منگل، 29 اگست، 2023

چندریان-3: ’میں اور میرا دوست وکرم لینڈر رابطے میں ہیں، جلد ہی اچھا نتیجہ آنے والا ہے‘، پرگیان رووَر نے بھیجا پیغام

ہندوستان کا مشن چاند کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ چندریان-3 سے متعلق جانکاریاں لگاتار اِسرو اور چندریان-3 کے سوشل میڈیا ہینڈل سے دی جا رہی ہیں۔ تازہ ترین جانکاری یہ سامنے آ رہی ہے کہ چاند کی سطح پر چہل قدمی کر رہے پرگیان رووَر نے دنیا کے باشندوں کو خوشخبری بھرا پیغام بھیجا ہے۔ پہلے تو پرگیان نے دنیا کے باشندوں کی خیریت کی امید ظاہر کی ہے اور پھر بتایا ہے کہ وہ اپنے دوست وکرم لینڈر کے رابطے میں ہے اور دونوں کی ہی صحت بہت اچھی ہے۔ اپنے پیغام میں پرگیان رووَر نے جلد ہی کوئی بڑی خوشخبری دینے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔

چندریان-3 کے سوشل میڈیا ہینڈل سے پرگیان رووَر کی ایک علامتی تصویر شیئر کی گئی ہے جس کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’ہیلو دنیا کے باشندو! میں چندریان-3 کا پرگیان رووَر۔ امید کرتا ہوں کہ آپ اچھے سے ہوں گے۔ سبھی کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں چاند کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے اپنے راستے پر ہوں۔ میں اور میرا دوست وکرم لینڈر رابطے میں ہیں۔ ہماری صحت اچھی ہے۔ سب سے اچھے نتائج جلد برآمد ہونے والے ہیں۔‘‘

پرگیان رووَر کے اس پیغام کے بعد صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) پر جم گئی ہیں۔ سائنس داں طبقہ کے ساتھ ساتھ عوام بھی اِسرو اور چندریان-3 کے ٹوئٹر ہینڈل پر نئی جانکاری ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ پرگیان رووَر یا وکرم لینڈر اب چاند کے کس راز سے پردہ ہٹانے والا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ دنوں اِسرو نے چاند کی سطح اور اس کے 8 سنٹی میٹر اندر کی درجہ حرارت کی جانکاری دی تھی۔ وکرم لینڈر نے بتایا تھا کہ سطح پر درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری تک، اور سطح سے 8 سنٹی میٹر اندر تقریباً منفی 10 ڈگری محسوس کیا گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CI5MARn

چندریان-3: ہندوستان کی خلائی قوت کا مظہر

چندریان-3 مشن کی کامیابی بلا شبہ عالمی جشن اور خوشی کی ایک وجہ ہے۔ چندریان 3 نے خلا میں ایک ماہ طویل سفر کے بعد چاند کے قطب جنوبی پر لینڈنگ کی ہے۔ 23 اگست کو شام 6:04 بجےچاند کی سطح پر چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ ہندوستان کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک تاریخی لمحہ ہے۔ بلا شبہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے کامیاب مشن نے ہندوستان اور بیرون ملک مقیم ہم وطنوں کو بے پناہ جوش و خروش اور فخر سے ہمکنارکرایا ۔ یہ کامیابی قوم کی سائنسی صلاحیت، عزم اور انسانی علم کی حدود کو آگے بڑھانے کے لیے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ چندریان 3 کو 14 جولائی 2023 کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا۔

ہندوستان چاند کے قطب جنوبی پر پہنچنے والا پہلا ملک

اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ، اور کمانڈ نیٹ ورک (ISTRAC)، بنگلور میں مشن آپریشن کمپلیکس (MOX) میں خوشیاں منائی گئیں جب بدھ 23 اگست کو شام 6.04 بجے لینڈر وکرم نے چاند کی سطح کو چھوا اور ہندوستان امریکہ، روس اور چین جیسے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ یوں ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ حاصل کرنے والا چوتھا ملک بن گیا ، لیکن ہندوستان پہلا ملک ہے جس نے چاند کے قطب جنوبی کے قریب خلائی جہاز اتارا جبکہ چند روز قبل اسی علاقے میں روس کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق چندریان -3 کی کامیاب لینڈنگ نہ صرف ہندوستان کے وقار کو بڑھاوا دے گی بلکہ ملک کی بڑھتی ہوئی خلائی صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گی۔

اسرو کے مطابق قطب جنوبی کا اسٹریٹجک انتخاب، تقریباً 70 ڈگری عرض بلد پر، ’سورج سے کم روشن ہونے‘ کی وجہ سے مختلف فوائد پیش کرتا ہے۔ یہ انوکھی خصوصیت مشن کی سائنسی صلاحیت کو بڑھاتی ہے جو گہری کھوج اور تجزیہ کوممکن بناتی ہے۔

چندریان 3 کی واپسی نہیں ہوگی

اسرو کے سربراہ ایس سوما ناتھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سافٹ لینڈنگ کے بعد چندریان -3 زیادہ تر سائنسی مشن کے مقاصد پورے کر لے گا۔ لینڈر وکرم میں موجود روور پرگیان (دانائی) باہر نکلنے کے بعد 14 دنوں کے لیے(چاند کےایک دن کے برابر ) چاند کی سطح پر تجربات انجام دے گا۔ اس کے بعد اگلے 14 دنوں تک ، جب چاند پر رات ہوگی ، وکرم اور پرگیان غیر فعال ہو جائیں گے کیونکہ وہ شمسی توانائی پر انحصار کرتے ہیں اور صرف سورج کی روشنی میں کام کر سکتے ہیں ۔ تاہم، اسرو کے سائنسدانوں نے سورج کے دوبارہ طلوع ہونے پر ان دونوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ویسے چندریان 3 قمری مشن زمین پر واپسی کے سفر کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔ ایک بار جب ریسرچ مکمل ہو جائے گی، سامان چاند پر چھوڑ دیا جائے گا۔

