ہفتہ، 30 ستمبر، 2023

مشن سورج: ہماری زمین سے 9.2 لاکھ کلومیٹر دور پہنچا آدتیہ ایل-1، لینگریج پوائنٹ 1 کی طرف گامزن

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) نے ہفتہ کے روز مشن سورج کے بارے میں تازہ جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ آدتیہ ایل-1 ہماری زمین کے اثرات والے علاقہ سے کامیابی کے ساتھ باہر چلا گیا ہے۔ آدتیہ ایل-1 نے اب تک 9.2 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کر لیا ہے اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اِسرو کے مطابق آدتیہ ایل-1 اب سَن-اَرتھ لینگرین پوائنٹ 1 (ایل 1) کی طرف اپنا راستہ طے کر رہا ہے۔

اِسرو کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ’’یہ لگاتار دوسری بار ہے کہ اِسرو نے زمین کے اثرات والے علاقہ کے باہر ایک خلائی طیارہ بھیجا ہے۔ پہلی بار مریخ آربیٹر مشن کو زمین کے مدار سے باہر بھیجا گیا تھا۔‘‘ ویسے یہ لگاتار پانچویں بار ہے جب اِسرو نے کسی شئے کو خلا میں کامیابی کے ساتھ بھیجا ہے۔ اِسرو نے خلائی طیارہ کو تین بار چاند اور ایک بار مریخ کی طرف بھیجا ہے، اور اب آدتیہ ایل-1 سورج کی طرف بڑھ رہا ہے جو ایل 1 پر جا کر ٹھہر جائے گا۔

واضح رہے کہ آدتیہ ایل-1 کو 2 ستمبر کو ہندوستانی راکیٹ پی ایس ایل وی-ایکس ایل سے ایل ای او (زمین کے سب سے قریبی مدار) میں نصب کیا گیا۔ اس وقت سے اِسرو نے خلائی طیارہ کے مدار کو 4 مرتبہ تبدیل کرتے ہوئے بڑھایا ہے۔ جیسے ہی خلائی طیارہ نے زمین کے کشش ثقل کے اثرات والے علاقہ (ایس او آئی) سے باہر نکلنے کے بعد لینگریج پوائنٹ 1 (ایل 1) کی طرف سفر شروع کیا تو کروز مرحلہ بھی شروع ہو گیا۔ اب اسے ایل 1 کے چاروں طرف ایک بڑے دائرہ والے مدار میں شامل کیا جائے گا۔ لانچ سے ایل 1 تک کے مکمل سفر میں آدتیہ ایل-1 کو تقریباً چار ماہ لگیں گے اور زمین سے یہ دوری تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UDbV7Ou

جمعرات، 28 ستمبر، 2023

اوسیریس ریکس مشن: ناسا ایسٹرائڈ سے نمونے لانے میں کامیاب

ایسٹرائڈ بینوکے نمونوں سے ہم نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جان سکیں گے کہ اس وقت کے پتھروں کی کیمیائی خصوصیات کیا تھیں، پانی کیسے وجود میں آیا اورزندگی بنانے والے مالیکیول کیسے بنے

امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایسٹرائڈ سے نمونے اکٹھا کرنے والا پہلا مشن، اوسیریس ریکس (OSIRIS-REx) 24 ستمبر 2023 کو ایسٹرائڈ بینو (Asteroid Bennu) کے مواد کے ساتھ زمین پر واپس پہنچ گیا ۔ اس خلائی جہاز نے نمونے کیپسول کے ساتھ ریاست یوٹاہ کے صحرا میں محفوظ لینڈنگ کی ۔ ناسا کے مطابق سال 2020 میں ایسٹرائڈ بینوکی سطح سے جمع کیا گیا پتھر اور دھول پر مبنی یہ قدیم مواد سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کو اس وقت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا جب سورج اور سیارے تقریباساڑھے چار ارب سال پہلے بن رہے تھے۔ مزید براں ایسٹرائڈ بینو، جس کے مستقبل میں زمین سے ٹکرانے کا امکان ہے، کا نمونہ سائنس دانوں کو نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جاننے کا موقع فراہم کرے گا ۔

اوسیریس ریکس مشن

اوسیریس ریکس (OSIRIS-REx) کا مطلب ہے: اوریجن، اسپیکٹرل انٹرپریٹیشن، ریسورس آئیڈینٹی فکیشن، سیکورٹی، ریگولتھ ایکسپلورر۔ اوسیریس ریکس 2016 میں لانچ کیا گیا اور 2018 میں اس نے ایسٹرائڈ بینوکے گرد چکر لگانا شروع کیا۔ خلائی جہاز نے 2020 میں نمونہ اکٹھا کیا اور مئی 2021میں زمین پر واپسی کے اپنے طویل سفر پر روانہ ہوا ۔ مشن نے بینوتک اور واپسی میں مجموعی طور پر 3.86 ارب میل( چھ ارب 20 کروڑ کلومیٹر ) کا سفر طے کیا۔

ناسا نے یہ کارنامہ پہلی بار انجام دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع رپوٹوں کے مطابق خلا میں روانہ ہونے کے سات سال بعد، اوسیریس ریکس خلائی جہاز نے 24 ستمبر2023کو زمین کے گرد اڑان بھری تاکہ ایسٹرائڈ بینو سے حاصل شدہ نمونے فراہم کیے جا سکیں۔ خلائی جہاز نے نمونہ کیپسول کو زمین کی سطح سے 63,000 میل (102,000 کلومیٹر) کے فاصلے سے گرایا، اور تقریباً 27,650 میل فی گھنٹہ (44,498 کلومیٹر فی گھنٹہ)کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے صبح 10:42 بجے زمین کی فضا میں داخل ہوا۔ کیپسول کی رفتار کو آہستہ تقریباً 11 میل فی گھنٹہ (17.7 کلومیٹر فی گھنٹہ) کرنے کے لیے پیراشوٹ تعینات کیے گئے ۔ فضا میں داخل ہونے کے تقریباً 10 منٹ بعد،یہ نمونہ ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے یوٹاہ ٹیسٹ اور ٹریننگ رینج میں مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے پہنچا۔

ناسا کے منتظم بل نیلسن کا کہنا ہے کہ ان نمونوں سے نظام شمسی کی ابتدا کی جھلک سامنے آئے گی۔ انہوں نے اوسیریس ریکس ٹیم کو مبارکباددی اور کہا، ’یہ کچھ غیر معمولی لے کر آیاہے، زمین پر اب تک کا سب سے بڑا ایسٹرائڈ کا نمونہ۔ یہ مشن ثابت کرتا ہے کہ ناسا بڑے کام کرتا ہے، وہ چیزیں جو ہمیں متاثر کرتی ہیں، وہ چیزیں جو ہمیں متحد کرتی ہیں۔ یہ مشن ناممکن نہیں تھا۔ یہ ناممکن تھا جو ممکن ہو گیا‘۔

دریں اثنا اوسیریس ریکسنظام شمسی کا اپنا دورہ جاری رکھے ہوئے ہے - خلائی جہاز اپوفس (Apophis)نامی ایک مختلف ایسٹرائڈ پر تفصیلی نظر ڈالنے کے لیے روانہ ہو چکا ہے اور اب مشن کا نیا نام اوسیریس ایپکس (OSIRIS-APEX) اوریجن، اسپیکٹرل انٹرپریٹیشن، ریسورس آئیڈینٹی فکیشن، سیکورٹی، اپوفس ایکسپلورر

ناسا کی ریکوری اور ریسرچ ٹیموں نے لینڈنگ کے مقام پر اس بات کو یقینی بنایا کہ کیپسول کو کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچے۔ ٹیموں نے تصدیق کی کہ لینڈنگ کے دوران کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ اس مشن میں لاک ہیڈ مارٹن اسپیس نے ناسا کے ساتھ خلائی جہاز کی تعمیر، فلائٹ آپریشن فراہم کرنے اور 100 پاؤنڈ کےکیپسول کی بحالی میں مدد کی۔

حفاظتی دستانے اور ماسک سے لیس ابتدائی بحالی ٹیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کیپسول چھونے کے لیے کافی ٹھنڈا ہو جائے، اس لیے کہ فضا میں دوبارہ داخلے کے دوران اس کا درجہ حرارت 5000 ڈگری فارن ہائیٹ (2760 ڈگری سیلسیس) تک پہنچ گیا تھا۔ ٹیم نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ کیپسول کی بیٹری نہ پھٹے اور کوئی زہریلا دھواں نہ نکلے۔ ساتھ ہی ایک سائنسی ٹیم نے لینڈنگ کی جگہ سے نمونے اکٹھے کیے جن میں ہوا، دھول اور مٹی کے ذرات شامل ہیں۔

