ہفتہ، 29 نومبر، 2025

ڈی جی سی اے کا اے 320 طیاروں کی لازمی تجدید کا حکم، ملک میں درجنوں پروازیں متاثر

نئی دہلی: ملک میں ایئر بس اے 320 فیملی کے طیاروں میں پائی گئی تکنیکی خرابی کے بعد سول ایوی ایشن ریگولیٹر ڈی جی سی اے نے ان طیاروں کے لیے لازمی سافٹ ویئر اور ہارڈویئر تجدید کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ حکم یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) کی تازہ ترین ہدایات کے بعد جاری ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ہندوستان میں درجنوں پروازیں تاخیر اور آپریشنل مسائل سے دوچار ہیں۔

ڈی جی سی اے کے مطابق اے319، اے320 اور اے321 طیاروں کے ان تمام ماڈلز میں ای ایل اے سی کنٹرول سسٹم سے متعلق اہم موڈیفکیشن کرنا ضروری ہے، جن میں سورج کی شعاعوں سے فلائٹ کنٹرول ڈیٹا متاثر ہونے کا خطرہ پایا گیا تھا۔ ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ بغیر مکمل موڈیفکیشن کے کوئی طیارہ اڑان نہیں بھر سکے گا۔

ملک میں اے 320 فیملی کے فعال طیاروں کی تعداد 179 ہے۔ ایئر انڈیا کے بیڑے میں 104، ایئر انڈیا ایکسپریس کے پاس 40 اور انڈیگو کے پاس 35 طیارے شامل ہیں۔ ان میں سے قابلِ ذکر تعداد کو فوری طور پر گراؤنڈ یا محدود آپریشن پر رکھا گیا ہے، جس سے پروازوں کے شیڈول متاثر ہو رہے ہیں۔

ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ اس کے انجینئرز 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں اور اب تک 40 فیصد متاثرہ طیاروں میں ضروری تجدید مکمل ہو چکی ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پروازوں کی منسوخی سے بچنے کی پوری کوشش کر رہی ہے، اگرچہ تاخیر ناگزیر ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ روانگی سے قبل ویب سائٹ یا کسٹمر کیئر سے تازہ معلومات ضرور حاصل کریں۔

ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی تصدیق کی کہ اس کے زیادہ تر طیارے براہِ راست متاثر نہیں، تاہم عالمی سطح پر جاری ری کال کی وجہ سے مختلف ممالک میں پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہو رہی ہیں۔ انڈیگو نے کہا ہے کہ وہ ڈی جی سی اے کی ہدایات پر پورا عمل کر رہی ہے اور ترجیحی بنیاد پر اپنے طیاروں کو اپ ڈیٹ کر رہی ہے۔

یہ حکم اس واقعے کے بعد آیا ہے جس میں 30 اکتوبر کو جیٹ بلو کی پرواز 1230 دورانِ پرواز قابو سے باہر ہو گئی تھی اور 15 مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بعد کی تحقیقات میں ای ایل اے سی کنٹرول سسٹم میں خرابی سامنے آئی، جس پر ای اے ایس اے نے عالمی ہدایات جاری کیں اور اب ہندوستان میں اس پر سختی سے عمل ہو رہا ہے۔ ڈی جی سی اے کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد پروازوں کی حتمی حفاظت کو یقینی بنانا اور آئندہ کسی بھی تکنیکی خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wGESo6t

بدھ، 26 نومبر، 2025

چاند سے ’شہاب ثاقب‘ کی زوردار ٹکر کا اندیشہ، آئندہ سال فروری میں معلوم ہوگی اصل پوزیشن

اسٹیرائیڈ (شہاب ثاقب) کے متعلق ایک نئی خبر آ رہی ہے جو تھوڑی فکر انگیز ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس اسٹیرائیڈ کا نام ’اسٹیرائیڈ 2024 وائی آر 4‘، جو 2032 میں چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔ ابھی ٹکرانے کا امکان صرف 4 فیصد ہے، لیکن فروری 2026 میں دنیا کی سب سے طاقتور دوربین ’جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ‘ اسے کچھ روز دیکھ پائے گی۔ اس نئی معلومات کے بعد چاند سے ٹکرانے کا امکان اچانک 30 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

2024 کے اخیر میں اس اسٹیرائیڈ کو پہلی بار دیکھا گیا تھا۔ شروع میں ایسا لگا کہ یہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس وقت یہ سب سے خطرناک اسٹیرائیڈ تھا، 3 فیصد سے زیادہ امکان زمین سے ٹکرانے کا (یعنی 32 میں سے ایک بار) تھا۔ لیکن بعد میں مزید تصویر لی گئی تو معلوم ہوا کہ زمین سے ٹکرانے کا خطرہ تقریباً ختم ہو گیا۔ لیکن اب نیا خطرہ سامنے آیا ہے کہ یہ چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔

اسٹیرائیڈ کا سائز تقریباً 100-50 میٹر ہے (تقریباً ایک فٹبال میدان کے برابر)۔ اگر یہ تیز رفتاری کے ساتھ چاند سے ٹکرائے گا تو چاند پر بہت بڑا کھڈا بن جائے گا۔ اس کے ٹکرانے سے لاکھوں کروڑوں چھوٹے چھوٹے پتھر اڑیں گے۔ یہ پتھر زمین کے چاروں طرف چکر لگا رہے ہزاروں سیٹ لائٹس (انٹرنیٹ، جی پی ایس) سے ٹکرا سکتے ہیں۔ ایک بھی سیٹ لائٹ خراب ہوا تو پوری دنیا میں انٹرنیٹ، فون اور نیویگیشن بند ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ صرف فروری ماہ میں کچھ دن ہی ’جیمس ویب دوربین‘ اسے اچھے سے دیکھ پائے گی۔ اس کے بعد یہ سورج کے بہت قریب چلا جائے گا اور کئی سال تک دکھائی نہیں دے گا۔ اگر فروری میں پتہ چل جائے گا کہ ٹکرانے کا امکان صرف 30 فیصد یا اس سے زیادہ ہے تو سائنسدانوں کے پاس صرف 7-6 سال رہ جائیں گے کچھ کرنے کے لیے۔ ویسے تو ناسا پہلے ہی ’ڈی اے آر ٹی‘ مشن میں ایک شہاب ثاقب کا راستہ بدل چکا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو 29-2028 میں ایک چھوٹا سا خلائی جہاز بھیج کر 2024 وائی آر 4 کو تھوڑا سا دھکا دیا جا سکتا ہے، بس اتنا کہ وہ چاند سے نہ ٹکرا سکے۔ لیکن اس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/unQ96xf

پیر، 17 نومبر، 2025

حقیقی رشتے میں ملا دھوکہ تو خاتون نے’ چیٹ جی پی ٹی ‘ بوائے فرینڈ سے کرلی شادی، جاپان میں انوکھا واقعہ

 جاپان میں ایک انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 32 سالہ خاتون نے چیٹ جی پی ٹی پر بنائے گئے ورچوئل بوائے فرینڈ سے شادی کرلی ہے۔ اس کے لیے خاتون نے باقاعدہ شادی کی تقریب منعقد کی جس میں اس کے والدین بھی شامل ہوئے۔ سوشل میڈیا پراس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا جب کہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اس دور میں ایسا ہونا عام ہے۔ وہیں خاتون کا کہنا ہے کہ وہ یہ شادی کرکے خوش ہے۔

خبر کے مطابق 32 سالہ خاتون کینوکافی وقت تک رلیشن شپ میں رہی لیکن اس کا دل ٹوٹ گیا۔ اس سے وہ تنہائی محسوس محسوس کرنے لگی تھی اور جذباتی مدد کے لیے اس نے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال شروع کر دیا۔ اس نے کلاؤس نامی ایک ورچوئل کردار تیار کیا اور آہستہ آہستہ اس کے ساتھ بات چیت کرنے میں اسے لطف آنے لگا۔ چند ماہ بعد کینو نے کلاؤس کو بتایا کہ وہ اس سے پیار کرنے لگی ہے اور شادی کرنا چاہتی ہے۔ کینو کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں بعد کلاؤس نے اسے پرپوز کردیا اور اس نے شادی کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔

کینو کی اس کی ورچول بوائے فرینڈ سے شادی اوکایاما سٹی میں ہوئی۔ اس کے لئے کینو نے ایک مقامی کمپنی کی مدد لی جو افسانوی کرداروں والے لوگوں کی شادی کرواتی ہے۔ شادی کے لیے کینو باقاعدہ سفید لباس میں ملبوس ہوئی اور آگمینٹیڈ ریلٹی گلاسیز کا استعمال کیا تاکہ وہ اپنے بوائے فرینڈ کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھ سکے۔ اس شادی میں کینو کے والدین بھی شامل ہوئے۔

کینو اس بات سے واقف ہے کہ ورچوئل بوائے فرینڈ کے ساتھ اس کا رشتہ نازک ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اے آئی کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی صحت کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ اس شادی سے انہیں بچے نہیں ہوسکتے۔ کینو کا خیال ہے کہ وہ اس سے خوش ہیں کیونکہ اے آئی پارٹنر کے ساتھ رہنا آسان ہوجاتا ہے اور آپ پر کوئی دباؤ نہیں رہتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JUgpoBX

اتوار، 16 نومبر، 2025

آسٹریلیا میں 40 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عائد ہوگی پابندی

