اتوار، 12 فروری، 2023

ہم کون ہیں! کیا آرین ہندوستان سے سارے ایشیا میں پھیلے، ڈی این اے کی زبانی... وصی حیدر

(37ویں قسط)

کچھ عرصہ پہلے تک اس سمجھ کی گنجائش تھی کے شاید آرین ہندوستان سے اپنی انڈو یوروپین زبان کو لے کر پورے ایشیا اور یورپ تک پھیلے لیکن اب جینیٹکس اور خاص کر پرانے انسانی ڈھانچوں کی تحقیقات نے اس بحث کو پورے طور سے ختم کر دیا۔

موجودہ ہندوستان کے تقریباً تین چوتھائی لوگ انڈو یوروپین زبانیں بولتے ہیں۔ مختصراً یہ زبانیں ہندی، گجراتی، بنگالی، پنجابی اور مراٹھی ہیں۔ پوری دنیا کے تقریباً 40 فیصدی لوگ انگریزی، فرانسیسی، اسپنش،پرتگالی، جرمن، روسی اور ایرانی بولتے ہیں جو انڈو یوروپین زبانیں ہیں۔ ہندوستان ان زبانوں کی مشرقی حد ہے، یعنی ہمارے مشرق میں کوئی بھی انڈو یوروپین زبان استعمال نہیں کرتا۔

یہ سوال اہم ہے کے ہندوستان میں اتنے بڑے پیمانہ پر انڈو یوروپین زبانوں کا استمال کیوں اور کیسے ہوا؟ اس سوال کے دو ہی جواب ممکن ہیں، پہلا تو یہ زبانیں ہندوستان سے صرف ہمارے شمال مغرب میں پھیلیں یا دوسرا جواب یہ کہ یہ زبانیں ہندوستان میں باہر سے آئیں۔ اس مضمون میں ہم صرف اس پر غور کریں گے کہ اگر یہ ہندوستان سے سارے شمالی مغربی ایشیا اور یوروپ گئیں تو ہم کو اس کے کیا جینیٹکس کی تحقیقات میں ثبوت ملنے چاہیئں۔ اس سلسلہ میں حال ہی میں کی گئی پرانے انسانی ڈھانچوں کی ڈی این اے تحقیقات سے دلچسپ انکشاف ہوا ہے۔

اگر ہم یہ مان لیں کے سنسکرت یا اس کا کوئی شروعاتی نسخہ ہندوستان سے چند لوگ ایشیا اور یوروپ لیکر گئے تو ہم کو ڈی این اے تحقیقات میں کیا ملنا چائے؟ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ہندوستان میں افریقہ سے آے ہوے پہلے ہوموسیپینس کے ڈی این اے کی ملاوٹ ان تمام جگہوں اور خاص کر یورپ کے لوگوں میں ہونی چاہیے۔ ہم سب کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ افریقہ سے آنے والے ہوموسیپینس نے انسانوں کی اور قسموں پر غالب آ کر پوری دنیا کو آباد کیا۔ ارتقا کی منزلیں ہزاروں سال میں طے کرتے ہوے انھیں لوگوں نے ہڑپہ کی عظیم تہذیب کو جنم دیا۔ اگر ہندوستان سے خاصی تعداد میں ہجرت کر کے ہڑپہ سے پہلے یا بعد میں یہ لوگ اپنی زبان کو لے کر پورے ایشیا اور یورپ میں پھیلے تو ان کے ڈی این اے کے نشانات ان جگہوں پر ملنے چاہئیں۔ ڈی این اے کی تحقیقات نے ثابت کر دیا کہ نہ ہی ایشیا کے اور ملکوں میں اور نہ یورپ میں کوئی پرانا ہندوستانی ڈی این اے یا اس کے کسی اور میوٹیشین کے کوئی نشان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے ڈی این اے تحقیقات نے بلاشبہ یہ ثابت کر دیا کہ دنیا میں انڈو یورپین زبانیں پھیلانے والے ہندوستان سے نہیں گئے۔

ڈی این اے تحقیقات کا ایک اور اہم نتیجہ ہے جس کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اس کو آپ کے دلوں میں کوئی شبہ پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔ یوروپ اور امریکہ میں ایک خانہ بدوش بہت کم تعداد والی قوم ہے جو جپسی یا روما کہلاتی ہے۔ اگر آپ روم میں کلوسیم گھومنے جائیں تو یہ جپسی آپ کو دیکھنے کو ضرور مل جائیں گے۔ لوگ یہ ہدایت دیتے ہیں کی اپنا پرس ذرا احتیاط سے سنبھالیں، ورنہ غائب ہو جائے گا۔ جنیٹکس کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ یہ روما قوم کے لوگ 1500 سال پہلے پنجاب، سندھ، راجستھان اور ہریانہ سے ہجرت کرتے ہوۓ یورپ پہنچے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کی ان لوگوں کی ہجرت کا وقت انڈو یوروپین زبانوں کی خاصی اچھی طرح بھیلنے کے کافی بعد کا ہے یعنی جب یہ یورپ پہنچے تب تک انڈو یورپین زبانیں یورپ اور ایشیا میں پھیل چکی تھیں۔

ڈی این اے تحقیقات پر ایک بہت بڑا ریسرچ مضمون 2011 میں چھپا جس کا ذکر ضروری ہے۔ یہ معلوم ہوا کہ روما کے لوگوں میں 65 سے لے کر 95 فیصد یورپین جینس ہیں اور باقی حصّہ ڈی این اے میوٹیشن ہونے کے بعد ایم ہیپلوگروپ کا ہے جو ہندوستانی ہے اور روما کے علاوہ یورپ کی پوری آبادی میں کسی بھی انسان میں ہندوستانی جینس کے کوئی بھی نشان نہیں ملے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈی این اے تحقیقات یہ بلا شبہ ثابت کرتی ہے کہ آرین یا انڈو یورپین زبانیں ہندوستان سے نہیں پھیلیں۔

اگلی قسط میں اس بات کا ذکر ہوگا کے اگر آرین باہر سے ہندوستان آے تو ان کا ڈی این اے تحقیقات میں کیا ثبوت ملا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/sJz1pCU

پیر، 6 فروری، 2023

ٹک ٹاک: عالمی حکام کی توجہ کا مرکز کیوں؟

جہاں ایک طرف نوجوانوں میں یہ ویڈیو اسٹریمنگ ایپ مقبول تر ہوتی جا رہی ہے وہیں دوسری جانب عالمی سطح پر قانون ساز اس بحث میں مصروف ہیں کہ اگر وہ ٹک ٹاک کو غیر قانونی قرار نہیں دے سکتے تو اسے سخت حدود کا پابند کس طرح بنایاجائے۔

گو یورپی یونین کی جانب سے نئی قانون سازی کی جارہی ہے جس کے تحت ٹک ٹاک کو نقصان دہ مواد پر سختی سے نظر رکھنے پر مجبور کیا جاسکے گا تاہم امریکا سے جاپان تک دنیا کے کئی ممالک اس غور و فکر میں ہیں کہ اس ایپ کو مزید ریگولیٹ کریں یا بھارت کی طرح ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کردیں۔

