جمعہ، 25 نومبر، 2022

اسرو آج آٹھ ’نینو سیٹلائٹ‘ اور ’اوشنسیٹ-3‘ کو خلا میں روانہ کرے گا، جانیں مشن کی خصوصیات

نئی دہلی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے حال ہی میں نجی سیکٹر کے مشن کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر کے تاریخ رقم کرنے کے بعد اپنے اگلے مشن پی ایس ایل وی-سی54/ای او ایس-06 کے لیے تیاری مکمل کر لی ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ اسرو اس مشن کے تحت 8 نینو سیٹلائٹ اوشنسیٹ-3 کے ساتھ لانچ کرے گا، جو اوشن سیٹ سیریز کا تھرڈ جنریشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ مشن سری ہری کوٹا سے ہفتہ (26 نومبر) کو صبح 11.46 بجے لانچ کیا جائے گا۔ اس کی 25 گھنٹے کی الٹی گنتی جمعہ (25 نومبر) کو صبح 10.46 بجے شروع ہوئی۔

مشن کا بنیادی پے لوڈ اوشنسیٹ-3 ہے۔ یہ اوشنسیٹ سیریز کا تیسری نسل کا سیٹلائٹ ہے، جو کہ اوشنسیٹ سیریز کے سیٹلائٹ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ سیریز سمندری اور ماحولیاتی مطالعہ کے لیے وقف ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سیٹلائٹ سمندری موسم کی پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ ملک کسی بھی طوفان کے لیے پہلے سے تیار رہے۔

اس سلسلے کا پہلا سیٹلائٹ-1 26 مئی 1999 کو لانچ کیا گیا تھا۔ پھر اوشنسیٹ-2 کو 23 ستمبر 2009 کو لانچ کیا گیا تھا۔ وہیں، 2016 میں اوشنسیٹ-2 کے اسکیننگ سکیٹرومیٹر ناکام ہونے کے بعد اسکینسیٹ-1 لانچ کیا گیا۔ اسی سیریز کے تھرڈ جنریشن سیٹلائٹ اوشنسیٹ-3 کو کل لانچ کیا جائے گا۔ اس سیریز کے سیٹلائٹس میں اوشین کلر مانیٹر موجود رہے۔ اس مشن میں بھی اوشن کلر مانیٹر او ای ایم 3، سی سرفیس ٹمپریچر مانیٹر (ایس ایس ٹی ایم)، کو-بینڈ اکیٹرومیٹر (ایس سی اے ٹی-3) اور اے آر جی او ایس جیسے پے لوڈز ہیں۔

اسرو اوشنسیٹ-3 اور 8 نینو سیٹلائٹوں میں پکسل کے آنند، بھوٹانسیٹ، دھرو انترکش کے تھائیبولٹ اور اسپیس فلائٹ یو ایس اے کے 4 اسٹروکاسٹ لانچ کرے گا۔ یہ پورا مشن تقریباً 8200 سیکنڈ (2 گھنٹے 20 منٹ) تک جاری رہے گا۔ جو کہ پی ایس ایل وی کا طویل مشن ہوگا۔ اس دوران پرائمری سیٹلائٹس اور نینو سیٹلائٹس کو دو مختلف سولر سنکرونس پولر آربٹس (ایس ایس پی او) میں لانچ کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N0jCtK1

چین نے بچوں کو ویڈیو گیم سے دور کرنے کا ناقابل یقین کارنامہ انجام دے دیا

بیجنگ: چین دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمنگ مارکیٹ ہے تاہم چینی حکومت نے ایسا اقدام کیا جس سے 75 فیصد سے زائد کم عمر بچوں کی اس عادت سے جان چھوٹ گئی۔

جب سے ٹیکنالوجی کی ترقی ہوئی ہے اور ہر چھوٹے بڑے کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ موبائل آیا ہے تب سے موبائل ہی سب سے بڑی مصروفیت بن گیا ہے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں میں بالخصوص آن لائن ویڈیو گیمنگ کی ایسی لت پڑی کہ مختلف ممالک میں اس پر روک ٹوک کرنے پر جان لینے جیسے سنگین واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں تاہم چین کی حکومت نے اپنی نئی نسل کو اس لت سے بچا لیا ہے۔

چین کی حکومت نے ایک سال قبل 18 سال سے کم عمر بچوں میں ویڈیو گیم کی لت پر قابو پانے کے لیے ان کے ویڈیو گیم کھیلنے پر بڑی پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے لیے اوقات متعین کردیے تھے اور انہیں ہفتے کے تین دن جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو روانہ صرف رات 8 سے 9 بجے تک آن لائن ویڈیو گیم کھیلنے کی اجازت تھی۔