بعد ازیں کیپسول کو لینڈنگ سائٹ کے قریب ایک عارضی جگہ پہنچایاگیا۔ اس جگہ کے اندر، کیوریشن ٹیم ایک نائٹروجن کا بہاؤ کرے گی، جسے پرج (purge)کہا جاتا ہے، تاکہ زمینی ماحول کو نمونے کے کنسترمیں داخل ہونے اور اسے آلودہ ہونے سے روکا جا سکے۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ 26 ستمبر کو پہلی بار نمونہ دیکھنے کے لیے ڈھکن کو ہٹا یا جائے گا۔

ابتدائی تجزیہ اکتوبر میں متوقع

ایسٹرائڈ بینو کےنمونے کا ابتدائی تجزیہ معدنیات اور کیمیائی عناصر کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق نمونے کے بارے میں تفصیلات 11 اکتوبر کو جانسن اسپیس سینٹر سے ناسا کی نشریات کے ذریعے سامنے آئیں گی۔ اگرچہ سائنسی ٹیم کو نمونے کا مکمل جائزہ لینے کا وقت نہیں ملے گا، محققین 26 ستمبر کو کنستر کے اوپری حصے سے کچھ باریک مواد جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایک فوری تجزیہ اکتوبر میں فراہم کیا جا سکے ۔

اگلے دو سالوں تک سائنسدان جانسن اسپیس سینٹر میں پتھروں اور مٹی کا تجزیہ کریں گے۔ نمونے کو تقسیم کرکے دنیا بھر کی لیبارٹریوں کو بھیجا جائے گا، بشمول اوسیریس ریکس مشن کے شراکت دارـ کینیڈا کی خلائی ایجنسی اور جاپانی ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی۔ تقریباً 70فیصد نمونہ اسٹوریج میں محفوظ رہے گا تاکہ بہتر ٹیکنالوجی سے لیس آنے والی نسلیں اس سے بھی زیادہ سیکھ سکیں جو ابھی ممکن ہے۔

جاپان کے ہیبوساـ2 (Hayabusa-2)مشن سے ایسٹرائڈ ریوگو (Ryugu)سے حاصل کیے گئے نمونے کے ساتھ، پتھراور مٹی ہمارے نظام شمسی کے آغاز کے بارے میں اہم معلومات کو ظاہر کر سکتی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ سیارے کی تشکیل کے ابتدائی دورمیں ، کاربونیسیئس ایسٹرائڈ جیسے بینو ، زمین سے ٹکرا کر پانی کے وجود میں آنے کا باعث بنے۔

برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے خلانورد ڈینئیل براؤن نے’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ ان نمونوں کے معائنے سے ہم نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جان سکیں گے کہ اس وقت کے پتھروں کی کیمیائی خصوصیات کیا تھیں اور پانی کیسے وجود میں آیا جب کہ زندگی بنانے والے مالیکیول کیسے بنے؟

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایسٹرائڈ بینو نظام شمسی کے اپنے قدیم ترین مادوں کا نمائندہ ہے جو بڑے مرتے ہوئے ستاروں اور سپرنووا دھماکوں سے بنا ہے ۔ اور اسی وجہ سے، ناسا چھوٹے مشنوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ ہماری سمجھ میں اضافہ ہو کہ ہمارا نظام شمسی کیسے بنا اور اس کا ارتقا کیسے ہوا۔

سائنس دانوں کے مطابق ایسٹرائڈ بینو کے مستقبل میں زمین سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ لہٰذا زمین کے قریب ان سیارچوں کی آبادی کے بارے میں مزید سمجھنا بہت ضروری ہے جو ہمارے سیارےزمین کے ساتھ تصادم کے راستے پر ہو سکتے ہیں۔ ان کی ساخت اور مداروں کی بہتر سمجھ یہ پیش گوئی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کون سے ایسٹرائڈ زمین کے قریب ترین پہنچ سکتے ہیں اور کب ۔ سائنس دانوں کے لیے یہ معلومات ایسٹرائڈ کوزمین سے دور ہٹانے یا دھکیلنے کے طریقے تیار کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rq5KId1

پیر، 25 ستمبر، 2023

جنوبی کوریا: میوزک سے لے کر سیلز گرلز تک، مصنوعی ذہانت کی دنيا

اس کا چہرہ ڈیپ فیک ہے، جسم اُسی قسم کے خد و خال کے حامل اداکاروں سے ملتا جلتا ہے۔ لیکن وہ گاتی ہے، خبریں پڑھتی ہے، اور ٹی وی پر لگژری کپڑے بیچتی ہے کیونکہ AI روبوٹ جنوبی کوریا میں معاشرے کے مرکزی دھارے کا حصہ بن چُکے ہیں۔

جنوبی کوریا کی ایک معروف ورچوئل اداکارہ

جنوبی کوریا کے سب سے زیادہ فعال ورچوئل انسانوں میں سے ایک Zaein سے ملیں، جسے ایک مصنوعی ذہانت کی کمپنی Pulse9 نے بنایا ہے۔ یہ کمپنی کارپوریٹ خيالات کو حقيقت بنانے کا کام انجام دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایسا شاہکار تیار کرچُکی ہے جو کمپنی کے لیے ایک کامل ملازم کی حیثیت رکھتا ہے۔

Pulse9 نے جنوبی کوریا کے کچھ بڑے گروہوں کے لیے ڈیجیٹل روبوٹ بنائے ہیں، جن میں Shinsegae بھی شامل ہے۔ اس جیسی انسان نما تخلیقات کی گلوبل مارکیٹ سن 2030 تک 527 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

جنوبی کوریا میں AI ٹيکنالوجی کے روبوٹس نے نہ صرف یونیورسٹیوں میں طالب علم کے طور پر داخلہ لیا ہے بلکہ یہ بڑی کمپنیوں میں تربیتی پروگراموں کا حصہ بنے ہیں اورکھانے سے لے کر لگژری ہینڈ بیگ تک کی مصنوعات کی فروخت کے لائیو ٹیلی ویژن پروگراموں میں باقاعدگی سے نظر آتے ہیں۔ تاہم پلس 9 کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے۔ کمپنی کے سربراہ پارک جی ایون نے نيوز ايجنسی اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا، ''اے آئی کے انسانی استعمال کو وسیع تر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔‘‘

ورچوئل اداکارہ کی تخلیق

زین کا چہرہ 'ڈیپ لرننگ انیلیسس‘ یا گہرے سیکھنے کے تجزیے کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ ایک AI طریقہ کار ہے، جو کمپیوٹر کو نہایت پیچیدہ ڈیٹا پروسس کرنا سکھاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران K-pop میوزک گروپ کے چند چہروں کو اسی طریقہ کار سے تیار کیا گیا۔ گہری آنکھوں اور خصوصی نقوش ، صاف جلد اور حقیقی انسانی شخصیت سے قریب ترین شکل کے ساتھ تیار کیے جانے والے یہ اداکار ڈیپ فیک کی مدد سے کارآمد ہو جاتے ہیں۔

اداکاروں کے بیانات

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک اداکار سے اُس وقت ملاقات کی جب وہ جنوبی کوریا کے براڈکاسٹر ایس بی ایس کے مارننگ نیوز کے لائیو پروگرام میں زین کے طور پر رپورٹ دینے کی تیاری کر رہی تھی۔ کمپنی کی پالیسی کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے والی اداکارہ نے کہا، ''میرے خیال میں یہ ان لوگوں کے لیے ایک اچھا عمل ہو سکتا ہے جو مشہور شخصیت بننا چاہتے ہیں اور یہی چیز مجھے بھی پسند ہے۔‘‘

Pulse9 کے نمائندے نے کہا کہ تمام انسانی اداکاروں کی شناخت چھپائی گئی ہے اور ان کے اصلی چہرے نہیں دکھائے گئے ہیں۔ اُدھر اپنے پروفائلز کو پوشیدہ رکھنے کے سخت اقدامات کے باوجود اداکارہ نے کہا کہ ایک ورچوئل انسان کے طور پر کام کرنے سے ان کے لیے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ Zaein کا کہنا تھا، ''عام طور پر، بہت سارے لوگ اپنے نوعمروں اور نوجوانوں میں K-pop کے آئیڈیل بن جاتے ہیں اور میں اس عمر سے گزر چکی ہوں، لیکن اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس اداکارہ نے اے ایف پی کو بتایا، ''میں ایک انسان کے طور پر کام کرنے کی کوشش کرنا پسند کروں گی اگر میں اپنی آواز کو اچھی طرح سے سنبھال سکوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو میں حقیقی زندگی میں نہیں کر سکتی۔‘‘

کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ مصنوعی انسانوں کو بنانے کے لیے حقیقی لوگوں کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ وہ کہتے ہیں،''جب تک کہ مستقبل میں واقعی ایک مضبوط AI نہیں بن جاتا جو خود ہر کارروائی کر سکے گا تب تک انسانوں کی ضرورت رہے گی۔‘‘ ChatGPT کے پچھلے سال کے آخر میں منظرعام پر آنے کے بعد سے AI کے ممکنہ استعداد اور ممکنہ خطرات حالیہ مہینوں میں عوامی شعور میں ہلچل مچا چُکے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/t2s5K1k

جمعہ، 22 ستمبر، 2023

نہیں جاگ رہے وکرم اور پرگیان! اِسرو نے کہا ’کوشش جاری رہے گی‘

اِسرو کے احمد آباد واقع اسپیس ایپلی کیشنز سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے بیان دیا تھا کہ وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کو فعال کرنے یعنی جگانے کی کوشش 22 ستمبر کو نہیں کی جائے گی، بلکہ یہ کوشش 23 ستمبر کو ہوگی۔ لیکن اِسرو کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے تازہ اَپڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج وکرم اور پرگیان کو جگانے کی کوشش کی گئی جو کہ ناکام ہو گئی۔ حالانکہ اِسرو کا یہ بھی کہنا ہے کہ لینڈر ماڈیول کو فعال کرنے کی کوشش جاری رہے گی اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کامیابی مل جائے۔

اِسرو نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’’وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ان کے فعال ہونے کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔ فی الحال ان کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ رابطہ قائم کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔‘‘ اِسرو نے واضح کیا ہے کہ بھلے ہی پہلے کوشش میں وکرم اور پرگیان کو دوبارہ ایکٹیویٹ (فعال) کرنے میں کامیابی نہیں ملی ہو، لیکن آگے آنے والے دنوں میں بھی اس سے رابطہ کر دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ستمبر ماہ کے شروع میں اِسرو نے وکرم اور پرگیان کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا تھا اور کہا تھا کہ 14 دنوں کے بعد جب چاند پر پھر سے سورج طلوع ہوگا تب دونوں ماڈیول کو دوبارہ ایکٹیویٹ کرنے کی کوشش ہوگی۔ حالانکہ کئی سائنسدانوں نے دونوں کے دوبارہ فعال ہونے کی کم ہی امید ظاہر کی تھی۔ اگر وکرم اور پرگیان دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں تو یہ کامیابی حاصل کرنے والا ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بھی بن جائے گا۔

اس سے قبل آج صبح اِسرو (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے کہا تھا کہ ’’پہلے ہم نے 22 ستمبر کی شام کو پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کچھ اسباب کو دیکھتے ہوئے اب ہم اسے کل یعنی 23 ستمبر کو کریں گے۔ ہمارے پاس لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ سے باہر نکالنے اور اسے پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارا منصوبہ رووَر کو تقریباً 350-300 میٹر تک لے جانے کا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات سے... رووَر وہاں 105 میٹر آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘

اس درمیان بھونیشور کے پتھانی سامنت پلانیٹوریم سے سبکدوش سائنسداں سویندو پٹنایک کا کہنا ہے کہ لینڈر اور رووَر نے چاند کی سطح پر جمع سبھی ڈاٹا زمین پر پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ اگر وہ پھر سے فعال ہوتے ہیں تو یہ کسی تحفہ جیسا ہوگا۔ منفی 250 ڈگری درجہ حرارت میں الیکٹرانک مشینوں کا ٹھیک رہ پانا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی سبھی کو امید ہے کہ یہ ہمارے لیے پھر سے کام کرنے لائق بن پائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/fCIDdP8

چندریان-3: ٹل گیا وکرم اور پرگیان کو فعال کرنے کا پروگرام، اب کل کی جائے گی کوشش

جو لوگ چندریان-3 مہم پر گہرائی سے نظریں بنائے ہوئے ہیں اور اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے فعال ہونے کی خوشخبری ملے گی، انھیں مزید ایک دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ دراصل اِسرو کے سائنسدانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج لینڈر اور رووَر کو فعال کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، بلکہ اس کے لیے مزید ایک دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ یعنی اب چاند کے جنوبی قطب پر نیند کی آغوش میں پڑے وکرم اور پرگیان کو 23 ستمبر کے روز جگایا جائے گا۔

اِسرو کے احمد آباد واقع اسپیس ایپلی کیشنز سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ’’پہلے ہم نے 22 ستمبر کی شام کو پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کچھ اسباب کو دیکھتے ہوئے اب ہم اسے کل یعنی 23 ستمبر کو کریں گے۔ ہمارے پاس لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ سے باہر نکالنے اور اسے پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارا منصوبہ رووَر کو تقریباً 350-300 میٹر تک لے جانے کا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات سے... رووَر وہاں 105 میٹر آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘

اس سے قبل نیلیش دیسائی نے کہا تھا کہ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو دونوں (پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر) سے نہ صرف رابطہ ہوگا، بلکہ ان کے پارٹس بھی استعمال کرنے کی حالت میں ملیں گے۔ دیسائی کے مطابق گزشتہ 20 دن میں دونوں نے منفی 120 سے منفی 200 ڈگری سلسیس جتنی سردی کو برداشت کیا ہے۔ 20 ستمبر کی شام سے چاند کے جنوبی قطب پر سورج کا طلوع شروع ہو گیا ہے اور دھیرے دھیرے وکرم اور پرگیان کے سولر پینل بھی ان کی بیٹری دھیرے دھیرے چارج کرنے لگیں گے۔

اس درمیان بھونیشور کے پتھانی سامنت پلانیٹوریم سے سبکدوش سائنسداں سویندو پٹنایک کا کہنا ہے کہ لینڈر اور رووَر نے چاند کی سطح پر جمع سبھی ڈاٹا زمین پر پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ اگر وہ پھر سے فعال ہوتے ہیں تو یہ کسی تحفہ جیسا ہوگا۔ منفی 250 ڈگری درجہ حرارت میں الیکٹرانک مشینوں کا ٹھیک رہ پانا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی سبھی کو امید ہے کہ یہ ہمارے لیے پھر سے کام کرنے لائق بن پائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/saIjAvi

جمعرات، 21 ستمبر، 2023

چندریان-3: ’چاند پر مکمل طلوع آفتاب کا انتظار‘، رووَر اور لینڈر کو کل ہی کیا جائے گا فعال!

چندریان-3 کے لیے 22 ستمبر یعنی جمعہ کا دن بہت اہم ثابت ہونے والا ہے۔ اِسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر مکمل طلوع آفتاب کا انتظار ہے اور 22 ستمبر کو سلیپ موڈ میں چاند کے جنوبی قطب پر موجود لینڈر ماڈیول یعنی وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کو فعال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے ایسی خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ لینڈر ماڈیول کو 23 ستمبر یعنی ہفتہ کے روز فعال کیا جائے گا، اور اگر اس میں کامیابی ملی تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ کیونکہ چندریان-3 نے پہلے ہی کامیابی کی سبھی منزلیں طے کر لی ہیں، اور اگر سلیپ موڈ سے لینڈر ماڈیول ٹھیک طرح فعال ہو جاتا ہے تو یہ ’بونس‘ یعنی تحفہ کی مانند ہوگا۔

اِسرو (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے جانکاری دی ہے کہ ’’ہم 22 ستمبر کو لینڈر اور رووَر دونوں کو فعال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ہماری قسمت اچھی رہی تو اس میں کامیابی ملے گی۔ پھر ہمیں مزید پریکٹیکل ڈاٹا حاصل ہوں گے جو چاند کی سطح کی مزید تحقیق میں معاون ہوں گے۔‘‘

چندریان-3 مشن سے متعلق مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کا بیان بھی جمعرات کو سامنے آیا۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ملک کو اب کچھ ہی گھنٹوں میں پرگیان اور وکرم کے نیند سے بیدار ہونے کا انتظار ہے۔ ایسا ہوتے ہی اس طرح کی کامیابی حاصل کرنے والا ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ چاند پر 14 دن کی رات ختم ہونے والی ہے اور ہمیں بے صبری سے وہاں طلوع آفتاب اور اس کے ساتھ ہی وکرم اور پرگیان کے فعال ہونے کا انتظار ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چاند پر آفتاب طلوع ہونا (سورج نکلنا) شروع ہو چکا ہے اور بس مکمل طلوع کا انتظار ہے، یا پھر یوں کہیں کہ سورج کی روشنی سے لینڈر اور رووَر کے سولر پینل کو ریچارج ہونے کا انتظار ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vwOVG95

