ہفتہ، 18 نومبر، 2023

چندریان-4: اس بار 30 کلو کی جگہ 350 کلو کا لینڈر چاند کی سطح پر اتارنے کے تئیں اِسرو پرعزم!

چندریان-3 کی کامیابی کے بعد ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) نے اب مزید دو چاند مشن کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ احمد آباد واقع اسرو سنٹر کے ڈائریکٹر نلیش دیسائی نے ہندوستانی موسمیاتی سائنس ادارہ کے 62ویں یومِ تاسیس پر جمعہ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس سلسلے میں اہم جانکاریاں دیں۔ انھوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’ہم اس بار چاند کی قطبی تحقیق کے مشن پر کام کرنے جا رہے ہیں۔ چندریان-3 سے ہم 70 ڈگری تک گئے تھے، اس بار 90 ڈگری تک جانے کا منصوبہ ہے۔‘‘

نلیش دیسائی نے بتایا کہ سائنسداں چاند کے تاریک حصے کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لیے ہم 90 ڈگری تک جائیں گے اور وہاں ایک بڑے رووَر کو اتاریں گے۔ اس کا وزن 350 کلوگرام تک ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ چندریان-3 کا رووَر صرف 30 کلوگرام کا تھا۔ یعنی چندریان-4 مشن میں لینڈر بھی بہت بڑا ہوگا۔ اس مشن کے تعلق سے نلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے چندریان-4 مشن کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسے لونر سیمپل ریٹرن مشن کہا جائے گا۔ اس مشن میں ہم چاند پر اتریں گے اور اس کی سطح سے نمونہ لے کر واپس آ سکیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا مستقبل میں کئی اہم پروجیکٹ پر اِسرو کے ساتھ مل کر کام کرنے والا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں اعلیٰ سطح پر گفت و شنید بھی ہوئی۔ ناسا جیٹ پروپلشن لیباریٹری کے ڈائریکٹر لاری لیشن نے اِسرو ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور اِسرو چیف و خلائی محکمہ کے سکریٹری ایس سومناتھ کے ساتھ میٹنگ کی۔ اِسرو نے اس ملاقات کے بعد کہا کہ ’’یہ بے حد خوشی کی بات ہے۔ ڈاکٹر لاری لیشن نے ’ناسا-اِسرو سنتھیٹک ایپرچر رڈار (این آئی ایس اے آر)‘ کو کامیاب بنانے میں اِسرو کے یو آر راؤ سیٹلائٹ سنٹر (یو آر ایس سی) میں ایک ٹیم کی شکل میں مل کر کام کیا۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GKsfEie

جمعہ، 17 نومبر، 2023

’چیٹ جی پی ٹی‘ بنانے والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے ’سی ای او‘ سیم آلٹ مین کو کیا برطرف

واشنگٹن: چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے جمعہ کو کہا کہ اس نے سی ای او سیم آلٹ مین کو برطرف کر دیا ہے۔ کمپنی کو لگتا ہے کہ وہ اب مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ فرم کی قیادت کرنے کے قابل نہیں ہے۔

اے ایف پی کی خبر کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کو تقریباً ایک سال قبل 38 سالہ آلٹ مین نے تیار کیا تھا۔ چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے اجراء کے ساتھ وہ ٹیک کی دنیا میں ایک سنسنی بن گئے، جو بے مثال صلاحیتوں والا مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ ہے۔ چیٹ جی پی ٹی چند لمحات میں وہ کام دیتا ہے جسے کرنے میں گھنٹوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

اوپن اے آئی بورڈ نے ایک بیان میں کہا، ’’آلٹ مین کو برطرف کرنے کا فیصلہ انتہائی غور و فکر کے ساتھ کیا گیا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد بورڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ سیم آلٹ مین اپنے کام کے بارے میں واضح نہیں تھے، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنے کام کو انجام دینا مشکل ہو گیا تھا۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ "بورڈ کو اب اوپن اے آئی کی قیادت جاری رکھنے کی ان کی صلاحیت پر اعتماد نہیں ہے۔‘‘

پچھلے سال ایپ کو جاری کرنے کے آلٹ مین کے فیصلے کے ایسے نتائج نکلے جن کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، جس نے مسوری میں پیدا ہونے والے اسٹینفورڈ کے طالب علم کو گھریلو شہرت اور اسٹارڈم کی طرف راغب کیا۔ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ اے آئی ریس کا آغاز ہوا، جس میں ٹیک کمپنیاں ایمیزون، گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ’’بورڈ اوپن اے آئی کے قیام اور ترقی میں سیم کی بہت سی شراکتوں کے لیے شکر گزار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کے ساتھ نئی قیادت ضروری ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ آلٹ مین کی جگہ کمپنی کی چیف ٹیکنالوجی آفیسر میرا موراتی کو عبوری بنیادوں پر مقرر کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ehuzg4D

جمعرات، 16 نومبر، 2023

دماغ کو زندہ رکھنے اور پڑھنے کے آلات ایجاد

سائنسدانوں نے دماغ کو جسم سے الگ کر کے زندہ رکھنے کا ڈیوائس یا آلہ ایجاد کر لیا ہے۔ اس ڈیوائس کے ذریعے نئی ٹیکنالوجی اور تحقیق کی کا راستہ ہموار ہوگا جو آج سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے جو دماغ کے جسم کے باقی حصوں سے آزاد یا الگ ہونے کے باوجود دماغ کو زندہ رکھ سکتا ہے۔

امریکہ میں یو ٹی ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کے ریسرچرز ،کیٹامین کے ساتھ اینستھیٹائزڈ ،خنزیر کے دماغ میں خون کے بہاؤ کو الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ کمپیوٹرائزڈ الگورتھم نے ضروری بلڈ پریشر، حجم، درجہ حرارت اور غذائی اجزاء کو برقرار رکھا جس کی عضو کو ضرورت ہوتی ہے۔ نیورولوجسٹ کی ٹیم نے رپورٹ کیا کہ دماغ کی سرگرمی میں پانچ گھنٹے کی مدت میں کم سے کم تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، باوجود اس کے کہ جسم کے باقی حصوں سے کوئی حیاتیاتی ان پٹ حاصل نہیں ہوا۔

سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے کی کامیابی سے دوسرے جسمانی افعال کے اثر کے بغیر، انسانی دماغ کا مطالعہ کرنے کے لیے نئے طریقے پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں دماغ کی پیوند کاری یا ٹرانسپلانٹ کے امکانات کو روشن کرتی ہے۔

یوجین میک ڈرموٹ سینٹر میں نیورولوجی، پیڈیاٹرکس اور فزیالوجی کے پروفیسر جوآن پاسکول نے کہا،یہ نیا طریقہ ایسی تحقیق کو ممکن بناتا ہے جو جسم سے آزاد دماغ پر مرکوز ہے، جس سے ہمیں جسمانی سوالات کے جوابات اس طریقے سے دینے کی اجازت ملتی ہے جو کبھی نہیں کیا گیا تھا۔