قبل ازیں خلائی جہاز کا لینڈر وکرم ماڈیول 17 اگست کو پروپلشن ماڈیول سے کامیابی کے ساتھ الگ ہو گیاتھا۔ وکرم لینڈر تقریباً 2 میٹر لمبا ہے اور اس کا وزن 1,700 کلوگرام سے زیادہ ہے۔ اس کا نام ہندوستانی خلائی پروگرام کے بانی وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔

چندریان 3 کا ہدف

چندریان 3 میں لینڈر وکرم، روور پرگیان اور ایک پروپلشن ماڈیول شامل ہے۔مشن کا بنیادی مقصد چاند کے قطب جنوبی کے قریب لینڈر اور روور کو اتارنا اور آخر تک لینڈنگ اور گھومنے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہے۔ یہ سطح اور مدار سے متعدد سائنسی پیمائشیں بھی کرے گا۔ لینڈر وکرم سطح کی حرارتی خصوصیات کی پیمائش کرنے کے لیے، چندر کا سرفیس تھرمو فزیکل ایکسپیریمنٹ (ChaSTE) نامی ایک آلہ لے گیا ہے۔ یہ لینڈنگ سائٹ کے ارد گرد زلزلے کی پیمائش کے لیے انسٹرومنٹ فار لیونر سسمک ایکٹیوٹی(ILSA)، اور دیگر کئی آلات سے لیس ہے۔

چاند کی سطح پر پانی کی تلاش چندریان-3 مشن کے اہم مقاصدمیں شامل ہیں۔ چاند کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں اہم معدنیات ہیں- قطب جنوبی کے علاقے کے بڑے گڑھے مستقل طور پر سائے میں ہیں، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان پر برف موجود ہے جو مستقبل میں چاند پر انسانی رہائش کو سہارا دے سکتی ہے۔ وکرم لینڈر ایک مقررہ پوزیشن ۔شو شکتی پوائنٹ ،جہاں وہ اترا تھا ، پر رہ کر تجربات کرے گا جبکہ روور پرگیان سائنسی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے چاند کی سطح کا جائزہ لے گا۔

لینڈر وکرم باکس کی شکل کا ہے۔ اس کا سائز (200 x 200 x 116.6) سینٹی میٹر ہے جس میں چار لینڈنگ ٹانگیں اور چار لینڈنگ تھرسٹر ہیں۔ اس کا وزن 1749 کلوگرام ہے، جس میں روور کے 26 کلوگرام بھی شامل ہے۔ یہ سائیڈ ماونٹڈ سولر پینلز کا استعمال کرتے ہوئے 738-W توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ لینڈر کے محفوظ ٹچ ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے متعدد سینسر لگائے گئے ہیں ۔ دوسری جانب روور پرگیان (دانائی یا حکمت کے لیے سنسکرت لفظ) کا سائز(91.7 x 75.0 x 39.7) سینٹی میٹر ہے، جو چھ پہیوں والی راکر بوگی وہیل ڈرائیو اسمبلی پر نصب ہے۔ اس میں نیویگیشن کیمرے اور ایک سولر پینل ہے جو50-W توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ اینٹینا کے ذریعے لینڈر کے ساتھ براہ راست بات چیت کرتا ہے۔

چندریان 3 کا ایندھن

چندریان 3 کو لے جانے والے راکٹ میں ٹھوس اور مائع دونوں ایندھن کا استعمال کیا گیا ۔ پہلا مرحلہ میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہوا، جبکہ دوسرے مرحلے میں مائع ایندھن کا استعمال کیا گیا ہے۔ آخری مرحلے کے لیے، ایک کرائیوجینک انجن استعمال کیا گیا ، جو مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن پر چلتا ہے۔ راکٹ کی ایندھن کی گنجائش 27000 کلوگرام سے زیادہ ہے۔

چندریان 3 خلائی قوت کا مظہر

چندریان 3 کی کامیابی ہمیں دوسرے سیارے تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب ہم نہ صرف اس صلاحیت کے حامل مٹھی بھر ممالک میں شامل ہیں بلکہ چاند کے قطب جنوبی پر ترنگا نصب کرنے کے بعد اس ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہیں۔ اور اس وجہ سے، ہم مستقبل میں سیاروں کی تلاش ، وہاں معدنیات کی تحقیق اور خلا سے وسائل کے اخراج سے متعلق تمام فیصلہ سازی کا حصہ ہوں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/C2ZxuR4

پیر، 28 اگست، 2023

چاند کے بعد اب سورج کی باری، دو ستمبر کو روانہ ہوگا ہندوستان کا سولر مشن ’آدتیہ ایل ون‘

نئی دہلی: چندریان-3 کو چاند پر اترنے کے مشن کو کامیابی سے انجام دینے کے بعد انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) اب سورج کو قریب سے جاننے کے لئے 2 ستمبر کو صبح 11.50 بجے آندھرا پردیش میں ملک کے پہلے خلائی آبزرویٹری 'آدتیہ-ایل1' کو سری ہری کوٹا کے خلائی لانچ سینٹر سے لانچ کرے گا۔ خلائی ایجنسی نے آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں خلائی لانچ سینٹر کی گیلری سے لانچ دیکھنے کے لیے عوام کو رجسٹریشن کے لیے مدعو کیا ہے۔