اس پابندی کو ایک سال گزرنے کے بعد چین کی ویڈیو گیمنگ انڈسٹری سے وابستہ اعلیٰ اختیاری سرکاری کمیٹی اور ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی سی این جی نے پیر کے روز انتہائی حوصلہ افزا رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب گیم کھیلنے کے اوقات متعین کر دیے جانے کی وجہ سے ویڈیو گیم کی لت پر بنیادی طور پر قابو پالیا گیا ہے اور اب 75 فیصد سے زیادہ کم عمر افراد ایک ہفتے میں تین گھنٹے سے بھی کم ویڈیو گیم کھیلتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں 9 سے 19 برس کے درمیان عمر کے تقریباً98 فیصد افراد کے پاس کوئی نہ کوئی موبائل فون ہے اور 18 برس یا اس سے کم عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 186 ملین ہے۔ تاہم حکومتی پابندی کے کے بعد گیمنگ کمپنیوں کی جانب سے ویڈیو گیم کی لعنت کے انسداد کے نظام کے تحت گیم کھیلنے والے 90 فیصد سے زائد نو عمروں کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔

چین میں اب ویڈیو گیم کھیلنے والوں کو اپنا شناختی کارڈ استعمال کرنا ضروری ہے اور آن لائن گیم کھیلنے سے قبل انہیں اپنا اندراج کرانا پڑتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرنی پڑتی ہے کہ وہ عمر کے حوالے سے جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔

گیمنگ فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اوقات کے اندر ہی نوعمروں کو ویڈیو گیمنگ کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ البتہ حالیہ دنوں میں اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ بیجنگ ویڈیو گیمنگ سیکٹر کے حوالے سے اپنے موقف میں نرمی پیدا کر رہا ہے اور حکام نے اپریل تک نو ماہ کے لیے رجسٹریشن منجمد کر دینے کے بعد اب نئے نام کی منظوری دینے کا سلسلہ دھیرے دھیرے شروع کر دیا ہے۔

گزشہ ہفتے ہی ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ٹینسینٹ کو 18ماہ کے بعد ویڈیو گیم کا پہلا لائسنس ملا ہے۔ پابندیوں کی وجہ دنیا میں ویڈیو گیم تیار کرنے والی کمپنیوں میں سرفہرست سمجھی جانے والی ٹینسیٹ اپنا امتیازی مقام کھونے کی دہلیز تک پہنچ گئی تھی

واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمنگ مارکیٹ ہے تاہم وہاں کا سرکاری میڈیا اس صنعت کو "روحانی افیم” قرار دیتا ہے۔ ویڈیو گیم کی صنعت پر ٹیکنالوجی ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اکثر کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں اور ان کے خلاف ریکارڈ جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف طویل تفتیش اور کمپنی کے شیئروں کی ابتدائی عوامی پیش (آئی پی او) کو معطل کیے جانے جیسے اقدامات بھی ہوتے رہتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XqlGLu4

جمعرات، 17 نومبر، 2022

وکرم-ایس لانچنگ: ہندوستان کے خلائی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز، ملک کا پہلا نجی راکٹ ’وکرم-ایس‘ ہوگا لانچ

نئی دہلی: ہندوستان آج خلا میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ملک کا پہلا پرائیویٹ راکٹ 'وکرم-ایس' لانچ کرنے جا رہا ہے۔ اس راکٹ کو حیدرآباد میں واقع اسکائی روٹ ایرو اسپیس کمپنی نے تیار کیا ہے۔ 'وکرم-ایس' کی لانچنگ آج (جمعہ) صبح 11:30 بجے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے ہوگی۔ اس مشن کا نام 'پررامبھ' رکھا گیا ہے۔ نجی شعبے کے داخلے کے بعد ملک کی خلائی صنعت میں کو بھی نئی بلندیاں حاصل ہوں گی۔

راکٹ کا نام 'وکرم-ایس' ہندوستان کے عظیم سائنسدان اور اسرو کے بانی ڈاکٹر وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارٹی سینٹر (ان-اسپیس) کے چیئرمین پون گوینکا نے کہا کہ یہ ہندوستان میں نجی شعبے کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے۔ انہوں نے اسکائی روٹ کو راکٹ لانچ کرنے کی اجازت دینے والی پہلی ہندوستانی کمپنی بننے پر مبارکباد دی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اسرو کے رہنما خطوط کے تحت سری ہری کوٹا سے 'اسکائی روٹ ایرو اسپیس' کے ذریعہ تیار کردہ پہلا نجی راکٹ لانچ کرکے تاریخ رقم کرنے والا ہے۔

