پیر، 22 دسمبر، 2025

دنیا کا سب سے بھاری تجارتی سیٹلائٹ کل ہوگا لانچ، اسرو تاریخ رقم کرنے کو تیار

ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارہ (اسرو) بدھ کے روز ایک تاریخی تجارتی خلائی مشن انجام دینے جا رہا ہے، جس کے تحت دنیا کا اب تک کا سب سے بھاری تجارتی مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس مشن کے لیے بھاری لفٹ راکٹ ایل وی ایم 3-ایم6 کی لانچ کے سلسلے میں الٹی گنتی منگل کی صبح تقریباً 8 بج کر 55 منٹ پر شروع کر دی گئی ہے۔

ادارے کے مطابق، یہ راکٹ بدھ کی صبح 8 بج کر 24 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع دوسرے لانچ پیڈ سے روانہ ہوگا۔ لانچ کے تقریباً 16 منٹ بعد سیٹلائٹ کو زمین کے نچلے فضائی مدار میں کامیابی کے ساتھ نصب کر دیا جائے گا۔ یہ سیٹلائٹ وزن اور جسامت کے اعتبار سے اب تک نچلے فضائی مدار میں بھیجا جانے والا سب سے بڑا تجارتی مواصلاتی سیٹلائٹ ہوگا۔

لانچ ہونے والا یہ سیٹلائٹ نئی نسل کے مواصلاتی سیٹلائٹس کا حصہ ہے، جن کا مقصد خلا سے براہِ راست عام موبائل فونز کو سیلولر براڈبینڈ سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بھی ویڈیو کالنگ، انٹرنیٹ استعمال اور تیز رفتار موبائل رابطہ ممکن ہو سکے گا اور اس کے لیے کسی خصوصی آلے یا اضافی ہارڈویئر کی ضرورت نہیں ہوگی۔

الٹی گنتی کے دوران راکٹ کے مائع اور کرائیوجینک مراحل میں ایندھن بھرنے کا عمل جاری ہے، جب کہ تمام ذیلی نظاموں کی حتمی تکنیکی جانچ بھی کی جا رہی ہے تاکہ لانچ کو ہر اعتبار سے محفوظ اور کامیاب بنایا جا سکے۔ یہ مشن ایل وی ایم 3 راکٹ کی چھٹی آپریشنل پرواز ہے اور اسے مکمل طور پر ایک مخصوص تجارتی مشن کے طور پر انجام دیا جا رہا ہے۔

ایل وی ایم 3 ایک تین مرحلوں پر مشتمل بھاری لفٹ راکٹ ہے، جس میں دو ٹھوس موٹرز، ایک مائع مرکزی مرحلہ اور ایک کرائیوجینک بالائی مرحلہ شامل ہے۔ یہ راکٹ اس سے قبل بھی کئی اہم خلائی مشن کامیابی کے ساتھ انجام دے چکا ہے، جن میں چاند سے متعلق مشن اور عالمی مواصلاتی سیٹلائٹس کی لانچ شامل ہے۔ تازہ ترین مشن گزشتہ ماہ کامیابی سے مکمل کیا گیا تھا۔

اس تجارتی لانچ کے ذریعے نہ صرف ہندوستان کی خلائی صلاحیت کا عالمی سطح پر اعتراف مضبوط ہوگا بلکہ عالمی تجارتی خلائی مارکیٹ میں اسرو کی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/pdBzNvP

سوشل میڈیا کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے بچوں میں بے صبری بڑھ رہی ہے: سروے

بدلتے ہوئے طرز زندگی میں بچوں سمیت ہر کوئی اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارتا ہے۔ درحقیقت، بچے موبائل فون، ٹیبلیٹ اور کمپیوٹر پر بھی کافی وقت گزار رہے ہیں۔ اس سے سوشل میڈیا، ویڈیوز اور آن لائن گیمنگ کی لت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات تازہ ترین لوکل سرکلز سروے (2024) میں سامنے آئی ہے۔

