اتوار، 27 اپریل، 2025

دن میں سب سے زیادہ گرمی تین بجے کیوں ہوتی ہے؟ ایک سائنسی وضاحت

دن کے سب سے گرم وقت کے بارے میں ہمارا عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ سہ پہر تقریباً تین بجے موسم سب سے زیادہ گرم محسوس ہوتا ہے، حالانکہ سورج کی روشنی سب سے زیادہ سیدھی دوپہر 12 بجے پڑتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ مظہر ہے جس کی سائنسی بنیادیں ہیں۔ آئیے اس عمل کو تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والی روشنی میں قوس قزح کے تمام رنگ موجود ہوتے ہیں اور یہ روشنی تھوڑی مقدار میں الٹرا وائلٹ اور انفرا ریڈ شعاعوں پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔

سورج کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 10,000 فارن ہائیٹ (یعنی 6000 ڈگری سینٹی گریڈ) ہے۔ اتنے زیادہ درجہ حرارت پر سورج سفید روشنی خارج کرتا ہے، جو زمین تک پہنچتی ہے۔ ہمارا کرۂ ہوائی سورج کی روشنی کے لیے تقریباً شفاف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی زیادہ تر توانائی بغیر کسی رکاوٹ کے فضا سے گزر کر زمین تک پہنچ جاتی ہے اور زمین کی سطح کو گرم کرنا شروع کر دیتی ہے۔

خود ہوا براہ راست سورج کی شعاعوں سے زیادہ گرم نہیں ہوتی بلکہ زمین کے گرم ہونے کے بعد زمین سے خارج ہونے والی توانائی سے حرارت حاصل کرتی ہے۔ جب سورج افق پر نیچے ہوتا ہے، صبح یا شام کے وقت، تو اس کی شعاعیں ترچھی پڑتی ہیں۔ اس وجہ سے شعاعیں لمبا راستہ طے کرتی ہیں اور توانائی کا زیادہ حصہ بکھر جاتا ہے۔ لیکن دوپہر 12 بجے کے آس پاس سورج آسمان میں سب سے اونچی پوزیشن پر ہوتا ہے اور اس کی شعاعیں تقریباً سیدھے زاویے سے زمین پر پڑتی ہیں۔

یہ وقت وہ ہوتا ہے جب زمین پر پڑنے والی شمسی توانائی کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم، زمین اور ماحول میں حرارت کا تبادلہ فوری نہیں ہوتا۔ زمین کو سورج کی روشنی جذب کرنے، گرم ہونے اور پھر اپنی حرارت فضا میں منتقل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ جب زمین سورج کی روشنی جذب کرتی ہے، تو اس کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے لیکن زمین کی گرم سطح فوراً اردگرد کی ہوا کو گرم نہیں کرتی۔ پہلے زمین خود اچھی طرح گرم ہوتی ہے، پھر وہ حرارت کی صورت میں انفرا ریڈ ریڈیئشن خارج کرتی ہے، جس سے آس پاس کی ہوا گرم ہوتی ہے۔

اس پورے عمل میں، یعنی سورج کی روشنی کے جذب ہونے، زمین کے گرم ہونے اور پھر ہوا کو گرم کرنے میں تقریباً تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے دن کا سب سے زیادہ گرم وقت عام طور پر 3 بجے کے آس پاس ہوتا ہے، نہ کہ 12 بجے۔ یہی تاخیر رات میں ٹھنڈک کے دوران بھی نظر آتی ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد زمین فوراً ٹھنڈی نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ اپنی حرارت کھونا شروع کرتی ہے اور صبح کے وقت، سورج نکلنے سے ذرا پہلے، سب سے زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔

زمین سے خارج ہونے والی انفرا ریڈ شعاعیں فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں (جیسے پانی کے بخارات، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین) سے ٹکرا کر کچھ حد تک واپس زمین کی طرف لوٹتی ہیں۔ اس سے زمین اور فضا کا درجہ حرارت برقرار رہتا ہے۔ ان گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے زیادہ اثر پانی کے بخارات کا ہوتا ہے۔ اسی لیے ساحلی علاقوں میں، جہاں ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے، دن اور رات کے درجہ حرارت میں زیادہ فرق نہیں آتا۔

مثلاً ممبئی یا کسی جزیرے پر دن اور رات کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 5 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ کا فرق دکھاتا ہے۔ اس کے برعکس، ریگستانی علاقوں میں، جہاں ہوا میں نمی بہت کم ہوتی ہے، جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے زمین تیزی سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ اسی لیے دن اور رات کے درجہ حرارت میں 30 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا فرق ہو سکتا ہے۔ اونچے مقامات پر گرمی کا احساس کم کیوں ہوتا ہے؟

جب ہم کسی پہاڑی مقام پر جاتے ہیں، تو وہاں ہمیں گرمی کم محسوس ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کا فضائی دباؤ کم ہوتا ہے، جس سے ہوا پتلی ہوتی ہے اور حرارت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی سطح اور فضا کے درمیان حرارت کی ترسیل بھی کمزور ہوتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3lBqhau

ڈیجیٹل دنیا: لڑکیوں کی ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی ضروری