وکرم-ایس ذیلی مدار میں پرواز کرے گا۔ یہ ایک طرح کی ٹیسٹ فائل ہوگی، اگر ہندوستان کو اس مشن میں کامیابی ملتی ہے تو اس کا نام نجی خلائی راکٹ لانچنگ کے معاملے میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ وکرم-ایس ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ ہونے کے بعد 81 کلومیٹر کی اونچائی پر پہنچے گا۔ اس مشن میں دو ملکی اور ایک غیر ملکی گاہک کے تین پے لوڈ کو لے جایا جائے گا۔ وکرم-ایس ذیلی مداری پرواز چنئی سے اسٹارٹ اپ اسپیس کڈز، آندھرا پردیش سے اسٹارٹ اپ این-اسپیس ٹیک اور آرمینیائی اسٹارٹ اپ بازوم کیو اسپیس ریسرچ لیب سے تین پے لوڈ لے کر جائیں گے۔

کم بجٹ میں راکٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سستے لانچنگ کے لیے اس کا ایندھن تبدیل کیا گیا ہے۔ اس لانچنگ میں عام ایندھن کی بجائے ایل این جی یعنی مائع قدرتی گیس اور مائع آکسیجن (ایل او ایکس) کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ ایندھن کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک بھی ہے۔ اسکائی روٹ ایرو اسپیس کمپنی راکٹ کے کامیاب لانچنگ کو لے کر بہت سنجیدہ ہے۔ کمپنی نے لانچ کرنے سے پہلے راکٹ کا کئی طریقوں سے تجربہ کیا ہے۔ 25 نومبر 2021 کو ناگپور میں واقع سولر انڈسٹری لمیٹڈ۔ اس کے پہلے تھری ڈی پرنٹ شدہ کرائیوجینک انجن کا اس کی آزمائشی سہولت میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TfZFQU4

منگل، 15 نومبر، 2022

بچوں کے اسکرین ٹائم کو دن میں 2 گھنٹے تک محدود کریں: تحقیق

الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ بشریات کے ایک ریسرچ اسکالر کے ذریعہ کی گئی ایک تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسکرین ٹائم بالخصوص بچوں کے لئے، روزانہ دو گھنٹے سے کم کیا جانا چاہئے۔ یہ تحقیق ٹی وی، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون جیسے ڈیجیٹل آلات کی ملکیت کو منظم کرنے کے لیے والدین کی نگرانی اور پالیسی سازی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

اس تحقیق کو سیج (ایس اے جی ای) کی جانب سے بین الاقوامی جریدے ’بلیٹن آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ سوسائٹی‘ میں شائع کیا گیا تھا اور اس کا انعقاد ریسرچ اسکالر مادھوی ترپاٹھی نے کیا تھا، جنہوں نے اسسٹنٹ پروفیسر شلیندر کمار مشرا کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ یہ ڈیجیٹل آلات کی ملکیت کو منظم کرنے کے لیے والدین کی نگرانی اور پالیسی کی تشکیل کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق الہ آباد ریاست میں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے اس کے پیش نظر یہاں دو مراحل کے بے ترتیب نمونے لینے کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے 400 بچوں پر ایک کراس سیکشنل تحقیق کی گئی۔ پہلے مرحلے میں الہ آباد شہر کے 10 میونسپل وارڈوں کا انتخاب کیا گیا۔ ان وارڈوں کی کل آبادی 11000 سے 22000 کے درمیان ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہر منتخب وارڈ سے بچوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے منتخب کیا گیا، تاکہ نمونے کا سائز حاصل کیا جا سکے۔

ترپاٹھی نے کہا ’’نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر گھروں میں ٹیلی ویژن کے بعد ڈیجیٹل کیمرے، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، کنڈلز اور ویڈیو گیمز موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے بچے زیادہ اسکرین پر وقت گزارتے ہیں، جو نہ صرف انہیں جسمانی طور پر متاثر کرتا ہے اور ان کی بینائی کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mkZQzrP

منگل، 25 اکتوبر، 2022

واٹس ایپ بحران: 120 منٹ تک 8 ارب پیغامات بھیجے یا وصول نہیں کیے جا سکے، کروڑوں روپے کا بھی نقصان!