اپنی نوعیت کا پہلا نظام، جسے ایکسٹرا کارپوریل پلسٹائل سرکولیٹری کنٹرول (ای پی سی سی) کہا جاتا ہے، پہلے ہی بیرونی عوامل پر غور کیے بغیر دماغ پر ہائپوگلیسیمیا کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔ کم بلڈ شوگر کی تحقیق میں عام طور پر جانوروں کے کھانے کی مقدار کو محدود کرنا، یا انہیں انسولین کے ساتھ خوراک دینا شامل ہے، تاہم جانوروں کے جسموں کے پاس میٹابولزم کو تبدیل کرکے ان عوامل کی تلافی کرنے کے اپنے قدرتی طریقے ہیں۔ اس طرح دماغ کو الگ تھلگ کرنے سے ریسرچرز کو جسم کے قدرتی دفاعی میکانزم سے آزادانہ طور پر غذائی اجزاء کی مقدار کے اثرات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔

اس تحقیق کی تفصیل ’سائنسی رپورٹس ‘نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے ، جس کا عنوان تھا ’مین ٹیننس آف پگ برین فنکشن انڈر ایکسٹرا کارپوریل پلسٹائل سرکولیٹری کنٹرول (ای پی سی سی)‘ ۔

دماغ کے تعلق سے ایک اور پیش رفت میں سائنسدانوں نے دماغ پڑھنے والا آلہ بھی ایجاد کر لیاہے۔ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ دماغی کمپیوٹر انٹرفیس کی دیگر ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں تیز اور کم بوجھل ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسا دماغی امپلانٹ ایجاد کیا ہے جو اس کے پہننے والوں کو صرف خیالات کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بات چیت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی کے نیورو سائنسدانوں، نیورو سرجنز اور انجینئرز کی طرف سے تیار کردہ ـ اسپیچ پروسٹھیٹک یا مصنوی بولی ـ دماغی اشاروں کو الفاظ میں تبدیل کرنے کے قابل ہے۔ریسرچرز کا دعویٰ ہے کہ دماغی کمپیوٹر انٹرفیس اور دماغ پڑھنے والی دیگر ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں اسپیچ پروسٹھیٹک ’نیورولوجیکل ڈس آرڈر‘ یا اعصابی عوارض میں مبتلا لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔

ڈیوک یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن میں نیورولوجی کے پروفیسر گریگوری کوگن کے مطابق بہت سے مریض ایسے عارضوں میں مبتلا ہیں جیسے لاک ان سنڈروم، جو ان کی بولنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔لیکن ان کو بات چیت کرنے کے لیے دستیاب موجودہ ٹولز عام طور پر بہت سست اور بوجھل ہیں۔

سائنس دانوں کی ٹیم 256 خاص طور پر ڈیزائن کئے گئے مائکروسکوپک دماغ کے سینسروں کو میڈیکل گریڈ پلاسٹک کے ڈاک ٹکٹ سائز کے ٹکڑے پر پیک کرنے میں کامیاب رہی، جس کا تجربہ دماغ کی سرجری سے گزرنے والے مریضوں پر کیا گیا تھا ،جیسے کہ ٹیومر کو ہٹانا وغیرہ۔

اس تجربہ کے شرکاء سے کہا گیا کہ وہ بے تکے یا بے معنی الفاظ سنیں اور پھر انہیں بلند آواز میں بولیں۔ صرف 90 سیکنڈ کے بولے گئے ڈیٹا کے ساتھ، پھر عصبی سرگرمی کو الفاظ میں بیان کرنے کے لیے ایک اے آئی الگورتھم استعمال کیا گیا۔ ریسرچرز اب اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اس کی رفتار کو بہتر بنایا جا سکے اور اسے وائرلیس بنایا جا سکے۔ مزید براں اسے جاری رکھنے کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے 24 لاکھ ڈالر کی گرانٹ فراہم کی ہے۔

پروفیسر کوگن کے مطابق مریض گھومنے پھرنے کے قابل ہو جائیں گے اور انہیں بجلی کے آؤٹ لیٹ سے منسلک نہیں ہونا پڑے گا، جو کہ واقعی دلچسپ ہے۔ ڈیوک انسٹی ٹیوٹ فار برین سائنسز کے فیکلٹی ممبر جوناتھن ویوینٹی کے مطابق ہم اس مقام پر ہیں جہاں یہ قدرتی تقریر کے مقابلے میں اب بھی بہت سست ہے، لیکن آپ اس رفتار کی پیش رفت کو دیکھ کر پرامید ہو سکتے ہیں کہ آپ وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

تحقیق کا ایک تفصیلی مطالعہ ’نیچر کمیونیکیشنز‘ نامی جریدے میں ’ہائی ریزولوشن نیورل ریکارڈنگز اسپیچ ڈی کوڈنگ کی درستگی کو بہتر بناتی ہیں‘ کے زیر عنوان شائع ہوا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/tjk64Xw

بدھ، 15 نومبر، 2023

دنیا کا سب سے تیز انٹرنیٹ ہوا لانچ، ایک سیکنڈ میں 150 فلم ڈاؤن لوڈ کرنے کی صلاحیت!

کیا آپ یقین کریں گے کہ انٹرنیٹ کی اسپیڈ اتنی زیادہ ہو جب ایک سیکنڈ میں 150 فلمیں ڈاؤن لوڈ کی جا سکیں۔ ایسا ممکن بنایا ہے چین کی کمپنیوں نے۔ دراصل دنیا کا سب سے تیز انٹرنیٹ لانچ ہو چکا ہے۔ چینی کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس انٹرنیٹ کے ذریعہ 1.2 ٹیرا بائٹ (ٹی بی) فی سیکنڈ پر ڈاٹا ٹرانسمٹ کیا جا سکتا ہے۔ جنوبی چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ انٹرنیٹ اسپیڈ فی الحال دنیا میں موجود سب سے تیز انٹرنیٹ اسپیڈ کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ تیز ہے۔ پہلے ایسا اندازہ تھا کہ چین یہ انٹرنیٹ اسپیڈ 2025 میں حاصل کر سکے گا، لیکن اس نے سبھی کو حیران کرتے ہوئے 2023 میں ہی یہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ پروجیکٹ سنگھوا یونیورسٹی، چائنا موبائل، ہواویئی ٹیکنالوجیز اور سینینٹ کارپوریشن نے مل کر لانچ کیا ہے۔ 3000 کلومیٹر سے زیادہ چوڑائی تک پھیلا یہ نیٹورک ایک وسیع آپٹیکل فائبر کیبلنگ سسٹم کے ذریعہ سے بیجنگ، وُہان اور گوانگژو کو جوڑتا ہے۔ یہ فی سیکنڈ حیرت انگیز 1.2 ٹیرا بائٹ (1200 گیگا بائٹس) فی سیکنڈ ڈاٹا ٹرانسمٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا کے بیشتر انٹرنیٹ بیک بون نیٹورک صرف 100 گیگا بائٹس فی سیکنڈ پر کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ میں بھی انٹرنیٹ کے حالیہ اَپگریڈ کے بعد اسپیڈ 400 جی بی فی سیکنڈ تک ہی ہے، جو چین کے نئے نیٹورک سے بہت پیچھے ہے۔