سروے میں انکشاف ہوا کہ 66 فیصد شہری والدین کا خیال ہے کہ ان کے 9 سے 17 سال کی عمر کے بچے سوشل میڈیا، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور گیمنگ کے عادی ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے  بے صبری، غصہ، اور سستی جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ سروے میں 70,000 سے زائد والدین نے حصہ لیا ۔ اس نے پایا کہ 47فیصد بچے روزانہ تین گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت اسکرین پر گزارتے ہیں۔ دریں اثنا، 10فیصدبچے اسکرین پر 6 گھنٹے سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لت کووڈ 19 وبائی مرض کے بعد آن لائن کلاسز کے ساتھ شروع ہوئی اور جاری ہے۔ بچے زیادہ وقت ویڈیوز دیکھنے، گیم کھیلنے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے میں صرف کرتے ہیں جس سے ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

سروے میں انکشاف ہوا کہ 58 فیصد والدین نے کہا کہ ان کے بچے غصہ والے  ہو گئے ہیں۔49فیصدنے بے صبری میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ 49فیصد بچوں میں سستی میں اضافے کی اطلاع دی ہے جبکہ 42 فیصد نے ڈپریشن کی علامات ظاہر کی ہیں اور 30فیصدبچے ہائپر ایکٹیو ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم دماغ پر منفی اثر ڈالتا ہے، جس سے توجہ کی کمی اور بے صبری جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ نئی دہلی کے میکس ہسپتال میں سائیکاٹری کے سربراہ ڈاکٹر سمیر ملہوترا کے مطابق اسکرین ٹائم ہارمون ڈوپامین کے اخراج کو بڑھاتا ہے جو کہ نشہ آور ہے۔ اس سے بچے حقیقی زندگی میں بے صبری کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ توجہ کھو دیتے ہیں اور غصے میں آ جاتے ہیں۔ مزید برآں، اسکرین کی لت 9-17 سال کی عمر کے بچوں میں جذباتی مسائل کو بڑھا رہی ہے۔ بے صبری مطالعہ اور تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ مزید برآں، ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم نیند میں خلل ڈالتی ہے، جس سے بے صبری بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اسکرین کا وقت روزانہ 1-2 گھنٹے تک محدود کرنا ضروری ہے،بیرونی کھیل، پڑھنے، اور خاندان کے وقت میں اضافہ کرنا ضروری ہے،والدین کو چاہیے کہ وہ خود اسکرین ٹائم کو محدود کریں، اچھی نیند اور صحت مند غذا کی حوصلہ افزائی لازمی ہےاوراگر مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/V5Av2Hw

جمعرات، 18 دسمبر، 2025

ناسا اسپیس ایپس چیلنج 2025 میں ہندوستانی ٹیم کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کانسپٹ اول، عالمی سطح پر نمایاں کامیابی

واشنگٹن: نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے 2025 انٹرنیشنل اسپیس ایپس چیلنج میں ہندوستان کی ایک ٹیم نے عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کر کے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ اس ٹیم نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے متعلق ایک ایسا تصور پیش کیا، جس کا مقصد دور دراز اور محروم علاقوں تک تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔

چنئی سے تعلق رکھنے والی ٹیم فوٹونکس اوڈیسی کو مقابلے میں موسٹ انسپائریشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٹیم کا بنیادی تصور یہ تھا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو محض نجی کمپنیوں کی تجارتی خدمت کے بجائے ایک عوامی سہولت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، تاکہ ڈیجیٹل عدم مساوات کو کم کیا جا سکے۔

ناسا اسپیس ایپس کے مطابق اس منصوبے کا ہدف ہندوستان کے تقریباً سات سو ملین ایسے افراد کو انٹرنیٹ سے جوڑنا ہے، جو اب تک براڈبینڈ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ ٹیم کے اراکین میں منیش ڈی، ایم کے، پرشانت جی، راجالنگم این، راشی ایم اور شکتی آر شامل ہیں، جنہوں نے جدید فوٹونکس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کو سماجی ضرورت سے جوڑنے کی ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی۔