اسرو نے بتایا کہ سیٹلائٹ کو سورج - زمین کے سسٹم کے لیگرینگ پوائنٹ ایل ون کے قریب ایک مدار میں بھیجا جائے گا۔ سورج - زمین کا یہ سسٹم زمین سے تقریباََ پندرہ لاکھ کلومیٹر دور ہے۔ سیٹلائٹ کو لیگرنگ پوائنٹ تک پہنچنے میں تقریباََ چار مہینے لگیں گے۔اس سے فلکیاتی تپش، بڑے پیمانے پر ہونے والے فلکیاتی اخراج، شعلے بھڑکنے سے قبل یا بھڑکنے کی کارروائیوں، موسمیات کی حرکات اور سیاروں کے مابین ذرّات اور فیلڈس کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرنے میں مدد ملے گی۔

اسرو نے کہا کہ آدتیہ ایل ون کو ہندوستانی راکٹ پی ایس ایل وی ایکس ایل کے ذریعے لے جایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر آدتیہ ایل ون کو زمین کے نچلے مدار میں رکھا جائے گا۔ بعد میں اس کے مدار کو بتدریج اپ گریڈ کیا جائے گا اور آخر کار یہ زمین کے کشش ثقل کے میدان سے باہر آنے کے بعد سورج کے قریب ایل ون پوائنٹ کی طرف سفر کرنا شروع کر دے گا۔

ہندوستانی خلائی ایجنسی نے کہا کہ سورج کی عمر 4.5 بلین سال ہے اور یہ ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسوں کی گرم چمکتی ہوئی گیند ہے جو نظام شمسی کے لیے توانائی کا ذریعہ ہے۔ سورج کی کشش ثقل نظام شمسی کی تمام اشیاء کو ایک ساتھ رکھتی ہے۔ سورج کے مرکزی علاقے میں، جسے 'کور' کہا جاتا ہے، درجہ حرارت 15 کروڑ ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔

اس درجہ حرارت پر کور میں نیوکلئر فیوژن نامی عمل ہوتا ہے جو سورج کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ اسرو نے کہا کہ سورج کی نظر آنے والی سطح جسے فوٹوسفیر کہا جاتا ہے، نسبتاً ٹھنڈی ہے اور اس کا درجہ حرارت تقریباً 5500 ڈگری سیلسیس ہے۔ سورج قریب ترین ستارہ ہے اس لیے اس کا دوسرے ستاروں کے مقابلے میں زیادہ تفصیل سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اسرو نے کہا کہ سورج کا مطالعہ کر کے ہم اپنی کہکشاں کے ستاروں کے ساتھ دیگر کہکشاؤں کے ستاروں کے بارے میں بھی بہت کچھ جان سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/iSLFubn

چندریان-3: سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھ رہا پرگیان رووَر، 4 میٹر کا گڈھا دیکھا تو فوراً بدل لیا راستہ!

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) لگاتار اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے چندریان-3 سے متعلق نئی نئی جانکاریاں دے رہا ہے۔ پیر کے روز اس نے ایک نئی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 27 اگست کو چندریان-3 کے رووَر پرگیان کے سامنے 4 میٹر چوڑا ایک کریٹر (گڈھا) آ گیا۔ یہ گڈھا رووَر کے پاس سے تقریباً 3 میٹر آگے تھا۔ ایسے میں رووَر کا راستہ بدلنے کا کمانڈ دیا گیا۔ اب یہ محفوظ طریقے سے ایک نئے راستے پر بڑھ رہا ہے۔ یعنی کمانڈ ملتے ہی رووَر پرگیان نے فوراً اپنا راستہ بدل لیا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب پرگیان نے اپنے قریب کریٹر کو دیکھ کر راستہ بدلا ہے۔ اس سے پہلے رووَر تقریباً 100 ملی میٹر کی گہرائی والے ایک چھوٹے کریٹر سے گزرا تھا۔ چاند پر رووَر کے آپریشن سنٹی میٹر-آٹونامس ہے۔ اسے چلانے کے لیے گراؤنڈ اسٹیشنوں کو کمانڈ کو اَپ لنک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ رووَر کے راستے کی پلاننگ کے لیے رووَر کے آن بورڈ نیویگیشن کیمرہ ڈاٹا کو گراؤنڈ پر ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے۔ پھر گراؤنڈ اور میکانزم ٹیم طے کرتی ہے کہ کون سا راستہ لینا ہے۔ اس کے بعد رووَر کو راستے کی جانکاری دینے کے لیے کمانڈ کو اَپ لنک کیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح انسان کی آنکھیں ایک خاص دوری تک ہی دیکھ سکتی ہیں، ویسے ہی رووَر کے بھی حدود ہیں۔ رووَر کا نیویگیشن کیمرہ صرف 5 میٹر تک کی ہی تصویر بھیج سکتا ہے۔ ایسے میں ایک بار کمانڈ دینے پر یہ زیادہ سے زیادہ 5 میٹر کی دوری طے کر سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8PYDO1G

اتوار، 27 اگست، 2023

چاند کا قطب جنوبی کتنا گرم ہے؟ چندریان 3 لگایا پتہ

ہندوستان کے چندریان 3 مشن کے روور نے چاند کے جنوبی قطب پر موجود مٹی کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اسرو نے اتوار  یعنی آج 27 اگست کو ٹویٹ کرکے(ایکس) اس بارے میں جانکاری دی۔ اسرو نے کہا کہ خلائی سائنس کی تاریخ میں پہلی بار چندریان 3 نے چاند کے قطب جنوبی کی مٹی کی جانچ کی۔ سطح سے نیچے 10 سینٹی میٹر تک اس کے درجہ حرارت میں فرق تھا۔

