ہفتہ، 25 مارچ، 2023

مشین اور انسان پھر آمنے سامنے... انشومنی رودر

جب بھی کوئی نئی تکنیک دستک دے رہی ہوتی ہے تو وہ دور پرانے چلے آ رہے نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی ہوتی ہے۔ میں اسے ’ڈائنامائٹ فیز‘ کہتا ہوں جس کا استعمال آپ پہلے سے قائم نظام کی دھجیاں اڑانے یا پھر بڑے پہاڑوں کے سینے میں سرنگ جیسی تعمیر کر انسانیت کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھانے میں کر سکتے ہیں۔ آرٹیفیشیل انٹلیجنس (اے آئی)، خاص طور پر جنریٹیو اے آئی آج اسی طرح کے ’ڈائنامائٹ فیز‘ میں ہے۔ تخلیقی آرٹ یا پروڈکٹ کے ذریعہ روزی روٹی چلانے والے فنکار اور مصنف جیسے لوگوں کے پیروں تلے جیسے زمین کھسکتی نظر آ رہی ہے۔ اس لیے یہ جاننے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اتھل پتھل مچانے والے اس واقعہ کا ان لوگوں کی تخلیقیت اور روزی روٹی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

ایک ایسے شخص کے طور پر جو اپنی روزی روٹی کے لیے تقریباً چھ سال تک تحریر و تخلیق پر منحصر رہا ہو اور اس کے بعد کے تقریباً 12 سال گیمز، ہیلتھ کیئر، تعلیم، میڈیا اور پیمنٹ سے جڑے تکنیکی صارفین مصنوعات کی تخلیق پر، اس کے لیے یہ موضوع اہم ہے اور دلچسپ بھی۔ کسی چیز کی تخلق کرنا ایک ذاتی قسم کا کام ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے ہنر، جسے پانے کے لیے سالوں کی محنت اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصنف، فنکار، کوڈرس اور ڈیزائنرس... سب کے ساتھ یہی بات نافذ ہوتی ہے۔ کسی بھی خاص فن کے بارے میں ہم اس کے ماہرین کو پڑھنے، دیکھنے، سننے، ان کے نظریہ کو سمجھنے سے سیکھتے ہیں اور اس ضمن میں سب سے زیادہ کارگر وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ہم خود کرنا شروع کرتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ہم اس کام میں اپنا ایک خاص اسٹائل تیار کر پاتے ہیں۔

فنکار اکثر اس سے ڈرتے ہیں کہ ان کی تخلیق کو اصلی نہیں بلکہ کسی دیگر تخلیق سے متاثر مانا جا سکتا ہے۔ ’نقلچی‘ قرار دیئے جانے کا خوف انھیں ستاتا رہتا ہے۔ پھر بھی یہ غیر متنازعہ حقیقت ہے کہ ہم سبھی نے نقل کے ذریعہ ہی سیکھا۔ کوئی بھی اس بچے (یا یہاں تک کہ ایک ایپل پنسل کو آڑا ترچھا چلاتے ایک نوجوان) سے سوال نہیں کرتا جو ونسینٹ وین گو کی سورج مکھی کو دیکھ کر اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

میں نے سب سے پہلے جو کہانیاں لکھیں، وہ بالکل ’پنچ تنتر‘ اور اینڈ بلائٹن کی اسکولی کہانیوں جیسی تھیں۔ فنتاسی فکشن کے رائٹر کے طور پر ٹیری پراچتیٹ کی آنکھیں موند کر نقل نہیں کرنے یا ’ٹولکن‘ جیسی ’بھیانک‘ نظم (اس کے باوجود کہ میں نے وکرم سیٹھ کی ’بیسٹلی ٹیلس‘ کی نقل کی) لکھنے میں بھی مجھے سالوں لگ گئے۔ تقریباً 10 لاکھ الفاظ ہاتھ سے لکھنے کے بعد ہی میں نے اپنی محدود صلاحیتوں میں ’اصلی‘ ہونے کے اعتماد کو محسوس کرنے کی ہمت پیدا کر سکا۔

لیکن جنریٹیو آرٹیفیشیل انٹلیجنس مجھے سوچ میں ڈال دیتا ہے۔ ایل ایل ایم (لارج لینگویج ماڈل) ایک طرح کا مشین لرننگ ماڈل ہے جو تمام طرح کے لسانی کام کر سکتا ہے۔ اس سے جڑے کئی سوالات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ کیا ایل ایل ایم کو دنیا کے بہترین فکشن رائٹرس کی کتابوں کے بارے میں اس طرح تربیت کی جا سکتی ہے کہ وہ کوئی الگ ہی ’اصل‘ کتاب لکھ دے؟ پھر، موسیقی اور مصوری کے شعبہ میں کیا ہوگا؟ اگر آپ ایک فنکار ہیں، تو کیا جنریٹیو اے آئی کسی اور کو آپ کے خاص اسٹائل میں تصویر بنانے کے قابل بنا سکتا ہے؟ کیا اس سے بالآخر فنکاروں کی آمدنی ماری جائے گی؟

اس موضوع پر جب میں نے اوروں سے بات کرنی شروع کی تو پتہ چلا کہ اس نئے تکنیکی ٹول کے ضمن میں اخلاقیات، معاشیات اور اس سے جڑی پالیسیوں کو لے کر دوسرے لوگوں کے ذہن میں بھی اسی طرح کے سوال امنڈ رہے ہیں۔ کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ضروری تھا کہ میں خود اس میں گہرائی تک اتروں۔ میرے لیے اس نئی تکنیک کو سیکھنا اور پھر اپنے تجربات کو شیئر کرنا ضروری تھا۔ آپ کو یہ دلچسپ لگ سکتا ہے کہ ایک شخص جو خود ایک فنکار ہے، تباہی مچانے والے اس ’ڈائنامائٹ فیز‘ میں بھی کچھ مثبت نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر آپ ایک ٹیکنالوجسٹ یا تکنیک سے جڑے صارف مصنوعات بنانے والے ہیں تو بھی یہ آپ کو دلچسپ لگ سکتا ہے۔ اور پھر آپ ایک اے آئی ماہر بھی ہو سکتے ہیں جو یہ سوچ کر اپنا دھیان اِدھر جمائے کہ دیکھیں جو میں بنا رہا ہوں، اس پر دنیا کس طرح رد عمل کر رہی ہے۔ زیادہ امکان ہے کہ آپ ایک تماش بین ہوں جو دور سے یہ سب دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہو کہ آخر یہ بلا ہے کیا؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو سیٹ بیلٹ باندھ کر ایک نئے سفر کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

جنریٹیو اے آئی، ایل ایل ایم اور ان کے ماڈل:

اس مضمون کا یہ حصہ بازار میں دستیاب مختلف جنریٹیو ٹیکسٹ اے آئی ٹولس کی مدد سے تیار کیا گیا۔ اس سے ایل ایل ایم کی لکھنے کی قابلیت کا اندازہ ہوا۔ بے شک میں نے اسے اچھی طرح ایڈٹ کیا اور اس بات کا خاص خیال رکھا کہ اس میں دی گئی باتیں درست ہوں اور جہاں بھی مجھے لگا کہ روانی ٹوٹ رہی ہے، وہاں میں نے ان کی از سر نو تحریر بھی کی۔ لیکن موٹے طور پر ان ٹولس کو میں نے بہت ہی کام کا پایا۔ خاص طور پر بڑے ٹیکسٹ کا اختصار کرنے والے ٹول کا تو میں مرید ہو گیا۔ میرا ماننا ہے کہ اس تکنیک سے اچھی تحریر کو نقصان تو نہیں ہونے جا رہا، الٹے اس ابھرتی ہوئی تکنیک سے تحریریں مزید بہتر ہوں گی۔

جنریٹیو اے آئی:

جنریٹیو اے آئی ایک طرح کا آرٹیفیشیل انٹلیجنس ہے جو ٹیکسٹ، امیج اور میوزک جیسی نئی اشیا تیار کر سکتا ہے۔ جس بھی اشیا کے ضمن میں اسے ٹرینڈ کیا جاتا ہے، یہ اس میں پیٹرن اور رشتوں کو تلاش کرنے میں ایک نیورل نیٹورک ماڈل کا استعمال کرتا ہے۔ ایک بار جب وہ پیٹرن تلاش کر لیتا ہے تو اس کا استعمال نئی اشیا تیار کرنے میں کرتا ہے۔