چندریان-3: کیا لینڈر اور رووَر پھر ہوگا فعال؟ چاند پر ہو رہا سورج کا طلوع

ویسے تو چندریان-3 مشن کامیابی کے ساتھ پورا ہو چکا ہے، لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ مشن مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ ایسا ممکن ہو پائے گا اگر سلیپ موڈ میں ڈالا گیا وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر آئندہ 23 ستمبر کو ایک بار پھر فعال ہو جائے۔ اِسرو سے جڑے خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول ایک بار پھر فعال ہو سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو یہ چاند مشن میں ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ ایسا ہونے پر چاند کے جنوبی قطب پر مزید تحقیقی عمل انجام دیے جا سکیں گے۔

اِسرو کے اسپیس ایپلی کیشن سنٹر کے ڈائریکٹر نلیش دیسائی نے بتایا کہ گزشتہ 3 ستمبر کو چاند کے جنوبی قطب پر رات ہونے کے سبب چندریان-3 کے لینڈر وکرم اور رووَر پرگیان کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا گیا تھا۔ ان دونوں پر سولر پینل لگائے گئے ہیں اور چاند کے جنوبی قطب پر جب دن نکلے گا تو یہ پینل ریچارج ہو سکتے ہیں۔ نلیش نے بتایا کہ ’’ہمارے منصوبہ کے مطابق 23 ستمبر کو لینڈر وکرم اور رووَر از سر نو فعال ہو سکتے ہیں۔ چاند پر اب دن نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ رات کے دوران جب چاند کی سطح پر درجہ حرارت منفی 120 ڈگری سلسیس سے منفی 200 ڈگری سلسیس تک گر جاتا ہے تو کیا سولر پینل پھر سے ٹھیک طرح کام کر پائیں گے یا نہیں۔‘‘

نلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ہم اس کی امید کر رہے ہیں کہ لینڈر پر موجود چار سنسرز اور رووَر پر موجود دو سنسرز میں سے کچھ دوبارہ کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم آگے بھی چاند پر نئے تجربات کر پائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ چاند پر زمین کے 14 دنوں کے برابر دن اور رات ہوتے ہیں۔ جب چندریان-3 کا لینڈر چاند پر اترا تھا تو اس وقت چاند پر دن نکل رہا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ 14 دنوں تک کام کرنے کے بعد لینڈر اور رووَر سلیپ موڈ میں چلے گئے تھے۔ 14 دنوں تک لینڈر ماڈیول نے بہت اچھا کام کیا اور کافی ڈاٹا اِسرو نے جمع کر لیے ہیں۔ خلائی سائنسداں ڈاکٹر آر سی کپور سے جب لینڈر اور رووَر کے پھر سے فعال ہونے کو لے کر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’لینڈر اور رووَر اپنا کام کر چکے ہیں۔ جب دونوں کو سلیپ موڈ میں ڈالا گیا تو دونوں کے سبھی پارٹس صحیح طریقے سے کام کر رہے تھے۔ اِسرو کے پاس پہلے سے ہی کافی ڈاٹا اکٹھا ہو گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہو سکتا ہے میشنیں پہلے جیسی کنڈیشن میں پھر سے کام نہ کر سکیں، لیکن پھر بھی کچھ امید باقی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اچھی خبر مل جائے۔ چاند پر دن نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ رووَر کو پہلے سے ہی اس طرح سے رکھا گیا ہے کہ جب سورج نکلے تو اس کی روشنی سیدھے رووَر کے سولر پینلز پر پڑے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3Jd5XbM

ایلون مسک نے انسانی دماغ میں کمپیوٹر چپ لگانے والے پہلے مریض کی تلاش شروع کر دی

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک جلد ہی انسانی دماغ میں کمپیوٹر چپ لگانے جا رہے ہیں۔ مسک کی کمپنی نیورالنک کو انسانی دماغ میں ایک چپ لگانے کی اجازت مل گئی ہے اور کمپنی اب پہلے شخص کی تلاش میں ہے۔ ابتدائی طور پر یہ چپ ایسے شخص کے سر میں لگائی جائے گی جو گردن کی چوٹ یا امیوٹروفک لیٹرل سکلیروسیس (ALS) کی وجہ سے مفلوج ہو گیا ہے۔

مسک کی کمپنی نے مریضوں کی تلاش شروع کر دی ہے اور یہ ٹرائل جلد شروع ہو گی۔ کمپنی کو اس تحقیق کو مکمل کرنے میں 6 سال لگیں گے۔ اگر ٹرائل کامیاب ہوتی ہے تو نیورالنک کی وجہ سے فالج زدہ افراد مستقبل میں اچھی زندگی گزار سکیں گے۔

ایلون مسک 10 افراد پر نیورالنک چپ آزمانا چاہتے تھے لیکن امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر 10 افراد پر کمپنی کو منظوری نہیں دی۔ تاہم اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ کتنے لوگوں کو اس کے لیے منظوری دی گئی ہے۔

ایلون مسک کی کمپنی انسانی آزمائشوں کے حصے کے طور پر روبوٹ کے ذریعے انسانی دماغ میں برین کمپیوٹر انٹرفیس   ( BCI )کے طور پر لگائے گی۔ اس کی مدد سے خیالات کو عمل میں تبدیل کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر کمپنی کا ہدف کی بورڈ اور ماؤس جیسے بیرونی آلات کو چپ کی مدد سے کنٹرول کرنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ آلات خیالات کی بنیاد پر خود بخود کام کریں گے۔ 2020 میں، نیورلنک نے کام کرنے والے( BCI )کا مظاہرہ کیا جس میں ایک کمپیوٹر کرسر کو بندر کے دماغ سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔

نوٹ کریں، یہاں تک کہ اگر بی سی آئی انسانی آزمائش کامیاب ہو جاتی ہے، تو کمپنی کو اس چپ کو تجارتی طور پر لانے میں 10 سال سے زیادہ کا وقت لگے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفلوج افراد 1 دہائی کے بعد ہی اس کا فائدہ حاصل کر سکیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5L8d9pN

جمعہ، 15 ستمبر، 2023

’ہماری زمین کی وجہ سے چاند پر بن رہا پانی!‘ چندریان-1 کے ڈاٹا سے سائنسداں پُرجوش

ایک طرف ہندوستانی سائنسداں چندریان-3 کی کامیابی کے بعد حاصل ڈاٹا کی تحقیق میں مصروف ہیں، اور دوسری طرف چندریان-1 کے ڈاٹا پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک اہم راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ اِسرو کی طرف سے 2008 میں بھیجے گئے چندریان-1 نے چاند پر پانی کی موجودگی کا اندازہ تو پہلے ہی لگا لیا تھا، اب ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چاند پر پانی ہماری زمین کی وجہ سے بن رہا ہے۔

دراصل چندریان-1 مشن کے ریموٹ سنسنگ ڈاٹا کا تجزیہ کرنے والے سائنسدانوں نے اخذ کیا ہے کہ ہماری زمین سے جانے والے ہائی انرجی الیکٹران چاند پر پانی بنا سکتے ہیں۔ امریکہ کے منووا میں ہوائی یونیورسٹی کے محققین کی قیادت والی ٹیم نے پایا کہ ہماری زمین کی پلازمہ شیٹ میں یہ الیکٹران چاند کی سطح پر ایروزن عمل سے چٹانوں اور معدنیات کے ٹوٹنے یا گھلنے میں تعاون دے رہے ہیں۔ نیچر ایسٹرونومی جرنل میں شائع تحقیق میں اخذ کیا گیا کہ الیکٹرانس نے چاند پر پانی بنانے میں مدد کی ہوگی۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پروٹون جیسے اعلیٰ توانائی ذرات سے بنی شمشی ہوا چاند کی سطح پر بمباری کرتے ہیں اور مانا جاتا ہے کہ چاند پر پانی بننے کے ابتدائی طریقوں میں سے یہ ایک ہے۔ ٹیم نے چاند کے ہماری زمین کے میگنیٹوٹیل سے گزرنے پر سطح کے موسم میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانچ کی۔ تحقیق میں چاند کے ایک ایسے علاقے کا پتہ چلا جو شمسی ہوا سے تقریباً پوری طرح سے بچا ہے لیکن سورج کی روشنی ’فوٹون‘ سے نہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GDk7WQX

