جمعہ، 23 فروری، 2024

مشن سورج: ’آدتیہ ایل-1‘ نے سورج سے متعلق دی انتہائی اہم جانکاری، سائنسداں حیران

اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کے سائنسداں اس وقت کئی پروجیکٹس میں مصروف ہیں۔ روزانہ کسی نہ کسی پروجیکٹ سے متعلق خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ تازہ خبر مشن سورج یعنی ’آدتیہ ایل-1‘ سے متعلق آ رہی ہے جس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔ دراصل آدتیہ ایل-1 پر لگے ایک پے لوڈ میں لگے ایڈوانسڈ سنسر نے سورج کی سطح پر ہونے والے کورونل ماس اجیکشن کے اثر سے متعلق ایک اہم انکشاف کیا ہے۔ سنسر سے کورونل ماس اجیکشن کے دوران کثرت کے ساتھ شمسی ہواؤں میں الیکٹران اور آین کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔

جس پے لوڈ کے سنسر نے یہ انکشاف کیا ہے، وہ ’پلازما اینالائزر پیکیج فور آدتیہ‘ (پاپا) ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ پے لوڈ پاپا کو ہوائی توانائی الیکٹران اور آین کے تجزیہ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں دو سنسر سولر وِنڈ الیکٹرانک انرجی پروب (سویپ) اور سولر وِنڈ آین کمپوزیشن اینالائزر (سویکار) لگے ہیں۔ سویپ سنسر 10 ای وی کے درمیان کے الیکٹران کو شمار کرتا ہے۔ ان سنسرز کی مدد سے شمسی ہواؤں کی سمت کا بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ پے لوڈ پاپا کو وکرم سارابھائی اسپیس سنٹر کی اسپیس فزکس لیباریٹری اینڈ ایویونکس اینٹٹی کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔

اِسرو نے بتایا کہ سورج کی سطح پر کورونل ماس اجیکشن کے واقعہ کو پہلے 15 دسمبر 2023 کو اور پھر 11-10 فروری 2024 کو پے لوڈ پاپا کے ذریعہ درج کی گئی۔ اِسرو نے جاری بیان میں بتایا کہ پے لوڈ پاپا نے جانکاری دی ہے کہ مجموعی الیکٹران اور آین کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور ایل 1 پوائنٹ پر ڈیپ اسپیس کلائمیٹ آبزرویٹری اور ایڈوانسڈ کمپوزیشن ایکسپلورر سیٹلائٹس سے حاصل وقت تنوع اور شمسی ہواؤں کے پیمانوں اور مقناطیسی علاقہ کی پیمائش میں بھی یکسانیت پائی گئی۔ علاوہ ازیں 11-10 فروری کو ہوئی کورونل ماس اجیکشن کے چھوٹے چھوٹے کئی واقعات ہوئے اور اس دوران الیکٹران آین اور وقت تنوع میں فرق ملا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rjWbUNZ

جمعرات، 22 فروری، 2024

اِسرو کا نیا کارنامہ، دنیا کے جیوسنکرونس مدار میں کامیابی کے ساتھ نصب ہوا انسیٹ-3 ڈی ایس

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) نے ایک بار پھر سائنس کے شعبہ میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔ اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جانکاری دی ہے کہ انسیٹ-3 ڈی ایس سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ اَرتھ یعنی دنیا کے جیوسنکرونس مدار میں نصب ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ سبھی چار لیکوئڈ ایپوجی موٹر (ایل اے ایم) فائرنگ پوری ہو گئی ہے۔ اب سیٹلائٹ کو مدار ٹیسٹنگ لوکیشن پر 28 فروری 2024 تک پہنچنے کی امید ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جیوسنکرونس مدار میں ایک مکمل دن 23 گھنٹے 56 منٹ اور 4 سیکنڈ کے برابر ہوتا ہے۔ اس میں سیٹلائٹ کا مدار دنیا گھماؤ کے برابر ہو جاتا ہے۔ یہ مدار گول یا پھر نامکمل گول ہو سکتا ہے۔ اِسرو کی سیٹلائٹ انسیٹ-3 ڈی ایس کو گزشتہ 17 فروری کو شری ہریکوٹا واقع ستیش دھون اسپیس سنٹر سے لانچ کیا گیا تھا۔ انسیٹ-3 ڈی ایس کو جی ایس ایل وی ایف-14 لانچ وہیکل سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔ جی ایس ایل وی-ایف 14 کو ’ناٹی بوائے‘ (نٹ کھٹ لڑکا) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ دراصل اس جی ایس ایل وی کے 40 فیصد لانچ ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس راکٹ کا نام ’ناٹی بوائے‘ پڑ گیا ہے۔

بہرحال، انسیٹ-3 ڈی ایس سیٹلائٹ موسم کی جانکاری دینے والا ایک سیارہ ہے جو انسیٹ-3 ڈی سیٹلائٹ کی جدید شکل ہے۔ انسیٹ-3 ڈی ایس سیٹلائٹ کی مدد سے موسم اور قدرتی آفات کی درست جانکاری مل سکے گی۔ انسیٹ-3 ڈی ایس سے سمندر کی سطح اور اس کے درجہ حرارت پر پڑنے والے اثر کا مطالعہ کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی انسیٹ-3 ڈی ایس کی مدد سے ڈاٹا کلیکشن پلیٹ فارمس سے ڈاٹا کو جمع کیا جا سکے گا۔ انسیٹ-3 ڈی ایس کی پوری فنڈنگ حکومت ہند کے ارتھ سائنس منسٹری نے کی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5wmIFTN

بدھ، 21 فروری، 2024

’گگن یان مشن‘ کے لیے پوری طرح تیار ہے ’سی ای 20 کرایوجینک انجن‘، سیفٹی سرٹیفکیٹ ہوا حاصل

’گگن یان مشن‘ لانچ کرنے کے لیے 2025 کا ہدف رکھا گیا ہے اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ہندوستان کے پہلے انسانی خلائی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے اِسرو کے سائنسداں خوب محنت کر رہے ہیں۔ اس مشن کے تعلق سے ایک بڑی خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ ’سی ای 20 کرایوجینک انجن‘ کو سیفٹی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔ کئی سخت ٹیسٹنگ کے بعد سی ای 20 کرایوجینک انجن کو یہ سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے۔