بیجنگ-وُہان-گوانگژو کنکشن دیرینہ فیوچر انٹرنیٹ ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر (ایف آئی ٹی آئی) پروجیکٹ کا حصہ ہے، جو ایک دہائی سے چل رہا ہے۔ یہ جولائی میں فعال ہوا اور پیر کے روز آفیشیل طور پر لانچ کیا گیا۔ اس انٹرنیٹ نیٹورک نے سبھی آپریشنل ٹیسٹ کو پار کر لیا ہے اور بھروسہ مند کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ چین جلد ہی اس ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس کی توسیع ملک کے دیگر حصوں میں بھی کرے گا۔

بہرحال، ہواویئی ٹیکنالوجیز کے نائب سربراہ وانگ لیئی نے بتایا کہ اس نیٹورک کی اصل اسپیڈ کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ’’صرف ایک سیکنڈ میں 150 ہائی ڈیفنشن (ایچ ڈی) فلموں کے برابر ڈاٹا ٹرانسفر کرنے میں اہل ہے۔‘‘ اس درمیان چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ایف آئی ٹی آئی پروجیکٹ لیڈر وو جیانپنگ نے کہا کہ سپر فاسٹ لائن نہ صرف ایک کامیاب آپریشن تھا، بلکہ یہ چین کو مزید تیز انٹرنیٹ بنانے کے لیے ایڈوانس ٹیکنالوجی بھی دیتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QqBO9EW

منگل، 14 نومبر، 2023

’نثار‘ مشن پر ساتھ مل کر کام کر رہے اِسرو اور ناسا، 2024 میں مشن لانچ کرنے کی تیاری

ہندوستانی خلائی ایجنسی اِسرو اور امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنسداں ایک ساتھ مل کر ’نثار‘ (این آئی ایس اے آر) مشن پر کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جیٹ پروپلشن لیباریٹری (جے پی ایل)، نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کی ڈائریکٹر لاری لیشن نے کہا کہ ’’دونوں خلائی ایجنسیوں اسرو اور ناسا کے سائنسداں ناسا-اِسرو سنتھیٹک ایپرچر رڈار (این آئی ایس اے آر) مشن پر مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ خلائی طیارہ سے آنے والے ڈاٹا کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ نثار مشن کو 2024 کے شروع میں لانچ کیا جانا ہے۔ نثار (ناسا-اسرو سنتھیٹک ایپرچر رڈار) کی مختصر شکل ناسا اور اِسرو کے ذریعہ مشترکہ طور سے تیار کی جا رہی ہے تاکہ زمین کی سطح اور برف کی سطح کی سرگرمیوں کو بے حد باریکی سے ٹریک کیا جا سکے۔ لیشن نے بنگلورو میں خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ ’’ہم نثار پر ناسا اور اِسرو کے درمیان کام کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں، جو زمین کی سطح کو دیکھنے کے لیے ایک رڈار مشین ہے اور ساتھ ہی بتائے گا کہ یہ کس طرح تبدیل ہو رہی ہے۔ ہندوستان میں وہ یہ سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ساحلوں پر مینگروو ماحول کیسا ہے اور کس طرح بدل رہا ہے۔ ہم پتہ لگائیں گے کہ برف کی چادریں کس طرح بدل رہی ہیں اور دنیا بھر میں زلزلے و آتش فشاں کیسے آ رہے ہیں۔ ہماری زمین کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے کئی الگ الگ پہلو ہیں۔‘‘

لیشن کا کہنا ہے کہ ’’بنگلورو میں جے پی ایل (جیٹ پروپلشن لیباریٹری) کے ہمارے ساتھی کا اِسرو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنا بہت دلچسپ رہا ہے۔ حیرت انگیز تعاون، شاندار ٹیم وَرک اور ایک دوسرے سے سیکھنا، ٹیم بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ مشن پر اِسرو اور ناسا مل کر 50-50 فیصد کی طرح کام کر رہے ہیں۔‘‘ ناسا سے تعلق رکھنے والی لیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ زمینی سائنس سے الگ ہر طرح کی چیزوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، غالباً چاند اور مریخ سیارہ پر مستقبل کے مشنوں میں بھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/e3iDrZ2

بدھ، 8 نومبر، 2023

عالمی سطح پر 2023 گرم ترین سال، اکتوبر سب سے زیادہ گرم مہینہ

اکتوبر کا ریکارڈ درجہ حرارت اس بات کی ضمانت ہے کہ 2023 گرم ترین سال ہو گا۔ صنعتی دور سے پہلے اس مہینے کے اوسط سے موازنہ کریں تو یہ 1.7 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم رہا اور مسلسل پانچواں مہینہ جس کی بنا پر 2023 کو یقینی طور پر اب تک کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا۔

اس سال اکتوبر کا مہینہ 2019 کے پچھلے ریکارڈ کے مقابلے میں 0.4 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم تھا۔ مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹس کے مطابق یورپی موسمیاتی ایجنسی ،کلائمیٹ چینج سروس، جو عالمی سطح کی ہوا ،سمندری درجہ حرارت اور دیگر اعداد و شمار کا مشاہدہ شائع کرتی ہے، کی ڈپٹی ڈائریکٹر سمانتھا برجیس نے کہا ہےکہ جس حساب سے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں وہ حیران کن ہے۔ پچھلے کئی مہینوں کی مجموعی حدت کے بعد، اس بات کو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ 2023 گرم ترین سال ریکارڈ ہوگا۔

سائنس دان آب و ہوا کے متغیرات کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ ہمارا سیارہ انسانی پیدا کردہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے نتیجے میں کیسے تیار ہو رہا ہے۔ ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں گلوبل فیوچر لیبارٹری کے نائب صدر پیٹر شلوسر کے مطابق گرم سیارے کا مطلب ہے شدید موسم اور شدید واقعات جیسے خشک سالی یا سمندری طوفان جن میں زیادہ پانی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، یہ ایک واضح نشانی ہے کہ ہم ایک ایسے موسمیاتی نظام میں جا رہے ہیں جس کا زیادہ سے زیادہ لوگوں پر اثر پڑے گا۔ہمیں اس انتباہ کو بہتر طور پر لینا چاہیے بلکہ حقیقت میں ہمیں 50 سال پہلے لینا چاہیے تھا اور صحیح نتیجہ اخذ کرنا چاہیے تھا۔