جمعرات، 14 ستمبر، 2023

’ہماری دنیا کے علاوہ بھی دنیا موجود!‘ ناسا نے یو ایف او پر جاری کی رپورٹ

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 14 ستمبر کو ایک حیران کرنے والی رپورٹ جاری کی۔ یہ رپورٹ یو ایف او (غیر شناخت شدہ اڑن طشتری) پر مبنی ہے جو 33 صفحات پر مشتمل ہے۔ ناسا نے یو ایف او سے متعلق تقریباً ایک سال کی اسٹڈی کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس میں ناسا نے بتایا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ غیر واضح واقعات کے پیچھے ایلینس (دوسری دنیا کے باشندے) ہی ہیں، لیکن اس امکان سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ناسا کے مطابق یو ایف او پر تفصیلی مطالعہ کے لیے نئی سائنسی تکنیکوں اور جدید سیٹلائٹس کی ضرورت ہوگی۔ رپورٹ میں ناسا نے مانا ہے کہ یو ایف او ہمارے سیارہ کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہیں۔ رپورٹ جاری کرتے ہوئے ناسا کے منیجر بل نیلسن نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ اس کائنات میں اَرتھ (زمین) کے علاوہ بھی زندگی ہے۔ ناسا کے مطابق جن نئے مشن سے متعلق منصوبہ بنایا جا رہا ہے، ان میں سیارہ کی فضا اور سطح پر ایلینس تکنیک کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کریں گے۔ ناسا نے یہ بھی کہا کہ وہ یو ایف او پر تحقیق کے لیے نئے ڈائریکٹر کا اعلان کریں گے۔

رپورٹ میں جانکاری دی گئی ہے کہ زمین پر نظر رکھنے والی سیٹلائٹس میں اسپیٹیل ریزولوشن کی کمی ہوتی ہے، جس کے سبب یو ایف او یا یو اے پی جیسے چھوٹے آبجیکٹس پر نظر نہیں رکھی جا سکتی۔ پنٹاگن نے قبل میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں بحریہ کے پائلٹس نے امریکہ کے مشرقی اور مغربی ساحلوں پر کچھ پراسرار ایئرکرافٹ دیکھے تھے۔ ان ایئرکرافٹس کی رفتار موجودہ ہوابازی تکنیک سے بھی زیادہ تھی، ساتھ ہی ایئرکرافٹ کی بناوٹ بھی پراسرار تھی، جس میں یہ پتہ نہیں پایا کہ فلائٹ کو کنٹرول کہاں سے کیا جا رہا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اے آئی (آرٹیفیشیل انٹلیجنس) یعنی مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ تکنیک کی مدد سے یو ایف او کو لے کر مطالعہ کیا جائے گا۔ اس سال کے شروع میں ناسا کی ایک ٹیم نے زور دے کر کہا تھا کہ یو ایف او سے جڑے مافوق الفطرت زندگی کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے، لیکن اب تازہ رپورٹ میں ناسا نے اعتراف کیا ہے کہ ہمارے سیارہ کے باہر بھی زندگی ہو سکتی ہے۔ ناسا نے کہا کہ ابھی مناسب ڈاٹا نہیں ہے جس کی وجہ سے یو ایف او کو لے کر کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yH9TzAX

ہفتہ، 9 ستمبر، 2023

آدتیہ ایل-1 نے تیسری مرتبہ کامیابی کے ساتھ تبدیل کیا مدار

بنگلورو: ہندوستان کے شمسی مشن آدتیہ ایل ون نے تیسری بار مدار تبدیل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ معلومات انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے دی ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کیا کہ آدتیہ ایل ون نے بنگلورو کے اسٹراک سینٹر سے تیسری بار زمین کے مدار کو تبدیل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کیا ہے۔ آدتیہ ایل ون کو ہٹانے کے عمل کو بنگلورو میں اسرو کے ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اور کمانڈ نیٹ ورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) سے ہدایت کی گئی تھی۔ اس مشن کی پیشرفت کا پتہ ماریشس، بنگلورو اور پورٹ بلیئر میں اسرو کے گراؤنڈ اسٹیشنوں سے لگایا گیا۔

اسرو کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق آدتیہ ایل ون کا نیا مدار 296 کلومیٹر - 71767 کلومیٹر ہے۔ اب اگلا عمل 15 ستمبر کو صبح 2 بجے کے قریب ہوگا۔ خیال رہے کہ سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے اسرو نے 2 ستمبر کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے اپنے باوقار مشن آدتیہ ایل ون کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا تھا۔

آدتیہ ایل ون پہلے ہی زمین کے دو مدار تبدیل کر چکا تھا۔ اس نے پہلا مدار 3 ستمبر کو اور دوسرا مدار 5 ستمبر کو تبدیل کیا اور اب ہندوستان کے پہلے شمسی مشن نے اپنا تیسرا مدار کامیابی سے تبدیل کر دیا ہے۔ زمین کے مدار کو تبدیل کرنے کے لیے چوتھی مشق 15 ستمبر کو دوپہر 2 بجے کے قریب شیڈول ہے۔ اسرو کے مطابق آدتیہ ایل ون زمین کے مدار میں 16 دن گزارے گا۔ اس مدت کے دوران، آدتیہ ایل ون کے مدار کو تبدیل کرنے کے لیے 5 بار ارتھ باؤنڈ فائر کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/iwOSyZn

چندریان-2 نے کھینچی چاند پر سوئے چندریان-3 کے لینڈر کی تصویر

چاند کے جنوبی قطب پر اس وقت رات ہے اور اِسرو کے سائنسداں 22 ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں جب وہاں دن کی روشنی ہوگی۔ سائنسداں امید کر رہے ہیں کہ چاند پر رات ہونے سے ٹھیک پہلے سلیپ موڈ میں ڈالے گئے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر 22 ستمبر کو ایک بار پھر بیدار ہوں گے اور چندریان-3 پر از سر نو تحقیقی کام شروع ہو جائے گا۔ اس درمیان چاند پر سوئے وکرم لینڈر کی تازہ تصویر اِسرو نے جاری کی ہے۔

اِسرو نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک پوسٹ کیا ہے جس میں وکرم لینڈر کی 6 ستمبر کو کھینچی گئی تصویریں پیش کی گئی ہیں۔ پوسٹ میں اِسرو نے بتایا ہے کہ یہ تصویریں چاند کے مدار میں گھوم رہے چندریان-2 کے ڈوئل فریکوئنسی سنتھیٹک ایپرچر رڈار (ڈی ایف ایس اے آر) مشین نے 6 ستمبر 2023 کو کھینچی تھی۔ اِسرو نے بتایا کہ ڈی ایف ایس اے آر چندریان-2 آربیٹر پر لگا ایک اہم سائنسی انسٹرومنٹ ہے۔ یہ ایل اور ایس بینڈس میں مائیکرو ویو کا استعمال کرتا ہے۔ یہ جدید انسٹرومنٹ حال میں کسی بھی سیارہ مشن پر سب سے اچھا ریزولیوشن پولاریمٹرک تصویروں کی پیشکش کرتا ہے۔ ڈی ایف ایس اے آر گزشتہ چار سالوں سے چاند کی سطح سے اعلیٰ معیاری ڈاٹا نشر کر رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/URyD50i

جمعہ، 8 ستمبر، 2023

آدتیہ-L1: ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن

سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے ہندوستان کے پہلے خلائی مشن آدتیہ-L1 کو اسرو نے 2 ستمبر 2023 کو پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C57) کے ذریعہ ستیش دھون اسپیس سینٹر (SDSC)، سری ہری کوٹا ، آندھرا پردیش سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا اور یوں چاند پر ترنگا نصب کرنے کے کچھ ہی دن بعد ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن ہے

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے 2 ستمبر 2023 کو، 11.50 بجے، پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C57) کے ذریعہ ستیش دھون اسپیس سینٹر (SDSC)، سری ہری کوٹا ، آندھرا پردیش کے دوسرے لانچ پیڈ سے، آدتیہ-L1 خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا اور یوں چاند پر ترنگا نصب کرنے کے کچھ ہی دن بعد ، طے شدہ پروگرام کے مطابق ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن ہے۔

اسرو کے مطابق 63 منٹ اور 20 سیکنڈ کی پرواز کے بعد، آدتیہ-L1 خلائی جہاز کو زمین کے گرد 235ضرب 19500 کلومیٹر کے بیضوی مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل کیا گیا۔

