جمعہ، 30 ستمبر، 2022

تیز رفتار اور بلا رکاوٹ انٹرنیٹ کے لئے 5G خدمات کا آغاز آج سے ہوگا، وزیر اعظم مودی کریں گے افتتاح

نئی دہلی: ہندوستان میں آج سے تیز رفتار انٹرنیٹ کے لئے 5جی خدمات (5G Services) کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں ’انڈین موبائل کانگریس‘ کے دوران 5جی خدمات کا افتتاح کریں گے۔ اس ٹیکنالوجی سے انٹرنیٹ اور تیز رفتار ڈیٹا بلا رکاوٹ فراہم ہوگا اور انٹرنیٹ کی رکاوٹیں دور ہوں گی۔

یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی انڈین موبائل کانگریس 4 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران 5جی کے علاوہ کئی اور اعلانات بھی کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم مودی آج یعنی یکم اکتوبر کو صبح 10 بجے 5 جی خدمات کا افتتاح کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی جیو اور ایئرٹیل کی 5جی سروس بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مکیش امبانی، سنیل متل اور کمار منگلم برلا بھی انڈین موبائل کانگریس 2022 میں شرکت کر سکتے ہیں۔ جیو اور ایئرٹیل ہندوستان میں 5G خدمات شروع کرنے والی پہلی کمپنیاں ہوں گی۔ ابتدائی طور پر 5G سروس صرف منتخب شہروں میں دستیاب ہوگی، جس میں اگلے سال تک توسیع کی جائے گی۔

اس سال منعقدہ ریلائنس کے اے جی ایم میں مکیش امبانی نے کہا تھا کہ جیو فائیو جی کو دہلی اور دیگر میٹرو شہروں میں دیوالی تک لانچ کیا جائے گا۔ یہ سروس اگلے سال دسمبر تک ملک بھر میں شروع کر دی جائے گی۔ کمپنی نے پین انڈیا فائی جی نیٹ ورک کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وہیں، جیو نے 1000 شہروں میں فائیو جی کے رول آؤٹ کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔

ایئرٹیل کے سی ای او گوپال وٹھل نے صارفین کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ صارفین کو نئی سم خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ انہیں موجودہ سم کارڈ پر ہی فائی جی سروس فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں میں فائیو جی سروس شروع ہو جائے گی۔

فائیو جی سپیکٹرم نیلامی میں چار کمپنیوں نے حصہ لیا۔ اس میں وی آئی، ایئرٹیل، جیو اور اڈانی ڈیٹا نیٹ ورکس نے حصہ لیا۔ جیو نے اس میں سب سے بڑی بولی لگا کر زیادہ سے زیادہ سپیکٹرم خریدا ہے۔ ایئرٹیل اور پھر ووڈافون آئیڈیا نے دوسرے نمبر پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اڈانی ڈیٹا نیٹ ورکس فی الحال صرف انٹرپرائز کاروبار میں کام کریں گے۔

قبل ازیں، ٹیلی کام اور آئی ٹی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ دو سال کے اندر 5جی خدمات پورے ملک میں فراہم کرا دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فائیو جی خدمات کی فراہمی کے لئے تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/S04ClYd

جمعرات، 22 ستمبر، 2022

چین نے 10 منٹ میں وائرس کی شناخت کرنے والا فیس ماسک بنایا

بیجنگ: چین کے محققین کے ایک گروپ نے کسی متاثرہ شخص کے رابطے میں آنے کے 10 منٹ کے اندر وائرس کا پتہ لگانے والا فیس ماسک تیار کیا ہے۔ چینی محققین نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ اس ہفتے جرنل میٹر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق انتہائی حساس فیس ماسک 0.3 مائیکرو لیٹر کے ٹریس لیول مائع نمونوں اور 0.1 فیموگرام فی ملی لیٹر کی انتہائی کم ارتکاز میں گیس نمونوں کی پیمائش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم نے ایک ایسا فیس ماسک تیار کیا ہے جو 10 منٹ میں ہوا میں سانس کے جراثیم کا پتہ لگا کر انسان کو الرٹ کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ سانس کے پیتھوجینز جو کووڈ-19 اور انفلوئنزا کا سبب بنتے ہیں دوسرے افراد میں ان بوندوں کے رابطے کے ذریعے پھیلتے ہیں جب متاثرہ شخص بات کرتا ہے، کھانستا ہے اور چھینکتا ہے۔

بائیو الیکٹرانک ماسک جسے ٹونگجن یونیورسٹی کے محققین نے ڈیزائن کیا ہے، عام سانس کے وائرس کا پتہ لگا سکتا ہے، بشمول انفلوئنزا اور کورونا وائرس، ہوا میں موجود بوندوں، ایروسول اور پھر پہننے والوں کو ان کے موبائل آلات کے ذریعے الرٹ کر سکتا ہے۔

ٹونگجی میں تحقیق کے متعلقہ مصنف اور شنگھائی ٹونگجی یونیورسٹی کے فزیکل سائنس دان ین فینگ کا کہنا ہے کہ ٹیم نے ایک چھوٹا سینسر بنایا جس میں تین قسم کے مصنوعی مالیکیول لگے تھے جو بیک وقت سارس۔کووڈ-2، ایچ5این1 اور ایچ1این1 پر سطحی پروٹین سے منسلک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں سانس کا کوئی نیا انفیکشن ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس کے لیے سینسر کے ڈیزائن کو آسانی سے تبدیل کر سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/T2m7dhZ

بدھ، 21 ستمبر، 2022

یوپی کے گل فروش کی منفرد ایجاد، ہیلمٹ میں سولر پینل اور پنکھا لگا کر دی گرمی کو مات!