یہ سال غیر معمولی طور پر بہت گرم رہا ہے کیونکہ سمندر گرم ہو رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ ماضی کے مقابلے میں گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے میں کمزور پڑرہے ہیں۔ برجیس کے مطابق ،تاریخی طور پر سمندر نے موسمیاتی تبدیلی سے 90 فیصد اضافی گرمی جذب کر لی ہےلیکن ’ال نینو‘ کے سبب آنے والے مہینوں میں مزید گرمی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ال نینو قدرتی آب و ہوا کا ایک ایساچکر ہےجو سمندر کے کچھ حصوں کو عارضی طور پر گرم کرتا ہے اور دنیا بھر میں موسمی تبدیلیوں کو چلاتا ہے۔شلوسر نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کو اس حدت کے نتیجے میں مزید ریکارڈ ٹوٹنے کی توقع کرنی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چھوٹے قدم آگے بڑھیں گے۔ زمین پر درجہ حرارت پہلے ہی صنعتی دور سے پہلے کے مقابلہ 1.5 ڈگری سیلسیس سے بڑھ رہا ہے جسے پیرس معاہدے کے مقاصد کے تحت محدود کرنا تھا۔ دوسرے یہ کہ زمین نے ابھی تک اس حدت کا مکمل اثر نہیں دیکھا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سیارے کوگرم کرنے والے اخراج کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیریس نے 20 ستمبر کو منعقد ہوئے موسمیاتی سربراہی اجلاس میں ’جہنم کے دروازے‘ سے خبردار کیا، لیکن کاربن آلودگی پھیلانے والے ممالک خاموش رہے۔ اعلیٰ بین الاقوامی عہدیداروں نے کہا کہ دنیا کے رہنما اب بھی گرمی بڑھانےوالی گیسوں کی آلودگی کو روکنے کے لیے کافی کام نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اخراج کرنے والی بڑی قوموں سے مزید کام کرنے کی التجا کی۔ لیکن وہ قومیں خاموش رہیں۔ انہیں بولنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ منتظمین کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی نیا اقدام نہیں تھا۔ اقوام متحدہ نے صرف ان ممالک کوبلایا تھاجنہوں نے اپنی کوششوں پر زور دیا ہے، اور یہ ممالک دنیا کی سالانہ کاربن آلودگی کے صرف نویں حصے کے ذمہ دار ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے آب و ہوا کے عزائم پرخصوصی سربراہی اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں، گرمی کے خوفناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پریشان کسان سیلاب کی زد میں آنے والی فصلوں کو بہتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت بیماری کو جنم دیتا ہے اور ہزاروں لوگ تاریخی بھڑکتی آگ کے خوف سے بھاگ رہے ہیں۔

اس سربراہی اجلاس میں صرف ان عالمی رہنماؤں کو بلایا گیا تھا جو نئے ٹھوس اقدامات کے ساتھ آئے لیکن ان ممالک کے رہنماؤں نے جو خود سب سے زیادہ گرمی پیدا کرنے والی گیسوں کا اخراج کرتے ہیں انہوں نے پوچھنا بھی گوارا نہیں سمجھا۔ چین، امریکہ ، ہندوستان، روس، برطانیہ اور فرانس کے سربراہان مملکت نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ امریکہ، جس نے کئی دہائیوں کے دوران فضا میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کیا ہے، اپنے آب و ہوا کے ایلچی جان کیری کو سربراہی اجلاس میں بھیجا تھا لیکن کیری کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

اس کے برعکس امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم کو بات کرنے اور ان کی ریاست کی کوششوں کو بیان کرنے کی اجزت دی گئی۔علاوہ ازیں یورپی کمیشن کے صدر کو بھی بولنے کی اجازت دی گئی۔ 32 قومی رہنما جنہوں نے کوالیفائی کیا وہ دنیا کی کاربن ڈائی آکسائیڈ آلودگی کے صرف 11 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چین اور امریکہ دونوں ان 32 ممالک سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔

اگرچہ 2015 میں دنیا نے صنعتی دور سے پہلے سے گرمی کو 1.5 ڈگری سیلسیس (2.7 ڈگری فارن ہائیٹ) تک محدود کرنے کا ہدف اپنایا تھا، اس کے بجائے زمین 2.8 ڈگری سیلسیس (5 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہے – 19ویں صدی کے وسط سے اب تک دنیا پہلے ہی کم از کم 1.1 ڈگری سیلسیس گرم کر چکی ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ گٹیرس نے ایک خطرناک اور غیر مستحکم دنیا سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی مستقبل طے نہیں ہے۔ یہ دنیا کےلیڈروں پر منحصر ہے کہ وہ اس کا تعین کریں۔ انہوں نے زیادہ اخراج کرنے والے ممالک ، جنہوں نے حیاتیاتی یا فوسل ایندھن سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے ، سے اخراج کو کم کرنے کے لئے اضافی کوششیں کرنے اور دولت مند ممالک سے اس ضمن میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مدد کرنے پر زور دیا۔لیکن وہ سب ممالک خاموش ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/apQc9ZB

جمعہ، 27 اکتوبر، 2023

وزیر اعظم مودی نے آئی ایم سی 2023 کا افتتاح کیا، نیٹ ورک آلات میں خود انحصاری کو سکیورٹی کے لیے ضروری قرار دیا

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے انٹرنیٹ ٹکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے موجودہ دور میں سائبر سیکورٹی اور بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ سائبر سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے نیٹ ورک آلات کے معاملے میں خود انحصاری بہت ضروری ہے۔

وزیر اعظم مودی آج راجدھانی میں انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی ) 2023 کا افتتاح کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کی 100 یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 5G ایپ ڈویلپمنٹ لیبارٹریز کے افتتاح کا بھی اعلان کیا۔ پرگتی میدان کے بھارت منڈپم میں منعقدہ اس سہ روزہ کانفرنس میں ٹیلی کام، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انڈسٹری کی کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔

وزیراعظم نے اس کانفرنس میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی نمائش بھی دیکھی۔ انہوں نے دہلی اور آس پاس کے علاقوں کے نوجوانوں سے نمائش میں آنے اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کی سمت کو دیکھنے اور اس سے تحریک لینے کی اپیل کی۔

سائبر سیکورٹی کی اہمیت کے بارے میں، انہوں نے کہا، "آپ سب جانتے ہیں کہ سائبر سیکورٹی اور انفراسٹرکچر کی سائبر سیکورٹی کتنی اہم ہے۔ حال ہی میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس میں اس موضوع پر خصوصی طور پر بحث کی گئی اور کہا گیا کہ جمہوری سماج میں گڑبڑی پیدا کرنے والوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان 2014 کے بعد ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نئی ​​بلندیاں حاصل کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم ہندوستان میں نہ صرف 5جی کی توسیع کررہے ہیں بلکہ 6جی کے شعبے میں بھی لیڈر بننے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

افتتاحی اجلاس سےٹیلی کام اوراطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی وشنو، ریلائنس جیو کے آکاش امبانی، بھارتی ایرٹیل کے سنیل بھارتی مترا اور ووڈافون آئیڈیا کے سربراہ کمار منگلم بڈلا نے بھی خطاب کیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ggo2VYU

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2023

گگن یان مشن کے پہلے مرحلے کا کامیاب تجربہ، اسرو چیف نے بتایا لانچ میں تاخیر کیوں ہوئی

سری ہری کوٹا: اسرو نے اپنے انتہائی اہمیت کے حامل مشن گگن یان کے پہلے مرحلے کی پرواز کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ گگن یان کے کرو ماڈیول کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا سے لانچ کیا گیا۔ ابتدائی طور پر یہ ٹرائل صبح 8.45 بجے ہونا تھا لیکن کمپیوٹر کی خرابی کی وجہ سے اسے لانچ سے کچھ دیر پہلے ہی روک دیا گیا۔ اسرو نے صرف آدھے گھنٹے میں تکنیکی خرابی کو دور کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ اسرو چیف نے گگن یان مشن کے کامیاب لانچ پر خوشی کا اظہار کیا۔

