ہفتہ، 14 اکتوبر، 2023

حکومت نے 23 اگست کو 'قومی خلائی دن' کے طور پر مطلع کیا

نئی دہلی: حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ 23 ​​اگست کو، جس دن چندریان-3 چاند کے قطب جنوبی پر اترا، اسے قومی خلائی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ خلائی محکمہ کی طرف سے 13 اکتوبر کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ تاریخی لمحے کو یادگار بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا، ’’ہندوستان چاند پر خلائی جہاز اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک اور چاند کی سطح کے جنوبی قطب کے قریب اترنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وکرم لینڈر نے چاند کی سطح کا مطالعہ کرنے کے لیے پرگیان روور کو بھی تعینات کیا تھا۔ اس تاریخی مشن کے نتائج آنے والے سالوں تک بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں گے۔‘‘

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 23 ​​اگست خلائی مشنوں میں ملک کی پیشرفت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نوجوان نسلوں کو ’ایس ٹی ای ایم‘ کے تعاقب میں دلچسپی بڑھانے اور خلائی شعبے کو بڑا فروغ دینے کی ترغیب دی۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 26 اگست کو بنگلورو میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے صدر دفتر کے دورے کے دوران 23 اگست کو قومی خلائی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MfJI19N

بدھ، 4 اکتوبر، 2023

گلوبل وارمنگ: سوئٹزر لینڈ کے پگھلتے گلیشیئرز

سوئٹزرلینڈ دنیا کےخوبصورت ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سرسبز پہاڑوں کی برف پوش چوٹیاں اس کے حسن میں چار چاند لگاتی ہیں۔ یورپ کے زیادہ تر گلیشیئرز اسی ملک میں ہیں۔ لیکن اب ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ دو سالوں میں سوئٹزرلینڈ کے گلیشیئرز 10 فیصد تک پگھل گئے ہیں۔گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا موسم کی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کی شدت میں اضافےکی نشان دہی کے علاوہ مسقتبل کے خطرات کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔ پہاڑوں سے برف کا خاتمہ زندگی کی بقا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

زمین کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھنے میں گلیشیئرز کا اہم کردار ہوتا ہے۔ وہ سورج سے آنے والی حرارت کو واپس خلا میں پلٹ دیتے ہیں۔ جب ان کے حجم میں کمی آتی ہے تو سورج سے آنے والی حرارت زیادہ مقدار میں زمین میں جذب ہو جاتی ہے۔ اس کا دوہرا نقصان ہوتا ہے۔ پہلا یہ کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے پہاڑوں پر کم برف پڑتی ہے۔ اگر پہاڑوں پر گلیشیئرز موجود ہوں تو برف کی نئی تہہ انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ اور انہیں سورج کی براہ راست حرارت سے بچاتی ہے۔ جس سے ان کے پگھلنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ اگر سردیوں میں برف باری کم ہو تو گلیشیئر براہ راست سورج سے آنے والی حرارت کا ہدف بن کر تیزی سے پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں کچھ ایسی ہی صورتحال ہے جس کے سبب ایک ہزار کے قریب چھوٹے گلیشیئر زپانی بن کر بہہ گئے ہیں۔

سوئس اکیڈمی آف سائنسز نے گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ گرمیوں کی تیز گرمی اور سردیوں میں کم برف کے سبب صرف دو سالوں میں گلیشیئرز نے 10 فیصد برف کھو دی ہے۔ اکیڈمی کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں 2023 کے دوران کل گلیشیئر کے حجم کا 4 فیصد غائب ہو چکاہے، جو کہ 2022 میں 6 فیصد کمی کے ساتھ ایک ہی سال میں دوسری سب سے بڑی کمی ہے۔ اکیڈمی نے کہا کہ صرف دو سالوں میں اتنی برف پگھل گئی ہے جتنی کہ تیس سال( 1960 اور 1990 کے درمیان) میں پگھلی تھی۔ موسم کے اعتبار سے مسلسل دو انتہائی سالوں کے سبب گلیشیئرز ٹوٹ رہے ہیں اور بہت سے چھوٹے گلیشیئرز تو غائب ہی ہو گئے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں گلیشیئر مانیٹرنگ سینٹر (GLAMOS )کے ماہرین ملک کے 1400 گلیشیئرز کےممکنہ پگھلنے کے بارے میں ابتدائی انتباہی علامات کی تلاش میں مصروف ہیں ۔ تحقیقی ٹیم کے سربراہ میتھیاس ہس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ پہلے ہی 1000 چھوٹے گلیشیئرز کھو چکا ہے اور اب بڑے اور اہم گلیشیئرز کھونے کی شروعات ہو چکی ہے ۔ گلیشیئر موسمیاتی تبدیلی کے سفیر ہیں۔ وہ یہ بالکل واضح کرتے ہیں کہ موسمی اعتبار سے کیا ہو رہا ہے کیونکہ وہ بڑھتے درجہ حرارت کا جواب انتہائی حساس انداز میں دیتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مطالعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر آپ آب و ہوا کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور گلیشیئرز کو بچانا چاہتے ہیں تو یہ کچھ کرنے کا وقت ہے ۔

سوئٹزرلینڈبری طرح متاثر ہواہے ۔ ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر برف کا نقصان سردیوں میں برف کی کم مقدار کے سبب ہوا- جنوبی اور مشرقی علاقوں میں گلیشیئرز تقریباً اتنی ہی تیزی سے پگھل گئے جتنی تیزی سے 2022 کے ریکارڈ پگھلے تھے۔ جنوبی والیس علاقہ اور اینگاڈین وادی میں 3200 میٹر (10,500 فٹ) سے اوپر کی سطح پر کئی میٹر برف پگھل گئی۔ یہ ایک ایسی اونچائی ہے جہاں گلیشیئرز نے ابھی تک اپنا توازن برقرار رکھا ہوا تھا۔ ملک کے مختلف مقامات پر برف کی موٹائی کا اوسط نقصان 3 میٹر یا 10 فٹ تک تھا جبکہ وسطی برنیس اوبرلینڈ اور والیس کے کچھ حصوں میں صورتحال کم ڈرامائی تھی - جیسے کہ والیس میں الیٹسچ گلیشیئر اور برن کے کینٹن میں پلین مورٹے گلیشیر جہاں موسم سرما میں زیادہ برف باری ہوتی ہے۔ لیکن ایسے علاقوں میں بھی برف کی اوسط موٹائی کے 2 میٹر سے زیادہ کا نقصان بہت زیادہ ہے ۔