لکھیم پور کھیری: یوپی کے لکھیم پوری کھیری ضلع کے ایک گل فروش نے ایک ایسا ہیلمٹ تیار کیا ہے جو گرمی میں راحت دینے میں مددگار ہے۔ ستر سالہ للورام نے اپنے ہیلمٹ میں ایک چھوٹا سا سولر پینل اور ایک پنکھا نصب کیا ہے۔ للورام اس ہیلمٹ کو اس وقت لگا لیتے ہیں جب وہ پھول بیچنے کے لئے باہر نکلتے ہیں۔

للو رام نے کہا کہ انہوں نے کئی لوگوں سے سامان مانگ کر یہ منفرد ہیلمنٹ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں بیمار پڑ گیا تھا اور سامان خریدنے سے قاصر تھا۔ مجھے کسی سے سولر پینل مل گیا اور پھر میں نے ایک دوست سے چھوٹا سا پورٹیبل پنکھا اور دوسرے دوست سے ہیلمنٹ مانگ لیا۔‘‘

للورام کا کہنا ہے کہ پورٹیبل پنکھا انہیں گرمی سے کافی راحت دیتا ہے۔ للو رام روزانہ گھر گھر جاکر پھولوں کے ہار فروخت کرتے ہیں اور ان سے جو پیسہ کماتے ہیں اس سے اپنے کنبہ کی پرورش کرتے ہیں۔ للو رام نے اس کہاوت کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ ’ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/zCALvwy

جمعرات، 8 ستمبر، 2022

اسرائیلی سائنسدانوں نے کی دو اینٹی باڈیز کی شناخت، کورونا کی تمام معلوم اقسام سے کریں گی مقابلہ

تل ابیب: اسرائیل میں سائنسدانوں نے شفایاب ہونے والے کورونا کے مریضوں کے مدافعتی نظام سے دو ایسی اینٹی باڈیز کو علیحدہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو کہ SARS-CoV-2 (کورونا) کے تمام معلوم ویرینٹوں (اقسام) بشمول اومیکرون کو 95 فیصد کارکردگی کے ساتھ بے اثر کر سکتی ہیں۔

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب یونیورسٹی کی ٹیم نے بتایا کہ اینٹی باڈیز سے علاج کے دوران ان کی کثیر مقدار جسم میں داخل ہو کر ویکسین کے ایک مؤثر متبادل کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ اس سے کمزور مدافعتی نظام والے افراد اور وہ آبادی جس کو زیادہ خطرہ لا حق ہے، مستفیض ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تل ابیب یونیورسٹی کی ٹیم نے بتایا کہ اینٹی باڈیز کے ساتھ ٹارگٹڈ علاج اور ان کی زیادہ مقدار میں جسم میں ترسیل ویکسین کے مؤثر متبادل کے طور پر کام کر سکتی ہے، خاص طور پر خطرے میں پڑنے والی آبادی اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے۔ محققین نے کہا کہ اگر اینٹی باڈی کے ذریعے علاج کیا جائے گا تو ہر مرتبہ نیا ویرینٹ سامنے آنے پر پوری آبادی کو بارہا بوسٹر خوراک فراہم کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں جرنل کمیونیکیشنز بائیولوجی میں شائع ہونے والا یہ مطالعہ اسرائیل میں اکتوبر 2020 میں کورونا بحران کے عروج کے وقت کی گئی ابتدائی تحقیق کا تسلسل ہے۔ اس وقت ٹیم نے اسرائیل میں کورونا وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کے خون سے تمام مدافعتی نظام کے خلیوں کو ترتیب دے کر مریضوں کے جسم میں تیار کردہ نو اینٹی باڈیز کو جدا کر لیا تھا۔ محققین کو اب معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے کچھ اینٹی باڈیز کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ ڈیلٹا اور اومیکرون کو بے اثر کرنے میں انتہائی موثر ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/S4W5ZtI

بدھ، 7 ستمبر، 2022

ایپل کے آئی فون-14 سمیت کئی نئے ماڈل متعارف، جانیں ہندوستان میں کتنی قیمت ہوگی اور کب دستیاب ہوگا

واشنگٹن: امریکی کمپنی ایپل نے ایک تقریب کے دوران اپنے مقبول آئی فون کے نئے ماڈل متعارف کرا دئے ہیں۔ ایپل ایونٹ کے دوران آئی فون 14، آئی فون 14 پلس، آئی فون 14 پرو، اور آئی فون 14 پرو میکس متعارف کرائے گئے۔ آئی فون کے نان پرو ماڈلز میں گزشتہ سال والی اے 15 بائیونک چپ ہی استعمال کی گئی ہے جبکہ آئی فون 14 پرو اور آئی فون 14 پرو میکس اپ گریڈ شدہ اے 16 بائیونک چپ کا استعمال کیا گیا ہے۔

پرو اور پرو میکس میں فرنٹ کیمرہ نوچ کو بھی کنارے سے دور اور ڈسپلے میں منتقل کر دیا ہے، ایسا نئے ڈیزائن کے ذریعے کیا گیا ہے جسے 'ڈائینامک آئی لینڈ' کہا گیا ہے۔ یہ ایک گولی کے سائز کا کٹ آؤٹ ہے جس میں فیس آئی ڈی، سیلفی کیمرہ، اور پرائیویسی انڈیکیٹرز موجود ہیں۔