ضابطہ کاروں کو خدشہ ہے کہ چینی حکومت اس ایپ کو اپنے مفادات کے فروغ کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ حکومت صارفین کے ڈیٹا تک خفیہ رسائی حاصل کرتے ہوئے گمراہ کن معلومات پھیلا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی برسلز کی غیر منافع بخش تنظیم، ایکسس ناؤ (Access Now) سے منسلک ماہر ایسٹیل ماس، کا ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا، ''چینی حکومت کی جانب سے ممکنہ نگرانی کے جائز خدشات موجود ہیں۔ ایسے میں ٹک ٹاک پر خصوصی طور پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دنیا میں تیزی سے پھیلتا ہوا سوشل میڈیا ہے اور اس کے صارفین میں اکثریت کم عمر افراد کی ہے۔‘‘

ٹک ٹاک کی مالک کمپنی، ByteDance کو صارفین کی معلومات اکھٹا کرتے ہوئے انہیں استعمال کرنے کے طریقہ کار پر پہلے ہی کافی عرصے سے کڑی جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ تاہم ضابطہ کاروں کی جانب سے کمپنی پر دباؤ میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب گزشتہ برس دسمبر میں یہ بات سامنے آئی کہ ByteDance کے ملازمین نے پریس کو لیک کی جانے والی معلومات کی تفتیش کے لیے مغربی صحافیوں کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ٹک ٹاک کی ترجمان نے اس واقعے کو ''چند مخصوص افراد کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی‘‘ کا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ اب وہ افراد ByteDance کے ملازم نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد کمپنی نے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹک ٹاک کے صارفین کا ڈیٹا چین سے باہر موجود مراکز میں محفوظ کیا جاتا ہے تاہم چین میں موجود چند ہی ملازمین کو اس تک رسائی دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیجنگ حکومت نے نہ تو کبھی ٹک ٹاک صارفین کا ڈیٹا طلب کیا اور نہ ہی کبھی ایسی معلومات انہیں مہیا کی گئیں۔

ٹک ٹاک کس طرح مقبول ہوا

انٹرنیٹ کی تاریخ میں کوئی ایپ اتنی تیزی سے مقبول نہیں ہوئی جتنی کہ ٹک ٹاک۔ چند برسوں کے اندر ہی یہ ایپ خبریں اور معلومات فراہم کرنے والا دنیا کا معروف ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن گیا جس کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سن 2018 میں ByteDance نے چینی ایپ Douyin کی طرز پر عالمی مارکیٹ میں ٹک ٹاک کو لانچ کیا۔ ستمبر 2021 میں پلیٹ فارم نے اعلان کیا کہ اس کے ماہانہ سرگرم صارفین کی تعداد ایک بلین تک پہنچ گئی ہے۔ فیس بُک کو یہ ہی سنگ میل طے کرنے میں آٹھ برس لگے۔ ڈاون لوڈ کے اعداد وشمار کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم یہ تعداد کتنی ہے، ٹک ٹاک کی جانب سے یہ معلومات کمپنی کی پالیسی کے باعث فراہم نہیں کی گئی ہے۔

تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ٹک ٹاک کا 'فار یو‘ پیج اس ایپ کی مقبولیت کے پیچھے چھپا راز ہے۔ یہ پیج ویڈیوز کا ایسا سلسلہ دیتا ہے جو ہر صارف کو مختلف انداز میں نظر آتا ہے۔ صارف جیسے ہی اس ایپ کو کھولتے ہیں تو یہ خودکار طریقے سے کام کرتے ہوئے صارف کی توجہ سے منسلک مواد کا تجزیہ شروع کر دیتا ہے مثلا صارف کس طرح کا مواد دیکھنا چاہتا ہے یا کتنی دیر کوئی ویڈیو دیکھ رہا ہے۔ اس طرح سے کچھ ہی وقت میں اس کا الگوردم یہ سیکھ لیتا ہے کہ استعمال کرنے والے صارف کی دلچسپی کا باعث کس انداز کا مواد ہے۔

کیا ٹک ٹاک ہائی جیک ہو سکتا ہے؟

خبروں تک رسائی کے لیے ٹک ٹاک کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور ڈی ڈبلیو سمیت کئی بڑے خبر رساں ادارے اس پلیٹ فارم پر باقاعدگی سے پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ تاہم تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے طاقتور الگوردم کو جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرس رے سمیت دیگر امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خصوصی طور پر بیجنگ حکومت اس ایپ پر جاری مواد کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہوئے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے یا بیرون ممالک سماجی انتشاری کو پھیلانے نے کے استعمال کر سکتی ہے۔

ٹک ٹاک کی ترجمان نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اس پلیٹ فارم کی کوشش رہی ہے کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز سے قابو کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے حقائق جانچنے والی مختلف تنظیموں کے ساتھ پارٹنرشپ کے علاوہ حکومتی یا اس کا اثر رسوخ رکھنے والے اکاؤنٹ سے ویڈیو اپ لوڈ ہونے پر صارفین کو مطلع کیا جاتا ہے۔

ضابطہ کاری

یورپی یونین کی جانب سے جلد ہی ایسی قانون سازی کا اطلاق کیا جائے گا جس کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز پر لازم ہوگا کہ وہ یورپی یونین کے منتخب کردہ تجزیہ کاروں کو اپنے اندرونی کام کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ تاہم ابھی یہ طے نہیں کیا گیا کہ کیا ان پلیٹ فارمز میں ٹک ٹاک بھی شامل ہے یا نہیں۔

دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان میں اس ماہ قانون سازوں کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے ایک بل پر ووٹنگ ہو گی۔ اگر اکثریت رائے سے یہ بل پاس ہو گیا تو امریکی صدر جو بائڈن کی قانونی انتظامیہ ٹاک ٹاک پر وسیع تر قومی مفادات کے تناظر میں ملک بھر میں پابندی عائد کر سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TzfWcpg

اتوار، 22 جنوری، 2023

ہم کہاں سے آئے: چاول کی کہانی... وصی حیدر

 (35ویں وسط)

2011 میں ہندوستان کے جنوب مشرقی علاقہ سے متعلق ایک اہم بڑا تحقیقاتی مضمون چھپا۔ ڈینمارک کے مشہور جینیٹکس کے تحقیقاتی مرکز اور ان کے ساتھ دنیا کے 26 خاص انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے مل کر اس علاقہ کے پچھلے 8000 سال تک پرانے انسانی ڈھانچوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیقات کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کے پچھلے 4000 ہزار سالوں میں اس علاقہ کی آبادی میں کئی بار بڑی تبدیلیاں ہوئیں اور یہ زیادہ تر چین سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے اس زمانے میں ہوئیں، جب چین میں کھیتی باڑی کا انقلاب آچکا تھا اور بڑھتی آبادی کی وجہ سے کچھ لوگ نئی جگہوں کی تلاش میں نکلے۔

7500 قبل مسیح سے 3500  قبل مسیح تک چین کی یانگسی اور پیلی دریا کی وادی میں رہنے والے لوگ چاول اور باجرے کی فصل اگانا خوب اچھی طرح جان چکے تھے۔ چین سے ایشیا کے جنوب مشرقی علاقہ میں آنے والے لوگ زیادہ تر دو راستوں سے آئے۔ پہلا زمینی راستہ جس کے ساتھ اسٹرو اشیاٹک زبانیں اس علاقہ میں پھیلیں۔  دوسرا راستہ کچھ لوگ ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک چھوٹی چھوٹی ناؤ کے ذریعہ اس علاقے میں پھیلے اور اس طرح ملیشیا، انڈونیشیا اور فلیپائن میں اپنی کھیتی کرنے کا ہنر، رسم و رواج اور زبانیں لے کر پہنچے۔