اسرو نے ایک ٹویٹ(ایکس) میں لکھا، "یہ پہلا موقع ہے کہ قطب جنوبی کے ارد گرد چاند کی مٹی کے درجہ حرارت کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے جیسا کہ پہلی بار کسی ملک نے چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ  لینڈنگ کی ہے۔" اسرو نے مٹی کے درجہ حرارت کا گراف بھی شیئر کیا ہے۔ گراف میں درجہ حرارت -10 ڈگری سیلسیس سے 50 ڈگری سیلسیس سے زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔

خلائی ایجنسی نے کہا’’ chaSTE پے لوڈ قمری سطح کے تھرمل رویے کو سمجھنے کے لیے قطب کے ارد گرد چاند کے اوپری مٹی کے درجہ حرارت کی پروفائل کی پیمائش کرتا ہے۔ اس میں درجہ حرارت کی جانچ ہوتی ہے جو سطح کے نیچے 10 سینٹی میٹر کی گہرائی تک پہنچتی ہے۔‘‘

اسرو نے کہا کہ اس میں درجہ حرارت کے 10 مختلف سینسر ہیں۔ چاند کی سطح کے درجہ حرارت میں فرق اس گراف میں دکھایا گیا ہے۔ یہ چاند کے قطب جنوبی کے لیے اس طرح کا پہلا پروفائل ہے۔ مزید تحقیق بھی جاری ہے۔

اس سے قبل سنیچر کو اسرو نے بتایا تھا کہ چندریان 3 مشن کے تین میں سے دو مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں، جب کہ تیسرے مقصد کے تحت سائنسی تجربات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ، چندریان-3 مشن کے تمام پے لوڈ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ چندریان 3 نے 23 اگست کو چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CIWr6Jf

ہفتہ، 26 اگست، 2023

چندریان 3 نے دو اہداف کئے حاصل، تیسرے پر کام جاری: اسرو

نئی دہلی: چندریان 3 کے لینڈر ماڈیول (ایل ایم) کے چاند کی سطح پر اترتے ہی ہندوستان نے تاریخ رقم کر دی۔ ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ چاند کے قطب جنوبی پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وکرم لینڈر کے قطب جنوبی پر اترنے کے بعد وہاں سے مسلسل تصویریں آ رہی ہیں۔ دریں اثنا، اسرو نے بتایا ہے کہ چندریان 3 نے مشن کے تین اہداف میں سے دو کو حاصل کر لیا ہے، جبکہ تیسرے کے لیے کام جاری ہے۔

اسرو نے 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’’چندریان 3 نے مشن کے 3 میں سے دو اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ پہلا ہدف چاند کی سطح پر محفوظ اور سافٹ لینڈنگ تھا۔ دوسرا روور کو چاند کی سطح پر اتارنا اور اب تیسرا ان-سیٹو سائنسی تجربہ جاری ہے۔ تمام پے لوڈ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘‘

دراصل، لینڈر اور روور چاند کی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اندرونی مشاہدات اور تجربات کریں گے۔ چندریان 3 چاند پر 14 دن تک کام کرے گا۔ چاند کا ایک دن زمین کے 14 دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی یہاں 14 دن کا دن ہوتا ہے اور 14 دن کی رات ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں پرگیان صرف ایک قمری دن تک فعال رہے گا۔ اس دوران روور پرگیان پانی، معدنی معلومات کی تلاش کرے گا اور وہاں زلزلے، گرمی اور مٹی کا مطالعہ کرے گا۔

ہندوستان بہت جلد گگن یان کا آزمائشی مشن شروع کرنے جا رہا ہے۔ یہ لانچنگ ڈیڑھ ماہ میں ہونے کا امکان ہے۔ اس لانچنگ میں بغیر پائلٹ گاڑی کو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ تمام سسٹمز کو چیک کیا جائے گا۔ ٹیم کے ریکوری سسٹم اور تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مشن میں ہندوستانی بحریہ اور کوسٹ گارڈ بھی شامل ہیں۔

اگلے سال کے ابتدائی مہینوں میں ویوم مترا روبوٹ کو گگن یان کے ذریعے بھیجا جائے گا۔ اسرو نے 24 جنوری 2020 کو ویوم مترا خاتون ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف کرایا تھا۔ اس روبوٹ کو بنانے کا مقصد اسے ملک کے پہلے انسان بردار مشن گگن یان کے عملے کے ماڈیول میں بھیج کر خلا میں انسانی جسم کی حرکات کو سمجھنا ہے۔ یہ فی الحال بنگلور میں ہے۔ اسے دنیا کے بہترین خلائی ایکسپلورر ہیومنائیڈ روبوٹ کا خطاب مل چکا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JiUFayj

مشن سورج: چندریان-3 کے بعد اِسرو ’آدتیہ ایل 1‘ کے ذریعہ نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، بس 7 دنوں کا انتظار

چاند پر فتح حاصل کرنے کے بعد اب اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) سورج کو مٹھی میں کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا ہے۔ ابھی چندریان-3 کی کامیابی کا جشن ختم بھی نہیں ہوا ہے، لیکن ’آدتیہ ایل 1‘ کی لانچنگ کے لیے 2 ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ہے۔ یعنی چندریان-3 کے بعد اِسرو ’آدتیہ ایل 1‘ کے ذریعہ نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس مشن کی لانچنگ میں اب محض 7 دن باقی رہ گئے ہیں۔ 2 ستمبر کو جب اِسرو اپنا پہلا مشن سورج لانچ کرے گا تو پوری دنیا کی نگاہیں آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا واقع ستیش دھون اسپیس سنٹر پر مرکوز ہوں گی، کیونکہ یہیں سے ’آدتیہ ایل 1‘ کو لانچ کیا جائے گا۔ آئیے یہاں ہم کچھ پوائنٹس میں اس مشن کی اہمیت و افادیت اور ’آدتیہ ایل 1‘ کی کارگزاریوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایل 1 سے کیا مراد ہے؟