ایپل کے نئے آپریٹنگ سسٹم (آئی او ایس 16) میں اینڈرائیڈ والا ’آلویز آند ڈسپلے‘ فیچر بھی متعارف کرا دیا گیا ہے، تاہم یہ صرف آئی فون کے پرو ماڈلز کے لئے ہی محدود ہے۔

لاک اسکرین کو بہتر بنایا گیا ہے۔ اب وجیٹس کو انسٹال کر سکتے ہیں اور ان کی ظاہری شکل کو انی مرضی سے تبدیل کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ الرٹز بھی نئے طریقہ سے ظاہر ہوں گے۔ لاک اسکرین کی نئی خصوصیات کے علاوہ، کچھ دوسری خوش آئند تبدیلیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، صارفین آئی میسیج کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات میں ترمیم یا حذف بھی کر سکیں گے۔ شیئر پلے، وہ فیچر ہے جو آپ کو کسی دوست کے ساتھ سنک کی گئی فلم دیکھنے کی اجازت دیتا ہے، یہ اب آئی میسیج کنورزیشن اور فیس ٹائم میں بھی کام کرے گا۔

ہندوستان میں آئی فون 14 سیریز کی قیمت کیا ہوگی:

ہندوستانی گاہک آئی فون 14 کو 79900 روپے میں اور آئی فون 14 پل کو 89000 روپے میں خرید سکتے ہیں۔ آئی فون کی فروخت 16 ستمبر سے جبکہ آئی فون 14 پلس کی فروخت 7 اکتوبر سے شروع ہوگی۔ اس کے علاوہ آئی فون پرو کی قیمت 129900 رکھی گئی ہے جو گزشتہ سال کے آئی فون 13 پرو کے مقابلہ 10 ہزار روپے زیادہ ہے۔ جبکہ آئی فون 14 پرو میکس کی قیمت بھی آئی فون 13 پرو میک کے مقابلہ 10 ہزار روپے زیادہ 139900 رکھی گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/stDlOmR

منگل، 6 ستمبر، 2022

ہندوستان کی پہلی ناک سے لی جانے والی کورونا ویکسین ’انٹرانیزل‘ کو ایمرجنسی استعمال کے لئے منظوری

نئی دہلی: بھارت بائیوٹیک کو ’ڈی سی جی آئی‘ کی طرف سے ہندوستان کی پہلی ناک سے دی جانے والی کورونا ویکسین ’انٹرانیزل‘ کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری حاصل ہو گئی ہے۔ مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے اس کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی جی آئی نے 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی پہلی ٹیکہ کاری کے لئے ایمرجنسی استعمال کے لئے اس ٹیکے کو منظوری دی ہے۔

مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے ٹوئٹ کیا، ’’کورونا کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ بھارت بائیوٹیک کے ChAd36-SARS-CoV-S COVID-19 (چمپانجی ایڈینووائرس ویکٹریڈ) ری کامبننٹ نیزل ویکسین کو ایمرجنسی صورت حال میں 18 سال سے زیادہ عمر کے زمرے کے حوالہ سے استعمال کی منظوری دی گئی ہے۔‘‘

وزیر صحت نے مزید کہا کہ یہ اقدام وبا کے خلاف ہماری مجموعی لڑائی کو اور مضبوط کرے گا۔ ہندوستان نے کورونا کے خلاف لڑائی میں وزیر اعظم کی قیادت میں سائنس، تحقیق اور انسانی وسائل کا استعمال کیا ہے۔ سائنس پر مبنی نظریہ اور سب کی کوشش سے ہم کورونا کو ہرا دیں گے۔

نیزل ویکسین کیا ہے؟

اس میں خوراک ناک کے ذریعے دی جاتی ہے۔ ویکسین کو یا تو خصوصی اسپرے کے ذریعے یا ایروسول ڈلیوری کے ذریعے ناک کے راستہ اندر پہنچایا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ بھارت بائیو ٹیک نے گزشتہ مہینے انٹرانیزل کورونا ویکسین کے لئے تیسرے مرحلہ اور بوسٹر خوراک کی آزمائش مکمل کی تھی۔ کمپنی نے کہا تھا کہ انٹرانیزل ویکسین کے لئے دو مختلف آزمائشیں کی گئی ہیں، ایک میں اسے پہلی ڈوز کے طور پر دیا گیا جبکہ دوسری میں بوسٹر خوراک کے طور پر دیا گیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/sKWQfZO

ہفتہ، 3 ستمبر، 2022

اسرو نے راکٹوں کی محفوظ لینڈنگ کے لیے ’فائر ٹیکنالوجی‘ کا کامیاب تجربہ کیا

نئی دہلی: ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے راکٹوں کی رفتار کو کم کرنے کے لئے ایک نئی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ملک کو راکٹ کے جلے ہوئے حصوں کو زمین پر اتارنے میں مدد کرے گی اور اس سے خلائی مشن میں نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔

اسرو نے ایک بیان میں کہا کہ انفلیٹیبل ایرڈائنامک ڈیسیلیٹر (آئی ای ڈی) ٹکنالوجی کا صوتی روہنی راکٹ کا استعمال کرتے ہوئے ترواننتاپورم کے قریب تھوبا میں تجربہ کیا گیا۔