ہندوستان میں 2000  قبل مسیح سے پہلے اسٹرو اشیاٹک لوگوں کی عدم موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کے یہ لوگ جنوبی مشرقی ایشیا سے ہندوستان آئے، یہ وہی وقت تھا جب ہڑپا تہذیب کا زوال ہو رہا تھا۔ 2011 میں چھپی جینیٹکس کی اہم دریافت یہ ہے کہ ہندوستان میں منڈا زبان بولنے والے لوگوں کے وائی کروسوم (جو اگلی نسل کو اپنے والد سے ملتا ہے) میں تقریباً 25 فیصدی حصّہ جنوب مشرقی ایشیا کے لوگوں سے ملتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کے 2000 قبل مسیح کے بعد یہ لوگ ہندوستان اپنی زبانیں، رسم رواج اور کھیتی کا ہنرلائے اور یہاں پہلے سے بسے لوگوں میں گھل مل گئے۔ اب اس سوال کا جواب معلوم کریں کہ کیا یہ باہر سے آنے والے لوگوں نے ہندوستان میں چاول کی کھیتی شروع کی۔ اس کا جواب بھی سائنسی تحقیقات سے ملا۔

چاول اور اس کی کامیاب فصل اگانے کے ہنر پر 2018 میں ایک بہت تفصیلی تحقیقاتی مقالہ چھپا، جس کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں۔

 ایشیا میں چاول کی دو خاص قسمیں ہیں جن کے نام انڈیکا اور جیپونیکا ہیں اور ان سے نکلی ہوئی کچھ اور مقامی شاخیں بھی ہیں۔ کھدائی میں حاصل ہوئے بیجوں کی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کے اتر پردیش کے سنت کبیر نگرمیں 7000 قبل مسیح کے آس پاس چاول کی کھیتی شروع ہو چکی تھی۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے جنگلی چاول کو پالتو بنانے کے تجربہ مختلف جگہوں پر کامیاب ہو رہے تھے۔ تو ہمارے سوال کا ایک ادھورا جواب یہ ہے کے ہندوستان میں چاول باہر سے نہیں آیا۔ چاول کی ہماری قسم انڈیکا ہے، لیکن چاول کی کہانی کا ایک اہم رخ اور ہے۔

چین کی ینگتسی ندی کے آس پاس چاول کی جو کامیاب کھیتی ہوئی وہ جینیٹکس کے حساب سے فرق ہونے کی وجہ سے جیپونیکا کہلاتی ہے۔  تحقیقات یہ بتاتی ہے کے جب لوگ جنوب مشرقی ایشیا سے ہندوستان آے تو اپنے ساتھ چاول یعنی جیپونیکا اور اس کی کھیتی کا ہنر اپنے ساتھ لائے۔ جب ہندوستانی چاول انڈیکا اور چینی چاول جیپونیکا کا آاپس میں میل (hybridization)  ہوا تو چاول کی فصل کی پیداوار بہت بڑھی۔

چاول کی فصل کی کہانی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کے انسان نے ہمیشہ ایک دوسرے کے تجربوں سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی ہے۔ ہر تہذیب کو اپنے الگ نیوٹن کے قانون کھوجنے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے بھی باہر کے لوگوں کو بہت کچھ دیا ہے۔ صرف چاول ہی نہیں بلکہ آسام میں باہر سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ کئی رس والے پھل اور آم اپنے ساتھ لانے۔

ان تحقیقات کا نتیجہ یہ ہے کہ 2000 قبل مسیح کے آس پاس ہندوستان کی رنگا رنگ انسانی آبادی میں ایک اور رنگ شمال مشرق اور جنوب مشرق سے آنے والے لوگ لائے اور وہ مقامی لوگوں میں گھل مل گئے۔ انسانی آبادی کی تاریخ کا پہیہ دھیمے دھیمے آگے بڑھتا رہا۔ اب تک کی کہانی کے حساب سے ہم کون ہیں: افریقہ سے آنے والے لوگ پھر ایران کے زرگوس علاقہ سے آنے والے اور اس کے بعد شمال اور جنوب سے آنے والے لوگ۔ یہ سب لوگ اپنے ساتھ طرح طرح کے رسم ورواج اور کہانیاں لے کر آئے جنہون ے ہماری موجودہ تہذیب کو بنایا اور سنوارا۔ اس کہانی کا ایک اہم پہلو ابھی باقی ہے۔ یہ سوال کے جینیٹکس کی سائنسی معلومات ہم کو آرینس کے بارے میں کیا یہ بتاتی کے وہ کون تھے اور کیا وہ باہر سے ہندوستان ؤئے۔ اس کا جواب اگلی چند قسطوں میں ملاحظہ فرمائیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MPpnf3c

پیر، 16 جنوری، 2023

پاکستانی سائنسدان کی ایجاد، چائے کی پتی سے الزائمر کی تشخیص

پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عنبر عباس برطانیہ میں نیو کاسل یونیورسٹی سے با حیثیت ریسرچ سکالر وابستہ ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ مشترکہ تحقیق میں چائے کی استعمال شدہ پتی کے 'پھوک‘ سے گریفین کوانٹم ڈاٹس تیار کیے ہیں، جنہیں پانی کے علاوہ انسانی جسم میں آئرن کی موجودگی کی شناخت کے لیے بطور سینسر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کوانٹم ڈاٹس کی تیاری کے لیے چائے کی پتی کا استعمال کیوں؟

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گریفین کو دنیا بھر میں طب خصوصاﹰ دوا سازی میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کی ٹیم کم خرچ اور ماحول دوست طریقے سے کوانٹم ڈاٹس بنانے کی خواہاں تھی جس کے لیے استعمال شدہ چائے کی پتی کا پھوک بہترین انتخاب تھا۔ چائے کی استعمال شدہ پتی کو یونہی پھینک دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ری سائیکل کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر عباس مزید بتاتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں کی ٹیم نے سیاہ چائے کی پتی کو تقریبا 50 ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم کیا۔ اگلے مرحلے میں اسے بلند درجہ حرارت میں 200 سے 250 سینٹی گریڈ ڈگری تک گرم کر کے اس میں آکسون کیمیکل شامل کیا گیا، جس سے گریفین بہت چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ انتہائی چھوٹے جسامت کے ان ذرات کی خصوصیت یہ تھی کہ ان میں بینڈ گیپ بن جانے کے باعث اب ان سے روشنی خارج ہو رہی تھی۔