  • ایل 1 کا مطلب ہے لیگرینج پوائنٹ 1۔

  • دراصل 1772 میں فرانس کے ریاضی داں جوسف لوئس لیگرینج نے اس پوائنٹ کی دریافت کی تھی، اس لیے اسے لیگرینج پوائنٹ کہتے ہیں۔

  • لیگرینج پوائنٹ ایسے پوائنٹ کو کہتے ہیں جو خلاء میں دو سیاروں کے درمیان ہوتے ہیں، مثلاً سورج اور زمین کے درمیان کا ایک خاص مقام۔

  • اس پوائنٹ پر سورج اور زمین کا کشش ثقل برابر ہوتا ہے، اس لیے یہاں موجود خلائی طیارہ مستحکم رہتا ہے اور بہت کم ایندھن خرچ کر کے چیزوں کا مطالعہ کرتا ہے۔

  • اس پوائنٹ پر سورج گہن کا اثر نہیں پڑتا۔

  • لیگرینج پوائنٹ 1 زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کی دوری پر ہے اور اسی لیگرینج پوائنٹ 1 سے ہندوستان کا مشن سورج یعنی آدتیہ ایل 1 سورج کے بارے میں تحقیق کرے گا۔

5 سال تک سورج کا مطالعہ کرے آدتیہ ایل 1:

  • یہ پہلا ہندوستانی مشن ہوگا جو سورج کا مطالعہ کرے گا۔

  • اس مشن کے دوران شمسی طوفانوں کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔

  • سورج سے جو لپٹیں نکلتی ہیں، ان کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے گی۔

  • سورج کی طرف سے جو بھی ذرات یا شعاعیں زمین پر آتی ہیں، ان پر تحقیق کی جائے گی۔

  • سورج کے باہری احاطہ کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔

  • شمسی طوفان کے زمین پر ہو رہے اثرات کو ڈیکوڈ کیا جائے گا۔

آدتیہ ایل 1 کس طرح کام کرے گا؟

  • آدتیہ ایل 1 میں 7 پے لوڈ یعنی خاص مشینیں لگی ہوں گی۔

  • یہ مشینیں سورج کی شعاعوں کی جانچ الگ الگ طرح سے کریں گی۔

  • شمسی طوفانوں سے متعلق شماریات کی جائیں گی۔

  • آدتیہ ایل 1 میں ایچ ڈی (ہائی ڈیفنشن) کیمرے لگے ہوں گے۔

  • سورج کی ہائی ریزولوشن تصویریں دیگر ڈاٹا کے ساتھ ہمیں بھیجی جائیں گی۔ اس ڈاٹا پر اِسرو کے سائنسداں بعد میں تحقیق کریں گے۔

آدتیہ ایل 1 اور اس کا بجٹ:

  • پہلی مرتبہ 2016 میں مشن سورج کے لیے 3 کروڑ روپے کا تجرباتی بجٹ دیا گیا۔

  • آدتیہ ایل 1 کے لیے 2019 میں 378 کروڑ روپے کا بجٹ جاری کیا جس میں لانچنگ کا خرچ شامل نہیں تھا۔

  • بعد میں لانچنگ کے لیے 75 کروڑ روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا۔

  • مجموعی طور پر آدتیہ ایل 1 مشن پر اب تک مجموعی طور پر 456 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یعنی کئی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں سے بھی آدتیہ ایل 1 کا بجٹ کم ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NqDGdRQ

چاند کی سطح پر ’شیو شکتی پوائنٹ‘ کے پاس نئے راز کی تلاش کر رہا پرگیان رووَر، اِسرو نے جاری کی نئی ویڈیو

چندریان-3 کے چاند پر کامیاب سافٹ لینڈنگ کے بعد چاند کی سطح پر اس کا سفر بھی کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اِسرو نے چندریان-3 مشن کی کامیابی کے بعد اب پرگیان رووَر کے تعلق سے ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں پرگیان رووَر چاند کے جنوبی قطب پر راز کی تلاش میں ’شیو شکتی پوائنٹ‘ کے آس پاس گھومتا اور ٹہلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چاند کی سطح پر کچھ گڈھے بھی ہیں لیکن رووَر بہت دھیان سے اپنا کام کر رہا ہے۔

اس ویڈیو کو ریلیز کرنے کے ساتھ اِسرو نے لکھا ہے کہ ’’یہاں نیا کیا ہے؟ اسی کی تلاش میں پرگیان رووَر ’شیو شکتی پوائنٹ‘ کے آس پاس گھوم رہا ہے۔‘‘ اس سے قبل 25 اگست کو اِسرو نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا جس میں وکرم لینڈر سے پرگیان رووَر کو اترتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ رووَر کے چاند کی سطح پر اترنے کی یہ ویڈیو 23 اگست کی تھی جسے اِسرو نے 25 اگست کو جاری کیا تھا۔ آج اِسرو نے جو ویڈیو جاری کی ہے اس کے بارے میں ویڈیو کے شروع میں ہی بتایا گیا ہے کہ یہ 25 اگست کی ہے۔ ویڈیو میں وکرم لینڈر کا کچھ حصہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرگیان رووَر وکرم لینڈر کے آس پاس ہی گھوم رہا ہے اور وہاں کی جانکاریاں حاصل کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ چندریان-3 کا پورا مشن محض 615 کروڑ روپے کے بجٹ میں پورا ہوا ہے۔ 14 جولائی کو یہ مشن لانچ کیا گیا تھا اور 23 اگست کو لینڈر ماڈیول نے شام تقریباً 6 بجے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔ ناسا سمیت دنیا کی کئی خلائی ایجنسیوں نے اس حصولیابی کے لیے اِسرو کو سلام کیا ہے۔ دنیا کے لیے حیران کن بات یہ ہے کہ انتہائی کم بجٹ میں ہی ہندوستان کا چندریان-3 چاند کے اس جنوبی قطب پر پہنچ گیا جہاں تک ابھی تک کسی ملک نے رسائی حاصل نہیں کی۔ چندریان-3 کی کامیابی کے ساتھ ہی ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بھی بن گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/0T9wc1u

