جمعہ، 28 اپریل، 2023

اسرائیل نے گائے کے بغیر لیباریٹری میں تیار دودھ کی فروخت کو منظوری دی

تل ابیب: اسرائیلی حکومت نے درست خمیر سے تیار کردہ دودھ اور ڈیری مصنوعات کے لیے اپنا پہلا مارکیٹنگ اور فروخت کا لائسنس جاری کیا ہے۔ اسرائیل انوویشن اتھارٹی (آئی آئی اے) نے جمعرات کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ مقامی فوڈ اسٹارٹ اپ ریملک کو ان روزمرہ کھانے کی اشیاء کی مارکیٹنگ کا لائسنس مل گیا ہے جن کے پروٹین اصلی دودھ کے پروٹین کی طرح ہیں۔

پنیر، دہی اور آئس کریم سمیت ڈیری مصنوعات بنانے کے لیے پروٹین کو وٹامنز، معدنیات اور غیر جانوروں کی چربی کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ ریملک کے مطابق، اس پیداواری عمل سے وہ کولیسٹرول اور لیکٹوز جیسے ناپسندیدہ اجزاء سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں اورمویشی پروری میں استعمال ہونے والے گروتھ ہارمونز اور اینٹی بائیوٹک سے پاک ہیں۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس عمل کے لیے روایتی ڈیری کے مقابلے زمین کے وسائل کا ایک حصہ درکار ہوتا ہے، جبکہ پیداوار میں کارکردگی میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوتا ہے۔ آئی آئی اے نے کہا، "یہ فوڈ ٹیکنالوجی کے میدان میں، اسرائیل اور دنیا دونوں میں ایک تاریخی دن ہے۔ حکومت کی طرف سے منظوری پوری اسرائیلی فوڈ ٹیکنالوجی مارکیٹ کے لیے بھی پہلا اور اہم سنگ میل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dT87HwU

ہفتہ، 8 اپریل، 2023

اے آئی کی مدد سے تخلیق کردہ تصاویر، اصل اور نقل کا فرق کسیے ہو؟

ایسی تصاویر بنانا اب سے پہلے کبھی آسان نہیں رہا جتنا اب ہے کہ حیران کن حد تک حقیقت سے قریب تر ہوں مگر جعلی ہوں۔ کوئی بھی فرد جس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہو اور جو آرٹیفیشل انٹلیجنس کا استعمال جانتا ہو وہ ایسی تصاویر چند سیکنڈز میں تخلیق کر سکتا ہے اور یہ تصاویر سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے وائرل ہو سکتی ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں ایسی کئی تصاویر وائرل ہوئی ہیں۔ جیسے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی گرفتاری یا جنرل موٹرز کی سی ای او میری بارا اور ایلون مسک کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کئی مثالوں میں سے فقط دو ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اے آئی سے تخلیق کردہ یہ دونوں تصاویر ایسے واقعات کو ظاہر کرتی ہیں جو کبھی رونما ہی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ فوٹوگرافروں نے بھی ایسے پورٹریٹ شائع کیے ہیں جو مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ تصاویر مضحکہ خیز ہو سکتی ہیں تاہم ڈی ڈبلیو نے جن ماہرین سے بات کی، ان کے مطابق یہ غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے لحاظ سے حقیقی خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن یا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سیاستدانوں کی گرفتاری دکھانے والی تصاویر کی تصدیق معتبر اور قابل بھروسا ذرائع سے فوراﹰ کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اے آئی کے ماہر ہنری اجڈر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ دیگر تصاویر کی حقیقت معلوم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جیسے کہ وہ تصاویر جن میں موجود لوگ اتنے معروف نہ ہوں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی کے ایک جرمن رکن پارلیمان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اے آئی کی مدد سے بنی ہوئی چیختے ہوئے مردوں کی تصویر پوسٹ کی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ ملک میں مہاجرین کی آمد کے خلاف ہے۔ اجڈر کے مطابق اے آئی کی مدد سے بنائی گئی صرف لوگوں کی تصاویر ہی غلط فہمی کا باعث نہیں بنتیں بلکہ ایسے واقعات اور حادثات کی تصاویر بھی سامنے آئے ہیں جو کبھی رونما ہی نہیں ہوئے۔ ایسا ہی کچھ 2001 میں ہوا جب یہ خبر عام ہوئی کہ امریکہ اور کینیڈا کے بحر الکاہل کے شمال مغربی علاقے میں زلزلہ آیا ہے اور اس حادثے نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔

تاہم یہ حادثہ کبھی پیش آیا ہی نہیں اور انٹرنیٹ پر لگائی گئی تصاویر اے آئی کی مدد سے تخلیق کی گئیں تھیں۔ اجڈر کے مطابق یہ زیادہ پریشانی کی بات ہے کیونکہ انسانی تصاویر کے مقابلے میں جگہوں کی تصاویر کے متعلق سچائی جاننا ایک مشکل امر ہے۔ تاہم بہت تیزی سے ترقی کرنے کے باوجود یہ اے آئی ٹولز بھی غلطیاں کر سکتے ہیں۔ اپریل 2023 تک مڈ جرنی، ڈال ای اور ڈیپ اے آئی جیسے پروگارمز میں کئی غلطیاں دیکھی گئی ہیں۔خصوصاﹰ ان تصاویر میں جن میں لوگ دکھائی دے رہے ہوں۔

ڈی ڈبلیو کی حقائق کی جانچ کرنے والی ٹیم نے کچھ تجاویز مرتب کی ہیں جن سے آپ کو یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا کوئی تصویر جعلی ہے یا نہیں۔ لیکن محتاط رہیں، اے آئی ٹولز اس تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہیں کہ یہ ٹپس صرف فوری طور پر ہی کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔

زوم ان کریں اور غور سے دیکھیں

اے آئی سے بنائی گئی بہت سی تصاویر پہلی نظر میں حقیقی لگتی ہیں۔ اس لیے ہمارا پہلا مشورہ، انہیں زوم کریں اور غور سے دیکھیں ہے۔ایسا کرنے کے لیے ہائی ریزولوشن والی تصویر کا انتخاب کریں۔ تصاویر کو زوم کرنے سے اس میں موجود غلطیاں واضح ہوں گی جو شاید پہلی نظر میں دکھائی نہ دی ہوں۔

’امیج سورس‘ تلاش کریں

اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ کوئی تصویر اصلی ہے یا اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے تو اس تصویر کا سورس تلاش کری‍ں۔ جہاں یہ تصویر سب سے پہلے شائع کی گئی تھی اس کے نیچے کیے گئے کمنٹس میں صارفین کے کمنٹس سے بھی آپ کو مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لیے آپ ریورس امیج سرچ ٹیکنیک کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے 'گوگل امیج ریورس سرچ‘ 'ٹن آئی‘ یا یانڈیکس جیسے ٹولز کا استعمال کر کے اس تصویر کی حقیقت جان سکتے ہیں۔

جسمانی ساخت پرتوجہ دیں

کیا تصویر میں دکھائے گئے لوگوں کے جسمانی ساخت میں کچھ گڑبڑ ہے؟ جب جسمانی ساخت کی بات آتی ہے تو اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں تضادات دکھنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہاتھ بہت چھوٹے یا انگلیاں بہت لمبی ہو سکتی ہیں۔ یا سر اور پاؤں باقی جسم سے میل نہیں کھاتے۔ یہی حال اوپر کی تصویر کا ہے، جس میں پوٹن کو شی جن پنگ کے سامنے گھٹنے ٹیکے دیکھا جا سکتا ہے لیکن پوٹن کا ایک جوتا بڑا اور چوڑا ہے۔

اے آئی کی غلطیوں پر نظر رکھیں

اے آئی کی عمومی غلطیوں میں انسانی ہاتھوں کی ساخت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مڈ جرنی جیسے پروگرام میں ہاتھ میں چھٹی انگلی کی موجودگی اس کی ایک مثال ہے۔ لیکن کیا آپ کو محسوس ہوا کہ پوپ فرانسس کی دائیں والی تصویر میں صرف چار انگلیاں ہیں؟ اور کیا آپ نے دیکھا کہ ان کی بائیں ہاتھ کی انگلیاں غیر معمولی طور پر لمبی ہیں؟ یہ تصاویر جعلی ہیں۔

اے آئی سے بنائی گئی تصاویر میں اور بھی بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں جسیے کے لوگوں کے معمول سے زیادہ دانت یا کانوں کی ایسی ساخت جو عجیب و غریب ہو۔ آپ پوٹن اور شی والی تصویر ایک بار پھر دیکھ لیں۔ تاہم، اے آئی کے ماہر ہنری اجڈر نے خبردار کیا ہے کہ مڈجرنی جیسے پروگراموں کے نئے ورژن ہاتھوں کی ساخت بہتر دکھانے کے قابل ہو رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ صارفین اس قسم کی غلطیوں پر تصاویر کو پرکھنے پر زیادہ دیر تک انحصار نہیں کر سکیں گے۔

کیا تصاویر نکلی اور بے عیب دکھائی دیتی ہیں؟

مڈجرنی ایپ خاص طور پر ایسی تصاویر بناتی ہے جو حقیقت سے قریب تر لگتی ہیں۔ اسی صورت میں آپ کو اپنے قوتِ فیصلہ کا استعمال کرنا ہوگا۔ کیا ایسی بے عیب اور بہترین تصویر حقیقی ہو سکتی ہے؟ جرمن ریسرچ سینٹر فار اے آئی کے اینڈریاس ڈینگل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''چہرے بہت خالص ہیں اور جو کپڑے دکھائے گئے ہیں وہ بھی بہت ہم آہنگ ہیں۔‘‘

اے آئی کی تصاویر میں لوگوں کے نقش و نگار بلکل پرفیکٹ دکھائی دیتے ہیں اور ان کے بال اور دانت بھی بے عیب نظر آتے ہیں جو کہ اصل زندگی میں ممکن نہیں۔کچھ تصاویر تو اتنی شاندار ہوتی ہیں کہ پروفیشنل فوٹوگرافر بھی دھوکا کھا جاتے ہیں۔

پس منظر کا جائزہ لیں

کسی تصویر کا پس منظر اکثر یہ ظاہر کر سکتا ہے کہ آیا اس میں ہیرا پھیری کی گئی ہے یا نہیں۔ کچھ کیسز میں اے آئی پروگرامز لوگوں اور اشیا کو دو بار استعمال کرتے ہیں اس لیے اے آئی سے بنی تصاویر کا پس منظر دھندلا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس دھندلی تصویر میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ اوپر دی گئی مثال کی طرح جس کا مقصد آسکر میں ول اسمتھ کو ناراض ظاہر کرنا ہے۔ غور سے دیکھیں اس کا پس منظر مصنوعی طور پر دھندلا دکھائی دیتا ہے۔

نتیجہ

اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو ابھی بھی تھوڑی تحقیق کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی بہتر ہو رہی ہے اور مستقبل میں غلطیاں کم ہونے کا امکان کیا ہیں؟ کیا اے آئی ڈیٹیکٹر ہیرا پھیری کا پتا لگانے میں ہماری مدد کرسکیں گے؟ ہماری تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر اے آئی ڈٹیکٹرز سراغ لگانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