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان نو تیار شدہ کوانٹم ڈاٹس کو آزمانے کے لیے سترہ مختلف بھاری دھاتوں کے آئنز کو پانی میں گھول کر تجربات کیے گئے۔ جن سے یہ امر سامنے آیا کہ آئرن یا لوہے کی موجودگی میں یہ تیز نیلی روشنی کا اخراج کرتے ہیں۔ لہذا انہیں مختلف طرح کے حیاتیاتی اور ماحولیاتی نظاموں میں لوہے کی ذرات کی نشاندہی کے لیے بطور سینسر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر عنبر عباس کے بقول دنیا بھر میں اعصابی امراض خصوصا الزائمر اور ڈیمینشیا کی بڑھتی ہوئی شرح ایک تشویشناک امر ہے۔ سائنسدان کافی عرصے سے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عباس نے ماضی قریب کی تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر باربرا مہر کا حوالہ دیا، جو لانکیسٹر یونیورسٹی مانچسٹر میں پروفیسر ہیں۔ دو برس قبل انہوں نے فضا سے ہوا کے کچھ سیمپلز لے کر ان کا لیبارٹری تجزیہ کیا تھا تو حیران کن طور پر آزاد فضا میں ہزاروں کی تعداد میں خوردبینی ذرات کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ ان ذرات میں زیادہ مقدار آئرن کی تھی۔

ڈاکٹر باربرا مہر کی تحقیق سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ فضا میں بڑھتی ہوئی آئرن، ایلومینیم اور ٹی ٹینیئم کے ذرات کی مقدار انسانی دماغ کے خلیات کو متاثر کر کے متعدد اعصابی امراض کا سبب بن رہی ہے، جس میں پارکنسن اور الزائمر سر فہرست ہیں۔

ڈاکٹر عنبر عباس کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ ان کی مشترکہ تحقیق کا مثبت پہلو یہ کہ اس طرح الزائمر کے مریضوں کے جسم میں آئرن کی شناخت نا صرف با آسانی ممکن ہو گی بلکہ یہ ایک سستا اور ماحول دوست طریقہ ہے۔ یہ گریفین کوانٹم ڈاٹس تیار کرنے کے لیے اس سے پہلے تیزاب کا استعمال کیا جاتا تھا، جس پر لاگت بھی زیادہ آتی تھی اور مضر اثرات الگ تھے۔

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تیار کردہ گریفین کوانٹم ڈاٹس کو پانی میں آئرن اور دیگر بھاری دھاتوں کی شناخت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں صنعتی فضلہ آبی ذخائر میں شامل ہونے کی وجہ سے لوہے، نکل، کرومیم وغیرہ جیسی دھاتوں کے ذرات کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو کینسر، جگر، گردے اور جلدی امراض کا سبب بن رہے ہیں۔

ڈاکٹر عباس کے مطابق یہ ضروری ہے کہ مقامی سطح پر صاف پانی کے ذخائر میں بھاری دھاتوں کی مقدار معلوم کر کے ان کی صفائی کا انتظام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے یہ گریفین کوانٹم ڈاٹس آئیڈیل ہیں کیونکہ یہ سستے اور ماحول دوست طریقے سے تیار کیے گئے ہیں جس کے لیے خام مال یعنی چائے کی پتی کا پھوک ہر جگہ با آسانی دستیاب ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Hx5XUL4

اتوار، 15 جنوری، 2023

ہم کہاں سے آے: آرین سے پہلے اور کون ہندوستان آیا، زبان کی کہانی... وصی حیدر

(34 ویں قسط)

اسٹرو ایشیاٹک زبانیں ایشیا کے جنوب مشرقی علاقہ (تھائی ینڈ، لاؤس، مینمار، ملیشیا، بنگلہ دیش، نیپال، ویت نام، کمبوڈیا اور جنبوبی چین) سے پھیلیں اور یہ ہندوستان، بنگلہ دیش، نیپال اور چین کے جنوبی علاقہ میں اب بھی بولی جاتی ہیں اور دنیا میں ان کے بولنے والوں کی تعداد تقریباً بارہ کروڑ ہے۔

ابھی تک ہم نے ہندوستان آنے والے صرف دو خاص بڑے گروپ کا ذکر کیا ہے جو آپس میں گھل مل گئے اور ہڑپا کی عظیم تہذیب کو جنم دیا اور موجودہ ہندوستانی آبادی کی بنیاد ڈالی: پہلا گروپ افریقہ سے آنے والے ہوموسیپینس کا ہے جو تقریباً 80 ہزار سال پہلے آئے اور چند ہزار سالوں میں ہندوستان کے مختلف حصّوں کو آباد کیا۔ 7000 قبل مسیح کے آس پاس ایران کے زرگوس پہاڑیوں کے آس پاس رہنے والے نئی نئی چراگاہوں کی تلاش میں ہندوستان کے شمال مغربی علاقہ میں آکر بسے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ کھیتی کے شروعاتی تجربے کی جانکاری لے کر آئے جس کا تجربہ یہاں بسے لوگ بھی کر رہے تھے۔ ان آنے والے لوگوں نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ مل کر موجودہ پاکستان کے مہرگڑھ میں ایک نئی تہذیب کا بیج ڈالا جو وقت گزرنے کے ساتھ 2600 قبل مسیح کے آس پاس ایک بڑے پیڑ یعنی ہڑپا کی تہذیب کی شکل میں ابھرا۔ ان دونوں آنے والے لوگوں کے بارے میں ہم کو بہت کچھ معلوم ہے کیونکہ ان کے بارے میں بہت عرصہ سے تحقیقات ہوئیں ہیں۔ ہڑپا تہذیب کے زوال کے وقت انسانوں کا ایک تیسرا گروپ، اسٹرو ایشیاٹک زبان بولنے والے لوگ آئے لیکن ان کے بارے میں ابھی تک بہت کم تحقیقات ہوئیں ہیں، امید ہے کے یہ کمی شاید اب پوری ہوگی۔

ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں کی چار خاص مختلف دھاریں ہیں

پہلی: دراوڑ زبانیں (تامل، تلگو، ملیالم اور کننڑ) جو آبادی کے پانچویں حصّہ کے لوگ بولتے ہیں۔ یہ زبانیں جنوبی ایشیا کے علاوہ دنیا میں کہیں اور نہیں بولی جاتیں۔  

دوسری: ہندوستان میں استعمال ہونے والی زبانیں (ہندی، اردو، بنگالی، بھوجپوری، مراٹھی، پنجابی، کشمیری، راجستھانی، سندھی اسامیا، میتھلی اور اوڑیہ) انڈو یورپین خاندان سے ہیں جو آبادی کے تین چوتھائی لوگ بولتے ہیں۔ انڈو یورپین زبانیں ایشیا سے یورپ پہلی ہوئی ہیں۔

تیسری: زبانیں (168 زبانیں جن میں خاص منڈا اور کھاسی) اسٹرو ایشیاٹک ہیں جوموجودہ آبادی کے ایک فصدی سے کچھ زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ یہ میگھالیہ سے نکوبار جزیرے تک پھیلی ہوئی ہیں اس کے علاوہ یہ زبانیں جنوبی اور مشرقی ایشیا کے علاقہ میں بولی جاتی ہیں۔

چوتھی: زبانوں (ان میں خاص آٹھ : برمیز، تبتن، بائی، لولو، کرین، مٹائی، ہنی اور جنگپو) کا خاندان تبتو برمن ہیں جو چین اور جنوبی ایشیا میں بولی جاتی ہیں لیکن ہندوستان میں ان کے بولنے والے ایک فصدی سے بھی کم لوگ ہیں۔