آدتیہ-L1 پہلی ہندوستانی خلائی رصد گاہ ہے جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور پہلے سن ارتھ لیگرینج پوائنٹ (L1) کے گرد ہالو(Halo) آربٹ یا مدار سے سورج کا مطالعہ کرے گی۔ لیگرینج (Lagrange)پوائنٹ L1 کی طرف، منتقلی کے مدار میں پہنچنے سے پہلے، آدتیہ-L1 خلائی جہاز زمینی مدارکی چار مشقوں سے گزرے گا۔ آدتیہ-L1 کے تقریباً 127 دنوں کے بعد L1 پوائنٹ پر مطلوبہ مدار میں پہنچنے کی توقع ہے۔

آدتیہ-L1 میں سات سائنسی پے لوڈز ہیں جو اسرو اور قومی تحقیقی لیبارٹریوں کے ذریعہ تیار کیے گئے ہیں جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (IIA)، بنگلور اور انٹر یونیورسٹی سینٹر فار ایسٹرانومی اینڈ ایسٹرو فزکس (IUCAA)، پونے شامل ہیں۔

اسرو کی جانب سے جاری تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آدتیہ-L1 مشن کا اگلی مشق 5 ستمبر کو تقریباً 3 بجے طے ہے جبکہ پہلی زمینی مشق اسرو ٹیلی میٹری ٹریکنگ و کمانڈ نیٹ ورک (ISTRAC)، بنگلورو سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئی ہے۔ حاصل کردہ نیا مدار 245 ضرب 22459 کلومیٹر ہے۔ سیٹلائٹ درست ہے اور صحیح کام کر رہا ہے۔قبل ازیں 2 ستمبر کو کامیاب لانچنگ کے بعد لانچ وہیکل نے سیٹلائٹ کو اس کے مطلوبہ مدار میں پہنچا دیا اور یوں ہندوستان کی پہلی سولر آبزرویٹری نے اپنی منزل ۔سن ارتھ L1 پوائنٹ ۔ تک اپنا سفر شروع کر دیا۔

آدتیہ L1 سورج کا مطالعہ کرنے والا ہندوستان کا پہلا خلائی مشن ہے جس میں خلائی جہاز یا سیٹلائٹ کو سورج زمین کے نظام کے لیگرینج پوائنٹ 1 (L1) کے گرد ہالو آربٹ میں رکھا جائے گا، جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ہے۔ اس پوائنٹ کے گرد ہالو آربٹ میں رکھے گئے سیٹلائٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ سورج کو کسی سائے یاگرہن سے متاثر ہوئے بغیرمسلسل دیکھ سکتا ہے۔ ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ یہ شمسی سرگرمیوں اور خلائی موسم پر اس کے اثرات کو حقیقی وقت میں دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

خلائی جہاز برقی مقناطیسی اور ذرہ اور مقناطیسی فیلڈ کا پتہ لگانے والے آلات کا استعمال کرتے ہوئے فوٹو سفیئر، کروموسفیئر اور سورج کی سب سے بیرونی تہوں (کورونا) کا مشاہدہ کرنے کے لیے سات پے لوڈز لے کر گیا ہے۔ خصوصی پوائنٹ L1 کا استعمال کرتے ہوئے، چار پے لوڈز براہ راست سورج کا مشاہدہ کریں گے اور باقی تین پے لوڈز لیگرینج پوائنٹ L1 پر ذرات اورفیلڈ ز کااپنی پوزیشن سے مطالعہ کریں گے، اور اس طرح بین سیاروںمیں شمسی حرکیات کے پھیلتے اثر کا اہم سائنسی مطالعہ فراہم کریں گے۔

آدتیہ L1 پے لوڈز کے سولر الٹرا وائلٹ امیجنگ ٹیلی اسکوپ (SUIT) سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کورونل ہیٹنگ، کورونل ماس ایجیکشن، پری فلیئر اور فلیئر سرگرمیوں اور ان کی خصوصیات، خلائی موسم کی حرکیات، ذرات اور فیلڈ ز کے پھیلاؤ وغیرہ کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم معلومات فراہم کریں گے۔

آدتیہ L1مشن کے اہم سائنسی مقاصد

• سورج کے اوپری ماحول (کروموسفیئر اور کورونا) کی حرکیات کا مطالعہ۔

• کروموسفیئرک اور کورونل ہیٹنگ ، جزوی طور پر آئنائزڈ پلازما کی طبیعیات، کورونل ماس ایجیکشن (CME) کا آغاز اور بھڑک اٹھنے کا مطالعہ۔

• سورج سے ذرات کی حرکیات کے مطالعہ کے لیے ڈیٹا فراہم کرنے والے اندرونی ذرہ اور پلازما ماحول کا مشاہدہ ۔

• شمسی کورونا کی طبیعیات اور اس کا حرارتی طریقہ کار۔

• کورونل اور کورونل لوپس پلازما کی تشخیص: درجہ حرارت، رفتار اور کثافت۔

• کورونل ماس ایجیکشن کی ترقی، حرکیات اور اصلیت۔

• ایک سے زیادہ تہوں (کروموسفیئر، بیس اور توسیعی کورونا) پر ہونے والےعمل کی ترتیب کی نشاندہی کرنا جو آخر کار شمسی توانائی سے پھٹنے والے واقعات کا باعث بنتا ہے۔

• شمسی کورونا میں مقناطیسی فیلڈ ٹوپولوجی اور مقناطیسی فیلڈ کی پیمائش۔

• خلائی موسم کے محرکات (شمسی ہوا کا آغاز ، ساخت اور حرکیات)۔

آدتیہ L1 کے آلات شمسی ماحول خاص طور پر کروموسفیئر اور کورونا کا مشاہدہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان سیٹو (in situ)آلات L1 پر مقامی ماحول کا مشاہدہ کریں گے۔ کل سات پے لوڈ ز میں سے چار سورج کی ریموٹ سینسنگ اور باقی تین ان سیٹو (اپنے مقام کا)مشاہدہ کریں گے۔

آدتیہ L1 کےپے لوڈز اور ان کی سائنسی تحقیق کی صلاحیت۔

ٹائپ نمبر پے لوڈ اہلیت

ریموٹ سینسنگ پے لوڈز 1 مرئی اخراج لائن کورونوگراف (VELC) کورونا/امیجنگ اور اسپیکٹروسکوپی

2 سولر الٹرا وائلٹ امیجنگ ٹیلی اسکوپ (SUIT) فوٹو سفیئر اور کروموسفیئر امیجنگ- نیرو اور براڈ بینڈ

3 سولر لو انرجی ایکس رے اسپیکٹرومیٹر (SoLEXS)

سافٹ ایکس رے اسپیکٹرومیٹر: سورج کا ایک ستارے کے طور پرمشاہدہ

4 ہائی انرجی L1 گردش کرنے والا ایکس رے اسپیکٹرومیٹر (HEL1OS) ہارڈ ایکس رے اسپیکٹرومیٹر: سورج کا ایک ستارے کے طور پرمشاہدہ

ان سیٹو پے لوڈز 5 آدتیہ سولر ونڈ پارٹیکل ایکسپیریمنٹ (ASPEX) سولر ونڈ/پارٹیکل اینالائزر ۔ پروٹون اور بھاری آئن سمتوں کے ساتھ

6 پلازما اینالائزر پیکج برائے آدتیہ (PAPA) سولر ونڈ/پارٹیکل اینالائزر ۔ الیکٹران اور بھاری آئن سمتوں کے ساتھ

7 ایڈوانسڈ ٹرائی محوری ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل میگنیٹومیٹر ان سیٹو میگنیٹک فیلڈ (Bx، By اور Bz)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/uo4l1Gf

جمعرات، 7 ستمبر، 2023

عجیب و غریب پرندے نما ڈائنوسار کی دریافت پر سائنسدان حیران

جنوب مشرقی چین میں 148 سے 150 ملین سال پہلے ایک عجیب، مرغ زریں کے سائز کا لمبی ٹانگوں اور بازوؤں والا پرندوں جیسا ڈائنوسار رہتا تھا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، اس مخلوق میں ایک حیران کن اناٹومی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ یا تو تیز بھاگنے والا تھا یا جدید لمبی ٹانگوں والے پرندوں جیسا طرز زندگی رکھتا تھا۔

