٹری تقریباً گیارہ ہزار چکر مکمل کرے گی اور روزانہ ساڑھے 14 مرتبہ زمین کا چکر لگائے گی۔

یہ خلائی دوربین کائنات کا سہ جہتی نقشہ تیار کرے گی، جس میں کروڑوں کہکشاؤں کی پوزیشنوں کا اندراج کیا جائے گا۔ اس عمل سے سائنسدانوں کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد ملے گی کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا، اس کی ساخت کیسے تشکیل پائی اور کہکشاؤں کی ترقی میں کیا عوامل کارفرما رہے۔

واشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹر کے فلکی طبیعیات ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر شان ڈوماگل گولڈمین نے اس موقع پر کہا، ’’اسفیرایکس ناسا کے اُن مشنز میں شامل ہو گیا ہے جو نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ جیسے بڑے منصوبوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ آبزرویٹری دیگر خلائی سروی مشنز کے ساتھ مل کر ان بنیادی سوالات کے جوابات کی تلاش میں مددگار ہوگی جو ہم ناسا میں روزانہ اٹھاتے ہیں۔"

اسفیرایکس مشن نہ صرف کائناتی سوالات کے جواب فراہم کرے گا بلکہ زمین پر موجود سائنسدانوں کو زندگی کے بنیادی مالیکیولز کی تلاش میں نئی راہیں بھی دکھائے گا۔ اس کے مشاہدات سے معلوم ہو سکے گا کہ وہ عناصر اور مالیکیولز کیسے پیدا ہوتے ہیں جو زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ مشن نہ صرف فلکیات کے شعبے میں انقلاب لا سکتا ہے بلکہ کائنات کے وسیع تر فہم کی جانب ایک زبردست قدم بھی ثابت ہو سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yIfobqU