جمعرات، 17 اگست، 2023

چندریان-3 سے متعلق بڑی خوشخبری آئی سامنے، آخری مرحلہ میں کامیابی کے ساتھ الگ ہوا لینڈر

چندریان-3 نے اب تک مشن چاند کو لے کر انتہائی کامیاب سفر کیا ہے اور تازہ ترین خبر یہ سامنے آئی ہے کہ چاند پر اس کی لینڈنگ سے ٹھیک پہلے ایک بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق جمعرات کی دوپہر 1.08 بجے چندریان-3 کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ عمل لینڈنگ سے پہلے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں چندریان-3 کے پروپلشن اور لینڈر ماڈیول کو علیحدہ کیا گیا ہے۔ اب وکرم لینڈر چاند کے 100 کلومیٹر احاطہ میں گردش کرے گا اور دھیرے دھیرے لینڈنگ کی طرف بڑھے گا۔

اِسرو نے جو آفیشیل بیان جاری کیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ لینڈر اور پروپلشن کامیابی کے ساتھ الگ ہو گئے ہیں۔ اب جمعہ کی شام 4 بجے لینڈر ماڈیول کو نچلے مدار میں ڈی بوسٹ کیا جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب چاند کے پاس ہندوستان کے 3 پروپلشن ماڈیول ہیں۔ یعنی ہندوستان چاند پر قدم رکھنے کے بالکل قریب ہے۔

واضح رہے کہ اگر چندریان-3 کی چاند پر کامیابی کے ساتھ لینڈنگ ہوتی ہے (جس کے پورے امکانات ہیں) تو ہندوستان چاند پر پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہوگا۔ خاص بات یہ ہے کہ چندریان-3 چاند کے جنوبی قطب میں لینڈ ہوگا، جہاں ابھی تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے۔

بہرحال، پروپلشن اور وکرم لینڈر کے علیحدہ ہونے کے بعد اب ایک ہفتے تک ہر کسی کی سانسیں تھمی ہوں گی۔ چندریان-3 کی لینڈنگ 23 اگست کو ہونی ہے، لیکن اس سے پہلے آج کا دن بہت اہم ہے۔ اِسرو کے مطابق جمعرات کو چندریان-3 کے پروپلشن اور لینڈر الگ ہو گئے ہیں، ایسی حالت میں دونوں چاند کے مدار کے 100x100 کلومیٹر رینج میں ہوں گے۔ دونوں کو کچھ دوری پر رکھا جائے گا تاکہ ان میں ٹکر نہ ہو پائے۔ الگ ہونے کے بعد لینڈر اب بیضوی دائرے میں گھومے گا اور اپنی رفتار کو دھیمی کرتا جائے گا۔ دھیرے دھیرے یہ چاند کی طرف بڑھے گا۔ اب 18 اگست کافی اہم دن ہے جب لینڈر کی رفتار دھیمی کی جائے گی اور اس کے بعد ہی لینڈر کو چاند کی طرف بھیجا جائے گا۔ بعد ازاں سافٹ لینڈنگ کا عمل شروع ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MGhlB2V

منگل، 15 اگست، 2023

چندریان 3 سافٹ لینڈنگ سے صرف ایک مدار کی دوری پر، لینڈر اور کیریئر یہاں سے ہوں گے علیحدہ

ہندوستان کا پروقار مشن چندریان-3 چاند کی طرف اپنے آخری مدار میں پہنچ گیا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے چندریان کے سفر میں اہم لیکن فیصلہ کن تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ اسرو کے مطابق اس مدار میں پہنچنے کے بعد وہ لینڈر کو الگ کرنے کا عمل شروع کریں گے۔

ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ آج انجن کو کامیابی سے آن کرنے کے بعد اس نے چاند کی طرف جانے والا مدار مکمل کر لیا ہے۔ اب اس کا فاصلہ 153 کلومیٹر رہ گیا ہے۔ یہاں سے لینڈر کو الگ کیا جائے گا اور 17 اگست سے ایک اور چکر مکمل کرنے کے بعد اس مشن کا کیریئر اپنا الگ سفر شروع کرے گا۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو لینڈر اپنے شیڈول کے مطابق 23 اگست کو چاند پر سافٹ لینڈنگ کرے گا۔

مرکزی سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر جتیندر پرساد نے کہا ہے کہ ہم چاند کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ اسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو آنے والے دنوں میں ان کا لینڈر چاند پر ہوگا۔ اس کامیابی سے چاند کے سفر کے لیے مزید دروازے کھل جائیں گے۔

اگر یہ مشن کامیابی سے مکمل ہوجاتا ہے تو ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ یہی نہیں، ہندوستان دنیا کا پہلا ملک ہوگا جس نے بغیر کسی بھاری راکٹ کے اس مشن کو پورا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور کارنامہ بھارت کے کھاتے میں آئے گا جس کے مطابق بھارت سب سے کم لاگت پر اس مشن کو انجام دینے والا ملک ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GaJqXpg

پیر، 14 اگست، 2023

سورج کا معمہ حل کرنے کی طرف اِسرو بڑھا رہا قدم، مشن سورج یعنی 'آدتیہ ایل 1' کی لانچنگ کے دن قریب

ایک طرف اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) چندریان-3 کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کو لے کر پُرجوش ہے، اور دوسری طرف اس نے سورج کا معمہ حل کرنے کے لیے بھی قدم بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ اِسرو نے مشن سورج کی تیاریاں شروع کر دی ہے اور اس کے تحت 'آدتیہ ایل 1' کی لانچنگ کی الٹی گنتی شروع بھی ہو گئی ہے۔ اِسرو نے جانکاری دی ہے کہ 'آدتیہ ایل 1' آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا اسپیس پورٹ پہنچ چکا ہے۔ اس مشن کی لانچنگ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 'آدتیہ ایل 1' کو اِسرو کے یو آر راؤ سیٹلائٹ سنٹر میں بنایا گیا ہے، جہاں سے اب آدتیہ ایل 1 سیٹلائٹ لانچنگ کے لیے شری ہری کوٹا پہنچ چکا ہے۔ یہ سورج کی تحقیق کے لیے بھیجا جانے والا اِسرو کا پہلا مشن ہے۔ آدتیہ ایل 1 کو سورج-زمین سسٹم کے لینگویج پوائنٹ کے قریب ہالو آربٹ میں نصب کیا جائے گا۔ یہ زمین سے پندرہ لاکھ کلومیٹر دور واقع ہے۔ اِسرو نے بتایا کہ ایل 1 پوائنٹ کے نزدیک ہالو آربٹ (مدار) میں سیٹلائٹ کو نصب کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں سے لگاتار سورج پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور یہاں سورج گہن کا بھی اثر نہیں ہوتا۔ اس سے سورج کی سرگرمیوں اور اس کے خلائی موسم پر پڑنے والے اثرات کا تجزیہ کرنے میں بہت فائدہ ہوگا۔