ڈیجیٹل دنیا میں صنفی عدم مساوات کا خاتمہ کرنے کے لیے لڑکیوں کو ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی دینا ضروری ہے، اس کام کے لیے تعلیمی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ دنیا بھر میں پائی جانے والی ڈیجیٹل تفریق کے باعث ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین اور لڑکیوں کی کئی نسلوں کے پسماندہ رہ جانے کا خدشہ ہے۔ اس خدشہ کا اظہار ہنگامی حالات اور طویل بحرانوں میں تعلیم کی فراہمی پر اقوام متحدہ کے عالمی فنڈ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' (تعلیم انتظار نہیں کر سکتی) کی ڈائریکٹر یاسمین شریف نے کیا ہے۔ انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) یا معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر انہوں نے کہا کہ مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور جبری نقل مکانی کا سامنا کرنے والے علاقوں میں یہ تقسیم اور بھی نمایاں ہے جسے ختم کرنے اور لڑکیوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں لڑکوں کے مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس تبدیلی کے لیے تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے، لڑکیوں کو وہ تربیت، ہنر اور وسائل فراہم کیے جائیں جن کی انہیں ڈیجیٹل انقلاب کا حصہ بننے کے لیے ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے مطابق، دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد تقریباً 24 کروڑ تک کم ہے۔ اس طرح تعلیم، روزگار کے مواقع اور اختراعات تک ان کی رسائی بھی محدود ہے۔ براعظم افریقہ میں سماجی پابندیوں، لاگت اور نقل و حرکت کی رکاوٹوں کے باعث بہت سی لڑکیاں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم سے محروم رہتی ہیں۔ ذیلی صحارا افریقہ میں ’اسپریڈ شیٹ‘ کے استعمال سے آگاہی رکھنے والے ہر ایک سو مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد محض چالیس ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس خطے میں 90 فیصد نو عمر لڑکیاں اور نوجوان خواتین انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔ یعنی ہر 10 میں سے 9 کو انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات اور مواقع تک رسائی نہیں مل رہی۔ اگر لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس (ایس ٹی ای ایم) میں تعلیم کے مواقع میسر ہوں تو ان کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اس ضمن میں یاسمین شریف نے ’افغان گرلز روبوٹکس ٹیم‘ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے (ایس ٹی ای ایم) کی تعلیم کے ذریعے روبوٹ بنانا اور پروگرام تخلیق کرنا سیکھا اور سائنس و انجینئرنگ میں نئی مہارتیں حاصل کیں۔ اس طرح وہ دنیا بھر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لڑکیوں کی سفیر بن گئی ہیں۔ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' کی 'عالمی چیمپئن' سومیہ فاروقی کے زیرقیادت ان لڑکیوں نے رکاوٹیں توڑ کر اپنا مقصد حاصل کیا ہے اور وہ دنیا بھر کی لاکھوں لڑکیوں کے لیے بھی انٹرنیٹ تک رسائی اور ٹیکنالوجی میں کیریئر بنانے کی راہ ہموار کریں گی۔

سوشل میڈیا کے مضر اثرات

دریں اثنا، یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹر (جی ای ایم) کی ایک رپورٹ میں نوجوان لڑکیوں پر سوشل میڈیا کے مضر اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ 24 اپریل کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور الگورتھم سے چلنے والے سافٹ ویئر - خاص طور پر سوشل میڈیا - پرائیویسی پر حملے، سائبر دھونس جمانے یا ہراساں کرنے اور نوجوان لڑکیوں کو سیکھنے یا تعلیم سے دور ہٹانے کے خطرات پیش کرتے ہیں۔ اس رپورٹ ٹیم کی ایک سینئر تجزیہ کار، اینا ڈی ایڈیو کے مطابق، تعلیم میں ٹیکنالوجی کے معاملے کو صنفی عینک سے جانچا گیا ہے۔ رپورٹ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے میں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے، لیکن لڑکیوں کی تعلیم کے مواقع اور نتائج پر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ آن لائن ہراساں کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے، ڈی اڈیو نے کہا، سوشل میڈیا پر لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں میں سائبر بلنگ یا دھونس بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو ان کی صحت کو متاثر کرتی ہے، جبکہ تندرستی تعلیم حاصل کرنے یا سیکھنے کے لیے اہم ہے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی ٹیلی کام ایجنسی - انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کی قیادت میں آئی سی ٹی ڈے میں لڑکیوں کے بین الاقوامی دن جاری کی گئی۔ اس موقع پر ایک ٹویٹر پوسٹ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے نشاندہی کی کہ مردوں کے مقابلے میں کم خواتین کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور یہ ان کے کام کے مساوی مواقع حاصل کرنے کی راہ میں حائل ہے۔ لہٰذا انہوں نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبے میں لڑکیوں کے لیے مزید آلات اور معاونت کا مطالبہ کیا۔