(انشومنی رود کا یہ مضمون ہندی ہفتہ وار ’سنڈے نوجیون‘ سے لیا گیا ہے)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9KkHzyR

جمعہ، 17 مارچ، 2023

امریکہ اور برطانیہ کےبعد نیوزی لینڈ میں بھی ٹک ٹاک پر پابندی

سائبر سکیورٹی خدشات کے مدنظر کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں نے پہلے ہی سرکاری آلات میں چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت والے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اب نیوزی لینڈ کے پارلیمانی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے والے تمام آلات میں ٹک ٹاک پر31 مارچ سے پابندی لگادی جائے گی۔

نیوزی لینڈ کی پارلیمانی خدمات کے سربراہ رفائل گونزالویز مونٹرو نے بتایا کہ سائبر سکیورٹی کے ماہرین کے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جن افراد کو اپنی جمہوری ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے اس ایپ کی ضرورت ہوتی تھی انہیں اس کا متبادل فراہم کیا جائے گا۔ اس پلیٹ فارم تک فی الحال ویب براوزر کے ذریعہ رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ سائبر سکیورٹی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی سائبر سی ایکس کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی سکیورٹی کی حفاظت اور بالخصوص قانون سازوں کے آلات میں حساس نوعیت کی اطلاعات کے مدنظر یہ پابندی ضروری تھی۔

سائبر سی ایکس میں سکیورٹی ٹیسٹنگ کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر ایڈم بوئیلیو نے کہا، "اگر ٹک ٹاک کو چین کے مفادات کے لیے کام کرنے کا حکم دیا گیا تو اس سے ہماری سکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ اس لیے حکومت کی طرف سے فراہم کیے جانے والے فونز پر یہ پابندی ضروری ہے۔"

انہوں نے مزید کہا "ہمیں ٹک ٹاک کے علاوہ دیگر غیر ملکی ٹیکنالوجی سے ممکنہ خطرات کا جلد از جلد جائزہ لینا ہوگا۔ ہم جتنا زیادہ غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں ہمارے ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ اتنا ہی زیادہ بڑھ رہا ہے۔"

ٹک ٹاک پر سب سے پہلے بھارت نے پابندی لگائی تھی

ٹک ٹاک پر پابندی کا سلسلہ سن 2020 میں اس وقت شروع ہوا جب پہلی مرتبہ بھارت نے اس پر پابندی عائد کر دی۔ بھارت اور چین کے درمیان ہونے والے سرحدی تصادم، جس میں متعدد بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، کے بعد نئی دہلی نے چینی ایپ پر پابندی عائد کردی تھی۔ بھارت کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی خود مختاری کے دفاع کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسی سال ٹک ٹاک پر، چین کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، پابندی عائد کردی۔ برطانیہ نے جمعرات 16مارچ کوحکومتی آلات میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔

کابینی وزیر اولیور ڈاوڈین نے بتایا کہ برطانیہ کے سائبر سکیورٹی ماہرین کی طرف سے جانچ کے بعد یہ "واضح ہے کہ اس کی وجہ سے حساس حکومتی اعدادوشمار کے لیے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ بعض پلیٹ فارم کو استعمال کرکے ان تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔"

امریکی صدر جو بائیڈن بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ٹک ٹاک نے اپنی ملکیت والی کمپنی بائٹ ڈانس سے خود کو الگ نہیں کیا تو اس پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ بائٹ ڈانس کسی بھی طرح کے اعدادو شمار چینی حکام کو منتقل کرنے کی تردید کرتی ہے۔

چین کا ردعمل

چین نے برطانیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلے کو سیاسی قرار دے دیا۔ برطانوی فیصلے پر لندن میں چینی سفارتخانے نے ردعمل میں کہا کہ برطانیہ میں سرکاری فونز میں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے۔

چینی سفارتخانہ کے مطابق فیصلہ برطانیہ میں متعلقہ کمپنیوں کے معمول کے کاموں میں مداخلت ہے اور ایسے فیصلے سے برطانیہ کے اپنے مفادات کو ہی نقصان پہنچے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/K57lrmu

منگل، 14 مارچ، 2023

سائبر سیکورٹی اور پرائیویسی کے لئے پہلے سے انسٹال شدہ ایپ کو ہٹانے کا حکم دے سکتی ہے حکومت، رپورٹ

نئی دہلی: مرکزی حکومت سائبر سیکورٹی اور پرائیویسی کے تعلق سے اہم قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آنے والے دنوں میں مرکزی حکومت اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ پہلے سے انسٹال شدہ ایپس کو ہٹا دیں اور حکومت کے تجویز کردہ نئے سیکورٹی قوانین کے تحت بڑے آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹس کی لازمی اسکریننگ کی اجازت دیں۔

حالانکہ نئے قوانین کی نوعیت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے لیکن اس کا دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسمارٹ فون مارکیٹ ہندوستان پر بڑا اثر پڑنے کا امکان ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے سیمسنگ، شیاؤمی، ویوو اور ایپل سمیت کئی بڑی کمپنیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صارفین میں ڈیٹا کے غلط استعمال اور جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر آئی ٹی وزارت ان نئے قواعد پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ میں ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پہلے سے انسٹال شدہ ایپس سیکورٹی کے حوالے سے کمزور کڑی ثابت ہو سکتی ہیں۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ چین سمیت کوئی بھی بیرونی ملک اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

خیال رہے کہ مرکز نے 2020 سے چینی ایپس کی تحقیقات کو تیز کر دیا ہے اور ٹک ٹاک سمیت 300 سے زائد چینی ایپس پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ عالمی سطح پر بھی بہت سے ممالک نے چینی فرموں مثلاً ہواوائی اور ہیک ویزن کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کو خدشہ ہے کہ چین ان ڈیٹا کو غیر ملکی شہریوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ حالانکہ چین ان الزامات کی تردید کرتا رہتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4l1SWXf

جمعرات، 9 مارچ، 2023

ایپل کے چین پر انحصار میں کمی کے لیے بھارت مددگار

گو کہ چین اپنی زیروکووِڈ پالیسی کا خاتمہ کر چکا ہے، تاہم تین برس کے سخت ترین لاک ڈاؤن نے سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں لیکن ایپل اپنی پروڈکشن سائٹس کو متنوع بنانے کی تلاش میں مصروف ہے اور اس کے لیے بھارت ایک اچھی آپشن ہے۔

گزشتہ برس امریکی کمپنی ایپل کے لیے آئی فون تیار کرنے والا تائیوانی ادارہ فوکس کون چین علاقے زینگ زو میں قائم اپنے کارخانے میں پروڈکشن کو سست بنانے پر مجبور ہو گیا تھا۔ اس علاقے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چینی حکومت نے سخت ترین لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا تو اس کمپنی نے اپنے ہزاروں ملازمیں کو اس لاک ڈاؤن سے بچانے کے لیے کمپنی کی عمارت ہی میں روکے رکھا۔ اس کے نتیجے میں زبردست مظاہرے بھی ہوئے۔

تائیوان پر ممکنہ چینی حملے کے خطرات، خطے میں سلامتی کی صورتحال کو لاحق خدشات اور مستقبل میں چین پر مغربی ممالک کی ممکنہ پابندیوں کو سامنے رکھتے ہوئے فوکس کون سمیت مختلف کاروباری ادارے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنی گارٹنر کے ریسرچ ڈائریکٹر رنجیت اتوال نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ''ٹیکنالوجی ادارےسپلائی چین کو متنوعبنانے کے لیے چین سے باہر دیکھ رہے ہیں تاکہ کسی ایک ملک یا ایسے ممالک جن کے ساتھ امریکی تعلقات مسائل کا شکار ہیں، پر پروڈکشن کا انحصار کم کیا جا سکے۔‘‘

بھارت کو اس معاملے میں کئی اعتبار سے برتری حاصل ہے۔ یہ ملک رواں برس تیز ترین اقتصادی نمو کی حامل اقتصادیات میں شامل ہے جب کہ اس کے پاس نوجوانوں کی ایک بھرپور ہنرمند قوت بھی موجود ہے۔ بھارتی آبادی میں اٹھارہ سے پچیس برس تک کی عمر کے نوجوانوں کا تناسب بھی مقابلتاﹰ کافی زیادہ ہے جب کہ بھارت میں کم از کم تنخواہ بھی چین کے مقابلے میں ایک تہائی یا نصف کم ہے۔