سی ای 20 کرایوجینک انجن کو سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل ہونا ’گگن یان مشن‘ کے لیے بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مشن اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ اگر ہندوستان نے کامیابی حاصل کی تو امریکہ، چین اور روس کے بعد ہندوستان انسانی خلائی مشن کا کامیاب تجربہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔

بہرحال، اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’سی ای 20 کرایوجینک انجن اب گگن یان مشن کے لیے بالکل تیار ہے۔ سخت ٹیسٹنگ سے انجن کی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔ پہلے انسانی پرواز ایل وی ایم 3 جی 1 کے لیے تیار کیے گئے سی ای 20 کرایوجینک انجن کو کئی ٹیسٹنگ سے ہو کر گزرنا پڑا، جس کے بعد اسے سیفٹی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ سی ای 20 انجن کا گراؤنڈ کوالیفکیشن ٹیسٹ کا آخری دور 13 فروری کو مکمل ہوا تھا۔ اس کے تحت اس کرایوجینک انجن کی انسانی ریٹنگ عمل کو کامیاب مانا گیا ہے۔

اِسرو نے اس تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ گراؤنڈ کوالیفکیشن ٹیسٹ اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ پتہ کیا جا سکے کہ انجن ٹھیک سے کام کرے گا یا نہیں، انجن حفاظت کی شکل میں کیسا ہے اور یہ پوری طرح تیار ہے یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ سخت سیکورٹی اور اعتماد کے پوائنٹس کو یہ پورا کرتا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ گگن یان مشن کے تحت اسرو انسانوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس مشن کے تحت تین لوگوں کی ٹیم کو خلا میں زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا اور پھر انھیں بہ حفاظت زمین پر واپس اتارا جائے گا۔ 2025 میں اس مشن کو لانچ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پہلے یہ مشن 2022 میں ہی لانچ ہونا تھا، لیکن کورونا وبا اور مشن کی پیچیدگیوں کے سبب اس میں تاخیر ہو گئی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vX2ngst

اتوار، 18 فروری، 2024

انسان کے لیے نقصان دہ بیکٹیریا مریخ پر نشونما پا سکتے ہیں

جرمن ایرو اسپیس سینٹر کی ایک نئی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں رہنے والے چند ایسے بیکٹیریا جو جسم پر زیادہ دباؤ پڑنے سے بیماریوں کا سبب بنتےہیں، وہ مریخ پر نا صرف زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ وہاں ان کی نشونما بھی ممکن ہے۔سائنسدان ایک عرصے سے مریخ پر انسانوں کی آبادکاری کے لیے تحقیق میں مصروف ہیں۔ دنیا بھر کی اسپیس ایجنسیاں مریخ کی جانب مشن روانہ کر رہی ہیں تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے مکمل ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔ اس ڈیٹا سے لیباٹریز میں تجربات کر کے یہ معلوم کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے کہ انسان مریخ کے شدید ماحول اور انتہائی کم درجۂ حرارت میں کس طرح زندہ رہ سکیں گے۔

جنوری 2024ء کے اوائل میں ایسٹرو بائیولوجی سائنس جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق چار ایسے مائیکروبز، جو انسانوں میں متعدد امراض کا سبب بنتے ہیں وہ مریخ کے شدید ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور وہاں ان کی نشونما بھی ممکن ہے۔ جرمن ایروسپیس سینٹر کے سائنسدانوں نے لیبارٹری میں مصنوعی طور پر مریخ کا ماحول تیار کر کے یہ تجربات کیے ہیں۔

تحقیق کیا ہے؟

جرمن ایرو سپیس سینٹر کولون سے وابستہ سائنسدانوں کی اس ٹیم کی سربراہی توماسو زکاریا نے کی ہے۔ زکاریا نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ مریخ کی سطح پر درجہ حرارت انتہائی کم ہے اور وہاں ایسے دیگر عوامل کی صورت حال بھی نامناسب ہے، جنہیں کسی سیارے پر انسانی زندگی کے لیے لازمی سمجھا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود سائنسدان نظام شمسی کے دیگر سیاروں کی نسبت مریخ پر ممکنہ طور پر انسانی آبادیاں میں زیادہ دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کہ ایک تو یہ سیارہ زمین سے نسبتا قریب ہے اور پھر مریخ کا ایک دن بھی زمین کے ایک دن کی طرح چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔

زکاریا کے مطابق لیبارٹری میں مریخ کا مصنوعی ماحول تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس کے لیے پانی کی عدم موجودگی، ہوا کا انتہائی کم دباؤ، سورج کی جھلسا دینے والی الٹرا وائلٹ تابکار شعاؤں اور مہلک زہریلی نمکیات کو مصنوعی طریقے سے اکھٹا کرنا ہوتا ہے۔

توماسو زکاریا بتاتے ہیں کہ انسانی جسم میں چار عام بیکٹیریا رہتے ہیں، جو یوں تو بے ضرر ہیں لیکن بیرونی عوامل یا دباؤ کے زیر اثر ہمارے لیے مہلک ثابت ہوتے اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ زکاریا کی ٹیم نے مریخ کے تیار کردہ مصنوعی ماحول میں ان بیکٹیریا پر بار بار تجربات کیے۔ زکاریا کے مطابق حیرت انگیز طور پر یہ مائیکروب نا صرف اس شدید ماحول میں زندہ رہے بلکہ ان کی ٹیم نے نوٹ کیا کہ یہ مصنوعی طور پر تیار کردہ مریخ کی مٹی یا ریگولتھ میں نشونما بھی پا سکتے ہیں۔

تحقیق کے لیے ان بیکٹیریا کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

جرمن ایرو سپیس سینٹر سے وابستہ سائنسدان توماسو زکاریا بتاتے ہیں کہ بیکٹیریا انتہائی سخت جان اور لچکدار ہوتے ہیں، جو زمین پر اربوں سالوں سے موجود ہیں۔ لہذا مریخ یا کسی دوسرے سیارے یا سیارچے پر تحقیق کے لیے بیکٹیریا موزوں ترین سمجھے جاتے ہیں۔