ذہنی صحت اور تندرستی

گلوبل ایجوکیشن مانیٹر (جی ای ایم) کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا نوجوان لڑکیوں کو جنسی مواد سمیت غیر مناسب ویڈیو مواد فراہم کرتا ہے، اور غیر صحت مند اور غیر حقیقی جسمانی معیارات کو فروغ دیتا ہے جو ذہنی صحت اور تندرستی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ نو عمر لڑکیوں میں لڑکوں کے مقابلے تنہائی محسوس کرنے کا امکان دوگنا ہوتا ہے اور وہ کھانے کے عوارض کا شکار ہوتی ہیں۔ ڈی اڈیو کے مطابق، شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی نمائش کا تعلق دماغی صحت کے مسائل، کھانے کے عوارض اور بہت سے دوسرے مسائل سے ہے جو سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں اور خاص طور پر لڑکیوں کی توجہ تعلیم سے دور کرتے ہیں اور ان کی تعلیمی کامیابی کو متاثر کرتے ہیں۔

رپورٹ میں شامل ’فیس بک‘ کے اعدادوشمار کے مطابق، ’انسٹاگرام‘ پر مبینہ طور پر 32 فیصد نو عمر لڑکیوں نے پلیٹ فارم کے مواد کو استعمال کرنے کے بعد اپنے جسم کے بارے میں بدتر محسوس کیا ہے۔ اس کے برعکس، ڈی اڈیو اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سوشل میڈیا کا استعمال نوجوان لڑکیوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے علم میں اضافہ اور سماجی مسائل پر بیداری پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کی رائے میں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا طریقہ سکھانا ضروری ہے۔

بہتر تعلیم، قوانین و ضوابط کی ضرورت

رپورٹ میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس (ایس ٹی ای ایم) کیرئیر تک رسائی حاصل کرنا دشوار ہے، جو کہ جدید ٹیکنالوجی کی تیاری اور ترقی میں تنوع کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یونیسکو انسٹی ٹیوٹ برائے شماریات کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین عالمی سطح پر ایسے (ایس ٹی ای ایم) گریجویٹز میں صرف 35 فیصد ہیں اور صرف 25 فیصد سائنس، انجینئرنگ اور انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) ملازمتیں رکھتی ہیں۔ ڈی اڈیو کے مطابق، ابھی بھی بہت کم لڑکیاں اور خواتین ہیں جو (ایس ٹی ای ایم)مضامین کا انتخاب کرتی ہیں اور وہاں کام کرتی ہیں۔ رپورٹ کے نتائج تعلیم میں زیادہ سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بہتر ضابطے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

بہرحال، یونیسکو تعلیم کے نظام کو مزید جامع بنانے والی پالیسیوں کی وکالت کرتے ہوئے، ایسے قوانین اور ضوابط کو فروغ دے کر جو لڑکیوں کے لیے تعلیم تک مساوی رسائی کی ضمانت دیتے ہیں اور انہیں امتیازی سلوک سے محفوظ رکھتے ہیں، لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ یونیسکو کے مطابق، ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی تعداد کو دو گنا کر کے 2027 تک دنیا کے جی ڈی پی میں 600 ارب یورو تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے بعض رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں شمالی دنیا کے وسائل سے کام لیتے ہوئے ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ سمیت دنیا بھر کی لڑکیوں کو ٹیکنالوجی سے کام لینے کے قابل بنانا ہو گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/P98L4Ew

اتوار، 20 اپریل، 2025

کیا کائنات میں ہم جیسے اور بھی ہیں؟ زمین جیسے سیارے پر زندگی کے ممکنہ آثار

انسانی تاریخ میں زندگی کے سب سے بڑے سوالوں میں سے ایک یہ رہا ہے، کیا ہم اس وسیع کائنات میں اکیلے ہیں؟ قدیم زمانے سے ہی انسان نے آسمان کی وسعتوں میں جھانک کر اپنے جیسے کسی اور کے وجود کی تلاش کی ہے۔ جدید دور میں فلکیاتی سائنس نے اس تلاش کو ایک سائنسی بنیاد فراہم کی ہے اور حالیہ دنوں میں ایک اہم دریافت نے اس سوال کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، وہ ہے سیارہ کے2-18بی (K2-18b) پر زندگی کے ممکنہ آثار کی دریافت ہونا۔

’کے2-18بی‘ ایک ایسا سیارہ ہے جو زمین سے تقریباً 124 نوری سال یعنی تقریباً 700 کھرب میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے اور سائز کے اعتبار سے زمین سے ڈھائی گنا بڑا ہے۔ اس کی کمیت اور ساخت کے لحاظ سے یہ زمین اور نیپچون کے درمیان آتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک ہائیسین ورلڈ (Hycean World) ہو سکتا ہے، یعنی ایسا سیارہ جس پر سمندر ہوں اور فضا میں ہائیڈروجن غالب ہو۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے سائنسدانوں نے ناسا کی جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی مدد سے اس سیارے کی فضا کا تجزیہ کیا۔ یہ ٹیلی سکوپ اتنی حساس ہے کہ دور دراز سیاروں کی فضا سے گزرنے والی روشنی میں موجود کیمیائی عناصر کو بھی پہچان سکتی ہے۔

پروفیسر نکّو مدھوسودھن کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں کے2-18بی کی فضا میں کچھ خاص مالیکیولز دریافت ہوئے جن میں ڈائیمیتھائل سلفائیڈ (ڈی ایم ایس)، ڈائی میتھائل ڈائی سلفائیڈ (ڈی ایم ڈی ایس)، میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔ ڈی ایم ایس خاص طور پر دلچسپ ہے کیونکہ زمین پر اسے صرف سمندری مخلوقات جیسے فائیٹوپلانکٹن یا بیکٹیریا پیدا کرتے ہیں۔