نئی دہلی: سماجی رابطوں کی اہم ایپلی کیشن واٹس ایپ نے منگل کے روز دوپہر 12.30 بجے اچانک کام کرنا بند کر دیا۔ اس دوران نہ پیغامات بھیجے جا رہے تھے اور نہ ہی وصول کئے جا رہے تھے۔ گروپ میسیج بھی وصول نہیں ہو پا رہے تھے اور پیمنٹ سروس نے بھی کام کرنا بند کر دیا۔ واٹس ایپ کا یہ بحران صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا اور اس کے بعد پیغامات کے آنے جانے کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میسیجنگ ایپ کے تقریباً گھنٹے تک ٹھپ رہنے کے سبب صارفین کا برا حال رہا اور کئی ارب پیغامات معلق ہو کر رہ گئے۔ دوستوں سے بات کرنی ہو، کسی فائل کو شیئر کرنا ہو، یا ملازمین کو کوئی ہدایت دینی ہو، اس طرح کے تمام کام بند رہے۔

خیال رہے کہ 10 سال قبل متعارف کرائی گئی موبائل ایپ واٹس ایپ 180 ممالک میں مقبول ہے اور اس پر ہر روز تقریباً 100 ارب پیغامات بھیجے اور وصول کئے جاتے ہیں۔ اس حساب سے دو گھنٹے کے دوران واٹس ایپ پر 8 بلین پیغامات بھیجے یا وصول کئے جاتے ہیں۔

اینی ڈیٹا نامی ایپ کے مطابق ہر صارف کم از کم 38 منٹ ہر روز واٹس ایپ پر کام کرتا ہے۔ ہندوستان میں دنیا میں سب سے زیادہ 39 کروڑ صارف ہیں۔ جیسے ہی واٹس ایپ سروز ڈاؤن ہوئی ویسے ہی ٹوئٹر سے لے کر دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لوگوں نے اپنی پریشانی بیان کرنی شروع کر دی۔ اس کے بعد ’واٹس ایپ ڈاؤن‘ جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ ہونے لگے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق جب بھی واٹس ایپ، انسٹاگرام یا فیس بک کی سروس ڈاؤن ہوتی ہے تو ٹوئٹر کا استعمال عام دنوں کے مقابلہ بہت زیادہ کیا جانے لگتا ہے۔

اس کے علاوہ اشتہارات پر کام کرنے والی فرم ’اسٹینڈرڈ میڈیا انڈیکس‘ نے کہا کہ واٹس ایپ کے ڈاؤن ہونے کے سبب کمپنی کو ہر گھنٹے تقریباً 5.45 ملین ڈالر کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم، اشتہارات سے ہونے والی آمدنی زیادہ دنوں تک متاثر نہیں رہے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/G3NbmYh

جمعرات، 20 اکتوبر، 2022

اسپیس ایکس نے مزید 54 انٹرنیٹ سیٹلائٹ خلا میں بھیجے

لاس اینجلس: امریکی نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے 54 مزید اسٹار لنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس کو کامیابی کے ساتھ خلائی مدار میں چھوڑ دیا ہے۔ سیٹلائٹس کو فلوریڈا کے کیپ کیناویرل اسپیس فورس اسٹیشن کے خلائی لانچ کمپلیکس 40 سے جمعرات کی صبح 10.50 بجے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے بھیجا گیا۔

فالکن 9 کی یہ دسویں پرواز تھی۔ فالکن 9 کی یہ دسویں پرواز تھی۔اسپیس ایکس کے مطابق اسٹارلنک ان مقامات پر تیز براڈ بینڈ انٹرنیٹ فراہم کرے گا جہاں تک رسائی غیرمعتبر، مہنگی یا مکمل طور پر دستیاب نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8HbJgdL

منگل، 4 اکتوبر، 2022

طب کا نوبل انعام سوئیڈن کے ماہر جینیات سوانتے پابو کے نام، ناپيد ہو جانے والی نسل کے جینوم ترتیب کا کارنامہ انجام دیا

اسٹاک ہوم: سوئیڈن کے ماہر جینیات سوانتے پابو نے طب کا 2022 کا نوبل انعام جیت لیا ہے۔ انہیں یہ انعام قدیم انسانوں کے معدوم ہونے سے لے کر جدید دور کے انسانوں کے ارتقاء کو سمجھنے میں ان کی دریافت کے لئے دیا گیا ہے۔ انعام دینے والے پینل نے کہا کہ ان کے مطالعے سے مدافعتی نظام اور قدیم انسانوں کے مقابلے موجودہ انسانوں کے انوکھے پن کو گہرائی سے سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ پابو کی اہم حصولیابیوں میں معدوم ہوچکے قدیم انسانوں اور جدید انسانوں میں رابطے کا پتہ لگانا ہے۔