مختلف زبانوں کے پھیلنے کی داستان کافی دلچسپ ہے لیکن اس کا تفصیلی ذکر یہاں ممکن نہیں۔ ضروری نہیں کے باہر سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ آکر مقامی لوگوں پر غالب ہو جائیں، تجارت اور شدت سے رابطہ بھی زبانوں کو پھیلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کی سب سے بہتر مثال ہندوستان میں انگریزی زبان کا پھیلنا ہے۔

اس بات کا ذکر پہلے ہو چکا ہے کہ دراوڑ زبانوں کی جڑ ہڑپہ تہذیب کے اسکرپٹ میں ہے۔ ہڑپہ تہذیب کے لوگ مختلف وقتوں پر اور خاص کر اپنے زوال کے وقت، 2000 قبل مسیح کے آس پاس نئی بہتر جگہوں کی تلاش میں جنوبی ہندوستان میں اپنے ساتھ دراوڑ زبان کا شروعاتی نسخہ لاۓ۔

ہندوستان میں اسٹرو اشیاٹک زبانوں کے دو خاص بڑے خاندان ہیں: منڈا اور کھاسی- منڈا زبانوں میں مندری، سنتھالی، ہو-زیادہ تر مشرقی علاقوں میں خاص کر جھارکھنڈ میں استعمال ہوتی ہیں۔ کورکو کے کچھ بولنے والے مدھیہ پردیش اور مہاراشر میں بھی ہیں۔ کھاسی خاندان کی زبانیں زیادہ تر میگھالا اور اسم کے کچھ حصوں میں بولی جاتی ہیں۔ منڈا اور کھاسی زبانوں کا اہم رشتہ مون کھمیر زبانوں سے ہے جو ویتنام، کمبوڈیا، لاؤس اور جنوبی چین کے لوگ استمال کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسٹرو اشیاٹک زبانوں کے بولنے والے تقریباً دس کروڑ لوگ ہیں۔ اس لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

ہندوستان میں تقریباً 700 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان سب کے بولنے والوں کا اس ملک پر برابر کا حق ہے۔ ہمارے ملک کی یہ خوبصورتی ہے کے اس میں بہت رنگوں کی ملاوٹ ہے۔  ان زبانوں کے بولنے والے لوگوں کے ہندوستان آنے سے منسلک یہ سوال بھی ہے کہ کیا یہی لوگ ہندوستان میں چاول اور اس کی کھیتی کی ترکیبیں اپنے ساتھ لائے۔

چاول کی کہانی کا ذکر اگلی قسط میں ہوگا۔ 



from Qaumi Awaz https://ift.tt/nEy3DxA

اتوار، 8 جنوری، 2023

سوشل میڈیا کا بہتر استعمال، کیا نئے پلیٹ فارم مددگار ہوں گے؟

سوشل میڈیا کو چھوڑنا یا اس کا استعمال کم کرنا نئے سال کا ایک بہترین عہد ہو سکتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنے سے جسمانی اور دماغی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

بہت سے لوگوں نے مستقل یا عارضی طور پر انٹرنیٹ سے بریک لیا، جس سے ان کی پیداواری صلاحیت، ارتکاز اور خوشی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لیکن یہ نام نہاد 'ڈیجیٹل ڈی ٹاکسنگ‘ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ دوستوں اور خاندان کے ساتھ جڑے رہنے جبکہ خبروں اور آن لائن مباحثوں کا حصہ بننے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام بڑے پلیٹ فارمز کے الگورتھم، جو صارفین کے ان ایپس پر گزارے جانے والے وقت کو بڑھانے کے لیے ہیں، انہیں تجارتی اور تفریحی تصاویر اور ویڈیوز کے بھنور میں پھنسا سکتے ہیں۔

ڈچ ڈاکٹر ایلسیلین کوپرز نے اس مسئلے کا یہ حل پیش کیا کہ انہوں نے ایک غیر تجارتی اور کم مقبول ایپ کا استعمال شروع کر دیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ میرے لیے پر سکون اور انتہائی خوشگوار تجربے کا باعث بنا ہے‘‘۔

کوپرز بی ریئل ایپ استعمال کرتی ہیں۔ اس ایپ کے یوزر ہر روز اپنی زندگی کا ایک ہی سنیپ شاٹ پوسٹ کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ دن کے کسی بھی وقت ایک نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے صارف کو اپنی تصویر کھینچنے اور پوسٹ کرنے کے لیے فقط دو منٹ دیے جاتے ہیں۔ کوپر کے مطابق دو منٹ میں کوئی بھی انسان مصنوعی طور پر خوش نظر آنے والی تصویر نہیں بنا سکتا۔ ان کے مطابق، ''اس ایپ پر آپ فلٹرز کا استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ تو آپ صرف وہی پوسٹ کر سکتے ہیں، جو آپ اس لمحے کر رہے ہوتے ہیں‘‘۔

بی ریئل نامی اس ایپ کو 2022ء کے موسم گرما میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سال اسے 10 سب سے زیادہ ڈاؤنلوڈ کی جانے والی ایپس میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں میں ایک مختلف اور کم پریشانی کا باعث بننے والی سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

ٹک ٹاک، فیس بک یا یوٹیوب جیسے زیادہ تر پلیٹ فارمز کے لیے مسئلہ ان کے الگورتھم یا ان کے کاروباری ماڈل ہیں۔ وہ وقت، جو ایک عام صارف سوشل میڈیا ایپس پر گزارتا ہے،اسے سوشل میڈیا پر اشتہار دینے والی کمپنیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ ایپس کی بہتری کے لیے اس ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار اس ڈیٹا کو تھرڈ پارٹیز کو بھی فروخت کر دیا جاتا ہے۔

یہ کاروباری ماڈل سوشل میڈیا سے منسلک مسائل، جیسے کہ دماغی صحت پر اثرات، صارف کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کی صلاحیت، ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔

پروفیسر کرسٹیان مونٹاگ، جو جرمنی کی اُلم یونیورسٹی میں مالیکیولر سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں، نے 2022ء میں شائع ہونے والے ایک ریسرچ پیپر میں ان 'بگ ٹیک فنکشنل ماڈلز‘ کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب تک صارفین سوشل میڈیا کے استعمال کی قیمت اپنے ڈیٹا کی صورت میں ادا کرتے رہیں گے، تب تک یہ مسائل حل نہیں ہو سکتے‘‘۔

سوشل میڈیا کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی ایپس اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈیسینٹرلائزڈ سٹرکچر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد ایلگورتھم کے بجائے صارف کو ہی شائع ہونے والے مواد کا کنٹرول دینا ہے۔

میسٹوڈون انہی ایپس میں سے ایک ہے، جس پر ایک مرکزی سرور کے بجائے باہم منسلک کئی سرورز صارفین کے اکاؤنٹس مینج کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر سرور کے اپنے اصول اور ضوابط ہوتے ہیں۔ اس نئی تشکیل، جسے 'فیڈیورس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک سرور کے صارفین کو دوسرے سرورز کے صارفین کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ٹویٹر جیسے پلیٹ فارم کے مقابلے میں میسٹوڈون پر کمیونٹیز کو اپنے لیے اصول و قواعد خود بنانے کی آزادی ہوتی ہے۔