زکاریا کے مطابق 2020ء میں کی گئی ایک تحقیق میں نوٹ کیا گیا تھا کہ یہی بیکٹیریا ایسے میڈیم میں زندہ رہ سکتے ہیں، جو میٹیورائٹ کے انتہائی کم نمکیات والے سیمپل سے مشابہہ تھا۔ زکاریا اس ٹیم کا حصہ تھے۔ اس تحقیق سے انہیں تحریک ملی اور انہوں نے نئی ٹیم کے ساتھ مریخ کے ماحول میں یہی تجربات کرنے کا فیصلہ کیا۔

ابتدائی حوصلہ افزاء نتائج کے بعد زکاریا کی ٹیم نے ان بیکٹیریا کی کالونیوں کو مصنوعی طور پر تیار کردہ مریخ کی مٹی میں رکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا خیال تھا کہ بیکٹیریا پر زہریلے اثرات پڑنے سے وہ فورا ہی مر جائیں گی۔ مگر حیرت انگیز طور پر چار میں سے تین بیکٹیریل انواع زندہ رہیں اور 21 دن تک ان کی نشونما بھی نوٹ کی گئی۔

مزید کیا پیش رفت متوقع ہے؟

توماسو زکاریا نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ان کی ٹیم اب انہی بیکٹیریا پر نئے تجربات کا آغاز کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ شدید ماحول میں کس طرح زندہ رہے۔ اس طرح سائنسدانوں کو خلائی سفر کے دوران انسانی جسم پر پڑنے والے منفی اثرات کو مزید بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

زکاریا کے مطابق سپیس فلائٹ کے دوران خلا بازوں کے جسم کا مدافعتی نظام تناؤ اور بے ضابطگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہ چار بیکٹیریا بھی جسم پر دباؤ پڑنے سے پیتھوجنز کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ لہذا مزید تحقیق سے خلا بازوں کا سفر محفوظ بنانے اور ان کی صحت سے متعلق بہتر اقدامات کرنے میں مدد ملے گی۔

مریخ پر انسانی آباد کاری سے متعلق کیا پیش رفت ہوئی؟

توماسو زکاریا کے مطابق ان کی تحقیق کےنتائج بتاتے ہیں کہ مریخ کے مشن کے لیے خلابازوں کو اپنے ساتھ بہت سی ادویات ساتھ لے جانا ہوں گی۔ کیونکہ یہ عام بیکٹیریا مریخ پر زندہ رہ سکتے ہیں لہذا کمزور مدافعتی نظام کے ساتھ خلا باز وہاں جلد ہی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔

وہ کہتے ہیں،'' جیسا کے ہمارے تجربات سے ثابت ہوا عین ممکن ہو کہ یہ مائیکروب وہاں نشونما پا کر مزید خطرناک ہو جائیں۔ لہذا انسان بردار مریخ مشن کو اس طرح کے ''بگز‘‘ یا جرثوموں سے محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ جس کے لیے ابتدا میں مریخ پر صرف روبوٹک گاڑیاں بھیجی جائیں جو وہاں انسانوں کی آباد کاری کے ضروری انتظامات کریں اور بالکل الگ تھلگ کالونیاں تشکیل دیں۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ykba4cy

گھاس کاٹنے کی اسمارٹ مشین کے ذریعے بھی ’سائبر حملوں‘ کا خطرہ!

نئی دہلی: باغ میں گھاس کاٹنے والی اسمارٹ مشین کے ذریعے بھی آپ کی سائبر سیکورٹی کی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے۔ یہ انکشاف ایک تحقیق میں کیا گیا۔ وی پی این سروس فراہم کرنے والے ’جین شیلڈ‘ کے مطابق، آپ کے آلے کو گھاس کاٹنے کی مشین یعنی لان موور کے سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے ہیک کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے کہا کہ "آپ کے گارڈن میں گھاس کاٹنے کی مشین انٹرنیٹ سے منسلک آلات جیسے انٹرنیٹ آف تھنگس کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ سہولت والے ٹولز حساس آلات میں دخل اندازی کا راستہ بھی کھولتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے گھاس کاٹنے کی مشین سمیت اسمارٹ ڈیوائسز والے گھروں میں ہفتہ وار تقریباً 12 ہزار ہیکنگ کی کوششیں سامنے آئی ہیں۔

جین شیلڈ کے ٹیکنالوجی ماہر سٹیفن بلیک نے کہا، ’’یہ ایک عجیب دنیا ہے جہاں آپ کا لان کاٹنے والا رینسم ویئر کے حملے کے لیے ایک داخلی مقام بن سکتا ہے۔‘‘

تحقیق میں ایک جعلی اسمارٹ ہوم بنایا گیا، جس میں کئی طرح کی اسمارٹ ڈیوائسز تھیں، جو انٹرنیٹ سے منسلک تھیں۔ ہیکرز نے فی گھنٹہ 14 بار آلات میں گھسنے کی کوشش کی۔

بلیک نے کہا، ’’یہ مجرم واقعی آپ کے لان کی گھاس کاٹنے والی مشین کے ساتھ ساتھ گڑبڑ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ آپ کے گھر کے نیٹ ورک میں ایسے کمزور نکات تلاش کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں جن سے وہ فائدہ اٹھا سکیں،" بلیک نے کہا۔

محققین کے مطابق انٹرنیٹ آف تھنگز ڈیوائسز سائبر مجرموں میں کئی وجوہات کی بنا پر مقبول ہیں، جن کی وجہ سے ان کی خلاف ورزی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔

محققین نے آپ کے انٹرنیٹ آف تھنگ ڈیوائسز کو محفوظ بنانے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے ہیں جیسے ڈیفالٹ سیٹنگز کو تبدیل کرنا، باقاعدہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس وغیرہ۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XD5YIR1

جمعہ، 26 جنوری، 2024

جاپان: چاند پر اترنے والا پانچواں ملک

جاپان نے 20 جنوری 2024 کو چاند کی تحقیقات کے لیے اپنا اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون یا ایس ایل آئی ایم (سلَم)، خلائی جہاز چاند کی سطح پر اتارا اور اس نے روورز کو تعینات کیا۔ یہ جاپان کی پہلی مون لینڈنگ ہے اور یوں جاپان چاند پر کامیابی سے اترنے والا دنیا کا پانچواں ملک بن گیا ہے۔ یہ کامیابی خلائی ٹیکنالوجی میں جاپان کی پوزیشن کو مستحکم کرتی ہے۔ باوجود اس کے کہ لینڈر کو بجلی کا مسئلہ درپیش ہے ، یہ واقعہ سیاسی اور تکنیکی دونوں اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے ۔