کسی تیز رفتار چیز کے سائز کو اس کی حرکت پذیر حالت میں بڑھا کر ایروڈائینامکس کے اثر سے رفتار کو کم کرنے کی ایک نئی تکنیک کا کامیاب مظاہرہ مستقبل کے مشنوں کے لیے بہت سے ایپلی کیشنز کے ساتھ زمین کی تزئین کو تبدیل کرنے والی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

اسرو کے مطابق "وکرم سارابھائی اسپیس سنٹر (وی ایس ایس سی) تھرواننتا پورم کے ذریعہ ڈیزائن اور تیار کردہ ایک آئی اے ڈی کا آج دوپہر 12.20 بجے ٹیلرس، تھوبا سے روہنی ساؤنڈنگ راکٹ میں کامیاب تجربہ کیا گیا۔" ٹیسٹ کے دوران آئی اے ڈی کو ابتدائی طور پر جوڑ کر راکٹ پر پے لوڈ بے کے اندر رکھا گیا تھا۔

تقریباً 84 کلومیٹر کی اونچائی پر پہنچنے کے بعد آئی اے ڈی کو پھلایا گیا تھا اور آواز دینے والے راکٹ کے پے لوڈ والے حصے کے ساتھ فضا میں نیچے اترا۔ آئی اے ڈی کو بڑھانے کے لیے نیومیٹک نظام کو مائع پروپلشن سسٹم سینٹر (ایل پی ایس سی) نے تیار کیا ہے۔اسرو نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب آئی اے ڈی کو خاص طور پر راکٹ کو محفوظ طریقے سے بازیافت کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق یہ مشن اپنے تمام مقاصد میں کامیاب رہا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی اے ڈی ٹیکنالوجی کی یہ ایپلی کیشن مستقبل میں راکٹ کو محفوظ لینڈنگ، مریخ یا زہرہ پر پے لوڈز کی لینڈنگ اور انسانی خلائی پرواز کے مشن کے لیے خلائی رہائش گاہیں بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔

اس ٹیسٹ کو اسرو کے سینئر عہدیداروں نے دیکھا۔ ان میں ڈاکٹر ایس اننی کرشنن نائر، ڈائریکٹر، وی ایس ایس سی اور ڈاکٹر وی نارائنن، ڈائریکٹر وی ایس ایس سی شامل تھے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/uLMiYay

جمعرات، 1 ستمبر، 2022

چلو اردو بولتے ہیں۔

 


https://livexp.com/Jawaid738

میرا نام جاوید ہے، اور میں آپ کو پڑھانے کا منتظر ہوں۔ میں اس وقت اپنے آبائی ملک پاکستان میں مقیم ہوں، لیکن میں کئی سالوں سے امریکہ، سعودی عرب، کویت اور سوڈان میں بھی مقیم ہوں۔ میں نیویارک میں واقع یونیورسٹی سے بزنس میں بیچلر آف سائنس (BS) کی ڈگری رکھتا ہوں۔


میری مادری زبان کے طور پر، اردو میرے پاس فطری طور پر آتی ہے، اور مجھے بچوں اور بڑوں کو گفتگو کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی لکھنے کا بھی تجربہ ہے۔ میں اپنے طلباء کے ساتھ صبر اور حوصلہ افزائی کرتا ہوں، اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ میں ان کی ضروریات کے مطابق ڈھل رہا ہوں اور انہیں وہ علم اور اعتماد فراہم کرتا ہوں جو آسانی کے ساتھ غیر ملکی زبان بولنے کے لیے درکار ہے۔ میرے ساتھ سیکھتے وقت غلطیاں کرنے کی فکر نہ کریں: میں ہمیشہ آپ کی بہتری کی طرف رہنمائی کروں گا۔


میں انگریزی اور اردو میں گفتگو کے ساتھ ساتھ پڑھنے/لکھنے کے کورس بھی فراہم کرتا ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی دلچسپی کے موضوعات ہیں، تو براہ کرم آگے بڑھیں اور انہیں تجویز کریں، اور میں ان میں فٹ ہونے کے لیے اپنے کورس کو ایڈجسٹ کروں گا۔ متبادل کے طور پر، میں سکھانے کے لیے اپنے ہی منظرنامے استعمال کرتا ہوں، جن میں کاروباری ترتیبات، خریداری، سفر وغیرہ شامل ہیں۔ زبان سیکھنے اور اسے اعتماد سے بولنا سیکھنے میں بہت بڑا فرق ہے، اور میں اس فرق کو پر کرنے اور آپ کی ہچکچاہٹ کو دور کرنے میں آپ کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

https://livexp.com/Jawaid738

جمعرات، 18 اگست، 2022

ایپل کا ’آئی فون 14‘ سات ستمبر کو متعارف کرانے کا اعلان

امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی فرم ایپل نے اپنا نیا ’آئی فون‘ (آئی فون 14) 7 ستمبر کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ نئے آئی فونز مصروف موسم خزاں کا آغاز کریں گے جس میں متعدد نئے میکس، کم قیمت اور بیش قیمت آئی پیڈز اور ایپل واچز کے تین نئے ماڈل بھی شامل ہوں گے۔

ایپل ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے ایک غیر یقینی صورت حال میں اپنی فلیگ شپ مصنوعات کی جدید شکلیں متعارف کرارہی ہے۔ البتہ اس نے غیرمتزلزل معیشت میں اپنی معاصر کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے۔ آئی فون گذشتہ سہ ماہی میں نمایاں فروخت ہوا ہے اور کمپنی نے سپلائرز کو اشارہ دیا ہے کہ اس کی طلب میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