بہرحال، اِسرو کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق آدتیہ ایل 1 کے ساتھ 7 پیلوڈ بھی خلاء میں بھیجے جائیں گے۔ یہ پیلوڈ سورج کی فوٹوسفیئر، کروموسفیئر اور سب سے باہری سطح کا مطالعہ الیکٹرو میگنیٹک اور پارٹیکل اور میگنیٹک فیلڈ ڈٹیکٹرس کی مدد سے کریں گے۔ ان میں سے 4 پیلوڈ لگاتار سورج پر نظر رکھیں گے اور باقی 3 یلوڈ حالات کے حساب سے پارٹیکل اور میگنیٹک فیلڈ کا مطالعہ کریں گے۔ اِسرو نے بتایا کہ آدتیہ ایل 1 کے پیلوڈ سورج کی کورونل ہیٹنگ، کورونل ماس انجکشن، پری فلیئر اور فلیئر سرگرمیوں کے بارے میں اور سورج میں ہونے والی سرگرمیوں کے خلاء کے موسم پر پڑنے والے اثر کے بارے میں اہم جانکاری دیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8TUkMvr

اتوار، 13 اگست، 2023

چین نے دنیا کا پہلا ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچر ریڈار سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا

بیجنگ: چین نے لانگ مارچ-3 بی راکٹ کے ذریعے آفات کی نگرانی کے لیے دنیا کا پہلااے-ایس اے آر 401، ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچر رڈار سیٹلائٹ خلا میں چھوڑا ہے۔

چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) نے اتوار کے روز بتایا کہ ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1:26 پر سیٹلائٹ کو سیچوان صوبے کے زیچانگ اسپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا۔ سیٹلائٹ لانچ کے فوراً بعد کامیابی کے ساتھ مقررہ مدار میں داخل ہو گیا۔

سی این ایس اے نے بتایا کہ یہ دنیا کا پہلا ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچررڈار (ایس اے آر) سیٹلائٹ ہے جو پروجیکٹ کے نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیٹلائٹ چین کی قدرتی آفات کی خلائی نگرانی کو بہتر بنائے گا اور اس کی آفات سے بچاؤ اور تخفیف کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ لانچ لانگ مارچ راکٹ فیملی کا 483 واں مشن تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HehpKr3

جمعہ، 11 اگست، 2023

روس نے تقریباً نصف صدی بعد اپنا پہلا چاند مشن روانہ کر دیا

روس کی سرکاری خلائی ایجنسی کا یہ مشن چاند کے قطب جنوبی پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا پہلا مشن ہے۔ اس مشن کا مقصد چاند کے قطب جنوبی کے قریب منجمد پانی کی تلاش ہے۔

روس کی خلائی ایجنسی روس کاسموس نے بتایا کہ لونا۔25 خلائی جہاز کو سویوز راکٹ کے ذریعہ ووستوچنی خلائی اڈے سے جمعے کے روز لانچ کیا گیا۔ راکٹ کو چاند تک پہنچنے میں پانچ دن لگیں گے۔ اس کے بعد جہاز تین ممکنہ لینڈنگ سائٹس میں سے کسی ایک پر اترنے سے قبل چاند کے مدار میں مزید سات دن گزارے گا۔

چاند پر منجمد پانی کی تلاش

لونا 25 مشن کا مقصد چاند کے قطب جنوبی پر سافٹ لینڈنگ کرنے میں دیگر ملکوں پر سبقت حاصل کرنا ہے۔ اب تک روس کے علاوہ امریکی، چینی، بھارتی، جاپانی اور اسرائیلی مشن اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ لونا 25 مشن چاند کی مٹی (ریگیولتھ) میں 15سینٹی میٹر تک کی گہرائی سے پتھر کے نمونے لے کر منجمد پانی کی تلاش کرے گا۔ یہ خلائی جہاز ایک وسیع تر زاویے والا توانائی اور کمیت کی جانچ کرنے والا ڈسٹ مانیٹر بھی لے کر گیا ہے، جو چاند کے خارجی کرّہ میں آئن پیرامیٹرز کی پیمائش فراہم کرے گا۔

لونا۔25 سائنسی آلات کے پلاننگ گروپ کے سربراہ میکسم لیٹواک کا کہنا تھا، "سائنسی نقطہ نظر سے سب سے اہم کام، سادہ الفاظ میں، وہاں لینڈنگ ہے، جہاں کوئی اور نہ اترا ہو۔ " انہوں نے مزید کہا کہ لونا۔25 کے لینڈنگ ایریا کی مٹی میں برف کی علامات ہیں اور اسے مدار سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

'مقصد سیاسی مسابقت ہے'

روسی اور غیر ملکی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشن کا ایک اہم جغرافیائی سیاسی کردار بھی ہے۔ ایک معروف روسی خلائی تجزیہ کار وٹالی ایگوروف نے کہا کہ "چاند کا مطالعہ اس مشن کا مقصد نہیں ہے۔" انہوں نے کہا کہ "مقصد دو سپر پاورز، چین اور امریکہ، اور بہت سے ان دوسرے ممالک کے درمیان سیاسی مسابقت ہے، جو خلائی سپر پاور کا اعزاز بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

امریکہ کی فورڈہم یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر آصف صدیقی نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ روس اتنی دہائیوں کے بعد چاند پر اترنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا،" آخری مرتبہ یہ 1976میں ہوئی تھی اس لیے اس پر بہت زیادہ دباو تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "چاند کے متعلق روس کی خواہش بہت سے مختلف چیزوں سے مل جاتی ہیں۔ میرے خیال میں سب سے پہلے یہ عالمی سطح پر قومی طاقت کا اظہار ہے۔"

لونا۔25 کی لانچنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب ایک اور خلائی جہازبھارت کا چندریان۔3 پہلے ہی چاند پر پہنچنے کی طرف گامزن ہے۔ دونوں ممالک 25 اگست کے آس پاس چاند کے جنوبی قطب پر پہنچنے والے پہلے ملک بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