آسٹریلیا دنیا کا پہلا ایسا ملک بننے جا رہا ہے جہاں اب 16 سال سے کم عمر کے بچے سوشل میڈیا نہیں چلا سکیں گے۔ ملک میں اب ان بچوں پر عمر کی پابندیوں کے سبب انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک سمیت کئی سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جون 2021 کے آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ ویلفیئر (اے آئی ایچ ڈبلیو) کے اعداد و شمار کے مطابق، آسٹریلیا میں تقریبا 4.04 ملین لوگ 16 سال سے کم عمر کے تھے۔ یہ تعداد مجموعی آبادی کا تقریباً 16 فیصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً 40 لاکھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

واضح رہے کہ تقریباً 40 لاکھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر آئندہ ماہ 10 دسمبر کو پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اسی کے ساتھ آسٹریلیا دنیا کا پہلا ایسا ملک بن جائے گا، جہاں نوعمروں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائےگی۔ ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور میٹا کے فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈس 16 سال سے کم عمر کے لوگ استعمال نہیں کر پائیں گے۔ اس پابندی کو نافذ کرنے کے لیے تیاریاں تیز ہو رہی ہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز آنے والے دنوں میں آسٹریلیائی نوعمروں کو ایک ملین سے زائد کھاتوں کے ذریعہ پیغام بھیجیں گے، جس میں انہیں اختیار دیا جائے گا کہ ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کریں، پروفائل فریز کریں، یا سبھی کو کھو دیں۔ اس پابندی کے بعد آسٹریلیا کے 20 ملین لوگ ہی سوشل میڈیا پر رہ جائیں گے۔ جو آبادی کا تقریباً چوتھا یا پانچواں حصہ ہے۔

وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ یہ پابندی اس لیے عائد کی گئی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا بچوں کی ذہنی صحت یا نشونما کو نقصان نہ پہنچائے۔ آن لائن سیفٹی ترمیم (سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کم از کم عمر) بل 2024 کے تحت، نابالغوں کو فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، ایکس (سابق میں ٹویٹر)، ریڈٹ، تھریڈس اور کِک سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بنانے یا بنائے رکھنے سے منع کیا جائے گا۔ 10 دسمبر 2025 کو یہ نافذ ہوگا۔

ٹک ٹاک کے مطابق 15-13 سال کے تقریباً 2 لاکھ آسٹریلوی صارفین ہیں، نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ وہ مشتبہ نابالغ صارفین کی رپورٹ کرنے کے لیے ایک بٹن ڈیزائن کر رہی ہے۔ ساتھ ہی بقیہ ایپ بھی عمر کا پتہ لگانے کے لیے کئی چیزیں ڈیزائن کر رہی ہیں۔ کچھ ایپس سیلفی کی بنیاد پر عمر کا اندازہ لگائیں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Sysp1M4

جمعہ، 14 نومبر، 2025

غیر فعال صارفین کا ڈیٹا 3 برس بعد حذف کرنا لازمی، ای کامرس و سوشل میڈیا کے لیے سخت رہنما ہدایات جاری

نئی دہلی: حکومتِ ہند نے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) ایکٹ کے قواعد و ضوابط کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے، جس کے بعد ای کامرس کمپنیوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن گیمنگ اداروں کے لیے نئی اور سخت رہنما ہدایات عمل میں آ گئی ہیں۔ نئے ضوابط کے مطابق، ایسے تمام صارفین کا ڈیٹا لازمی طور پر حذف کرنا ہوگا جنہوں نے گزشتہ تین برس کے دوران اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن نہ کیا ہو یا متعلقہ سروس کا استعمال بند کر دیا ہو۔

یہ قانون ہندوستان میں پہلا جامع ڈیجیٹل پرائیویسی قانون ہے، جو براہِ راست اُن کمپنیوں پر ذمہ داریاں عائد کرتا ہے جو لاکھوں کروڑوں صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع کرتی اور اسے استعمال میں لاتی ہیں۔ خاص طور پر وہ پلیٹ فارمز جن کے دو کروڑ سے زیادہ رجسٹرڈ صارفین ہیں، جیسے بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں اور اہم ای کامرس ویب سائٹس، ان کیلئے یہ تقاضے زیادہ سخت ہوں گے۔ اسی طرح 50 لاکھ سے زائد صارفین رکھنے والی آن لائن گیمنگ کمپنیوں کو بھی انہی ہدایات کی پابندی کرنا ہوگی۔

نئی گائیڈ لائن کے تحت، کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے ’غیر فعال‘ صارفین کو ڈیٹا حذف کرنے سے قبل 48 گھنٹے کا نوٹس دے۔ اس نوٹس میں انہیں مطلع کیا جائے گا کہ اگر وہ متعینہ وقت کے اندر سروس استعمال نہیں کرتے تو ان کا جمع شدہ ڈیٹا ہمیشہ کے لیے حذف کر دیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد صارفین کی پرائیویسی کا تحفظ اور اُن کے ذاتی ڈیٹا کے غیر ضروری ذخیرے کو روکنا ہے۔