فوکس کون نے عالمی وبا سے قبل بھارت میں آئی فونز کی تیاری شروع کی تھی، جب کہ اب وہ بھارت میں اپنی سرگرمیوں میں اضافے کی خواہش مند ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ تائیوانی الیکٹرانک کمپنی تامل ناڈو میں واقع اپنے کارخانے میں ملازمین کی تعداد میں تین گنا اضافہ کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ تک لے جانے کی کوشش میں ہے۔ اس ایک کارخانے سے یہ کمپنی سالانہ بیس ملین آئی فون تیار کرے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق فوکس کون تامل ناڈو کی ہمسایہ ریاست کرناٹک میں بھی ایک فیکٹری لگا رہی ہے اور اس فیکٹری میں بھی تقریباﹰ اتنی ہی تعداد میں ملازمین رکھے جائیں گے۔ مقامی میڈیا پر چہ مگوئیاں ہیں کہ یہ نیا پلانٹ سات سو ملین ڈالر کی خطیر رقم سے قائم کیا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GCmKkp1

اتوار، 5 مارچ، 2023

آرین کہاں سے آئے، ڈی این آئے کی زبانی... وصی حیدر

(39ویں قسط)

ایشیا کی چراگاہوں (Steppe) سے تقریباً 2000 قبل مسیح سے ایک ہزار سال تک اچھی زرخیز جگہوں کی تلاش میں لوگ جنوبی ایشیا لگاتار آتے رہے۔ ایسا بلکل بھی نہیں کے وہ لوگ فوج لے کر آئے ہوں اور انہوں نے ہندوستان کو فتح کیا ہو اور ہڑپہ کی تہذیب کو ختم کیا ہو۔ ہڑپہ کی کھدایوں میں کسی طرح کی لڑائیوں کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ ان نتیجوں پر پہنچنے کے سلسلہ میں 2018 میں ایک بہت تفصیلی تحقیقاتی مضمون چھپا، جس کا سب سے اہم کام پورے مرکزی اور جنوبی ایشیا کے پرانے انسانی ڈھانچوں کے ڈی این آئے تحقیقات سے ان کے رشتوں کو معلوم کرنا تھا۔ تو آخر اس سے کیا نئی دریافت حاصل ہوئی۔

سب سے پہلی دریافت تو یہ کہ کزاخستان سے جنوبی ایشیا اور خاص کر ترکمنستان، ازبکستان اور تاجکستان کی طرف لوگ سب سے پہلے 2100 قبل مسیح کے اس پاس گئے اور اس کے بعد تقریباً 1000 سال تک یہ لوگ جنوبی ایشیا آتے رہے۔ اس ہجرت میں یہ لوگ شمالی افغانستان، ازبکستان، تاجکستان اور جنوبی ایشیا آئے۔ اپنے اس سفر میں وہ BMAC تہذیب (جو 2300 سے 1700 قبل مسیح تک رہی Oxus ندی کے کنارے بسی تھی) پر اپنا اثر چھوڑا، لیکن انہوں نے ہندوستان پہنچ کر ہڑپہ کی ختم ہوتی تہذیب کے لوگوں میں گھل مل کر ایک نئی تہذیب کو جنم دیا، جو اب ہندوستان کی دو بڑی دھاروں میں سے ایک ہے۔ دوسری اہم دھارا وہ ہے جو ہڑپہ کے لوگوں کی جنوبی ہندوستان کی طرف ہجرت کے بعد وہاں پہلے سے بسے افریقہ سے آئے ہوئے ہندوستانیوں میں گھل مل کر پروان چڑھی اور انہوں نے دراوڑ زبانوں اور ایک انفرادی کلچر کو جنم دیا۔ آنے والے آرین اور ہڑپہ کے لوگوں نے مل کر انڈو یوروپین زبانوں اور ایک نئی تہذیب کو بنایا۔

تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کے 2100 قبل مسیح سے پہلے BMAC کے لوگوں میں Steppe کے ڈی این آئے کی ملاوٹ بلکل بھی نہیں ہے پر اس کے بعد 1700 قبل مسیح تک نہ صرف BMAC میں بلکہ اس کے چاروں طرف لوگوں میں Steppe کے ڈی این آئے موجود ہیں۔  اس دریافت کا پہلے ذکر ہو چکا ہے کے موجودہ ایران کے شہر سوختہ میں تین ایسے ڈھانچنے ملے جو 3100 سے 2200 قبل مسیح کے ہیں اور ان کا تعلق ہڑپہ کے علاقہ سے ہے یعنی یہ لوگ ہڑپہ سے ایران گئے اور وہاں ختم ہوئے۔

یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ہڑپہ کے لوگوں کا ایران کے زخروز علاقہ کی آبادیوں سے گہرا تجارتی اور کلچرل تعلق تھا۔ ان تینوں ڈھانچوں میں 14-42 فیصدی جینز افریقہ سے آئے ہوئے پہلے ہندوستانیوں کے اور باقی ایرانی زخروز علاقے کے لوگوں کے ہیں، ان میں ایشیا کے Steppe کے لوگوں کے جینزکی کوئی ملاوٹ نہیں ہے۔ اس دریافت سے بھی یہی ثابت ہوا کے steppe سے آنے والے آرین 2100 قبل مسیح کے بعد ہی ہندوستان آئے۔

لیکن اس سلسلے کی فیصلہ کن معلومات پاکستان کے سوات وادی کی انسانی ڈھانچوں کی ڈی این آئے تحقیقات کے نتیجے ہیں۔ یہ ڈھانچے 1200 قبل مسیح کے ہیں۔ ان کے ڈی این اے ان پرانے تین ہندوستانیوں جیسے ہیں (جو ایران میں پائے گئے ) لیکن ایک بہت اہم فرق یہ ہے کہ یہ ان سے ایک ہزار سال بعد کے ہیں اور ان میں steppe سے آئے ہوئے آرین کے 22 فیصدی جینز کی ملاوٹ ہے۔ یعنی اس ایک ہزار سال میں آنے والے آرین مقامی آبادی میں گھل مل چکے تھے۔ اس تحقیقاتی مقالہ میں اس کا بھی ذکر ہے کے موجودہ ہندوستان میں انڈو یوروپین بولنے والے خاص پجاری، سنکرت اور ویدک کلچر کے رکھوالے لوگوں میں steppe سے آئے ہوئے آرینس کے جینز کی ملاوٹ اور تمام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ Steppe  کے یہ لوگ یمنایا کہلاتے تھے۔ یہی لوگ 3000 قبل مسیح کے آس پاس یوروپ کی طرف بھی گئے۔ ان کے بارے میں کچھ اور تفصیل آگے کچھ قسطوں میں ہوگی۔

ان تحقیقات کی روشنی میں ہماری موجودہ ہندوستانی آبادی کچھ اس طرح کی ہے۔ پہلا گروپ افریقہ سے آئے ہوئے پہلے ہوموسیپینس اور ہڑپا کے لوگ جنمیں ایران کے زگروز کے لوگوں کے جینز کی ملاوٹ: ان سب سے ہندوستان کے دراوڑ زبانیں بولنے والے لوگ بنے۔ دوسرا بڑا گروپ ہڑپا کے لوگوں میں باہر سے آنے والے آرین کے گھل مل کر انڈو یوروپین زبانیں بولنے والے لوگ۔ اس کے علاوہ اور بھی چھوٹے گروپ جو جنوب مشرق سے آئے۔ مختصراً اصل ہندوستانی کی تلاش فضول ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف ہمارے لیے سچ ہے بلکہ موجودہ دنیا کے ہر ملک کی آبادی کئی طرح کی رنگا و رنگ دھاراوں کی ملاوٹ ہے جیسے قوس قزح کے خوبصورت رنگ۔

 اگلی قسط میں یمنایا (Ymnaya) یعنی ہندوستان آنے والے آرین کا ذکر ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NeqVAp3

پیر، 20 فروری، 2023

فیس بک کا قیمتاً بلیو ٹک 'تصدیق شدہ' سروس کا اعلان

فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے 19 فروری اتوار کے روز اعلان کیا کہ صارفین کی جانب سے ادائیگیوں کی بنیاد پر 'سبسکرپشن' سروس کا ایک نیا تجربہ شروع کیا جا رہا ہے۔

'میٹا ویری فائیڈ' سروس اس ہفتے پہلے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں دستیاب کرائی جائے گی، جو صارفین کی شناخت کی تصدیق کرنے کے ساتھ ہی انہیں ان کی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے نیلے رنگ کا بیج بھی فراہم کرے گی۔