پروفیسر مدھوسودھن کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف ایک مشاہدے کے دوران ڈی ایم ایس کی مقدار زمین سے ہزاروں گنا زیادہ معلوم ہوئی ہے، جو اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ یہ گیس کسی حیاتیاتی سرگرمی سے پیدا ہو رہی ہو سکتی ہے۔

تاہم سائنسی برادری کسی بھی نتیجے تک پہنچنے میں انتہائی احتیاط سے کام لیتی ہے۔ سائنس میں کسی بھی دریافت کو ثابت شدہ ماننے کے لیے ایک شماریاتی معیار درکار ہوتا ہے جسے فائیو سگما (Five Sigma) کہا جاتا ہے، یعنی 99.99999 فیصد یقین۔ فی الحال یہ تحقیق تھری سگما پر ہے، جو 99.7 فیصد یقین کے برابر ہے۔ گو کہ یہ پچھلی تحقیق (68 فیصد یقین) کے مقابلے میں کافی بہتر ہے، مگر سائنسی طور پر حتمی دعویٰ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ پروفیسر مدھوسودھن پر امید ہیں کہ اگلے ایک یا دو سال کے اندر مزید مشاہدات کے ذریعے یہ معیار حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر کیتھرین ہیمنز، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں رہیں، کا کہنا ہے کہ زمین پر تو ڈی ایم ایس اور ڈی ایم ڈی ایس جیسے مالیکیولز زندگی سے جڑے ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ دوسرے سیاروں پر غیر حیاتیاتی عمل بھی یہ گیسیں پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی آف کیمبرج کی ٹیم دیگر سائنسی اداروں کے ساتھ مل کر لیبارٹری میں اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ مالیکیولز غیر حیاتیاتی ذرائع سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سیارے پر واقعی سمندر موجود ہو سکتے ہیں، خاص طور پر کیونکہ وہاں امونیا موجود نہیں، جو عام طور پر آبی ماحول میں جذب ہو جاتا ہے۔ مگر پروفیسر اولیور شورٹل اور ڈاکٹر نکولس ووگن جیسے محققین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ سیارہ دراصل ایک چھوٹا گیس جائنٹ ہو جس کی کوئی ٹھوس سطح موجود نہ ہو، یا پھر اس کی سطح پگھلے ہوئے پتھروں سے بنی ہو، جو زندگی کے امکان کو کم کر دیتا ہے۔

اس تمام احتیاط کے باوجود سائنسدان مانتے ہیں کہ یہ دریافت کائنات میں زندگی کی تلاش کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ بی بی سی کے مشہور سائنسی پروگرام دی اسکائی ایٹ نائٹ کے میزبان پروفیسر کرس لنٹوٹ کے مطابق، اگرچہ ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ زندگی واقعی دریافت ہو گئی ہے لیکن یہ تحقیق ہمیں اس سوال کے قریب ضرور لے جا رہی ہے۔ وہیں، پروفیسر مدھوسودھن کا ماننا ہے کہ ممکن ہے ہم آئندہ برسوں میں پیچھے مڑ کر دیکھیں اور اس لمحے کو وہ موڑ کہیں جب ’زندہ کائنات‘ کا تصور حقیقت سے قریب تر ہو گیا۔

سیارہ کے2-18بی پر ممکنہ حیاتیاتی سرگرمیوں کی یہ دریافت فلکیات کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم زندگی کے بڑے سوال کا جواب حاصل کرنے کے سفر پر گامزن ہیں۔ اگر آنے والے برسوں میں تحقیق پانچ سگما کے معیار تک پہنچتی ہے، تو انسان کو شاید کائنات میں اپنی تنہائی کا سوال کا جواب مل جائے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/jo2z1uG

جمعہ، 18 اپریل، 2025

گوگل نے ڈیجیٹل اشتہارات میں غیر قانونی اجارہ داری قائم کی، امریکی عدالت کا فیصلہ

**واشنگٹن: امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ڈیجیٹل اشتہارات کی مارکیٹ میں غیر قانونی طور پر اجارہ داری قائم کر کے ملک کے عدم اعتماد کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی محکمہ انصاف اور متعدد ریاستوں کے اس مقدمے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں گوگل پر الزام تھا کہ اس نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے آن لائن اشتہاری مارکیٹ پر قبضہ جما لیا ہے۔

ورجینیا کے مشرقی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گوگل نے اپنے ایڈ ٹیک بزنس کے ذریعے ایسے حربے اپنائے جن سے پبلشرز، اشتہاری خریداروں اور بالآخر انٹرنیٹ صارفین کو نقصان پہنچا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کمپنی کے طرز عمل سے "گوگل کے اشاعتی صارفین، مسابقتی عمل اور بالآخر، اوپن ویب پر اطلاعات کے صارفین متاثر ہوئے۔"

محکمہ انصاف کی جانب سے جاری بیان میں اس فیصلے کو ڈیجیٹل اشتہارات کے میدان میں گوگل کی اجارہ داری کے خلاف تاریخی فتح قرار دیا گیا۔ امریکی اٹارنی جنرل پامیلا بونڈی نے کہا کہ "یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، چاہے وہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی ہی کیوں نہ ہو۔"