روس کے خلائی عزائم کی تجدید

سوویت یونین 1959میں چاند پر اترنے والا پہلا ملک تھا۔ لیکن خلائی دوڑ بالآخر مریخ اور دوسرے مشنز تک محدود ہوکر رہ گئی۔ سن 1991میں سوویت یونین کے سقوط کے بعد روس زمین کے مدار سے باہر تحقیقاتی خلائی جہازوں کو بھیجنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن ماسکو نے مغربی پابندیوں کے باوجود خلاء کی تلاش جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور اس نے یورپی خلائی ایجنسی کے آلات کو روسی ساختہ آلات سے تبدیل کردیا ہے۔

ایگوروف کہتے ہیں کہ "غیر ملکی الیکٹرانکس ہلکے ہیں جب کہ گھریلو الیکٹرانکس زیادہ بھاری ہیں۔ اور گرچہ سائنس دانوں کے پاس چاند کے پانی کا مطالعہ کرنے کا کام ہوسکتا ہے لیکن روس کاسموس کا بنیادی کام صرف چاند پر اترنا ہے تاکہ ماسکو کھوئی ہوئی سویت مہارت کو بحال کرسکے اور نئے دور میں اس کام کو انجام دینے کا طریقہ سیکھ سکے۔" لونا۔25 ایک وسیع روسی پروگرام کا حصہ ہے، جس میں سن 2040 تک چاند پر خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا تصور شامل ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے گزشتہ سال ووستو چنی خلائی اڈے میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا،" کسی بھی طرح کی مشکلات کے باوجود اور ہمیں آگے بڑھنے سے روکنے کی بیرونی کوششوں کے باوجود، ہم آگے بڑھنے کے لیے اپنے آبا ؤ اجداد کے عزائم سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔"



from Qaumi Awaz https://ift.tt/v5cFWqC

بدھ، 9 اگست، 2023

ایٹمی دھماکوں کے اثرات

دوسری جنگ عظیم (1939-45) کے دوران 6 اگست 1945 کو ایک امریکی بمبار طیارہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا تھا۔ دھماکے سے ایک اندازے کے مطابق 80000 افراد فوری طور پر ہلاک ہوئے۔ مزید دسیوں ہزار بعد میں تابکاری کا شکار ہوئے۔ تین دن بعد 9 اگست کو دوسرے بمبار نے ناگاساکی پر ایک اور ایٹمی بم گرایا، جس سے ایک اندازے کے مطابق 40000 افراد ہلاک ہوئے۔ نتیجتاً جاپان کے شہنشاہ ہیروہیتو نے 15 اگست کو ایک ریڈیو خطاب میں ’ایک نئے اور انتہائی ظالمانہ بم‘ کی تباہ کن طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے دوسری جنگ عظیم میں اپنے ملک کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ اس تباہ کن جنگ کے خاتمے کو 78 سال ہو گئے ہیں۔

امریکی ایٹمی پروگرام: مین ہٹن پروجیکٹ

دوسری جنگ عظیم شروع ہونے سے پہلے، 1939 میں امریکی سائنسدانوں کا ایک گروپ ، جن میں یورپ میں فاشسٹ حکومتوں کے پناہ گزین بھی شامل تھے ، نازی جرمنی میں جوہری ہتھیاروں کی تحقیق کے بارے میں فکر مند ہو گئےتھے۔ 1940 میں، امریکی حکومت نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو شروع کیا، جو دوسری جنگ عظیم میں امریکی داخلے کے بعد سائنسی تحقیق اور ترقی کے دفتر اور جنگی محکمے کی مشترکہ ذمہ داری کے تحت آیا۔ یو ایس آرمی کور آف انجینئرز کو ٹاپ سیکرٹ پروگرام کے لیے ضروری سہولیات کی تعمیر کا کام سونپا گیا تھا، جس کا کوڈ نام ’دی مین ہٹن پروجیکٹ‘تھا۔

اگلے کئی سالوں میں سائنسدانوں نے نیوکلیئر فِشن کے لیے کلیدی مواد یعنی یورینیم اور پلوٹونیم تیار کرنے پر کام کیا۔ انہوں نے انہیں لاس الاموس، نیو میکسیکو بھیجا، جہاں جے رابرٹ اوپین ہائیمر کی قیادت میں ایک ٹیم نے ان مواد کو قابل عمل ایٹم بم میں تبدیل کرنے کے لیے کام کیا۔ 16 جولائی 1945 کی صبح ، مین ہٹن پروجیکٹ نے نیو میکسیکو کے الموگورڈو میں واقع تثلیث ٹیسٹ سائٹ پر ایک ایٹمی ڈیوائس — ایک پلوٹونیم بم — کا پہلا کامیاب تجربہ کیا۔

جاپانیوں کو ہتھیار ڈالنے کی دھمکی

اس ایٹمی تجربہ کے وقت تک اتحادی طاقتیں جرمنی کو یورپ میں شکست دے چکی تھیں۔ تاہم، جاپان نے بحرالکاہل میں تلخ انجام تک لڑنے کا عزم ظاہر کیا، واضح اشارے کے باوجود (1944 کے اوائل میں) کہ ان کے جیتنے کے امکانات بہت کم تھے۔ اپریل 1945 کے وسط (جب صدر ہیری ٹرومین نے عہدہ سنبھالا) اور جولائی کے وسط کے درمیان ،جاپانی افواج کے ذریعے اتحادی افواج کی ہلاکتیں بحرالکاہل میں تین سال تک جاری رہنے والی جنگ کاتقریباً نصف تھیں ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شکست کے امکان نے جاپان کو اور بھی زیادہ مہلک بنا دیاتھا۔ جولائی کے آخر میں، جاپان نے پوٹسڈیم اعلامیہ میں پیش کردہ ہتھیار ڈالنے کے اتحادیوں کے مطالبے کو مسترد کر دیا، اعلامیہ میں دھمکی دی گئی تھی کہ انکار کی صورت میں اتحادی جاپان کو مکمل تباہ کر دیں گے۔

اس صورتحال میں جنرل ڈگلس میک آرتھر اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے جاپان پر روایتی بمباری کو جاری رکھنے کی حمایت اور ایک بڑے حملے کی پیروی کی، جسے ’آپریشن ڈاؤن فال‘ کا نام دیا گیا تھا۔ انہوں نے امریکی صدرکو مشورہ دیا کہ اس طرح کے حملے کے نتیجے میں دس لاکھ تک امریکی ہلاکتیں ہوں گی۔ ہنری اسٹمسن، جنرل ڈوائٹ آئزن ہاور اور مین ہٹن پروجیکٹ کے متعدد سائنسدانوں کے اخلاقی تحفظات کے باوجود، اتنی زیادہ ہلاکتوں سے بچنے کے لیے، ٹرومین نے ایٹم بم کے استعمال کا فیصلہ اس امید میں کیا کہ اس طرح جنگ کافوری اختتام ہوجائےگا-بم کے حامیوں جیسے ٹرومین کے وزیر خارجہ جیمز بائرنس کا خیال تھا کہ ایٹمی بم کی تباہ کن طاقت نہ صرف جنگ کا خاتمہ کرے گی بلکہ دنیا میں امریکہ کو ایک غالب پوزیشن فراہم کرے گی۔