کمپنی اس تقریب کو آن لائن اسٹریم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کا اجتماع منعقد کرے، وہ کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں اپنائی گئی حکمتِ عملی کو جاری رکھے گی۔ بلوم برگ نیوز نے خبر دی ہے کہ ایپل کے ملازمین نے گذشتہ چند ہفتہ کے دوران میں نئی مصنوعات کی پیش کاری کے پروگرام کی ریکارڈنگ شروع کر دی ہے۔

کمپنی نے جون میں اپنی گذشتہ تقریب منعقد کی تھی۔ اس میں اس نے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے اگلے سیٹ آئی او ایس 16، آئی پی اے ڈی او ایس 16، واچ او ایس 9 اور میک او ایس وینٹورا کا اعلان کیا تھا اور پریس اور ڈویلپرز کو پیش کش کی ویڈیو دیکھنے کے لیے اپنے کیمپس میں مدعو کیا تھا۔

پیر کو کمپنی نے اپنے کارپوریٹ عملہ کو بتایا کہ انھیں مصنوعات کے طے شدہ اعلان سے دو دن قبل 5 ستمبرسے ہفتے میں تین دن ذاتی طور پر کام کرنا ہوگا۔

نیا معیاری آئی فون 14 آئی فون 13 کی طرح نظر آئے گا، اگرچہ کمپنی 5.4 انچ منی ورژن کو ختم کرے گی اور 6.7 انچ سکرین کے ساتھ ایک ماڈل شامل کرے گی۔ نیز ایپل پہلی مرتبہ اس سائز کے ڈسپلے کے ساتھ ایک غیر پرو آئی فون لانچ کرے گی۔

کمپنی آئی فون 14 پرو لائن کے لیے بڑی تبدیلیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایپل فرنٹ فیسنگ کیمرے کے کٹ آؤٹ کی جگہ لے گا۔ اسے نوچ کے نام سے جانا جاتا ہے، فیس آئی ڈی سینسرز کے لیے گولی کی شکل کا سوراخ اور کیمرے کے لیے ہول پنچ سائز کی جگہ ہوگی۔ اس سے صارفین کو قدرے بڑی سکرین ملے گی۔ کمپنی آئی فون 14 پرو میں تیز رفتار چپ بھی شامل کر رہی ہے۔ایپل آئی فون 14 کے ماڈلز میں آئی فون 13 والی اے 15 چپ برقرار رکھے گی۔

آئی فون 14 پرو میں سب سے اہم تبدیلیاں کیمرا سسٹم میں ہوں گی، جو صارفین کو قدرے بڑا نظر آئے گا۔ پرو ماڈلز کو 12 میگا پکسل الٹرا وائڈ اور ٹیلی فوٹو سینسرزکے ساتھ 48 میگا پکسل کا وائیڈ اینگل کیمرا ملے گا۔ ایپل ویڈیو ریکارڈنگ اور بیٹری کی میعاد میں بہتری کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔

سیریز 8 کے نام سے مشہورتازہ ترین ایپل واچز کے لیے ایپل خواتین کی صحت کے لیے فیچرز اور باڈی درجہ حرارت سینسر شامل کرے گی۔نئی معیاری گھڑی سیریز7 کی طرح نظر آئے گی، لیکن ایک نیا پرو ماڈل بھی اس کے بعد متعارف کرائے گی۔ اس میں ایک بڑا ڈسپلے،نئی فٹنس ٹریکنگ فیچرز اور بیٹری زیادہ وقت نکالنے والی ہوگی۔کمپنی تیزرفتار چپ کے ساتھ اپنی کم قیمت اسمارٹ واچ ایپل واچ ایس ای کی نئی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ ستمبرمیں کمپنی بعض اور مصنوعات بھی متعارف کرارہی ہے ان میں : آئی او ایس 16, سافٹ ویئر ہے جو اگلے آئی فونز پر چلے گا, اور واچ او ایس 9, اگلا ایپل واچ آپریٹنگ سسٹم اور کمپنی آئی پیڈ او ایس، آئی پیڈ کے آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ اکتوبر میں میک او ایس وینٹورا لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مؤخرالذکرسافٹ ویئربعض فنی نقائص کی وجہ سے قریباً ایک ماہ تاخیرکا شکار ہوا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3AlaU0N

ہفتہ، 13 اگست، 2022

آزادی کے 75 سال: نہرو کی سائنسی سوچ کا کمال، زمین سے آسمان تک ترقی... عمران خان

ہندوستان جب 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا تو ہمیں بے شمار دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھوک کا مسئلہ تھا، طبی سہولیات میسر نہیں تھیں، سڑکیں نہیں تھیں، نقل و حرکت کے وسائل نہیں تھےاور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم و تربیت کے لئے ادارے بھی موجود نہیں تھے ۔سینکڑوں برسوں غیروں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہندوستان کی باگڈور جب پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے سنبھالی تو انہوں نے ایک ایسے جدید ہندوستان کا خواب دیکھا جس میں شہریوں کو تمام سہولیات میسر ہوں اور ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو۔ جواہر لال نہرو نے صرف خواب ہی نہیں دیکھا بلکہ اسے شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے کام بھی کیا اور آج جب ہم 75واں آزادی منا رہے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اس سفر کا بہت بڑا حصہ عبور کر لیا ہے اور دنیا میں آج ہندوستان کو عزت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