ایلون مسک کی جانب سے ٹویٹر خریدے جانے کے بعد میسٹوڈون ایپ ہیڈ لائینز کی زینت بنی کیونکہ یہ ہی وہ ایپ ہے، جسے صارفین نے ٹویٹر چھوڑنے کے بعد جوائن کیا۔ کچھ ماہرین نے اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ان نئے پلیٹ فارم کی ڈی سینٹرلائزڈ پالیسی مواد کو مانیٹر کرنے اور نامناسب یا نقصان دہ پوسٹس کو حذف کرنے کے مراحل کو مشکل بنا سکتی ہے۔ تاہم مونٹاگ ان تجربات کے مستقبل کے بارے میں پرامید نظر آتے ہیں، ''میرے خیال میں فیڈیورس مستقبل ہو سکتا ہے‘‘۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ پہلے سے موجودہ بڑے پلیٹ فارمز سے مقابلہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔

سینٹر فار ہیومن ٹیکنالوجی ان اداروں میں سے ایک ہے، جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی سخت نگرانی کے حق میں ہے اور ساتھ ہی ان کے تباہ کن بزنس ماڈل کو ختم کروانے کے لیے مہم چلا رہا ہے۔ مونٹاگ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیز کو ریگولیٹ کرنا اور ان سے ہونے والے نقصان کو کم کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنے کہ نئے آئیڈیاز۔

بڑی ٹیک کمپنیوں کے نقصانات کو کم کرنے کے علاوہ، ریگولیشن متعارف کروانے سے نئے اسٹارٹ اپس کے لیے مقابلے کی فضا بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہمیں ایسے طریقہ کار متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو صارفین کو مختلف پلیٹ فارمز پر بات چیت کرنے کے مواقع فراہم کریں‘‘۔

سائنسدان اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کو عوامی بھلائی کا بہتر ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ سوشل میڈیا کو ایسے کاروباری ماڈل سے الگ کرنا ضروری ہے، جو صارفین کے ڈیٹا اور وقت پر انحصار کرتا ہے۔ یہ وہ واحد طریقہ ہے، جس کے ذریعے سوشل میڈیا کے ''صحت مند‘‘ استعمال کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XpvIQz4

بدھ، 21 دسمبر، 2022

ناسا کے انسائٹ لینڈر نے مریخ پر مشن مکمل کیا

لاس اینجلس: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے انسائٹ لینڈر نے چار سال سے زیادہ عرصے کے بعد مریخ پر یونک سائنس جمع کرنے کے بعد اپنا مشن مکمل کر لیا ہے۔ ناسا نے یہ جانکاری دی ہے۔

ناسا نے کہا کہ جنوبی کیلیفورنیا میں ایجنسی کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مشن کنٹرولرز مسلسل دو کوششوں کے بعد لینڈر سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ خلائی جہاز کی شمسی توانائی سے چلنے والی بیٹریاں تباہ ہو چکی ہیں۔

ایجنسی نے کہا کہ ناسا نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر لینڈر سے دو کوششوں کے بعد رابطہ قائم نہ ہوسکا تو مشن کو مکمل قرار دے دیا جائے گا۔ ناسا نے بدھ کو کہا کہ انسائٹ نے آخری بار 15 دسمبر کو کرہ ارض سے رابطہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ انسائٹ کو ناسا نے مئی 2018 میں مریخ کے گہرے اندرونی حصے کا مطالعہ کرنے کے لیے لانچ کیا تھا۔اس نے نومبر 2018 کے آخر میں مریخ پر محفوظ لینڈنگ کی تھی۔ناسا کے مطابق انسائٹ نے گزشتہ چار سال میں تقریباً 1300 زلزلوں کا پتہ لگایا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mEyqVDT

جمعہ، 16 دسمبر، 2022

ٹویٹر نے مسک کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر پابندی لگا دی

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے جمعرات کے روز ان کئی صحافیوں کے اکاؤنٹس معطل کردیے جو اس کمپنی اور ایلون مسک کی جانب سے اسے اپنی ملکیت میں لینے کے عمل کی کوریج کرتے رہے ہیں۔

یہ اقدام اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت نجی جیٹ طیاروں بشمول ایلون مسک کی ملکیت والے جیٹ طیارے کو ٹریک کرنے والوں کے ٹوئٹر اکاونٹس معطل کیے جاسکتے ہیں۔

جن صحافیوں کے اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے ہیں ان میں نیویارک ٹائمز کے رپورٹر ریان میک، واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار ڈریو ہال، سی این این کے ڈونی او سولیوان، میش ایبل کے میٹ بائنڈر، انٹرسیپٹ کے میکاہ لی اور وائس آف امریکہ کے اسٹیو ہرمن شامل ہیں۔

آرون روپار، ٹونی ویبسٹر اور کیتھ اولبیرمین جیسے فری لانس صحافیوں کے اکاونٹس بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔ ٹوئٹر کے متبادل کے طور پر معروف ماسٹوڈون (Mastodon) نامی سوشل میڈیا کمپنی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ٹوئٹر نے اس بات کی باضابطہ وضاحت نہیں کی ہے کہ اس نے یہ اکاونٹس کیوں معطل کیے۔

نیویارک ٹائمز کے ترجمان نے معطلی کو "قابل اعتراض اور افسوس ناک" قرار دیا اور کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ "ٹوئٹر اس کارروائی کی تسلی بخش وضاحت کرے گا۔" سی این این نے ایک بیان میں کہا کہ "جارحانہ اور بلاجواز معطلی" باعث تشویش ہے،"لیکن حیران کن نہیں۔" سی این این نے ایک بیان میں کہا،"ہم نے ٹوئٹر سے وضاحت طلب کی ہے اور ہم اس جواب کی بنیاد پر اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لیں گے۔"

جن صحافیوں کے اکاونٹس کو معطل کیا گیا ہے ان میں سے کچھ بدھ کے روز @Elonjet نامی اکاونٹ کو بند کیے جانے کے متعلق ٹویٹ کر رہے تھے۔ اس اکاؤنٹ کے پانچ لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔ @Elonjetنامی اکاونٹ جیک سوینی کی ملکیت تھی اور یہ مسک کے طیارے کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کے لیے عوامی طور پر دستیاب تھا۔

ایلون مسک نے بدھ کے روز کہا تھا کہ لاس اینجلس میں جس کار میں ان کا بچہ سفر کر رہا تھا اس کا ایک "دیوانے شخص" نے پیچھا کیا۔ انہوں نے اس مبینہ واقعے کے لیے سوینی کے اکاؤنٹ کو ذمہ دار قرار دیا۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے بتایا کہ اب سوینی کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ سوینی نے معطلی کے بعد اپنے ذاتی اکاونٹ سے ایک ٹویٹ کرکے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ @Elonjetکو معطل کر دیا گیا ہے۔" اس کے کچھ دیر بعد ان کا ذاتی اکاؤنٹ بھی معطل کردیا گیا۔

مسک نے جنوری میں 20 سالہ سوینی کو اپنے طیارے کو ٹریک کرنے والے اکاؤنٹ کو بند کرنے کے بدلے میں 5000 ڈالر کی پیش کش کی تھی۔ ٹوئٹر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ارب پتی تاجر مسک نے نومبر کے اوائل میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے باجود کہ "یہ ان کی ذاتی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ" ہے، وہ اس اکاؤنٹ کو ہاتھ نہیں لگائیں گے ۔