سوئٹزر لینڈ کے پہاڑوں پر زیادہ تر برف فروری میں پڑتی ہے۔ اس سال فروری کے پہلے نصف میں برف کی گہرائیوں کی پیمائش عام طور پرسال 1964، 1990 یا 2007 کی سردیوں کے مقابلے میں زیادہ تھی، جس کی ایک وجہ کم برف باری بھی تھی۔ لیکن فروری کے دوسرے نصف حصے میں برف کی سطح میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی، جو طویل مدتی اوسط کاصرف 30 فیصد تھی۔گزشتہ پچیس سالوں سے قائم، 2000 میٹر سے اوپر واقع خودکار مانیٹرنگ اسٹیشن کے مطابق برف کی سطح میں ریکارڈ کمی درج کی گئی ہے۔ مزید براں انتہائی گرم جون مہینے کی وجہ سے برف معمول سے دو سے چار ہفتے پہلے پگھل گئی، اور موسم گرما کے وسط میں ہونے والی برف باری بھی بہت تیزی سے پگھل گئی۔

سوئس ماہرین موسمیات نے اگست میں اطلاع دی تھی کہ صفر ڈگری سیلسیس کی سطح (جہاں پانی جم جاتا ہے) تقریباً 5300 میٹر (17,400 فٹ) پر ریکارڈ کی گئی جو کہ بلند ترین سطح ہے۔ دوسرے لفظوں میں پہاڑوں کی جن بلندیوں پر پہلے سال بھر درجہ حرارت صفر ڈگری ہوا کرتا تھا اور وہاں پورا سال برف جمی رہتی تھی، اب وہاں کا درجہ حرارت صفر سے بڑھ گیا ہے اور برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FqUkSJG

ہفتہ، 30 ستمبر، 2023

مشن سورج: ہماری زمین سے 9.2 لاکھ کلومیٹر دور پہنچا آدتیہ ایل-1، لینگریج پوائنٹ 1 کی طرف گامزن

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) نے ہفتہ کے روز مشن سورج کے بارے میں تازہ جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ آدتیہ ایل-1 ہماری زمین کے اثرات والے علاقہ سے کامیابی کے ساتھ باہر چلا گیا ہے۔ آدتیہ ایل-1 نے اب تک 9.2 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کر لیا ہے اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اِسرو کے مطابق آدتیہ ایل-1 اب سَن-اَرتھ لینگرین پوائنٹ 1 (ایل 1) کی طرف اپنا راستہ طے کر رہا ہے۔

اِسرو کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ’’یہ لگاتار دوسری بار ہے کہ اِسرو نے زمین کے اثرات والے علاقہ کے باہر ایک خلائی طیارہ بھیجا ہے۔ پہلی بار مریخ آربیٹر مشن کو زمین کے مدار سے باہر بھیجا گیا تھا۔‘‘ ویسے یہ لگاتار پانچویں بار ہے جب اِسرو نے کسی شئے کو خلا میں کامیابی کے ساتھ بھیجا ہے۔ اِسرو نے خلائی طیارہ کو تین بار چاند اور ایک بار مریخ کی طرف بھیجا ہے، اور اب آدتیہ ایل-1 سورج کی طرف بڑھ رہا ہے جو ایل 1 پر جا کر ٹھہر جائے گا۔

واضح رہے کہ آدتیہ ایل-1 کو 2 ستمبر کو ہندوستانی راکیٹ پی ایس ایل وی-ایکس ایل سے ایل ای او (زمین کے سب سے قریبی مدار) میں نصب کیا گیا۔ اس وقت سے اِسرو نے خلائی طیارہ کے مدار کو 4 مرتبہ تبدیل کرتے ہوئے بڑھایا ہے۔ جیسے ہی خلائی طیارہ نے زمین کے کشش ثقل کے اثرات والے علاقہ (ایس او آئی) سے باہر نکلنے کے بعد لینگریج پوائنٹ 1 (ایل 1) کی طرف سفر شروع کیا تو کروز مرحلہ بھی شروع ہو گیا۔ اب اسے ایل 1 کے چاروں طرف ایک بڑے دائرہ والے مدار میں شامل کیا جائے گا۔ لانچ سے ایل 1 تک کے مکمل سفر میں آدتیہ ایل-1 کو تقریباً چار ماہ لگیں گے اور زمین سے یہ دوری تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UDbV7Ou

جمعرات، 28 ستمبر، 2023

اوسیریس ریکس مشن: ناسا ایسٹرائڈ سے نمونے لانے میں کامیاب

ایسٹرائڈ بینوکے نمونوں سے ہم نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جان سکیں گے کہ اس وقت کے پتھروں کی کیمیائی خصوصیات کیا تھیں، پانی کیسے وجود میں آیا اورزندگی بنانے والے مالیکیول کیسے بنے

امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایسٹرائڈ سے نمونے اکٹھا کرنے والا پہلا مشن، اوسیریس ریکس (OSIRIS-REx) 24 ستمبر 2023 کو ایسٹرائڈ بینو (Asteroid Bennu) کے مواد کے ساتھ زمین پر واپس پہنچ گیا ۔ اس خلائی جہاز نے نمونے کیپسول کے ساتھ ریاست یوٹاہ کے صحرا میں محفوظ لینڈنگ کی ۔ ناسا کے مطابق سال 2020 میں ایسٹرائڈ بینوکی سطح سے جمع کیا گیا پتھر اور دھول پر مبنی یہ قدیم مواد سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کو اس وقت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا جب سورج اور سیارے تقریباساڑھے چار ارب سال پہلے بن رہے تھے۔ مزید براں ایسٹرائڈ بینو، جس کے مستقبل میں زمین سے ٹکرانے کا امکان ہے، کا نمونہ سائنس دانوں کو نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جاننے کا موقع فراہم کرے گا ۔