امریکی خلائی ایجنسی، ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیوں کی طرح جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی یا جے اے ایکس اے، نئی تکنیکوں کا مظاہرہ کر کے اور سائنسی ڈیٹا اکٹھا کرکے تحقیق اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ جاپان کی لینڈنگ بھی قمری سرگرمیوں میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کا ایک حصہ ہے ۔ ذرائع ابلاغ اور اسپیس و سائنس پر مبنی ویب سائٹس کے مطابق جاپان نے ہدف کے 100 میٹر (328 فٹ) کے اندر چاند پر اترنے کا ایک بے مثال ’پائن پوائنٹ‘ حاصل کیاہے۔ جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے اے ایکس اے) نے کہا ہے کہ (پروب) تحقیقات کے شمسی بجلی سے محروم ہونے سے پہلے ہی اسے سلم کے لینڈنگ کے بارے میں تمام ڈیٹا ٹچ ڈاؤن کے 2 گھنٹے اور 37 منٹ میں موصول ہو گیا۔ غلط زاویہ کی وجہ سے سلم کے سولر پینل ممکنہ طور پر بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہے ، لیکن سورج کی روشنی کی سمت میں تبدیلی اسے دوبارہ طاقت دے سکتی ہے۔

درست ٹیکنالوجی

جاپان کی کامیابی صرف علامتی نہیں ہے ۔ جاپان لینڈر کے ساتھ کئی نئی ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ خلائی جہاز کا نام، اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ دی مون (سلم)، خلائی جہاز کی درستگی سے اترنے والی نئی ٹیکنالوجی کا حوالہ دیتا ہے۔ یہ ٹکنالوجی مستقبل کی لینڈنگ میں خلائی جہاز کو چٹانی یا ناہموار خطوں کے درمیان نسبتاً چھوٹے علاقوں میں اترنے میں مدد کر سکتی ہے، بجائے اس کے کہ بڑی ہموار سطح تلاش کی جائے۔ یہ قابلیت مستقبل میں اہم ہو گی کیونکہ تحقیق کرنے والے ممالک کی توجہ چاند کے جنوبی قطب کے مخصوص علاقوں پر مرکوز ہے۔ وہ ایسے علاقوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جن میں مفید وسائل ہونے کا امکان زیادہ ہے، جیسے کہ برف کی شکل میں پانی، لہٰذا درست لینڈنگ ٹیکنالوجی خطرات سے بچنے اور بغیر کسی واقعے کے ان علاقوں تک پہنچنے میں معاون ثابت ہوگی۔

خلائی جہاز سلم، جسے مون سنائپر نام بھی دیا گیا ہے، کو بنیادی طور پر انتہائی درست قمری لینڈنگ کے لیے درکار ٹیکنالوجی کو ثابت کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اسے چاند کے شیولی کریٹر کے کنارے پر ایک مخصوص جگہ سے 328 فٹ (100 میٹر) زون کے اندر اترنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جو پچھلے لینڈرز کے مقابلہ بہت چھوٹا ہے جن کے لینڈنگ زونز کئی کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ سلم نے وژن پر مبنی نیویگیشن سسٹم کا استعمال کیا جس نے چاند کی سطح کی تصاویر لیں۔ اس کے نظام نے تیزی سے ان تصاویر کا جے اے ایکس اے کے پچھلے مشنوں کے ڈیٹا سے تیار کئے گئے چاند کے نقشوں پر موجود گڑھے کے نمونوں سے موازنہ کیا۔

جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی نے یہ تحقیقات کاگوشیما پریفیکچر کے تانیگاشیما اسپیس سینٹر سے ستمبر 2023 میں XRISM نامی ایکس رے خلائی دوربین کے ساتھ شروع کی تھی، جسے زمین کے نچلے مدار میں تعینات کیا تھا اور حال ہی میں اس کی پہلی آزمائشی تصاویر کو دکھایا گیا تھا۔ سلم کرسمس کے دن چاند کے مدار میں پہنچا اور 20 جنوری کو تاریخی لینڈنگ کی۔ SLIM کے پاس دو منی روورز بھی تھے، جنہیں لیونر ایکسکرشن وہیکل ایل ای وی-1 اور ایل ای وی-2 کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں چھوٹے روبوٹ منصوبہ کے مطابق تعینات کیے گئے اور ایل ای وی-1 چاند کی سطح پر کام کر رہا ہے۔ ایل ای وی-1 میں ایک کیمرہ، نیز سائنسی آلات شامل ہیں، اور چاند پر (manoeuvre) تدابیر کے لیے ہاپنگ میکانزم کا استعمال کرتا ہے جب کہ حکومت، صنعت اور ماہرین کے درمیان شراکت میں تیار کیا گیاLEV-2 ایک ایسا دائرہ ہے جو ہتھیلی میں فٹ ہو سکتا ہے۔ چاند کی سطح پر آنے کے بعد، اس کے دونوں حصے قدرے الگ ہو جاتے ہیں، جس سے اسے گھومنے میں مدد ملتی ہے۔

بعد ازاں بجلی کا مسئلہ پیش آیا اور 21 جنوری کو JAXA نے ایکس (ٹویٹر)پر مختلف اپ ڈیٹس میں کہا کہ لینڈر کو ڈیڈ قرار نہیں دیا گیا ہے، اس کے ہینڈلرز ممکنہ بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جب SLIM کی بیٹری کی طاقت چاند کی سطح پر 12 فیصد تک کم ہو گئی، تو لینڈر جان بوجھ کر بند ہو گیا تاکہ بحالی کے آپریشن کے لیے دوبارہ شروع نہ ہونے سے بچا جاسکے (بیٹری کے زیادہ خارج ہونے کی وجہ سے دوبارہ شروع ہونا مشکل ہوتا)۔ ٹیلی میٹری ڈیٹا کے مطابق، SLIM کے سولر پینل کا رخ مغرب کی طرف ہے۔ لہٰذا اگر سورج کی روشنی چاند کی سطح پر مغرب سے چمکنے لگے تو بجلی پیدا ہونے کا امکان ہے ۔