اہم اداروں کا قیام

جواہر لال نہرو نے ہندوستان میں سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیاد رکھی اور سائنسی سوچ کو فروغ دیا ۔ ان کی سرپرستی میں ہندوستان کے دفاعی شعبہ میں 3 بنیادی اکائیاں قائم کی گئیں ، دفاعی تحقیق کے لیے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن(ڈی آر ڈی او) ، جوہری توانائی کی ترقی کے لیے ایٹامک انرجی کمیشن اور خلائی تحقیقی کے لئے انڈین سپیس ریسرچ آرگینائیزیشن (اسرو) قائم کیا گیا۔پنڈت نہرو کا خیال تھا کہ غربت ، چھواچھوت، مذہبی توہم پرستی اور پسماندگی جیسے مسائل کا حل سائنس میں ہی پوشیدہ ہے کیونکہ مستقبل سائنس کا ہی ہے۔ اس لیے وہ سائنس کی ترقی کے لیے پرعزم تھے اور آزادی حاصل کرنے کے بعد نئی قوم کی تعمیر میں سائنس کے کردار کو سب سے اوپر رکھا۔

ہندوستان میں 1948 سے 1964 کے دوران آئی ٹی آئی، پلانگ کمیشن، آئی آئی ٹی، ایمس، سیل، او این جی سی، ڈی آر ڈی او، آئی آئی ایم، اسرو اور بھیل جیسے کئی ادارے قائم کئے گئے، جو ہندوستان میں سائنس کی ترقی کے معاون بنے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی بڑے باندھ، کارخانہ، فیکٹریاں اور صنعتیں قائم کیں جنہوں نے آزاد ہند کو جدیدیت کے راستہ پر چلایا۔ اس کے بعد ملک نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں مثالی ترقی کی اور کئی شعبوں میں آج ملک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر ہندوستان کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ترقی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

زرعی شعبہ کا سبز انقلاب

آزادی کے بعد ہندوستان میں اناج اور دیگر زرعی مصنوعات کی بھاری قلت تھی۔ سینچائی کے ذرائع کی کمی تھی ، کیمیائی کھاد کا فقدان تھا اور ان بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملک میں گیہوں کی پیداوار انتہائی کم ہوتی تھی۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے 1960 میں غیر ممالک سے ہائبرڈ بیج درآمد کئے گئے، مگر نئی قسم کے بیجوں کی پیداوار کے لئے سینچائی کے لئے زیادہ پانی، کیمیائی کھاد اور کرم کش کی ضرورت تھی لہذا حکومت نے سینچائی کے لئے نظام تیار کیا اور کھاد وغیرہ پر سبسڈی فراہم کی۔ اس کے نتیجہ میں سبز انقلاب کا ظہور ہوااور دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان کے گودام اناج سے بھر گئے اور ملک کے لوگوں کی فاقہ کشی دور ہوئی۔

صحت کے شعبہ میں انقلاب

آزادی کے وقت طاعون، چیچک، ملیریا، ہیضہ جیسی بیماریاں وبائی شکل اختیار کر کے ہزاروں جانیں لے لیتی تھیں۔حکومت ہند نے وباؤں سے مقابلہ کے لئے وسائل فراہم کئے اور طاعون کو 1950 تک پوری طرح ختم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ جذام، ڈپتھیریا، میعادی بخار، کالی کھانسی، نمونیا اور ریبیز جیسی بیماریوں کو دور کرنے کے لئے عوامی نظام صحت کو مضبوط کیا گیا اور ٹیکہ کاری مہم چلا کر عوام میں قوت مدافعت پیدا کی ۔ طبی ماہرین کی کمی کے پیش نظر نئے میڈیکل کالج قائم کئے گئے۔ 1946 میں ملک میں 15 میڈیکل کالج تھے وہیں 1965 میں ان کی تعداد بڑھ کر 81 ہو گئی۔ اس کے بعد نطام صحت میں جو بہتری آئی اسے اس امر سے سمجھا جا سکتا ہے کہ 1947 میں لوگوں کی اوسط عمر صرف 32 سال تھی ، جبکہ 60 کی دہائی تک بڑھ کر 42 سال اور آج یہ بڑھ کر 70 سال ہو چکی ہے۔

ہندوستان میں 1956 میں ایمس (آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ) کا قیام کیا گیا، جوکہ وزارت صحت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو ہندوستان ہی نہیں بلکہ ایشیا میں میڈیکل ریسرچ کا مرکز مانا جاتا ہے۔

خلائی شعبہ کی ترقی، چاند اور مریخ تک رسائی

ہندوستان نے اپنا سب سے پہلا سیٹیلائٹ یعنی مصنوئی سیارہ ’آریہ بھٹ‘ 1975 میں خلا میں روانہ کیا ۔ جسے ہندوستان کی خلائی تحقیق تنظیم ’اسرو‘ نے سویت یونین (روس) کی مدد سے تیار کیا تھا۔ اس کا مقصد ایکس رے فلکیات، ایرونومکس اور سولر فزکس میں تجربہ کرنا تھا۔ اس پہلے مشن کے کامیاب ہونے کے بعد ہندوستان نے خلائی شعبہ میں کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ اسرو کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اپنے مشن چاند اور مریخ پر بھیجے ہیں اور جو اپنے نہیں بلکہ غیر ملکی سیٹیلائٹ بھی خلا میں روانہ کر رہا ہے۔ ہندوستان نے ’چندریان ‘ کے نام سے چاند پر مشن بھیجا تھا۔ چندریان سے سب سے پہلے چاند پر منجمد شکل میں پانی کی موجودگی کا پتہ دیا تھا۔ ہندوستان اب چاند پر چندریان 2 کی تیاری کر رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ہندوستان انسان کو بھی خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ٹیلی ویزن اور کمپیوٹر کا انقلاب