اوسیریس ریکس مشن

اوسیریس ریکس (OSIRIS-REx) کا مطلب ہے: اوریجن، اسپیکٹرل انٹرپریٹیشن، ریسورس آئیڈینٹی فکیشن، سیکورٹی، ریگولتھ ایکسپلورر۔ اوسیریس ریکس 2016 میں لانچ کیا گیا اور 2018 میں اس نے ایسٹرائڈ بینوکے گرد چکر لگانا شروع کیا۔ خلائی جہاز نے 2020 میں نمونہ اکٹھا کیا اور مئی 2021میں زمین پر واپسی کے اپنے طویل سفر پر روانہ ہوا ۔ مشن نے بینوتک اور واپسی میں مجموعی طور پر 3.86 ارب میل( چھ ارب 20 کروڑ کلومیٹر ) کا سفر طے کیا۔

ناسا نے یہ کارنامہ پہلی بار انجام دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع رپوٹوں کے مطابق خلا میں روانہ ہونے کے سات سال بعد، اوسیریس ریکس خلائی جہاز نے 24 ستمبر2023کو زمین کے گرد اڑان بھری تاکہ ایسٹرائڈ بینو سے حاصل شدہ نمونے فراہم کیے جا سکیں۔ خلائی جہاز نے نمونہ کیپسول کو زمین کی سطح سے 63,000 میل (102,000 کلومیٹر) کے فاصلے سے گرایا، اور تقریباً 27,650 میل فی گھنٹہ (44,498 کلومیٹر فی گھنٹہ)کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے صبح 10:42 بجے زمین کی فضا میں داخل ہوا۔ کیپسول کی رفتار کو آہستہ تقریباً 11 میل فی گھنٹہ (17.7 کلومیٹر فی گھنٹہ) کرنے کے لیے پیراشوٹ تعینات کیے گئے ۔ فضا میں داخل ہونے کے تقریباً 10 منٹ بعد،یہ نمونہ ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے یوٹاہ ٹیسٹ اور ٹریننگ رینج میں مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے پہنچا۔

ناسا کے منتظم بل نیلسن کا کہنا ہے کہ ان نمونوں سے نظام شمسی کی ابتدا کی جھلک سامنے آئے گی۔ انہوں نے اوسیریس ریکس ٹیم کو مبارکباددی اور کہا، ’یہ کچھ غیر معمولی لے کر آیاہے، زمین پر اب تک کا سب سے بڑا ایسٹرائڈ کا نمونہ۔ یہ مشن ثابت کرتا ہے کہ ناسا بڑے کام کرتا ہے، وہ چیزیں جو ہمیں متاثر کرتی ہیں، وہ چیزیں جو ہمیں متحد کرتی ہیں۔ یہ مشن ناممکن نہیں تھا۔ یہ ناممکن تھا جو ممکن ہو گیا‘۔

دریں اثنا اوسیریس ریکسنظام شمسی کا اپنا دورہ جاری رکھے ہوئے ہے - خلائی جہاز اپوفس (Apophis)نامی ایک مختلف ایسٹرائڈ پر تفصیلی نظر ڈالنے کے لیے روانہ ہو چکا ہے اور اب مشن کا نیا نام اوسیریس ایپکس (OSIRIS-APEX) اوریجن، اسپیکٹرل انٹرپریٹیشن، ریسورس آئیڈینٹی فکیشن، سیکورٹی، اپوفس ایکسپلورر

ناسا کی ریکوری اور ریسرچ ٹیموں نے لینڈنگ کے مقام پر اس بات کو یقینی بنایا کہ کیپسول کو کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچے۔ ٹیموں نے تصدیق کی کہ لینڈنگ کے دوران کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ اس مشن میں لاک ہیڈ مارٹن اسپیس نے ناسا کے ساتھ خلائی جہاز کی تعمیر، فلائٹ آپریشن فراہم کرنے اور 100 پاؤنڈ کےکیپسول کی بحالی میں مدد کی۔

حفاظتی دستانے اور ماسک سے لیس ابتدائی بحالی ٹیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کیپسول چھونے کے لیے کافی ٹھنڈا ہو جائے، اس لیے کہ فضا میں دوبارہ داخلے کے دوران اس کا درجہ حرارت 5000 ڈگری فارن ہائیٹ (2760 ڈگری سیلسیس) تک پہنچ گیا تھا۔ ٹیم نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ کیپسول کی بیٹری نہ پھٹے اور کوئی زہریلا دھواں نہ نکلے۔ ساتھ ہی ایک سائنسی ٹیم نے لینڈنگ کی جگہ سے نمونے اکٹھے کیے جن میں ہوا، دھول اور مٹی کے ذرات شامل ہیں۔

بعد ازیں کیپسول کو لینڈنگ سائٹ کے قریب ایک عارضی جگہ پہنچایاگیا۔ اس جگہ کے اندر، کیوریشن ٹیم ایک نائٹروجن کا بہاؤ کرے گی، جسے پرج (purge)کہا جاتا ہے، تاکہ زمینی ماحول کو نمونے کے کنسترمیں داخل ہونے اور اسے آلودہ ہونے سے روکا جا سکے۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ 26 ستمبر کو پہلی بار نمونہ دیکھنے کے لیے ڈھکن کو ہٹا یا جائے گا۔

ابتدائی تجزیہ اکتوبر میں متوقع

ایسٹرائڈ بینو کےنمونے کا ابتدائی تجزیہ معدنیات اور کیمیائی عناصر کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق نمونے کے بارے میں تفصیلات 11 اکتوبر کو جانسن اسپیس سینٹر سے ناسا کی نشریات کے ذریعے سامنے آئیں گی۔ اگرچہ سائنسی ٹیم کو نمونے کا مکمل جائزہ لینے کا وقت نہیں ملے گا، محققین 26 ستمبر کو کنستر کے اوپری حصے سے کچھ باریک مواد جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایک فوری تجزیہ اکتوبر میں فراہم کیا جا سکے ۔