کمپنی کے سی ای او مارک ذکربرگ نے کہا کہ سبسکرپشن میں نقالی سے بچنے کے لیے اضافی تحفظ اور ترجیحی کسٹمر سپورٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس کے لیے صارفین کو ویب سائٹ کے لیے ماہانہ تقریباً بارہ امریکی ڈالر کی فیس ادا کرنی ہو گی اور ایپل کے آئی او ایس یا اینڈرائیڈ سسٹم پر ماہانہ تقریباً پندرہ امریکی ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔

اس کا اعلان کرتے ہوئے مارک ذکر برگ نے کہا، ''اس ہفتے سے ہم ایک 'میٹا ویری فائیڈ' سبسکرپشن سروس شروع کر رہے ہیں، جو سرکاری شناخت کے ساتھ آپ کے اکاؤنٹ کی تصدیق کرے گا، نیلے رنگ کا بیج فراہم کرے گا نیز آپ کو نقل کرنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ہی کسٹمر سپورٹ تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔'' ان کا مزید کہنا ہے، ''یہ تمام نئے فیچر ہماری سبھی سروسز میں صداقت اور سلامتی کو بڑھانے سے متعلق ہیں۔''

دیگر سوشل میڈیا سبسکرپشنز

میٹا نے جس سروس کا اعلان کیا ہے وہ ایلون مسک کی اس اسکیم سے تقریباً ملتی جلتی ہے جو انہوں نے ٹویٹر پر ماہانہ آٹھ ڈالر کی فیس کی بات کہی تھی۔

گزشتہ برس ٹویٹر کے اعلان سے پلیٹ فارم پر جعلی اکاؤنٹس سے متعلق شرمناک خبریں آنی شروع ہوئیں، جس کی وجہ سے نہ صرف اشتہار دینے والے خوفزدہ ہو گئے بلکہ سائٹ کے مستقبل کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔

ان وجوہات کے سبب ایلون مسک دسمبر میں اس سروس کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اسے مختصر وقت کے لیے معطل کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ تاہم ذکربرگ نے اس بات پر زور دیا کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر پہلے سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

اسنیپ چیٹ، اسنیپ انک اور ٹیلی گرام جیسی سوشل میڈیا ایپس نے بھی گزشتہ برس ادائیگیوں کی بنیاد پر ایسی ہی سبسکرپشن سروسز کا آغاز کیا، جو کہ آمدن کا ایک نیا ذریعہ ہے۔

سن 2022 میں میٹا سیلز کی آمدن میں کمی

ورچوئل رئیلٹی کی دنیا میٹاورس پر ایک بڑا جوا کھیلنے کے بعد میٹا کافی دباؤ میں ہے۔ سن 2012 میں پبلک ہونے کے بعد سے اس ماہ کے اوائل میں میٹا نے پہلی بار اپنی آمدن میں کمی کی بات تسلیم کی ہے۔ گزشتہ برس اس کی فروخت میں ایک فیصد کی کمی ہو کر 116.6 بلین ڈالر ہی رہ گئی۔

فیس بک کے صارفین کے اضافے میں بھی کمی آئی ہے، تاہم کمپنی نے حال ہی میں یہ اعلان بھی کیا ہے کہ پہلی بار فیس بک پر یومیہ صارفین کی تعداد دو ارب تک پہنچ گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wfCAgKX

جمعہ، 17 فروری، 2023

انٹرنیٹ پر فون نمبر تلاش کرتے وقت رہیں ہوشیار، ٹھگوں نے بچھا رکھا ہے جال!

لکھنؤ: سرچ انجن پر فون نمبر تلاش کرنا آسان لگ سکتا ہے لیکن بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ٹھگوں کا جال ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حالیہ دو واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں۔ پہلے معاملہ میں ایک شخص سے اس وقت 71000 روپے کی ٹھگی کر لی گئی جب اس نے اسپتال کا نمبر معلوم کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیا۔ اس کی بیوی بیمار تھی اور اس نے مشورہ کے لیے اس نمبر پر کال کی۔ متاثرہ بھگوان دین کو لکھنؤ کے ندرا نگر علاقہ میں ایک ڈاکٹر سے مشاورت کے لیے ایک مریض کو رجسٹر کرنے کے لیے ’فون پے‘ کے ذریعے 10 روپے جمع کرنے کو کہا گیا تھا۔

جب متاثرہ نے بتایا کہ وہ ایپ کے ذریعے ادائیگی نہیں کر سکتا تو ٹھگ نے اس سے اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر شیئر کرنے کو کہا، جو اس نے کر دیا۔ اسے ’کوئیک سپورٹ ایپ‘ ڈاؤن لوڈ کرنے اور ایپ کے ذریعے 10 روپے ادا کرنے کو کہا گیا۔ تھوڑی دیر بعد متاثرہ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایک او ٹی پی آیا اور ٹھگ نے اسے شیئر کرنے کو کہا۔

متاثرہ نے بتایا ’’مجھے ایک رجسٹریشن نمبر دیا گیا اور اگلے دن صبح 10 بجے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے لیے اسپتال جانے کو کہا گیا۔ تاہم جب میں وہاں پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ اسپتال نے کوئی ایڈوانس رجسٹریشن نہیں کیا۔ اس کی بیوی کے داخل ہونے کے بعد جب وہ پیسے نکالنے کے لیے اے ٹی ایم گیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے بینک اکاؤنٹ سے 71755 روپے نکال لیے گئے ہیں۔ اندرا نگر کے ایس ایچ او چھترپال سنگھ نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات کے لیے سائبر سیل کی مدد لی گئی ہے۔

ایک اور واقعہ میں امین آباد کے رہائشی کو چھاؤنی کے صدر علاقہ میں معروف دکان سے مٹھائی خریدنے کے بہانے 64 ہزار روپے سے زائد کا چونا لگایا گیا ہے۔ متاثرہ اشوک کمار بنسل نے گوگل پر دکان کا موبائل نمبر تلاش کرنے کے بعد دکان سے مٹھائی کا آن لائن آرڈر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے فون اٹھایا اس نے ادائیگی کے لیے اس کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات مانگیں۔

بنسل نے کہا ’’میں نے آرڈر کے لیے 64110 روپے ادا کر دئے لیکن جب میں آرڈر لینے دکان پر پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ موبائل نمبر جعلی ہے اور مجھ سے ٹھگی کی گئی ہے۔‘‘

سائبر سیل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تروینی سنگھ نے کہا کہ جب کوئی صارف ایسی (کوئیک سپورٹ) ایپ ڈاؤن لوڈ کرتا ہے تو وہ ایپ کو تمام اختیارات فراہم کر دیتا ہے۔ ان اختیارات میں ایپ میں دیگر تمام ایپس، گیلری اور رابطہ کی فہرستوں تک رسائی شامل ہے۔ اس اجازت سے شرپسندوں کو فون تک ریموٹ رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ جب کوئی الیکٹرانک ڈیوائس ریموٹ ایکسیس پر ہوتی ہے، تو وہ شخص جس نے ریموٹ ایکسیس لیا ہے وہ تمام سرگرمیاں واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب متاثرہ شخص اپنا نام، نمبر بھرنے اور سروس چارج کے طور پر 10 روپے ادا کرنے میں مصروف ہوتا ہے، تو ٹھگ پِن نمبر دیکھ سکتے ہیں، جسے بعد میں رقم نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9twQodJ

بدھ، 15 فروری، 2023

سمندر میں غرق جائیں گے ممبئی اور نیویارک جیسے بڑے شہر! اقوامی متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ: موسمیاتی تبدیلی میں شدت نے دنیا کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس حوالہ سے جو رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں وہ ایک بڑے بحران کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اگر سطح سمندر میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو ممبئی اور نیویارک سمیت دنیا کے کئی بڑے شہر سمندر میں غرق آ جائیں گے۔ دنیا بھر میں محسوس کی جا رہی موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے یہ انتباہ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ ممبئی اور نیویارک جیسے بڑے شہروں کو سطح سمندر میں اضافے سے سنگین اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ سطح سمندر میں اضافہ اپنے آپ میں ایک بڑا خطرہ ہے اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح مستقبل کو غرق کر رہی ہے۔

انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا ’’ہر براعظم کے بڑے شہر مثلاً قاہرہ، لاگوس، ماپوٹو، ڈھاکہ، جکارتہ، ممبئی، شنگھائی، بنکاک، لندن، لاس اینجلس، نیویارک، بیونس آئرس، سینٹیاگو اور کوپن ہیگن کو کو سنگین اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘

گوٹیرس نے کہا کہ عالمی اوسط سمندر کی سطح 1900 کے بعد گزشتہ 3000 سالوں میں کسی بھی پچھلی صدی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے اور یہ کہ عالمی سمندر گزشتہ صدی میں پچھلے 11000 سالوں میں کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق، خواہ عالمی درجہ حرارت (گلوبل وارمنگ) ’معجزانہ طور پر‘ 1.5 ڈگری سیلسیس تک ہی محدود کیوں نہ رہے، پھر بھی یہ سمندر کی سطح میں نمایاں اضافہ کا باعث بنے گا۔

گوٹیرس نے یہ بیان اقوام دنیا بھر کے چھوٹے جزیروں، ترقی پذیر ریاستوں اور دیگر نشیبی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’سطح سمندر میں اضافہ - بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے مضمرات‘ کے موضوع پر ہونے والی بحث کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا ’’سطح سمندر میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ بڑھتے ہوئے سمندر سے کچھ نشیبی علاقوں اور یہاں تک کہ ممالک تک کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ یہ خطرہ خاص طور پر تقریباً 900 ملین لوگوں کے لیے سنگین ہے جو کم اونچائی والے ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ زمین پر دس میں سے ایک شخص ہے، کچھ ساحلی علاقوں میں پہلے ہی سطح سمندر میں اضافے کی اوسط شرح تین گنا زیادہ ہے۔

سربراہ اقوام متحدہ نے کہا ’’ہمیں متاثرہ آبادی کے تحفظ اور ان کے ضروری انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھنا چاہئے۔ بڑھتے ہوئے سمندر سے پیدا ہونے والے تباہ کن سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درکار سیاسی عزم پیدا کرنے میں سلامتی کونسل کا اہم کردار ہے۔ ہم سب کو اس اہم مسئلے پر بات کرتے رہنا چاہیے اور اس بحران کی اگلی خطوط پر موجود لوگوں کی زندگیوں، معاش اور برادریوں کی مدد کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QSE1zJd

اتوار، 12 فروری، 2023

ہم کون ہیں! کیا آرین ہندوستان سے سارے ایشیا میں پھیلے، ڈی این اے کی زبانی... وصی حیدر

(37ویں قسط)

کچھ عرصہ پہلے تک اس سمجھ کی گنجائش تھی کے شاید آرین ہندوستان سے اپنی انڈو یوروپین زبان کو لے کر پورے ایشیا اور یورپ تک پھیلے لیکن اب جینیٹکس اور خاص کر پرانے انسانی ڈھانچوں کی تحقیقات نے اس بحث کو پورے طور سے ختم کر دیا۔

موجودہ ہندوستان کے تقریباً تین چوتھائی لوگ انڈو یوروپین زبانیں بولتے ہیں۔ مختصراً یہ زبانیں ہندی، گجراتی، بنگالی، پنجابی اور مراٹھی ہیں۔ پوری دنیا کے تقریباً 40 فیصدی لوگ انگریزی، فرانسیسی، اسپنش،پرتگالی، جرمن، روسی اور ایرانی بولتے ہیں جو انڈو یوروپین زبانیں ہیں۔ ہندوستان ان زبانوں کی مشرقی حد ہے، یعنی ہمارے مشرق میں کوئی بھی انڈو یوروپین زبان استعمال نہیں کرتا۔

یہ سوال اہم ہے کے ہندوستان میں اتنے بڑے پیمانہ پر انڈو یوروپین زبانوں کا استمال کیوں اور کیسے ہوا؟ اس سوال کے دو ہی جواب ممکن ہیں، پہلا تو یہ زبانیں ہندوستان سے صرف ہمارے شمال مغرب میں پھیلیں یا دوسرا جواب یہ کہ یہ زبانیں ہندوستان میں باہر سے آئیں۔ اس مضمون میں ہم صرف اس پر غور کریں گے کہ اگر یہ ہندوستان سے سارے شمالی مغربی ایشیا اور یوروپ گئیں تو ہم کو اس کے کیا جینیٹکس کی تحقیقات میں ثبوت ملنے چاہیئں۔ اس سلسلہ میں حال ہی میں کی گئی پرانے انسانی ڈھانچوں کی ڈی این اے تحقیقات سے دلچسپ انکشاف ہوا ہے۔

اگر ہم یہ مان لیں کے سنسکرت یا اس کا کوئی شروعاتی نسخہ ہندوستان سے چند لوگ ایشیا اور یوروپ لیکر گئے تو ہم کو ڈی این اے تحقیقات میں کیا ملنا چائے؟ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ہندوستان میں افریقہ سے آے ہوے پہلے ہوموسیپینس کے ڈی این اے کی ملاوٹ ان تمام جگہوں اور خاص کر یورپ کے لوگوں میں ہونی چاہیے۔ ہم سب کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ افریقہ سے آنے والے ہوموسیپینس نے انسانوں کی اور قسموں پر غالب آ کر پوری دنیا کو آباد کیا۔ ارتقا کی منزلیں ہزاروں سال میں طے کرتے ہوے انھیں لوگوں نے ہڑپہ کی عظیم تہذیب کو جنم دیا۔ اگر ہندوستان سے خاصی تعداد میں ہجرت کر کے ہڑپہ سے پہلے یا بعد میں یہ لوگ اپنی زبان کو لے کر پورے ایشیا اور یورپ میں پھیلے تو ان کے ڈی این اے کے نشانات ان جگہوں پر ملنے چاہئیں۔ ڈی این اے کی تحقیقات نے ثابت کر دیا کہ نہ ہی ایشیا کے اور ملکوں میں اور نہ یورپ میں کوئی پرانا ہندوستانی ڈی این اے یا اس کے کسی اور میوٹیشین کے کوئی نشان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے ڈی این اے تحقیقات نے بلاشبہ یہ ثابت کر دیا کہ دنیا میں انڈو یورپین زبانیں پھیلانے والے ہندوستان سے نہیں گئے۔

ڈی این اے تحقیقات کا ایک اور اہم نتیجہ ہے جس کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اس کو آپ کے دلوں میں کوئی شبہ پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔ یوروپ اور امریکہ میں ایک خانہ بدوش بہت کم تعداد والی قوم ہے جو جپسی یا روما کہلاتی ہے۔ اگر آپ روم میں کلوسیم گھومنے جائیں تو یہ جپسی آپ کو دیکھنے کو ضرور مل جائیں گے۔ لوگ یہ ہدایت دیتے ہیں کی اپنا پرس ذرا احتیاط سے سنبھالیں، ورنہ غائب ہو جائے گا۔ جنیٹکس کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ یہ روما قوم کے لوگ 1500 سال پہلے پنجاب، سندھ، راجستھان اور ہریانہ سے ہجرت کرتے ہوۓ یورپ پہنچے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کی ان لوگوں کی ہجرت کا وقت انڈو یوروپین زبانوں کی خاصی اچھی طرح بھیلنے کے کافی بعد کا ہے یعنی جب یہ یورپ پہنچے تب تک انڈو یورپین زبانیں یورپ اور ایشیا میں پھیل چکی تھیں۔

ڈی این اے تحقیقات پر ایک بہت بڑا ریسرچ مضمون 2011 میں چھپا جس کا ذکر ضروری ہے۔ یہ معلوم ہوا کہ روما کے لوگوں میں 65 سے لے کر 95 فیصد یورپین جینس ہیں اور باقی حصّہ ڈی این اے میوٹیشن ہونے کے بعد ایم ہیپلوگروپ کا ہے جو ہندوستانی ہے اور روما کے علاوہ یورپ کی پوری آبادی میں کسی بھی انسان میں ہندوستانی جینس کے کوئی بھی نشان نہیں ملے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈی این اے تحقیقات یہ بلا شبہ ثابت کرتی ہے کہ آرین یا انڈو یورپین زبانیں ہندوستان سے نہیں پھیلیں۔

اگلی قسط میں اس بات کا ذکر ہوگا کے اگر آرین باہر سے ہندوستان آے تو ان کا ڈی این اے تحقیقات میں کیا ثبوت ملا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/sJz1pCU

