جمعہ، 19 جولائی، 2024

مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ سروس میں خرابی، دنیا بھر میں لیپ ٹاپ ٹھپ ہو گئے، ایئرلائنز بھی متاثر

مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ میں اچانک خرابی پیدا ہو جانے کی وجہ سے پوری دنیا کو تکنیکی خرابی کا سامنا ہے اور دنیا بھر کی ایئرلائنز اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ صارفین کو مائیکروسافٹ 360، مائیکروسافٹ ونڈوز، مائیکروسافٹ ٹیمز، مائیکروسافٹ ایزور، مائیکروسافٹ اسٹور اور مائیکروسافٹ کلاؤڈ سے چلنے والی خدمات میں مسائل کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مائیکرو سافٹ کے سرورز ڈاؤن ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں ونڈوز لیپ ٹاپ کام نہیں کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ایئر لائنز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین اس حوالے سے شکایت کر رہے ہیں۔

اسپائس جیٹ اور انڈیگو کو بھی اسی طرح کے تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ سرور کے مسائل کی وجہ سے خدمات روک دی گئی ہیں۔ ہوائی اڈے پر چیک ان اور چیک آؤٹ کا نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ بکنگ سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔

کئی ممالک میں نہ صرف ایئر لائنز بلکہ بینکنگ سروسز، ٹکٹ بکنگ اور اسٹاک ایکسچینج بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے امریکی ایئرلائنز سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ امریکہ کے کئی حصوں میں ایمرجنسی سروس 911 بھی متاثر ہوئی ہے اور ہنگامی کال سینٹر کی خدمات میں دشواری پیدا ہو گئی۔

کمپنی کے فورم پر پن کی گئی رپورٹس اور پیغامات کے مطابق بہت سے ونڈوز صارفین کو حالیہ کراؤڈ اسٹرائیک اپ ڈیٹ کے بعد بلیو اسکرین آف ڈیتھ کی خرابی (بی ایس او ڈی ایرر) کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو تقریباً 10:30 کے بعد بہت سے صارفین کے لیپ ٹاپ دوبارہ شروع (ری اسٹارٹ) ہونے لگے۔ شروع میں ایسا لگتا تھا کہ یہ ایک عام اپڈیٹ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ لیکن یہ حالت تقریباً تمام ونڈوز لیپ ٹاپس میں یکے بعد دیگرے دیکھی گئی۔ اس کے بعد لیپ ٹاپ پر نیلی اسکرین نظر آ رہی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/6LWQkBu

اتوار، 14 جولائی، 2024

ٹائٹینک: جہاز کے ملبے کی ڈیجیٹل فوٹوگرافی

امیجنگ ماہرین، سائنس دانوں اور مورخین کی ایک ٹیم 12جولائی کو سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کے لیے روانہ ہوئی ہے تاکہ تباہ شدہ جہاز کے ملبے کا اب تک کا سب سے تفصیلی فوٹوگرافی کا ریکارڈ اکٹھا کیا جا سکے۔ یہ ٹیم ٹائٹینک کے ڈوبنے کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے کے لیے جہاز کے ہر کونے کو اسکین کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔ پچھلے سال اوشین گیٹ سانحے کے بعد ٹائٹینک کا یہ پہلا تجارتی مشن ہے۔ اس مشن میں کھوئے ہوئے جہاز کو دیکھنے کی کوشش کے دوران ایک آبدوز میں سوار پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اوشین گیٹ سانحے کے مہلوکین اور 1500 مسافروں اور عملے کے لیے جو 1912 میں ٹائٹینک کے ساتھ ڈوب گئے تھے، آنے والے دنوں میں سمندر میں ایک مشترکہ یادگاری تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

نئی مہم اٹلانٹا، جارجیا میں مقیم آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈ نامی امریکی کمپنی کی طرف سے انجام دی جا رہی ہے جس کے پاس ٹائٹینک سے اشیاء کی بازیابی کے حقوق ہیں اور جس نے آج تک ٹائٹینک کے ملبے سے تقریباً 5500 اشیاء نکالی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تازہ ترین مہم خالصتاً ایک جائزہ مشن ہے۔ جس میں دو روبوٹک گاڑیاں لاکھوں ہائی ریزولوشن تصاویر لینے اور تمام ملبے کا تھری ڈی ماڈل بنانے کے لیے سمندر کی تہہ میں غوطہ لگائیں گی۔ بی بی سی نے مہم کے ارکان سے امریکی شہر پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ کی بندرگاہ پر ملاقات کی، جس کے دوران شریک مہم کے سربراہ ڈیوڈ گیلونے بتایا کہ ان کی ٹیم ملبے کو ایک ایسی وضاحت اور درستگی کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہے جیسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ لاجسٹک جہاز ڈینو چوئسٹ شمالی بحر اوقیانوس میں اس آپریشن کے لیے اڈہ کے طور پر استعمال ہوگا۔ موسم نے اجازت دی تولاجسٹک جہاز 3800 میٹر نیچے پانی میں پڑے ٹائٹینک کے ملبے کے اوپر 20 دن گزارے گا ۔ ٹیم کو امید ہے کہ یہ چند ہفتے پُرجوش ثابت ہوں گے۔

اوشین گیٹ آبدوز پر ہلاک ہونے والوں میں سے ایک فرانسیسی پال ہنری نارجیولیٹ تھے۔ وہ آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈ میں تحقیق کے ڈائریکٹر تھے اور اس مہلک مہم کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے اعزاز میں سمندری تہہ پر ایک تختی رکھی جائے گی۔ پال ہینری کے دوست اور مورخ روری گولڈن، جو ڈنو چوئسٹ پر چیف مورال افسر ہوں گے نے بتایا کہ ایکسپلوریشن مشکل کام ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ایک مہم ہے جس میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی خواہش رہتی ہے۔ اور ہم یہ سب اس جذبے سے کر رہے ہیں کہ پال ہینری مسلسل تلاش کا جذبہ رکھتے تھے۔