خلا میں مقابلہ

چین، ہندستان اور جاپان - وہ تین ممالک جو 2000 سے کامیابی کے ساتھ چاند پر اترے ہیں اور خلا سمیت متعدد شعبوں میں مقابلے میں مصروف ہیں۔ تینوں عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتےہیں – کہ وہ ایسا کچھ کرنے کے قابل ہے جو بہت کم قوموں نے کیا ہے۔ جاپان کی لانچ ہندستان کے چاند پر اترنے کے صرف چھ ماہ بعد اور ایک امریکی کمپنی ایسٹروبوٹک کی ناکام کوشش کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے۔ روس اور نجی کمپنی آئی اسپیس(iSpace ) دونوں نے 2023 میں لینڈنگ کی ناکام کوششیں کیں۔ جاپان کی کامیاب لینڈنگ یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس عالمی کوشش میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔

امریکہ، حالیہ ناکامیوں کے باوجود، اب بھی خلائی اور چاند کی تلاش میں واضح رہنما ہے۔ امریکہ کی قومی ہوا بازی اور خلائی انتظامیہ (NASA) ناسا نے اپنے اگلے آرٹیمس مشن میں تاخیر کا اعلان کیا ہے، ناسا کے پاس اس وقت چاند کے گرد چکر لگانے والے متعدد خلائی جہاز ہیں، اور اس نے پہلے ہی کامیابی سے ایس ایل ایس (SLS)راکٹ لانچ کیا ہے، جو انسانوں کو چاند پر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ناسا بہت بڑے اور پیچیدہ نظام تیار کر رہا ہے – جیسے گیٹ وے اسپیس اسٹیشن، چاند کے قریب چکر لگانے کا منصوبہ اور آرٹیمس انسانی چاند مشن کے لیے بنیادی ڈھانچہ ۔ ناسا نے حال ہی میں چھوٹے پیمانے کی بہت سی کوششوں کو تجارتی اداروں کے حوالے کر دیا ہے - جیسے کمرشل لیونر پے لوڈ سروسز پروگرام ،جس کے تحت ایسٹروبوٹک (Astrobotic )نے کوشش کی تھی۔ اس نئی حکمت عملی میں کچھ خطرہ شامل ہے، لیکن ناسا کو مشن کے بڑے، پیچیدہ پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہوئے یہ طریقہ قمری معیشت کو تجارتی جدت اور ترقی کا موقع فراہم کرتا ہے۔

چاند کی سطح کو دریافت کرنے کی عالمی دوڑ تیزہو رہی ہے۔ جاپان امریکہ کے آرٹیمس مشن کے تحت ایک دباؤ والے قمری روور (pressurised lunar rover) تیار کر رہا ہے ،یہ ایک نئی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے جو آنے والے سالوں میں چاند پر انسانی مشن کے لیے اہم ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8ec09ti

ہفتہ، 20 جنوری، 2024

روس کے حمایت یافتہ فنکار کا سائبر حملہ ناکام بنا دیا گیا: مائیکروسافٹ

واشنگٹن: امریکہ میں مائیکروسافٹ سائبر سیکورٹی اہلکاروں نے روس کے حمایت یافتہ فنکار کے مبینہ سائبر حملے کا سراغ لگا کر اسے ناکام بنا دیا ہے۔ مائیکرو سافٹ سیکورٹی ریسپانس سینٹر نے ایک بیان میں یہ اطلاع دی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مائیکروسافٹ سیکورٹی ٹیم نے 12 جنوری 2024 کو کمپنی کے کارپوریٹ سسٹمز پر حملے کا پتہ لگایا۔ سائبر حملے کے ملزم کی شناخت مڈ نائٹ بلیزارڈ کے نام سے ہوئی ہے جسے نوبیلیم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ روس کی حمایت یافتہ فنکار ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ نے سینئر قیادت ٹیم کے ممبران سمیت مائیکروسافٹ کارپوریٹ ای میل اکاؤنٹ کے ایک چھوٹے فیصد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پاس ورڈ اسپرے اٹیک کا استعمال کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مائیکروسافٹ واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر اضافی کارروائی کرے گا۔

سائبر حملہ کی شناخت ہونے پر مائیکروسافٹ نے فوری طور پر چھان بین کی اور بدنیتی پر مبنی سرگرمی میں مداخلت کرتے ہوئے اس کے سسٹم تک ہیکرز کی رسائی کو منقطع کر دیا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ یہ حملہ اس کی مصنوعات یا خدمات میں کسی خاص خطرے کا نتیجہ نہیں تھا۔

خیال رہے کہ مائیکروسافٹ کی مصنوعات امریکی حکومت میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں اور کمپنی کو ماضی میں اپنے حفاظتی طریقوں پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rGqepgm

جمعہ، 19 جنوری، 2024

جاپان کے خلائی طیارہ ’مون سنائپر‘ کی چاند پر کامیاب لینڈنگ، اب ہوگی چاند پر چلنے والی پلازمہ ہواؤں کی جانچ!

جاپان آج اس وقت چاند پر کامیابی کے ساتھ خلائی طیارہ اتارنے والا چوتھا  ملک بن گیا جب ’مون سنائپر‘ کی چاند پر کامیاب لینڈنگ ہوئی۔ جاپان نے چاند پر خلائی طیارہ ’مون سنائپر‘ کی کامیاب لینڈنگ کے ساتھ ہی تاریخ رقم کر دی ہے اور اب امید کی جا رہی ہے کہ کچھ اہم تجربات سامنے آئیں گے۔ اس چاند مشن کو ’سلم‘ (ایس ایل آئی ایم– اسمارٹ لینڈر فار انوسٹیگیٹنگ مون) نام دیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جاپان سے قبل ہندوستان، روس، امریکہ اور چین چاند پر کامیابی کے ساتھ اپنے خلائی طیارے کو لینڈ کرا چکے ہیں۔ اب جاپان یہ کارنامہ انجام دینے والا پانچواں ملک بن گیا ہے۔ جاپانی اسپیس ایجنسی ’جاکسا‘ نے اس مشن کے تعلق سے کہا کہ لینڈنگ کے لیے اس نے 6000X4000 کا علاقہ تلاش کیا تھا۔ جاکسا نے اسی علاقے میں اپنے ’سلم‘ مون مشن کی لینڈنگ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ خلائی ایجنسی نے بتایا کہ اس کا پہلا ہدف اسپیس کرافٹ کی لینڈنگ متعین علاقے میں ہی کرنا تھا اور اس میں کامیابی حاصل ہو گئی۔