اگلے دو سالوں تک سائنسدان جانسن اسپیس سینٹر میں پتھروں اور مٹی کا تجزیہ کریں گے۔ نمونے کو تقسیم کرکے دنیا بھر کی لیبارٹریوں کو بھیجا جائے گا، بشمول اوسیریس ریکس مشن کے شراکت دارـ کینیڈا کی خلائی ایجنسی اور جاپانی ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی۔ تقریباً 70فیصد نمونہ اسٹوریج میں محفوظ رہے گا تاکہ بہتر ٹیکنالوجی سے لیس آنے والی نسلیں اس سے بھی زیادہ سیکھ سکیں جو ابھی ممکن ہے۔

جاپان کے ہیبوساـ2 (Hayabusa-2)مشن سے ایسٹرائڈ ریوگو (Ryugu)سے حاصل کیے گئے نمونے کے ساتھ، پتھراور مٹی ہمارے نظام شمسی کے آغاز کے بارے میں اہم معلومات کو ظاہر کر سکتی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ سیارے کی تشکیل کے ابتدائی دورمیں ، کاربونیسیئس ایسٹرائڈ جیسے بینو ، زمین سے ٹکرا کر پانی کے وجود میں آنے کا باعث بنے۔

برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے خلانورد ڈینئیل براؤن نے’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ ان نمونوں کے معائنے سے ہم نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جان سکیں گے کہ اس وقت کے پتھروں کی کیمیائی خصوصیات کیا تھیں اور پانی کیسے وجود میں آیا جب کہ زندگی بنانے والے مالیکیول کیسے بنے؟

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایسٹرائڈ بینو نظام شمسی کے اپنے قدیم ترین مادوں کا نمائندہ ہے جو بڑے مرتے ہوئے ستاروں اور سپرنووا دھماکوں سے بنا ہے ۔ اور اسی وجہ سے، ناسا چھوٹے مشنوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ ہماری سمجھ میں اضافہ ہو کہ ہمارا نظام شمسی کیسے بنا اور اس کا ارتقا کیسے ہوا۔

سائنس دانوں کے مطابق ایسٹرائڈ بینو کے مستقبل میں زمین سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ لہٰذا زمین کے قریب ان سیارچوں کی آبادی کے بارے میں مزید سمجھنا بہت ضروری ہے جو ہمارے سیارےزمین کے ساتھ تصادم کے راستے پر ہو سکتے ہیں۔ ان کی ساخت اور مداروں کی بہتر سمجھ یہ پیش گوئی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کون سے ایسٹرائڈ زمین کے قریب ترین پہنچ سکتے ہیں اور کب ۔ سائنس دانوں کے لیے یہ معلومات ایسٹرائڈ کوزمین سے دور ہٹانے یا دھکیلنے کے طریقے تیار کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rq5KId1

پیر، 25 ستمبر، 2023

جنوبی کوریا: میوزک سے لے کر سیلز گرلز تک، مصنوعی ذہانت کی دنيا

اس کا چہرہ ڈیپ فیک ہے، جسم اُسی قسم کے خد و خال کے حامل اداکاروں سے ملتا جلتا ہے۔ لیکن وہ گاتی ہے، خبریں پڑھتی ہے، اور ٹی وی پر لگژری کپڑے بیچتی ہے کیونکہ AI روبوٹ جنوبی کوریا میں معاشرے کے مرکزی دھارے کا حصہ بن چُکے ہیں۔

جنوبی کوریا کی ایک معروف ورچوئل اداکارہ

جنوبی کوریا کے سب سے زیادہ فعال ورچوئل انسانوں میں سے ایک Zaein سے ملیں، جسے ایک مصنوعی ذہانت کی کمپنی Pulse9 نے بنایا ہے۔ یہ کمپنی کارپوریٹ خيالات کو حقيقت بنانے کا کام انجام دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایسا شاہکار تیار کرچُکی ہے جو کمپنی کے لیے ایک کامل ملازم کی حیثیت رکھتا ہے۔

Pulse9 نے جنوبی کوریا کے کچھ بڑے گروہوں کے لیے ڈیجیٹل روبوٹ بنائے ہیں، جن میں Shinsegae بھی شامل ہے۔ اس جیسی انسان نما تخلیقات کی گلوبل مارکیٹ سن 2030 تک 527 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

جنوبی کوریا میں AI ٹيکنالوجی کے روبوٹس نے نہ صرف یونیورسٹیوں میں طالب علم کے طور پر داخلہ لیا ہے بلکہ یہ بڑی کمپنیوں میں تربیتی پروگراموں کا حصہ بنے ہیں اورکھانے سے لے کر لگژری ہینڈ بیگ تک کی مصنوعات کی فروخت کے لائیو ٹیلی ویژن پروگراموں میں باقاعدگی سے نظر آتے ہیں۔ تاہم پلس 9 کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے۔ کمپنی کے سربراہ پارک جی ایون نے نيوز ايجنسی اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا، ''اے آئی کے انسانی استعمال کو وسیع تر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔‘‘

ورچوئل اداکارہ کی تخلیق

زین کا چہرہ 'ڈیپ لرننگ انیلیسس‘ یا گہرے سیکھنے کے تجزیے کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ ایک AI طریقہ کار ہے، جو کمپیوٹر کو نہایت پیچیدہ ڈیٹا پروسس کرنا سکھاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران K-pop میوزک گروپ کے چند چہروں کو اسی طریقہ کار سے تیار کیا گیا۔ گہری آنکھوں اور خصوصی نقوش ، صاف جلد اور حقیقی انسانی شخصیت سے قریب ترین شکل کے ساتھ تیار کیے جانے والے یہ اداکار ڈیپ فیک کی مدد سے کارآمد ہو جاتے ہیں۔