دنیا کا اعلیٰ ترین انعام دینے والی سوئیڈن کی اسمبلی آف کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ نے طب کا 2022 کا نوبیل انعام اپنے ہی ملک کے سائنسدان سوانتے پابو کو دینے کا اعلان کیا۔ نوبیل کمیٹی ہر سال انعامات جیتنے والے افراد کے ناموں کا اعلان اکتوبر کے پہلے ہفتے میں شروع کرتی ہے۔ کمیٹی مجموعی طور پر 6 زمروں ’طب، معاشیات، کیمسٹری، فزکس، ادب اور امن‘ کے نوبیل انعامات دیتی ہے۔

نوبیل کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ طب کا انعام سوئیڈن کے سائنسدان سوانتے پابو کو دیا گیا، جنہوں نے زمانہ قدیم کے انسانوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا جدید طریقہ جسے ڈی این اے بھی کہا جاتا ہے، وہ دریافت کیا۔ انہوں نے ہزاروں سال پرانی ہڈی کے جینوم یا ڈی این اے کو سمجھنے کا جدید اور آسان طریقہ دریافت کیا، جس سے 40 ہزار سال پرانے انسان سے متعلق معلومات حاصل کرنا ممکن ہوا۔

سوانتے پابو نے 40 ہزار سال قبل یورپ اور وسطی ایشیا میں پائے جانے والے انسانوں کے ارتقا کو سمجھنے کا طریقہ دریافت کیا، یوں ان کے طریقے سے جدید دور کے انسانوں اور پرانے دور کے انسانوں میں مماثلت کی تحقیقات کا بھی راستہ کھلا۔

نوبیل کمیٹی نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ سوانتے پابو کو نوبیل انعام جیتنے کی خوشخبری صبح کو اس وقت دی گئی جب وہ کافی پی رہے تھے اور وہ خبر سن کر ششدر رہ گئے اور انہوں نے سب سے پہلے اپنی اہلیہ کو اس بارے میں بتایا۔ پابو، سنے برگ اسٹارم کے بیٹے ہیں‘ جنہوں نے 1982 میں طب کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔ سوانتے پابو کو رواں برس دسمبر کے پہلے ہفتے میں نوبیل انعام کی رقم اور ایوارڈ اسٹاک ہوم میں دیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/40HWBQG

ہفتہ، 1 اکتوبر، 2022

ملک میں انٹرنیٹ خدمات کے نئے دور کا آغاز، وزیر اعظم مودی نے کیا ’فائیو جی‘ خدمات کا افتتاح

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے پرگتی میدان میں انڈین موبائل کانفرنس (آئی ایم سی) کے چار روزہ پروگرام کا افتتاح کیا اور اس کے بعد ملک میں 5 جی موبائل خدمات کا آغاز کر دیا۔ یہ ہندوستان کے لیے ایک خاص لمحہ ہے۔ ہندوستان ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ آئی ایم سی کا چھٹا ایڈیشن ہے، اس کی تھیم ’نیو ڈیجیٹل ورلڈ‘ ہے۔ اس دوران وزیر اعظم مودی نے ٹیلی کام آپریٹروں سے بھی گفتگو کی۔

ہندوستان پر 5G کا کل اقتصادی اثر 2035 تک 450 بلین امریکی ڈالر تک ہونے کا اندازہ ہے۔ 4جی کے مقابلے میں، 5جی نیٹ ورک کئی گنا تیز رفتار دیتا ہے اور بلا رکاوٹ خدمات فراہم کرتا ہے۔ یہ اربوں منسلک آلات کو حقیقی وقت میں ڈیٹا کا اشتراک کرنے کے قابل بھی بناتا ہے۔

ایک سرکاری ریلیز کے مطابق 5 جی ٹیلی کام نیٹ ورک سے موبائل ڈیٹا کا بہاؤ کئی گنا تیز ہو گا اور لوگوں کو عالمی معیار کی قابل اعتماد مواصلاتی سہولیات میسر ہوں گی۔ 5 جی ٹیکنالوجی توانائی کی کارکردگی اور اسپیکٹرم اور نیٹ ورک کے استعمال کو بہتر بنائے گی۔