ہندوستان میں ٹی وی براڈکاسٹ کی شروعات 1959 میں ہوئی اور 1982 میں رنگین ٹیلی کاسٹ کی شروعات ہوئی۔ اس کے بعد 1980 کے عشرے کو دوردرشن کا دور کہا جاتا ہے۔ سال 1992 میں نجی ٹی وی چینلوں کی شروعات ہوئی اور پھر نیوز چینلوں کا بھی دور شروع ہو گیا۔ہندوستان میں آج 900 کے قریب نجی ٹی وی چینل ہیں، جبکہ نیوز چینلوں کی تعداد 392 ہے۔

کمپیوٹر کی بات کریں تو ہندوستان میں سب سے پہلے کمپیوٹر 1952 میں کولکاتا میں لایا گیا تھا، اسے انڈین انسٹی ٹیو آف سائنس میں لگایا گیا تھا۔ مگر کمپیوٹر کے دور کی حقیقی شروعات 1956 میں ہوئی جب پہلا ڈیجیٹل کمپیوٹر لگایا گیا۔ اس وقت ہندوستان جاپان کے بعد ایشیا کا دوسرا ایسا ملک تھا جہاں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا تھا ۔ اتنا ہی نہیں ہندوستان نے پرم کے نام سے سے اپنا دیسی ساختہ سُپر کمپیوٹر بھی 90 کے عشرے میں تیار کر لیا۔ دراصل 1987 میں امریکی صدر رونالڈ ریگن اور وزیر اعظم راجیو گاندھی میں ہندوستان کو سپر کمپیوٹر فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد راجیو گاندھی کی ہدایت پر 1988 میں سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانس کمپیوٹنگ (سی-ڈیک) کا قیام کیا گیااور اگلے تین سالوں میں ملک کا پہلا سپر کمپیوٹر ’پرم 8000‘ تیار ہوا۔

آج ہندوستان میں براڈ بینڈ کے ذریعے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ اسکولوں، اسپتالوں، کمپنیوں یہاں تک کہ دکانوں تک میں کمپیوٹر کا استعمال ہو رہا ہے۔ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کا یہاں ایک بڑا بازار موجود ہے اور ملک کے سافٹ ویئر ڈیولپرز دنیا میں نام کما رہے ہیں۔

موبائل فون کی ترقی

ہندوستان میں پہلی موبائل کال 1995 میں کی گئی تھی اور جس فون پر کال کی گئی تھی وہ نوکیا کمپنی کا تھا۔ آج ہندوستان میں تقریباً ہر ہاتھ میں ایک موبائل ہے اور یہ لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ہندوستان موبائل کی ایک بہت بڑی منڈی بھی ہے لہذا سال 2018 میں سیم سنگ ہندوتان میں موبائل تیار کرنے کی سب سے بڑی فیکٹری قائم کی ہے جوکہ نوئیڈا میں موجود ہے۔ اس فیکٹری میں ہر سال 12 کروڑ موبائل تیار ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں موبائل انٹرنیٹ کی 4 جی خدمات دستیاب ہیں اور جلد ہی 5جی کی بھی شروعات ہو جائے گی۔

ہندوستان نے ان 74 سالوں میں مثالی ترقی کی ہے تاہم ابھی بہت کام کئے جانے کی ضرورت ہے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی اتنی ترقی کے باوجود ملک میں فرقہ پرستی اور توہم پرستی کا مسئلہ آج بھی برقرار نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے، امیر اور امیر ہو رہے ہیں ، غریب اور غریب ہوتے جا رہے ہیں۔کچھ علاقوں میں غذائی قلت اور بنیادی سہولیات کی محرومی آج بھی نظر آتی ہے ۔بہتر سیاست اور دوراندیش پالیسیوں سے ہی ان مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے اور اگر یہ سب ہوا تو ہندوستان نہ صرف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں مزید بلندیوں پر پرواز کر ےگا بلکہ ملک کے پسماندہ اور محروم طبقوں کو بھی پستی سے باہر نکال سکتا ہے۔ اس میں کوئی دور ائے نہیں کہ ہم نے ماضی کے چیلنجوں کو بہت خوبصورتی سے حل کیا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اس ترقی کو مزید آگے لے کر جانا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MlECghy

پیر، 8 اگست، 2022

نوعمروں کو ٹیکہ کاری سے کم خطرہ، ہندوستانی ماہر کے زیر قیادت مطالعہ میں انکشاف

سڈنی: کیرالہ میڈیکل کالج کے ایک سابق طالب علم اور بچوں کے امراض قلب کے ماہر نے کورونا سے متعلق ایک تحقیق انجام دی ہے، جس میں نوعمروں میں ویکسین سے وابستہ مایوکارڈائٹس کے خطرے کا انکشاف ہوتا ہے۔ آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے محققین نے نوعمروں میں ویکسین سے وابستہ مایوکارڈائٹس کے خطرے پر اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ یہ خطرہ ہلکا اور کووڈ 19 کے طویل مدتی خطرے سے زیادہ ہے۔