پیر، 6 فروری، 2023

ٹک ٹاک: عالمی حکام کی توجہ کا مرکز کیوں؟

جہاں ایک طرف نوجوانوں میں یہ ویڈیو اسٹریمنگ ایپ مقبول تر ہوتی جا رہی ہے وہیں دوسری جانب عالمی سطح پر قانون ساز اس بحث میں مصروف ہیں کہ اگر وہ ٹک ٹاک کو غیر قانونی قرار نہیں دے سکتے تو اسے سخت حدود کا پابند کس طرح بنایاجائے۔

گو یورپی یونین کی جانب سے نئی قانون سازی کی جارہی ہے جس کے تحت ٹک ٹاک کو نقصان دہ مواد پر سختی سے نظر رکھنے پر مجبور کیا جاسکے گا تاہم امریکا سے جاپان تک دنیا کے کئی ممالک اس غور و فکر میں ہیں کہ اس ایپ کو مزید ریگولیٹ کریں یا بھارت کی طرح ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کردیں۔

ضابطہ کاروں کو خدشہ ہے کہ چینی حکومت اس ایپ کو اپنے مفادات کے فروغ کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ حکومت صارفین کے ڈیٹا تک خفیہ رسائی حاصل کرتے ہوئے گمراہ کن معلومات پھیلا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی برسلز کی غیر منافع بخش تنظیم، ایکسس ناؤ (Access Now) سے منسلک ماہر ایسٹیل ماس، کا ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا، ''چینی حکومت کی جانب سے ممکنہ نگرانی کے جائز خدشات موجود ہیں۔ ایسے میں ٹک ٹاک پر خصوصی طور پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دنیا میں تیزی سے پھیلتا ہوا سوشل میڈیا ہے اور اس کے صارفین میں اکثریت کم عمر افراد کی ہے۔‘‘

ٹک ٹاک کی مالک کمپنی، ByteDance کو صارفین کی معلومات اکھٹا کرتے ہوئے انہیں استعمال کرنے کے طریقہ کار پر پہلے ہی کافی عرصے سے کڑی جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ تاہم ضابطہ کاروں کی جانب سے کمپنی پر دباؤ میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب گزشتہ برس دسمبر میں یہ بات سامنے آئی کہ ByteDance کے ملازمین نے پریس کو لیک کی جانے والی معلومات کی تفتیش کے لیے مغربی صحافیوں کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ٹک ٹاک کی ترجمان نے اس واقعے کو ''چند مخصوص افراد کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی‘‘ کا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ اب وہ افراد ByteDance کے ملازم نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد کمپنی نے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹک ٹاک کے صارفین کا ڈیٹا چین سے باہر موجود مراکز میں محفوظ کیا جاتا ہے تاہم چین میں موجود چند ہی ملازمین کو اس تک رسائی دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیجنگ حکومت نے نہ تو کبھی ٹک ٹاک صارفین کا ڈیٹا طلب کیا اور نہ ہی کبھی ایسی معلومات انہیں مہیا کی گئیں۔

ٹک ٹاک کس طرح مقبول ہوا

انٹرنیٹ کی تاریخ میں کوئی ایپ اتنی تیزی سے مقبول نہیں ہوئی جتنی کہ ٹک ٹاک۔ چند برسوں کے اندر ہی یہ ایپ خبریں اور معلومات فراہم کرنے والا دنیا کا معروف ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن گیا جس کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سن 2018 میں ByteDance نے چینی ایپ Douyin کی طرز پر عالمی مارکیٹ میں ٹک ٹاک کو لانچ کیا۔ ستمبر 2021 میں پلیٹ فارم نے اعلان کیا کہ اس کے ماہانہ سرگرم صارفین کی تعداد ایک بلین تک پہنچ گئی ہے۔ فیس بُک کو یہ ہی سنگ میل طے کرنے میں آٹھ برس لگے۔ ڈاون لوڈ کے اعداد وشمار کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم یہ تعداد کتنی ہے، ٹک ٹاک کی جانب سے یہ معلومات کمپنی کی پالیسی کے باعث فراہم نہیں کی گئی ہے۔

تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ٹک ٹاک کا 'فار یو‘ پیج اس ایپ کی مقبولیت کے پیچھے چھپا راز ہے۔ یہ پیج ویڈیوز کا ایسا سلسلہ دیتا ہے جو ہر صارف کو مختلف انداز میں نظر آتا ہے۔ صارف جیسے ہی اس ایپ کو کھولتے ہیں تو یہ خودکار طریقے سے کام کرتے ہوئے صارف کی توجہ سے منسلک مواد کا تجزیہ شروع کر دیتا ہے مثلا صارف کس طرح کا مواد دیکھنا چاہتا ہے یا کتنی دیر کوئی ویڈیو دیکھ رہا ہے۔ اس طرح سے کچھ ہی وقت میں اس کا الگوردم یہ سیکھ لیتا ہے کہ استعمال کرنے والے صارف کی دلچسپی کا باعث کس انداز کا مواد ہے۔

کیا ٹک ٹاک ہائی جیک ہو سکتا ہے؟

خبروں تک رسائی کے لیے ٹک ٹاک کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور ڈی ڈبلیو سمیت کئی بڑے خبر رساں ادارے اس پلیٹ فارم پر باقاعدگی سے پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ تاہم تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے طاقتور الگوردم کو جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرس رے سمیت دیگر امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خصوصی طور پر بیجنگ حکومت اس ایپ پر جاری مواد کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہوئے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے یا بیرون ممالک سماجی انتشاری کو پھیلانے نے کے استعمال کر سکتی ہے۔

ٹک ٹاک کی ترجمان نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اس پلیٹ فارم کی کوشش رہی ہے کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز سے قابو کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے حقائق جانچنے والی مختلف تنظیموں کے ساتھ پارٹنرشپ کے علاوہ حکومتی یا اس کا اثر رسوخ رکھنے والے اکاؤنٹ سے ویڈیو اپ لوڈ ہونے پر صارفین کو مطلع کیا جاتا ہے۔

ضابطہ کاری

یورپی یونین کی جانب سے جلد ہی ایسی قانون سازی کا اطلاق کیا جائے گا جس کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز پر لازم ہوگا کہ وہ یورپی یونین کے منتخب کردہ تجزیہ کاروں کو اپنے اندرونی کام کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ تاہم ابھی یہ طے نہیں کیا گیا کہ کیا ان پلیٹ فارمز میں ٹک ٹاک بھی شامل ہے یا نہیں۔

دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان میں اس ماہ قانون سازوں کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے ایک بل پر ووٹنگ ہو گی۔ اگر اکثریت رائے سے یہ بل پاس ہو گیا تو امریکی صدر جو بائڈن کی قانونی انتظامیہ ٹاک ٹاک پر وسیع تر قومی مفادات کے تناظر میں ملک بھر میں پابندی عائد کر سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TzfWcpg

اتوار، 22 جنوری، 2023

ہم کہاں سے آئے: چاول کی کہانی... وصی حیدر

 (35ویں وسط)

2011 میں ہندوستان کے جنوب مشرقی علاقہ سے متعلق ایک اہم بڑا تحقیقاتی مضمون چھپا۔ ڈینمارک کے مشہور جینیٹکس کے تحقیقاتی مرکز اور ان کے ساتھ دنیا کے 26 خاص انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے مل کر اس علاقہ کے پچھلے 8000 سال تک پرانے انسانی ڈھانچوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیقات کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کے پچھلے 4000 ہزار سالوں میں اس علاقہ کی آبادی میں کئی بار بڑی تبدیلیاں ہوئیں اور یہ زیادہ تر چین سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے اس زمانے میں ہوئیں، جب چین میں کھیتی باڑی کا انقلاب آچکا تھا اور بڑھتی آبادی کی وجہ سے کچھ لوگ نئی جگہوں کی تلاش میں نکلے۔

7500 قبل مسیح سے 3500  قبل مسیح تک چین کی یانگسی اور پیلی دریا کی وادی میں رہنے والے لوگ چاول اور باجرے کی فصل اگانا خوب اچھی طرح جان چکے تھے۔ چین سے ایشیا کے جنوب مشرقی علاقہ میں آنے والے لوگ زیادہ تر دو راستوں سے آئے۔ پہلا زمینی راستہ جس کے ساتھ اسٹرو اشیاٹک زبانیں اس علاقہ میں پھیلیں۔  دوسرا راستہ کچھ لوگ ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک چھوٹی چھوٹی ناؤ کے ذریعہ اس علاقے میں پھیلے اور اس طرح ملیشیا، انڈونیشیا اور فلیپائن میں اپنی کھیتی کرنے کا ہنر، رسم و رواج اور زبانیں لے کر پہنچے۔