اس دوران پی ایم مودی نے اسے نہ صرف لانچ کیا بلکہ تجربہ بھی کیا۔ انہوں نے جانا کہ اسے کس طرح استعمال کیا جائے گا۔ 5جی کی رفتار 4جی سے 10 گنا زیادہ ہوگی۔ اسے بہتر آواز کے معیار اور کنیکٹیویٹی کے ساتھ لایا گیا ہے۔

قبل ازیں، وزیر اعظم نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’اب سے تھوڑی دیر میں انڈین موبائل کانگریس شروع ہو رہی ہے, جہاں ہندوستان کا 5G انقلاب شروع ہونے جا رہا ہے۔ میں خاص طور پر ٹیکنالوجی کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں، میرے نوجوان دوستوں اور اسٹارٹ اپ دنیا سے اس خصوصی پروگرام میں شامل ہونے کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mRNtkE9

جمعہ، 30 ستمبر، 2022

تیز رفتار اور بلا رکاوٹ انٹرنیٹ کے لئے 5G خدمات کا آغاز آج سے ہوگا، وزیر اعظم مودی کریں گے افتتاح

نئی دہلی: ہندوستان میں آج سے تیز رفتار انٹرنیٹ کے لئے 5جی خدمات (5G Services) کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں ’انڈین موبائل کانگریس‘ کے دوران 5جی خدمات کا افتتاح کریں گے۔ اس ٹیکنالوجی سے انٹرنیٹ اور تیز رفتار ڈیٹا بلا رکاوٹ فراہم ہوگا اور انٹرنیٹ کی رکاوٹیں دور ہوں گی۔

یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی انڈین موبائل کانگریس 4 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران 5جی کے علاوہ کئی اور اعلانات بھی کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم مودی آج یعنی یکم اکتوبر کو صبح 10 بجے 5 جی خدمات کا افتتاح کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی جیو اور ایئرٹیل کی 5جی سروس بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مکیش امبانی، سنیل متل اور کمار منگلم برلا بھی انڈین موبائل کانگریس 2022 میں شرکت کر سکتے ہیں۔ جیو اور ایئرٹیل ہندوستان میں 5G خدمات شروع کرنے والی پہلی کمپنیاں ہوں گی۔ ابتدائی طور پر 5G سروس صرف منتخب شہروں میں دستیاب ہوگی، جس میں اگلے سال تک توسیع کی جائے گی۔

اس سال منعقدہ ریلائنس کے اے جی ایم میں مکیش امبانی نے کہا تھا کہ جیو فائیو جی کو دہلی اور دیگر میٹرو شہروں میں دیوالی تک لانچ کیا جائے گا۔ یہ سروس اگلے سال دسمبر تک ملک بھر میں شروع کر دی جائے گی۔ کمپنی نے پین انڈیا فائی جی نیٹ ورک کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وہیں، جیو نے 1000 شہروں میں فائیو جی کے رول آؤٹ کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔

ایئرٹیل کے سی ای او گوپال وٹھل نے صارفین کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ صارفین کو نئی سم خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ انہیں موجودہ سم کارڈ پر ہی فائی جی سروس فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں میں فائیو جی سروس شروع ہو جائے گی۔

فائیو جی سپیکٹرم نیلامی میں چار کمپنیوں نے حصہ لیا۔ اس میں وی آئی، ایئرٹیل، جیو اور اڈانی ڈیٹا نیٹ ورکس نے حصہ لیا۔ جیو نے اس میں سب سے بڑی بولی لگا کر زیادہ سے زیادہ سپیکٹرم خریدا ہے۔ ایئرٹیل اور پھر ووڈافون آئیڈیا نے دوسرے نمبر پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اڈانی ڈیٹا نیٹ ورکس فی الحال صرف انٹرپرائز کاروبار میں کام کریں گے۔

قبل ازیں، ٹیلی کام اور آئی ٹی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ دو سال کے اندر 5جی خدمات پورے ملک میں فراہم کرا دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فائیو جی خدمات کی فراہمی کے لئے تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/S04ClYd

تیز رفتار اور بلا رکاوٹ انٹرنیٹ کے لئے 5G خدمات کا آغاز آج سے ہوگا، وزیر اعظم مودی کریں گے افتتاح

نئی دہلی: ہندوستان میں آج سے تیز رفتار انٹرنیٹ کے لئے 5جی خدمات (5G Services) کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں ’انڈین موبائل کانگریس‘ کے دوران 5جی خدمات کا افتتاح کریں گے۔ اس ٹیکنالوجی سے انٹرنیٹ اور تیز رفتار ڈیٹا بلا رکاوٹ فراہم ہوگا اور انٹرنیٹ کی رکاوٹیں دور ہوں گی۔

یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی انڈین موبائل کانگریس 4 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران 5جی کے علاوہ کئی اور اعلانات بھی کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم مودی آج یعنی یکم اکتوبر کو صبح 10 بجے 5 جی خدمات کا افتتاح کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی جیو اور ایئرٹیل کی 5جی سروس بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مکیش امبانی، سنیل متل اور کمار منگلم برلا بھی انڈین موبائل کانگریس 2022 میں شرکت کر سکتے ہیں۔ جیو اور ایئرٹیل ہندوستان میں 5G خدمات شروع کرنے والی پہلی کمپنیاں ہوں گی۔ ابتدائی طور پر 5G سروس صرف منتخب شہروں میں دستیاب ہوگی، جس میں اگلے سال تک توسیع کی جائے گی۔

اس سال منعقدہ ریلائنس کے اے جی ایم میں مکیش امبانی نے کہا تھا کہ جیو فائیو جی کو دہلی اور دیگر میٹرو شہروں میں دیوالی تک لانچ کیا جائے گا۔ یہ سروس اگلے سال دسمبر تک ملک بھر میں شروع کر دی جائے گی۔ کمپنی نے پین انڈیا فائی جی نیٹ ورک کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وہیں، جیو نے 1000 شہروں میں فائیو جی کے رول آؤٹ کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔

ایئرٹیل کے سی ای او گوپال وٹھل نے صارفین کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ صارفین کو نئی سم خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ انہیں موجودہ سم کارڈ پر ہی فائی جی سروس فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں میں فائیو جی سروس شروع ہو جائے گی۔

فائیو جی سپیکٹرم نیلامی میں چار کمپنیوں نے حصہ لیا۔ اس میں وی آئی، ایئرٹیل، جیو اور اڈانی ڈیٹا نیٹ ورکس نے حصہ لیا۔ جیو نے اس میں سب سے بڑی بولی لگا کر زیادہ سے زیادہ سپیکٹرم خریدا ہے۔ ایئرٹیل اور پھر ووڈافون آئیڈیا نے دوسرے نمبر پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اڈانی ڈیٹا نیٹ ورکس فی الحال صرف انٹرپرائز کاروبار میں کام کریں گے۔

قبل ازیں، ٹیلی کام اور آئی ٹی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ دو سال کے اندر 5جی خدمات پورے ملک میں فراہم کرا دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فائیو جی خدمات کی فراہمی کے لئے تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/S04ClYd

جمعرات، 22 ستمبر، 2022

چین نے 10 منٹ میں وائرس کی شناخت کرنے والا فیس ماسک بنایا

بیجنگ: چین کے محققین کے ایک گروپ نے کسی متاثرہ شخص کے رابطے میں آنے کے 10 منٹ کے اندر وائرس کا پتہ لگانے والا فیس ماسک تیار کیا ہے۔ چینی محققین نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ اس ہفتے جرنل میٹر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق انتہائی حساس فیس ماسک 0.3 مائیکرو لیٹر کے ٹریس لیول مائع نمونوں اور 0.1 فیموگرام فی ملی لیٹر کی انتہائی کم ارتکاز میں گیس نمونوں کی پیمائش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم نے ایک ایسا فیس ماسک تیار کیا ہے جو 10 منٹ میں ہوا میں سانس کے جراثیم کا پتہ لگا کر انسان کو الرٹ کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ سانس کے پیتھوجینز جو کووڈ-19 اور انفلوئنزا کا سبب بنتے ہیں دوسرے افراد میں ان بوندوں کے رابطے کے ذریعے پھیلتے ہیں جب متاثرہ شخص بات کرتا ہے، کھانستا ہے اور چھینکتا ہے۔

بائیو الیکٹرانک ماسک جسے ٹونگجن یونیورسٹی کے محققین نے ڈیزائن کیا ہے، عام سانس کے وائرس کا پتہ لگا سکتا ہے، بشمول انفلوئنزا اور کورونا وائرس، ہوا میں موجود بوندوں، ایروسول اور پھر پہننے والوں کو ان کے موبائل آلات کے ذریعے الرٹ کر سکتا ہے۔

ٹونگجی میں تحقیق کے متعلقہ مصنف اور شنگھائی ٹونگجی یونیورسٹی کے فزیکل سائنس دان ین فینگ کا کہنا ہے کہ ٹیم نے ایک چھوٹا سینسر بنایا جس میں تین قسم کے مصنوعی مالیکیول لگے تھے جو بیک وقت سارس۔کووڈ-2، ایچ5این1 اور ایچ1این1 پر سطحی پروٹین سے منسلک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں سانس کا کوئی نیا انفیکشن ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس کے لیے سینسر کے ڈیزائن کو آسانی سے تبدیل کر سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/T2m7dhZ

بدھ، 21 ستمبر، 2022

یوپی کے گل فروش کی منفرد ایجاد، ہیلمٹ میں سولر پینل اور پنکھا لگا کر دی گرمی کو مات!