سری ہری کوٹا سے ٹیک آف کرنے کے بعد گگن یان خلیج بنگال میں اترا۔ ٹیک آف کے بعد سب سے پہلے آزمائشی گاڑی کرو ماڈیول اور کریو ایسکیپ سسٹم کو آسمان میں لے کر گئی اور پھر 594 کلومیٹر کی رفتار کے ساتھ کرو ماڈیول اور کرو ایسکیپ سسٹم 17 کلومیٹر کی اونچائی پر علیحدہ ہوا۔ اس کے بعد پانی سے ڈھائی کلومیٹر کی بلندی پر ماڈیول کے مین پیراشوٹ کھلنے کے ساتھ ہی ہی اس کی لینڈنگ خلیج بنگال میں ہوئی۔

اب یہاں سے کرو ماڈیول اور ایسکیپ ماڈیول کو بازیاب کیا جائے گا۔ اسرو کے اس ٹیسٹ کا مقصد 2025 کے لیے گگن یان مشن کی تیاری کرنا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ گگن یان مشن کے دوران خلابازوں کو کیسے محفوظ طریقے سے نکالا جائے گا۔

اسرو کے سربراہ ایس سومناتھ نے کہا، ’’میں گگن یان ٹی وی-ڈی 1 مشن کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوش ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے پھر سے تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے اس مشن کے پہلے مرحلے کی کامیابی پر تمام سائنسدانوں کو مبارکباد دی۔

کمپیوٹر کی خرابی کو دور کرنے کے بعد، اسرو نے ٹویٹ کیا کہ گگنیان کے ٹی وی-ڈی ون لانچ کو روکنے کی وجہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور اسے درست کیا گیا ہے۔ اب لانچ صبح 10 بجے ہوگی۔ اس سے پہلے جیسے ہی لانچ کو روک دیا گیا تھا، اسرو چیف ایس سومناتھ نے کہا تھا، 'آج لفٹ آف کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکی۔ مشن کا پہلا ٹیسٹ آج صبح 8 بجے ہونا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے اس کا وقت تبدیل کر کے 8:45 کر دیا گیا تھا۔ انجن ٹھیک طرح سے اگنائٹ نہیں سکتا تھا۔ جس کے بعد آدھے گھنٹے میں مسئلہ ٹھیک کر کے مشن کا پہلا مرحلہ شروع کر دیا گیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/6QdTogJ

ہفتہ، 14 اکتوبر، 2023

حکومت نے 23 اگست کو 'قومی خلائی دن' کے طور پر مطلع کیا

نئی دہلی: حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ 23 ​​اگست کو، جس دن چندریان-3 چاند کے قطب جنوبی پر اترا، اسے قومی خلائی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ خلائی محکمہ کی طرف سے 13 اکتوبر کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ تاریخی لمحے کو یادگار بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا، ’’ہندوستان چاند پر خلائی جہاز اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک اور چاند کی سطح کے جنوبی قطب کے قریب اترنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وکرم لینڈر نے چاند کی سطح کا مطالعہ کرنے کے لیے پرگیان روور کو بھی تعینات کیا تھا۔ اس تاریخی مشن کے نتائج آنے والے سالوں تک بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں گے۔‘‘

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 23 ​​اگست خلائی مشنوں میں ملک کی پیشرفت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نوجوان نسلوں کو ’ایس ٹی ای ایم‘ کے تعاقب میں دلچسپی بڑھانے اور خلائی شعبے کو بڑا فروغ دینے کی ترغیب دی۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 26 اگست کو بنگلورو میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے صدر دفتر کے دورے کے دوران 23 اگست کو قومی خلائی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MfJI19N

بدھ، 4 اکتوبر، 2023

گلوبل وارمنگ: سوئٹزر لینڈ کے پگھلتے گلیشیئرز

سوئٹزرلینڈ دنیا کےخوبصورت ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سرسبز پہاڑوں کی برف پوش چوٹیاں اس کے حسن میں چار چاند لگاتی ہیں۔ یورپ کے زیادہ تر گلیشیئرز اسی ملک میں ہیں۔ لیکن اب ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ دو سالوں میں سوئٹزرلینڈ کے گلیشیئرز 10 فیصد تک پگھل گئے ہیں۔گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا موسم کی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کی شدت میں اضافےکی نشان دہی کے علاوہ مسقتبل کے خطرات کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔ پہاڑوں سے برف کا خاتمہ زندگی کی بقا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

زمین کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھنے میں گلیشیئرز کا اہم کردار ہوتا ہے۔ وہ سورج سے آنے والی حرارت کو واپس خلا میں پلٹ دیتے ہیں۔ جب ان کے حجم میں کمی آتی ہے تو سورج سے آنے والی حرارت زیادہ مقدار میں زمین میں جذب ہو جاتی ہے۔ اس کا دوہرا نقصان ہوتا ہے۔ پہلا یہ کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے پہاڑوں پر کم برف پڑتی ہے۔ اگر پہاڑوں پر گلیشیئرز موجود ہوں تو برف کی نئی تہہ انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ اور انہیں سورج کی براہ راست حرارت سے بچاتی ہے۔ جس سے ان کے پگھلنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ اگر سردیوں میں برف باری کم ہو تو گلیشیئر براہ راست سورج سے آنے والی حرارت کا ہدف بن کر تیزی سے پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں کچھ ایسی ہی صورتحال ہے جس کے سبب ایک ہزار کے قریب چھوٹے گلیشیئر زپانی بن کر بہہ گئے ہیں۔

سوئس اکیڈمی آف سائنسز نے گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ گرمیوں کی تیز گرمی اور سردیوں میں کم برف کے سبب صرف دو سالوں میں گلیشیئرز نے 10 فیصد برف کھو دی ہے۔ اکیڈمی کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں 2023 کے دوران کل گلیشیئر کے حجم کا 4 فیصد غائب ہو چکاہے، جو کہ 2022 میں 6 فیصد کمی کے ساتھ ایک ہی سال میں دوسری سب سے بڑی کمی ہے۔ اکیڈمی نے کہا کہ صرف دو سالوں میں اتنی برف پگھل گئی ہے جتنی کہ تیس سال( 1960 اور 1990 کے درمیان) میں پگھلی تھی۔ موسم کے اعتبار سے مسلسل دو انتہائی سالوں کے سبب گلیشیئرز ٹوٹ رہے ہیں اور بہت سے چھوٹے گلیشیئرز تو غائب ہی ہو گئے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں گلیشیئر مانیٹرنگ سینٹر (GLAMOS )کے ماہرین ملک کے 1400 گلیشیئرز کےممکنہ پگھلنے کے بارے میں ابتدائی انتباہی علامات کی تلاش میں مصروف ہیں ۔ تحقیقی ٹیم کے سربراہ میتھیاس ہس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ پہلے ہی 1000 چھوٹے گلیشیئرز کھو چکا ہے اور اب بڑے اور اہم گلیشیئرز کھونے کی شروعات ہو چکی ہے ۔ گلیشیئر موسمیاتی تبدیلی کے سفیر ہیں۔ وہ یہ بالکل واضح کرتے ہیں کہ موسمی اعتبار سے کیا ہو رہا ہے کیونکہ وہ بڑھتے درجہ حرارت کا جواب انتہائی حساس انداز میں دیتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مطالعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر آپ آب و ہوا کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور گلیشیئرز کو بچانا چاہتے ہیں تو یہ کچھ کرنے کا وقت ہے ۔