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو 15 اپریل 1912 کی رات کو مشہور جہاز ٹائٹینک کے ڈوبنے کی کہانی اور اس کے کینیڈا کے مشرق میں واقع ایک برفانی تودے سے ٹکرانے سے واقف نہ ہوں۔ اس سانحہ کے بارے میں بے شمار کتابیں، فلمیں اور دستاویزی فلمیں موجود ہیں۔ اگرچہ 1985 میں دریافت ہونے کے بعد سے ملبے کی جگہ بار بار مطالعہ کا ہدف رہی ہے، لیکن اب بھی ایسا نہیں ہے جسے حتمی نقشہ قرار دیا جا سکے۔ حالانکہ ٹوٹے ہوئے جہاز کے کمان اور سخت حصوں کے متعلق اچھی معلومات ہے، لیکن جہاز کے آس پاس ملبے کے وسیع علاقے ہیں جن کا صرف سرسری معائنہ ہوا ہے۔

نئی مہم کے دوران دو چھ ٹن کی ریموٹ سے چلنے والی گاڑیاں (آر او وی) کام کو انجام دیں گی۔ ایک گاڑی کو الٹرا ہائی ڈیفینیشن آپٹیکل کیمروں اور ایک خصوصی روشنی کے نظام کے ساتھ نصب کیا گیا ہے جب کہ دوسری ایک سینسر پیکیج لے کر جائے گی جس میں لیڈار (لیزر) اسکینر شامل ہے۔ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ سمندری فرش کے تقریباً ایک سے سوا کلومیٹر حصے میں آگے پیچھے ٹریک کریں گی۔ امیجنگ پروگرام کے انچارج ایوان کوواکس کہتے ہیں کہ ان کے کیمرہ سسٹم کو ملی میٹر ریزولوشن فراہم کرنا چاہیے۔ اگر موسم ، کمپیوٹر، آر او وی اور کیمرے درست رہتے ہیں، تو ٹائٹینک اور ملبے کی اس حد تک واضح ڈیجیٹل تصاویر حاصل کر سکتے ہیں جن سے ریت کے ذرات کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب آر او وی پر میگنیٹومیٹر نصب کیا گیا ہے جو ملبے کی جگہ پر موجود تمام دھاتوں کا پتہ لگائے گا، یہاں تک کہ اس مواد کو بھی جو تلچھٹ میں نظروں سے اوجھل ہے۔ جیو فزکس کے انجینئر ایلیسن پراکٹر نے کہا کہ سمندر کے نیچے ٹائٹینک کی کمان کے ساتھ کیا ہوا، اس کا تعین کرنا ایک خواب ہے۔ امید ہے کہ ہم یہ اندازہ لگانے کے قابل ہو جائیں گے کہ آیا سمندری تہہ سے ٹکرانے پر کمان چکناچور گئی تھی یا نہیں، یا یہ واقعتاً نیچے تلچھٹ میں سالم دھنس گئی تھی۔

ٹیم کچھ معروف اشیاء کی حالت کا جائزہ لینا چاہتی ہے، جیسے کہ بوائلر جو اس وقت باہر نکلے جب ٹائٹینک دو حصوں میں ٹوٹ گیا تھا۔ ان اشیاء کو تلاش کرنے کی بھی خواہش ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پچھلے دوروں میں دیکھے گئے تھے۔ ان میں الیکٹرک کینڈیلابرا کے علاوہ اسٹین وے کا گرینڈ پیانوشامل ہے۔ موسیقی کے آلے کا لکڑی کا گھیر بہت پہلے بوسیدہ ہو چکا ہوگا، لیکن کاسٹ آئرن پلیٹ، یا فریم، جس نے تاروں کو پکڑ رکھا تھا، اب بھی موجود ہونا چاہیے، شاید کچھ چابیاں بھی۔ آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈکمپنی میں ٹائٹینک کے نوادرات کے ذخیرے کی تیاری میں شامل ٹوماسینا رے نے کہا کہ ان کے لیے مسافروں کا سامان، خاص طور پر ان کے بیگ، سب سے زیادہ دلچسپی کے حامل ہیں۔ یہ ٹائٹینک جہاز کےملبے کی جگہ کا نواں دورہ ہوگا۔ کمپنی نے حالیہ برسوں میں مارکونی ریڈیو آلات کے کچھ حصے کو لانے کی کوشش کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس نے ٹائٹینک ڈوبنے کی رات کو پریشانی کی کالیں (ڈسٹریس کالز)منتقل کی تھیں۔ لیکن فی الحال یہ اس مہم میں نہیں ۔

بہت سے لوگوں کے لیے ٹائٹینک ان 1500 لوگوں کی قبر ہے جو 1912 میں اس رات مر گئے تھے اور اسے ہاتھ نہیں لگایا جانا چاہیے، خاص طور پر اس کے اندرونی حصہ کو۔ کمپنی کے محقق جیمز پینکا نے تسلیم کیا اور کہا کہ یہ ہمیں معلوم ہے اور ہم لوگوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ ہم ٹائٹینک میں غوطہ لگاتے ہیں تاکہ ہم اس سے زیادہ سے زیادہ سیکھ سکیں۔ ایسا ہم انتہائی احترام کے ساتھ کرتے ہیں جیسا کہ کسی بھی آثار قدیمہ کے ساتھ کرنا چاہیے۔ لیکن ٹائٹینک کو یوں اکیلا چھوڑنا، اس کے مسافروں اور عملے کو تاریخ میں گم کر دینا، یہ سب سے بڑا سانحہ ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ZDsFiVO

جمعرات، 11 جولائی، 2024

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں پھنسی سنیتا ولیمس کی ویڈیو آئی سامنے، ہوا میں لہراتے بال اور چہرے پر تھی خوشی

ہند نژاد امریکی خلاباز سنیتا ولیمس اور بوچ ولمور ہفتوں سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انھیں اب تک زمین پر واپس آ جانا چاہیے تھا، لیکن فی الحال کچھ بھی یقینی نہیں کہ وہ کب تک واپس آئیں گے۔ سائنسداں فکر مند ہیں کیونکہ جس کیپسول دونوں کو واپس آنا تھا، اس میں موجود تکنیکی خامی کو دور کرنے کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ سنیتا ولیمس اور بوچ ولمور نے ایک پریس کانفرنس کر سبھی کی تشویش کو دور کر دیا ہے۔ اس ویڈیو میں سنیتا ولیمس کے بال لہرا رہے ہیں اور ان کے چہرے پر خوشی ظاہر ہو رہی ہے۔