مشن چندریان 3 میں جامعہ کے تین سابق طلبا شامل، وی سی نجمہ اختر نے دی مبارکباد

نئی دہلی: مشن چندریان 3 کی کامیابی کے بعد پورے ملک میں خوشی کا ماحول ہے۔ چاند کے قطب جنوبی پر کامیاب لینڈنگ کے بعد پوری دنیا نے ہندوستانی سائنسدانوں کا لوہا مانا ہے۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبا اسرو کے اس انتہائی اہم مشن میں شامل رہے ہیں۔ جبکہ، ملک کے باوقار ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 3 سابق طلبا بھی مشن چندریان 3 کا حصہ تھے۔ یونیورسٹی نے بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور سابق طلبا کو ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تین طلبا محمد کاشف، اریب احمد اور امت کمار بھاردواج بھی مشن چندریان 3 میں شامل تھے۔ ان تینوں طلبا نے جامعہ کے مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے 2019 میں بی ٹیک مکمل کیا تھا۔ ان طلبا نے اسرو 2019 کے سینٹرلائزڈ ریکروٹمنٹ بورڈ کے سائنٹسٹ/انجینئر کے عہدے کے لیے کوالیفائی کیا، جس کا نتیجہ ستمبر 2021 میں جاری کیا گیا تھا۔ ان تینوں میں سے محمد کاشف نے پہلے ہی امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے یونیورسٹی کا اعزاز بڑھا دیا ہے۔

مشن چندریان-3 میں شامل جامعہ کے سابق طالب علم اریب احمد نے میڈیا سے کہا کہ یہ کامیابی ہم سب کے لیے بہت خاص ہے اور تمام ہم وطنوں کو پرجوش دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ مختلف جگہوں سے پیغامات آ رہے ہیں، لوگ فون کر کے مبارکباد دے رہے ہیں۔ یہ لمحہ پوری زندگی کا ایک بہت ہی خاص لمحہ ہے۔ ہماری ٹیم کے باقی ارکان نے بھی اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے سب کچھ قربان کر دیا اور ہم ہمیشہ اسرو کے تمام مشنوں کے لیے وقف رہیں گے۔

مشن چندریان 3 میں شامل سائنسدان امت کمار بھاردواج نے کہا ’’میں اپنی پوری ٹیم اور ملک کی کامیابی سے بہت پرجوش ہوں۔ یہ زندگی کا ایک بہت ہی ناقابل فراموش لمحہ ہے۔ کالج اور اسکول کے دوست بھی فون کر کے مبارکباد دے رہے ہیں۔ اس مشن کی کامیابی کے حوالے سے لوگوں کے چہروں پر جو خوشی ہے وہ بھی بہت اطمینان بخش ہے۔ مستقبل میں بھی ملک کے ایسے ہر مشن کے لیے پوری طرح تیار ہوں گے۔‘‘

امت سے جب اس مشن کے دوران خاندان سے ان کے رابطے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ خاندان کا بہت تعاون ملا لیکن اس مشن کے دوران ان کی فیملی سے بہت کم بات چیت ہوئی۔ امت نے ہندوستان کے سابق صدر اور عظیم سائنسدان ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو اپنا آئیڈیل بتایا اور کہا کہ ان کی پوری زندگی نہ صرف سائنس کے لوگوں کے لیے بلکہ ایک عام آدمی کے لیے بھی ایک تحریک ہے۔

مسرت کا اظہار کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے ملک کی اس عظیم کامیابی پر پرجوش انداز میں کہا کہ اس موقع پر سب سے پہلے میں محترم وزیر اعظم نریندر مودی کو مشن کی کامیابی کے لیے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ یہ قومی جشن کا موقع ہے اور ہمیں یہ جان کر خاص طور پر خوشی ہوئی کہ ہمارے طلبا بھی اس تاریخی مشن کا حصہ تھے۔ میں اسے اس کی کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ وائس چانسلر نے یہ بھی کہا کہ پوری یونیورسٹی کو ان پر فخر ہے اور تینوں طلبہ یونیورسٹی کے موجودہ طلبہ کے لیے رول ماڈل بن چکے ہیں۔ موجودہ طلبا کو ملک کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے محنت کرنے کی تحریک ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ceb6tk4

جمعہ، 25 اگست، 2023

چندریان-3: واہ، کیا نظارہ ہے! دھیرے دھیرے وکرم لینڈر سے چاند کی سطح پر اترا رووَر پرگیان، اِسرو نے جاری کی ویڈیو

چندریان-3 کی کامیابی کو لے کر ہندوستانیوں اور سائنسدانوں میں دو دن بعد بھی جشن کا ماحول ہے۔ اِسرو کے سائنسدانوں کو ملی اس تاریخی کامیابی کے بعد اب انتظار ہے چاند کے کچھ اہم معموں کے حل ہونے کا۔ لیکن اس درمیان اِسرو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لگاتار چندریان-3 کی سرگرمیوں کو ویڈیوز اور تصویروں کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے۔ کچھ گھنٹے پہلے اِسرو نے ایک انتہائی خوبصورت ویڈیو شیئر کی ہے جس میں رووَر پرگیان دھیرے دھیرے وکرم لینڈر سے چاند کی سطح پر اترتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