سائنس دانوں نے کہا کہ انہوں نے صوبہ فوجیان میں جوراسک دور کے ایک ڈائنوسار کا فوسل دریافت کیا ہے، جسے انہوں نے ’فوجیانوینیٹر پروڈیگیوسس‘ کہا ہے۔ یہ اہم دریافت پرندوں کی ابتدائی تاریخ کے اہم ارتقائی مرحلے پر روشنی ڈالتی ہے۔

چائنیز اکیڈمی کے انسٹی ٹیوٹ آف ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی اینڈ پیلیو اینتھروپولوجی کے مطالعہ کے رہنما من وانگ، جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی، نے وضاحت کی کہ فوزیانوینیٹر کی درجہ بندی اس کے عجیب و غریب ڈھانچے کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ، اس بات پر منحصر ہے کہ ہم پرندوں کی تعریف کیا کرتے ہیں۔

جب فوزیانوینیٹر کو بیان کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو وانگ نے جواب دیا: "میں 'عجیب' کہوں گا۔ یہ کسی بھی جدید پرندے سے ملتا جلتا نہیں ہے۔"

فوسل، جو گذشتہ اکتوبر میں دریافت ہوا تھا، کافی حد تک مکمل ہے لیکن اس میں جانور کی کھوپڑی اور اس کے پاؤں کے کچھ حصے نہیں ہیں، جس کی وجہ سے اس کی خوراک اور طرز زندگی کی تشریح کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اس کی لمبی ٹانگوں والی اناٹومی کی بنیاد پر، محققین نے دو ممکنہ طرز زندگی کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ یا تو دوڑتا تھا یا پھر جدید بگلوں کی طرح دلدلی ماحول میں گھومتا تھا۔ وانگ نے مزید کہا، "میں شرط لگاتا ہوں کہ یہ بھاگنے والا پرندہ تھا۔"

ڈائنوسار کے ارتقاء میں ایک قابل ذکر واقعہ اس وقت پیش آیا جب تھیروپوڈس کے نام سے جانے جانے والے نسب سے چھوٹے پنکھوں والے دو ٹانگوں والے ڈائنوسار نے جراسک کے آخر میں پرندوں کو جنم دیا، جس میں قدیم ترین پرندہ - آرکیوپٹریکس - تقریباً 150 ملین سال پہلے جرمنی میں موجود تھا۔

سائنس دان پرندوں اور غیر ایویئن ڈائنوسار کی اصلیت کے بارے میں بہتر تفہیم کے خواہاں ہیں جن میں پرندوں جیسی خصوصیات تھیں۔

جب کہ پرندوں کی تاریخ کے ابتدائی باب اب بھی فوسلز کی کمی کی وجہ سے مبہم ہیں۔ آرکیوپیٹرکس کے بعد، ایک کوّے کے سائز کے پرندے کے فوسل پہلی بار 19ویں صدی میں ملے تھےجس کے دانت، لمبی ہڈی کی دم اور کوئی چونچ نہیں ہے۔ اس کے بعد کے پرندوں کے فوسل ریکارڈ میں ظاہر ہونے سے پہلے تقریباً 20 ملین سال کا وقفہ ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JsgCpt9

آدتیہ ایل ون نے لی سیلفی، زمین اور چاند کی تصویر بھی کلک کی

نئی دہلی ہندوستانی خلائی تحقیق ایجنسی (اسرو) اپنی منزل کی جانب سفر کر رہا ہے۔ اس نے یہ بتانے کے لیے کہ وہ حسب معلوم کام کر رہا ہے، اپنی سیلفی بھیجی ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کے تمام کیمرے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ اس نے زمین اور چاند کی تصویر بھی لی ہیں۔ اسرو نے اس کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

آدتیہ ایل ون نے 18 ستمبر تک زمین کے گرد اپنے مدار کو چار بار تبدیل کرے گا۔ اگلی مداری مینیورنگ 10 ستمبر کی رات کو ہوگی۔ ایک بار جب آدتیہ اپنی منزل ایل ون تک پہنچ جائے گا تو وہ روزانہ 1440 تصویریں بھیجے گا۔ تاکہ سورج کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ تصاویر آدتیہ میں نصب وزیبل ایمیشن لائن کوروناگراف (وی ای ایل سی ) کے ذریعے لی جائیں گی۔

سائنسدانوں کے مطابق پہلی تصویر فروری میں ملے گی۔ وی ایل سی سی کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس نے بنایا ہے۔ اسرو کے سن مشن میں نصب وی ای ایل سی سورج کی ہائی ڈیفینشن تصاویر لے گا۔ زمین کے گرد مدار کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اتنی رفتار حاصل کر سکے کہ وہ 15 لاکھ کلومیٹر کا طویل سفر مکمل کر سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Q4gKj26

منگل، 5 ستمبر، 2023

اِسرو نے ’چندریان-3‘ مشن پر کوئز مقابلے کا کیا اعلان، اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ملیں گے ایک لاکھ روپے

چاند پر اس وقت رات ہو چکی ہے اور چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول (وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر) چاند کی جنوبی سطح نیند کے مزے لے رہا ہے۔ اس درمیان اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) نے چندریان-3 کو لے کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس نے کوئز مقابلے کی شروعات کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ہندوستان کا کوئی بھی شہری شامل ہو سکتا ہے۔ دراصل ہندوستان کے چاند تک پہنچنے کے کامیاب سفر کا جشن ہندوستانی عوام کے ساتھ منانے کے مقصد سے اس کوئز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کوئز مقابلے میں اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ایک لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

اس کوئز کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ چاند کے عجوبوں کی دریافت اور سائنسی تحقیق کے تئیں محبت ظاہر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ سبھی ہندوستانی شہریوں کو اس کوئز میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے https://www.mygov.in/ پر اپنا ایک اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ اس میں پروفائل اَپڈیٹ رکھنی ہوگی۔ آدھیادھوری پروفائل والے امیدوار کوئز کے لیے نااہل ہوں گے۔ جیسے ہی شرکا صحیح او ٹی پی درج کرنے کے بعد ’سَبمٹ‘ بٹن پر کلک کرے گا، کوئز شروع ہو جائے گا۔

اس کوئز میں 10 سوالات کے جواب 300 سیکنڈ میں دینے ہوں گے۔ کوئی منفی مارکنگ نہیں ہوگی۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے ایک ہی موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی کا ایک سے زیادہ بار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپلی کیٹ اندراجات کے معاملے میں پہلی کوشش کا ریکارڈ تشخیص کے لیے قابل قبول مانا جائے گا۔ کوئز میں حصہ لینے کے بعد سبھی شرکاء کو ایک سرٹیفکیٹ دیا جائے گا جسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ کوئز ختم ہونے کے بعد فاتحین کو نقد انعام دیا جائے گا۔

دی گئی جانکاری کے مطابق اوّل مقام پر رہنے والے کو ایک لاکھ روپے کا نقد انعام، دوسرے مقام پر رہنے والے کو 75 ہزار روپے کا نقد انعام، اور تیسرے مقام پر رہنے والے کو 50 ہزار روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 100 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں میں سے سبھی کو 2-2 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دیا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں، 200 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں کو 1-1 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/eMB1IKT

پیر، 4 ستمبر، 2023

چندریان-3: پرگیان کے بعد وکرم لینڈر بھی نیند کی آغوش میں، 22 ستمبر کو از سر نو فعال ہونے کی امید

ہندوستان کے چندریان-3 مشن کی کامیابی کا پوری دنیا میں دھوم مچا ہوا ہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ پرگیان رووَر کے بعد وکرم لینڈر بھی نیند کی آغوش میں چلا گیا ہے۔ اِسرو نے 4 ستمبر کو اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اہم جانکاری دی۔ ساتھ ہی کہا کہ اب 22 ستمبر کے آس پاس از سر نو اس کے فعال ہونے کی امید ہے۔

اِسرو نے ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’چندریان-3 مشن کا لینڈر صبح تقریباً 8 بجے سلیپ موڈ میں سیٹ ہو گیا۔ اس سے پہلے چیسٹے، رمبھا-ایل پی اور آئی ایل ایس اے پے لوڈ نے نئی جگہ پر اِن-سیٹو تجربات کیے۔ انھوں نے جو ڈاٹا جمع کیا وہ زمین پر آتا رہا۔‘‘ پوسٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’پے لوڈ اب بند کر دیے گئے ہیں۔ لینڈر ریسیور چالو رکھے گئے ہیں۔ شمشی توانائی ختم ہو جانے اور بیٹری ختم ہو جانے پر وکرم، پرگیان کے بغل میں سو جائے گا۔ 22 ستمبر 2023 کے آس پاس ان کے پھر سے جاگنے کی امید ہے۔‘‘