ناسا نے بتایا کہ 2025 کے اس عالمی ہیکاتھون میں 167 ممالک اور خطوں میں 551 مقامی ایونٹس منعقد ہوئے، جن میں ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد شرکا نے حصہ لیا۔ مجموعی طور پر 11500 سے زیادہ پروجیکٹس جمع کرائے گئے، جن میں سے کامیاب ٹیموں کا انتخاب ناسا اور اس کے شراکت دار اداروں کے ماہرین نے کیا۔

ناسا کے ارتھ سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر کیرن سینٹ جرمین نے کہا کہ اسپیس ایپس چیلنج ناسا کے کھلے اور مفت ڈیٹا کو دنیا بھر کے افراد کے لیے قابلِ رسائی بناتا ہے، تاکہ حقیقی مسائل کے لیے سائنسی اور تکنیکی حل سامنے آ سکیں۔

اسی مقابلے میں ’بیسٹ یوز آف ڈیٹا ایوارڈ‘ امریکی ٹیم ‘ریزننٹ ایکسوپلینیٹس‘ کو ملا، جبکہ ہند نژاد طلبہ پر مشتمل ٹیم ’ایسٹرو سویپرز‘ کو ’گیلیکٹک امپیکٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ ناسا اسپیس ایپس چیلنج کا آغاز 2012 میں ہوا تھا اور یہ ہر سال عالمی سطح پر سائنسی اختراع کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UzXfsN3

منگل، 2 دسمبر، 2025

ہندوستان نژاد امر سبرامنیا کو ایپل نے بنایا کمپنی میں اے آئی کا نائب صدر

کیلیفورنیا: ٹیک کمپنی ایپل نے اعلان کیا ہے کہ مشہور ہندوستانی نژاد اے آئی محقق امرسبرامنیا نے ایپل میں اے آئی کے نائب صدر کے طور پر شمولیت اختیار کی ہے اور وہ براہ راست کریگ فیڈریگی کو رپورٹ کریں گے۔ ایپل کے مطابق کمپنی کے مشین لرننگ اوراے آئی اسٹریٹیجی کے سینئر نائب صدر جان گیاننڈریا ریٹائر ہو رہے ہیں۔ فی الحال وہ 2026 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک کمپنی کے مشیر کا کردار ادا کریں گے۔

سبرامنیا کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق وہ کمپنی میں ایپل فاؤنڈیشن ماڈلس،ایم ایل ریسرچ، اے آئی سیفٹی ایویلیوایشن جیسے اہم شعبوں کی قیادت کریں گے۔ وہ ایپل میں اپنے بہترین تجربے کے ساتھ  شامل ہورہے ہیں۔ اس سے قبل وہ مائیکرو سافٹ میں اے آئی کے کارپوریٹ نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ مائیکروسافٹ سے پہلے وہ 16 سال تک گوگل میں کام کرچکے ہیں جہاں انہوں نے گوگل جیمنی اسسٹنٹ کے لیے ہیڈ آف انجینئرنگ کے عہدے پرخدمات انجام دی ہیں۔

اس سلسلے میں ایپل کا کہنا ہے کہ سبرامنیا کا اے آئی اورایم ایل ریسرچ اوراس ریسرچ کو پروڈکٹس اور فیچرس میں ضم کرنے کو لے کر وسیع تجربہ کمپنی کے موجودہ انوویشن اورمستقبل کے ایپل انٹیلی جنس فیچرس کے لئے کافی اہم ہونے والا ہے۔ ایپل کے سی ای او ٹم کک نےامر کے بارے میں کہا کہ اے آئی طویل عرصے سے ایپل کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ہم ان کے غیر معمولی اے آئی تجربے کو لانے کے ساتھ کریگ کی زیر قیادت ٹیم میں ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