دراصل وکرم رووَر 23 اگست کو لینڈر ماڈیول کے چاند کی سطح پر اترنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی وکرم لینڈر سے نکل کر چاند کی سطح پر اتر گیا تھا، لیکن اس کی ویڈیو اِسرو کے ذریعہ اب جاری کی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ رووَر پہیوں کے سہارے لینڈر سے اتر رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کہ کوئی ٹرین پٹریوں پر آگے کی طرف بڑھتی ہے۔ سامنے چاند کی سطح دکھائی دے رہی ہے جو کہ پوری طرح برابر ہے، یعنی لینڈر ماڈیول چاند پر جس جگہ اترا ہے وہ زیادہ اوبڑ کھابڑ نہیں ہے۔ رووَر کے چاند پر اترنے کا یہ نظارہ انتہائی خوبصورت ہے۔

بہرحال، آج چندریان-3 مشن کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک دلچسپ تصویر بھی شیئر کی گئی ہے۔ اس تصویر میں چندریان-3 کا لینڈر چاند کی سطح پر بہت باریک دکھائی دے رہا ہے۔ آپ کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ تصویر چندریان-2 کے آربیٹر (جو کہ چاند کے مدار میں موجود ہے) میں لگے کیمرے نے کھینچی ہے۔ اس تصویر کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ "آئی اسپائی آن یو (میں تم پر نظر رکھ رہا ہوں)۔ چندریان-3 کی یہ تصویر چندریان-2 کے آربیٹر میں لگے ہائی ریزولوشن کیمرے سے لی گئی ہیں۔" ٹوئٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر 23 اگست کو اس وقت لی گئی تھی جب چندریان-3 کے لینڈر ماڈیول نے چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ چندریان-3 کے لیے استعمال مشینیں اور کیمرے تو اس پورے مشن کا گواہ بن ہی رہے ہیں، ساتھ ہی چندریان-2 کا آربیٹر بھی اس تاریخی کامیابی کا گواہ بن رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JhnLopu

جمعرات، 24 اگست، 2023

چندریان 3 کے لینڈر وکرم کو ’ٹچ ڈاؤن‘ سے قبل کیسا نظر آیا چاند؟ اسرو نے جاری کی ویڈیو

نئی دہلی: ہندوستان کے چندریان 3 نے بدھ کو چاند کے جنوبی قطب پر سوفٹ لینڈنگ کی۔ جس کے بعد چندریان 3 کا روور پرگیان باہر نکل گیا اور چاند کی سطح پر چہل قدمی کر رہا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ ایجنسی (اسرو) اور سائنس دانوں نے لینڈنگ کے پہلے 20 منٹوں کو 'منٹس آف ٹیرر' قرار دیا تھا۔ لیکن چندریان 3 کے وکرم لینڈر کے لیے یہ بہت آسان وقت ثابت ہوا۔ لینڈر نے نہ صرف چاند پر سوفٹ لینڈنگ کی بلکہ ہندوستان کو چاند کے جنوبی قطب پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا دیا۔ دریں اثنا، اسرو نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹچ ڈاؤن سے ٹھیک پہلے چاند وکرم لینڈر کو کیسا نظر آیا!

اسرو نے جمعرات کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل (اب ایکس) پر 2 منٹ 17 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ اسرو نے لکھا ’’لینڈر امیجر کیمرے نے ٹچ ڈاؤن سے ٹھیک پہلے چاند کی تصویر کھینچ لی۔" امیجر کیمرے سے ہائی ریزولوشن ویڈیو چاند کی خوبصورت سطح کو دکھاتی ہے، جو گڑھوں سے بھری پڑی ہے۔ جیسے جیسے لینڈر نیچے جاتا ہے، چاند کی سطح بڑی اور صاف ہوتی جاتی ہے۔ کلپ کے آخری چند سیکنڈز میں وکرم لینڈر کو سست ہوتے اور چاند کی سطح کو چھوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

چندریان کا لینڈر وکرم بدھ کی شام 6.04 بجے چاند کے جنوبی قطب پر اترا۔ اسرو نے کہا کہ لینڈنگ کے چند گھنٹے بعد روور پرگیان لینڈر سے باہر نکل گیا تھا۔ روور اور لینڈر دونوں اچھی حالت میں ہیں۔ روور نے چاند پر چلنا شروع کر دیا ہے۔

چندریان 3 کی لینڈنگ چار مرحلوں میں کی گئی تھی - رف بریکنگ، آلٹیٹیوڈ ہولڈ، فائن بریکنگ اور ورٹیکل ڈیسنٹ۔ یہ سب کچھ بہت درست طریقے سے ہوا۔

روور میں دو پے لوڈ ہیں جو پانی اور دیگر قیمتی دھاتوں کی تلاش میں مدد کریں گے۔ روور ڈیٹا اکٹھا کرے گا اور اسے لینڈر کو بھیجے گا۔ لینڈر وکرم اس ڈیٹا کو زمین پر منتقل کرے گا۔ چندریان-2 کا مدار بھی ڈیٹا کی فراہمی میں مدد کرے گا۔

چندریان مشن کی زندگی ایک قمری دن ہے۔ چاند کا ایک دن زمین کے 14 دنوں کے برابر ہے۔ لینڈر وکرم اور روور پرگیان 14 دن تک چاند کے جنوبی قطب پر اپنا کام کریں گے۔ اس کے بعد وہاں اندھیرا چھا جائے گا۔ چونکہ وکرم اور پرگیان صرف سورج کی روشنی میں کام کر سکتے ہیں، اس لیے وہ 14 دن کے بعد غیر فعال ہو جائیں گے۔ 14 دنوں میں سے دو دن گزر چکے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HRycqsC