اس سے قبل اِسرو نے 4 ستمبر کی صبح ہی جانکاری دی تھی کہ وکرم لینڈر کی دوبارہ کامیاب سافٹ لینڈنگ 3 ستمبر کو کرائی گئی اور پہلے جس مقام پر لینڈر ماڈیول نے لینڈ کیا تھا، 3 ستمبر کی لینڈنگ اس سے 30 سے 40 میٹر دور ہوئی ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مشن کے لیے اس طرح کا تجربہ کرنا ضروری تھا۔

اِسرو نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں بتایا کہ ’’ہندوستان کا وکرم لینڈر چاند پر پھر سے سافٹ لینڈ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ وکرم لینڈر اپنے سبھی مشن پورے کر چکا ہے اور اب یہ کامیابی کے ساتھ ’ہوپ ایکسپریمنٹ‘ سے گزرا ہے۔‘‘ اِسرو نے مزید لکھا ہے کہ ’’کمانڈ دیے جانے پر وکرم لینڈر کے انجن چالو ہوئے اور یہ 40 سنٹی میٹر تک اوپر اٹھا، پھر 40-30 سنٹی میٹر دور جا کر سافٹ لینڈ ہو گیا۔‘‘ اسرو نے بتایا کہ اس کا مقصد مستقبل میں لینڈر کی واپسی اور آئندہ انسانی مشن کے لیے ٹرائل کرنا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OC5Lf2E

ہفتہ، 2 ستمبر، 2023

چاند کے بعد سورج کی باری، اسرو نے ملک کا پہلا سولر مشن آدتیہ ایل ون لانچ کر رقم کی تاریخ

سری ہری کوٹا: اسرو نے چندریان3 کی کامیابی کے بعد ایک اور تاریخ رقم کرتے ہوئے ہندوستان کا پہلا سولر مشن 'آدتیہ-ایل1' سری ہری کوٹہ کے خلائی مرکز سے لانچ کر دیا۔ سری ہری کوٹا ستیش دھون خلائی مرکز (ایس ڈی ایس سی) میں سولر مشن کی روانگی کے وقت میں بڑی تعداد میں لوگ اس نظاہرے کو دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ دتیہ ایل ون سورج کا مشاہدہ کرنے کے لئے اپنی منزل تک پہنچنے میں تقریباً 4 ماہ کا وقت لے گا اور اس دوران یہ زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا۔

اسرو نے کہا کہ آدتیہ-ایل ون کو سورج کی سمت میں زمین سے 1.5 ملین کلومیٹر کے فاصلے پر لینگریزین پوائنٹ 1 (ایل ون) کے گرد ہالو آربٹ میں داخل کیا جائے گا۔ سیٹلائٹ اور پے لوڈ سورج کے گرد ایک ساتھ گھومتے رہیں گے اور بغیر کسی گرہن کے سورج کا مسلسل مشاہدہ کریں گے۔ اس سے شمسی سرگرمیوں اور خلائی موسم پر ان کے اثرات کو حقیقی وقت میں دیکھنے میں مدد ملے گی۔

آدتیہ ایل ون کو ستیش دھون اسپیس سینتر کے دوسرے لانچ پیڈ سے صبح 11.50 بجے روانہ کیا گیا۔ یہ لانچنگ پی ایس ایل وی- ایکس ایل راکٹ کے ذریعے کی گئی۔ اس راکٹ کی یہ 25ویں پرواز تھی۔ لانچ کے تقریباً ایک گھنٹے بعد آدتیہ ایل ون اپنے طے شدہ مدار میں پہنچ جائے گا۔

آدتیہ ایل ون کا وزن 1480 کلوگرام ہے۔ لانچ کے تقریباً 63 منٹ بعد آدتیہ ایل ون خلائی جہاز سے علیحدہ ہو جائے گا۔ یہ اس راکٹ کی سب سے طویل پروازوں میں سے ایک ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vXE6Gbq

جمعہ، 1 ستمبر، 2023

چندریان-3: جب چاند پر ہو جائے گی رات اور پرگیان-وکرم بند کر دیں گے اپنا کام، تب فعال ہوگا ایک خاص ڈیوائس!

چندریان-3 کو چاند کی سطح پر لینڈ ہوئے 10 دن ہو چکے ہیں، یعنی اب اس کے پاس تحقیقی عمل انجام دینے کے لیے 4 (آج کا دن چھوڑ کر) دن بچے ہوئے ہیں۔ 6 ستمبر کو چاند پر رات ہو جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر غیر فعال ہو جائیں گے۔ یعنی یہ دونوں اپنا کام کرنا بند کر دیں گے۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ لینڈر ماڈیول میں ایک ڈیوائس ایسا ہے جو اپنا کام تب شروع کرے گا، جب چاند پر رات ہونے کے بعد پرگیان اور وکرم کام کرنا بند کر دیں گے۔

دراصل چندریان-3 کے ساتھ ایک پے لوڈ ’ایل آر اے‘ بھی گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وکرم لینڈر کے ساتھ چاند کی سطح پر جو 4 پے لوڈ گئے ہیں، ان میں سے ایک ہے ’ایل آر اے‘ یعنی لیزر ریٹروریفلکٹر ایرے۔ اس پے لوڈ کو ناسا نے ڈیولپ کیا ہے۔ یہ پے لوڈ اپنا کام چاند پر رات ہونے کے بعد شروع کرے گا۔

ایسی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں کہ وکرم لینڈر اپنے ساتھ مجموعی طور پر 4 پے لوڈ لے کر گیا تھا جس میں رمبھا، چیسٹے اور اِلسا (ان سبھی کو اِسرو نے ڈیولپ کیا ہے) لینڈنگ کے بعد سے ہی اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایل آر اے فی الحال غیر فعال ہے۔ اس پے لوڈ کا اہم کام لینڈر کی لوکیشن کو ٹریک کرنا ہوگا جو آربیٹر سے رابطے مین رہے گا۔ یہ ایک طرح سے لیزر لائٹ ہے جو آربیٹر کے رابطے میں آنے کے بعد کام کرتی ہے اور اپنی لوکیشن کو بتاتی ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ ناسا نے اس پے لوڈ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ وہ وکرم اور پرگیان کے فعال رہنے تک کام نہیں کرے گا۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ ایل آر اے کسی بھی طرح وکرم اور پرگیان کے کام کو متاثر نہ کرے۔ ناسا کا یہ آر ایل اے طویل وقت تک کام کرے گا اور مستقبل میں آنے والے مشن کے لیے کارگر ثابت ہوگا۔ جیسا کہ اِسرو کے ذریعہ جانکاری دی گئی ہے، یہ پے لوڈ وکرم لینڈر کے بالکل اوپر موجود ہے۔ یعنی چندریان-3 کا سفر 6 ستمبر کے بعد بھی جاری رہنے والا ہے، بھلے ہی چاند پر شدید ٹھنڈ بھری رات نہ ہو جائے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hCxDS10

ناسا کے ہیلی کاپٹر نے مریخ پر 56 پروازیں مکمل کیں

لاس اینجلس: ناسا کے مارس ہیلی کاپٹر نے سرخ سیارے پر اپنی 56 پروازیں مکمل کر لیں۔ ایجنسی نے جمعرات کو یہ جانکاری دی۔ ناسا کے مطابق مریخ کے ہیلی کاپٹر نے 25 اگست کو اپنی 56 ویں پرواز شروع کی جس میں اس نے 12 میٹر کی بلندی تک پہنچ کر 141 سیکنڈ میں 410 میٹر کا فاصلہ طے کیا۔

انجینوئٹی نامی یہ ہیلی کاپٹر 18 فروری 2021 کو مریخ کے جیجرو کریٹر تک پہنچا، جو ناسا کے پرسیورینس روسر سے جڑا ہوا تھا ۔ یہ ہیلی کاپٹر ایک ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ہے، جسے پہلی بار کسی دوسرے سیارے پر چلنے والی پرواز کو جانچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ناسا کے مطابق، ہیلی کاپٹر کو 90 سیکنڈ تک پرواز کرنے، ایک وقت میں تقریباً 300 میٹر کا فاصلہ طے کرنے اور زمین سے تقریباً 3 سے 4.5 میٹر کی بلندی پر منڈلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

ناسا کے مطابق اب تک یہ ہیلی کاپٹر مریخ پر 100.2 فلائنگ منٹ مکمل کر چکا ہے اور 12.9 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے 18 میٹر کی بلندی تک پہنچا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Fha3x2T