سوئٹزرلینڈبری طرح متاثر ہواہے ۔ ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر برف کا نقصان سردیوں میں برف کی کم مقدار کے سبب ہوا- جنوبی اور مشرقی علاقوں میں گلیشیئرز تقریباً اتنی ہی تیزی سے پگھل گئے جتنی تیزی سے 2022 کے ریکارڈ پگھلے تھے۔ جنوبی والیس علاقہ اور اینگاڈین وادی میں 3200 میٹر (10,500 فٹ) سے اوپر کی سطح پر کئی میٹر برف پگھل گئی۔ یہ ایک ایسی اونچائی ہے جہاں گلیشیئرز نے ابھی تک اپنا توازن برقرار رکھا ہوا تھا۔ ملک کے مختلف مقامات پر برف کی موٹائی کا اوسط نقصان 3 میٹر یا 10 فٹ تک تھا جبکہ وسطی برنیس اوبرلینڈ اور والیس کے کچھ حصوں میں صورتحال کم ڈرامائی تھی - جیسے کہ والیس میں الیٹسچ گلیشیئر اور برن کے کینٹن میں پلین مورٹے گلیشیر جہاں موسم سرما میں زیادہ برف باری ہوتی ہے۔ لیکن ایسے علاقوں میں بھی برف کی اوسط موٹائی کے 2 میٹر سے زیادہ کا نقصان بہت زیادہ ہے ۔

سوئٹزر لینڈ کے پہاڑوں پر زیادہ تر برف فروری میں پڑتی ہے۔ اس سال فروری کے پہلے نصف میں برف کی گہرائیوں کی پیمائش عام طور پرسال 1964، 1990 یا 2007 کی سردیوں کے مقابلے میں زیادہ تھی، جس کی ایک وجہ کم برف باری بھی تھی۔ لیکن فروری کے دوسرے نصف حصے میں برف کی سطح میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی، جو طویل مدتی اوسط کاصرف 30 فیصد تھی۔گزشتہ پچیس سالوں سے قائم، 2000 میٹر سے اوپر واقع خودکار مانیٹرنگ اسٹیشن کے مطابق برف کی سطح میں ریکارڈ کمی درج کی گئی ہے۔ مزید براں انتہائی گرم جون مہینے کی وجہ سے برف معمول سے دو سے چار ہفتے پہلے پگھل گئی، اور موسم گرما کے وسط میں ہونے والی برف باری بھی بہت تیزی سے پگھل گئی۔

سوئس ماہرین موسمیات نے اگست میں اطلاع دی تھی کہ صفر ڈگری سیلسیس کی سطح (جہاں پانی جم جاتا ہے) تقریباً 5300 میٹر (17,400 فٹ) پر ریکارڈ کی گئی جو کہ بلند ترین سطح ہے۔ دوسرے لفظوں میں پہاڑوں کی جن بلندیوں پر پہلے سال بھر درجہ حرارت صفر ڈگری ہوا کرتا تھا اور وہاں پورا سال برف جمی رہتی تھی، اب وہاں کا درجہ حرارت صفر سے بڑھ گیا ہے اور برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FqUkSJG

ہفتہ، 30 ستمبر، 2023

مشن سورج: ہماری زمین سے 9.2 لاکھ کلومیٹر دور پہنچا آدتیہ ایل-1، لینگریج پوائنٹ 1 کی طرف گامزن

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) نے ہفتہ کے روز مشن سورج کے بارے میں تازہ جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ آدتیہ ایل-1 ہماری زمین کے اثرات والے علاقہ سے کامیابی کے ساتھ باہر چلا گیا ہے۔ آدتیہ ایل-1 نے اب تک 9.2 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کر لیا ہے اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اِسرو کے مطابق آدتیہ ایل-1 اب سَن-اَرتھ لینگرین پوائنٹ 1 (ایل 1) کی طرف اپنا راستہ طے کر رہا ہے۔

اِسرو کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ’’یہ لگاتار دوسری بار ہے کہ اِسرو نے زمین کے اثرات والے علاقہ کے باہر ایک خلائی طیارہ بھیجا ہے۔ پہلی بار مریخ آربیٹر مشن کو زمین کے مدار سے باہر بھیجا گیا تھا۔‘‘ ویسے یہ لگاتار پانچویں بار ہے جب اِسرو نے کسی شئے کو خلا میں کامیابی کے ساتھ بھیجا ہے۔ اِسرو نے خلائی طیارہ کو تین بار چاند اور ایک بار مریخ کی طرف بھیجا ہے، اور اب آدتیہ ایل-1 سورج کی طرف بڑھ رہا ہے جو ایل 1 پر جا کر ٹھہر جائے گا۔

واضح رہے کہ آدتیہ ایل-1 کو 2 ستمبر کو ہندوستانی راکیٹ پی ایس ایل وی-ایکس ایل سے ایل ای او (زمین کے سب سے قریبی مدار) میں نصب کیا گیا۔ اس وقت سے اِسرو نے خلائی طیارہ کے مدار کو 4 مرتبہ تبدیل کرتے ہوئے بڑھایا ہے۔ جیسے ہی خلائی طیارہ نے زمین کے کشش ثقل کے اثرات والے علاقہ (ایس او آئی) سے باہر نکلنے کے بعد لینگریج پوائنٹ 1 (ایل 1) کی طرف سفر شروع کیا تو کروز مرحلہ بھی شروع ہو گیا۔ اب اسے ایل 1 کے چاروں طرف ایک بڑے دائرہ والے مدار میں شامل کیا جائے گا۔ لانچ سے ایل 1 تک کے مکمل سفر میں آدتیہ ایل-1 کو تقریباً چار ماہ لگیں گے اور زمین سے یہ دوری تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UDbV7Ou

جمعرات، 28 ستمبر، 2023

اوسیریس ریکس مشن: ناسا ایسٹرائڈ سے نمونے لانے میں کامیاب

ایسٹرائڈ بینوکے نمونوں سے ہم نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جان سکیں گے کہ اس وقت کے پتھروں کی کیمیائی خصوصیات کیا تھیں، پانی کیسے وجود میں آیا اورزندگی بنانے والے مالیکیول کیسے بنے

امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایسٹرائڈ سے نمونے اکٹھا کرنے والا پہلا مشن، اوسیریس ریکس (OSIRIS-REx) 24 ستمبر 2023 کو ایسٹرائڈ بینو (Asteroid Bennu) کے مواد کے ساتھ زمین پر واپس پہنچ گیا ۔ اس خلائی جہاز نے نمونے کیپسول کے ساتھ ریاست یوٹاہ کے صحرا میں محفوظ لینڈنگ کی ۔ ناسا کے مطابق سال 2020 میں ایسٹرائڈ بینوکی سطح سے جمع کیا گیا پتھر اور دھول پر مبنی یہ قدیم مواد سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کو اس وقت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا جب سورج اور سیارے تقریباساڑھے چار ارب سال پہلے بن رہے تھے۔ مزید براں ایسٹرائڈ بینو، جس کے مستقبل میں زمین سے ٹکرانے کا امکان ہے، کا نمونہ سائنس دانوں کو نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جاننے کا موقع فراہم کرے گا ۔