جن ماہرین کا ہم نے انٹرویو کیا وہ کہتے ہیں کہ ٹولز ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہیں اور یہ بھی کہ ان کے ذریعے حقیقی تصاویر کو جعلی قرار دیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے، شکوک و شبہات کی صورت میں حقیقی واقعات اور جعلی تصاویر کی پہچان کے لیے کامن سینس کا استعمال کریں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1fGrQAk

اتوار، 2 اپریل، 2023

ٹوئٹر پر ’بلو چیک‘ اکاؤنٹس کے لیے فوائد کا منصوبہ

ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کا کہنا ہے کہ پندرہ اپریل سے ٹوئٹر پر 'فور یو‘ تجاویز اور ٹوئٹر پولز میں ووٹ ڈالنے کا حق صرف ادائیگی کرنے والے نیلے چیک کے حامل اکاؤنٹس کو ملا کرے گا۔

مسک کے اس نئے اقدام کا مقصد ان کے 'بوٹس‘ کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ ہے۔ تاہم ان نئی تبدیلیوں کا بہ راہ راست اثر ٹوئٹر کو ویریفیکشن فی نہ دینے والے اکاؤنٹس پر ہو گا۔ انہوں نے پیر کو ایک ٹوئٹ میں لکھا، ''اپریل کی پندرہ تاریخ سے فور یو تجاویز صرف ویریفائیڈ اکاؤنٹس کے لیے مخصوص ہو گی۔‘‘

فور یو کا کالم ٹوئٹر میں ہوم پیج پر دکھائی دیتا ہے اور ٹوئٹر کے الیگوردمز دیگر اکاؤنٹس اور فیڈ ٹوئٹس اس پر ظاہر کرتے ہیں،تاہم پندرہ اپریل سے فقط بلو چیک والے اکاؤنٹس ہی یہ دیکھ پائیں گے۔

ایلون مسلک کا کہنا ہے کہ بلوچیک فقط 'بوٹس کی بھیڑ‘ کے خاتمے کے لیے ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سپیم اور جعلی اکاؤنٹس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فیک نیوز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے بڑے ذمہ دار قرار دیے جاتے ہیں۔ مسک کے مطابق ویریفیکشن کا عمل بوٹس کے بھیڑ کے خاتمے کا واحد حقیقی حل ہے۔

مسک نے کہا کہ ٹوئئر پولز میں بھی حصہ لینے یعنی ووٹ دینے کا اختیار فقط بلوچیک والے اکاؤنٹس والوں کو ہی حاصل ہو گا۔ یہ بات اہم ہے کہ ٹوئٹر نے آٹھ ڈالر ماہانہ فی کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو ویریفائی کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اگر سالانہ فی ایک ساتھ دی جائے تو وہ چوراسی ڈالر ہے، جو سات ڈالر ماہانہ بنتی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ ٹوئٹر پر نیلے رنگ کا نشان مختلف اہم شخصیات، سیاستادانوں اور صحافیوں کی درست شناخت کا آئینہ دار رہا ہے، تاہم مسک کے مطابق ویریفیکیشن کے لیے ماہانہ فی دی جائے تو یہ بوٹ یا جعلی اکاؤنٹس کی لاگت کو دس ہزار فیصد مہنگا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

تاہم ٹوئٹر کی اس پیسوں کے بدلے تصدیق کی پالیسی سے سب متفق دکھائی نہیں دیتے۔ ماضی میں ویری فیکیشن کے لیے ٹوئٹر شناختی دستاویزات طلب کرتا تھا، تاہم اب فی کے عوض ٹوئٹر بلوبیج کا حصول ممکن ہو گیا ہے۔ معروف اداکار ویلیم شاٹنر نے اس بابت ایک ٹوئٹ میں مسک کو ٹیگ کر کے لکھا، ''میں پندرہ سال سے یہاں ہوں، ہر طرح کے خیالات اور جملوں کے ساتھ۔ اب آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ ایک ایسی شے جو آپ نے مجھے مفت دی، میں اس کے پیسے ادا کروں؟‘‘

اس کے جواب میں مسک نے لکھا، ''یہ سب کے ساتھ مساوی سلوک کی بات ہے۔ میری رائے میں مشہور شخصیات کے لیے مختلف معیار نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

مونیکا لیونسکی نے اپنی ہی نام سے بنایے گئے ایک جعلی مگر ویری فائیڈ اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ''کس دنیا میں یہ مناسب ہے کہ کوئی آپ کے نام پر تصدیق شدہ اکاؤنٹ بنا لے، یعنی آپ اس کے جواب دہ ہوں جو آپ کریں بھی نہیں۔ سچ جب تک اپنے گھر کا دروازہ کھولتا ہے، جھوٹ تب تک پوری دنیا کا سفر کر چکا ہوتا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Q1vIsjV

یورپ اور جنوبی ایشیا میں آرینس کے آنے میں یکسانیت اور فرق... وصی حیدر

(42ویں قسط)

یورپ اور جنوبی ایشیا میں آرینس کے آنے کی ہسٹری میں کافی دلچسپ یکسانیت ہے لیکن تفصیلات میں کچھ فرق بھی ہے۔ مغربی ایشیا کے اناتولین (موجودہ ترکیہ کا ایشائی حصّہ) سے لوگ مغربی یورپ کھیتی کا ہنر تقریباً 7000 سال قبل مسیح سے 5000 سال قبل مسیح کے دوران لائے۔ جنوبی ایشیا میں اسی دوران ایران کے زگروز پہاڑیوں کے پاس رہنے والے لوگ مغربی ہندوستان میں مہرگڑھ میں وہاں پہلے سے بسے لوگوں کے ساتھ ایک نئی تہذیب کی بنیاد ڈالی جو وقت گزرنے کے بعد عظیم ہڑپا کی شکل میں ابھری اور ایک نیا جنیٹکس گروپ ANI بنا۔ ہڑپا تہذیب کے بکھرنے کے بعد جب یہاں کے کچھ لوگ جنوبی ہندوستان پہنچے تو انہوں نے وہاں پہلے سے بسے ہوموسیپینس میں گھل مل کر جینیٹکس کے دوسری شاخ ASI بنائی۔ لیکن شاید بلوچستان کے مہرگڑھ  اور اتر پردیش کے لہورڈیوا میں بھی کھیی باڑی کی شروعات ہو چکی تھی۔ زگروز سے آنے والوں نے کھیتی اور مختلف جانوروں کو پالتو بنانے کے ہنر کو نکھارا۔ مغربی یورپ میں باہر سے آنے والوں نے وہاں بسے شکاری لوگوں کے ساتھ مل کر کئی neolithic تہذیبوں کو جنم دیا۔