محکمہ انصاف کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ابیگیل اسلیٹر نے کہا کہ گوگل کا غلبہ صرف اشتہارات پر نہیں بلکہ یہ پلیٹ فارم امریکی آوازوں کو دبانے، انہیں سینسر کرنے یا ہٹانے تک کی طاقت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "گوگل نے نہ صرف اپنے حریفوں کو کچلا بلکہ ان طرز عمل کی تفتیش کو روکنے کے لیے ثبوت بھی تباہ کیے۔"

گوگل نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ریگولیٹری معاملات کی نائب صدر لی اینی ملہولینڈ نے بیان میں کہا کہ پبلشرز کے پاس گوگل کے علاوہ بھی کئی آپشنز موجود ہیں اور وہ گوگل کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ اس کے ایڈورٹائزنگ ٹولز سادہ، کم خرچ اور مؤثر ہیں۔

یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی عدالت نے گوگل کے خلاف اجارہ داری کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس سے قبل اگست 2024 میں، واشنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت نے گوگل کو آن لائن سرچ مارکیٹ میں غیر قانونی اجارہ داری کا مرتکب قرار دیا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں ٹیک کمپنیوں کے کاروباری طریقہ کار پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ان پلیٹ فارمز پر جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈیٹا مونیٹائزیشن پر انحصار کرتے ہیں۔

یہ مقدمہ گوگل کے اشتہاری ڈھانچے پر ممکنہ طور پر بڑی تبدیلیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، اور دیگر ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ بن سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/jMXDaZ8

ہفتہ، 12 اپریل، 2025

مصنوعی ذہانت کی پیش قدمی، سافٹ ویئر کی محدود ہوتی افادیت

ماضی میں جب صنعتی انقلاب آیا تو انسان نے پہلی بار یہ سیکھا کہ محض اپنے ہاتھوں اور جسمانی طاقت کے بجائے مشینوں کی مدد سے بھی بڑی سطح پر پیداوار ممکن ہے۔ پھر جب ڈیجیٹل انقلاب نے دستک دی تو دنیا کا رابطہ بدل گیا، معلومات کی ترسیل، لین دین، تعلیم، سیاست، معیشت، سب کچھ نئی شکل میں ڈھلنے لگا۔

اب جو انقلاب ہمارے دروازے پر آ چکا ہے، وہ نہ صرف پہلے دونوں انقلابات سے زیادہ تیز ہے بلکہ گہرے اور دور رس اثرات کا حامل بھی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا انقلاب ہے، جو ہر شعبۂ حیات میں داخل ہو چکا ہے اور انسان کے ہر سوچنے، سمجھنے اور کرنے کے طریقے کو بدل رہا ہے۔

اب یہ سوال باقی نہیں رہا کہ اے آئی آئے گی یا نہیں، وہ آ چکی ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ ہم اس کے لیے کتنے تیار ہیں؟ حال ہی میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین کا بیان آیا کہ سافٹ ویئر انجینئروں کی نوکریاں خطرے میں ہیں اور انہیں اس تبدیلی کے لیے خود کو پہلے سے تیار کر لینا چاہیے۔

یہ صرف انجینئروں کی بات نہیں، دنیا بھر میں جہاں جہاں کوئی کام ایک خاص ترتیب، ایک مخصوص فارمولے یا طے شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر انجام دیا جاتا ہے، وہاں اے آئی کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا کہ انسانی تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی اور جذبات ایسی چیزیں ہیں جنہیں کوئی مشین چھو بھی نہیں سکتی، مگر اب وہ لمحہ آ گیا ہے جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف معلومات پر مبنی فیصلہ کر رہی ہے بلکہ وہ انسانی مزاج، لہجہ اور ارادے کو بھی سمجھنے لگی ہے۔

اکثر لوگ اس انقلاب کا موازنہ موبائل فون کے ساتھ کرتے ہیں، جو یقیناً زندگی میں سہولتوں کا بڑا ذریعہ بنا، مگر سچ یہ ہے کہ موبائل نے انسان کا طرز زندگی اتنا نہیں بدلا جتنا اے آئی کرنے جا رہی ہے۔ موبائل نے رابطے آسان کیے، چیزوں کو قریب لایا لیکن اے آئی انسان کے سوچنے کے عمل میں مداخلت کر رہی ہے۔ وہ اسے یہ نہیں بتاتی کہ ’کیا کرنا ہے‘، بلکہ یہ طے کرتی ہے کہ ’کیسے سوچا جائے!‘

پہلے ہم جن کاموں کے لیے خاص سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے، اب وہی کام خودکار طریقے سے ایک ہی پلیٹ فارم پر بغیر وقت ضائع کیے انجام پا رہے ہیں۔ تصویری تدوین ہو، مضمون نویسی، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیٹا اینالسس، یا آواز سے ٹیکسٹ بنانا، یہ سب ایک لمحہ میں انجام پاتا ہے، وہ بھی بغیر سیکھے۔

یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے مشہور سافٹ ویئر جو ایک وقت میں ناگزیر سمجھے جاتے تھے، آج صرف مخصوص پیشہ ور افراد تک محدود ہو گئے ہیں، یا ان کے لیے متبادل اے آئی ٹولز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر فوٹوشاپ، کورل ڈرا، فائنل کٹ، پاور پوائنٹ، ان پیج، آٹو کیڈ، یا یہاں تک کہ ایکسل جیسے پروگرام بھی، جنہیں سیکھنے اور سکھانے پر برسوں صرف کیے جاتے تھے، اب ان کی جگہ ایسے اے آئی پلیٹ فارم لے رہے ہیں، جو نہ صرف ان سے تیز ہیں بلکہ صارف کے لیے آسان بھی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں ان سافٹ ویئرز کی مکمل یا جزوی افادیت ختم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ اس انقلاب نے نہ صرف سافٹ ویئرز کو بے مصرف یا محدود کیا ہے بلکہ انسان کے کام کرنے کے انداز کو بھی بدل دیا ہے۔ اب ہر شخص، چاہے وہ تعلیم سے وابستہ ہو یا طب سے، صحافت سے ہو یا قانون سے، محسوس کر رہا ہے کہ اس کے کام کی نوعیت بدل رہی ہے۔ کچھ کے لیے یہ تبدیلی سہولت ہے، کچھ کے لیے خوف اور کچھ کے لیے موقع۔

سوال یہ نہیں کہ اے آئی کیا چھین لے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا نیا سیکھنے کو تیار ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پرانے تجربے اور مہارت کے بل پر ہمیشہ کامیاب رہیں گے، وہ شاید آنے والے وقت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اے آئی کا اثر صرف پیشہ ورانہ دنیا تک محدود نہیں رہے گا۔ گھریلو زندگی، سماجی رشتے، تعلیم، تفریح، یہاں تک کہ مذہبی و ثقافتی طور طریقے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اگر کل کوئی بچہ اے آئی سے قرآن پڑھنا سیکھ رہا ہوگا یا کوئی بزرگ اپنی طبیعت کے مطابق اے آئی سے دعا سن رہا ہوگا تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہم نظریں نہیں چرا سکتے۔

ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف ہماری سوچ بدل رہی ہے بلکہ ہماری ترجیحات بھی تبدیل کر رہی ہے۔ انسان وہی کام کرنا چاہتا ہے جس میں کم محنت ہو، جلدی فائدہ ہو اور نتیجہ فوری نظر آئے۔ اے آئی اسے یہ سب فراہم کر رہی ہے، مگر اس کے بدلے ہم سے کیا لے رہی ہے، یہ ہم میں سے اکثر نے سوچا بھی نہیں۔ شاید ہمارے فیصلوں کا اختیار، ہماری تخلیق کی آزادی یا ہماری اجتماعی عقل۔

یہ انقلاب کسی کے رکنے سے رکے گا نہیں۔ یہ نہ تو جغرافیائی سرحدوں کا محتاج ہے اور نہ ہی کسی خاص طبقے یا معاشرے کا۔ یہ ہر اس شخص کو چھوئے گا جو اس دنیا کا حصہ ہے، جو روز کچھ سیکھتا، کچھ سوچتا اور کچھ کرتا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس تبدیلی کا سامنا آنکھیں کھول کر کریں گے یا آنکھ بند کر کے۔ وقت تیز ہو چکا ہے، لہٰذا جو جتنا جلدی خود کو بدلنے کے لیے تیار ہو جائے گا، وہی اس انقلاب میں محفوظ، باوقار اور مؤثر رہے گا۔ باقی سب، چاہے وہ کتنے ہی کامیاب کیوں نہ رہے ہوں، پیچھے رہ جائیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Paun4jM

بدھ، 9 اپریل، 2025

یہ ترقی کس کے لئے سودمند ہوگی!

دنیا کی نظریں اس وقت امریکی صدر کی نئی ٹیرف پالیسی پر لگی ہوئی ہیں، مسلم دنیا کی نظریں قطر کے حماس اور نیتن یاہو سے رشتے پر گڑی ہوئی ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کی نظریں وقف ترمیمی بل کے مستقبل کو لے کر بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں اور ہندوستانی عوام کی نظریں راہل گاندھی کی بہار یاترا اور احمد آباد اجلاس پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں یہ موضوعات انتہائی اہم ہیں اور ان کے اثرات دنیا کے کسی نہ کسی کونے پر نظر آئیں گے لیکن اگر ہم مستقبل کی بات کریں تو جس تیزی کے ساتھ دنیا میں سائنسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس نے آنکھیں ہوتے ہوئے بھی عام لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے پہلے ہی ایک بڑی تعداد کو بے روزگار کرنا شروع کر دیا ہے اور جس بڑی تعداد میں انسانی روبوٹس دنیا میں آ رہے ہیں اس نے سب کو حیرانی میں ڈال دیا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ سائنس میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس سے اب طے کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ آگے کس راستے پر چلنا ہے، بہت ہی کنفیوژن ہے۔