اوسیریس ریکس مشن

اوسیریس ریکس (OSIRIS-REx) کا مطلب ہے: اوریجن، اسپیکٹرل انٹرپریٹیشن، ریسورس آئیڈینٹی فکیشن، سیکورٹی، ریگولتھ ایکسپلورر۔ اوسیریس ریکس 2016 میں لانچ کیا گیا اور 2018 میں اس نے ایسٹرائڈ بینوکے گرد چکر لگانا شروع کیا۔ خلائی جہاز نے 2020 میں نمونہ اکٹھا کیا اور مئی 2021میں زمین پر واپسی کے اپنے طویل سفر پر روانہ ہوا ۔ مشن نے بینوتک اور واپسی میں مجموعی طور پر 3.86 ارب میل( چھ ارب 20 کروڑ کلومیٹر ) کا سفر طے کیا۔

ناسا نے یہ کارنامہ پہلی بار انجام دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع رپوٹوں کے مطابق خلا میں روانہ ہونے کے سات سال بعد، اوسیریس ریکس خلائی جہاز نے 24 ستمبر2023کو زمین کے گرد اڑان بھری تاکہ ایسٹرائڈ بینو سے حاصل شدہ نمونے فراہم کیے جا سکیں۔ خلائی جہاز نے نمونہ کیپسول کو زمین کی سطح سے 63,000 میل (102,000 کلومیٹر) کے فاصلے سے گرایا، اور تقریباً 27,650 میل فی گھنٹہ (44,498 کلومیٹر فی گھنٹہ)کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے صبح 10:42 بجے زمین کی فضا میں داخل ہوا۔ کیپسول کی رفتار کو آہستہ تقریباً 11 میل فی گھنٹہ (17.7 کلومیٹر فی گھنٹہ) کرنے کے لیے پیراشوٹ تعینات کیے گئے ۔ فضا میں داخل ہونے کے تقریباً 10 منٹ بعد،یہ نمونہ ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے یوٹاہ ٹیسٹ اور ٹریننگ رینج میں مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے پہنچا۔

ناسا کے منتظم بل نیلسن کا کہنا ہے کہ ان نمونوں سے نظام شمسی کی ابتدا کی جھلک سامنے آئے گی۔ انہوں نے اوسیریس ریکس ٹیم کو مبارکباددی اور کہا، ’یہ کچھ غیر معمولی لے کر آیاہے، زمین پر اب تک کا سب سے بڑا ایسٹرائڈ کا نمونہ۔ یہ مشن ثابت کرتا ہے کہ ناسا بڑے کام کرتا ہے، وہ چیزیں جو ہمیں متاثر کرتی ہیں، وہ چیزیں جو ہمیں متحد کرتی ہیں۔ یہ مشن ناممکن نہیں تھا۔ یہ ناممکن تھا جو ممکن ہو گیا‘۔

دریں اثنا اوسیریس ریکسنظام شمسی کا اپنا دورہ جاری رکھے ہوئے ہے - خلائی جہاز اپوفس (Apophis)نامی ایک مختلف ایسٹرائڈ پر تفصیلی نظر ڈالنے کے لیے روانہ ہو چکا ہے اور اب مشن کا نیا نام اوسیریس ایپکس (OSIRIS-APEX) اوریجن، اسپیکٹرل انٹرپریٹیشن، ریسورس آئیڈینٹی فکیشن، سیکورٹی، اپوفس ایکسپلورر

ناسا کی ریکوری اور ریسرچ ٹیموں نے لینڈنگ کے مقام پر اس بات کو یقینی بنایا کہ کیپسول کو کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچے۔ ٹیموں نے تصدیق کی کہ لینڈنگ کے دوران کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ اس مشن میں لاک ہیڈ مارٹن اسپیس نے ناسا کے ساتھ خلائی جہاز کی تعمیر، فلائٹ آپریشن فراہم کرنے اور 100 پاؤنڈ کےکیپسول کی بحالی میں مدد کی۔

حفاظتی دستانے اور ماسک سے لیس ابتدائی بحالی ٹیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کیپسول چھونے کے لیے کافی ٹھنڈا ہو جائے، اس لیے کہ فضا میں دوبارہ داخلے کے دوران اس کا درجہ حرارت 5000 ڈگری فارن ہائیٹ (2760 ڈگری سیلسیس) تک پہنچ گیا تھا۔ ٹیم نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ کیپسول کی بیٹری نہ پھٹے اور کوئی زہریلا دھواں نہ نکلے۔ ساتھ ہی ایک سائنسی ٹیم نے لینڈنگ کی جگہ سے نمونے اکٹھے کیے جن میں ہوا، دھول اور مٹی کے ذرات شامل ہیں۔

بعد ازیں کیپسول کو لینڈنگ سائٹ کے قریب ایک عارضی جگہ پہنچایاگیا۔ اس جگہ کے اندر، کیوریشن ٹیم ایک نائٹروجن کا بہاؤ کرے گی، جسے پرج (purge)کہا جاتا ہے، تاکہ زمینی ماحول کو نمونے کے کنسترمیں داخل ہونے اور اسے آلودہ ہونے سے روکا جا سکے۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ 26 ستمبر کو پہلی بار نمونہ دیکھنے کے لیے ڈھکن کو ہٹا یا جائے گا۔

ابتدائی تجزیہ اکتوبر میں متوقع

ایسٹرائڈ بینو کےنمونے کا ابتدائی تجزیہ معدنیات اور کیمیائی عناصر کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق نمونے کے بارے میں تفصیلات 11 اکتوبر کو جانسن اسپیس سینٹر سے ناسا کی نشریات کے ذریعے سامنے آئیں گی۔ اگرچہ سائنسی ٹیم کو نمونے کا مکمل جائزہ لینے کا وقت نہیں ملے گا، محققین 26 ستمبر کو کنستر کے اوپری حصے سے کچھ باریک مواد جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایک فوری تجزیہ اکتوبر میں فراہم کیا جا سکے ۔

اگلے دو سالوں تک سائنسدان جانسن اسپیس سینٹر میں پتھروں اور مٹی کا تجزیہ کریں گے۔ نمونے کو تقسیم کرکے دنیا بھر کی لیبارٹریوں کو بھیجا جائے گا، بشمول اوسیریس ریکس مشن کے شراکت دارـ کینیڈا کی خلائی ایجنسی اور جاپانی ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی۔ تقریباً 70فیصد نمونہ اسٹوریج میں محفوظ رہے گا تاکہ بہتر ٹیکنالوجی سے لیس آنے والی نسلیں اس سے بھی زیادہ سیکھ سکیں جو ابھی ممکن ہے۔