دراصل بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ڈاکنگ کے بعد پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنیتا ولیمس اور ولمور نے کہا کہ انھیں پورا یقین ہے کہ بوئنگ اسٹارلائنر کیپسول انھیں گھر لے آئے گا۔ ولمور نے کہا کہ ’’میں پوری طرح (گھر واپسی کا) یقین کرتا ہوں اور ناکام ہونے کا تو کوئی متبادل ہی نہیں ہے، اس لیے ہم رُک رہے ہیں۔‘‘ اس درمیان ولمور نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ناسا اور بوئنگ کی طرف سے زمین پر تھرسٹر تجربات کی ہو رہی جانچ ان کی واپسی کے لیے بہت اہم ہے۔

واضح رہے کہ ناسا کے دونوں خلائی مسافر 5 جون کو فلوریڈا سے اسٹارلائنر کے ذریعہ زمین سے روانہ ہوئے تھے اور اگلے دن آئی ایس ایس (بین الاقوامی خلائی اسٹیشن) پر انھیں ڈاک کیا گیا۔ وہاں انھیں تقریباً آٹھ دن ہی گزارنے تھے، لیکن اسٹارلائنر میں آئی خامی نے ان کے مشن کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔ ان کے خلائی اسٹیشن تک پہنچنے کے دوران اسٹارلائنر کے 28 تھرسٹرس میں سے 5 خراب ہو گئے اور کئی دیگر خرابیاں آ گئی ہیں جن کو ٹھیک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JF0V83s

جمعہ، 5 جولائی، 2024

انسانی رویے نے مہلک بیکٹیریا کو وبائی مرض میں تبدیل کر دیا: تحقیق

لندن: ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’سیوڈوموناس ایروگینوسا‘ نامی ماحولیاتی بیکٹیریا پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا افراد میں ملٹی ڈرگ ریزسٹنس انفیکشن (وہ انفیکشن جس پر متعدد ادویات کا اثر نہیں ہوتا) کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ انفیکشن پچھلے 200 سالوں میں تیزی سے تیار ہوا اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی ٹیم نے کہا کہ انسانی رویے میں تبدیلیوں نے بیکٹیریا کو وبائی مرض میں تبدیل کرنے میں مدد کی جو کہ دنیا بھر میں ہر سال 500000 سے زیادہ اموات کے لیے ذمہ دار ہے، جن میں سے 300000 سے زیادہ اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

دائمی آبسٹرکٹیو پلمونری ڈزیز (سی او پی ڈی)، تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان، سسٹک فائبروسس (سی ایف)، اور غیر سی ایف برونکائٹس جیسے حالات والے لوگ خاص طور پر بیکٹیریا کے لیے حساس ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ بیکٹیریا سسٹک فائبروسس کے مریضوں کو کمزور مدافعتی نظام کی وجہ سے متاثر کرتا ہے۔

یہ جانچنے کے لیے کہ کس طرح سیوڈموناس ایروگینوسا ایک ماحولیاتی جاندار سے انسانوں تک پہنچا، سائنسدانوں نے دنیا بھر میں متاثرہ افراد، جانوروں اور ماحول سے لیے گئے تقریباً 10000 نمونوں کے ڈی این اے ڈیٹا کی جانچ کی۔ سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والے ان کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ 10 میں سے 7 انفیکشن صرف 21 جینیاتی کلون یا نسل در نسل ہوتا ہے۔ یہ پچھلے 200 سالوں میں تیزی سے تیار ہوا اور پوری دنیا میں پھیل گیا۔

یہ بیکٹیریا بنیادی طور پر اس وقت پھیلا جب لوگوں نے گنجان آباد علاقوں میں رہنا شروع کیا، جہاں فضائی آلودگی کی وجہ سے پھیپھڑے زیادہ حساس ہو گئے۔ سسٹک فائبروسس مریضوں کے درمیان پھیلنے کے علاوہ، یہ دوسرے مریضوں میں بھی آسانی سے پھیل سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج میں ’یوکے سسٹک فائبروسس انوویشن ہب‘ کے ڈائریکٹر پروفیسر اینڈریس فلوٹو نے کہا، ‘‘سیوڈوموناس ایروگینوسا کے مطالعے نے ہمیں سسٹک فائبروسس کی حیاتیات کے بارے میں نئی ​​چیزیں سکھائی ہیں اور وہ اہم طریقے بھی بتائے ہیں جن سے ہم ممکنہ طور پر دیگر حالات میں حملہ آور بیکٹیریا کے خلاف اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/H3ghI9i

بدھ، 3 جولائی، 2024

ایکس کا مقابلہ نہیں کر پایا ہندوستانی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’کو‘! بانی نے دی بند کرنے کی اطلاع

نئی دہلی: دیسی سوشل میڈیا کہا جانے والا پلیٹ فارم ’کو‘ اب بند ہونے جا رہا ہے۔ کمپنی کے شریک بانی ایپرمئے رادھا کرشنن نے لنکڈاِن پوسٹ میں اس کی اطلاع دی ہے۔ خبر کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے ’کو‘ کو فروخت کرنے یا اس کے انضمام کی کئی کمپنیوں سے بات چیت ہو رہی تھی جس میں ’ڈیلی ہنٹ‘ بھی شامل ہے۔ بات چیت کامیاب نہیں ہونے کے بعد کمپنی کے بانی نے ’کو‘ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’کو‘ کو ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ایپرمئے رادھا کرشنن اور مینک بداوتکا نے 2019 میں ’کو‘ تیار کیا تھا اور مارچ 2020 میں اسے لانچ کیا تھا۔ ’کو‘ اس وقت سب سے زیادہ سرخیوں میں آیا جب دہلی کی سرحدوں پر تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج شروع ہوا۔ اس دوران مرکزی حکومت اور ’ایکس‘ کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے احتجاج کی ویڈیوز کو ہٹانے کے معاملے میں تنازعہ پیدا ہو گیا تھا اور حالات ایسے ہو گئے تھے کہ حکومت کی پریس ریلیز بھی ’ایکس‘ کے بجائے ’کو‘ پر آنے لگی تھی۔