یورپ اور ایشیا میں آرینس کے پھیلنے کی کہانی میں جینیٹکس کے لحاظ سے ایک دلچسپ یکسانیت gender bias کی ہے جس کا ذکر Reich نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ جب تک جینیٹکس کے سائنسدان موجودہ ہندوستانی ڈھانچوں میں صرف ایم ٹی ڈی این اے (جو ہم کو صرف اپنی ماں سے ملتا ہے) کو دیکھ رہے تھے تو ان کو سٹیپپے کے جینس کی کوئی ملوٹ نہی ملی لیکن جیسے ہی Y کروموسوم (جو ہم کو اپنے والد سے ملتا ہے) کو دیکھا گیا تو سٹیپپے کے جینس کی ملاوٹ کا راز کھلا۔عورتوں کے مقابلہ مردوں کے جینس کی بہت زیادہ ملاوٹ کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے آرینس مرد اپنے سیاسی اور سماجی اثر کی وجہ سے اور لوگوں کے مقابلہ شادیاں کرنے میں زیادہ کامیاب ہوئے۔ سٹیپپے سے پھیلنے والے آرینس کی کہانی میں عورتوں اور مردوں کا یہ فرق سبھی جگہ ہے۔

2017  کی جنیٹکس تحیقات کی دلچسپ دریافت یہ ہے کہ ہندوستان کی موجودہ آبادی میں تقریبا 70 سے 90 فیصدی ایم ٹی ڈی این اے جینس پرانے افریقہ سے آئے لوگوں کے ہیں، جب کے Y کروسوم صرف 10 سے 40 فیصدی ہی ہیں۔ یعنی آنے والے آرین مرد جنسی طور زیادہ کامیاب تھے۔

جنوبی ایشیا اور مغربی یورپ میں آرینس کے کئی سمتوں میں پھیلنے میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ یورپ میں ہر مرتبہ پرانی آبادی تقریباً ختم ہوگئی۔ اس کے برخلاف ایشیا میں یہ بدلاؤ ایسا نہیں ہوا۔ سوائے شمالی یورپ کے زیادہ تر جگہوں پر پہلے سے رہ رہے لوگ دس فیصدی سے بھی کم رہ گئے جبکہ موجودہ ہندوستان کی آبادی میں اب بھی تقریباً 50-65 فیصدی لوگوں میں افریقہ سے آئے ہوئے پہلے ہندوستانیوں کے جینس ہیں۔ یہ جبھی معلوم ہو پایا جب صرف y کروموسوم یا ایم ٹی ڈی این اے  کے بجائے پورے انسانی جینس کی تحقیقات سامنے آئی۔

 دونوں جگہوں کے یہ فرق زبانوں کے فرق سے بھی صا ف دکھائی دیتے ہیں، مثلا مغربی یورپ کے 94 فیصدی لوگ انڈو یورپین زبانیں بولتے ہیں جبکہ ہندوستان میں صرف 75 فیصدی۔ 20 فیصدی لوگ ہمارے ملک میں ڈراویڈین زبان استمال کرتے ہیں، جب کے مغربی یورپ میں ایسی کوئی زبان نہیں بچی۔ اکیلی زبان جو سٹیپپے سے آنے والوں کے غلبہ سے بچی وہ  Basque ہے کیونکہ یہاں کے لوگوں میں سٹیپپے کے جینس کی بہت کم ملاوٹ ہے اور ان کے اصل جد امجد آرینس کے آنے سے پہلے بسے کسان اور شکاری ہوموسپینس ہیں۔ شاید یہی وجہ جنوبی ہندوستان میں ڈراوڈ ینس زبانوں کا بچنا ہے کیوکہ جنوبی ہندوستان آنے والے آرینس کے اثر سے بچی رہیں۔

آرینس کے سٹیپپے سے یورپ آنے کے پرانے ڈی این اے تحقیقات کے ثبوتوں کے ملنے پر سائنسدانوں کو بہت تعجب ہوا۔ خاص طور سے دوسری جنگ عظیم کے بعد سبھی لوگوں میں ’’نازی اور ان کی سمجھ کے وہ خالص آریانس ہیں ناکہ ناپاک مشرقی یورپین یا یہودی‘‘کے خلاف عام ہوا تھی کہ انہوں نے پرانے زمانہ میں بہت فتوحات کیں ہے اور اپنی تہذیب corded ware  کو پھیلایا اور ان جگہوں پر صرف ان کا حق ہے۔ اپنی ریس کی پاکیزگی بچانے کے لیے تمام اور لوگوں کو ختم کرنا ان کا فرض ہے۔ کھدائی میں ملے سامان کی تحقیقات سے منسلک سائنسدان اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھے کہ یورپ میں پرانے زمانہ میں آریانس نے یورپ آکر یہاں کی تہذیب کو بلکل بدل ڈالا۔ لیکن ڈی این اے تحقیقات کے نئے انکشافات نے ان دونوں کو غلط ثابت کر دیا۔ اب یہ صا ف ہے کے آرین نے یوروپ آکر وہاں کی پرانی تہذیبوں کو تقریباً پورے طور سے بدل ڈالا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی نازیوں کی یہ سمجھ بھی غلط ثابت ہوئی کے آرین خالص ہیں کیونکہ ان میں بھی ملاوٹ ہے اور زیادہ اہم یہ کے یہ لوگ مشرقی یورپ سے آئے جن سے نازیوں کو خاص نفرت تھی اور جن کا اجتمائی قتل عام ہٹلر کی فوجوں نے کیا۔