یہ کنفیوژن اس لئے ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سفر کا آغاز ہے اور انسانی روبوٹس کس کس شعبہ میں اپنی دخل اندازی کرے گا اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔ انسانی روبوٹس گھر کے کام سے لے کر بڑی بڑی فیکٹریوں میں کام کرتے نظر آ رہے ہیں اور ظاہر ہے اس کا فائدہ ان سب لوگوں کو ہو رہا ہے جو انسانی مجبوریوں اور انسانی فطرت سے دور رہنا چاہتے ہوں۔ چاہے گھر میں کسی بائی کی جگہ انسانی روبوٹ کام کرے۔ اگر کام بائی سے زیادہ بہتر طریقے سے روبوٹ کرتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی مجبوری اور انسانی فطرت یعنی بیماری اور چوری وغیرہ نہیں جڑی ہوئی ہیں اور وہ بچوں پر نظر بھی نہیں رکھتا ہے اور ان کی شکایت اور تعریف بھی ابھی نہیں کرتا ہے تو یہ اس مالک کے لئے آسانی ہی ہوگی جو آئے دن بائی کے مسئلہ سے پریشان رہتے ہیں، بیماری اور چوری جیسے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے لئے بس ایک یس مین یعنی ’جی حضور‘ والا روبوٹ چاہئے جو اس کے سب مسائل کا حل ہو، بس اسے اس کے لئے ایک چارجر اور خریدنے کے لئے پیسے درکار ہوں۔

اسی طرح بڑی بڑی فیکٹریوں کا حال ہوگا جہاں کے مالکان آئے دن کے احتجاج اور ملازمین کی چھٹیوں سے پریشان ہیں وہاں اگر انسانی روبوٹس مشینی انداز میں ایک جیسا سامان تیار کرتے ہیں اور وہ بھی بغیر چوں چرا کئے۔ ان کے ذریعہ تیار کردہ مال کی تعداد معلوم ہوگی، تنخواہ کا کوئی جھنجھٹ نہیں صرف اس بات کو یقینی بنانا پڑے گا بجلی آتی رہے اور وہ چارج ہوتے رہیں یعنی صرف ایک بار کا خرچ جیسے مشین لانے پر ہوتا ہے ویسے ہی یہ مشینی روبوٹس یعنی انسانی روبوٹس پر ایک مرتبہ کا خرچ۔ یعنی لوگوں کا استعمال بہت تیزی سے گھٹ جائے گا۔

انسانی روبوٹس تقریباً ہر شعبہ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے چاہے وہ کھانا پکانے سے لے کر کار اور بڑے بڑے پل بنانے کا مسئلہ ہو۔ یعنی ذائقے بھی ایک جیسے اور بڑی بڑی چیزیں بھی ایک جیسی۔ اس سے پہلے کہ انسان خود ایک دن مشین جیسا بن جائے اور اس میں جذبات نام کی کوئی چیز نہ رہے، اس کا یہ سفر بہت تکلیف دہ ہوگا کیونکہ ایک طرف بڑھتی بے روزگاری اور دوسری طرف تناؤ سے راحت کے ساتھ اپنی مرضی کا تیار کردہ مال اور اس سب میں اس کے ختم ہوتے ہوئے جذبات۔ یہ سب اس کی زندگی کا حصہ لاشعوری طور پر بن جائے گا۔

دوسری جانب مصنوعی ذہانت بہت تیزی کے ساتھ انسانی دماغ پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے بے چین نظر آ رہی ہے۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ انسان کی ہر ضرورت کو وہ پورا کر دے اور اس کو وہ اپنا غلام بنا لے۔ اپنی اس کوشش میں مصنوعی ذہانت جس بری طرح اپنا ڈیٹا بینک بڑھا رہی ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پاس انسانی ضرورت کے تمام حل موجود ہوں گے اور دھیرے دھیرے انسانی دماغ پر اس کا قبضہ اس طرح ہو جائے گا جیسے انسان پہلے فون نمبر یاد رکھتا تھا اور موبائل کے آنے کے بعد اسے انہیں یاد رکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔

اس ترقی کا ثمر کون استعمال کرے گا یہ دیکھنا ہوگا اور کون لوگ ہوں گے جو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ظاہر ہے ان سب چیزوں کے استعمال کے لئے انسانوں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آبادی کی زیادتی اس ترقی میں لعنت یا نعمت ثابت ہوگی، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ تبدیلی ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر میں تبدیلی یا فون میں بینک اور کیمرے والی تبدیلی سے بڑی ہوگی اور اس میں آبادی کے کردار کو دیکھنا لازمی ہوگا۔ یہ ترقی مغرب کے لئے سودمند رہے گی یا بڑی آبادی والے مشرق کے لئے فائدہ مند رہے گی لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں یہ مادیات کے لئے سودمند رہے گی اور جذبات کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/M16oRh2

اتوار، 6 اپریل، 2025

گرمی اور رنگ کا تعلق: نیلا سب سے گرم، لال سب سے ٹھنڈا!