واضح رہے کہ ’مون سنائپر‘ کو جاپان کی جاکسا، ناسا اور یوروپین ایجنسی نے مل کر تیار کیا ہے۔ اسے گزشتہ سال ستمبر میں جاپان کے تانگیشما خلائی سنٹر کے یوشینوبو کمپلیکس سے لانچ کیا گیا تھا۔ اس مشن میں 831 کروڑ روپے سے زیادہ کا خرچ آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جاپان نے اپنا خلائی طیارہ جس علاقے میں لینڈ کیا ہے وہ چاند کے قطبی علاقے میں ہے۔ یہاں بہت تاریکی ہوتا ہے۔ اس جگہ کا نام ’شیولی کریٹر‘ ہے۔

خلائی ایجنسی جاکسا کے مطابق اس کا اسپیس کرافٹ یعنی خلائی طیارہ ایک ایڈوانس آپٹیکل اور امیج پروسیسنگ ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ایکس-رے امیجنگ اور اسپیکٹروسکوپی بھی موجود ہے۔ یہ چاند کے چاروں طرف چکر لگائے گا اور وہاں چلنے والی پلازمہ ہواؤں کی جانچ کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ چاند کی سطح پر موجود اولیوین پتھروں کی جانچ بھی کرے گا۔ اس سے کائنات میں موجود تاروں اور گیلیکسی کی جانکاری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1OUpNsC

جمعہ، 12 جنوری، 2024

پیرو میں پائی گئی ’ممی‘ کے ’ایلین‘ ہونے کا دعویٰ خارج، ماہرین نے انسانی ساختہ قرار دیا

لیما: جنوبی امریکہ کے ملک پیرو میں پائی جانے والی دو مبینہ باہری دنیا کی حنوط شدہ لاشوں (ایلین ممیز) کا راز فاش کرتے ہوئے ماہرین نے انہیں انسانی ساختہ قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ سائنسدانوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں پیرو کے دارالحکومت لیما کے ہوائی اڈے سے پراسرار طور پر دو 'ممی' پائی گئی تھیں، جس کے بعد دنیا بھر میں ان کے حوالہ سے تجسس پیدا ہو گیا تھا اور میڈیا میں انہیں ایلین ممی قرار دیا جانے لگتا تھا۔

بی بی سی ہندی پر شائع رپورٹ کے مطابق، پیرو کی وزارت ثقافت نے جمعہ کو لیما میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ ممیاں ہیومنائیڈ ڈالز یعنی انسانوں جیسی نظر آنے والی گڑئے ہیں۔ سائنسدانوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کی بنیاد پر کہا ہے کہ انہیں انسانوں اور جانوروں کی ہڈیوں سے تیار کیا گیا تھا!

ماہرین نے پیرو کے علاقے نازکا میں پائے جانے والے ایک اور 'تین انگلیوں والے ہاتھ' کا بھی تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق اس مخلوق کا بھی باہری دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پیرو کے انسٹی ٹیوٹ فار لیگل میڈیسن اینڈ فرانزک سائنسز کے ماہر آثار قدیمہ فلاویو ایسٹراڈا نے کہا، ’’ان کا تعلق کسی اور دنیا سے نہیں ہے۔ یہ زمین کے جانوروں کی ہڈیوں سے بنی گڑیا ہیں، جنہیں جدید مصنوعی گوند سے تیار کیا گیا ہے۔ ان کے ایلین (باہری دنیا سے) ہونے کی کہانی مکمل طور پر من گھڑت ہے۔‘‘

تقریباً تین ماہ قبل گتے کے ڈبے میں بند یہ دونوں ممیاں لیما ایئرپورٹ پر واقع کورئیر کمپنی ڈی ایچ ایل کے دفتر سے برآمد ہوئی تھیں۔ یہ دونوں روایتی اینڈین لباس میں تھیں۔ بہت سے میڈیا اداروں نے قیاس آرائیاں شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایلین ممیاں ہو سکتی ہیں!

پچھلے سال ستمبر میں میکسیکو کی پارلیمنٹ میں اس بات پر بحث ہوئی تھی کہ آیا لمبے سروں اور تین انگلیوں والی دو چھوٹی ممیاں ایلین کی لاشیں ہیں یا نہیں لیکن اکثر ماہرین نے ایلین ہونے کے نظریہ کو مسترد کر دیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mTN6KP7

پیریگرین مشن: چاند پر اترنے کی کوشش ترک

نصف صدی میں امریکہ سے روانہ ہونے والے پہلے مون لینڈر کے ایندھن کے رساؤ کی وجہ سے چاند کی سطح پر کامیاب لینڈنگ کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔ پٹسبرگ میں قائم امریکی کمپنی ایسٹروبوٹک ٹیکنالوجی (Astrobotic Technology) کا کہنا ہے کہ اب ہدف یہ ہے کہ خلائی جہاز پیریگرین کو طاقت سے محروم ہونے سے پہلے جتنی دور تک ممکن ہو پہنچایا جائے۔ پیریگرین ایک باز یا شاہین ہے، جسے دنیا کا تیز ترین پرندہ کہا جاتا ہے۔ اس کا سر سیاہ ، پیٹھ نیلی سرمئی اور نچلے حصے پر دھاریاں ہوتی ہیں۔

پیریگرین کا مقصد چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والی پہلی تجارتی خلائی تحقیقات بننا تھالیکن 8 جنوری کو اڑان کے چند گھنٹوں بعد ہی اس کا پروپلشن سسٹم بے ضابطگی کا شکار ہوگیا۔ لینڈر نے پروپیلنٹ کا اخراج شروع کر دیا۔ پیریگرین کی پہلی سیلفی نے مشن ٹیم کو اس کے پروپلشن سسٹم میں مسائل کا پتہ لگانے میں مدد کی۔ ایسٹروبوٹک کا خیال ہے کہ یہ رساو ایک پھنسے ہوئے والو کی وجہ سے ہوا ، جس کی وجہ سے آکسیڈائزر ٹینک پھٹ گیا۔ خلائی جہاز اپنی بیٹریوں کو چارج کرنے کے لیے سورج کی طرف اپنا رخ نہیں کر سکا۔