نازیوں سے نفرت کے علاوہ بھی وجہیں تھیں کہ سائنسدانوں کو آرینس کے یورپ میں بڑے پیمانہ کی ہجرت پر شبہ تھا۔ مثلا Colin Renfrew  نے لکھا کہ وہ جگہیں جہاں کامیاب کھیتی شروع ہو جائے تو پھر آبادی تیزی سے بڑھتی ہے اور ان آباد جگہوں پر باہر سے آکر پوری تہذیب کو بدلنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کے آخر پھر آرینس یوروپ کو بدلنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔

ایک وجہ تو شاید یہ ہے کہ باوجود اس کے کے کھیتی باڑی سے آبادی ایکدم تیزی سے بڑھی لیکن پھر بہت جگہیں غیر آباد تھیں، مثال کی طور پر جب ہڑپہ تہذیب، جو اپنے وقت کی سب سے بڑی تھی اور جب اپنے شباب پر تھی تو اس کی کل آبادی کا تخمینہ تقریباً پچاس لاکھ ہے جب کہ اکیلے موجودہ حیدرآباد شہر کی آبادی 80 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یعنی بہت بڑا علاقہ خالی غیر آباد تھا۔ سٹیپپے سے آنے والوں نے جنگلوں کو صاف کرکے اپنے رہنے کے لیے گھاس کے میدانوں میں بدل دیا۔

یوورپ کی آبادی اور کلچر کے زبردست بدلاؤ کی وجہ اور امکان بھی سامنے آئے جب Eske Willerslev اور ان کے ساتھیوں کی ڈی این اے تحقیقات کے نتیجہ سن 2015 میں سامنے آئے۔ انہوں نے یہ پایا کچھ  Eurasia کی Bronze age کے زمانہ کے انسانی ڈھانچوں میں plague کے جراسیم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے سٹیپپے سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ plague کے جراسیم لائے یعنی اس کا امکان ہے کے یوروپ کی پرانی آبادی plague کا شکار ہوکر کافی حد تک ختم ہو گئی۔ دنیا کی تاریخ میں plague سے اس طرح آبادی کا بڑا بدلاؤ امریکا میں بھی ہوا۔ امریکا کی دریافت کے بعد یوروپ سے امریکا جانے والے لوگ وہاں اپنے ساتھ plague کے جراسیم بھی لے گئے جس نے امریکا کے بہت علاقوں میں پرانی آبادی کو بالکل ختم کر دیا۔ ان تحقیقات کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کے ہڑپہ تہذیب کے زوال کی وجہ بھی سٹیپپے سے آنے والے آرینس کے ساتھ یہاں بھی plague نے اپنا کام دکھایا کیوںکہ ہڑپہ تہذیب کے زوال کا وقت اور آرینس کے ہندوستان آنے کا وقت تقریباً ایک ہے۔ اس کا سہی جواب تبھی مل پائے گا جب ہڑپہ کے زوال کے وقت ہڑپہ، موہن جودارو اور کالی بنگان کے علاقوں کے انسانی ڈھانچوں کی ڈی این اے تحقیقات ہوں۔

 اگر یہ معلوم بھی ہوجائے کے plague نے ہڑپہ کی آبادی کو کم کیا تو پھر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہڑپہ کے ختم ہونے کی اصل وجہ بہت لمبے عرصہ تک سوکھا ہے جس کی وجہ سے کھیتی کو بہت نقصان اور اناج کی قلّت سے بھکمری نے اس عظیم تہذیب کی کمر توڑ دی۔ لمبے عرصہ تک پڑے سوکھے کے ثبوت موجود ہیں اور اسی دوران اس نے مصر، مسوپوٹامیہ اور چین کی تہذیبوں کو بھی برباد کیا۔ اس سمجھ کو بہت تقویت ملی جب سن 2018 میں پرانے زمانہ کی موسمیات کی تبدلیوں کی بہت تفصیلی تحقیقات سامنے آئیں۔ یہ دریافت ہوا کہ 2200 قبل مسیح کے پاس ایک لمبے عرصہ تک ایک بہت پڑا سوکھا پڑا جس نے ان تمام تہذیبوں کو برباد کیا جو بہت حد تک کھیتی باڑی پر منحصر تھیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کے برطانوی سائنسدان Mortimer Wheeler نے غلط جینز پر ہڑپہ تہذیب کے زوال کا الزام رکھا۔ انہوں نے اپنے سروے کے بعد سارا الزام Indra پر رکھا یعنی ارینس، جب کے اصل وجہ Vruna یعنی بارش دیوتا ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vtxAnzU

رمضان المبارک: سعودی عرب میں روبوٹک رضاکار افطار کا کھانا پیش کرنے لگا! دیکھیں ویڈیو

الریاض: سعودی عرب میں ایک روبوٹ نے رضاکاروں کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر دارالحکومت ریاض میں روزہ داروں کو افطار کا کھانا پیش شروع کر دیا ہے۔ روبوٹ رضا کار کے اس کام کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔

سعودی شہریوں اور رہائشیوں نے اس اقدام پر بات چیت کی اور روبوٹ کو رضاکارانہ کام میں استعمال کرنے کے اس آئیڈیا کی تعریف کی۔ خودکار روبوٹ نے ریاض کی سڑکوں پر راہگیروں کو ناشتہ اور کھجور فراہم کرنے میں حصہ لیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں رمضان کے دوران نوجوان راہگیروں میں افطار تقسیم کرتے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں مختلف خیراتی اداروں کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، رضاکار انسانیت، بنیادی اسلامی اصولوں اور قومی ذمہ داری کے طور پر ان کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی کام کو انجام دینے کے لئے ریاض میں روبوٹ کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/KR2l1EP

پیر، 27 مارچ، 2023

کیا انسان کو کبھی موت نہیں آئے گی؟ سائنسدانوں کو ’ریورس ایجنگ‘ میں ملی پہلی کامیابی

معروف شاعر کرشن بہاری نور کی مشہور غزل کا ایک شعر ہے ’’زندگی، موت تیری منزل ہے، دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں‘‘۔ یہی تصور تھا اور ہے، لیکن کیا یہ بدل جائے گا اور انسان کو کبھی موت آئے گی ہی نہیں؟ کیا موت زندگی کی منزل نہیں رہے گی؟ کچھ ایسی ہی باتیں سائنس کی دنیا سے آ رہی ہیں۔

 جب بھی ہم لافانی کے بارے میں سوچتے ہیں تو یہ ایک سائنس فکشن فلم کی طرح لگتا ہے۔ پیدا ہوا تو موت ہوگی اور سائنسدانوں کے علاوہ ہر کوئی اس بات کو مانتا ہے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق انٹرنیشنل نان پرافٹ آرگنائزیشن ’ہیومینٹی پلس‘ کے سائنسدان ڈاکٹر جوز کورڈیرو کا دعویٰ ہے کہ چند سالوں کے بعد ہم پر امر ہونے کا راز کھل جائے گا۔ ان کے مطابق 2030 میں زندہ لوگ اپنی عمر میں سال بہ سال اضافہ کر سکیں گے اور 2045 کے بعد سائنسی طبقہ لوگوں کو لافانی بنانا شروع کر دے گا۔

ایسا کیسے ہوگا اس بارے میں فی الحال سائنسدان نے کھل کر کچھ نہیں بتایا، تاہم اس میں روبوٹکس اور اے آئی کی مدد لی جا سکتی ہے۔ ان کی مدد سے عمر بڑھتی جائے گی اور پھر ایک وقت آئے گا جب انسان صدیوں تک زندہ رہ سکے گا۔ اس پر دلیل دیتے ہوئے ڈاکٹر کورڈیرو نے کہا کہ پہلے اوسط عمر کم ہوتی تھی لیکن اب بڑھ گئی ہے۔ مثال کے طور پر، 1881 کے آس پاس، ہندوستان میں اوسط عمر صرف 25.4 سال تھی۔ اور 2019 میں یہ بڑھ کر 69.7 سال ہو گئی۔ اس فارمولے پر ڈی این اے کی عمر کو’ ریورس ایجنگ‘ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

ڈاکٹر کورڈیرو کے اس دعوے کے پیچھے ہارورڈ اور بوسٹن کی لیبز میں کی گئی تحقیق ہے، جس میں بوڑھے چوہوں کو پھر سے جوان بنایا گیا تھا۔ عمر کی وجہ سے جو بینائی کمزور تھی وہ بھی ٹھیک ہوگئی۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول اور بوسٹن یونیورسٹی کی اس مشترکہ تحقیق کو سائنسی جریدے سیل میں جگہ ملی۔ اس حوالے سے محقق ڈیوڈ سنکلیئر نے واضح طور پر کہا کہ عمر ایک پلٹ جانے والا عمل ہے، جس سے چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے۔

لیبارٹری میں چوہوں پر کیے گئے اس تجربے میں واضح طور پر دکھایا گیا کہ عمر کو لوٹا کر اسے جوان بنایا جا سکتا ہے۔ ایک چونکا دینے والی بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ عمر نہ صرف پیچھے لوٹتی ہے بلکہ اسے آگے بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ یعنی وقت سے پہلے کسی کو بڑا یا بوڑھا بنایا جاسکتا ہے۔

تحقیق اس تصور پر شروع ہوئی کہ جسم میں جوانی کی بیک اپ کاپی موجود ہے۔ اگر اس کاپی کو متحرک کیا جاتا ہے، تو خلیے دوبارہ بننا شروع ہو جائیں گے اور عمر واپس آنا شروع ہو جائے گی۔ اس تجربے سے یہ خیال بھی غلط ثابت ہوا کہ بڑھاپا جینیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ڈی این اے کمزور ہو جاتا ہے۔ یا کمزور خلیے وقت کے ساتھ ساتھ جسم کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔

تقریباً ایک سال کی تحقیق کے دوران بوڑھے اور کمزور بینائی والے چوہوں میں انسانی بالغ جلد کے خلیات ڈالے گئے جس کی وجہ سے وہ چند دنوں میں دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو گئے۔ اس کے بعد دماغ، پٹھوں اور گردے کے خلیات کو بھی اسی طرح نوجوانوں میں لایا جا سکتا تھا۔

سال 2022 کے اپریل میں کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی۔ ان کا دعویٰ زیادہ واضح تھا، جس کے مطابق ایک خاص طریقہ سے عمر کو 30 سال پیچھے لے جایا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے لیے جلد کے خلیوں کو دوبارہ پروگرام کیا گیا تاکہ وہ برسوں سال پیچھے جا سکیں۔ عمر بڑھنے والے خلیوں میں، اس نے کولیجن پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا، جو کہ پروٹین ہے جو جسم کو مضبوط اور جوان محسوس کرتا ہے۔ ملٹی اومک ریجوینیشن آف ہیومن سیلز کے عنوان سے یہ تحقیق eLife Journal میں شائع ہوئی۔ تحقیق کے بارے میں زیادہ معلومات عوامی ڈومین میں نہیں ہے کہ یہ کتنے لوگوں پر ہوا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Z5vhcYW