جاپان کے ہیبوساـ2 (Hayabusa-2)مشن سے ایسٹرائڈ ریوگو (Ryugu)سے حاصل کیے گئے نمونے کے ساتھ، پتھراور مٹی ہمارے نظام شمسی کے آغاز کے بارے میں اہم معلومات کو ظاہر کر سکتی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ سیارے کی تشکیل کے ابتدائی دورمیں ، کاربونیسیئس ایسٹرائڈ جیسے بینو ، زمین سے ٹکرا کر پانی کے وجود میں آنے کا باعث بنے۔

برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے خلانورد ڈینئیل براؤن نے’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ ان نمونوں کے معائنے سے ہم نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں مزید جان سکیں گے کہ اس وقت کے پتھروں کی کیمیائی خصوصیات کیا تھیں اور پانی کیسے وجود میں آیا جب کہ زندگی بنانے والے مالیکیول کیسے بنے؟

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایسٹرائڈ بینو نظام شمسی کے اپنے قدیم ترین مادوں کا نمائندہ ہے جو بڑے مرتے ہوئے ستاروں اور سپرنووا دھماکوں سے بنا ہے ۔ اور اسی وجہ سے، ناسا چھوٹے مشنوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ ہماری سمجھ میں اضافہ ہو کہ ہمارا نظام شمسی کیسے بنا اور اس کا ارتقا کیسے ہوا۔

سائنس دانوں کے مطابق ایسٹرائڈ بینو کے مستقبل میں زمین سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ لہٰذا زمین کے قریب ان سیارچوں کی آبادی کے بارے میں مزید سمجھنا بہت ضروری ہے جو ہمارے سیارےزمین کے ساتھ تصادم کے راستے پر ہو سکتے ہیں۔ ان کی ساخت اور مداروں کی بہتر سمجھ یہ پیش گوئی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کون سے ایسٹرائڈ زمین کے قریب ترین پہنچ سکتے ہیں اور کب ۔ سائنس دانوں کے لیے یہ معلومات ایسٹرائڈ کوزمین سے دور ہٹانے یا دھکیلنے کے طریقے تیار کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rq5KId1

پیر، 25 ستمبر، 2023

جنوبی کوریا: میوزک سے لے کر سیلز گرلز تک، مصنوعی ذہانت کی دنيا

اس کا چہرہ ڈیپ فیک ہے، جسم اُسی قسم کے خد و خال کے حامل اداکاروں سے ملتا جلتا ہے۔ لیکن وہ گاتی ہے، خبریں پڑھتی ہے، اور ٹی وی پر لگژری کپڑے بیچتی ہے کیونکہ AI روبوٹ جنوبی کوریا میں معاشرے کے مرکزی دھارے کا حصہ بن چُکے ہیں۔

جنوبی کوریا کی ایک معروف ورچوئل اداکارہ

جنوبی کوریا کے سب سے زیادہ فعال ورچوئل انسانوں میں سے ایک Zaein سے ملیں، جسے ایک مصنوعی ذہانت کی کمپنی Pulse9 نے بنایا ہے۔ یہ کمپنی کارپوریٹ خيالات کو حقيقت بنانے کا کام انجام دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایسا شاہکار تیار کرچُکی ہے جو کمپنی کے لیے ایک کامل ملازم کی حیثیت رکھتا ہے۔

Pulse9 نے جنوبی کوریا کے کچھ بڑے گروہوں کے لیے ڈیجیٹل روبوٹ بنائے ہیں، جن میں Shinsegae بھی شامل ہے۔ اس جیسی انسان نما تخلیقات کی گلوبل مارکیٹ سن 2030 تک 527 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

جنوبی کوریا میں AI ٹيکنالوجی کے روبوٹس نے نہ صرف یونیورسٹیوں میں طالب علم کے طور پر داخلہ لیا ہے بلکہ یہ بڑی کمپنیوں میں تربیتی پروگراموں کا حصہ بنے ہیں اورکھانے سے لے کر لگژری ہینڈ بیگ تک کی مصنوعات کی فروخت کے لائیو ٹیلی ویژن پروگراموں میں باقاعدگی سے نظر آتے ہیں۔ تاہم پلس 9 کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے۔ کمپنی کے سربراہ پارک جی ایون نے نيوز ايجنسی اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا، ''اے آئی کے انسانی استعمال کو وسیع تر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔‘‘

ورچوئل اداکارہ کی تخلیق

زین کا چہرہ 'ڈیپ لرننگ انیلیسس‘ یا گہرے سیکھنے کے تجزیے کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ ایک AI طریقہ کار ہے، جو کمپیوٹر کو نہایت پیچیدہ ڈیٹا پروسس کرنا سکھاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران K-pop میوزک گروپ کے چند چہروں کو اسی طریقہ کار سے تیار کیا گیا۔ گہری آنکھوں اور خصوصی نقوش ، صاف جلد اور حقیقی انسانی شخصیت سے قریب ترین شکل کے ساتھ تیار کیے جانے والے یہ اداکار ڈیپ فیک کی مدد سے کارآمد ہو جاتے ہیں۔

اداکاروں کے بیانات

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک اداکار سے اُس وقت ملاقات کی جب وہ جنوبی کوریا کے براڈکاسٹر ایس بی ایس کے مارننگ نیوز کے لائیو پروگرام میں زین کے طور پر رپورٹ دینے کی تیاری کر رہی تھی۔ کمپنی کی پالیسی کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے والی اداکارہ نے کہا، ''میرے خیال میں یہ ان لوگوں کے لیے ایک اچھا عمل ہو سکتا ہے جو مشہور شخصیت بننا چاہتے ہیں اور یہی چیز مجھے بھی پسند ہے۔‘‘

Pulse9 کے نمائندے نے کہا کہ تمام انسانی اداکاروں کی شناخت چھپائی گئی ہے اور ان کے اصلی چہرے نہیں دکھائے گئے ہیں۔ اُدھر اپنے پروفائلز کو پوشیدہ رکھنے کے سخت اقدامات کے باوجود اداکارہ نے کہا کہ ایک ورچوئل انسان کے طور پر کام کرنے سے ان کے لیے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ Zaein کا کہنا تھا، ''عام طور پر، بہت سارے لوگ اپنے نوعمروں اور نوجوانوں میں K-pop کے آئیڈیل بن جاتے ہیں اور میں اس عمر سے گزر چکی ہوں، لیکن اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس اداکارہ نے اے ایف پی کو بتایا، ''میں ایک انسان کے طور پر کام کرنے کی کوشش کرنا پسند کروں گی اگر میں اپنی آواز کو اچھی طرح سے سنبھال سکوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو میں حقیقی زندگی میں نہیں کر سکتی۔‘‘

کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ مصنوعی انسانوں کو بنانے کے لیے حقیقی لوگوں کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ وہ کہتے ہیں،''جب تک کہ مستقبل میں واقعی ایک مضبوط AI نہیں بن جاتا جو خود ہر کارروائی کر سکے گا تب تک انسانوں کی ضرورت رہے گی۔‘‘ ChatGPT کے پچھلے سال کے آخر میں منظرعام پر آنے کے بعد سے AI کے ممکنہ استعداد اور ممکنہ خطرات حالیہ مہینوں میں عوامی شعور میں ہلچل مچا چُکے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/t2s5K1k