’کو‘ کے بانی نے ’لِنکڈاِن‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’ہماری طرف سے یہ حتمی اپ ڈیٹ ہے۔ شراکت داری کے تعلق سے چل رہی ہماری بات چیت ناکام رہی ہے اور ہم عام لوگوں کے لیے اپنی خدمات بند کرنے جا رہے ہیں۔ ہم نے بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں، کارپوریٹ گروپس اور میڈیا ہاؤسز کے ساتھ شراکت داری کے لیے بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن بات چیت کا نتیجہ جیسا ہم چاہتے تھے نہیں نکلا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’زیادہ تر لوگ صارف کے تیار کردہ مواد کے ساتھ ایک سوشل میڈیا کمپنی سے معاہدہ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ کچھ معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب پہنچنے کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔ ہم ‘ایپ‘ کو جاری رکھنا چاہتے تھے  لیکن سوشل میڈیا  ایپ چلانے کے لیے ٹیکنالوجیکل اختراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں اس کے بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hB4ULMl

منگل، 2 جولائی، 2024

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چین کی اے آئی سے متعلق قرارداد منظور

بیجنگ: اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی نے چین کی جانب سے اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی صلاحیت کو بڑھانے کے حوالے سے پیش کی گئی بین الاقوامی تعاون سے متعلق ایک قرارداد منظور کر لی۔ اس قرارداد پر 140 سے زائد ممالک نے مشترکہ طور پر دستخط کئے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اے آئی کو تیار کرتے وقت انسانوں کو ترجیح دینے، بھلائی کے لیے ترقی کرنے اور عوام کو فائدہ پہنچانے کے اصول کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی تعاون اور ٹھوس کارروائی سے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اپنی اے آئی صلاحیتوں کو بڑھانے اور عالمی حکمرانی میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور آواز کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ یہ ایک کھلا، منصفانہ اور غیر امتیازی کاروباری ماحول پیدا کرے گا اور بین الاقوامی تعاون میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرے گا۔

قرارداد کا مقصد اے آئی کی شمولیت پر مبنی، جامع اور پائیدار ترقی کو حاصل کرنا اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے کے حصول کی حمایت کرنا ہے۔ اس قرارداد کی منظوری سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے وسیع تر رکن ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کے ذریعے اے آئی کی عالمی گورننس کو مضبوط بنانے پر اتفاق رائے ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/A1C8KVH

ہفتہ، 29 جون، 2024

روسی سیٹلائٹ کا 100 سے زائد ٹکڑوں میں ٹوٹنا خطرناک، خلائی مسافروں کو لینی پڑی ایمرجنسی پناہ

روس کا ایک سیٹلائٹ (RESURS-P1) جو کہ خلاء میں غیر فعال تھا، وہ 26 جون 2024 کو ٹوٹ کر 100 سے زیادہ ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ اس کے ٹکڑے خلاء میں ہر طرف پھیل چکے ہیں۔ یہ واقعہ انتہائی فکر انگیز اور خطرناک ہے، اس کی وجہ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلائی مسافروں کو ایمرجنسی پناہ لینی پڑی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ خلاء میں ہوئے اس خوفناک حادثہ کا سب سے زیادہ اثر ہند نژاد امریکی سائنسداں اور خلاباز سنیتا ولیمس پر پڑا ہے۔ سنیتا اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے مشن کے دوران پھنس گئی ہیں۔ سنیتا ولیمس اپنے ساتھی خلاباز بوچ ولمور کے ساتھ خلائی اسٹیشن میں پناہ لیے ہوئی ہیں جو کہ بوئنگ کے اسٹارلائنر کیپسول میں سوار ہو کر وہاں پہنچی تھیں۔

روسی سیٹلائٹ کے ٹکڑے ہونے کے بعد سنیتا اور ان کے ساتھی خلابازوں کو فوراً بین الاقوائی خلائی اسٹیشن پر پناہ لینی پڑی۔ اس واقعہ کے بعد سنیتا اور ان کے ساتھیوں کو خلا سے زمین پر واپس آنے میں اب کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اس حادثہ کے بعد سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی خلائی مسافروں کی زمین پر واپسی سے متعلق غیر یقینی والی حالت بڑھ گئی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ روسی سیٹلائٹ کے ٹوٹنے کے بعد اس کا ملبہ 100 سے بھی زیادہ ٹکڑوں میں بکھر کر ہر طرف پھیل گیا ہے۔ یہ خلا میں بہت تیزی کے ساتھ اِدھر اُدھر بے قابو انداز میں دوڑ رہے ہیں۔ یہ کسی بھی وقت کسی بھی دیگر سیٹلائٹ سے ٹکرا کر اسے بھی تباہ کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے سنیتا ولیمس کے مشن کی مدت کار کو بڑھا دیا گیا ہے۔ ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیاں روسی سیٹلائٹ کے ملبہ کی نگرانی کر رہی ہیں اور اس مشکل حالت سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N4gkUOl

جمعہ، 28 جون، 2024

بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا جوانی میں پھیپھڑوں کی صحت کے لیے نقصان دہ: تحقیق

نئی دہلی: ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا مستقبل میں پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ محققین نے آلودگی کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (یو ایس سی) کے سائنسدانوں نے پایا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والے لوگ جوان میں برونکائٹس کی علامات جیسے دائمی کھانسی، بند ناک یا بلغم کی پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان بیماریوں کا سردی لگنے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

امریکن جرنل آف ریسپریٹری اینڈ کلینکل کیئر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1308 بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ ان کی بالغ ہونے پر تشخیص کے وقت اوسط عمر 32 سال تھی۔ تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ شرکاء میں سے ایک چوتھائی گزشتہ 12 مہینوں میں برونکائٹس کی علامات سے پریشان رہے۔

کیک اسکول آف میڈیسن میں آبادی اور صحت عامہ کے سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر، ایم ڈی ایریکا گارسیا نے کہا، ’’نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی سے ہمارے نظام تنفس پر زیادہ لطیف اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو جوانی میں بھی ہمیں متاثر کر سکتے ہیں۔‘‘

برونکائٹس کی علامات کی موجودگی پیدائش اور 17 سال کی عمر کے درمیان دو قسم کے آلودگیوں کے سامنے آنے سے وابستہ تھی۔ ایک گروپ میں ہوا میں موجود باریک ذرات جیسے دھول، پولن، جنگل کی آگ سے نکلنے والی راکھ، صنعتی اخراج اور گاڑیوں کے دھوئیں کے ذرات شامل ہیں۔جبکہ دوسرا نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ہے، جو آٹوموبائلز، ہوائی جہازوں، کشتیوں اور پاور پلانٹس میں دہن کی ایک ضمنی پیداوار ہے، جو پھیپھڑوں کے کام کو نقصان پہنچانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