جان گیاننڈریا نے ایپل میں 2018 سے اپنی شمولیت کے بعد کمپنی کی اے آئی اور مشین لرننگ کی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ایپل میں ایک عالمی معیار کی ٹیم بنائی اور اس ٹیم کواہم اے  ٹیکنالوجی کو ڈیولپ کرنے اور تعینات کرنے کے لیے تیار کیا۔ یہ ٹیم فی الحال ایپل فاؤنڈیشن ماڈلز، سرچ اینڈ نالج، مشین لرننگ ریسرچ اوراے آئی انفراسٹرکچر کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔

اس موقع پرٹم کک نے کہا کہ ہمارے اے آئی ورک کو لے کر جان کے کردار کے لئے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے۔ انہوں نے ایپل کو اختراع کرنے اور صارفین کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کمپنی کی مدد کی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/f7emx8Z

پیر، 1 دسمبر، 2025

موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزبِ اختلاف برہم، رازداری پر حملہ قرار دیا

شعبۂ ٹیلی مواصلات نے ملک میں فروخت ہونے والے تمام نئے موبائل فونز کے لیے یہ ہدایت جاری کی ہے کہ ان میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی طور پر پری انسٹال ہو اور اسے کسی بھی صورت میں ہٹایا یا غیر فعال نہ کیا جا سکے۔ سرکاری حکم نامے کے مطابق یہ ایپ پہلے سیٹ اپ کے دوران صاف طور پر نظر آئے، فعال حالت میں ہو اور اس کے کسی بھی فیچر کو نہ تو چھپایا جا سکے گا اور نہ ہی محدود کیا جا سکے گا۔

موبائل ساز کمپنیوں کو اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 90 دن اور مکمل رپورٹ داخل کرنے کے لیے 120 دن کی مہلت دی گئی ہے، جبکہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود ماڈلز کے لیے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے اس ایپ کو شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس قدم کا بنیادی مقصد ڈپلیکیٹ آئی ایم ای آئی، جعلی ڈیوائسز، چوری شدہ موبائل کی دوبارہ فروخت اور سائبر فراڈ جیسے بڑھتے ہوئے مسائل کو روکنا ہے۔ ’سنچار ساتھی‘ پورٹل اور ایپ کے ذریعے صارفین اپنے موبائل کے آئی ایم ای آئی نمبر کی مدد سے ڈیوائس کی اصلیت کی جانچ کر سکتے ہیں، یہ دیکھ سکتے ہیں کہ فون بلیک لسٹ تو نہیں اور دھوکہ دہی والی کال یا پیغام کی رپورٹ بھی کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اس ایپ میں ایسے ٹولز بھی شامل ہیں جن سے صارف اپنے نام پر جاری تمام کنیکشنز کی فہرست دیکھ سکتا ہے، اور کسی کھوئے یا چوری ہوئے فون کی اطلاع بھی درج کرا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیلی کام سکیورٹی کو مضبوط کرنے اور شہریوں کو محفوظ مواصلاتی ماحول فراہم کرنے کے لیے ضروری تھا۔

تاہم اپوزیشن نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس سمیت کئی جماعتوں نے اسے شہریوں کی پرائیویسی پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک ایسا ایپ جسے حذف یا بند نہ کیا جا سکے، شہریوں کی معلومات اور حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل رازداری کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

بعض رہنماؤں نے تو حکومت پر ’بِگ برادر‘ ذہنیت اپنانے اور شہریوں کی نگرانی کا نظام کھڑا کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت واقعی سائبر فراڈ روکنا چاہتی ہے تو اسے ایسے اقدامات اختیار کرنے چاہئیں جن سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔

ادھر وزارت نے وضاحت کی ہے کہ ’سنجار ساتھی‘ نگرانی کا نہیں بلکہ صارفین کے تحفظ کا آلہ ہے اور اس میں کوئی ایسا فیچر شامل نہیں جو ذاتی گفتگو یا ڈیٹا تک رسائی دے۔ وزارت کے مطابق اس طرح کے خدشات بے بنیاد ہیں اور اس منصوبے کا مقصد صرف ٹیلی کام سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/xZfIQsC