ہفتہ، 25 مارچ، 2023

اسرو نے پھر تاریخ رقم کر دی، ہندوستان کا سب سے بڑا راکٹ کیا لانچ، خلا میں لے گیا 36 سٹیلائٹ

سری ہری کوٹا: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے آج (26 مارچ) پھر تاریخ رقم کرتے ہوئے ہندوستان کے سب سے بڑے راکٹ کو خلا میں روانہ کر دیا۔ ایل سی ایم-3 نام کے اس راکٹ کے ساستھ 36 سٹیلائٹ بھی خلا میں بھیجے گئے ہیں۔ اسرو کا راکٹ برطانوی کمپنی کے 36 سیٹلائٹس کے ساتھ صبح 9 بجے سری ہری کوٹا سے روانہ ہوا۔

سرکاری معلومات کے مطابق لانچ ہونے والا راکٹ ’ایل وی ایم-3‘ 43.5 میٹر لمبا ہے اور اس کا کل وزن 5 ہزار 805 ٹن ہے۔ اس مشن کو ایل وی ایم3-ایم3/ون ویب انڈیا-2 کا نام دیا گیا ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کرکے اس مشن کے آغاز کی اطلاع دی تھی۔

ایل وی ایم3 اسرو کی سب سے بھاری لانچ وہیکل ہے جس نے اب تک پانچ کامیاب پروازیں مکمل کی ہیں جن میں چندریان-2 مشن بھی شامل ہے۔ خیال رہے کہ برطانیہ کی ’ون ویب‘ کمپنی نے 72 سیٹلائٹس کو لانچ کرنے کے لیے اسرو کی تجارتی شاخ ’نیواسپیس انڈیا لمیٹڈ‘ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔

معاہدہ کے تحت اسرو 23 اکتوبر 2022 کو 23 سیٹلائٹ لانچ کر چکا تھا اور آج باقی 23 سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں بھیج بھیجا گیا۔ اسرو کے اس لانچ کے ساتھ ہی زمین کے مدار میں ویب ون کمپنی کے سیٹلائٹس کی کل تعداد 616 ہو جائے گی۔ اسرو کے لیے اس سال کا یہ دوسرا لانچ ہے۔

اسرو کے مطابق، اس لانچ کے کامیاب ہونے کے بعد ون ویب انڈیا-2 خلا میں زمین کے نچلے مدار میں موجود 600 سے زیادہ سیٹلائٹس کو مکمل کر لے گا۔ جس سے دنیا کے ہر حصے میں اسپیس بیس براڈ بینڈ انٹرنیٹ پلان میں مدد ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/f5dU7Jw

مشین اور انسان پھر آمنے سامنے... انشومنی رودر

جب بھی کوئی نئی تکنیک دستک دے رہی ہوتی ہے تو وہ دور پرانے چلے آ رہے نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی ہوتی ہے۔ میں اسے ’ڈائنامائٹ فیز‘ کہتا ہوں جس کا استعمال آپ پہلے سے قائم نظام کی دھجیاں اڑانے یا پھر بڑے پہاڑوں کے سینے میں سرنگ جیسی تعمیر کر انسانیت کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھانے میں کر سکتے ہیں۔ آرٹیفیشیل انٹلیجنس (اے آئی)، خاص طور پر جنریٹیو اے آئی آج اسی طرح کے ’ڈائنامائٹ فیز‘ میں ہے۔ تخلیقی آرٹ یا پروڈکٹ کے ذریعہ روزی روٹی چلانے والے فنکار اور مصنف جیسے لوگوں کے پیروں تلے جیسے زمین کھسکتی نظر آ رہی ہے۔ اس لیے یہ جاننے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اتھل پتھل مچانے والے اس واقعہ کا ان لوگوں کی تخلیقیت اور روزی روٹی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

ایک ایسے شخص کے طور پر جو اپنی روزی روٹی کے لیے تقریباً چھ سال تک تحریر و تخلیق پر منحصر رہا ہو اور اس کے بعد کے تقریباً 12 سال گیمز، ہیلتھ کیئر، تعلیم، میڈیا اور پیمنٹ سے جڑے تکنیکی صارفین مصنوعات کی تخلیق پر، اس کے لیے یہ موضوع اہم ہے اور دلچسپ بھی۔ کسی چیز کی تخلق کرنا ایک ذاتی قسم کا کام ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے ہنر، جسے پانے کے لیے سالوں کی محنت اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصنف، فنکار، کوڈرس اور ڈیزائنرس... سب کے ساتھ یہی بات نافذ ہوتی ہے۔ کسی بھی خاص فن کے بارے میں ہم اس کے ماہرین کو پڑھنے، دیکھنے، سننے، ان کے نظریہ کو سمجھنے سے سیکھتے ہیں اور اس ضمن میں سب سے زیادہ کارگر وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ہم خود کرنا شروع کرتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ہم اس کام میں اپنا ایک خاص اسٹائل تیار کر پاتے ہیں۔

فنکار اکثر اس سے ڈرتے ہیں کہ ان کی تخلیق کو اصلی نہیں بلکہ کسی دیگر تخلیق سے متاثر مانا جا سکتا ہے۔ ’نقلچی‘ قرار دیئے جانے کا خوف انھیں ستاتا رہتا ہے۔ پھر بھی یہ غیر متنازعہ حقیقت ہے کہ ہم سبھی نے نقل کے ذریعہ ہی سیکھا۔ کوئی بھی اس بچے (یا یہاں تک کہ ایک ایپل پنسل کو آڑا ترچھا چلاتے ایک نوجوان) سے سوال نہیں کرتا جو ونسینٹ وین گو کی سورج مکھی کو دیکھ کر اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