لکھیم پور کھیری: یوپی کے لکھیم پوری کھیری ضلع کے ایک گل فروش نے ایک ایسا ہیلمٹ تیار کیا ہے جو گرمی میں راحت دینے میں مددگار ہے۔ ستر سالہ للورام نے اپنے ہیلمٹ میں ایک چھوٹا سا سولر پینل اور ایک پنکھا نصب کیا ہے۔ للورام اس ہیلمٹ کو اس وقت لگا لیتے ہیں جب وہ پھول بیچنے کے لئے باہر نکلتے ہیں۔

للو رام نے کہا کہ انہوں نے کئی لوگوں سے سامان مانگ کر یہ منفرد ہیلمنٹ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں بیمار پڑ گیا تھا اور سامان خریدنے سے قاصر تھا۔ مجھے کسی سے سولر پینل مل گیا اور پھر میں نے ایک دوست سے چھوٹا سا پورٹیبل پنکھا اور دوسرے دوست سے ہیلمنٹ مانگ لیا۔‘‘

للورام کا کہنا ہے کہ پورٹیبل پنکھا انہیں گرمی سے کافی راحت دیتا ہے۔ للو رام روزانہ گھر گھر جاکر پھولوں کے ہار فروخت کرتے ہیں اور ان سے جو پیسہ کماتے ہیں اس سے اپنے کنبہ کی پرورش کرتے ہیں۔ للو رام نے اس کہاوت کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ ’ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/zCALvwy

جمعرات، 8 ستمبر، 2022

اسرائیلی سائنسدانوں نے کی دو اینٹی باڈیز کی شناخت، کورونا کی تمام معلوم اقسام سے کریں گی مقابلہ

تل ابیب: اسرائیل میں سائنسدانوں نے شفایاب ہونے والے کورونا کے مریضوں کے مدافعتی نظام سے دو ایسی اینٹی باڈیز کو علیحدہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو کہ SARS-CoV-2 (کورونا) کے تمام معلوم ویرینٹوں (اقسام) بشمول اومیکرون کو 95 فیصد کارکردگی کے ساتھ بے اثر کر سکتی ہیں۔

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب یونیورسٹی کی ٹیم نے بتایا کہ اینٹی باڈیز سے علاج کے دوران ان کی کثیر مقدار جسم میں داخل ہو کر ویکسین کے ایک مؤثر متبادل کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ اس سے کمزور مدافعتی نظام والے افراد اور وہ آبادی جس کو زیادہ خطرہ لا حق ہے، مستفیض ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تل ابیب یونیورسٹی کی ٹیم نے بتایا کہ اینٹی باڈیز کے ساتھ ٹارگٹڈ علاج اور ان کی زیادہ مقدار میں جسم میں ترسیل ویکسین کے مؤثر متبادل کے طور پر کام کر سکتی ہے، خاص طور پر خطرے میں پڑنے والی آبادی اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے۔ محققین نے کہا کہ اگر اینٹی باڈی کے ذریعے علاج کیا جائے گا تو ہر مرتبہ نیا ویرینٹ سامنے آنے پر پوری آبادی کو بارہا بوسٹر خوراک فراہم کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں جرنل کمیونیکیشنز بائیولوجی میں شائع ہونے والا یہ مطالعہ اسرائیل میں اکتوبر 2020 میں کورونا بحران کے عروج کے وقت کی گئی ابتدائی تحقیق کا تسلسل ہے۔ اس وقت ٹیم نے اسرائیل میں کورونا وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کے خون سے تمام مدافعتی نظام کے خلیوں کو ترتیب دے کر مریضوں کے جسم میں تیار کردہ نو اینٹی باڈیز کو جدا کر لیا تھا۔ محققین کو اب معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے کچھ اینٹی باڈیز کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ ڈیلٹا اور اومیکرون کو بے اثر کرنے میں انتہائی موثر ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/S4W5ZtI