’لٹل بوائے‘ اور ’فیٹ مین‘

ٹوکیو سے تقریباً 500 میل کے فاصلے پر واقع تقریباً 350,000 لوگوں کا مینوفیکچرنگ مرکز ہیروشیما کو پہلے ہدف کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ بحرالکاہل کے جزیرے ٹنیان پر امریکی اڈے پر ، 9000 پاؤنڈ سے زیادہ کا یورینیم-235 بم ایک ترمیم شدہ B-29 بمبار پر لادا گیا۔ طیارے نے صبح 8:15 پر پیراشوٹ کے ذریعے بم’لٹل بوائے‘کوگرایا جو ہیروشیما سے 2000 فٹ اوپر12-15000 ٹن TNT کے برابر دھماکے میں پھٹ گیا۔ اس دھماکہ سے شہر کا پانچ مربع میل تباہ ہو گیا۔

ہیروشیما کی تباہی فوری طور پر جاپانی ہتھیار ڈالنے میں ناکام رہی۔ 9 اگست کو ایک اور B-29 بمبار کو ٹنیان سے اڑایا گیا۔ اس کا بنیادی ہدف، کوکورا شہرتھا لیکن گھنے بادلوں نے بمبار کو ثانوی ہدف ناگاساکی پہنچا دیا جہاں صبح 11:02 پر پلوٹونیم بم ’فیٹ مین‘ گرایا گیا۔ ہیروشیما میں استعمال ہونے والے بم سے زیادہ طاقتور، اس بم کا وزن تقریباً 10,000 پاؤنڈ تھا اور اسے 22 کلوٹن کے دھماکہ کے لیے بنایا گیا تھا۔ ناگاساکی ٹپوگرافی، جو پہاڑوں کے درمیان تنگ وادیوں میں واقع تھی، نے بم کے اثر کو کم کر دیا، جس سے تباہی 2.6 مربع میل تک محدود ہو گئی۔

بمباری کے بعد کا نتیجہ

جاپانی شہنشاہ ہیروہیتو نے 15 اگست 1945 کو ایک ریڈیو خطاب میں اپنے ملک کے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ اس خبر کے بعد’جاپان میں فتح‘ کی تقریبات پورے امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک میں شروع ہو گئیں۔ ہتھیار ڈالنے کے رسمی معاہدے پر 2 ستمبر کو، ٹوکیو بے میں لنگر انداز امریکی جنگی جہاز میسوری پر دستخط کیے گئے۔

ہیروشیما اور ناگاساکی پر بمباری سے دونوں شہروں کا زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا اور ان سے ہونے والی ہلاکتوں کی صحیح تعداد نامعلوم ہے۔ تاہم، اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان دھماکوں اور تابکاری کے طویل مدتی مضر اثرات سے ہیروشیما میں تقریباً 70,000 سے 135,000 افراد اور ناگاساکی میں 60,000 سے 80,000 افراد ہلاک ہوئے۔

علاوہ ازیں ہیروشیما اور ناگاساکی ایٹمی دھماکوں نے سرد جنگ اور دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ جیسے عالمی اثرات کو بھی جنم دیا۔ سرد جنگ ایک ایسی دشمنی تھی جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی دو سپر پاورز یعنی امریکہ اور سوویت یونین کے ساتھ ساتھ ان کے متعلقہ اتحادیوں کو سیاسی، اقتصادی اور جوہری برتری کے لیے لڑتے دیکھا۔

اس وقت دنیا میں 9 ممالک ایسے ہیں جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ وہ ہیں روس، امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ، ہندوستان، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل۔ ان میں سے اسرائیل نے کبھی بھی کسی جوہری تجربہ کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ حالانکہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کو جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر ان کا استعمال آئندہ کسی جنگ میں ہوتا ہےتو انسان و جاندار زندہ نہیں رہ سکیں گے اور پوری دنیا کا صفایا ہو جائے گا۔

ایٹمی ہتھیار سے زیادہ تباہی اور اموات

ایک ایٹمی ہتھیار کسی شہر کو تباہ کر سکتا ہے اور اس کے زیادہ تر لوگوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بم دھماکے اس کی اہم مثالیں ہیں۔ جدید شہروں پر جوہری دھماکوں یادو ممالک کے درمیان ایک بڑی ایٹمی جنگ سے کروڑوں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

عام شہری سب سے بڑا شکار

جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے ہونے والی تباہی صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہ سکتی۔ جوہری حملے سے زیادہ تر ہلاکتیں عام شہریوں کی ہوتی ہیں۔ لوگ جوہری دھماکے اور اس کے نتیجے میں تابکاری سے یا تو مارے جاتے ہیں یا طویل مدتی صحت کے اثرات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ پڑوسی شہروں یا ممالک میں رہنے والے بھی ایٹمی دھماکے کے اثرات سے دوچار ہوں گے۔جوہری ہتھیار عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان فرق نہیں کرسکتے ، دوسرے جوہری دھماکوں پر کنٹرول نہ ہونا انھیں غیر انسانی ہتھیاروں کی ایک بہترین مثال بناتا ہے جسے غیر قانونی قرار دینے کی ضرورت ہے۔

تابکاری بیماری، ماحولیاتی آلودگی اور قحط کا باعث

جوہری ہتھیار آئنائزنگ تابکاری پیدا کرتے ہیں ، جو رابطہ میں آتا ہے یہ ان لوگوںکو مار دیتی ہے یا بیمار کرتی ہے، ماحول کو آلودہ کرتی ہے، اور کینسر اور جینیاتی نقصان سمیت طویل مدتی صحت کے اثرات مرتب کرتی ہے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا بھی ماحول پر اثر پڑتا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کی پیداوار دیرپا تابکار آلودگی کا باعث بنتی ہے۔