اس تحقیق میں جن بچوں پر توجہ مرکوز کی گئی جو فضائی آلودگی کے اثرات کے حوالے سے خاص طور پر حساس ہوتے ہیں۔ ان کی سانس اور مدافعتی نظام اب بھی ترقی کر رہے ہیں اور وہ بالغوں کے مقابلے میں اپنے جسمانی وزن کے مقابلے میں زیادہ سانس لیتے ہیں۔

ٹیم نے یہ بھی پایا کہ بچپن میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور ذرات کی نمائش سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہیں، تحقیق کے مطابق، بالغوں میں برونکائٹس کا اثر ان لوگوں میں زیادہ تھا جنہیں بچپن میں دمہ کی تشخیص ہوئی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GuM7IWw

بدھ، 26 جون، 2024

ہندوستان میں 5جی صارفین کی تعداد 2029 تک 84 کروڑ تک پہنچ جائے گی: رپورٹ

نئی دہلی: ہندوستان میں 5جی صارفین کی تعداد 2029 کے آخر تک 84 کروڑ کے قریب پہنچ سکتی ہے، جو موبائل صارفین کی تعداد کا 65 فیصد ہوگی۔ یہ اطلاع بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔ ایرکسن موبلٹی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں موبائل صارفین کی تعداد 2029 تک بڑھ کر 1.3 بلین ہونے کا امکان ہے۔

ایرکسن کے ایگزیکٹو وی پی (وائس پریزیڈنٹ) اور ہیڈ آف نیٹ ورکس فریڈرک جیڈلنگ نے کہا کہ جون 2024 کی ایرکسن موبلٹی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 5جی موبائل سبسکرپشنز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اچھے موبائل براڈ بینڈ اور فکسڈ وائرلیس تک رسائی کلیدی استعمال کے معاملات ہیں، جس سے اشارے ملتے ہیں کہ 5جی کی صلاحیتیں سروس فراہم کرنے والوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

عالمی سطح پر 2029 کے آخر تک 5جی سبسکرپشنز کی تعداد 5.6 بلین تک پہنچنے کی امید ہے۔ اس رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2029 کے آخر تک عالمی سطح پر کل موبائل صارفین میں سے 60 فیصد 5جی صارفین ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مڈ بینڈ کی تعیناتی بڑے پیمانے پر کی گئی ہے اور 2023 کے آخر تک یہ کوریج 90 فیصد آبادی تک تھی۔ سال 2023 کے آخر تک 5جی صارفین کی تعداد 119 ملین تک پہنچ گئی تھی، جو کہ کل صارفین کا 10 فیصد تھا۔

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے ٹیلی کام خدمات کے لیے 96238.45 کروڑ روپے کے اسپیکٹرم کی نیلامی شروع کر دی ہے۔ اس میں مختلف بینڈز کے 10522.35 میگا ہرٹز کے اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔ اس نیلامی کے عمل میں بھارتی ایئرٹیل، ووڈافون آئیڈیا اور ریلائنس جیو انفوکام حصہ لے رہی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EBSPNci

منگل، 25 جون، 2024

خلائی تحقیق کے میدان میں چین نے رقم کی تاریخ، چاند کے قطب جنوبی سے نمونے لانے والا پہلا ملک بنا

چینی خلائی مشن چینگ،ای-6 کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس لوٹ آیا ہے۔ مشن اپنے ساتھ چاند کے قطب جنوبی سے قمری مٹی اور چٹانوں کے نمونے لے کر آیا ہے، جس کے ساتھ چین چاند کے قطب جنوب سے نمونے زمین پر لانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

چینگ،ای-6 مشن کا ری انٹری کیپسول اندرونی منگولیا کے خطے سیزوانگ بینر میں نمونوں کے ساتھ لینڈ کر گیا۔ چاند کے قیمتی نمونوں کے ساتھ زمین پر واپسی چینی خلائی پروگرام کے لیے بہت بڑی پیشرفت ہے۔ خیال رہے کہ 3 مئی کو چینگ ای مشن چاند کی جانب روانہ ہوا تھا اور 2 جون کو چاند کی اس سائیڈ پر اترا جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتی۔

رپورٹ کے مطابق چینگ،ای-6 مشن کا لینڈر چاند کے قطب جنوبی کے شمال مشرقی خطے میں واقع پول ایٹکن بیسن پر لینڈ ہوا اور 2 دن تک وہاں کی سطح اور چٹانوں سے نمونے جمع کرتا رہا۔ نمونے جمع کرنے کے بعد مشن کے لینڈر نے چاند کی سطح سے پرواز کر کے چاند کے مدار میں موجود آربٹر سے جڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد مشن نے زمین پر واپسی کا سفر شروع کیا اور 20 دنوں میں یہ مکمل کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ پہلی بار ہے جب چاند کے تاریک حصے سے نمونوں کو زمین پر لایا گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ، سوویت یونین اور چین کے مشن چاند سے نمونے زمین پر لا چکے ہیں لیکن یہ تمام اس سطح سے نمونے لائے تھے جو زمین سے نظر آتی ہے۔ چینگ،ای-6 کے ذریعے زمین پر واپس لائے گئے نمونوں سے چاند اور زمین کی ابتدائی تاریخ سے جڑے راز جاننے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق ان نمونوں سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ چاند کے بننے کا عمل کب شروع ہوا تھا۔

چینگ،ای-6 مشن کے سے ہٹ کر بھی چین کی جانب سے رواں دہائی کے دوران کئی مشنز چاند پر بھیجے جائیں گے، جن میں چینگ،ای-7 روبوٹیک مشن کو چاند کے قطب جنوبی پر بھیجا بھی شامل ہے۔ یہ مشن وہاں برف کے آثار دریافت کرے گا جبکہ خطے کے ماحول اور موسم کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔ چینگ،ای-8 مشن سے چینگ،ای مشن کا اختتام ہوگا جو وہاں ممکنہ طور پر ریسرچ اسٹیشن کے قیام کے لیے بھیجا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rh2f90O