میں نے سب سے پہلے جو کہانیاں لکھیں، وہ بالکل ’پنچ تنتر‘ اور اینڈ بلائٹن کی اسکولی کہانیوں جیسی تھیں۔ فنتاسی فکشن کے رائٹر کے طور پر ٹیری پراچتیٹ کی آنکھیں موند کر نقل نہیں کرنے یا ’ٹولکن‘ جیسی ’بھیانک‘ نظم (اس کے باوجود کہ میں نے وکرم سیٹھ کی ’بیسٹلی ٹیلس‘ کی نقل کی) لکھنے میں بھی مجھے سالوں لگ گئے۔ تقریباً 10 لاکھ الفاظ ہاتھ سے لکھنے کے بعد ہی میں نے اپنی محدود صلاحیتوں میں ’اصلی‘ ہونے کے اعتماد کو محسوس کرنے کی ہمت پیدا کر سکا۔

لیکن جنریٹیو آرٹیفیشیل انٹلیجنس مجھے سوچ میں ڈال دیتا ہے۔ ایل ایل ایم (لارج لینگویج ماڈل) ایک طرح کا مشین لرننگ ماڈل ہے جو تمام طرح کے لسانی کام کر سکتا ہے۔ اس سے جڑے کئی سوالات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ کیا ایل ایل ایم کو دنیا کے بہترین فکشن رائٹرس کی کتابوں کے بارے میں اس طرح تربیت کی جا سکتی ہے کہ وہ کوئی الگ ہی ’اصل‘ کتاب لکھ دے؟ پھر، موسیقی اور مصوری کے شعبہ میں کیا ہوگا؟ اگر آپ ایک فنکار ہیں، تو کیا جنریٹیو اے آئی کسی اور کو آپ کے خاص اسٹائل میں تصویر بنانے کے قابل بنا سکتا ہے؟ کیا اس سے بالآخر فنکاروں کی آمدنی ماری جائے گی؟

اس موضوع پر جب میں نے اوروں سے بات کرنی شروع کی تو پتہ چلا کہ اس نئے تکنیکی ٹول کے ضمن میں اخلاقیات، معاشیات اور اس سے جڑی پالیسیوں کو لے کر دوسرے لوگوں کے ذہن میں بھی اسی طرح کے سوال امنڈ رہے ہیں۔ کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ضروری تھا کہ میں خود اس میں گہرائی تک اتروں۔ میرے لیے اس نئی تکنیک کو سیکھنا اور پھر اپنے تجربات کو شیئر کرنا ضروری تھا۔ آپ کو یہ دلچسپ لگ سکتا ہے کہ ایک شخص جو خود ایک فنکار ہے، تباہی مچانے والے اس ’ڈائنامائٹ فیز‘ میں بھی کچھ مثبت نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر آپ ایک ٹیکنالوجسٹ یا تکنیک سے جڑے صارف مصنوعات بنانے والے ہیں تو بھی یہ آپ کو دلچسپ لگ سکتا ہے۔ اور پھر آپ ایک اے آئی ماہر بھی ہو سکتے ہیں جو یہ سوچ کر اپنا دھیان اِدھر جمائے کہ دیکھیں جو میں بنا رہا ہوں، اس پر دنیا کس طرح رد عمل کر رہی ہے۔ زیادہ امکان ہے کہ آپ ایک تماش بین ہوں جو دور سے یہ سب دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہو کہ آخر یہ بلا ہے کیا؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو سیٹ بیلٹ باندھ کر ایک نئے سفر کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

جنریٹیو اے آئی، ایل ایل ایم اور ان کے ماڈل:

اس مضمون کا یہ حصہ بازار میں دستیاب مختلف جنریٹیو ٹیکسٹ اے آئی ٹولس کی مدد سے تیار کیا گیا۔ اس سے ایل ایل ایم کی لکھنے کی قابلیت کا اندازہ ہوا۔ بے شک میں نے اسے اچھی طرح ایڈٹ کیا اور اس بات کا خاص خیال رکھا کہ اس میں دی گئی باتیں درست ہوں اور جہاں بھی مجھے لگا کہ روانی ٹوٹ رہی ہے، وہاں میں نے ان کی از سر نو تحریر بھی کی۔ لیکن موٹے طور پر ان ٹولس کو میں نے بہت ہی کام کا پایا۔ خاص طور پر بڑے ٹیکسٹ کا اختصار کرنے والے ٹول کا تو میں مرید ہو گیا۔ میرا ماننا ہے کہ اس تکنیک سے اچھی تحریر کو نقصان تو نہیں ہونے جا رہا، الٹے اس ابھرتی ہوئی تکنیک سے تحریریں مزید بہتر ہوں گی۔

جنریٹیو اے آئی:

جنریٹیو اے آئی ایک طرح کا آرٹیفیشیل انٹلیجنس ہے جو ٹیکسٹ، امیج اور میوزک جیسی نئی اشیا تیار کر سکتا ہے۔ جس بھی اشیا کے ضمن میں اسے ٹرینڈ کیا جاتا ہے، یہ اس میں پیٹرن اور رشتوں کو تلاش کرنے میں ایک نیورل نیٹورک ماڈل کا استعمال کرتا ہے۔ ایک بار جب وہ پیٹرن تلاش کر لیتا ہے تو اس کا استعمال نئی اشیا تیار کرنے میں کرتا ہے۔

(انشومنی رود کا یہ مضمون ہندی ہفتہ وار ’سنڈے نوجیون‘ سے لیا گیا ہے)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9KkHzyR