اداکاروں کے بیانات

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک اداکار سے اُس وقت ملاقات کی جب وہ جنوبی کوریا کے براڈکاسٹر ایس بی ایس کے مارننگ نیوز کے لائیو پروگرام میں زین کے طور پر رپورٹ دینے کی تیاری کر رہی تھی۔ کمپنی کی پالیسی کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے والی اداکارہ نے کہا، ''میرے خیال میں یہ ان لوگوں کے لیے ایک اچھا عمل ہو سکتا ہے جو مشہور شخصیت بننا چاہتے ہیں اور یہی چیز مجھے بھی پسند ہے۔‘‘

Pulse9 کے نمائندے نے کہا کہ تمام انسانی اداکاروں کی شناخت چھپائی گئی ہے اور ان کے اصلی چہرے نہیں دکھائے گئے ہیں۔ اُدھر اپنے پروفائلز کو پوشیدہ رکھنے کے سخت اقدامات کے باوجود اداکارہ نے کہا کہ ایک ورچوئل انسان کے طور پر کام کرنے سے ان کے لیے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ Zaein کا کہنا تھا، ''عام طور پر، بہت سارے لوگ اپنے نوعمروں اور نوجوانوں میں K-pop کے آئیڈیل بن جاتے ہیں اور میں اس عمر سے گزر چکی ہوں، لیکن اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس اداکارہ نے اے ایف پی کو بتایا، ''میں ایک انسان کے طور پر کام کرنے کی کوشش کرنا پسند کروں گی اگر میں اپنی آواز کو اچھی طرح سے سنبھال سکوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو میں حقیقی زندگی میں نہیں کر سکتی۔‘‘

کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ مصنوعی انسانوں کو بنانے کے لیے حقیقی لوگوں کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ وہ کہتے ہیں،''جب تک کہ مستقبل میں واقعی ایک مضبوط AI نہیں بن جاتا جو خود ہر کارروائی کر سکے گا تب تک انسانوں کی ضرورت رہے گی۔‘‘ ChatGPT کے پچھلے سال کے آخر میں منظرعام پر آنے کے بعد سے AI کے ممکنہ استعداد اور ممکنہ خطرات حالیہ مہینوں میں عوامی شعور میں ہلچل مچا چُکے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/t2s5K1k

جمعہ، 22 ستمبر، 2023

نہیں جاگ رہے وکرم اور پرگیان! اِسرو نے کہا ’کوشش جاری رہے گی‘

اِسرو کے احمد آباد واقع اسپیس ایپلی کیشنز سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے بیان دیا تھا کہ وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کو فعال کرنے یعنی جگانے کی کوشش 22 ستمبر کو نہیں کی جائے گی، بلکہ یہ کوشش 23 ستمبر کو ہوگی۔ لیکن اِسرو کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے تازہ اَپڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج وکرم اور پرگیان کو جگانے کی کوشش کی گئی جو کہ ناکام ہو گئی۔ حالانکہ اِسرو کا یہ بھی کہنا ہے کہ لینڈر ماڈیول کو فعال کرنے کی کوشش جاری رہے گی اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کامیابی مل جائے۔

اِسرو نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’’وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ان کے فعال ہونے کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔ فی الحال ان کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ رابطہ قائم کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔‘‘ اِسرو نے واضح کیا ہے کہ بھلے ہی پہلے کوشش میں وکرم اور پرگیان کو دوبارہ ایکٹیویٹ (فعال) کرنے میں کامیابی نہیں ملی ہو، لیکن آگے آنے والے دنوں میں بھی اس سے رابطہ کر دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ستمبر ماہ کے شروع میں اِسرو نے وکرم اور پرگیان کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا تھا اور کہا تھا کہ 14 دنوں کے بعد جب چاند پر پھر سے سورج طلوع ہوگا تب دونوں ماڈیول کو دوبارہ ایکٹیویٹ کرنے کی کوشش ہوگی۔ حالانکہ کئی سائنسدانوں نے دونوں کے دوبارہ فعال ہونے کی کم ہی امید ظاہر کی تھی۔ اگر وکرم اور پرگیان دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں تو یہ کامیابی حاصل کرنے والا ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بھی بن جائے گا۔

اس سے قبل آج صبح اِسرو (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے کہا تھا کہ ’’پہلے ہم نے 22 ستمبر کی شام کو پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کچھ اسباب کو دیکھتے ہوئے اب ہم اسے کل یعنی 23 ستمبر کو کریں گے۔ ہمارے پاس لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ سے باہر نکالنے اور اسے پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارا منصوبہ رووَر کو تقریباً 350-300 میٹر تک لے جانے کا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات سے... رووَر وہاں 105 میٹر آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘

اس درمیان بھونیشور کے پتھانی سامنت پلانیٹوریم سے سبکدوش سائنسداں سویندو پٹنایک کا کہنا ہے کہ لینڈر اور رووَر نے چاند کی سطح پر جمع سبھی ڈاٹا زمین پر پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ اگر وہ پھر سے فعال ہوتے ہیں تو یہ کسی تحفہ جیسا ہوگا۔ منفی 250 ڈگری درجہ حرارت میں الیکٹرانک مشینوں کا ٹھیک رہ پانا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی سبھی کو امید ہے کہ یہ ہمارے لیے پھر سے کام کرنے لائق بن پائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/fCIDdP8

چندریان-3: ٹل گیا وکرم اور پرگیان کو فعال کرنے کا پروگرام، اب کل کی جائے گی کوشش

جو لوگ چندریان-3 مہم پر گہرائی سے نظریں بنائے ہوئے ہیں اور اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے فعال ہونے کی خوشخبری ملے گی، انھیں مزید ایک دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ دراصل اِسرو کے سائنسدانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج لینڈر اور رووَر کو فعال کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، بلکہ اس کے لیے مزید ایک دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ یعنی اب چاند کے جنوبی قطب پر نیند کی آغوش میں پڑے وکرم اور پرگیان کو 23 ستمبر کے روز جگایا جائے گا۔