جمعرات، 20 جون، 2024

امریکہ میں روسی کمپنی کسپرسکی کے اینٹی وائرس سافٹ ویئر پر پابندی عائد

واشنگٹن: امریکہ نے ماسکو میں قائم سائبر سیکورٹی کمپنی کسپرسکی کے بنائے گئے اینٹی وائرس سافٹ ویئر کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ میں کمپنی کی کارروائیاں ’روسی حکومت کی جارحانہ سائبر صلاحیتوں اور کسپرسکی کے آپریشنز پر اثر انداز ہونے یا اس کی ہدایت کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے‘ قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہیں۔

بیان میں کہا گیا، ’’کسپرسکی اب معمول کی دیگر سرگرمیوں کے علاوہ امریکہ میں اپنا سافٹ ویئر فروخت نہیں کر سکے گی اور نہ ہی اسے پہلے سے استعمال میں آنے والے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔‘‘

محکمہ نے کہا کہ کسپرسکی کے وسیع پیمانے پر انسٹال کردہ اینٹی وائرس سافٹ ویئرز کے ذاتی اور پیشہ ور صارفین کو خطرات کی وجہ سے متبادل تلاش کرنا چاہئے۔

یو ایس سکریٹری آف کامرس جینا ریمنڈو نے کہا، ’’روس نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ کسپرسکی لیب جیسی روسی کمپنیوں کا استحصال کرنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے، تاکہ وہ حساس امریکی معلومات کو جمع کر سکے اور اسے ہتھیار بنا سکے۔ ہم امریکی قومی سلامتی اور امریکی عوام کی حفاظت کے لیے اپنے پاس موجود ہر آلے کا استعمال جاری رکھیں گے۔‘‘

خیال رہے کہ امریکہ میں کسپرسکی سافٹ ویئر کی فروخت پر 20 جولائی سے پابندی عائد کر دی جائے گی اور روس کی یہ ملٹی نیشنل کمپنی 29 ستمبر تک موجودہ صارفین کو سافٹ ویئر اپ ڈیٹ فراہم کر سکے گی۔ کسپرسکی کا سافٹ ویئر صارفین کو ٹروجن ہورس، اسپائی ویئر اور دیگر سائبر خطرات سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

امریکہ میں سرکاری آلات پر اس کی تنصیب پر 2017 سے پابندی عائد ہے۔ جرمنی میں بھی وفاقی دفتر برائے انفارمیشن سیکورٹی نے سافٹ ویئر کے استعمال کے خلاف خبردار کیا ہے۔ تاہم، کسپرسکی نے اس کی مصنوعات سے کوئی طرح کا خطرہ لاحق ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نجی عالمی سائبر سیکورٹی کمپنی ہے جس کا روسی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yYxsXQj

ہفتہ، 15 جون، 2024

جوہری توانائی کے بغیر کاربن سے چھٹکارا ناممکن

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں 2023 کی اقوام متحدہ کی آب و ہوا کی کانفرنس (کاپ 28) میں جوہری توانائی کی شبیہہ کو اس وقت تقویت ملی، جب 198 ممالک نے جوہری توانائی کو کم اخراج والی ٹیکنالوجیز کی فہرست میں شامل کیا، جن کو بڑھانے کی ضرورت ہے اگر دنیا فوسل فیول(جیواشم ایندھن) پر انحصار ختم کرنا چاہتی ہے ۔ اس کانفرنس سے جوہری توانائی کی ضرورت اور افادیت کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا۔ لیکن جوہری پاور پلانٹس میں توانائی پیدا کرنے کے عمل سے پیدا ہونے والا انتہائی تابکار فضلہ، اور خرچ شدہ ایندھن (جوہری توانائی کے حصول میں صرف ہونے والا ایندھن) کا مسئلہ وقتاً فوقتاً تشویش کا باعث رہا ہے۔

خرچ شدہ ایندھن کے محفوظ انتظام سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے پہلے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے جوہری توانائی کی نمو ، اور اس توانائی کو سمجھنے میں کاپ28 کے اعلامیہ سے جو فرق پڑ سکتا ہے پر گفتگو کرتے ہوئے ’اقوام متحدہ خبر نامہ‘ کو بتایا کہ جوہری توانائی ماحول دوست توانائی کے حصول میں پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جوہری توانائی کو عام کیے بغیر کاربن کے اخراج پر قابو پانا ممکن نہیں، تاہم اس مقصد کے لیے حکومتوں کو اس توانائی سے وابستہ منفی تاثر کو دور کرنا ہو گا۔ جوہری توانائی کئی طرح کی قابل تجدید توانائی سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ دنیا کو اصل خطرہ معدنی ایندھن سے ہے جو کرہ ارض کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔

اگرچہ جوہری توانائی زیادہ تر بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن اس کے بارے میں تاثر کچھ اچھا نہیں ہے۔ اس کی وجہ 1985 میں موجودہ یوکرین کے علاقے چرنوبل اور 2011 میں جاپان کے شہر فوکوشیما میں پیش آنے والے جوہری حادثات ہیں۔ علاوہ ازیں، یوکرین پر روس کے حملے کے بعد وہاں ژیپوریژیا جوہری پلانٹ کو لاحق خطرات نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا ہے۔

گروسی کے مطابق عوامی تاثر، پالیسی اور جوہری توانائی کے بارے میں سمجھ بوجھ کے حوالے سے دبئی اعلامیے کی بہت اہمیت ہے۔ جوہری توانائی ماحول دوست توانائی کے حصول میں پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آج دنیا میں جتنی ماحول دوست اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سے پاک توانائی پیدا ہو رہی ہے اس میں ایک تہائی سے زیادہ حصہ جوہری توانائی کا ہے۔ آج یورپ میں پیدا ہونے والی مجموعی توانائی میں نصف حصہ جوہری توانائی کا ہے۔ اسی لیے ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں اس کی خاص اہمیت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی سال تک چرنوبل اور پھر فوکوشیما کی وجہ جوہری توانائی کے بارے میں بہت سی غلط اطلاعات عام رہی ہیں جنہوں نے اس توانائی کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بھی پیدا کی ہے۔

اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں بھی جوہری توانائی کے خلاف مزاحمتی رویہ دیکھنے کو ملا ہے حتیٰ کہ اسے سرے سے مسترد بھی کیا گیا ہے۔ اسی لیےکاپ 28میں جوہری توانائی کو قابل تجدید توانائی قرار دیا جانا ایک بڑا قدم تھا۔ اس موقع پر بہت سے اہم ممالک نے اپنی ہاں پیدا ہونے والی توانائی میں جوہری توانائی کی شرح تین گنا بڑھانے کے وعدے بھی کیے۔ گروسی نے اسے حقیقت پسندی سے تعبیر کیا۔ علاوہ ازیں موسمیاتی تبدیلی پر سائنس دانوں کے بین الاقوامی پینل نے اعتراف کیا ہے کہ جوہری توانائی کے بغیر 2050 تک کاربن کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔ اسی لیے جوہری توانائی کی پیداوار بڑھے گی اورآئی اے ای اے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنائے گا کہ یہ اضافہ محفوظ طریقے سے ہو اور اس کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔

جوہری توانائی کے بارے میں پھیلی غلط اطلاعات کی مثال دیتے ہوئے گروسی نےکہا کہ ایک عام سوچ یہ ہے کہ فوکوشیما جوہری حادثے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ اس وقت جاپان میں آنے والے سونامی سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے لیکن تابکاری سے ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اعدادوشمار کے مطابق جوہری توانائی کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد دیگر طرح کی قابل تجدید توانائی کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ گروسی نے دلیل دی کہ بہت سے لوگ فضائی حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن لوگ جہازوں پر سفر کرنا ترک نہیں کرتے۔ لہذا حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا جوہری توانائی پر 100 فیصد انحصار کرنے لگے، بلکہ بیک وقت کئی طرح کی توانائی سے موثر طور پر کام لینا ہوگا جس میں جوہری توانائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔

گروسی نے اعتراف کیا اگرچہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں ایک اہم مسئلہ ترقی پذیر ممالک کو قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مالی مدد دینا ہے لیکن جوہری بجلی گھروں کے لیے خطیر رقم درکار ہے اور اس وقت عالمی سطح پر جوہری توانائی کے لیے مالیاتی وسائل کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ان پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ گروسی کے مطابق ہندوستان سے چین، ارجنٹائن سے برازیل، میکسیکو، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ تک دنیا کے جنوبی حصے میں جوہری توانائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ افریقہ کے متعدد ممالک بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ماڈیولر ری ایکٹروں کی بدولت یہ توانائی ان ممالک کے لیے زیادہ سستی ہے۔

آئی اے ای اے جوہری توانائی کے فوائد اور اس کے امکانات کی بات کرتا ہے۔ ساتھ ہی ادارہ جوہری سلامتی کا بھی ذمہ دار ہے۔ دونوں ذمہ داریاں بظاہر ایک دوسرے سے متضاد ہیں لیکن گروسی اسے کسی اور زاویے سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یوکرین میں جوہری تنصیبات (ژیپوریژیا جوہری پاور پلانٹ) پر قبضہ ہو چکا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ دراصل جنگ ہے جو اس پلانٹ کے ارد گرد ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 440 جوہری ری ایکٹر کام کر رہے ہیں جن میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں آیا۔ اسی لیے آئی اے ای اے یوکرین میں کسی حادثے سے بچنے کے لیے اتنی فعال رہی ہے۔ کسی بھی اہم صنعتی سرگرمی کی طرح جوہری توانائی کا حصول بھی خطرات مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جوہری فضلہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اسے ٹھکانے لگانے کا اچھی طرح انتظام کیا جاتا ہے اور اس کی مقدار محدود ہوتی ہے۔ تجارتی بنیادوں پر 70 سال سے جاری کام میں کبھی اس فضلے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ اس کے بجائے معدنی ایندھن کرہ ارض کو لاحق بہت بڑے خطرات کا سبب ہے۔

آئی اے ای اےکی لیبارٹریوں میں سائنسی اور جوہری تحقیق جاری ہے۔ ایجنسی اونکولوجی اور ریڈیو تھراپی جیسے شعبوں میں ترقی پذیر ممالک کی جوہری ٹیکنالوجی سے کام لینے کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مدد مہیا کرتی ہے۔ جوہری توانائی ایریڈی ایشن (شعاع ریزی) ٹیکنالوجی کے ذریعے غذائی تحفظ بھی مہیا کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فصلوں کو گلنے سڑنے سے بچانے، خشک سالی کا مقابلہ کرنے والے بیجوں کی تیاری، کیڑے مکوڑوں کا خاتمہ کرنے اور زکا وائرس یا ملیریا کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کووڈ۔19 وبا کے بعد جرثوموں اور جانوروں سے پھیلنے والے وائرس اور امراض کی بروقت نشاندہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ آئی اے ای اے کا دوسرا رخ ہے جہاں جوہری توانائی سے ترقی کے کام میں مدد لی جا رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/aPqjstg

ہفتہ، 8 جون، 2024

چین کا قمری مشن واپسی سفر پر روانہ

چین کا بغیر عملے کاچینگ 6 مشن مسلسل تاریخ رقم کر رہا ہے۔ اس نے چاند کے دور یا تاریک پہلو جو زمین سے نظر نہیں آتا، سے پہلی مرتبہ نمونے اکٹھے کیے ہیں اور ان نمونوں کو مدار میں خلائی جہاز کے درمیان منتقل کیا ہے۔ یہ منتقلی نمونوں کے سفر کے اگلے مرحلے یعنی زمین پر واپسی کے لیے ضروری تھی ۔ مشن کے دو خلائی جہازوں نے 6 جون کو قمری مدار میں ڈوکنگ کی اور حاصل کئے گئے نمونے زمین پر واپسی کے ماڈیول میں کامیابی سے منتقل کیے۔ ’چینگ 6 پراب‘ کے ایسنڈر اور اس کے آربیٹر ماڈیول کی کامیاب ملاقات اور ڈوکنگ مقامی وقت دوپہر 2:48 بجے ہوئی۔ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) کے مطابق چاند کے نمونے کے کنٹینر کی محفوظ منتقلی 3:24 بجے تک مکمل ہو گئی۔ یہ دوسرا موقع تھا جب کسی چینی خلائی جہاز نے چاند کے مدار میں ملاپ اور ڈوکنگ حاصل کی تھی۔ اس سے قبل چینگ 5 نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ چینگ 6 ڈوکنگ کی فوٹیج سی این ایس اے نے اپنے ویبو اکاؤنٹ پر شائع کی اور سوشل میڈیا (ٹویٹر) کے ذریعے شیئر کی ہے۔