دنیا میں ایک فیصد سے بھی کم جوہری ہتھیاروں کا استعمال عالمی آب و ہوا میں خلل ڈال سکتا ہے اور تقریباً دو ارب افراد کو جوہری قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ اور روس کے پاس موجود ہزاروں جوہری ہتھیار ایک جوہری موسم سرما کا باعث بن سکتے ہیں، جو ضروری ماحولیاتی نظام کو تباہ کر سکتے ہیں جن پر تمام زندگی کا انحصار ہے۔

متاثرین کو انسانی امداد فراہم کرنا مشکل

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کوئی مدد فراہم کرنا مشکل ہوگا ۔ معالجین اورامدادی عملہ تابکاری سے آلودہ علاقوں میں کام کرنے سے قاصر ہوں گے۔ جوہری جنگ پہلے سے موجود کسی بھی امدادی نظام کو مغلوب کر دے گی اوربے گھر پناہ گزینوں کا ایسابحران پیدا کرے گی جس کا ہم نے کبھی تجربہ نہیں کیا ہے۔

محدود وسائل جوہری ہتھیاروں پر خرچ

اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہوئے بھی کہ جوہری ہتھیار صحت اور ماحولیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتے ہیں، دنیا کے کئی ممالک عوامی فنڈز کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ترقیاتی و فلاہی پروگراموں کو ترجیح دینے کے بجائے اپنے محدود وسائل جوہری ہتھیاروں پر خرچ کر رہے ہیں اور یوں اہم سماجی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/93mdtSs

منگل، 8 اگست، 2023

چندریان-3 کامیابی کے ساتھ چاند کے مدار میں کر رہا سفر، انجن فیل ہونے پر بھی لینڈر وکرم کی چاند پر ہوگی سافٹ لینڈنگ

چندریان-3 کے چاند کی سطح پر اترنے کے دن جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی عوام کی دھڑکنیں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ اس وقت چندریان-3 کامیابی کے ساتھ چاند کے مدار میں سفر کر رہا ہے، یعنی چاند کے چکر لگا رہا ہے۔ 23 اگست کو یہ چاند کی سطح پر سافٹ لینڈنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن اس کے سامنے کئی طرح کے چیلنجز ہیں جس پر قابو پانے کی سائنسداں پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ اگر سبھی سنسر اور دونوں انجن کام کرنا بند کر دیں، تو بھی چندریان-3 کا لینڈر وکرم 23 اگست کو چاند کی سطح پر سافٹ لینڈنگ میں کامیاب ہوگا۔ یہ جانکاری اِسرو کے چیف ایس. سومناتھ نے منگل کے روز دی ہے۔

غیر منفعت بخش ادارہ دِشا ہندوستان کے ذریعہ منعقد 'چندریان-3: ہندوستان کا فخریہ خلائی مشن' موضوع پر ایک گفتگو کے دوران سومناتھ نے کہا کہ لینڈر وکرم کا پورا ڈیزائن اس طرح سے تیار کیا گیا ہے کہ یہ ناکامیوں کو سنبھالنے میں اہل ہوگا۔ انھوں نے جانکاری دی کہ اگر سب کچھ ناکام ہو جاتا ہے، اگر سبھی سنسر ناکام ہو جاتے ہیں، کچھ بھی کام نہیں کرتا ہے، پھر بھی وکرم لینڈر یقینی طور پر لینڈنگ کرے گا۔ اسے کچھ اسی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے، بشرطیکہ پروپلشن سسٹم اچھی طرح سے کام کرے۔

واضح رہے کہ چندریان-3 خلا میں 14 جولائی کو لانچ ہوا اور یہ 5 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہو گیا۔ اسے چاند کے قریب لانے کے لیے مزید تین ڈی-آربیٹنگ کے عمل سے گزرنا ہوگا تاکہ وکرم لینڈر 23 اگست کو چاند کی سطح پر اتر سکے۔ سومناتھ نےبتایا کہ یہ ڈی-آربیٹنگ 9 اگست، 14 اگست اور 16 اگست کو ہوگی۔ اِسرو چیف کا کہنا ہے کہ جب لینڈر آربیٹر سے الگ ہو جائے گا تو چاند پر محفوظ لینڈ کرنے کے لیے اسے ورٹیکل میں لایا جائے گا۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ اس سے پہلے چندریان-2 مشن کے دوران اِسرو اپنے لینڈر کو چاند کی سطح پر اتارنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ سومناتھ نے بتایا کہ ہوریزونٹل سے ورٹیکل سمت میں منتقل کرنے کی صلاحیت وہ عمل ہے جسے ہمیں ٹھیک رکھنا ہے۔ گزشتہ مرتبہ صرف یہیں مسائل پیدا ہوئے تھے اور مشن ناکام ہو گیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8KBoam0

ہفتہ، 5 اگست، 2023

چندریان-3 چاند کے مدار میں داخل، منزل کی طرف بڑھایا ایک اور قدم

بنگلورو: ملک کا باوقار چندریان مشن مسلسل اپنی منزل کی جانب گامزن ہے اور چندریان-3 کو ہفتے کے روز چاند کے مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل کرا دیا گیا۔ اسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) نے اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعے یہ اطلاع دی ہے۔ ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ’’چندریان-3 کو چاند کے مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل کرا دیا گیا ہے۔ مشن آپریشن کمپلیکس (ایم او ایکس)، آئی اسٹریک (اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک)، بنگلور سے پیری لیون پر ریٹرو برننگ کی کمانڈ دی گئی تھی۔ پیری لیون خلائی جہاز کا چاند سے قریب ترین مقام ہے۔

اسرو نے سیٹلائٹ سے اپنے مراکز کو موصول ہونے والا ایک پیغام بھی شیئر کیا۔ جس میں لکھا تھا ’’ایم او ایکس، آئی اسٹریک، یہ چندریان-3 ہے۔ میں قمری کشش ثقل کو محسوس کر رہا ہوں۔‘‘ 14 جولائی کو لانچ ہونے کے بعد سے تین ہفتوں میں پانچ سے زیادہ تبدیلیوں میں، اسرو چندریان-3 خلائی جہاز کو زمین سے دور کے مدار میں لے جا رہا ہے۔

اسرو نے جمعہ کو بتایا تھا کہ چندریان-3 نے 14 جولائی کو لانچ ہونے کے بعد سے چاند کی دوری کا تقریباً دو تہائی فاصلہ طے کر لیا ہے۔ یکم اگست کو خلائی جہاز کو زمین کے مدار سے چاند کی طرف اٹھانے کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا اور گاڑی کو ’ٹرانس لونر مدار‘ میں داخل کرا دیا گیا۔ اس سے پہلے، اس نے کہا تھا کہ وہ 23 اگست کو چاند کی سطح پر چندریان -3 کی 'سافٹ لینڈنگ' کرنے کی کوشش کرے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/WG5LkwJ

جمعہ، 4 اگست، 2023

چندریان-3 کے لیے کل امتحان کی گھڑی، چاند مشن کا دو تہائی سفر مکمل، لیکن آگے کئی چیلنجز درپیش!