اِسرو کے احمد آباد واقع اسپیس ایپلی کیشنز سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ’’پہلے ہم نے 22 ستمبر کی شام کو پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کچھ اسباب کو دیکھتے ہوئے اب ہم اسے کل یعنی 23 ستمبر کو کریں گے۔ ہمارے پاس لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ سے باہر نکالنے اور اسے پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارا منصوبہ رووَر کو تقریباً 350-300 میٹر تک لے جانے کا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات سے... رووَر وہاں 105 میٹر آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘

اس سے قبل نیلیش دیسائی نے کہا تھا کہ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو دونوں (پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر) سے نہ صرف رابطہ ہوگا، بلکہ ان کے پارٹس بھی استعمال کرنے کی حالت میں ملیں گے۔ دیسائی کے مطابق گزشتہ 20 دن میں دونوں نے منفی 120 سے منفی 200 ڈگری سلسیس جتنی سردی کو برداشت کیا ہے۔ 20 ستمبر کی شام سے چاند کے جنوبی قطب پر سورج کا طلوع شروع ہو گیا ہے اور دھیرے دھیرے وکرم اور پرگیان کے سولر پینل بھی ان کی بیٹری دھیرے دھیرے چارج کرنے لگیں گے۔

اس درمیان بھونیشور کے پتھانی سامنت پلانیٹوریم سے سبکدوش سائنسداں سویندو پٹنایک کا کہنا ہے کہ لینڈر اور رووَر نے چاند کی سطح پر جمع سبھی ڈاٹا زمین پر پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ اگر وہ پھر سے فعال ہوتے ہیں تو یہ کسی تحفہ جیسا ہوگا۔ منفی 250 ڈگری درجہ حرارت میں الیکٹرانک مشینوں کا ٹھیک رہ پانا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی سبھی کو امید ہے کہ یہ ہمارے لیے پھر سے کام کرنے لائق بن پائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/saIjAvi

جمعرات، 21 ستمبر، 2023

چندریان-3: ’چاند پر مکمل طلوع آفتاب کا انتظار‘، رووَر اور لینڈر کو کل ہی کیا جائے گا فعال!

چندریان-3 کے لیے 22 ستمبر یعنی جمعہ کا دن بہت اہم ثابت ہونے والا ہے۔ اِسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر مکمل طلوع آفتاب کا انتظار ہے اور 22 ستمبر کو سلیپ موڈ میں چاند کے جنوبی قطب پر موجود لینڈر ماڈیول یعنی وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کو فعال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے ایسی خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ لینڈر ماڈیول کو 23 ستمبر یعنی ہفتہ کے روز فعال کیا جائے گا، اور اگر اس میں کامیابی ملی تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ کیونکہ چندریان-3 نے پہلے ہی کامیابی کی سبھی منزلیں طے کر لی ہیں، اور اگر سلیپ موڈ سے لینڈر ماڈیول ٹھیک طرح فعال ہو جاتا ہے تو یہ ’بونس‘ یعنی تحفہ کی مانند ہوگا۔

اِسرو (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے جانکاری دی ہے کہ ’’ہم 22 ستمبر کو لینڈر اور رووَر دونوں کو فعال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ہماری قسمت اچھی رہی تو اس میں کامیابی ملے گی۔ پھر ہمیں مزید پریکٹیکل ڈاٹا حاصل ہوں گے جو چاند کی سطح کی مزید تحقیق میں معاون ہوں گے۔‘‘

چندریان-3 مشن سے متعلق مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کا بیان بھی جمعرات کو سامنے آیا۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ملک کو اب کچھ ہی گھنٹوں میں پرگیان اور وکرم کے نیند سے بیدار ہونے کا انتظار ہے۔ ایسا ہوتے ہی اس طرح کی کامیابی حاصل کرنے والا ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ چاند پر 14 دن کی رات ختم ہونے والی ہے اور ہمیں بے صبری سے وہاں طلوع آفتاب اور اس کے ساتھ ہی وکرم اور پرگیان کے فعال ہونے کا انتظار ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چاند پر آفتاب طلوع ہونا (سورج نکلنا) شروع ہو چکا ہے اور بس مکمل طلوع کا انتظار ہے، یا پھر یوں کہیں کہ سورج کی روشنی سے لینڈر اور رووَر کے سولر پینل کو ریچارج ہونے کا انتظار ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vwOVG95

چندریان-3: کیا لینڈر اور رووَر پھر ہوگا فعال؟ چاند پر ہو رہا سورج کا طلوع

ویسے تو چندریان-3 مشن کامیابی کے ساتھ پورا ہو چکا ہے، لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ مشن مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ ایسا ممکن ہو پائے گا اگر سلیپ موڈ میں ڈالا گیا وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر آئندہ 23 ستمبر کو ایک بار پھر فعال ہو جائے۔ اِسرو سے جڑے خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول ایک بار پھر فعال ہو سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو یہ چاند مشن میں ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ ایسا ہونے پر چاند کے جنوبی قطب پر مزید تحقیقی عمل انجام دیے جا سکیں گے۔

اِسرو کے اسپیس ایپلی کیشن سنٹر کے ڈائریکٹر نلیش دیسائی نے بتایا کہ گزشتہ 3 ستمبر کو چاند کے جنوبی قطب پر رات ہونے کے سبب چندریان-3 کے لینڈر وکرم اور رووَر پرگیان کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا گیا تھا۔ ان دونوں پر سولر پینل لگائے گئے ہیں اور چاند کے جنوبی قطب پر جب دن نکلے گا تو یہ پینل ریچارج ہو سکتے ہیں۔ نلیش نے بتایا کہ ’’ہمارے منصوبہ کے مطابق 23 ستمبر کو لینڈر وکرم اور رووَر از سر نو فعال ہو سکتے ہیں۔ چاند پر اب دن نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ رات کے دوران جب چاند کی سطح پر درجہ حرارت منفی 120 ڈگری سلسیس سے منفی 200 ڈگری سلسیس تک گر جاتا ہے تو کیا سولر پینل پھر سے ٹھیک طرح کام کر پائیں گے یا نہیں۔‘‘

نلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ہم اس کی امید کر رہے ہیں کہ لینڈر پر موجود چار سنسرز اور رووَر پر موجود دو سنسرز میں سے کچھ دوبارہ کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم آگے بھی چاند پر نئے تجربات کر پائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ چاند پر زمین کے 14 دنوں کے برابر دن اور رات ہوتے ہیں۔ جب چندریان-3 کا لینڈر چاند پر اترا تھا تو اس وقت چاند پر دن نکل رہا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ 14 دنوں تک کام کرنے کے بعد لینڈر اور رووَر سلیپ موڈ میں چلے گئے تھے۔ 14 دنوں تک لینڈر ماڈیول نے بہت اچھا کام کیا اور کافی ڈاٹا اِسرو نے جمع کر لیے ہیں۔ خلائی سائنسداں ڈاکٹر آر سی کپور سے جب لینڈر اور رووَر کے پھر سے فعال ہونے کو لے کر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’لینڈر اور رووَر اپنا کام کر چکے ہیں۔ جب دونوں کو سلیپ موڈ میں ڈالا گیا تو دونوں کے سبھی پارٹس صحیح طریقے سے کام کر رہے تھے۔ اِسرو کے پاس پہلے سے ہی کافی ڈاٹا اکٹھا ہو گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہو سکتا ہے میشنیں پہلے جیسی کنڈیشن میں پھر سے کام نہ کر سکیں، لیکن پھر بھی کچھ امید باقی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اچھی خبر مل جائے۔ چاند پر دن نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ رووَر کو پہلے سے ہی اس طرح سے رکھا گیا ہے کہ جب سورج نکلے تو اس کی روشنی سیدھے رووَر کے سولر پینلز پر پڑے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3Jd5XbM

ایلون مسک نے انسانی دماغ میں کمپیوٹر چپ لگانے والے پہلے مریض کی تلاش شروع کر دی

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک جلد ہی انسانی دماغ میں کمپیوٹر چپ لگانے جا رہے ہیں۔ مسک کی کمپنی نیورالنک کو انسانی دماغ میں ایک چپ لگانے کی اجازت مل گئی ہے اور کمپنی اب پہلے شخص کی تلاش میں ہے۔ ابتدائی طور پر یہ چپ ایسے شخص کے سر میں لگائی جائے گی جو گردن کی چوٹ یا امیوٹروفک لیٹرل سکلیروسیس (ALS) کی وجہ سے مفلوج ہو گیا ہے۔

مسک کی کمپنی نے مریضوں کی تلاش شروع کر دی ہے اور یہ ٹرائل جلد شروع ہو گی۔ کمپنی کو اس تحقیق کو مکمل کرنے میں 6 سال لگیں گے۔ اگر ٹرائل کامیاب ہوتی ہے تو نیورالنک کی وجہ سے فالج زدہ افراد مستقبل میں اچھی زندگی گزار سکیں گے۔

ایلون مسک 10 افراد پر نیورالنک چپ آزمانا چاہتے تھے لیکن امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر 10 افراد پر کمپنی کو منظوری نہیں دی۔ تاہم اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ کتنے لوگوں کو اس کے لیے منظوری دی گئی ہے۔

ایلون مسک کی کمپنی انسانی آزمائشوں کے حصے کے طور پر روبوٹ کے ذریعے انسانی دماغ میں برین کمپیوٹر انٹرفیس   ( BCI )کے طور پر لگائے گی۔ اس کی مدد سے خیالات کو عمل میں تبدیل کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر کمپنی کا ہدف کی بورڈ اور ماؤس جیسے بیرونی آلات کو چپ کی مدد سے کنٹرول کرنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ آلات خیالات کی بنیاد پر خود بخود کام کریں گے۔ 2020 میں، نیورلنک نے کام کرنے والے( BCI )کا مظاہرہ کیا جس میں ایک کمپیوٹر کرسر کو بندر کے دماغ سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔

نوٹ کریں، یہاں تک کہ اگر بی سی آئی انسانی آزمائش کامیاب ہو جاتی ہے، تو کمپنی کو اس چپ کو تجارتی طور پر لانے میں 10 سال سے زیادہ کا وقت لگے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفلوج افراد 1 دہائی کے بعد ہی اس کا فائدہ حاصل کر سکیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5L8d9pN

جمعہ، 15 ستمبر، 2023

’ہماری زمین کی وجہ سے چاند پر بن رہا پانی!‘ چندریان-1 کے ڈاٹا سے سائنسداں پُرجوش

ایک طرف ہندوستانی سائنسداں چندریان-3 کی کامیابی کے بعد حاصل ڈاٹا کی تحقیق میں مصروف ہیں، اور دوسری طرف چندریان-1 کے ڈاٹا پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک اہم راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ اِسرو کی طرف سے 2008 میں بھیجے گئے چندریان-1 نے چاند پر پانی کی موجودگی کا اندازہ تو پہلے ہی لگا لیا تھا، اب ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چاند پر پانی ہماری زمین کی وجہ سے بن رہا ہے۔

دراصل چندریان-1 مشن کے ریموٹ سنسنگ ڈاٹا کا تجزیہ کرنے والے سائنسدانوں نے اخذ کیا ہے کہ ہماری زمین سے جانے والے ہائی انرجی الیکٹران چاند پر پانی بنا سکتے ہیں۔ امریکہ کے منووا میں ہوائی یونیورسٹی کے محققین کی قیادت والی ٹیم نے پایا کہ ہماری زمین کی پلازمہ شیٹ میں یہ الیکٹران چاند کی سطح پر ایروزن عمل سے چٹانوں اور معدنیات کے ٹوٹنے یا گھلنے میں تعاون دے رہے ہیں۔ نیچر ایسٹرونومی جرنل میں شائع تحقیق میں اخذ کیا گیا کہ الیکٹرانس نے چاند پر پانی بنانے میں مدد کی ہوگی۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پروٹون جیسے اعلیٰ توانائی ذرات سے بنی شمشی ہوا چاند کی سطح پر بمباری کرتے ہیں اور مانا جاتا ہے کہ چاند پر پانی بننے کے ابتدائی طریقوں میں سے یہ ایک ہے۔ ٹیم نے چاند کے ہماری زمین کے میگنیٹوٹیل سے گزرنے پر سطح کے موسم میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانچ کی۔ تحقیق میں چاند کے ایک ایسے علاقے کا پتہ چلا جو شمسی ہوا سے تقریباً پوری طرح سے بچا ہے لیکن سورج کی روشنی ’فوٹون‘ سے نہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GDk7WQX