سی این ایس اے کا تازہ ترین مشن تاریخ رقم کرنے والا کوئی پہلا مشن نہیں ہے۔ 2 جون کوچینگ 6 غیر دریافت شدہ اپولو بیسن کریٹر میں اترا، جو کہ چاند کے دور کی طرف بڑے جنوبی قطب ایٹکن بیسن کے اندر واقع ہے۔ اس وقت چاند کے دور یا تاریک سمت کی طرف سافٹ لینڈنگ کرنے والا یہ صرف دوسرا مشن بن گیا۔ اس مشکل آپریشن کو انجام دینے کا پچھلا مشن چینگ4 روبوٹک لینڈر اور روور تھا - یعنی اب تک، چین واحد ملک ہے جس نے چاند کے دور یا تاریک سمت پر کامیابی سے سافٹ لینڈنگ کی ہے۔

چینگ 6 راکٹ - جو مشن کے لینڈر کو بھی چاند کی سطح پر لے گیا - 4 جون کی صبح نمونے حاصل کرنے کے بعد چاند کے گرد مدار میں داخل ہوا۔ اس کے بعد، یہ مدار کے تقریباً 9.3 میل (15 کلومیٹر) کے فاصلے پر پہنچا۔ ایسنڈر ( نمونہ لے جانے والے راکٹ) اور آربیٹر کے درمیان وزن کے وسیع فرق کی وجہ سے ملاقات اور ڈوکنگ کے دوران دونوں خلائی جہازوں کے درمیان ٹکراؤ سے بچنے کے لیے بہت احتیاط برتنی پڑی۔

سی این ایس اے کے مطابق دونوں خلائی جہازوں نے ملاقات اور ڈوکنگ کے لئےایک 'ہینڈ شیک' اور 'ہولڈ ٹائیٹ' طریقہ اپنایا جسے مکمل ہونے میں تقریباً 21 سیکنڈ لگے۔ کیپچر کے لیے صرف 1 سیکنڈ کا استعمال کیا جاتا ہے، 10 سیکنڈ دونوں خلائی جہاز کی سیدھ کو درست کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اور آخری 10 سیکنڈ دونوں کو ایک ساتھ لاک کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ملاقات اور ڈوکنگ مکمل کرنے کے بعد، ایسنڈر نے چاند کی مٹی کا نمونہ منتقل کیا۔ منتقلی کے طریقہ کار کی مدد سے نمونہ کا کنٹینر 200 سے 300 ملی میٹر چوڑے ایک تنگ چینل سے گزرا جسے ریٹرنر نےپکڑ لیا۔ نمونے کی منتقلی کو مکمل کرنے کے بعد، ایسنڈر الگ کر دیا گیاجب کہ دوسرا حصہ آربیٹر چاند کے گرد پرواز کرتا رہے گا، زمین کے گرد مدار میں منتقل ہونے کے لیے مناسب موقع کے انتظار میں۔ چاند کے گرد انتظار کا یہ وقت تقریباً 14 دن تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ ایک بار زمین کا چکر لگانے کے بعد، چینگ 6 آربیٹر نمونہ ریٹرنر کینسٹر کو بھیج سکتا ہے، جس کے 25 جون کو پیراشوٹ کے ذریعے چین کے اندرونی منگولیا کے ریگستانوں میں زمین پر واپس آنے کی امید ہے۔

سائنسی برادری کا ردعمل

لیسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن بارسٹو نے کہا کہ یہ ایک بہت اہم کامیابی ہے۔ صرف امریکہ اور روس نے چاند سے نمونے برآمد کیے ہیں، لینڈنگ اور پھر ٹیک آف۔ یہ چین کے خلائی پروگرام میں ایک متاثر کن صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ چاند سے اڑان بھرنا ایک تکنیکی کارنامہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل ہے جب یہ کارنامہ چاند کے دور یا زمین سے اس کی مخالف سمت سے کیا جائے۔ مانچسٹر یونیورسٹی کے ڈاکٹر رومین ٹارٹیز نےاس بات سے اتفاق کیا اور کہا اب تک، چینگ 6 منصوبوں کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ بہت پرجوش ہے کیونکہ ہر قدم ہمیں ان نمونوں کو زمین پر واپس لانے کے قریب لے جارہا ہے۔ امید ہے کہ ان نمونوں کا گہرا مطالعہ سائنسدانوں کو چاند کے نصف کرہ کے بارے میں دیرپا اسرار کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو مستقل طور پر خلا میں رہتا ہے۔ چاند کا دور کا حصہ - جسے کبھی کبھی 'ڈارک سائیڈ' کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ زمین سے نظر نہیں آتا ہے – قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ تحقیق کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’چینگ 6 پراب‘ کے ذریعے واپس لائے گئے نمونے چاند اور نظام شمسی کی تشکیل اور ارتقاء کے بارے میں بے مثال معلومات فراہم کر سکتے ہیں، اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ چاند کے قریب اور دور سمتوں کے اطراف اتنے مختلف کیوں ہیں، اور سراغ فراہم کرتے ہیں کہ زمین زندگی کو کیسے برقرار رکھتی ہے۔ بارسٹو نے کہا، وہ نہیں جانتے کہ چین نمونے شیئر کرنے کا کوئی منصوبہ ہے، لیکن پر امید ہیں کہ برطانیہ کو ان پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ مریخ سے نمونے کی واپسی کے ہمارے منصوبوں کے ساتھ بہت اچھا رہے گا۔ ٹارٹیز نے کہا کہ وہ اور مانچسٹر یونیورسٹی میں ان کے ساتھی بھی چینگ 6 کے نمونوں پر کام کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پہلے بیجنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک بین الاقوامی کنسورشیم میں شامل تھے تاکہ چاند کے نمونوں کا مطالعہ کیا جا سکے جو چین کے پہلے چاند مشن، چینگ 5 کے ذریعے واپس آئے تھے۔

سائنسدانوں نے خبردار کیاہے کہ چینگ 6 مشن ابھی تک نامکمل ہے، اسے کامیاب اور مکمل اسی صورت قرار دیا جا سکتا ہےجب چاند کے نمونے لے کر آنے والا کنٹینر 25 جون کے قریب زمین پر واپس آئے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/DryAK3e