ہندوستان میں 2000  قبل مسیح سے پہلے اسٹرو اشیاٹک لوگوں کی عدم موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کے یہ لوگ جنوبی مشرقی ایشیا سے ہندوستان آئے، یہ وہی وقت تھا جب ہڑپا تہذیب کا زوال ہو رہا تھا۔ 2011 میں چھپی جینیٹکس کی اہم دریافت یہ ہے کہ ہندوستان میں منڈا زبان بولنے والے لوگوں کے وائی کروسوم (جو اگلی نسل کو اپنے والد سے ملتا ہے) میں تقریباً 25 فیصدی حصّہ جنوب مشرقی ایشیا کے لوگوں سے ملتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کے 2000 قبل مسیح کے بعد یہ لوگ ہندوستان اپنی زبانیں، رسم رواج اور کھیتی کا ہنرلائے اور یہاں پہلے سے بسے لوگوں میں گھل مل گئے۔ اب اس سوال کا جواب معلوم کریں کہ کیا یہ باہر سے آنے والے لوگوں نے ہندوستان میں چاول کی کھیتی شروع کی۔ اس کا جواب بھی سائنسی تحقیقات سے ملا۔

چاول اور اس کی کامیاب فصل اگانے کے ہنر پر 2018 میں ایک بہت تفصیلی تحقیقاتی مقالہ چھپا، جس کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں۔

 ایشیا میں چاول کی دو خاص قسمیں ہیں جن کے نام انڈیکا اور جیپونیکا ہیں اور ان سے نکلی ہوئی کچھ اور مقامی شاخیں بھی ہیں۔ کھدائی میں حاصل ہوئے بیجوں کی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کے اتر پردیش کے سنت کبیر نگرمیں 7000 قبل مسیح کے آس پاس چاول کی کھیتی شروع ہو چکی تھی۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے جنگلی چاول کو پالتو بنانے کے تجربہ مختلف جگہوں پر کامیاب ہو رہے تھے۔ تو ہمارے سوال کا ایک ادھورا جواب یہ ہے کے ہندوستان میں چاول باہر سے نہیں آیا۔ چاول کی ہماری قسم انڈیکا ہے، لیکن چاول کی کہانی کا ایک اہم رخ اور ہے۔

چین کی ینگتسی ندی کے آس پاس چاول کی جو کامیاب کھیتی ہوئی وہ جینیٹکس کے حساب سے فرق ہونے کی وجہ سے جیپونیکا کہلاتی ہے۔  تحقیقات یہ بتاتی ہے کے جب لوگ جنوب مشرقی ایشیا سے ہندوستان آے تو اپنے ساتھ چاول یعنی جیپونیکا اور اس کی کھیتی کا ہنر اپنے ساتھ لائے۔ جب ہندوستانی چاول انڈیکا اور چینی چاول جیپونیکا کا آاپس میں میل (hybridization)  ہوا تو چاول کی فصل کی پیداوار بہت بڑھی۔

چاول کی فصل کی کہانی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کے انسان نے ہمیشہ ایک دوسرے کے تجربوں سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی ہے۔ ہر تہذیب کو اپنے الگ نیوٹن کے قانون کھوجنے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے بھی باہر کے لوگوں کو بہت کچھ دیا ہے۔ صرف چاول ہی نہیں بلکہ آسام میں باہر سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ کئی رس والے پھل اور آم اپنے ساتھ لانے۔

ان تحقیقات کا نتیجہ یہ ہے کہ 2000 قبل مسیح کے آس پاس ہندوستان کی رنگا رنگ انسانی آبادی میں ایک اور رنگ شمال مشرق اور جنوب مشرق سے آنے والے لوگ لائے اور وہ مقامی لوگوں میں گھل مل گئے۔ انسانی آبادی کی تاریخ کا پہیہ دھیمے دھیمے آگے بڑھتا رہا۔ اب تک کی کہانی کے حساب سے ہم کون ہیں: افریقہ سے آنے والے لوگ پھر ایران کے زرگوس علاقہ سے آنے والے اور اس کے بعد شمال اور جنوب سے آنے والے لوگ۔ یہ سب لوگ اپنے ساتھ طرح طرح کے رسم ورواج اور کہانیاں لے کر آئے جنہون ے ہماری موجودہ تہذیب کو بنایا اور سنوارا۔ اس کہانی کا ایک اہم پہلو ابھی باقی ہے۔ یہ سوال کے جینیٹکس کی سائنسی معلومات ہم کو آرینس کے بارے میں کیا یہ بتاتی کے وہ کون تھے اور کیا وہ باہر سے ہندوستان ؤئے۔ اس کا جواب اگلی چند قسطوں میں ملاحظہ فرمائیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MPpnf3c

پیر، 16 جنوری، 2023

پاکستانی سائنسدان کی ایجاد، چائے کی پتی سے الزائمر کی تشخیص

پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عنبر عباس برطانیہ میں نیو کاسل یونیورسٹی سے با حیثیت ریسرچ سکالر وابستہ ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ مشترکہ تحقیق میں چائے کی استعمال شدہ پتی کے 'پھوک‘ سے گریفین کوانٹم ڈاٹس تیار کیے ہیں، جنہیں پانی کے علاوہ انسانی جسم میں آئرن کی موجودگی کی شناخت کے لیے بطور سینسر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کوانٹم ڈاٹس کی تیاری کے لیے چائے کی پتی کا استعمال کیوں؟

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گریفین کو دنیا بھر میں طب خصوصاﹰ دوا سازی میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کی ٹیم کم خرچ اور ماحول دوست طریقے سے کوانٹم ڈاٹس بنانے کی خواہاں تھی جس کے لیے استعمال شدہ چائے کی پتی کا پھوک بہترین انتخاب تھا۔ چائے کی استعمال شدہ پتی کو یونہی پھینک دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ری سائیکل کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر عباس مزید بتاتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں کی ٹیم نے سیاہ چائے کی پتی کو تقریبا 50 ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم کیا۔ اگلے مرحلے میں اسے بلند درجہ حرارت میں 200 سے 250 سینٹی گریڈ ڈگری تک گرم کر کے اس میں آکسون کیمیکل شامل کیا گیا، جس سے گریفین بہت چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ انتہائی چھوٹے جسامت کے ان ذرات کی خصوصیت یہ تھی کہ ان میں بینڈ گیپ بن جانے کے باعث اب ان سے روشنی خارج ہو رہی تھی۔

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان نو تیار شدہ کوانٹم ڈاٹس کو آزمانے کے لیے سترہ مختلف بھاری دھاتوں کے آئنز کو پانی میں گھول کر تجربات کیے گئے۔ جن سے یہ امر سامنے آیا کہ آئرن یا لوہے کی موجودگی میں یہ تیز نیلی روشنی کا اخراج کرتے ہیں۔ لہذا انہیں مختلف طرح کے حیاتیاتی اور ماحولیاتی نظاموں میں لوہے کی ذرات کی نشاندہی کے لیے بطور سینسر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر عنبر عباس کے بقول دنیا بھر میں اعصابی امراض خصوصا الزائمر اور ڈیمینشیا کی بڑھتی ہوئی شرح ایک تشویشناک امر ہے۔ سائنسدان کافی عرصے سے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عباس نے ماضی قریب کی تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر باربرا مہر کا حوالہ دیا، جو لانکیسٹر یونیورسٹی مانچسٹر میں پروفیسر ہیں۔ دو برس قبل انہوں نے فضا سے ہوا کے کچھ سیمپلز لے کر ان کا لیبارٹری تجزیہ کیا تھا تو حیران کن طور پر آزاد فضا میں ہزاروں کی تعداد میں خوردبینی ذرات کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ ان ذرات میں زیادہ مقدار آئرن کی تھی۔

ڈاکٹر باربرا مہر کی تحقیق سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ فضا میں بڑھتی ہوئی آئرن، ایلومینیم اور ٹی ٹینیئم کے ذرات کی مقدار انسانی دماغ کے خلیات کو متاثر کر کے متعدد اعصابی امراض کا سبب بن رہی ہے، جس میں پارکنسن اور الزائمر سر فہرست ہیں۔