چندریان-3 اپنے مشن پر تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ابھی تک چاند مشن میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوا ہے، لیکن 5 اگست چندریان-3 کے لیے امتحان کی گھڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) نے آج اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ چندریان-3 نے چاند کی طرف بڑھتے ہوئے اپنا دو تہائی سفر مکمل کر لیا ہے۔ وہ چاند کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تقریباً 40 ہزار کلومیٹر کی دوری پر چاند کا کشش ثقل اسے اپنی طرف کھینچے گا۔ چندریان-3 بھی چاند کے مدار کو پکڑنے کی کوشش کرے گا۔ اس لحاظ سے چندریان-3 کے لیے کل (5 اگست) کا دن بے حد اہم ہے۔

اِسرو کے سائنسدانوں نے بھروسہ دلایا ہے کہ وہ چندریان-3 کو چاند کے مدار میں ڈالنے میں کامیاب ہوں گے۔ 5 اگست کی شام تقریباً 7 بجے کے آس پاس چندریان-3 کا لونر آربٹ انجیکشن کرایا جائے گا۔ یعنی چاند کے پہلے مدار میں ڈالا جائے گا۔ پھر 6 اگست کی شب 11 بجے کے آس پاس چندریان کو چاند کے دوسرے مدار میں ڈالا جائے گا۔ 9 اگست کی دوپہر تقریباً 1.45 بجے تیسرے مدار میں مینیووَرِنگ ہوگی۔ 14 اگست کو دوپہر تقریباً 12 بجے چوتھا اور 16 اگست کی صبح ساڑھے آٹھ بجے کے آس پاس پانچواں لونر آربٹ انجیکشن ہوگا۔ 17 اگست کو پروپلشن ماڈیول اور لینڈر ماڈیول ایک دوسرے سے الگ ہوں گے۔ 17 اگست کو ہی چندریان کو چاند کے 100 کلومیٹر اونچائی والے مدار میں ڈالا جائے گا۔ 18 اور 20 اگست کو ڈی-آربٹنگ ہوگی۔ یعنی چاند کے مدار کی دوری کو کم کیا جائے گا۔ بعد ازاں 23 اگست کی شام 5.47 پر چندریان کی لینڈنگ کرائی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ چندریان-3 کے چاروں طرف سیکورٹی شیلڈ لگایا گیا ہے جو خلاء میں روشنی کی رفتار سے چلنے والے سَب-ایٹومک ذرات سے بچاتے ہیں۔ ان ذرات کو ریڈیشن کہتے ہیں۔ ایک ذرہ جب سیٹلائٹ سے ٹکراتا ہے، تب وہ ٹوٹا ہے۔ اس سے نکلنے والے ذرے سیکنڈری ریڈیشن پیدا کرتے ہیں۔ اس سے سیٹلائٹ یا اسپیس کرافٹ کے جسم پر اثر پڑتا ہے۔ یعنی چندریان-3 کے سفر میں کئی طرح کے چھوٹے بڑے چیلنجز بھی سامنے آنے والے ہیں۔ ہمارے سورج سے نکلنے والے چارجڈ پارٹیکلز اسپیس کرافٹ کو خراب یا ختم کر سکتے ہیں۔ تیز جیو میگنیٹک طوفان سے اسپیس کرافٹ کو نقصان پہنچتا ہے، لیکن چندریان-3 کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ اس کے چاروں طرف ایک خاص طرح کا شیلڈ لگا ہے جو اسے بچاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، خلائی دھول، یعنی اسپیس ڈرسٹ، جنھیں کاسمک ڈَسٹ بھی کہتے ہیں، یہ اسپیس کرافٹ سے ٹکرانے کے بعد پلازمہ میں بدل جاتے ہیں۔ ایسا تیز رفتاری اور ٹکر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان کی وجہ سے بھی اسپیس کرافٹ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mATORPt

منگل، 1 اگست، 2023

چندریان-3 اگر 5 اگست کو چاند کے مدار میں داخل نہیں ہو پایا تو 10 دن بعد زمین کے پانچویں مدار میں ہوگی واپسی

چندریان-3 اس وقت چاند کے مدار سے بہت قریب ہے۔ 31 جولائی اور یکم اگست 2023 کی درمیانی شب 12.03 بجے سے 12.23 بجے کے درمیان اسے ٹرانس لونر ٹریجکٹری پر ڈالا گیا۔ اس کے لیے پروپلشن ماڈیول کے انجنوں کو تقریباً 20 منٹ تک آن کیا گیا جس میں 179 کلوگرام فیوئل خرچ ہوا۔ اب تک زمین کے پانچوں آربٹ مینیووَر میں تقریباً 600-500 کلوگرام فیوئل خرچ ہو چکا ہے، جبکہ لانچ کے وقت پروپلشن ماڈیول میں تقریباً 1696.39 کلوگرام فیوئل بھرا گیا تھا۔ یعنی ابھی تقریباً 1200-1100 کلوگرام فیوئل بچا ہوا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ چندریان-3 اس وقت زمین کے جس مدار میں ہے، وہاں 5 اگست تک رہے گا۔ 5 اگست کی شام تقریباً 7 بجے سے 7.30 بجے کے درمیان اسے چاند کے پہلے مدار میں ڈالا جائے گا۔ چاند کی سطح سے اس مدار کی دوری تقریباً 11000 کلومیٹر ہوگی۔ چاند کی چاروں طرف پانچ آربٹ مینیووَر کر کے اس کے آربٹ یعنی مدار کو کم کیا جائے گا اور اس طرح چندریان-3 کو چاند کے 100 کلومیٹر کے مدار پر لایا جائے گا۔

جو منصوبہ بندی کی گئی ہے اس کے مطابق چندریان-3 چاند کے نزدیک 100 کلومیٹر کا مدار 17 اگست کو حاصل کرے گا۔ اسی دن پروپلشن ماڈیول اور کیلنڈر ماڈیول الگ ہوں گے۔ 18 اور 20 اگست کو لینڈر ماڈیول کی ڈی-آربٹنگ ہوگی۔ یعنی چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول دھیمے دھیمے چاند کے 100x30 کلومیٹر کے مدار میں جائے گا۔ اس کے بعد 23 اگست کی شام تقریباً 5.45 بجے اس کی لینڈنگ ہوگی۔