آسٹرو بوٹک نے ایک کامیاب تدبیر سے خلائی جہاز کا رخ سورج کی طرف کردیا، لیکن کچھ وقفہ بعد کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے تھرسٹرز ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ 40 گھنٹے تک کام کر سکتے ہیں۔اس وقت مقصد یہ ہے کہ پیریگرین کو چاند کی دوری کے اتنا قریب پہنچانا ہے جتنا ہم کر سکتے ہیں ، اس سے پہلے کہ وہ سورج کی طرف پوزیشن کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کھو دے ۔ پیریگرین کو 23 فروری کو چاند پر اترنا تھا، بدقسمتی سے، چاند پر سافٹ لینڈنگ کا کوئی امکان نہیں۔ اب مشن پیریگرین سے ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے جو مستقبل کے قمری لینڈنگ کے سفر کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ 23 فروری کی کامیاب کوشش تاریخی ہوتی کیونکہ کسی بھی نجی خلائی جہاز نے کبھی بھی زمین کے قریبی پڑوسی پر سافٹ لینڈنگ نہیں کی ہے۔

لانچ سے چاند کی رفتار تک

پیریگرین قمری لینڈر کو لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ وینچر ـ یونائیٹڈ لانچ الائنس (ULA)نے مشترکہ تعاون سے تیار کیا اور ولکن سینٹور (Vulcan Centaur) راکٹ کے ذریعےاڑان بھرنے کے بعد اپنے سفر کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ طاقتور نئے راکٹ ولکن سینٹور کی پہلی پرواز تھی۔ ULA کی اس نئےراکٹ کو پرانے راکٹوں کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ راکٹ نے توقع کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیریگرین قمری لینڈر کو ٹرانس لیونر انجیکشن مدار میں پہنچایا۔ اس میں عین وقت پر انجن کا جلنا شامل ہے جس نے پیریگرین لینڈر کو زمین کے مدار میں ایک ایسے راستے پر دھکیل دیا جو اسے تقریباً 384,400 کلومیٹر دور چاند کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہونے دیتا ہے۔ اس کے بعد پیریگرین لینڈر سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنے آن بورڈ تھرسٹرز کو فائر کرے گا لیکن پروپلشن سسٹم میں خامی کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوا۔

پیریگرین قمری لینڈر امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے پانچ سائنسی آلات لے کر جا رہا ہے ۔ اس میں وہ آلات شامل ہیں جو تابکاری کی سطح، سطح اور زیر زمین پانی کی برف، مقناطیسی میدان، اور گیس کی انتہائی کمزور تہہ جسے exosphere کہتے ہیں کی پیمائش کر سکیں۔ اس کے علاوہ جہاز میں پانچ چھوٹے لیونر روور ہیں، جن میں سے ہر ایک کا وزن 60 گرام سے کم ہے اور اس کی پیمائش 12 سینٹی میٹر ہے۔ پیریگرین پر ناسا کے سائنسی آلات اور مختلف تنظیموں اور ممالک کے 15 دیگر پے لوڈ ہیں۔ لینڈر پر کمرشل پے لوڈز میں یادداشتیں اور انسانی باقیات بھی شامل ہیں جنہیں صارفین نے چاند کی سطح پر بھیجنے کے لیے ادائیگی کی تھی۔ان میں جارج واشنگٹن، جان ایف کینیڈی اور ڈوائٹ آئزن ہاور سمیت سابق امریکی صدور کے ڈی این اے شامل ہیں جو اب خلا میں رہیں گے۔ اسٹار ٹریک کے خالق جین روڈن بیری کے ساتھ ساتھ ٹی وی سیریز کے سابق ستاروں کی راکھ بھی جہاز میں موجود ہے۔

لینڈر کی ناکامی کی خبروں کا جواب دیتے ہوئے ناسا نے کہا کہ وہ ایسٹروبوٹک کے ساتھ مل کر پروپلشن کے مسئلے کی بنیادی وجہ کی نشاندہی کرنے میں مصروف ہے۔ بعد ازاں ناسا نے اپنے آرٹیمس مون پروگرام میں مزید تاخیر کا اعلان کیااورستمبر 2026 میں 50 سالوں بعد پہلے خلاباز کی چاند پر لینڈنگ کا شیڈول بنایا کیونکہ اسپیس ایکس، لاک ہیڈ مارٹن اور دیگر نجی کمپنیوں کے خلائی جہاز کو ترقیاتی چیلنجوں کا سامنا ہے۔

پیریگرین لینڈر مختلف قسم کے صارفین کے لیے 20 پے لوڈ لے کر جا رہا ہے۔ اس میں ناسا بھی شامل ہے، جس نے اپنے کمرشل لیونر پے لوڈ سروسز (CLPS) پروگرام کے ذریعے پانچ سائنسی آلات کو جہاز میں رکھا ہے۔ پیریگین کا مشن پہلی CLPS کوشش تھی۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوتا ہے، تب دوسرا مشن اگلے مہینے ہوگااوراسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ ہیوسٹن کی کمپنی انٹیوٹو مشینز (Intuitive Machines) کے Nova-C لینڈر کو چاند کی طرف روانہ کرے گا۔

کمرشل لیونر پے لوڈ سروسز( CLPS) پروگرام

ایسٹروبوٹک ٹیکنالوجی ان 14 کمپنیوں میں سے ایک ہے جو کمرشل لیونر پے لوڈ سروسز( CLPS) پروگرام کے ذریعے ناسا کے پے لوڈز کو چاند تک لے جانے کے اہل ہیں۔ اس کا آغاز 2018 میں ہوا تھا اور اسے چاند کی سطح اور چاند کے مدار میں سائنس، ریسرچ اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی تحقیقات کے لیے تجارتی بازار قائم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ CLPS کے ذریعے،ناسا کا مقصد قمری ماحول کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنا اور قمری معیشت کو وسعت دینا ہے تاکہ آرٹیمس پروگرام کے تحت مستقبل میں خلابازوں کے مشنوں کی مدد کی جا سکے۔