یہ تحقیق پیر کے روز آسٹریلیا کے میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی، جس میں 12 سے 18 سال کی عمر کے 33 نوجوانوں کی میڈیکل ہسٹری کا مطالعہ کیا گیا جو کووڈ 19 سے حاصل شدہ مایوکارڈائٹس کی خصوصی علامات کے ساتھ موناش چلڈرن اسپتال نے پیش کی تھی۔

موناش ہارٹ اور موناش چلڈرن اسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر سورج ورما کی سربراہی میں کیا گیا۔ بچوں کے ایک اسپتال میں کیا گیا یہ اب تک کا سب سے بڑا ۔ ڈاکٹر ورما کا تعلق کوزی کوڈ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج سے ہے۔ ڈاکٹر ورما اور ان کی ٹیم نے کہا کہ مریض اوسطاً دو دن میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔

خیال رہے کہ مایوکارڈٹس ایک وائرل انفیکشن ہے جو دل کے پٹھوں میں سوزش کا باعث بنتا ہے اور یہ ایم آر این اے ویکسین کا ایک نادر ضمنی اثر ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rVF15sE

اتوار، 7 اگست، 2022

اسرو کا سب سے چھوٹا راکٹ ’ایس ایس ایل وی‘ لانچ، آخری مراحل میں رابطہ منقطع

نئی دہلی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے آج یعنی 7 اگست 2022 کو ملک کا نیا راکٹ اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) لانچ کر دیا۔ اسے آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا، تاہم راکٹ کو ہدف تک پہنچنے میں رکاوٹ کا سامنا ہے اور اس کا سیٹلائٹ سے ڈیٹا حاصل ہونا بند ہو گیا ہے۔ اسرو نے کہا ہے کہ وہ سیٹلائٹ ڈیٹا کا تجزیہ کر رہی ہے۔

اسرو نے ٹوئٹ کیا کہ وہ آج صبح سری ہری کوٹا کے خلائی مرکز سے اپنے سب سے چھوٹے راکٹ ایس ایس ایل وی - ڈیک1 کے لانچ کے حوالہ سے "ڈیٹا کا تجزیہ" کر رہی ہے، جس نے زمین کا مشاہدہ کرنے والا سیٹلائٹ اور ایک اسٹوڈنٹ سیٹلائٹ لے کر گیا تھا۔ اسرو کے چیئرمین ایس سومناتھ نے کہا، "ایس ایس ایل وی - ڈی1 نے تمام مراحل پر توقع کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مشن کے ٹرمینل مرحلے میں، ڈیٹا کا کچھ نقصان ہو رہا ہے۔ ہم ایک مستحکم مدار کو حاصل کرنے کے سلسلے میں مشن کے حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے ڈیٹا کا تجزیہ کر رہے ہیں۔‘‘

ایس ایس ایل وی 34 میٹر لمبا ہے جو پی ایس ایل وی سے تقریباً 10 میٹر کم ہے اور پی ایس ایل وی کے 2.8 میٹر کے مقابلے اس کا قطر دو میٹر ہے۔ پی ایس ایل وی کا وزن 320 ٹن ہے، جبکہ ایس ایس ایل وی کا وزن 120 ٹن ہے۔ پی ایس ایل وی 1800 کلوگرام وزنی پے لوڈ کو لے سکتا ہے۔ ملک کی پہلی سیٹلائٹ لانچ وہیکل 3، جسے 1980 میں لانچ کیا گیا تھا، 40 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جا سکتا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vLqTwBF

ہفتہ، 6 اگست، 2022

ایلون مسک نے ٹویٹر پر عائد کئے دھوکہ دہی کے الزامات، عدالت میں داخل کیا جواب

سان فرانسسکو: ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے ٹویٹر پر دھوکہ دہی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ مائیکرو بلاگنگ کمپنی ٹویٹر اور مسک کے درمیان معاہدے پر قانونی تنازعہ کے درمیان ٹیسلا کے سی ای او نے الزامات عائد کئے کہ ٹویٹر نے اپنے کاروبار کے بارے میں انہیں اس وقت گمراہ کن معلومات دی جب انہوں نے 44 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ٹیسلا کے سی ای او نے یہ دعویٰ ٹویٹر کی جانب سے ڈیل کو منسوخ کرنے کے بجائے مکمل کرنے پر دائر کیے گئے مقدمے کے جواب میں دائر کیا۔

عدالت میں داخل کیے گئے اپنے جواب میں ایلون مسک نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹوئٹر پر اصل صارفین کے حوالے سے انہیں جو اعداد شمار دیے گئے، اصل صارفین کی تعداد اس سے کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اپنی دھوکہ دہی کا پردہ فاش ہونے کے خوف میں ٹوئٹر ان پر درست معلومات تک رسائی کے راستے بند کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایلون مسک سے قبل ٹوئٹر نے عدالت میں پیش کیا گیا اپنا موقف عوام کے سامنے رکھ دیا تھا جس کے جواب میں ایلون مسک کی جانب سے بھی عدالت میں داخل کیا گیا اپنا جواب عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایلون مسک 44 ارب ڈالر کے معاہدے سے بچنے کے لیے فرضی جواز بنا رہے ہیں، ایلون مسک کی کہانی تصوراتی اور معاہدے سے بچنے کی کوشش ہے کیونکہ حصص میں کمی کے باعث وہ اس معاہدے کو پرکشش تصور نہیں کرتے جبکہ خود ان کی اپنی ذاتی دولت میں کمی آئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/6s1OHqC