اِسرو کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے بتایا ہے کہ چندریان-3 اس وقت 38520 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی طرف جا رہا ہے۔ اِسرو کے سائنسداں ہر دن اس کی رفتار کچھ دھیمی کریں گے۔ ایسا اس لیے کیونکہ جس وقت یہ چاند کے قریب پہنچے گا، یعنی اس کی سطح سے تقریباً 11000 کلومیٹر دور، وہاں پر زمین کا کشش ثقل صفر ہوگا۔ چاند کا بھی کشش ثقل تقریباً صفر ہی ہوگا۔ اسے ایل 1 پوائنٹ کہتے ہیں۔ چاند کا کشش ثقل زمین کے کشش ثقل سے 6 گنا کم ہے۔ اس لیے چندریان-3 کی رفتار بھی کم کرنی پڑے گی، ورنہ وہ چاند کے مدار کو پکڑ نہیں پائے گا۔ حالانکہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو چندریان-3 3.69 لاکھ کلومیٹر سے واپس زمین کے پانچویں مدار کے پیروجی یعنی 236 کلومیٹر میں 230 گھنٹے (تقریباً 10 دن بعد) میں آ جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/J9V47n1

ہفتہ، 29 جولائی، 2023

کامیابی کی طرف اِسرو کے بڑھتے قدم، پی ایس ایل وی-سی56 کی الٹی گنتی شروع، 30 جولائی کی صبح ہوگا لانچ

چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ کے بعد اب اِسرو کامیابی کی طرف مزید ایک قدم بڑھانے جا رہا ہے۔ دراصل 30 جولائی 2023 کی صبح 6.30 بجے اِسرو سات سیٹلائٹ لانچ کرے گا۔ سبھی سیٹلائٹ کی لانچنگ شری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز کے لانچ پیڈ سے ہوگی اور سیٹلائٹس کو خلا میں پہنچانے کے لیے پی ایس ایل وی-سی56 راکٹ کا استعمال کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں اِسرو کا بیان سامنے آیا ہے۔ اس بیان کے مطابق سنگاپور کے ڈی ایس-ایس اے آر سیٹلائٹ اور پی ایس ایل وی راکیٹ پر 6 شریک مسافر سیٹلائٹس کی لانچنگ کی الٹی گنتی ہفتہ کے روز ستیش دھون خلائی مرکز میں شروع ہو گئی۔ الٹی گنتی کے دوران چار مراحل والی گاڑی میں پروپیلنٹ بھرنے کا عمل انجام دیا جائے گا۔ 44.4 میٹر طویل چار مراحل والی گاڑی پی ایس ایل وی-سی56، 228 ٹن وزن کے ساتھ اتوار کی صبح 6.30 بجے ’شار رینج‘ سے پہلے لانچ پیڈ سے پرواز بھرے گا۔

اسرو نے جانکاری دی ہے کہ پی ایس ایل وی-سی55/ٹیلیوس-2 کی اپریل میں ہوئی کامیاب لانچنگ کے بعد 30 جولائی کے مشن کو انجام دیا جا رہا ہے اور اس مشن سے سنگاپور کے لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوں گی۔ پی ایس ایل وی-سی56 پانے ساتھ ڈی ایس-ایس اے آر، ایک رڈرار امیجنگ اَرتھ آبزرویشن سیٹلائٹ لے جائے گا، جو نیو اسپیس انڈیا لمیٹد کے ایک وقف کمرشیل مشن میں 6 شریک مسافر سیٹلائٹس کے ساتھ پرائمری سیٹلائٹ ہے۔ نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ اِسرو کا کمرشیل برانچ ہے اور سیٹلائٹس کو سنگاپور میں گاہکوں کی خدمات کے لیے لانچ کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/G4RkmPa

جمعہ، 21 جولائی، 2023

گوگل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز سے میڈیا انڈسٹری کو خدشات

دنیا کی معروف تکنیکی کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی وہ جن ٹولز کی تیاری کر رہا ہے اس کا مقصد خبر نگاری میں صحافیوں کے لازمی کردار کو تبدیل کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ٹولز صحافیوں کوتحقیق کرنے اور مضامین لکھنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

گوگل نے جمعرات کو بتایا کہ وہ میڈیا کمپنیوں بالخصوص چھوٹے پبلشرز کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایسے ٹولز کی تیاری پر کام کررہا ہے جو"صحافیوں کو خبروں کی شہ سرخیاں لکھنے یا مختلف انداز تحریر کے متبادل فراہم کرنے "میں مدد گار ہوں گے۔

گوگل کی ترجمان جین سرائیڈر نے اس سلسلے میں کمپنی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے ابتدائی مراحل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "ہمارا مقصد صحافیوں کو ان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اس طریقے سے استعمال کرنے کا انتخاب فراہم کرنا ہے جس سے ان کے کام اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ جیسا کہ ہم جی میل اور گوگل ڈاکس کے طورپر لوگوں کو معاون ٹولز دستیاب کر رہے ہیں۔" انہوں نے کہا، "ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان ٹولز کا مقصد رپورٹنگ، تخلیق اور اپنے مضامین کے حقائق کی جانچ پڑتال میں صحافیوں کے بنیادی کردار کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی ایسا کرسکتے ہیں۔"

ایک نئی بحث چھڑجانے کا امکان

گوگل کے اس پیش رفت سے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارمز مثلاً چیٹ جی پی ٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور فوائد کے بارے میں بحث تیز ہوجانے کا امکان ہے۔ کیونکہ اس اے آئی ٹول نے انسانی تقریر کی نقل کرنے کی صلاحیت سے صارفین کو دنگ کردیا ہے لیکن اس نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، غلط معلومات اور انسانی کارکنوں کی جگہ مشینوں کے لینے کے بارے میں خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

پرنٹ ایڈورٹائزنگ کی آمدنی میں کمی کے ساتھ ہی ملازمین کی تعداد میں مسلسل کمی کرنے کی وجہ سے عالمی میڈیا انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے۔ صرف امریکی نیوز رومز میں ہی رواں برس کے ابتدائی پانچ مہینوں کے دوران ریکارڈ 17436ملازمتیں ختم کردی گئیں۔