ہم سب جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کو گرم کیا جاتا ہے تو اس سے روشنی یا ریڈی ایشن خارج ہوتی ہے۔ مثلاً جب کوئی لوہار لوہے کے سیاہ ٹکڑے کو بھٹی میں گرم کرتا ہے تو جیسے جیسے اس کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، اس سے نارنجی، پھر لال اور آخر میں سفید رنگ کی روشنی نکلتی ہے۔

سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی چیز سے خارج ہونے والی روشنی کا اس کے درجہ حرارت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بات عمومی مشاہدے کا حصہ ہے، لیکن اس کی سائنسی تفصیل کو جاننا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اسی سمجھ نے نہ صرف ہمیں ستاروں کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں بلکہ بیسویں صدی کے کوانٹم انقلاب کی بنیاد بھی رکھی۔

جب کسی شے کو گرم کیا جاتا ہے تو وہ برقی مقناطیسی شعاعیں (ایکٹرومیگنیٹک ریڈیشن) خارج کرتی ہے۔ جتنا درجہ حرارت کم ہوگا، اتنی ہی زیادہ طول موج (ویو لینتھ) کی شعاعیں خارج ہوں گی۔ مثلاً، اگر کوئی شے بہت ٹھنڈی ہو اور ہم اسے گرم کریں تو وہ ریڈیو ویوز خارج کرے گی۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہماری کائنات کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 3 کیلون ہے، جس کے باعث مائیکرو ویوز ہر سمت خارج ہو رہی ہیں۔ یہ مائیکرو ویوز 1964 میں حادثاتی طور پر دریافت ہوئیں اور جن سائنس دانوں نے یہ دریافت کی، انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا کیونکہ اس سے کائنات کی ابتدا کو سمجھنے میں مدد ملی۔

اگر ہم درجہ حرارت کو مزید بڑھائیں تو شے سے انفرا ریڈ شعاعیں نکلتی ہیں، جنہیں انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی، مگر ہماری جلد انہیں گرمی کے طور پر محسوس کر سکتی ہے۔

جب درجہ حرارت تقریباً 1000 سے 1500 ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے تو خارج ہونے والی شعاعیں ہمیں لال رنگ کی روشنی کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ اگر اس سے زیادہ درجہ حرارت ہو تو روشنی کے اسپیکٹرم میں موجود دیگر رنگ بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، اور جب تمام رنگوں کی توانائی تقریباً برابر ہو جائے تو آنکھ کو وہ روشنی سفید دکھائی دیتی ہے۔ یہ سفید روشنی عموماً 5500 سے 6000 ڈگری سینٹی گریڈ پر نظر آتی ہے، جیسا کہ سورج کی روشنی۔ یہی وجہ ہے کہ سورج کو پیلا دکھانا سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔

اگر درجہ حرارت مزید بڑھایا جائے تو روشنی کا رنگ نیلا ہونے لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیلے رنگ کی شعاعوں میں زیادہ توانائی ہوتی ہے جبکہ لال روشنی کی توانائی کم ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کسی شے کا درجہ حرارت 12,000 سے 15,000 ڈگری سینٹی گریڈ ہو تو وہ ہمیں نیلی دکھائی دے گی کیونکہ اس سے زیادہ تر نیلی شعاعیں خارج ہو رہی ہوں گی۔

مختصراً، جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، شے سے خارج ہونے والی توانائی ریڈیو ویوز سے ہوتی ہوئی مائیکرو ویوز، انفرا ریڈ، لال، نارنجی، سفید، نیلی، ایکس رے اور آخر میں گاما رے کی طرف جاتی ہے۔ ہر درجہ حرارت پر کئی طرح کی روشنی نکلتی ہے، مگر سب سے زیادہ طاقت ایک خاص رنگ کی روشنی میں ہوتی ہے۔ اسی لیے ویلڈنگ کرتے وقت لوہار موٹے چشمے پہنتے ہیں تاکہ نیلی اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کی شدید توانائی ان کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچائے۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ لال رنگ کی روشنی والی چیز کا درجہ حرارت عموماً 1000 سے 1500 ڈگری کے درمیان ہوتا ہے جبکہ نیلی روشنی والی چیز کا درجہ حرارت 12,000 سے 30,000 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو سکتا ہے۔ یعنی نیلا ستارہ، لال یا سفید ستارے کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرم ہوتا ہے۔ سائنس کی نظر میں نیلا رنگ بہت زیادہ گرم، سفید درمیانہ اور لال نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے۔

لیکن یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے: جب آرٹسٹ یا عام افراد کسی ٹھنڈی جگہ کی تصویر بناتے ہیں تو وہ نیلا اور سفید رنگ استعمال کرتے ہیں اور اگر کسی گرم مقام، جیسے جہنم کی تصویر ہو، تو وہ گہرے لال رنگ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کی وجہ انسانی نفسیات اور روزمرہ مشاہدہ ہے، نہ کہ سائنس۔

مثال کے طور پر، آئس کیوب ہمیں نیلا دکھائی دیتا ہے، اس لیے ہم لاشعوری طور پر نیلے رنگ کو ٹھنڈک سے جوڑتے ہیں، حالانکہ نیلا رنگ اس پر پڑنے والی روشنی کے مخصوص حصے کے زیادہ ریفلیکٹ ہونے کی وجہ سے نظر آتا ہے۔

اسی طرح، اکثر باتھ رومز میں گرم پانی کے نل پر لال اور ٹھنڈے پر نیلا نشان لگا ہوتا ہے، جو کہ سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نیلا رنگ زیادہ گرم اور لال رنگ کم گرم ہونے کی علامت ہے۔ یہی ہے رنگوں اور حرارت کے رشتے کی سائنسی کہانی — جو ہمیں کائنات کے راز بتاتی ہے، مگر ہماری روزمرہ عادتوں سے الگ چلتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wruMqm7