ایلون مسک نے بدھ کے روز ٹویٹ کیا،"کسی دوسرے شخص کی ریئل ٹائم لوکیشن کی معلومات دینے والے کسی بھی ڈاکسنگ اکاؤنٹ کو معطل کر دیا جائے، کیونکہ اس سے شخصی حفاظت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔" ڈاکسنگ سے مراد کسی شخص کی شناخت کرنے والی معلومات مثلا ً گھر کا پتہ، فون نمبر وغیرہ ہے، جس سے مذکورہ شخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سوینی کے اکاؤنٹ کو معطل کرنے کے بعد ٹوئٹرنے اپنی میڈیا پالیسی کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہا،"آپ دوسرے لوگوں کی نجی معلومات کو ان کی واضح اجازت یا مرضی کے بغیر شائع یا پوسٹ نہیں کرسکتے ہیں۔"

جمعرات کے روز مسک نے کہا،"صحافیوں پر بھی وہی قوانین لاگو ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے ہیں۔" ایک اور ٹویٹ میں مسک نے کہا،"مجھ پر سارا دن تنقید کرتے رہیں، کوئی بات نہیں، لیکن میری موجودگی کے حقیقی مقام کو ظاہر کر کے میرے خاندان کو خطرے میں ڈالنا درست نہیں ہے۔"



from Qaumi Awaz https://ift.tt/q5gfmJh

جمعہ، 25 نومبر، 2022

اسرو آج آٹھ ’نینو سیٹلائٹ‘ اور ’اوشنسیٹ-3‘ کو خلا میں روانہ کرے گا، جانیں مشن کی خصوصیات

نئی دہلی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے حال ہی میں نجی سیکٹر کے مشن کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر کے تاریخ رقم کرنے کے بعد اپنے اگلے مشن پی ایس ایل وی-سی54/ای او ایس-06 کے لیے تیاری مکمل کر لی ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ اسرو اس مشن کے تحت 8 نینو سیٹلائٹ اوشنسیٹ-3 کے ساتھ لانچ کرے گا، جو اوشن سیٹ سیریز کا تھرڈ جنریشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ مشن سری ہری کوٹا سے ہفتہ (26 نومبر) کو صبح 11.46 بجے لانچ کیا جائے گا۔ اس کی 25 گھنٹے کی الٹی گنتی جمعہ (25 نومبر) کو صبح 10.46 بجے شروع ہوئی۔

مشن کا بنیادی پے لوڈ اوشنسیٹ-3 ہے۔ یہ اوشنسیٹ سیریز کا تیسری نسل کا سیٹلائٹ ہے، جو کہ اوشنسیٹ سیریز کے سیٹلائٹ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ سیریز سمندری اور ماحولیاتی مطالعہ کے لیے وقف ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سیٹلائٹ سمندری موسم کی پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ ملک کسی بھی طوفان کے لیے پہلے سے تیار رہے۔

اس سلسلے کا پہلا سیٹلائٹ-1 26 مئی 1999 کو لانچ کیا گیا تھا۔ پھر اوشنسیٹ-2 کو 23 ستمبر 2009 کو لانچ کیا گیا تھا۔ وہیں، 2016 میں اوشنسیٹ-2 کے اسکیننگ سکیٹرومیٹر ناکام ہونے کے بعد اسکینسیٹ-1 لانچ کیا گیا۔ اسی سیریز کے تھرڈ جنریشن سیٹلائٹ اوشنسیٹ-3 کو کل لانچ کیا جائے گا۔ اس سیریز کے سیٹلائٹس میں اوشین کلر مانیٹر موجود رہے۔ اس مشن میں بھی اوشن کلر مانیٹر او ای ایم 3، سی سرفیس ٹمپریچر مانیٹر (ایس ایس ٹی ایم)، کو-بینڈ اکیٹرومیٹر (ایس سی اے ٹی-3) اور اے آر جی او ایس جیسے پے لوڈز ہیں۔

اسرو اوشنسیٹ-3 اور 8 نینو سیٹلائٹوں میں پکسل کے آنند، بھوٹانسیٹ، دھرو انترکش کے تھائیبولٹ اور اسپیس فلائٹ یو ایس اے کے 4 اسٹروکاسٹ لانچ کرے گا۔ یہ پورا مشن تقریباً 8200 سیکنڈ (2 گھنٹے 20 منٹ) تک جاری رہے گا۔ جو کہ پی ایس ایل وی کا طویل مشن ہوگا۔ اس دوران پرائمری سیٹلائٹس اور نینو سیٹلائٹس کو دو مختلف سولر سنکرونس پولر آربٹس (ایس ایس پی او) میں لانچ کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N0jCtK1

چین نے بچوں کو ویڈیو گیم سے دور کرنے کا ناقابل یقین کارنامہ انجام دے دیا

بیجنگ: چین دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمنگ مارکیٹ ہے تاہم چینی حکومت نے ایسا اقدام کیا جس سے 75 فیصد سے زائد کم عمر بچوں کی اس عادت سے جان چھوٹ گئی۔

جب سے ٹیکنالوجی کی ترقی ہوئی ہے اور ہر چھوٹے بڑے کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ موبائل آیا ہے تب سے موبائل ہی سب سے بڑی مصروفیت بن گیا ہے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں میں بالخصوص آن لائن ویڈیو گیمنگ کی ایسی لت پڑی کہ مختلف ممالک میں اس پر روک ٹوک کرنے پر جان لینے جیسے سنگین واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں تاہم چین کی حکومت نے اپنی نئی نسل کو اس لت سے بچا لیا ہے۔

چین کی حکومت نے ایک سال قبل 18 سال سے کم عمر بچوں میں ویڈیو گیم کی لت پر قابو پانے کے لیے ان کے ویڈیو گیم کھیلنے پر بڑی پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے لیے اوقات متعین کردیے تھے اور انہیں ہفتے کے تین دن جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو روانہ صرف رات 8 سے 9 بجے تک آن لائن ویڈیو گیم کھیلنے کی اجازت تھی۔

اس پابندی کو ایک سال گزرنے کے بعد چین کی ویڈیو گیمنگ انڈسٹری سے وابستہ اعلیٰ اختیاری سرکاری کمیٹی اور ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی سی این جی نے پیر کے روز انتہائی حوصلہ افزا رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب گیم کھیلنے کے اوقات متعین کر دیے جانے کی وجہ سے ویڈیو گیم کی لت پر بنیادی طور پر قابو پالیا گیا ہے اور اب 75 فیصد سے زیادہ کم عمر افراد ایک ہفتے میں تین گھنٹے سے بھی کم ویڈیو گیم کھیلتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں 9 سے 19 برس کے درمیان عمر کے تقریباً98 فیصد افراد کے پاس کوئی نہ کوئی موبائل فون ہے اور 18 برس یا اس سے کم عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 186 ملین ہے۔ تاہم حکومتی پابندی کے کے بعد گیمنگ کمپنیوں کی جانب سے ویڈیو گیم کی لعنت کے انسداد کے نظام کے تحت گیم کھیلنے والے 90 فیصد سے زائد نو عمروں کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔

چین میں اب ویڈیو گیم کھیلنے والوں کو اپنا شناختی کارڈ استعمال کرنا ضروری ہے اور آن لائن گیم کھیلنے سے قبل انہیں اپنا اندراج کرانا پڑتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرنی پڑتی ہے کہ وہ عمر کے حوالے سے جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔

گیمنگ فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اوقات کے اندر ہی نوعمروں کو ویڈیو گیمنگ کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ البتہ حالیہ دنوں میں اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ بیجنگ ویڈیو گیمنگ سیکٹر کے حوالے سے اپنے موقف میں نرمی پیدا کر رہا ہے اور حکام نے اپریل تک نو ماہ کے لیے رجسٹریشن منجمد کر دینے کے بعد اب نئے نام کی منظوری دینے کا سلسلہ دھیرے دھیرے شروع کر دیا ہے۔

گزشہ ہفتے ہی ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ٹینسینٹ کو 18ماہ کے بعد ویڈیو گیم کا پہلا لائسنس ملا ہے۔ پابندیوں کی وجہ دنیا میں ویڈیو گیم تیار کرنے والی کمپنیوں میں سرفہرست سمجھی جانے والی ٹینسیٹ اپنا امتیازی مقام کھونے کی دہلیز تک پہنچ گئی تھی

واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمنگ مارکیٹ ہے تاہم وہاں کا سرکاری میڈیا اس صنعت کو "روحانی افیم” قرار دیتا ہے۔ ویڈیو گیم کی صنعت پر ٹیکنالوجی ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اکثر کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں اور ان کے خلاف ریکارڈ جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف طویل تفتیش اور کمپنی کے شیئروں کی ابتدائی عوامی پیش (آئی پی او) کو معطل کیے جانے جیسے اقدامات بھی ہوتے رہتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XqlGLu4

جمعرات، 17 نومبر، 2022

وکرم-ایس لانچنگ: ہندوستان کے خلائی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز، ملک کا پہلا نجی راکٹ ’وکرم-ایس‘ ہوگا لانچ

نئی دہلی: ہندوستان آج خلا میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ملک کا پہلا پرائیویٹ راکٹ 'وکرم-ایس' لانچ کرنے جا رہا ہے۔ اس راکٹ کو حیدرآباد میں واقع اسکائی روٹ ایرو اسپیس کمپنی نے تیار کیا ہے۔ 'وکرم-ایس' کی لانچنگ آج (جمعہ) صبح 11:30 بجے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے ہوگی۔ اس مشن کا نام 'پررامبھ' رکھا گیا ہے۔ نجی شعبے کے داخلے کے بعد ملک کی خلائی صنعت میں کو بھی نئی بلندیاں حاصل ہوں گی۔

راکٹ کا نام 'وکرم-ایس' ہندوستان کے عظیم سائنسدان اور اسرو کے بانی ڈاکٹر وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارٹی سینٹر (ان-اسپیس) کے چیئرمین پون گوینکا نے کہا کہ یہ ہندوستان میں نجی شعبے کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے۔ انہوں نے اسکائی روٹ کو راکٹ لانچ کرنے کی اجازت دینے والی پہلی ہندوستانی کمپنی بننے پر مبارکباد دی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اسرو کے رہنما خطوط کے تحت سری ہری کوٹا سے 'اسکائی روٹ ایرو اسپیس' کے ذریعہ تیار کردہ پہلا نجی راکٹ لانچ کرکے تاریخ رقم کرنے والا ہے۔

وکرم-ایس ذیلی مدار میں پرواز کرے گا۔ یہ ایک طرح کی ٹیسٹ فائل ہوگی، اگر ہندوستان کو اس مشن میں کامیابی ملتی ہے تو اس کا نام نجی خلائی راکٹ لانچنگ کے معاملے میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ وکرم-ایس ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ ہونے کے بعد 81 کلومیٹر کی اونچائی پر پہنچے گا۔ اس مشن میں دو ملکی اور ایک غیر ملکی گاہک کے تین پے لوڈ کو لے جایا جائے گا۔ وکرم-ایس ذیلی مداری پرواز چنئی سے اسٹارٹ اپ اسپیس کڈز، آندھرا پردیش سے اسٹارٹ اپ این-اسپیس ٹیک اور آرمینیائی اسٹارٹ اپ بازوم کیو اسپیس ریسرچ لیب سے تین پے لوڈ لے کر جائیں گے۔

کم بجٹ میں راکٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سستے لانچنگ کے لیے اس کا ایندھن تبدیل کیا گیا ہے۔ اس لانچنگ میں عام ایندھن کی بجائے ایل این جی یعنی مائع قدرتی گیس اور مائع آکسیجن (ایل او ایکس) کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ ایندھن کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک بھی ہے۔ اسکائی روٹ ایرو اسپیس کمپنی راکٹ کے کامیاب لانچنگ کو لے کر بہت سنجیدہ ہے۔ کمپنی نے لانچ کرنے سے پہلے راکٹ کا کئی طریقوں سے تجربہ کیا ہے۔ 25 نومبر 2021 کو ناگپور میں واقع سولر انڈسٹری لمیٹڈ۔ اس کے پہلے تھری ڈی پرنٹ شدہ کرائیوجینک انجن کا اس کی آزمائشی سہولت میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TfZFQU4

منگل، 15 نومبر، 2022

بچوں کے اسکرین ٹائم کو دن میں 2 گھنٹے تک محدود کریں: تحقیق

الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ بشریات کے ایک ریسرچ اسکالر کے ذریعہ کی گئی ایک تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسکرین ٹائم بالخصوص بچوں کے لئے، روزانہ دو گھنٹے سے کم کیا جانا چاہئے۔ یہ تحقیق ٹی وی، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون جیسے ڈیجیٹل آلات کی ملکیت کو منظم کرنے کے لیے والدین کی نگرانی اور پالیسی سازی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

اس تحقیق کو سیج (ایس اے جی ای) کی جانب سے بین الاقوامی جریدے ’بلیٹن آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ سوسائٹی‘ میں شائع کیا گیا تھا اور اس کا انعقاد ریسرچ اسکالر مادھوی ترپاٹھی نے کیا تھا، جنہوں نے اسسٹنٹ پروفیسر شلیندر کمار مشرا کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ یہ ڈیجیٹل آلات کی ملکیت کو منظم کرنے کے لیے والدین کی نگرانی اور پالیسی کی تشکیل کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق الہ آباد ریاست میں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے اس کے پیش نظر یہاں دو مراحل کے بے ترتیب نمونے لینے کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے 400 بچوں پر ایک کراس سیکشنل تحقیق کی گئی۔ پہلے مرحلے میں الہ آباد شہر کے 10 میونسپل وارڈوں کا انتخاب کیا گیا۔ ان وارڈوں کی کل آبادی 11000 سے 22000 کے درمیان ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہر منتخب وارڈ سے بچوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے منتخب کیا گیا، تاکہ نمونے کا سائز حاصل کیا جا سکے۔

ترپاٹھی نے کہا ’’نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر گھروں میں ٹیلی ویژن کے بعد ڈیجیٹل کیمرے، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، کنڈلز اور ویڈیو گیمز موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے بچے زیادہ اسکرین پر وقت گزارتے ہیں، جو نہ صرف انہیں جسمانی طور پر متاثر کرتا ہے اور ان کی بینائی کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mkZQzrP