ڈی پی ڈی پی ایکٹ میں بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کیلئے ’’ڈیٹا فِڈیو شری‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ ایسے اداروں کے لیے سالانہ آڈٹ، ڈیٹا پروٹیکشن امپیکٹ اسیسمنٹ، اور تکنیکی نظام کی باقاعدہ جانچ لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی کمپنی اپنے الگورتھم، ڈیٹا پروسیسنگ سسٹمز یا تکنیکی عمل کے ذریعے صارفین کے حقوق کو نقصان نہ پہنچائے۔

اس کے علاوہ، نئے قانون کے تحت ہر کمپنی کو یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ صارفین کو تفصیل سے بتائے کہ کون سا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے، کس مقصد کیلئے لیا جا رہا ہے اور اسے کہاں استعمال کیا جائے گا۔ شفافیت کو قانون کا مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے تاکہ صارفین اپنے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کے بارے میں مکمل آگاہی رکھ سکیں۔

ڈی پی ڈی پی ایکٹ سرحد پار ڈیٹا ٹرانسفر کی اجازت دیتا ہے، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایسی منتقلی صرف ان ممالک یا اداروں کو کی جا سکتی ہے جو طے شدہ اصولوں اور مستقبل میں جاری ہونے والی حکومتی ہدایات پر پورا اتریں۔ خاص طور پر اُن ممالک یا غیر ملکی اداروں کیلئے سختی ہوگی جو کسی ریاست یا حکومت کے براہِ راست کنٹرول میں ہوں۔ اس پابندی کا مقصد حساس ڈیٹا کی غلط استعمال سے حفاظت کرنا ہے۔

قانون کے نافذ ہونے کے بعد ہندوستان میں ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ کا ایک منظم فریم ورک قائم ہو گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایک ایسے ماحول کی تشکیل کریں گے جہاں شہری آن لائن سرگرمیوں کے دوران اپنے ڈیٹا کے محفوظ ہونے پر زیادہ اعتماد کر سکیں گے، جبکہ کمپنیوں کو بھی صارفین کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے ذمہ دارانہ ڈیجیٹل نظام اختیار کرنا ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QTGVWcI

اتوار، 9 نومبر، 2025

دیر تک فوٹو دبانے سے بن جائے گی ویڈیو، ایلون مسک کا ہندوستانیوں کے لیے بڑا اعلان

 موجودہ وقت میں فوٹو سے ویڈیو بنانا سب سے آسان کام ہو گیا ہے۔ صرف ایک بار دیر تک دبانے سے اس کا پورا عمل مکمل ہو جائے گا۔ یہ معلومات اتوار کے روز دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے خود پوسٹ کر کے شیئر کی ہے اور انہوں نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے، جو مختصر وقت میں تیزی سے وائرل ہو گئی۔

ایلون مسک نے’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ فوٹو کو دیر تک دبائیں، اس کے بعد اس کو ویڈیو میں تبدیل کریں، پھر پرامپٹ کو اپنی پسند کے مطابق بنائیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اپنا پرامپٹ تھا کہ ایک جوڑے کو میپٹس میں کنورٹ (تبدیل) کردیں۔

اس پوسٹ میں ایک مختصر ویڈیو کلپ بھی شامل ہے، جس کو’جی آراو کے‘ کا استعمال کرکے بنایا گیا ہے۔ یہ ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کمپنی (اے آئی) کمپنی ’xAI‘ کا پروڈکٹ ہے۔ ویڈیو کو فوٹو کا استعمال کرکے تیار کیا گیا ہے اور ان میں انیمیشن کو بھی شامل کیا ہے۔ ایلون مسک کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو تیزی سے وائرل ہوگئی۔ اس کے بعد صارفین ’امیج ٹو ویڈیو جنریشن ٹولس‘ استعمال کرکے اپنی تصوایر بنانے لگے۔ یہ فیچر’جی آراو کے‘ کے ایکسپینڈنگ کریٹیو ٹول کٹ کا حصہ ہے جس کے تحت کئی نئے فیچرس کو شامل کیا ہے۔اس میں رائٹنگ، امیج جنریشن اور ریئل ٹائم ڈیٹا تک رسائی موجود ہے۔

ایلون مسک کی کمپنی’xAI‘ نے حال ہی میں جی آراو کے 4 کو دنیا بھر کے صارفین کے لئے مفت میں اعلان کیا ہے۔ اس اے آئی چیٹ بوٹ کو ایکس پلیٹ فارم اور ایک علیحدہ ایپ کے ذریعے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو آئی او ایس اور انڈرائیڈ دونوں پر دستیاب ہے۔ اسے صرف ہندوستان میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/sWJkv2X