ڈاکٹر عنبر عباس کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ ان کی مشترکہ تحقیق کا مثبت پہلو یہ کہ اس طرح الزائمر کے مریضوں کے جسم میں آئرن کی شناخت نا صرف با آسانی ممکن ہو گی بلکہ یہ ایک سستا اور ماحول دوست طریقہ ہے۔ یہ گریفین کوانٹم ڈاٹس تیار کرنے کے لیے اس سے پہلے تیزاب کا استعمال کیا جاتا تھا، جس پر لاگت بھی زیادہ آتی تھی اور مضر اثرات الگ تھے۔

ڈاکٹر عنبر عباس نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تیار کردہ گریفین کوانٹم ڈاٹس کو پانی میں آئرن اور دیگر بھاری دھاتوں کی شناخت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں صنعتی فضلہ آبی ذخائر میں شامل ہونے کی وجہ سے لوہے، نکل، کرومیم وغیرہ جیسی دھاتوں کے ذرات کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو کینسر، جگر، گردے اور جلدی امراض کا سبب بن رہے ہیں۔

ڈاکٹر عباس کے مطابق یہ ضروری ہے کہ مقامی سطح پر صاف پانی کے ذخائر میں بھاری دھاتوں کی مقدار معلوم کر کے ان کی صفائی کا انتظام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے یہ گریفین کوانٹم ڈاٹس آئیڈیل ہیں کیونکہ یہ سستے اور ماحول دوست طریقے سے تیار کیے گئے ہیں جس کے لیے خام مال یعنی چائے کی پتی کا پھوک ہر جگہ با آسانی دستیاب ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Hx5XUL4

اتوار، 15 جنوری، 2023

ہم کہاں سے آے: آرین سے پہلے اور کون ہندوستان آیا، زبان کی کہانی... وصی حیدر

(34 ویں قسط)

اسٹرو ایشیاٹک زبانیں ایشیا کے جنوب مشرقی علاقہ (تھائی ینڈ، لاؤس، مینمار، ملیشیا، بنگلہ دیش، نیپال، ویت نام، کمبوڈیا اور جنبوبی چین) سے پھیلیں اور یہ ہندوستان، بنگلہ دیش، نیپال اور چین کے جنوبی علاقہ میں اب بھی بولی جاتی ہیں اور دنیا میں ان کے بولنے والوں کی تعداد تقریباً بارہ کروڑ ہے۔

ابھی تک ہم نے ہندوستان آنے والے صرف دو خاص بڑے گروپ کا ذکر کیا ہے جو آپس میں گھل مل گئے اور ہڑپا کی عظیم تہذیب کو جنم دیا اور موجودہ ہندوستانی آبادی کی بنیاد ڈالی: پہلا گروپ افریقہ سے آنے والے ہوموسیپینس کا ہے جو تقریباً 80 ہزار سال پہلے آئے اور چند ہزار سالوں میں ہندوستان کے مختلف حصّوں کو آباد کیا۔ 7000 قبل مسیح کے آس پاس ایران کے زرگوس پہاڑیوں کے آس پاس رہنے والے نئی نئی چراگاہوں کی تلاش میں ہندوستان کے شمال مغربی علاقہ میں آکر بسے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ کھیتی کے شروعاتی تجربے کی جانکاری لے کر آئے جس کا تجربہ یہاں بسے لوگ بھی کر رہے تھے۔ ان آنے والے لوگوں نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ مل کر موجودہ پاکستان کے مہرگڑھ میں ایک نئی تہذیب کا بیج ڈالا جو وقت گزرنے کے ساتھ 2600 قبل مسیح کے آس پاس ایک بڑے پیڑ یعنی ہڑپا کی تہذیب کی شکل میں ابھرا۔ ان دونوں آنے والے لوگوں کے بارے میں ہم کو بہت کچھ معلوم ہے کیونکہ ان کے بارے میں بہت عرصہ سے تحقیقات ہوئیں ہیں۔ ہڑپا تہذیب کے زوال کے وقت انسانوں کا ایک تیسرا گروپ، اسٹرو ایشیاٹک زبان بولنے والے لوگ آئے لیکن ان کے بارے میں ابھی تک بہت کم تحقیقات ہوئیں ہیں، امید ہے کے یہ کمی شاید اب پوری ہوگی۔

ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں کی چار خاص مختلف دھاریں ہیں

پہلی: دراوڑ زبانیں (تامل، تلگو، ملیالم اور کننڑ) جو آبادی کے پانچویں حصّہ کے لوگ بولتے ہیں۔ یہ زبانیں جنوبی ایشیا کے علاوہ دنیا میں کہیں اور نہیں بولی جاتیں۔  

دوسری: ہندوستان میں استعمال ہونے والی زبانیں (ہندی، اردو، بنگالی، بھوجپوری، مراٹھی، پنجابی، کشمیری، راجستھانی، سندھی اسامیا، میتھلی اور اوڑیہ) انڈو یورپین خاندان سے ہیں جو آبادی کے تین چوتھائی لوگ بولتے ہیں۔ انڈو یورپین زبانیں ایشیا سے یورپ پہلی ہوئی ہیں۔

تیسری: زبانیں (168 زبانیں جن میں خاص منڈا اور کھاسی) اسٹرو ایشیاٹک ہیں جوموجودہ آبادی کے ایک فصدی سے کچھ زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ یہ میگھالیہ سے نکوبار جزیرے تک پھیلی ہوئی ہیں اس کے علاوہ یہ زبانیں جنوبی اور مشرقی ایشیا کے علاقہ میں بولی جاتی ہیں۔

چوتھی: زبانوں (ان میں خاص آٹھ : برمیز، تبتن، بائی، لولو، کرین، مٹائی، ہنی اور جنگپو) کا خاندان تبتو برمن ہیں جو چین اور جنوبی ایشیا میں بولی جاتی ہیں لیکن ہندوستان میں ان کے بولنے والے ایک فصدی سے بھی کم لوگ ہیں۔

مختلف زبانوں کے پھیلنے کی داستان کافی دلچسپ ہے لیکن اس کا تفصیلی ذکر یہاں ممکن نہیں۔ ضروری نہیں کے باہر سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ آکر مقامی لوگوں پر غالب ہو جائیں، تجارت اور شدت سے رابطہ بھی زبانوں کو پھیلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کی سب سے بہتر مثال ہندوستان میں انگریزی زبان کا پھیلنا ہے۔

اس بات کا ذکر پہلے ہو چکا ہے کہ دراوڑ زبانوں کی جڑ ہڑپہ تہذیب کے اسکرپٹ میں ہے۔ ہڑپہ تہذیب کے لوگ مختلف وقتوں پر اور خاص کر اپنے زوال کے وقت، 2000 قبل مسیح کے آس پاس نئی بہتر جگہوں کی تلاش میں جنوبی ہندوستان میں اپنے ساتھ دراوڑ زبان کا شروعاتی نسخہ لاۓ۔

ہندوستان میں اسٹرو اشیاٹک زبانوں کے دو خاص بڑے خاندان ہیں: منڈا اور کھاسی- منڈا زبانوں میں مندری، سنتھالی، ہو-زیادہ تر مشرقی علاقوں میں خاص کر جھارکھنڈ میں استعمال ہوتی ہیں۔ کورکو کے کچھ بولنے والے مدھیہ پردیش اور مہاراشر میں بھی ہیں۔ کھاسی خاندان کی زبانیں زیادہ تر میگھالا اور اسم کے کچھ حصوں میں بولی جاتی ہیں۔ منڈا اور کھاسی زبانوں کا اہم رشتہ مون کھمیر زبانوں سے ہے جو ویتنام، کمبوڈیا، لاؤس اور جنوبی چین کے لوگ استمال کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسٹرو اشیاٹک زبانوں کے بولنے والے تقریباً دس کروڑ لوگ ہیں۔ اس لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

ہندوستان میں تقریباً 700 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان سب کے بولنے والوں کا اس ملک پر برابر کا حق ہے۔ ہمارے ملک کی یہ خوبصورتی ہے کے اس میں بہت رنگوں کی ملاوٹ ہے۔  ان زبانوں کے بولنے والے لوگوں کے ہندوستان آنے سے منسلک یہ سوال بھی ہے کہ کیا یہی لوگ ہندوستان میں چاول اور اس کی کھیتی کی ترکیبیں اپنے ساتھ لائے۔

چاول کی کہانی کا ذکر اگلی قسط میں ہوگا۔ 



from Qaumi Awaz https://ift.tt/nEy3DxA