بدھ، 23 اگست، 2023

چندریان-3 نے چاند کے جنوبی قطب پر لہرایا ہندوستانی پرچم، آئیے جانتے ہیں کامیاب لینڈنگ کے 5 اہم اسباب

چندریان-3 نے آج ہندوستان کا سر پوری دنیا کے سامنے اونچا کر دیا ہے۔ 23 اگست کی شام جب ہندوستان میں 6 بج رہے تھے تو چندریان-3 کے وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطب پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کی اور اس کا نظارہ پوری دنیا نے براہ راست دیکھا۔ اس کامیاب لینڈنگ کے ساتھ ہی ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے چاند کے جنوبی قطب پر لینڈر اتارنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن یہ کامیابی اتنی آسان نہیں تھی، بلکہ سائنسدانوں کی سخت جدوجہد اور گزشتہ ناکامیوں سے حاصل تجربات کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کا نام دنیا میں روشن ہو رہا ہے۔ آئیے یہاں جانتے ہیں کہ وہ کون سے 5 بڑے اسباب ہیں جس نے وکرم لینڈر کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کو آسان بنایا۔

1. طاقتور وکرم لینڈر:

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ایرو اسپیس سائنٹسٹ پروفیسر رادھاکانت پادھی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس بار لینڈر وکرم کو 6 سگما باؤنڈ سے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے یہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس سے اِسرو کے سائنسداں کو یہ اطمینان حاصل ہوا کہ اگر وکرم لینڈر کی رفتار کچھ تیز بھی رہی تو لینڈنگ میں کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوگی۔

2. چندریان-2 سے زیادہ ایندھن:

چندریان-3 میں چندریان-3 کے مقابلے زیادہ فیوئل یعنی ایندھن بھرا گیا تھا۔ اس سے یہ ممکن ہو سکا کہ لینڈر وکرم کو صحیح اور برابر جگہ پر اتارنے میں کسی بھی طرح کی کوئی دقت نہ ہو، بھلے ہی اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگے۔

3. چندریان-2 کی ناکامی سے سیکھا سبق:

چندریان-2 اور چندریان-3 کی لانچنگ کا حصہ رہ چکے پروفیسر رادھاکانت نے کہا کہ چندریان-2 کا لینڈر وکرم اپنی رفتار کنٹرول نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے وہ گر گیا۔ وہ الگوریدم کی ناکامی تھی، جس کو اس بار ٹھیک کر لیا گیا تھا۔

4. نئے سنسر کا استعمال:

چندریان-3 میں لیجر ڈاپلر ویلوسٹی میٹر سنسر جوڑا گیا ہے۔ اس کی مدد سے وکرم لینڈر کو چاند پر صحیح طریقے سے اتارنے میں مدد ملی۔ سنسر نے چاند کی سطح کو کیمرے کی مدد سے چیک کیا اور او کے کمانڈ دیا تبھی وکرم چاند کی سطح پر اترا۔

5. مضبوط لینڈنگ لیگس:

وکرم لینڈر کے روبوٹک لیگس (پیر) کو چندریان-2 کے مقابلے زیادہ مضبوط کیا گیا۔ اس کی مدد سے ہی وکرم لینڈر چاند پر اترا۔ یہ جانکاری پہلے ہی دے دی گئی تھی کہ لینڈنگ کے دوران 3 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار ہونے پر بھی اس کے لیگس یعنی پیر ٹوٹیں گے نہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/btNT2px

41 دن کے سفر کے بعد آج چاند پر اترے گا چندریان 3

چاند پر چندریان 3 کی سافٹ  لینڈنگ کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ 14 جولائی کو چندریان 3 کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا اور اب بدھ کی شام  6بج کر 4منٹ کا انتظار ہے جب اس کی سافٹ لینڈنگ متوقع ہے ۔ چندریان زمین پر 14 دن یعنی چاند کا ایک دن رہ کر چاند پر مطالعہ کرے گا۔

چندریان -3 کو چندریان -2 کی ناکامی کے چار سال بعد 2019 میں لانچ کیا گیا تھا۔ پچھلے مشن کی ناکامیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس میں خصوصی تبدیلیاں کی گئیں اور آج اسرو نے پورے اعتماد کے ساتھ اپنی کامیاب لینڈنگ کی بات کہی ہے۔ پہلی بار کوئی ملک چاند کے قطب جنوبی پر خلائی جہاز اتارے گا۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر کے سائنسدان ہندوستان کے مشن مون پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

چندریان 3 کے تین بڑے حصے ہیں، پہلا پروپلشن ماڈیول، دوسرا لینڈر ماڈیول وکرم اور تیسرا روور پرگیان۔ 17 اگست کو پروپلشن ماڈیول سے الگ ہونے کے بعد، لینڈر ماڈیول وکرم اپنی گود میں بیٹھے روور پرگیان کے ساتھ چاند کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 23 اگست کو لینڈر وکرم روور پرگیان کو چاند کی سطح پر اتارے گا۔ روور پرگیان چاند کے گرد گھومے گا، نمونے جمع کرے گا اور سائنسی ٹیسٹ کرے گا۔

چندریان 3 بدھ کو شام 6.4 بجے چاند پر سافٹ  لینڈنگ کرے گا۔ اس دوران 15 منٹ بہت خاص ہوں گے کیونکہ اس وقت لینڈر خود کام کرے گا، اسرو کے سائنسدان اسے کوئی کمانڈ نہیں دیں گے۔ فیز 4 میں، لینڈر چاند کی سطح پر قدم رکھے گا۔ اس 15 منٹ میں 1440 دن کی محنت کا نتیجہ ملے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/uNh98Rl