گوگل کی جانب سے اس نئے ٹول، جسے جینیسس کا نام دیا گیا ہے،کو ڈیولپ کرنے کے متعلق سب سے پہلے نیویارک ٹائمز نے خبر دی۔ اس نے بتایا کہ اسے ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کے مالک نیوز کارپ کو پیش کیا گیا ہے۔ ٹائمز کے مطابق میڈیا سے وابستہ بعض اہم افراد، جنہوں نے گوگل کی اس پیش کش کا مشاہدہ کیا ہے، انہوں نے اسے " پریشان کن" قرار دیا ہے۔

تاہم کچھ میڈیا تنظیموں نے تخلیقی مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کردیا ہے۔ نیوز رومز عام طور پر درستگی، سرقہ اور کاپی رائٹ کے خدشات کے مدنظر خبریں جمع کرنے کے مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) نے گزشتہ ہفتے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت کا اعلان کیا تھا جس سے چیٹ جی پی ٹی تخلیق کرنے والی اس کمپنی کو مصنوعی ذہانت کو زیادہ بہتر اور درست بنانے کے لیے اے پی کے 1985 کے بعد سے آرکائیوز کو استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TmPdVL6

بدھ، 19 جولائی، 2023

مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اقوام متحدہ کی پہلی میٹنگ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مصنوعی ذہانت کے خطرات پر منگل کے روز اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس کی صدارت رواں ماہ ادارے کے صدر برطانیہ نے کی۔ برطانوی وزیر خارجہ جیمس کلیورلی نے اس موقع پرکہا کہ "مصنوعی ذہانت بنیادی طورپر انسانی زندگی کے ہر پہلو کو بد ل دے گی۔"

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہمیں تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز پر گلوبل گورننس تشکیل دینے کی فوری ضرورت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور معیشتوں کو فروغ دینے میں مدد کرسکتی ہے تاہم انہوں نے خبر دار کیا کہ ٹیکنالوجی غلط معلومات کو ہوا بھی دیتی ہے اور ہتھیاروں کی حصولیابی میں ریاستی اور غیر ریاستی دونوں ہی عناصر کی مدد کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش، معروف آرٹیفیشیئل انٹلیجنس اسٹارٹ اپ انتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک اورچائنا یوکے سینٹرفار اے آئی ایتھکس اینڈ گورننس کے شریک ڈائریکٹر پروفیسر زینگ ایی نے 15رکنی سلامتی کونسل کو اس موضوع پر بریف کیا۔ گوٹیریش کا کہنا تھا،" اے آئی کے فوجی اور غیر فوجی دونوں طرح کے استعمال عالمی امن اور سلامتی کے لیے بہت سنگین نتائج کے حامل ہوسکتے ہیں۔"

انہوں نے اے آئی کے سلسلے میں اقوام متحدہ میں ایک نئے ادارے کی تشکیل کے متعلق بعض ملکوں کی جانب سے مطالبات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے "بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن یا ماحولیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی پینل کے طرز پر قائم کیا جاسکتا ہے۔"

اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون نے مصنوعی ذہانت کو دو دھاری تلوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اے آئی کے رہنما اصولوں کی تیاری میں اقوام متحدہ کے مرکزی رابطہ کار کے کردار کی حمایت کرتا ہے۔ ژانگ کا کہنا تھا، "خواہ یہ اچھا ہو یا برا، نیک ہو یا بد، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بنی نوع انسان اسے کس طرح استعمال کرتی ہے، اسے کس طرح منظم کرتی ہے اور ہم سائنسی ترقی اور سلامتی کے درمیان کس طرح توازن پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ترقی کو منظم کرنے کے لیے لوگوں اورمصنوعی ذہانت کی اچھائی کے استعمال پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اور اس ٹیکنالوجی کو "بے لگام گھوڑا "بننے سے روکنا ہوگا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب سفیر جیفری ڈی لارینٹس نے بھی کہا کہ انسانی حقوق کو درپیش خطرات، جن سے امن اور سلامتی کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، سے نمٹنے کے لیے ممالک کو اے آئی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ، "کسی بھی رکن ممالک کو مصنوعی ذہانت کا استعمال سینسر کرنے، مجبور کرنے، لوگوں کو کچلنے یا بے اختیار کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہئے۔" روس نے سوال کیا کہ کیا سلامتی کونسل، جس پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے، کو مصنوعی ذہانت پر بات کرنی چاہئے۔ اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمیتری پولیانسکی نے کہا، "ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پیشہ ورانہ، سائنسی اور مہارت پر مبنی بحث کریں جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور خصوصی پلیٹ فارمز پر یہ بحث پہلے سے ہی جاری ہے۔"

امریکہ میں پیشہ ور مصنفین کی سب سے بڑی تنظیم آتھرز گلڈ نے اوپن اے آئی، میٹا، مائیکروسافٹ، الفابیٹ، آئی بی ایم اور اسٹیبلیٹی اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو افسران کے نام ایک خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت والی کمپنیاں ان کی کاپی رائٹ تخلیقات کا بلا اجازت استعمال بند کریں۔ اس خط پر ہزاروں مصنفین اور ادیبوں نے دستخط کیے ہیں، جن میں مارگریٹ ایٹ ووڈ، جوناتھن فرانزن، جیمس پیٹرسن، سوزین کولنز اور ویئٹ تھان نوگئین شامل ہیں۔

خط میں مصنفین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہماری اجازت، مرضی، ہمارا نام یا ہمیں معاوضہ دیے بغیر آپ کے اے آئی سسٹم کے ذریعہ ہماری تخلیقات کا استعمال استحصال اور ناانصافی کے مترادف ہے۔" خط میں کہا گیا ہے، "یہ ٹیکنالوجیز ہماری زبان، کہانیوں، طرز تحریر اور آئیڈیاز کو نقل کرلیتی ہیں۔ لاکھوں کاپی رائٹ کتابیں، مضامین، مقالے اور نظمیں اے آئی سسٹمز کے لیے "خوراک" فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایسے لامحدود کھانے کی طرح ہیں جن کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جارہی ہے۔"

مصنفین نے کہا کہ "آپ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ لہذایہ مناسب ہوگا کہ آپ ہماری تخلیقات کا استعمال کرنے پر ہمیں معاوضہ ادا کریں کیونکہ ہماری تخلیقات کے بغیر مصنوعی ذہانت بے وقعت اور انتہائی محدود رہے گی۔" امریکی مصنفین نے گزشتہ ماہ اوپن اے آئی کو اپنے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو ٹرین کرنے کے لیے ان کی تخلیقات کے مبینہ غلط استعمال پر مقدمہ دائر کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UJ1eK2j