جمعرات، 14 ستمبر، 2023

’ہماری دنیا کے علاوہ بھی دنیا موجود!‘ ناسا نے یو ایف او پر جاری کی رپورٹ

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 14 ستمبر کو ایک حیران کرنے والی رپورٹ جاری کی۔ یہ رپورٹ یو ایف او (غیر شناخت شدہ اڑن طشتری) پر مبنی ہے جو 33 صفحات پر مشتمل ہے۔ ناسا نے یو ایف او سے متعلق تقریباً ایک سال کی اسٹڈی کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس میں ناسا نے بتایا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ غیر واضح واقعات کے پیچھے ایلینس (دوسری دنیا کے باشندے) ہی ہیں، لیکن اس امکان سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ناسا کے مطابق یو ایف او پر تفصیلی مطالعہ کے لیے نئی سائنسی تکنیکوں اور جدید سیٹلائٹس کی ضرورت ہوگی۔ رپورٹ میں ناسا نے مانا ہے کہ یو ایف او ہمارے سیارہ کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہیں۔ رپورٹ جاری کرتے ہوئے ناسا کے منیجر بل نیلسن نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ اس کائنات میں اَرتھ (زمین) کے علاوہ بھی زندگی ہے۔ ناسا کے مطابق جن نئے مشن سے متعلق منصوبہ بنایا جا رہا ہے، ان میں سیارہ کی فضا اور سطح پر ایلینس تکنیک کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کریں گے۔ ناسا نے یہ بھی کہا کہ وہ یو ایف او پر تحقیق کے لیے نئے ڈائریکٹر کا اعلان کریں گے۔

رپورٹ میں جانکاری دی گئی ہے کہ زمین پر نظر رکھنے والی سیٹلائٹس میں اسپیٹیل ریزولوشن کی کمی ہوتی ہے، جس کے سبب یو ایف او یا یو اے پی جیسے چھوٹے آبجیکٹس پر نظر نہیں رکھی جا سکتی۔ پنٹاگن نے قبل میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں بحریہ کے پائلٹس نے امریکہ کے مشرقی اور مغربی ساحلوں پر کچھ پراسرار ایئرکرافٹ دیکھے تھے۔ ان ایئرکرافٹس کی رفتار موجودہ ہوابازی تکنیک سے بھی زیادہ تھی، ساتھ ہی ایئرکرافٹ کی بناوٹ بھی پراسرار تھی، جس میں یہ پتہ نہیں پایا کہ فلائٹ کو کنٹرول کہاں سے کیا جا رہا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اے آئی (آرٹیفیشیل انٹلیجنس) یعنی مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ تکنیک کی مدد سے یو ایف او کو لے کر مطالعہ کیا جائے گا۔ اس سال کے شروع میں ناسا کی ایک ٹیم نے زور دے کر کہا تھا کہ یو ایف او سے جڑے مافوق الفطرت زندگی کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے، لیکن اب تازہ رپورٹ میں ناسا نے اعتراف کیا ہے کہ ہمارے سیارہ کے باہر بھی زندگی ہو سکتی ہے۔ ناسا نے کہا کہ ابھی مناسب ڈاٹا نہیں ہے جس کی وجہ سے یو ایف او کو لے کر کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yH9TzAX

ہفتہ، 9 ستمبر، 2023

آدتیہ ایل-1 نے تیسری مرتبہ کامیابی کے ساتھ تبدیل کیا مدار

بنگلورو: ہندوستان کے شمسی مشن آدتیہ ایل ون نے تیسری بار مدار تبدیل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ معلومات انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے دی ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کیا کہ آدتیہ ایل ون نے بنگلورو کے اسٹراک سینٹر سے تیسری بار زمین کے مدار کو تبدیل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کیا ہے۔ آدتیہ ایل ون کو ہٹانے کے عمل کو بنگلورو میں اسرو کے ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اور کمانڈ نیٹ ورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) سے ہدایت کی گئی تھی۔ اس مشن کی پیشرفت کا پتہ ماریشس، بنگلورو اور پورٹ بلیئر میں اسرو کے گراؤنڈ اسٹیشنوں سے لگایا گیا۔

اسرو کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق آدتیہ ایل ون کا نیا مدار 296 کلومیٹر - 71767 کلومیٹر ہے۔ اب اگلا عمل 15 ستمبر کو صبح 2 بجے کے قریب ہوگا۔ خیال رہے کہ سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے اسرو نے 2 ستمبر کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے اپنے باوقار مشن آدتیہ ایل ون کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا تھا۔

آدتیہ ایل ون پہلے ہی زمین کے دو مدار تبدیل کر چکا تھا۔ اس نے پہلا مدار 3 ستمبر کو اور دوسرا مدار 5 ستمبر کو تبدیل کیا اور اب ہندوستان کے پہلے شمسی مشن نے اپنا تیسرا مدار کامیابی سے تبدیل کر دیا ہے۔ زمین کے مدار کو تبدیل کرنے کے لیے چوتھی مشق 15 ستمبر کو دوپہر 2 بجے کے قریب شیڈول ہے۔ اسرو کے مطابق آدتیہ ایل ون زمین کے مدار میں 16 دن گزارے گا۔ اس مدت کے دوران، آدتیہ ایل ون کے مدار کو تبدیل کرنے کے لیے 5 بار ارتھ باؤنڈ فائر کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/iwOSyZn