ایسٹروبوٹک ٹیکنالوجی نے ناسا کے ساتھ10 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے معاہدے کے تحت پیرگرین تیار کیا ہے۔ اسے شروع سے ہی نسبتاً سستا بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا - اس کا مقصد ناسا کے اس وژن کو پورا کرنا تھا جس کے تحت نجی شعبے میں مقابلہ کو ترجیح دے کر چاند پر روبوٹک لینڈر لگانے کی لاگت کو کم کرناہے ۔ ایسٹروبوٹک کے سی ای او جان تھورنٹن نے سی این این کو بتایا کہ وہ اس پہلی لانچ کو ایک آزمائشی مشن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پیریگرین مشن پر کمائی سے زیادہ رقم خرچ ہوئی ہے۔ اگر مشن ناکام ہو گیا تو یہ کمپنی کے لیے کاروبار کا خاتمہ تونہیں ہوگا، لیکن یقینی طور پر چیلنجنگ ہوگا۔

پیریگرین کی قمری لینڈنگ کی کوشش کو ترک کرنا نہ صرف ایسٹروبوٹک کے لیے، بلکہ ناسا اور دیگر ممالک اور اداروں کے لیے بھی ایک بڑے نقصان کی نشاندہی کرتا ہے جو اس لیونرلینڈر پر سوار ہیں۔ ایسٹروبوٹک اب لینڈنگ مینیوور (تدابیر) کی جانچ نہیں کر سکے گی، جو کہ مختلف ممالک اور کارپوریشنز کی طرف سے کی جانے والی قمری لینڈنگ کی پچھلی کوششوں میں سفر میں ایک انتہائی مشکل مرحلہ ثابت ہوا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yqIcL6D

ہفتہ، 6 جنوری، 2024

’آدتیہ ایل 1‘ نے رقم کی تاریخ، کامیابی کے ساتھ سورج کے آخری مدار میں رکھا قدم، پی ایم مودی نے دی مبارکباد

اِسرو نے چاند کے بعد سورج پر بھی فتح حاصل کر لی ہے۔ نئے سال میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) نے تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے ’آدتیہ ایل 1‘ سیٹلائٹ کو سورج کے قریبی مدار ’ایل 1 پوائنٹ‘ میں کامیابی کے ساتھ داخل کر دیا ہے۔ اب ہندوستان کے پہلے سورج مشن کی زمین سے دوری 15 لاکھ کلومیٹر ہے۔ 2 ستمبر 2023 کو شروع ہوا آدتیہ ایل 1 کا یہ سفر ختم ہو چکا ہے اور اب وہ ’ایل 1 پوائنٹ‘ مدار میں رہتے ہوئے سورج پر اپنی نظر بنائے رکھے گا اور کئی راز کھولے گا۔ تقریباً 400 کروڑ روپے کا یہ مشن اب ہندوستان سمیت پوری دنیا کے سیٹلائٹس کو شمسی طوفانوں سے بچائے گا۔

اِسرو کی اس کامیابی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے مبارکباد پیش کی ہے اور اس سلسلے میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ بھی کیا ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان نے مزید سنگ میل حاصل کر لیا۔ ہندوستان کا پہلا شمسی مشن آدتیہ-ایل 1 اپنی منزل تک پہنچ گیا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’’یہ ہمارے سائنسدانوں کی انتہائی پیچیدہ خلائی مشنوں میں سے ایک کو سمجھنے میں انتھک لگن کا ثبوت ہے۔ میں اس غیر معمولی کارنامے کی تعریف میں ملک کے ساتھ شامل ہوں۔ ہم انسانیت کے فائدے کے لیے سائنس کے نئے محاذوں پر آگے بڑھتے رہیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ ’آدتیہ ایل 1‘ کا سفر 2 ستمبر 2023 کو شروع ہوا تھا۔ تقریباً 5 ماہ بعد 6 جنوری 2024 کی شام یہ سیٹلائٹ ایل 1 پوائنٹ پر پہنچ گیا۔ آدتیہ ایل 1 اب اس ’ایل 1‘ پوائنٹ کے چاروں طرف موجود سولر ہیلو آربٹ میں تعینات ہو چکا ہے۔ ہیلو آربٹ میں ڈالنے کے لیے آدتیہ ایل 1 سیٹلائٹ کے تھرسٹرس کو تھوڑی دیر کے لیے آن کیا گیا۔ اب آدتیہ سوریہ کی تحقیق کر رہے ناسا کے چار دیگر سیٹلائٹس کے گروپ میں شامل ہو چکا ہے۔ یہ سیٹلائٹس ہیں وائنڈ، ایڈوانس کمپوزیشن ایکسپلورر (اے سی ای)، ڈیپ اسپیس کلائمیٹ آبزرویٹری اور ناسا-ای ایس اے کا جوائنٹ مشن ’سوہو‘ یعنی سولر اینڈ ہیلیوسفیرک آبزرویٹری۔

قابل ذکر ہے کہ آدتیہ ایل 1 کو ’ایل 1 پوائنٹ‘ میں داخل کرنا ایک چیلنج بھرا عمل تھا۔ اس میں رفتار اور سمت کا درست تال میل ضروری تھا۔ اس کے لیے اِسرو کو یہ جاننا ضروری تھا کہ ان کا اسپیس کرافٹ کہاں موجود تھا، کہاں ہے، اور کہاں جائے گا۔ سیٹلائٹ کو اس طرح ٹریک کرنے کے پروسیس کو آربٹ ڈٹرمنیشن کہتے ہیں۔ آدتیہ ایل 1 مشن کی پروجیکٹ ڈائریکٹر نگار شازی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ یہ مشن صرف سورج کی تحقیق کرنے میں مدد نہیں کرے گا بلکہ 400 کروڑ روپے کا یہ پروجیکٹ شمسی طوفانوں کی جانکاری بھی دے گا۔ اس سے ہندوستان کے پچاسوں ہزار کروڑ روپے کے پچاسوں سیٹلائٹ کو محفوظ کیا جا سکے گا۔ جو بھی ملک اس طرح کی مدد مانگے گا، انھیں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔ یہ پروجیکٹ ملک کے لیے بے حد ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FC4ZSa6